Skip to content
Insanijughrafiakemubadiat-002

اکائی ۔II 

باب ۔ 2 



عالمی آبادی

تقسیم، کثافت اور نشو و نما

5

سونا نہیں بلکہ صرف عورتیں اور مردلوگوں کو عظیم اور مضبوط بناسکتے ہیں۔

وہ عورتیں اور مرد جو سچائی اور عزت کے لیے مضبوطی سے قائم رہتے ہیں اور مدت تک تکلیفیں برداشت کرتے ہیں۔ وہ عورتیں اور مرد جو سخت محنت کرتے ہیں جب کہ دوسرے لوگ سوتے رہتے ہیں۔وہ جو ڈٹے رہتے ہیں جب کہ دوسرے بھاگ جاتے ہیں۔وہی قوم کے ستون کو مضبوط بناتے ہیں اور اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔

رالف والڈو ایمرسن


کسی ملک کے لوگ اس کی اصلی دولت ہیں۔یہی لوگ اس کا اصل سرمایہ ہیں اور ملک کے دیگر وسائل کا استعمال کرتے ہیں اور اس کی پالیسیوں کو طے کرتے ہیں۔بالآخر ایک ملک اپنے لوگوں کے ذریعہ پہچاناجاتا ہے ۔ 

یہ جاننا اہم ہے کہ ایک ملک میں کتنی عورتیں اور مرد ہیں،ہرسال کتنے بچے پیداہوتے ہیں، کتنے لوگ مرتے ہیں اور کیسے؟ کیا وہ شہروں میں رہتے ہیں یا گاؤں میں،کیا وہ  پڑھ یا لکھ سکتے ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جسے آپ اس اکائی میں پڑھیں گے۔

اکیسویں صدی کے آغاز پر دنیا نے 6 ارب سے زیادہ آبادی کی موجودگی کو قلم بند کیا۔ہم یہاں ان کی تقسیم کی ترتیب اور کثافت پر بحث کریں گے۔

 لوگ کیوں کسی خاص علاقے میں رہنا پسند کرتے ہیں اور دوسرے علاقوں میں نہیں؟

دنیا میں آبادی کی تقسیم غیرمساوی ہے۔ ایشیا کی آبادی کے سلسلے میں جارج بی کریسی کا تبصرہ کہ’’ایشیا میں بہت سے مقامات ہیں جہاں لوگ کم ہیں اور بہت کم مقامات ایسے ہیں جہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے‘‘عالمی آبادی کی تقسیم کا طرز بتانے کے لیے صحیح ہے۔

دنیا میں آبادی کی تقسیم کا طرز:PATTERNS OF  POPULATION DISTRIBUTION  IN  THE  WORLD

تقسیم آبادی کا طرز اور کثافت ہمیں کسی علاقے کی آبادیاتی خصوصیات کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔تقسیم آبادی کی اصطلاح سے مراد وہ طریقہ ہے جس میں لوگ سطح زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔موٹے طور پر دنیا کی 90 فی صد آبادی زمین کے 10 فی صدعلاقے میں رہتی ہے۔
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے 10 ممالک میں تقریباً دنیا کی 60 فی صد آبادی رہتی ہے۔ ان 10 ممالک میں سے 6 ایشیا میں واقع ہیں۔ ایشیا کے ان چھ ممالک کی پہچان کیجے

6
ملین مین آبادی
شکل 1۔2 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک
ممالک
میکسیکو
روس
بنگلہ دیش
نائجیریا
پاکستان
برازیل
انڈونیشیا
امریکہ
ہندوستان
چین

آبادی کی کثافت

DENSITY OF POPULATION

زمین کی ہر اکائی میں اس پر رہنے والے لوگوں کی پرورش کرنے کے لیے محدود صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی تعداد اور زمین کے سائزکے درمیان تناسب کو سمجھا جائے۔یہی تناسب آبادی کی کثافت ہے۔عام طور پر اس کی پیمائش فی مربع کلومیٹرافراد کی تعداد میں کی جاتی ہےآبادی کی کثافت  =  
 آبادی
رقبہ
مثال کے طور پر اگر کسی علاقے x   کا رقبہ 100مربع کلومیٹر ہے اور آبادی 1,50,000 افراد پر مشتمل ہے تو آبادی کی کثافت کی پیمائش اس طرح کی جاتی ہے:
  کثافت=Capture1
= 1500 افراد/مربع کلومیٹر
آپ کو علاقہ x کے بارے میں اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟
ذیل میں دیے گئے جدول کو دیکھیے:
کیا آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ایشیا میں آبادی کی کثافت سب سے زیادہ ہے

