Skip to content
Dhanak-001




خاکہ


 لفظ’’خاکہ‘‘ انگریزی لفظ اسیکچ(Sketch)کا ترجمہ ہے۔ خاکے میں جس شخص کی تصویر کشی کی جاتی ہے اس کے خیالات وافکار، سیرت وکردار، عادات واطوار سب کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ خاکہ میں متعلقہ شخص کے نمایاں اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔ خاکہ لکھنے والے کا متعلقہ شخص سے واقف ہونا ضروری ہے۔ خاکہ نگاری سوانح نگاری سے مختلف ہے۔ اس میں سوانح حیات کی طرح واقعات ترتیب وار نہیں لکھے جاتے اور نہ ہی تمام حالات وواقعات کا بیان کرنا ضروری ہے۔ خاکہ نگاری میں اُن حالات و واقعات  کا بیان ضمنی طور پر کیا جاتا ہے جو شخصیت کے کسی پہلو کو اُجاگر کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ خاکے میں شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کوغیرجانب داری کے ساتھ بیان کیا جائے۔ 

چچی

وہ جگت چچی تو نہیں تھیں لیکن محلّے کے جن دوچار گھروں میں وہ چچی کہلاتی تھیں ان میں ایک گھر ہمارا بھی تھا۔ چچی کا  نام فصیح اردو میں تو محمد النسأ تھا لیکن خود وہ اپنا نام روانی  میں ممّن نساں بتاتی تھیں۔ پڑھنے کے نام پر انھیں سوائے نماز کے اور کچھ نہ آتا تھا۔ ہاں سینے پرونے میں انھیں وہ کمال حاصل تھا کہ اپنی سوئی کی نوک سے وہ کپڑے پر خطِّ گلزار کے وہ نمونے پیش کردیا کرتی تھیں جو بڑے بڑے خطاّط اور خوش نویس قلم کے قط سے نہیں کرسکتے۔ چچی نے لگ بھگ اسّی برس کی عمر پائی۔ زندگی کی آدھی صدی انھوں نے ۱۹۴۷ سے پہلے کی دلّی میں گزاری اور آدھی سے کچھ کم سینتالیس کے بعدکی دلّی میں۔ چچی ان لوگوں میں تھیں جو اپنے زمانے کے علاوہ کسی اور زمانے میں نہ تو جینا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی جی سکتے ہیں۔ اس لیے چچی نے بھی سینتالیس کے بعد اپنی زندگی کے پینتیس چالیس سال پرانی دلّی کے اُن ہی محلوں میں گزار دیے جہاں وقت بالکل اُسی طرح ٹھہراہواہے جس طرح سیلاب کے گزر جانے کے بعد سیلاب کا کچھ پانی آس پاس کے گڑھوں میں ٹھہرارہ جاتا ہے۔ سینتالیس سے پہلے جب دلّی کی عورتیں تانگوں میں بیٹھ کر اور ان کے گِرد موٹے موٹے پردے لپیٹ کر کوٹلے، نظام الدّین، ہمایوں کے مقبرے، منصورکے مدرسے اور قطب صاحب کی سیر کو جاتی تھیں اور اولیامسجد کےجھروکوں سے شمسی تالاب کا وہ نظارہ دیکھتی تھیں جہاں تالاب کے بیچوں بیچ مٹکوں پر بیٹھا کوئی آدمی سنگھاڑوں کی بیل سے سنگھاڑے توڑ توڑ کر جمع کررہا ہوتا تھا تو چچی بھی اُن عورتوں میں ہوتی تھیں۔ لیکن سینتالیس کے بعد تو چچی بس ایک ہی بار فصیل کے باہر آئیں اور وہ بھی تب جب ہم انھیں دلّی دروازے کے باہر پہنچانے گئے تھے۔

معصوم قسم کی مذہبیت ، پرانےرسم ورواج ،تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے، بدعتیں اور تو ہمات، پچھل پریوں اور جنّات کے قصے، یہی وہ فضا تھی جس میں چچی پیداہوئیں اور زندگی بھر وہ اسی فضا میں سانس لیتی رہیں۔

