Skip to content
Dhanak-001



رابند رناتھ ٹیگور


رابندر ناتھ ٹیگور کی پیدائش کولکاتا کے جوراسنکو میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام مہرشی دیبیندر ناتھ ٹیگور اور ماں کا نام شاردا دیوی تھا۔ گھر کے تمام لوگ بچپن میں انھیں ’ربیّ‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ ان کی ماں کا انتقال بچپن ہی میں ہوگیا تھا۔ والدکی تربیت نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ ان کے اندر خود اعتمادی پیداہوئی۔ رابندرناتھ ٹیگور کو نیٹل سیمنیر ی اسکول میں داخل کرایا گیا۔انھوں نے سینٹ زیویرس اسکول میں تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھی گئے۔

11مئی 1875کو انھوں نے پہلی بار ہندومیلے کے عوامی مجمعے کے سامنے اپنی نظم ’’بن پھول‘‘ پیش کی۔ اس میلے کو شروع کرنے کا خاص مقصد یہ تھا کہ ہندوستانیوں میں اپنی زبان ، تاریخ، وراثت، تہذیب، موسیقی اور آرٹ سے محبت پید ا کی جائے۔  اُن کی یہ نظم آج بھی عوام میں مقبول ہے۔

 رابندر ناتھ نے انگلستان میں دوران تعلیم ’’ ہندوستانیوں پر انگریزوں کے مظالم‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھاتھا۔ انھوں نے یہ مضمون اپنے استادہتیری مورلے کو دے دیا اور دوسرے دن یہ سوچ کر اُن کی کلاس میں نہیں گئے کہ استاد ناراض ہو ں گے۔ لیکن مورلے پراس مضمون کا اتنا اثر ہوا کہ انھوں نے اسے پوری کلاس کو پڑھ کر سنایا۔

انگلستان میں اُن کا قیام صرف ڈیڑھ سال رہا۔ اس دوران وہ پابندی سے اپنی تخلیقات رسالہ ’’بھارتی‘‘ میں اشاعت  کے لیے بھیجتے رہے۔ واپسی کے بعد انھوں نے ’’ ساندھیہ سنگیت‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جو ادب سے دل چسپی رکھنے والوں میں بے حد مقبول ہوئی۔ اس کتاب کی اشاعت کے کچھ دنوں بعد رابندرناتھ ایک شادی میں گئے وہاں مشہور زمانہ ناول نگار بنکم چندرچٹرجی بھی آئے ہوئے تھے۔ میزبان انھیں دیکھ کر ایک ہارلے کر ان کے استقبال کے لیے لپکے لیکن بنکم چندر نے وہ ہار رابند رناتھ کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا کہ اس اعزاز کا صحیح حق دار یہ نوجوان ہے۔ بنکم چندر کی زبان سے ایسے کلمات نکلنا اُن جیسے نوجوان ادیب کے لیے فخر کی بات تھی۔ اُن کی شہرت ومقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔ 1886 میں کولکاتا میں انڈین نیشنل کانگریس کا دوسرا اجلاس ہوا جس کے صدر دادا بھائی نوروجی تھے۔ اس اجلاس میں رابندر ناتھ نے اپنا ایک گیت سنایا۔ جو سادہ بنگالی زبان میں تھا۔

رابندر ناتھ کو خدانے لکھنے کی زبردست صلاحیت دی تھی۔ انھوں نے متعدد کہانیاں، نظمیں، گیت، ناول، ڈرامے اور مضامین لکھے۔ اُن کا کافی وقت اسی میں گزرتا تھا۔ لیکن خاندان کے لیے اپنے فرائض کی ادائیگی میں انھوں نے کبھی کوتا ہی نہیں برتی۔ اس کے لیے انھیں کافی عرصہ شیلیاداگاؤں میں رہنا پڑا جو دریا ئے پدما کے کنارے آباد تھا۔ گاؤں میں رابند رناتھ کو کسانوں کی سیدھی سادی زندگی نے بے حد متاثر کیا۔ وہاں کی خاموش اور پرسکون فضا بھی اُن کے مزاج کو راس آئی۔ جیسے جیسے گاؤں کے لوگوں سے اُن کے روابط بڑھے اُن میں یہ احساس بیدار ہونا شروع ہوا کہ ہندوستان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے گاؤں کی خوش حالی اور ترقی ضروری ہے۔ انھوں نے گاؤں کی فلاح وبہود کے لیے کئی کام کیے۔ ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ ہر شخص کو اپنی مادری زبان سیکھنا چاہیے۔ انھوں نے لکھاہے۔ ’’بالکل اس بچیّ کی طرح جواپنی ماں کے دودھ سے سب سے زیادہ صحت مند اور مضبوط اٹھتا ہے، اگر انسان کی مادری زبان میں اُسے تعلیم دی جائے تو اُس کا دل و دماغ بھی سب سے زیادہ مضبوط بنتا ہے۔‘‘