کلاس میں گفتگو کیجیے کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ 

آبادی کی تقسیم کو متاثر کرنے والے عوامل

FACTORS INFLUENCING THE   DISTRIBUTION  OF POPULATION

I   جغرافیائی عوامل (Geographica Factors)

  (i)  پانی کی دستیابی: پانی  زندگی کے لیے سب سے اہم عامل ہے۔لوگ ان علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں جہاںمیٹھا پانی آسانی سے میسر ہوتا ہے۔پانی کا استعمال پینے، نہانے،اور کھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال مویشیوں،فصلوں، صنعتوں اور کشتی رانی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے دریاؤں کے طاس سب سے کثیف آبادی والے علاقے ہیں۔

(ii) زمینی ہیئت: لوگ مسطح میدان اور ہموار ڈھال والے علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس قسم کے علاقے فصل پیدا کرنے، سڑک بنانے اور صنعتوں کو لگانے کے لیے مناسب ہوتے ہیں۔ پہاڑی علاقے نقل وحمل کے جال کو فروغ دینے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اس لیے ابتدائی مراحل میں زراعتی اور صنعتی ترقی کے لیے مناسب نہیں ہوتے ۔ اس لیے ان علاقوں میں آبادی کا رجحان کم ہوتا ہے۔گنگا کا میدان دنیامیں سب سے کثیف آبادی کا علاقہ ہے جبکہ ہمالیہ کے پہاڑی خطوں میں آبادی بہت کم ہے۔

(iii) آب و ہوا: غیر معقول آب وہوا جیسے بہت زیادہ گرم یا سرد ریگستان انسانی بود وباش کے لیے آرام دہ نہیں ہوتے۔معتدل آب وہوا کے خطے جہاں موسمی تغیر زیادہ نہیں ہوتا انسانوں کی آبادی کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔بہت زیادہ بارش والے علاقوں یا غیر معتدل اور سخت آب وہوا کے علاقوں میں آبادی کم ہے۔ بحیرۂ روم کے علاقے اپنی خوش گوار آب وہوا کی وجہ سے تاریخ کے دور اول سے ہی آبادہیں۔

(iv)   مٹی:زرخیز مٹی زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے اہم ہے۔اس لیے زرخیز دومٹ مٹی والے علاقوں میں زیادہ لوگ رہتے ہیں کیونکہ زراعت کے لیے زیادہ معاون ہوتے ہیں ۔کیا آپ ہندوستان کے کچھ ایسے علاقوں کا نام بتا سکتے ہیں جہاں غیر زرخیز یاخراب مٹی کی وجہ سے آبادی کم ہے۔


عالمی حصہ داری فرد، کثافت  ( کلو میٹر ) 2    زمین کا رقہ  ( کلو میٹر ) 2  آبادی کا رقبہ ( کلو میٹر )2 خط
59.5%
16.9%
9.7%
8.5%
4.8%
0.5%
146
43
34
32
20
5
31,033,131
29,648,481
22,134,900
20,139,378
18,651,660
8,486,460
4,545,133,094
1,287,920,518
742,648,010
652,012,001
363,844,490
41,261,212
ایشیا
افریقہ
یورپ
لاطینی امریکہ اور کریبین
شمالی امریکہ
اوشینیا
ہرایک براعظم میں فی صد کے لحاظ سے آبادی کی حصہ داری کا شمارکریں۔کس براعظم میں آبادی کی سب سے زیادہ حصہ داری ہے اوروجوہات بیان کریں۔
ماخذ: 20.07.17  مورخہ http://www.worldometers.info/world-population/