ہم نے جب ہوش سنبھالا، چچی کو رانڈہی دیکھا۔ لیکن انھوں نے اپنا رنڈاپا جس کروّ فرسے گزارا اسے دیکھ کر سوچنا پڑتا ہے کہ اگر کہیں ان کی جگہ ان کے میاں رنڈوے ہوگئے ہوتے تو شاید ایسی نہ گزارپاتے جیسی چچی گزارگئیں۔ چچی کے میاں اُن کی جان پہ چار لڑکیوں کو چھوڑ کر سینتالیس سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ جب تک اللہ بخشے وہ زندہ رہے ، چچی کو خوب عیش کرایا۔ کچہری میں منشی تھے اس لیے اس چھوٹی سی نوکری میں بھی پیسے کی خوب ریل پیل تھی۔ چچی کہا کرتی تھیں، ’بواکوئی کیا کسی کے  نخر ے اٹھائے گا جو ہمارے میاں نخرے اٹھاگئے‘۔ لیکن چچی کا جو طَمطراق ہم نے دیکھا ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ نخرے چچی کے میاں نے شاید اتنے نہیں اٹھائے جتنے خود چچی نے ان سے اٹھوائے ہوں گے۔ پٹاری کے خرچے کے علاوہ اچھّے سے اچھّا کھانے اور بڑھیا سے بڑھیا پہننے کا شوق بھی چچی نے میاں کے جیتے جی، جی کھول کر پورا کیا۔ کچہری کی آمدنی برسات کے پانی کی طرح جیسے گھر میں چھم چھم برستی تھی ویسے ہی  جھر جھر بہہ بھی جاتی تھی۔ اس لیے جب اچانک چچی کے میاں کا انتقال ہوا تو گھر میں چار معصوم بچّیوں کے علاوہ باقی اللہ کا نام تھا۔ چچی کے پاس نہ تعلیم تھی اور نہ روپیا پیسا لیکن مفلس اور ان پڑھ لوگ جس عقیدے کے سہارے کڑی سے کڑی جھیل جاتے ہیں، وہ ان کے پاس بھی تھا یعنی یہ کہ جو لکھا ہے وہ پورا ہونا ہے۔ چچی شاید لوحِ محفوظ کی حقیقت سے توواقف نہیں تھیں لیکن یہ فقرہ البتہ ان کی گفتگو میں  تکیۂ کلام کا سادرجہ رکھتا تھا کہ ’بوالکھے کو کوئی نہیں مٹاسکتا‘، چچی نے بھی لکھے کو مٹانے کی کوشش نہیں کی۔ انھوں نے لکھے کے آگے سر جھکا کر ہی اپنی ساری زندگی گزاری۔

16

جب تک سہاگن رہیں طرح طرح کے جوڑے خود اپنے ہاتھ سے ٹانک کر پہنتی تھیں۔ اب یہی مہارت ان کی زندگی کا سہاراتھی۔ ہاتھ کی تُرپائی کے مقابلے میں ’موئی سنگر مشین‘ کی حیثیت چچی کے نزدیک وہی تھی جو اکبر بادشاہ کے نزدیک خطاطی کے مقابلے میں چھاپے خانے کی تھی۔ چچی اگرچہ انسان کے چاند پر پہنچنے کے بھی دس برس بعد اللہ کو پیاری ہوئیں لیکن سلائی مشین کے ہینڈل کو ان کا ہاتھ مرتے دم تک چھوکر نہیں گزرا۔ وہ سلائی کا باریک سے باریک کام بڑی مہارت سے کرتی تھیں۔ ان کے کام میں لاگت برائے نام اور محنت اور کاریگری پوری ہوتی تھی۔ کپڑے کی رنگ برنگی کترنوں کو جمع کرکے جو ادھرادھر سے مفت مل جاتی تھیں وہ سلائی کے کُرتوں، ساڑیوں اور دوپٹوں پر کیکری کٹائو کا بہترین کام بنادیا کرتی تھیں۔ چوں کہ اس کام کے کرنے والے بہت کم رہ گئے تھے اس لیے چچی کے پاس کام کی کمی نہیں تھی۔تاہم اس کام سے ان کا بمشکل ہی گزارا ہوتا تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک طرف تو وہ اپنے کام کی اجرت گاہک کی حیثیت کو دیکھ کر نہیں بلکہ اپنی حیثیت کو دیکھ کر طلب کرتی تھیں۔ چچی نے اسی قلیل آمدنی میں اپنی چارلڑکیوں کی شادیاں کرڈالیں اور دنیاداری کے معاملات کو بھی سیلقے کے ساتھ پوراکیا۔

