سفرنامہ
سفرنامہ ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ ہر سفر ایک تجربہ ہوتاہے اور اگر کسی شخص میں اس تجربے کو بیان کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو ایک دل چسپ سفرنامہ لکھا جاسکتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب مسافر سفر سے واپس آتے تو اپنے تجربات کی روداد دوستوں اور عزیزوں کو سناتے تھے۔ اس طرح کے بہت سے قصّے آپ نے بھی پڑھے ہوں گے۔ سفرنامے کے مطالعے سے اجنبی دیاروں، دوردراز کے ملکوں کی تہذیب، تاریخ اور جغرافیہ سے واقفیت ہوجاتی ہے۔ بہت سے انوکھے کرداروں سے متعارف ہوتے ہیں۔ سفرناموں کے مطالعے سے عام معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ گھر بیٹھے بڑی سے بڑی مہم سرہوجاتی ہیں اور ایسے دیاروں تک جاپہنچنا ممکن ہوجاتاہے جہاں جانا آسان نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے سفرنامے کو عملاً سفر کا بدل بھی کہا جاسکتا ہے۔
اردو کا پہلا سفر نامہ یوسف خاں کمبل پوش کا ’’عجائبات فرنگ‘‘ (1846)ہے۔ یوسف خاں نے 30 مارچ 1837میں کولکاتا سے پانی کے جہاز کے ذریعے انگلستان کا سفر کیا تھا۔ انھوں نے انگلستان کے شہر لندن میں قیام کیااور وہاں کی آب وہوا، نئی نئی ایجادات اور وہاں کے باشندوں کا ذکر نہایت دل چسپ انداز میں کیا ہے۔
بیسویں صدی کے سفرناموں میں منشی محبوب عالم کا ’’سفرنامہ ٔ بغداد‘‘اور قاضی عبدالغفار کا ’’نقشِ فرنگ‘‘ بہت مقبول ہوئے۔ خواجہ احمد عباس کا ’’مسافر کی ڈائری‘‘، پروفیسر احتشام حسین کا ’’ساحل اور سمندر‘‘، قرۃ العین حیدر کا ’’ جہانِ دیگر‘‘ اردوکے دل چسپ سفرنامے ہیں۔ اردو میں چند مزاحیہ سفرنامے بھی لکھے گئے ہیں جن میں ابن انشا، شفیق الرحمن اور مجتبیٰ حسین کے سفرنامے قابلِ ذکر ہیں۔

صالحہ عابد حسین
(1913-1988)
صالحہ عابد حسین کا اصلی نام مصداق فاطمہ تھا ۔ وہ حالیؔ خانوادے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی پیدائش پانی پت میں ہوئی۔ خواجہ غلام الثّقلین کی صاحبزادی تھیں۔ لکھنے پڑھنے کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا، مشہور مصنف، فلسفی اور ماہر تعلیم ڈاکٹر عابد حسین سے شادی کے بعد ان کے تصنیف وتالیف کے شوق میں مزید اضافہ ہوا۔ وہ بنیادی طورپرایک ناول نویس اور افسانہ نگار تھیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں، افسانوں اور ڈراموں کے ذریعے انسانی اور تہذیبی قدروں کو عام کیا اور عورتوں کے مسائل اور سماجی خرابیوں کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔ حکومتِ ہند نے ان کو ’پدم شری‘ کا اعزاز عطا کیا۔ کئی صوبائی اکادمیوں نے بھی انھیں انعام دیے۔ ان کے ناولوں میں ’عذرا‘، ’آتشِ خاموش‘ ، ’قطر ے سے گہر ہونے تک‘ ، ’ یادوں کے چراغ‘ اور ’اپنی اپنی صلیب‘ خاص طو رپر قابلِ ذکر ہیں۔ افسانوں کے چار مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔
