
سید سلیمان ندوی
(1953-1884)
سیّد سلیمان ندوی صوبۂ بہار کے گاؤں دیسنہ(ضلع نالندہ) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی۔ ۱۹۰۱ء میں علامہ شبلی نعمانی کی قائم کردہ اسلامی درس گا ہ دارالعلوم ندوۃ العلما (لکھنؤ) میں داخل ہوئے جہاں اُن کے ادبی اور علمی ذوق کو جِلاملی۔وہ جدید عربی کے بھی بہت اچھے ادیب تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اپنے استاد مولانا شبلی کی نامکمّل تصنیف ’سیرۃ النبیﷺ، کوانھوں نے مکمّل کیا۔ ’سیرتِ عائشہؓ ‘ ان کی دوسری اہم سوانحی تصنیف ہے۔ ’نقوشِ سلیمانی ‘ میں کئی اہم مضامین شامل ہیں۔ ’ہند عرب تعلقات‘ ان کی مشہور کتاب ہے۔
وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ دارالمصنّفین(اعظم گڑھ) کا قیام اور ماہ نامہ ’معارف‘ کا اجرا ان کے اہم کارنامے ہیں۔ ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے انھوں نے غیر ملکی سفر بھی کیے۔
حضرت عائشہ ؓ کی سیرت کے چند پہلو
اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ صدّیقہ نے بچپن سے جوانی تک کا زمانہ اس ذاتِ اقدس کی صحبت میں بسر کیا جو دنیا میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے آئی تھی۔ چنان چہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا اخلاقی مرتبہ نہایت بلند تھا۔ وہ نہایت سنجیدہ، فیاّض، قانع، عبادت گزار اور رحم دل تھیں۔
حضرتِ عائشہؓ کی ذات میں قناعت اور شکر گزاری دونوں مجتمع تھیں۔ انھوں نے اپنی ازدواجی زندگی بڑی عُسرت اور فقروفاقہ سے بسر کی لیکن کبھی شکایت کا کوئی حرف زبان پر نہ لائیں۔ بیش بہا لباس ، گراں قیمت زیور، عالی شان عمارت، لذیذالوانِ نعمت، ان میں سے کوئی چیز شوہر کے ہاں ان کو حاصل نہیں ہوئی۔ وہ دیکھتی تھیں کہ فتوحات کا خزانہ سیلاب کی طرح ایک طرف سے آتا اور دوسری طرف سے نکل جاتا ہے۔ تاہم کبھی ان کی طلب ان کی دامن گیر نہ ہوئی۔
خدا نے اولاد سے محروم رکھا تھا تو حضرت عائشہؓ عام مسلمانوں کے بچّوں اور زیادہ تر یتیموں کی پرورش کیا کرتی تھیں۔ ان کی تعلیم وتربیت کرتیں اور ان کی شادی بیاہ کے فرائض انجام دیتی تھیں۔ عورتیں جب آں حضرت ؐکی خدمت میں کوئی ضرورت لے کر آتیں تو حضرت ِعائشہؓ ان کی اعانت اور سفارش حضور میں کیا کرتی تھیں۔
رسول اللہﷺکی اطاعت وفرماں برداری اور آپ ؐکی مسرت ورضا کے حصول میں شب و روزکوشاں رہتیں۔ اگر آپ ؐکے چہرے پرذرا بھی حزن وملال یا کبیدہ خاطری کا اثر نظر آتا تو بے قرار ہوجاتیں۔
حضرتِ عائشہؓ صدّیقہ کبھی کسی کی برائی نہ کرتی تھیں۔ ان کی روایتوں کی تعد اد ہزاروں تک ہے مگر اس دفتر میں کسی شخص کی توہین یا کسی کے لیے بد گوئی کا ایک حرف بھی نہیں ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص کا ذکر چلا۔ اِتّفاق سے آپ نے اس کو اچھاّ نہیں کہا۔ لوگوں نے بتایا۔ ’’اُمّ المومنین! اس کا تو انتقال ہوچکا ہے۔‘‘ یہ سن کر فوراً ہی اس کی مغفرت کی دعامانگتی ہیں۔ جواب دیا، ’’ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ مُردوں کو بھلائی کے سوایاد نہ کرو۔‘‘