چچی میں خدمت ِخلق کابے پناہ جذبہ تھا۔ ہر ایک کے دکھ سکھ میں ہمیشہ شریک رہتی تھیں۔ اسی لیے پرانی بڑی بوڑھیوں کی طرح انھیں ہر ایک کی سُن گُن لینے کی عادت تھی۔ آپ کو ئی بات چچی کو بتانا چاہیں یانہ چاہیں لیکن اُن سے کوئی بات چھپی نہیں رہتی تھی۔ 

چچی جس مکان میں رہتی تھیں اس میں کُنبے کے کئی گھر آباد تھے۔ دن بدن اس گھر کی آبادی بڑھتی جارہی تھی جس سے چچی کے لیے جگہ تنگ ہوتی جارہی تھی۔ چچی کی بیٹیاں ان کوجتنا مانتی تھیں اتنا نواسیاں نواسے نہیں مانتے تھے اور جب نواسیوں کے بھی بچّے ہونے لگے تو ان کے لیے تو چچی کی حیثیت ایک آثارِ قدیمہ کی سی تھی۔ ایک طرف عمر کے ساتھ مزاج بے ٹھکانے ہوتا جارہا تھا اور دوسری طرف نئی پودنے چچی کے ساتھ ہر وقت چھیڑخانی مچارکھی تھی جس سے چچی اکثرا ن سے ناراض ہوجایا کرتی تھیں۔ ایسے میں ہمارے گھر میں آکر کہا کرتی تھیں ’بوا آج کل میں گھر میں سب سے ناراض ہوں‘، پھر دوسرے ہی سانس میں یہ بھی بتاتی تھیں کہ ’کسوکو پتا تھوڑی ہے کہ میں ناراض ہوں۔‘

چچی کبھی کبھی بڑے مزے کی باتیں کرتی تھیں۔ہسپتال سے، جسے وہ اسپتال کہتی تھیں،  بڑاڈرتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ کسی کو ہسپتال بھیجنے کا مطلب اسے جیتے جی قبرستان بھیجنا ہے۔ چچی کے ایک داماد کسی موذی مرض کا شکار ہوکر ہسپتال میں داخل ہوئے اور دو مہینے بعد اچھّے ہوکر گھر لوٹے لیکن چچی کا تاثّر یہ تھا کہ ’بوا جب اسپتال میں بھرتی ہوا تھا تو خاصا ہٹّاکٹّا تھا، مُردوں نے ادھ مراکر کے نکالا ہے، نگوڑے کے بدن سے ساراخون کھینچ لیا۔‘

سائنس کی نئی نئی ایجادات نے جیسے نظامِ فطرت کا توازن بگاڑ کررکھ دیا ہے ویسے ہی چچی کے اعصاب کو بھی متاثر کردیا ہے۔ بس اور موٹر کی گھُوں گھُوں سے چچی کو چکّر آتے تھے اس لیے وہ ان سواریوں میں کبھی نہیں بیٹھتی تھیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ ریل میں بھی کبھی بیٹھی تھیں یا نہیں۔ ایک بار کسی بہانے گھر والے انھیں بائیسکوپ لے گئے۔ اُس بند اور تاریک منڈوے میں ان کا ایسا دم گھٹا کہ انھوں نے منڈوے کی بتّیاں بجھتے ہی چلو چلو مچادی اور ان کے ساتھ سب کو ویسے ہی واپس آنا پڑا۔ ’ریڈوے کی دھائیں دھائیں سے تو ان کا ویسے ہی سر چکراتا تھا اب یہ نئی آفت موئی ’ ٹیلی وِجَن‘ کی شروع ہوئی تھی۔ اِدھر شام کو گھر میں ٹیلی وژن کھلا اور اُدھر چچی نے اپنا برقع اٹھا کسی ایسے گھر کا رخ کیا جہاں ٹیلی ویژن نہیں تھا۔