وہ ایک سفرنامہ نگار کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں۔
دیارِ حبیب
دیارِ حبیب میں حاضری او رحج کی تمنّا ہر مسلمان کے دل کی آرزو ہوتی ہے۔ نہیں جانتی کتنی کم سِنی سے میرے دل میں یہ خواہش پل رہی تھی۔ مگر جب وہاں کے ہجوم اور سفر کی کٹھنائیوں کا تذکرہ سنتی تو سوچا کرتی کہ میں حج کے بجائے عمرہ کروں گی۔ (مجھے حج اور عمرہ کے ارکان کا فرق بھی معلوم نہ تھا۔ صرف زمانے کا فرق سمجھتی تھی۔) جب بھابی جان 1960 یا 1961 میں حج کے لیے گئیں تو اور زیادہ شدّت سے اپنی محرومی کا احساس ہوا۔ جب 1962 میں چھوٹے بھائی جان کے ساتھ ’زیارت‘ کے لیے گئی تب میں نے ان سے کہا کہ ساتھ ساتھ مدینہ منوّرہ اور مکّہ معظمہ کی بھی زیارت کرلیں۔ مگر یہ ممکن نہ ہوسکا اور میں دل مار کررہ گئی۔عابد صاحب اکثر میرے منہ سے اس خواہش کو سُنتے مگر خاموش رہتے یا انشاء اللہ کہہ کر تسلّی دیتے مگر جب تک وہاں سے بلاوانہ آئے کیسے جایا جاسکتا ہے؟’لبّیک لبّیک ‘ کہتے ہوئے حاجی یازائروہاں جاتا ہے اس کا مطلب ہی یہ ہوانا کہ پُکارا جارہا ہے اور وہ صدقِ دل سے حاضر ہونے کا اعلان کررہا ہے۔

1968 میں عابد صاحب امریکہ، یورپ اور ایشیا کے بہت سے ممالک کا سفر ’اسلام اینڈدی ماڈرن ایج سوسائٹی ، کے سلسلے میں کرنے گئے تھے۔ واپس آنے کے بعد اکتوبر میں ان کا آپریشن ہوا۔ ان کاارادہ اس کے بعد ملیشیا اور انڈونیشیا وغیرہ جانے کا بھی تھا۔ ان کی صحت یابی کے بعد میں نے ان سے کہا ’’آپ ہر جگہ گئے میں راضی ہوگئی مگر اب آپ مجھے حج کراکے لائیے کہ حج بغیر محرم کے ہو نہیں سکتا اور میرے دونوں بھائی بیمار ہیں اور مصروف بھی۔ باپ نہیں ، بیٹا نہیں۔ آپ کے سواکون ہے اور؟‘‘
یہ بات پہلے بھی کہی تھی بارہا مگر کوئی وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت کی گئی خواہش فوراً ہی پوری ہوجاتی ہے۔ عابد صاحب راضی ہوگئے۔
میں اس قدر خوش ہوئی کہ بیان نہیں کرسکتی۔ یہ بھی خدا کی مہربانی تھی۔ اگر ہم اس سال حج نہ کرپاتے تو پھر ممکن ہی نہ تھا کہ ہم دونوں کی صحت اور حالات پھر اس قابل رہتے۔ جانے سے پہلے میں نے اپنے کئی عزیزوں کو خط لکھے کہ مُجھ سے جو غلطیاں ہوئی ہوں معاف کردیں۔ جواب باصواب ملے۔ دیگر سب انتظامات بھی آسانی سے ہوگئے۔ تاریخِ سفرطے ہوگئی۔ سیّد ہادی سکندر(مرحوم) جن کی بیوی لکھنؤ کی تھیں، وہ ہندوستان کے اکثر حاجیوں کے وکیل ہوتے تھے۔ لوگوں نے ان کی ہم سے بہت تعریف کی۔ انھیں کو اپنا ’وکیل‘ مقرر کرایا۔ معلوم ہوا کہ جامعہ ہائرسیکنڈری اسکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالحق خان او ر ان کی بیوی بھی ہمارے ساتھ ہی بمبئی سے حج کو جارہی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ میرے ساتھ کی وجہ سے ان کی بیگم ہوائی سفر وغیر ہ سے گھبرائیں گی نہیں۔ دلّی اسٹیشن پر ان کو اور ہم کو رخصت کرنے والوں کا خاصا ہجوم تھا۔ سب سے رخصت ہو کر بخیر وعافیت بمبئی پہنچے۔
اسٹیشن پر باوجود منع کرنے کے بھائی موجود تھے۔ حالاں کہ ان کی طبیعت کچھ دن پہلے بہت خراب رہ چکی تھی مگر ممکن نہ تھا کہ میں بمبئی آؤں اور وہ اسٹیشن یا ہوائی اڈّے پر موجود نہ ہوں۔ بہر حال سامان ان کے سُپردکیا اور ہم لوگ معین الدین حارث صاحب کے ساتھ حج کمیٹی کے دفتر پہنچے۔ وہاں حارث صاحب اور ایک صاحب کی مدد سے سب کام نسبتاً آسانی سے ہوگئے اور جب ساڑھے تین بجے بھائی کے گھر پہنچے تو وہ انتظار میں بھوکے بیٹھے تھے۔ سامان اپنے کمرے میں رکھوادیا تھا۔ خاطرداری اور پیار کی برکھا ہورہی تھی اور مشورے اور اعتراض کی بھی۔ ایک باریہ بھی کہا کہ عابد صاحب اتنے کمزور اور عمر رسید ہ اور تو ان کو حج کے لیے لے جارہی ہے! مگر میں نے بگڑ کر جواب دیا’’واہ!وہ تو خود جانے کے لیے بہت keen(پرُشوق) ہیں‘‘۔
ویسے جامعہ میں اور باہر بھی عام طور پر لوگوں کا خیال تھا کہ عابد صاحب صرف میری وجہ سے جارہے ہیں۔ خیر اصرار تو میرا بھی تھا مگر یہ کم لوگ سمجھتے تھے کہ ان کا دِل نورِ ایمان سے روشن ہے بلکہ مذہب کے ارکان اداکرنے کی بھی وہ بڑی حد تک کوشش کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کی خدمت تو ان کی زندگی تھی۔
ایرپورٹ پریوں تو سبھی عزیز تھے مگر چھوٹے بھائی جان عادت سے مجبور، محبت سے سرشار مجھے مشورے دے رہے تھے، نصیحت کررہے تھے۔ عابد صاحب پر چُپکے چُپکے فقرے کس رہے تھے۔ ویسے تو میں دوچاردن کو بھی کہیں جاتی تو دونوں بھائیوں کی صحت کی طرف سے فکر مند رہا کرتی تھی مگر اس وقت ذرا بھی پریشان نہ تھی۔ جس رحیم وکریم کے گھر پر حاضری دینے جارہی تھی، اسی کی امان میں میں نے اُن کو سونپ دیا تھا بلکہ وہ لوگ ہم دونوں کی طرف سے زیادہ فکرمند تھے مگر جب آخری بار بھائی سے گلے لپٹی تو ضبط کے بند ھن دونوں طرف سے ٹوٹ گئے اور میں پلٹ پلٹ کر اس محبوب وحسین چہرے کو دیکھتی رہی۔
