اکائ-1
باب ۔ ۱
انسانی جغرافیہ
نوعیت اور دائرہ کار

آپ درسی کتاب ’طبیعی جغرافیہ کے مبادیات‘ (این سی ای آر ٹی2006)کے پہلے باب میں آپ ایک مضمون کی حیثیت سے جغرافیہ کا مطالعہ کر چکے ہیں۔کیا آپ کو اس کا کچھ مواد یاد ہے؟ اس باب میں آپ کو مجموعی طور پر جغرافیہ کی نوعیت سے متعارف کرایا گیا تھا۔آپ جغرافیہ کی اہم شاخوں سے بھی واقف ہو چکے ہیں۔ اگر آپ اس باب کو دوبارہ پڑھیں گے تو آپ انسانی جغرافیہ کے تعلق کو اصل مضمون یعنی جغرافیہ سے بخوبی سمجھ پائیں گے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں مطالعاتی حیثیت سے جغرافیہ ایک تکمیلی،تجرباتی اورعملی مضمون ہے۔اس طرح جغرافیہ کی رسائی وسیع ہے اور ہر وہ واقعہ یا مظہرجس میں تغیر زمان و مکان کی حیثیت سے ہوتا ہے اس کا جغرافیائی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔آپ سطح زمین کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ زمین کے دو اجزائے ترکیبی ہیں:فطرت (طبیعی ماحول) اور زندگی کی شکلیں جس میں انسان بھی شامل ہے؟ اپنے گردوپیش کی طبیعی اور انسانی اجزاکی فہرست تیار کیجیے۔طبیعی جغرافیہ طبیعی ماحول اور انسانی جغرافیہ کا مطالعہ کرتا ہے اور’’انسانی جغرافیہ طبیعی؍فطری اور انسانی دنیا کے درمیان ربط،انسانی مظاہر کی مکانی تقسیم اور یہ کیسے وجود میں آئے اور دنیا کے مختلف حصوں کے درمیان سماجی و معاشی تفریق کا مطالعہ کرتا ہے۔‘‘1
آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ایک مضمون کی حیثیت سے جغرافیہ کا بنیادی تعلق زمین کو بنی نوع انسان کے لیے گھر کی حیثیت سے سمجھنا ہے اور ان تمام عناصر کا مطالعہ کرنا ہے جن پر انسانی بقا کا دارومدار ہے۔ اس طرح مطالعے کا سارا زور فطرت؍قدرت اور بنی نوع انسان پر ہے۔آپ محسوس کریں گے کہ جغرافیہ ثنویت (dualism) کا شکار ہو گیا اور ایک لمبی بحث اس بات پر چھڑ گئی کہ جغرافیہ کو ایک مضمون کی حیثیت سے قانون ساز؍اصول ساز(کلیاتی یعنی nomothetic) ہونا چاہیے یا بیانیہ(نوعی مطالعہ یعنی idiographic) ہونا چاہیے۔کیا اس کے مواد مضمون کو منظم کرنا چاہیے اور اس کے مطالعے کا طریقہ علاقائی (regional) ہویا نظامی (systematic)؟ آیا جغرافیائی مظاہر کی تشریح نظریاتی طور پر کی جانی چاہیے یا تاریخی ادارہ جاتی رسائی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ ذہنی مشق کے مسائل رہے ہیں لیکن آخر میں آپ اس بات کی تائید کریں گے کہ طبیعی اور انسانی کے مابین تضاد کوئی بہت زیادہ قابل اعتنا نہیں ہے کیوں کہ فطرت اور بنی نوع انسان لاینفک عناصر ہیں اور انھیں مجموعی طور پر دیکھنا چاہیے۔قابل توجہ امر یہ ہے کہ طبیعی اور انسانی مظاہردونوں کے بیان میں استعارے کے طور پر اعضائے انسانی کی علامات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ہم اکثر ’روئے‘زمین،طوفان کی ’آنکھ‘، ندی کا’دہانہ‘، گلیشیئر کی ’ناک‘، خاکنائے کی ’گردن‘ مٹی کا ’نیم رخ‘ کی بات کرتے ہیں۔ اسی طرح علاقے، گاؤں،قصبات کو عضویہ (organism) کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔سڑکوں، ریلوں اورآبی راستوں کے جال کو اکثر ’شریانی گردش‘(arteries of circulation) کہا جاتا ہے۔کیا آپ اس طرح کی اصطلاحات اور تعبیروں کو اپنی زبان میں تلاش کر سکتے ہیں؟ اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم فطرت اور انسان کو الگ کر سکتے ہیں جب کہ وہ اندرونی طور پر ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں؟
انسانی جغرافیہ کی تعریف
انسانی جغرافیہ کی نوعیت
NATURE OF HUMAN GEOGRAPHY
انسانوں کی فطری تطبیق اور فطرت کی انسانی تطبیق
(Naturalisation of Humans and Humanisation of Nature)
انسان اپنے طبیعی ماحول کے ساتھ ٹکنالوجی کی مدد سے تفاعل کرتا ہے۔ یہ اہم نہیں ہے کہ انسان کیا پیدا کرتا ہے یا کس چیز کی تخلیق کرتا ہے بلکہ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ کن آلات و تکنیک کی مدد سے ان اشیاکو پیدا کرتا ہے یا ان کی تخلیق کرتا ہے۔
ٹکنالوجی سماج کی ثقافتی ترقی کا آئینہ دار ہے۔ انسانوں نے فطری اصولوں کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد ٹکنالوجی کو فروغ دیا۔ مثال کے طور پر رگڑ اور گرمی کے تصور کی سمجھ سے ہم نے آگ کو تلاش کرلیا۔ اسی طرح ڈی این اے (DNA) اور نسلی علوم کی سمجھ سے ہم اس قابل بن گئے کہ کئی بیماریوں پر فتح پا سکیں۔ہم نے فضائی تحریکات (aerodynamics) کے اصولوں کا استعمال کرکے تیزرفتار ہوائی جہازوں کو بنایا۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ٹکنالوجی کو فروغ دینے میں فطرت کے بارے میں معلومات کافی اہم ہیں کیونکہ ٹکنالوجی انسانوں کو جکڑنے والے ماحول کی بیڑیاں کھولتی ہے۔ اپنے فطری ماحول کے ساتھ ان کی باہمی کارکردگی کے اولین مراحل میں انسان فطرت سے کافی متاثر تھے۔کیوں کہ ٹکنالوجی کی سطح کافی نیچے تھی اور انسانی سماجی ترقی بھی ابتدائی مرحلے میں تھی۔ ابتدائی انسانی سماج اور فطرت کی مضبوط طاقتوں کے درمیان اس قسم کے تعامل کو ماحولیاتی جبریت (environmental determinism) کی اصطلاح دی گئی تھی۔بہت ہی کم تکنیکی ترقی کے اس مرحلے پر ہم فطرت کے زیرایسے اثر انسان کی موجودگی کا تصور کر سکتے ہیں جوقدرت کو سنتا تھا،اس کے قہر سے ڈرتا تھا اور اس کی پرستش کرتا تھا۔
انسانوں کی فطری تطبیق