چچی کی والدہ کا انتقال خود چچی کے انتقال سے کوئی سات یا آٹھ برس پہلے ہی ہوا تھا۔ ان کی امّاں نے کوئی سوسے اوپر عمرپائی تھی۔ جیسا کہ اتنی عمر کے لوگو ں کا حال ہوتا ہے۔ بے چاری بڑی بی بالکل حواس باختہ اور معذور، بس کھٹولے پر ہی پڑے پڑے دنیا کے کاموں سے فراغت پاتی تھیں۔ چچی دل سے چاہتی تھیں کہ اللہ ان کی امّاں کا پردہ ڈھک لے مگر چچی کے نواسے نواسیوں کا خیال تھا کہ بڑی بی تو قیامت کے بوریے سمیٹ کر جائیں گی۔ انھوں نے تو قیامت کے بوریے نہیں سمیٹے لیکن جب تک وہ زندہ رہیں ان کی صفائی ستھرائی کے رستے چچی ضرور جنت کی جھاڑو دیتی رہیں۔ جب کبھی ہم چچی سے ان کی امّاں کی خیر صلاّ، خیر عافیت پوچھتے تو وہ ان کی حواس باختگی کا ذکر اپنی بھولی بھالی زبان میں یوں کرتیں: ’وِن کے خیالات خراب ہوگئے ہیں، بہکی بہکی باتیں کرتی ہیں۔‘

چچی نے بیوہ اور بے سہارا ہونے کے بعد اپنے تمام تردقیانوسی پن کے بادجود حالات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا سیکھ لیا تھا۔ وہ سیّدانی تھیں اور اس زمانے کی سیّدانی جب بیاہ شادی کے معاملوں میں لڑکی دیتے ہوئے اس بات کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ لیکن جب چچی نے اپنی لڑکیوں کی شادیاں کیں تو ان کے سامنے تو ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ رانڈماں کی جوان بچیاں جتنے جلدی اپنے گھر کی ہوجائیں اچھّا ہے۔ انھوں نے سیدزادوں کے انتظار میں اپنی لڑکیوں کو چھاتی پہ نہیں بٹھائے رکھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کے چاروں دامادوں میں سے کوئی سیدزادہ ہے یا نہیں۔

چچی کو وہ مرد بڑے عجیب لگتے تھے جو گھر کے کام کاج میں حصہ لیتے ہیں۔ مجھے باورچی خانے میں گھسنے کا کچھ زیادہ  ہی مرض ہے۔ اگر ایسے موقعے پر کبھی چچی آدھمکتیں تو فوراً میری بیوی سے کہتیں،’اچھا بوا تو آج یہ پکارہے ہیں‘ اس بات کا سلیس   اُردو میں یہ مطلب ہوتا تھا’ ڈوب مروخصم سے کھانا پکوارہی ہو۔ ‘ لہٰذا مجھے بیوی کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ اگر میں باورچی خانے میں ہوں اور چچی آتی دکھائی دے جائیں تو فوراً ہنڈیا چھوڑ چھاڑ جاکر اپنے لکھنے پڑھنے میں لگ جاؤں۔ مجھے گھر میں کام کرتا دیکھ کر چچی کہتی تھیں، ’’بوا! تمھارے میاں تو خاصا ہاتھ بٹا دیتے ہیں، ہمارے دامادوں میں سے تو کوئی ہل کے پانی بھی نہیں پیتا۔‘‘