ہوائی جہاز پر وہ افراتفری کہ خدا کی پناہ۔ بڑے بڑے کنستروں میں گھی اور جانے کیا کیا بھراہوا۔ برقعے اوڑھے عورتیں جو ریل میں بھی شاذ ونادرہی بیٹھی ہوں گی۔ ہر ایک اس مقّدس سفر کے پاک نشے میں سرشار تھا۔ کوئی ساڑھے تین گھنٹے میں رات گئے ہمارا طیارہ جدّہ پہنچا۔ ہر ملک سے جہاز آکر لینڈ کررہے تھے اور بے پناہ ہجوم تھا۔ کئی گھنٹے کی کوشش اور ہندوستانی سفارت خانے کے لوگوں کی مدد سے ہم سب مراحل سے گزرسکے۔ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ سعودی عرب میں کسی قسم کی کتاب لے جانے کی ممانعت ہے۔ میرے گلے میں کلام پاک حمائل تھا اور سوٹ کیس میں دعاؤں کی، حج وزیارت کے ارکان کی اور کئی کتابیں موجود تھیں۔ اچانک میرے کان میں کسی کسٹم آفیسر کی آواز پڑی جوعابد صاحب سے کہہ رہا تھا کہ آپ کے پاس کوئی کتاب تو نہیں۔ انھیں معلوم نہ تھا۔ کہہ دیا ’’نہیں‘‘۔ میں اس وقت سوٹ کیس کھول رہی تھی۔ کتابیں اوپر ہی رکھی تھیں۔ صفائی سے ان کو نکال کر کمال میاں ( ہمارے دوست ہدایت محسنی کے سالے) کے حوالے کردیں جوا ن کے بیگ میں پہنچ گئیں۔
اگلے دن جدّہ سے ہم چاروں نے مل کر کئی سودر ہم میں ایک ٹیکسی مدینہ تک کے لیے کی۔ اب یہاں امریکہ کے اشتراک سے بہترین سڑکیں بن گئی ہیں جن پربڑی بڑی شاندار موٹریں چلتی ہیں۔ لوگوں نے ہمیں ڈرا دیا تھاکہ ’ڈرائیور کی ہر بات مان لینا۔ انعام دیتے جانا ورنہ وہ راستے میں بہت پریشان کرے گا۔‘ سفر چار پانچ گھنٹے میں طے ہونا تھا مگر جہاں جی چاہتا عرب ڈرائیورصاحب قہوہ پینے، آرام کرنے اور بخشش لینے کے لیے ٹھہر جاتے۔ ہم بھی اپنی ربر کی بوتلوں میں پانی بھرلیتے اور چائے پی لیتے تھے۔ بارے سات آٹھ گھنٹے کے سفر کے بعد رات کے ساڑھے دس بجے ہم مدینہ منّور ہ پہنچ پائے۔ ڈرائیور نے سامان سڑک پرڈال دیا اور چلتا بنا۔
قبلۂ دیدہ ودل سامنے ہے۔ گنبدِ خضرا نظرنہ آرہا ہو مگر چند گز کے فاصلے پر موجود ہے اور ہم دنیا کے مارے بندے اسی فکر میں کھڑے ہیں کہ کیا کریں، کہاں جائیں۔ بھوپال رباط میں ٹھہر نے کا انتظام عابد صاحب کے دوست اعزازالدین صاحب نے کرایاتھا ۔ مگر وہ ہے کہاں یہاں نہ ہادی سکندر کا کوئی وکیل نہ کوئی رہنما۔ مگر رہنمائی کرنے والا تو ہر جگہ موجود ہے۔ ایک لڑکا سامان اُٹھانے کو ملا۔ باقی ہم سب نے خود اٹھایا اور بھوپال رباط جو قریب ہی تھا، پہنچے ۔ اعزاز صاحب دوڑے ہوئے آئے اور میزبانی کے فرائض سنبھال لیے۔ ایک کمر ہ پہلی منزل پر خالی تھا۔ دوسری منزل پر وہ خود اور تیسری پر ایک اور کمرہ ۔ اعزاز صاحب نے نیچے کے کمرے میں ہمارا سامان رکھوایا ۔
اعزاز صاحب اکثر حج کیا کرتے ہیں۔ اس سال بیگم بھی ساتھ آئی تھیں۔ ان بوڑھے میاں بیوی کی گہری اور باوقار محبت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا بہت ہی اچھّا لگا۔ بھابی نے چائے پلائی۔ کچھ کھلایا۔ جی بے قرار تھا کہ ابھی روضۂ محبوب پر حاضری دیں مگر اعزازصاحب نے کہا ’بہت دیر ہوچکی ہے۔ نمازِ تہجّد کے وقت سب چلیں گے‘۔ چنانچہ ہم دونوں سوگئے۔