II    معاشی عوامل: (Economic Factors)

(i) معدنیات: معدنی ذخائر کے علاقوں میں صنعتیں فروغ پاتی ہیں۔معدنی اور صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے روزگار پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح ماہر اور نیم ماہر کاریگر ان علاقوں میں آتے ہیں اور انھیں کثیف آبادی کا علاقہ بنا دیتے ہیں۔ افریقہ میں کٹنگازامبیا تانبے کی پٹی اس قسم کی ایک اچھی مثال ہے۔
(ii)   شہرکاری (Urbanisation) 
 :شہروں میں بہتر روزگار کے مواقع، تعلیمی سہولیات، بہتر نقل و حمل اور مواصلات کے ذرائع ہوتے ہیں۔بہتربلدیاتی سہولیات اور شہری زندگی کی دل کشی لوگوں کو شہروں کی طرف کھینچتی ہیں۔ اس کی وجہ سے دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت ہوتی ہے اور شہروں کا حجم بڑھنے لگتا ہے۔دنیا کے بلاد عظمیٰ ہر سال مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
(iii) صنعت کاری (Industrialisation) : صنعتی پٹیاں روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں اور کافی تعداد میں لوگوں کو کھینچتی ہیں۔ ان میں صرف فیکٹری کے مزدور ہی نہیں ہوتے بلکہ نقل و حمل کے عاملین، دوکاندار، بینک کے ملازم، ڈاکٹر، اساتذہ اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔جاپان کا کوب۔اوساکا خطہ کئی صنعتوں کی موجودگی کی وجہ سے کثیف آبادی کا خطہ بن گیا ہے

III   سماجی اور ثقافتی عوامل

(Social and Cultural Factors)

کچھ جگہوں پر زیادہ لوگ پہنچتے ہیں کیونکہ ان کی مذہبی یا ثقافتی اہمیت ہوتی ہے۔ اسی طرح ان جگہوں سے لوگ باہر نکل جاتے ہیں جہاں سماجی اور سیاسی ابتری ہوتی ہے۔کئی مرتبہ حکومت لوگوں کو کم آباد علاقوں میں بسنے کے لیے یا بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے نکلنے کے لیے لالچ بھی دیتی ہے۔کیا آپ اپنے علاقے کی کچھ ایسی مثالوں پر غور کر سکتے ہیں۔

اضافۂ آبادی  POPULATION GROWTH  

اضافۂ آبادی یا تغیر آبادی کا مطلب کسی خاص زمانے میں ایک خطہ میں بودوباش کرنے والے لوگوں کی تعداد میں تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں ہوسکتی ہے۔ اسے مطلق عدد یا فی صد کی اصطلاح میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ کسی علاقے میں آبادی کی تبدیلی معاشی ترقی،سماجی عروج اور خطے کی تاریخی و ثقافتی پس منظر کا اہم اشاریہ ہے۔


آبادیاتی جغرافیہ کے کچھ بنیادی تصورات

آبادی کی افزائش : کسی خاص علاقے میں دو نقطئہ وقت کے درمیان آبادی کی تبدیلی کو آبادی کی افزائش یا نمو کہا جاتا ہے۔مثال کے طور پر اگر ہم 2011 کی ہندوستان کی آبادی (121.01کروڑ) میں سے 2001  میں ہندوستان کی آبادی (102.70کروڑ) کو گھٹا دیتے ہیں تو پھر ہمیں مطلق عددمیں آبادی کی افزائش (18.15 کروڑ) حاصل ہو گی ۔ 

آبادی کی شرح نمو: یہ فی صد میں بیان کی گئی آبادی کی تبدیلی ہے۔

آبادی کی قدرتی نمو:یہ کسی خاص علاقے میں دو نقطۂ وقت کے درمیان پیدائش اورا موات کے درمیان فرق کی وجہ سے ہونے والا آبادی میں اضافہ ہے۔