چچی ہمارے گھر کتنے ہی مختصر دورے پر کیوں نہ آئیں لیکن چاق وچوبند پریس رپورٹرکی طرح وہ جلدی جلدی اپنی تمام تفتیش مکّمل کرلیا کرتی تھیں۔ ایک بار میں گھر پر اکیلا تھا۔ یونیورسٹی کی کچھ خواتین کسی سلسلے میں میرے گھر آئیں، کچھ ہی دیر میں پیچھے پیچھے چچی بھی آگئیں۔ انھیں ذراجلدی تھی اس لیے بس کھڑے کھڑے کو آئی تھیں۔ چچی نے آتے ہی ان اپٹوڈیٹ خواتین کو دیکھا پھر میری طرف دیکھا، پھر ان سے مخاطب ہوئیں اور بولیں،’اچھا تو بواتم دلہن سے ملنے آئی ہوگی۔‘ میں نے کہا ’’ چچی نہیں یہ تو مجھ سے ملنے آئی ہیں۔‘‘ چچی یہ سنتے ہی برقع ایک طرف رکھ ، پھسکڑامارکے بیٹھ گئیں اور لگیں ان خواتین سے طرح طرح کی باتیں کرنے ۔ کچھ ہی دیر میں میری بیوی بھی آگئیں۔ اب ذرا چچی کی جان میں جان آئی اور انھیں یہ بھی یادآیا کہ ’اے ہے میں تو کھڑے کھڑے کو آئی تھی۔‘ یہ بات چچی کی سمجھ میں بہت دن تک نہیں آئی کہ عورتیں بجائے میری بیوی کے مجھ سے ملنے کیوں آئی تھیں اور اگر آئی بھی تھیں تو میری بیوی نے اس کا فضیحتا کیوں نہیں کیا۔

آخری دنوں میں جب آنکھوں اور ہاتھ پیروں سے مجبور ہوگئی تھیں اور ان سے کام بھی زیادہ نہیں ہوتا تھا تو ان کا وقت زیادہ تر اپنے قدردانوں کے گھروں میں گزرتا تھا۔ وہ سلوک کی توقع میں وہاں جاتی تھیں مگر اپنے منہ سے کچھ نہیں کہتی تھیں۔ ایسے موقعے پر وہ بڑی ہانپتی کانپتی دروازے میں داخل ہوتی تھیں ، لگتا تھا اب گریں۔ لوگ انھیں سہارادے کر بٹھاتے۔ تھوڑی دیر میں ان کے حواس بجاہونے شروع ہوتے اور پھردیکھتے ہی دیکھتے وہ بھلی چنگی ہوجاتیں اور پھر آگے کے معاملات یوں چلتے:

’’چچی چاپئیں گی؟‘‘

’’بواتم پی رہی ہو تو ذری سی مجھے بھی بنادو۔‘‘

’’چچی کھانا کھائیں گی؟‘‘

’’لاؤ کہتی ہو تو کھالیتی ہوں، کیا پکایا ہے؟‘‘

’’اروی کا سالن۔‘‘

’’دے دو ذراسا- نیبو اور گرم مسالہ بھی ہے؟‘‘

اب چچی کے سامنے کشتی میں کھانا لگا ہوا ہے۔ چچی کھاتی جارہی ہیں اور کھانے پر بے لاگ بتصرہ کرتی جارہی ہیں۔

’اے بُوا چپاتی کے کنارے ذرا سے کچے رہ گئے…کنارے چھوڑنا رزق کی بے ادبی…دیکھنا سالن میں نمک پھیکا رہ گیا۔‘ اب اگر آپ انھیں پسا ہوانمک پیش کریں تو کہیں گی، ’اے بواپکے ہوئے نمک کا اور مزاہوتا ہے، کچا نمک ڈالنے میں وہ بات تھوڑی آتی ہے۔ ‘چچی کو پانی پلانا بھی اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنا ہوتا تھا۔ پہلا گھونٹ لیتے ہی کہتی تھیں، ’اے کیا صراحی تازی بھری ہے؟ بالکل گرم پانی ہے۔‘