صبح ہونے سے بہت قبل اعزاز صاحب چائے کی دوپیالیوں کے ساتھ جگانے آگئے۔ جلد ی جلدی وضو کرکے تیار ہوئے اور نیچے اُترآئے۔ آدھے فرلانگ پر مسجد نبویؐ کا ایک دروازہ تھا۔ بے انتہا وسیع وشاندار مسجد پہلے ہی سے عبادت گزاروں سے بھری ہوئی تھی۔ کسی طرح میں، بیگم اعزاز، بیگم عبدالحق عورتوں والے حصّے میں جگہ پاسکے۔ ہمارے داخل ہونے کے ذرادیر بعد مؤذّن کی باوقار آواز بلند ہوئی اور اپنی خوش بختی پر آنکھیں بھر آئیں۔ اس سے پہلے میں نے کبھی تہجّد کی نماز نہیں پڑھی تھی۔ (میری والدہ اکثر پڑھتی تھیں) یہاں باقاعدہ تہجّد کی اذان ہوتی ہے اور سب لوگ نمازِ فجر سے پہلے تہجّدپڑھتے اور پھر قرآن اور دعائیں پڑھتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ فجر کا وقت آجاتا ہے۔
نماز کے بعد ہم دونوں نے اپنی کتابیں سنبھالیں۔ کچھ کتابوں کی مددسے کچھ زبانی دعائیں پڑھتے ہوئے اپنے محبوب رہبر وہادیؐ کے روضۂ اقدس پر حاضری دی۔ آں حضرتؐ کے روضہ کی جالیوں کے سامنے کھڑے ہوکر پہلے پہل تو بس یہ محسوس ہوا کہ اب دنیا میں اور کیا چاہیے۔ دل چاہتا تھا روضۂ اقدس کی جالیوں کوا ٓنکھوں سے لگاؤں اور اشکوں سے ترکردوں۔ مگر ہر کونے پر محافظوں کے پر خشونت چہرے زائروں کوگھورتے نظر آتے تھے۔ ان کی ڈیوٹی تھی کہ کسی کو جالی چھونے نہ دیں۔
ایک دن ملک صاحب کے ساتھ ہم مسجدِ قُباء کی زیارت کے لیے گئے۔ مسجد نبویؐ میں تو جگہ بہت مشکل سے ملتی ہے ۔ مگر یہ سب سے پہلی مسجد تھی جس میں آں حضرت ؐ نے مدینہ میں داخل ہوکر نماز ادافرمائی، زائروں کے لیے کم مقّدس نہیں۔ یہاں بھی نماز ادا کی۔ اس کے منبر کو اپنے ہاتھوں سے چھوا، اس کی سیڑھی کو بوسہ دیا جس پر بیٹھ کر آقائے کائناتؐ خطبہ فرماتے تھے۔ (منبر وہ نہ سہی جگہ تو وہی ہے۔ یہ سعادت کیا کم ہے)۔ یہیں آکر تو آں حضرت ؐ نے اطمینان کا پہلا سانس لیا۔ یہیں آنے کے بعد مدینے کی غریب وشریف آبادی نے آپؐ کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اسلام کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ یہیں سے تو دنیا میں اسلام کی وحدانیت کی تعلیم پھیلی۔ مسجد قباء میں جس لگن اور سکون سے عبادت ہوسکی دوسری جگہ مجمع کی وجہ سے ممکن نہ تھی۔
(صالحہ عابد حسین)
مشق
سوالات:
1. دیارِ حبیبؐ میں مصنّفہ کے حاضر ہونے کی آرزو کس طرح پوری ہوئی؟
2. مصنّفہ نے ہوائی جہاز کے اندر کا کیا منظر بیان کیا ہے؟
3. مسجد نبویؐ میں داخل ہونے کے بعد مصنّفہ پر کیا کیفیت طاری ہوئی؟
4. مسجد قباء کے بارے میں مصنّفہ نے کن خیالات کا اظہار کیا ہے؟