بندا وسطی ہندوستان کے ابوجھ ماڑ علاقے کے جنگلات میں رہتا ہے۔ اس کا گاؤں جنگل کے وسط میں تین گھروں پر مشتمل ہے۔یہاں تک کہ اس علاقے میں چڑیاں یا آوارہ کتوں کو بھی نہیں دیکھا جاسکتا جو عام طور پر گاؤں میں اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ستر ڈھانپنے والے چھوٹے کپڑے کو پہنے ہوئے اور ہاتھ میں کلہاڑی لییوہ خراماں خراماں پینڈا (جنگل) کا سروے کرتا ہے جہاں اس کے قبیلے والے ابتدائی قسم کی زراعت کرتے ہیں جسے انتقالی زراعت کہا جاتا ہے۔ بندا اور اس کے دوست جنگل کے ایک چھوٹے ٹکڑے کو جلاتے ہیں تاکہ اسے زراعت کے لیے صاف کر سکیں۔جلے ہوئے پیڑ پودوں کی راکھ کا استعمال مٹی کو زرخیز بنانے کے لیے کیا جاتا ہے ۔بندا خوش ہے کہ اس کے ارد گرد مہوا کے درخت پھل دار ہو گئے ہیں۔جیسے جیسے وہ مہوا، پلاش اور سال کے ان درختوں کو دیکھتاجاتا ہے جن کی پناہ میں اس کا بچپن گذرا ہے وہ سوچتا ہے میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ اس خوبصورت کائنات کا ایک حصہ ہوں۔سبک رفتاری سے جنگل طے کرتے ہوئے بندا ایک ندی تک پہنچتا ہے۔جب وہ چلّو بھر پانی اٹھانے کے لیے جھکتا ہے تو جنگل کے دیوتالوئی،لوگی کا شکریہ اداکرتا ہے جس نے اس کی پیاس بجھانے کی اجازت دی۔ اپنے دوستوں کے ساتھ چلتے ہوئے وہ رس دار پتیوں اور جڑوں کو چباتا ہے۔لڑکے جنگل سے گجھرا اور کچلہ جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ خصوصی پودے ہیں جس کو بندا اور اس کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اسے امید ہے کہ جنگل کا دیوتا اس پر مہربان ہو کر اسے ان جڑی بوٹیوں تک رہنمائی کرے گا۔ ان کی ضرورت چاند کی اگلی چودھویں تاریخ میں آنے والے مدھائی یا قبیلہ جاتی میلے میں بیچنے کے لیے تھی۔ وہ اپنی آنکھیں بند کرکے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا کہ بڑے بزرگوں نے ان جڑی بوٹیوں کے بارے میں اسے کیا سکھایا تھا اور وہ کہاں ملیں گی۔کاش !اس نے اور زیادہ توجہ سے بات سنی ہوتی۔ اچانک پتیوں میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔ وہ جان گئے کہ کوئی باہری آدمی انھیں تلاشتے ہوئے جنگل میں آگیا ہے۔ وہ اور اس کے دوست ایک ہی چھلانگ میں گھنے درختوں کے پیچھے غائب ہوگئے اور جنگل کا ایک حصہ بن گئے۔
فطرت کی انسانی تطبیق
انسانی جغرافیہ وقت کے گلیاروں سے
(Human Geography through the Corridors of Time)
انسانی جغرافیہ کے میدان اور ذیلی میدان (Fields and Sub-fields of Human Geography)
جدول 1.1 انسانی جغرافیہ کے وسیع مراحل اور تاکید ی علاقے
| مدت | رسائیاں | وسیع خصوصیات | |
| ا بتدائی نوآبادیاتی زمانہ | تلاش اور بیان | استعماری اور تجارتی مفاد نے نئے علاقوں کی تلاش اور مہم جوئی پر آمادہ کیا۔علاقے کا قاموسی بیان جغرافیہ دانوں کے محاسبے کا اہم پہلو بن گیا۔ |
|
| بعد کا نوآبادیاتی زمانہ | علاقائی تجزیہ | علاقے کے تمام پہلووں کا تفصیلی یان کی گیا۔ خیال یہ تھا کہ تمام علاقے کل ( یعنی زمین ) کا حصہ ہیں: لہذا کل کے اجزا کو سمجھنے کا مطلب ہے کہ کل کو سمجھنا | |