رابندرناتھ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ہندوستان کی ترقی کے لیے ہندوستانیوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ انھوں نے اپنے والد سے شانتی نکیتن میں ایک اسکول کھولنے کی اجازت مانگی، جہاں گُروکُل کے پرانے انداز میں تعلیم کا انتظام ہو۔ ان کے والد نے خوشی سے انھیں اسکول کھولنے کی اجازت دے دی۔ شانتی نکیتن میں اُن کا ایک گھر پہلے سے موجود تھا۔ انھوں نے وہاں سات ایکڑ زمین اس طرح خرید ی کہ یہ گھر درمیان میں آگیا۔ یہاں سب سے پہلے ایک لائبریری اور ایک لیباریٹری کا قیام عمل میں آیا۔ اس پورے خطے کو اسکول کی شکل دینے کے لیے کافی بڑی رقم درکارتھی۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے حصے کی کچھ جائداد اور اپنی بیوی کے زیورات بیچ دیے۔

اسی دوران انھیں بعض تکلیف دہ سانحات سے گزرنا پڑا ۔ پہلے اُن کی بیوی کااورچھے مہینے بعد اُن کی ایک بیٹی کا بھی انتقال ہوگیا۔1905 میں اُن کے والد بھی چل بسے۔ انھیں سب سے بڑا صدمہ اُس وقت پہنچا جب 1907 میں اُن کا چھوٹا بچہّ سُمیندر بھی انتقال کرگیا۔ ان پے درپَے سانحوں کے باوجود انھوں نے اسکول کا کام متاثّرنہ ہونے دیا۔ اس کی کلاسیں کھلے میدانوں میں درختوں کے سائے میں ہوتیں۔ شاگرداور استاد میں ایک ہی خاندان جیسا رشتہ ہوتا تھا۔ سارے کام وہ مل جل کر کرتے۔ ان کا یہ طرز ِتعلیم نہایت کامیاب ثابت ہوا۔

1912 میں ٹیگور کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ انھوں نے اپنی کچھ نظموں کا انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ اسی دوران انھیں اپنے علاج کے لیے ملک سے باہر جانا پڑالیکن انھوں نے ترجمے کا کام جاری رکھا۔ 

لندن میں ایک دوست کے توسّط سے ان کی ملاقات مشہور آئرش شاعر ڈبلیوبی ییٹس(W.B. Yeats)سے ہوئی ۔ اس عظیم شاعرنے ان نظموں کو دیکھ کر اپنی پسندید گی کا اظہارکیا اور کہاکہ ’’پوری مغربی دنیا ٹیگور جیسے شاعر کا انتظار کررہی ہے۔‘‘

 رابندر ناتھ کے اپنے ترجمہ کردہ مجموعۂ نظم ’’ گیتا نجلی‘‘ پرانھیں1913میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ ٹیگور پہلے ایشیائی تھے جنھیں اس اعزاز سے نواز اگیا۔ انعام میں ملنے والی ساری رقم انھوں نے شانتی نکیتن کو دے دی۔1915 میں انھیں انگلستان میں ’سر‘ کا اعزاز بھی دیا گیا۔

ٹیگور ایک بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے۔ اُن کا یہ خواب’’ وشوبھارتی‘‘ کے نام سے پورا ہوا۔ دسمبر1918 میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ کچھ مہینے بعد 1919 میں جلیاں والا باغ میں قتل عام کا واقعہ ہوا۔ احتجاج کے طور پر انھوں نے اپنا ’’سر‘‘ کا خطاب واپس کردیا۔

’وشوبھارتی‘ کے قیام کے بعد رابندرناتھ نے سارے ملک کا دورہ کیا۔ انھوں نے تمام ہندوستان میں وشوبھارتی کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو وہاں آنے کی دعوت دی ۔ اس کے لیے انھوں نے کئی بیرونی ملکوں کا وورہ کیا اور وشوبھارتی کو متعارف کرایا۔جب یہ یونیورسٹی اپنے پیروں پرکھڑی ہوگئی تو 1921 میں اسے قوم کے لیے وقف کردیا گیا۔

مئی 1932 میں گاندھی جی ٹیگور سے ملے اور انھیں اپنے ’’چرخہ پروگرام‘‘ میں شمولیت کی دعوت دی۔ 1936 میں ٹیگور سخت بیمار ہوگئے ۔ گاندھی جی تارکے ذریعے اُن کی خیریت معلوم کرتے رہتے تھے۔ 1940 میں وہ ایک بار اُن کی عیادت کے لیے کولکاتا بھی آئے۔ رابندرناتھ نے گاندھی جی سے درخواست کی کہ وہ وشوبھارتی کی ذمے داری سنبھال لیں۔ اس پر گاندھی جی نے کہا کہ یہ قوم کا ادارہ ہے، اس کے لیے مجھ سے جو بن پڑے گا ضرور کروں گا۔

7اگست1941 میں رابند ناتھ ٹیگور کا انتقال ہوگیااور ہندوستان کی ترقی کا خواب دیکھنے والا ایک عظیم انسان دنیا ے فانی سے رخصت ہوگیا۔

                                                                                                                                                                                                            (ادارہ)

                                                 مشق

سوالات:

1.    رابندرناتھ ٹیگور کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی تھی؟

2 .    ٹیگور نے انگلستان کاپہلا سفر کس مقصد سے کیا تھا؟ 

3.    بنکم چندرچٹرجی اور ٹیگور کی ملاقات کا حال لکھیے۔

4.    مادری زبان میں تعلیم کے متعلق ٹیگور کی کیا رائے تھی؟

5.    ٹیگور کو اُن کی کس تخلیق پر نوبل پرائز دیا گیا؟