کسی کا احسان کم ہی قبول کرتی تھیں اور اگر کرلیتی تھیں تو اس کا معاوضہ ضرور ادا کردیتی تھیں۔
عام انسانوں سے انصاف پسندی کا ظہور کم ہوتا ہے لیکن تربیت نبوی ؐ سے کمالِ اخلاق ہی کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدّیقہؓ کمالِ خودداری کے ساتھ انصاف پسند بھی تھیں۔
آپ نہایت شجاع اور پرُدل تھیں۔ میدانِ جنگ میں آکر کھڑی ہوجاتی تھیں۔ غزوۂ احد کے موقعے پر اپنی پُشت پر مشک لاد کر زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں۔ غزوۂ خندق میں جب چاروں طرف سے مشرکین محاصرہ کیے ہوئے تھے اور شہر کے اندر یہودیوں کے حملے کا خوف تھا، حضرتِ عائشہؓ بے خطر قلعے سے باہر نکل کر مسلمانوں کی جنگ کا نقشہ ملا حظہ کرتی تھیں۔
حضرت عائشہؓ کے اخلاق کا سب سے ممتاز جو ہر ان کی طبعی فیاّضی اور کشادہ دستی تھی۔خیرات میں تھوڑے بہت کا لحاظ نہ کرتیں بلکہ جو موجود ہوتا، سائل کو دے دیتیں۔ ایک دفعہ ایک سائلہ آئی جس کے ساتھ دو ننّھے بچّے تھے۔ اتّفاق سے اس وقت گھر میں کچھ نہ تھا سوائے ایک چھوہارے کے۔ اسی کو دو ٹکڑے کرکے دونوں بچّوں کو دے دیا۔ دوسری دفعہ ستّر ہزار کی رقم خدا کی راہ میں دے دی۔ امیرِمعاویہ ؓ نے ایک لاکھ دِرہم بھیجے۔ شام ہوتے ہوتے ایک حبہّ بھی پاس نہ رکھا، سب محتاجوں کو دے دیا۔
حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اُن کے بھانجے تھے اور خالہ کی نظر میں سب سے زیادہ چہیتے۔ وہ زیادہ تر آپ کی خدمت میں رہتے ۔ آپ کی فیّاضی کو دیکھتے دیکھتے وہ بھی گھبراگئے اور کہیںان کے منہ سے نکل گیا کہ ’’اب ان کا ہاتھ روکنا چاہیے‘‘۔ خالہ کو معلوم ہوا تو قسم کھالی کہ ’’اب کبھی ابنِ زبیرؓ سے بات نہ کروں گی۔ وہ میرا ہاتھ روکے گا؟‘‘ ابن زبیرؓ مدت تک معتوب رہے۔ آخربڑی مشکل سے انھیں معاف فرمایا۔
فقراء اور اہلِ حاجت کی اعانت ان کے حسبِ حیثیت کرنا چاہیے۔ اگر کوئی ضرورت مند تمھارے پاس آتا ہے تو اس کی حاجت براری ہی اس کے درد کی دوا ہے لیکن اگر اس سے زیادہ عزّت دار آدمی ہے تو حاجت براری کے ساتھ وہ کسی قدر عزّت وتعظیم کا بھی مُستحق ہے۔ حضرت عائشہؓ اس نکتے کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک سائل آیا۔ اس کو روٹی کا ٹکڑا دے دیا۔ وہ چل دیا۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا جو کسی قدر عزّت دار معلوم ہوتا تھا۔ اس کو بیٹھا کر کھانا کھلایا، پھر رخصت کیا۔ لوگوں نے دریافت کیا، ’’ ان دونوں کے ساتھ الگ الگ برتاو ٔکیوں کیا گیا؟‘‘
فرمایا،’’ آں حضرت ؐ کا ارشاد ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کے حسب ِحیثیت برتاؤ کرنا چاہیے۔‘‘
(سید سلیمان ندوی)
مشق
سوالات:
1۔ حضرت عائشہ صدّیقہ ؓنے کیسی زندگی بسر کی؟
2۔ حضرت عائشہ صدّیقہؓ بچوّں اور یتیموں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی تھیں؟
3۔ حضرت عائشہ صدّیقہ ؓ کی شجاعت کن واقعات سے ظاہر ہوتی ہے؟
4۔ حضرت عائشہ صدّیقہ ؓ کی فیّاضی سے متعلق کوئی واقعہ لکھیے۔