قدرتی نمو = پیدائش -موت

آبادی کی اصلی نمو : یہ ہے

پیدائش- اموات+داخلی ہجرت-خارجی ہجرت

آبادی کی مثبت نمو:یہ اس وقت ہوتا ہے جب دو نقطۂ وقت کے درمیان شرح پیدائش شرح اموات سے زیادہ ہو یا جب کسی خطے میں دوسرے ممالک سے لوگ مستقل ہجرت کر کے آجائیں۔

آبادی کی منفی نمو:اگر دو نقطۂ وقت کے درمیان آبادی گھٹتی ہے تو اسے آبادی کی منفی نمو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب شرح پیدائش شرح اموات سے کم ہو یا لوگ دوسرے ممالک میں ہجرت کرجائیں۔

تبدیلیٔ آبادی کے اجزا

آبادی کی تبدیلی کے تین اجزاہیں۔پیدائش، موت اور ہجرت
خام شرح پیدائش (Crude birth rate =CBR) کو فی ہزار آبادی پر زندہ بچوں کی تعداد کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کی  تحسیب اس طرح کی جاتی ہے۔ Capture2
یہاں، =CBR خام شرح پیدائش ؛ =Bi سال کے دوران زندہ پیدائش؛ 
=Pعلاقے میں وسط سال کی آبادی 
آبادی کی تبدیلی میں شرح اموات کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔آبادی میں اضافہ صرف شرح پیدائش کے بڑھنے سے نہیں ہوتا بلکہ شرح اموات کے کم ہونے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔خام شرح اموت (CDR)کسی علاقے میں اموات کی پیمائش کا آسان طریقہ ہے۔شرح اموات کو کسی خاص علاقے میں ایک ہزار آبادی پر ایک سال میں رونما اموات کی تعداد کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔خام شرح اموات کی تحسیب اس طرح کی جاتی ہے۔
Capture3
یہاں، = CDR خام شرح اموات؛ = D اموات کی تعداد ؛= P اس سال کے وسط میں آبادی کا تخمیہ ۔
اکثر وبیشتر شرح اموات خطے کی آبادیاتی ساخت، سماجی پیش رفت اور معاشی ترقی کی سطح سے متاثر ہوتی ہے۔

ہجرت

پیدائش اور موت کے علاوہ ایک اور صورت ہے جس سے آبادی کی جسامت میں تبدیلی ہوتی ہے۔
جب لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں تو جس جگہ سے جاتے ہیں اسے جائے پیدائش (Place of Origin) اور جس جگہ وہ جاتے ہیں اسے جائے سکونت (Place of Destination) کہتے ہیں۔جائے پیدائش آبادی میں کمی دکھاتا ہے جبکہ جائے سکونت میں آبادی بڑھتی ہے۔ ہجرت کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ آبادی اور وسائل کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے کے لیے ایک لگاتار جدو جہد ہے۔
ہجرت مستقل،  عارضی اور موسمی ہو سکتی ہے۔ یہ دیہی علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف، دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف، شہر سے شہر اور شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف ہوسکتی ہے۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک ہی آدمی داخلی وخارجی مہاجر دونوں ہی ہے؟
داخلی ہجرت (Immigration) جومہاجر کسی نئی جگہ جاتے ہیں ان کو داخلی 
مہاجر (Immigrants) کہا جاتاہے۔
ترک وطن (Emigration) جو مہاجر کسی جگہ کو چھوڑ کر جاتے ہیں ان کو تارک وطن (Emmigrants) کہا جاتا ہے۔

کیا آپ ان وجوہات پر غور کر سکتے ہیں کہ لوگ کیوں ہجرت کرتے ہیں؟

8

سر گرمی

اخبارات کی ان سرخیوں کا مشاہدہ کیجیے اور ان وجوہات کے بارے میں غور کیجیے کہ کچھ ممالک مہاجرین کے لیے دل کش مقام کیوں ہیں؟
شہروں کی طرف ہجرت عمر اور جنس کے لحاظ سے ہوتی ہے۔یعنی زیادہ تر کام کاجی عمر کے لوگ شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔کیا آپ ان وجوہات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں کہ ممبئی کی طرف ہجرت کرنے والوں میں 22 فی صد بچے کیوں ہیں؟