عمر کے ساتھ ساتھ چچی کا ہاضمہ بھی جواب دے چکا تھا لیکن زبان کا چٹخارا پھیکے سیٹھے کھانوں کو قبول نہیں کرتا تھا۔اس لیے آئے دن انھیں بقائی کی دو نمبر خوراک پینی پڑتی تھی۔ بقائی کی دو نمبر خوراک کا بھی اپنا مزاہے۔ پیٹ کی تکلیف کی اتنی مزے دار دوا ہمیں سب سے پہلے چچی نے ہی بتائی تھی۔ ایک دفعہ کسی دعوت میں سے پیٹ پکڑے پکڑے ہمارے گھر آئیں۔ میری بیوی نے کہا، ’چچی پھر کچھ الٹا سیدھا کھا لیا کیا؟‘ کہنے لگیں، ’بوا تم جانو بندہ بشر ہے سب کو کھاتا دیکھ کر ذری سی لال روٹی کا ٹکڑا اور دو نوالے چانولوں کے میں نے بھی کھالیے، ایسا کون سا غضب ہوگیا۔ تم جانو سداں اچھا کھایا۔‘ ان کی حالت یہ تھی کہ روکھا پھیکا کھایا نہیں جاتا تھا اور قورمہ بریانی پچتا نہیں تھا۔

آخری دنوں میں جب چچی کی آنکھیں جواب دے گئیں اور ان کی نظروں سے سوائے دھندکے دنیا کی ہر چیز اوجھل ہوگئی تو انھوں نے برقعے کو بھی کھونٹی پہ ٹانگ دیا۔ شاید وہ یہ سمجھنے لگی تھیں کہ جس طرح ان کی آنکھوں سے دنیا اوجھل ہوگئی تھی، اسی طرح دنیا کی آنکھوں سے وہ خود بھی اوجھل ہوگئی ہیں۔ ویسے وہ کہا کرتی تھیں، ’بوا پردہ کیا بس ذری سی آنکھ کی شرم ہے۔ اب جب آنکھیں ہی پٹم ہوگئیں تو پردہ کا ہے کا۔‘

چچی اپنی ضعیف العمری کے ساتھ ساتھ موت سے بہت ڈرنے لگی تھیں اور اس کے ساتھ ہی قبر کی کالی کوٹھری کے تصور سے بھی ۔ سب ان کو دلاسا دیتے رہتے تھے کہ چچی ابھی آپ مرنے والی نہیں ہیں۔ آپ کی امّاں کو مرے کے برس ہوئے ہیں جوآپ مرنے کی باتیں کرتی ہیں۔ ان باتوں سے بھولی بھالی چچی کے دل سے شاید کچھ دیر کے لیے موت کا ڈر دور ہوجاتا پھر وہ کہنے لگتی تھیں، ’بوا دعاکر وآنکھوں میں ذری سی روشنی آجائے تو پھر کچھ ہاتھ پیر ہلانے شروع کروں۔ یہ موئی تُج مُج کی محتاجی سے تو میراجی بولاگیا۔‘ اور یہی کہتے کہتے ایک دن چچی چپ چاپ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کے عزیزوں نے ان کے ہاتھوں میں پڑی سونے کی دو چوڑیوں اور کانوں کی بالیوں سے اُن کا کفن دفن کیا اور دلّی دروازے کے باہر نئے قبرستان میں انھیں سپرد خِاک کرآئے۔ جہاں بہت سی گمنام اور جلد ہی بے نشان ہوجانے والی قبروں میں ایک قبراُن کی بھی ہے۔

                                                                                                                                                                                                   (اسلم پرویز)

                                  مشق

سوالات:

1.    بیوہ ہوجانے کے بعد چچی نے اخراجات پورے کرنے کے لیے کیا پیشہ اختیار کیا ؟ تفصیل سے لکھیے۔

2 .   مصنف کے گھر میں خواتین کو موجود دیکھ کر چچی کا ردِّ عمل کیا تھا؟

3.    آخر ی دنوں میں چچی اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کیا تدبیر کرتی تھیں؟

4.    جب چچی کی بینائی جوا ب دے گئی تو انھوں نے کیا کہا؟

5.   چچی کی شخصیت کے چند دلچسپ پہلوؤں پر روشنی ڈالیے۔