| 1930سے عالمی جنگوں کے درمیان کا زمانہ | علاقائی تفریق | کسی علاقے کی انفرادیت کی پہچان اور اس کی سمجھ پر توجہ کہ ایک علاقہ دوسرے سے کیسے اور کیوں مختلف ہے | |
| 1950 کی آخری دہائی سے 1960 کی آخری دہائی تک | مکانی تنظیم | کمپیوٹر اور ہترین شماریاتی آلات کے استعمال سے نشان زد۔ علم طعیات کے اصولوں کو اکثر نقشے اور انسانی مظاہرے کے تجزیہ میں استعمال کیا گیا۔ اس کا اہم مقصد مختلف انسانی سرگرمیوں کے لیے نقشہ نویسی کے لائق نمونوں کی پہچان کرنا تھا۔ | |
| 1970 کی دہائی | انسانی، نیادی اور کرداری مکتب فکر کا ظہور | کمیتی انقلاب سے مایوسی اور جغرافیہ کی غیر انسانی کارکردگی کے طرز کی وجہ سے 1970کے عشرے میں انسانی جغرافیہ کے تین نئے مکتب فکر سامنے آئے۔ ان مکات فکر کے عروج سے انسانی جغرافیہ کو زیادہ سے زیادہ سماجی و سیاسی اصلیت کے حسب حال کیا گیا۔ ان مکاتب فکر کے بارے میں مزید معلومات کے لیے مندرجہ ذیل باکس کا مطالعہ کیجیے۔ | |
| 1990 کی دہائی | جغرافیہ میں ماعد جدیدیت ( post- modernism ) |
انسانی حالات کی تشریح کرنے والے آفاقی اصولوں کی موزونیت اور بڑے تعلیم پر سوالات کیے گئے۔ ہر مقامی سیاق و |
جدول 1.2 :انسانی جغرافیہ اور سماجی علوم کے ہمسر مضامین
| انسانی جغرافیہ کے میدان |
ذیلی میدان |
سماجی علوم کے ہمسر مضامین سے مواجہت |
| سماجی جغرافیہ |
- | سماجی علوم ۔ علم سماجیات |
| کرداری جغرافیہ |
علم نفسیات |
|
| سماجی بہبود کا جغرافیہ |
بہبودی معیشت |
|
| مہلت کا جغرافیہ |
علم سماجیات |
|
| ثقافتی جغرافیہ |
علم الانسان | |
| جنسی جغرافیہ | علم سماجیات، علم الانسان، مطالعات نسواں | |
| تاریخی جغرافیہ | علم تواریخ |
|
| طبی جغرافیہ |
علم امراض وبائی |
|
| شہری جغرافیہ |
- | مطالعات شہری و منصوبہ بندی |
| سیاسی جغرافیہ | - | علم سیاسیات |
| انتخابی جغرافیہ | علم رائے دہندگان | |
| عسکری جغرافیہ | علم عسکریت | |
| آبادی جغرافیہ | علم آبادیات |
|
| آبادکاری جغرافیہ | شہری ؍ دیہی منصوبہ بندی | |
| معاشی جغرافیہ | علم معاشیات | |
| جغرافیہ وسائل | وسائل معاشیات | |
| زرعی جغرافیہ | زراعتی علوم | |
| صنعتی جغرافیہ | صنعتی معاشیات | |
| بازار کا جغرافیہ | کاروباری مطالعات، علم معاشیات، کامرس | |
| سیاحتی جغرافیہ | سیاحت اور اسفاری بندوبست | |
| بین الاقوامی تجارت کا جغرافیہ | عالمی تجارت |
مشق
1۔ ذیل میں دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(ii) مندرجہ ذیل میں سے کون جغرافیائی معلومات کا وسیلہ نہیں ہے۔
(iii) لوگوں اور ماحول کے درمیان مندرجہ ذیل میں سے کون سب سے اہم عامل ہے؟
(iv) مندرجہ ذیل میں سے کون انسانی جغرافیہ کی رسائی نہیں ہے؟
3 ۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے جو 150 الفاظ سے زائد نہ ہوں۔