9
شکل 3۔2 وسائل، ٹکنا لوجی اورآبادی کی نمو

جدول 2.1 دنیا کی آبادی کے دوگنا ہونے کی وقت مدت


آبادی کے دو گنا ہونے کی مدت آبادی مدت
 50 لاکھ  ق م 10,000 
1,500 سال 50 کروڑ  عیسوی1650
154سال 100  کروڑ عیسوی1804
123 سال 200 کروڑ عیسوی1927
47 سال 400کروڑ عیسوی1974
51 سال 800 کروڑ تخمینہ عدد عیسوی2025


ماخذ ڈیمو گرافک ایر بک 10-2009

لوگ بہتر معاشی اور سماجی زندگی کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔عوامل کے دو مجموعے ہجرت کو متاثر کرتے ہیں۔

 فشاری عوامل (Push Factors) فشاری عوامل لوگوں کو ان کی جائے پیدائش کو کئی وجوہات جیسے بے روزگاری،خراب بود و باش،سیاسی ہلچل،ناخوشگوار آب و ہوا ،فطری مصائب، وبائیں اور سماجی و معاشی پسماندگی وغیرہ کی بنیاد پر غیر دل کش بنا دیتے ہیں۔

دل کش عوامل (Pull Factors) منزل مقصود کو  جائے پیدائش کی بہ نسبت کئی وجوہات کی بنا پر زیادہ دل کش بنا دیتے ہیں۔جیسے روزگار کے بہتر مواقع، اچھی طرز زندگی ، امن و استقلال، تحفظ زندگی اور مال ودولت اور خوش گوار آب وہوا۔

سائنس اور ٹکنالوجی نے آبادی کی نمو میں کس طرح مدد کی ؟

بھاپ کے انجن نے انسانی اور حیوانی توانائی کی جگہ لے لی اورپانی اور ہوا کی میکانیکی توانائی بھی فراہم کی ۔ اس کی وجہ سے زرعی اورصنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
مہاماری اور دیگر متعدی بیماریوں کے خلاف جد وجہد، طبی سہولیات اور صفائی میں اصلاح کی وجہ سے پوری دنیا میں تیزی سے شرح اموات میں کمی آئی۔

آبادی کی نمو کا رجحان

TRENDS IN POPULATION GROWTH

زمین پر آبادی چھ ارب سے زیادہ ہے۔آبادی کی جسامت میں یہ اضافہ صدیوں میں ہواہے۔ دور اول میں دنیا کی آبادی بہت آہستہ آہستہ بڑھی۔گذشتہ کچھ صدیوں میں آبادی حیرت انگیز طورپربڑھنے لگی۔
شکل 2.3 آبادی کی نمو کی کہانی سناتا ہے۔تقریباً8000 سے 12000سال قبل تک آبادی کی ضخامت کم تھی۔تقریباً 80 لاکھ۔پہلی صدی عیسوی میں 30 کروڑ سے کم تھی-سولہویں اور سترہویں صدی کے دوران دنیا میں پھیلتی تجارت نے آبادی کی نمو کا تیز رفتارعہد قائم کر دیا۔ 1750ء کے صنعتی انقلاب کے آغازپر دنیا کی آبادی 55 کروڑ ہوگئی۔ اٹھارھویں صدی میں صنعتی انقلاب کے بعد دنیا کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔ اب تک جو تکنیکی ترقی ہوئی اس کی وجہ سے شرح اموات میں کمی آئی اور اسی نے آبادی کی تیز رفتار نمو کے لیے اسٹیج فراہم کیا۔

کیا آپ جانتے ہیں

گذشتہ پانچ سو سالوں میں انسانی آبادی دس گنا بڑھی ہے۔                 
صرف بیسویں صدی ہی میں آبادی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔  

دنیا کی آبادی کے دوگنا ہونے کی مدت

DOUBLING TIME OF WORLD POPULATION
انسانی آبادی کو ایک ارب تک پہونچنے میں دس لاکھ سال سے زیادہ لگ گئے۔لیکن پانچ ارب سے چھ ارب تک پہونچنے میں صرف بارہ سال لگے۔ جدول 2.1 کو غور سے دیکھیے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دنیا کی آبادی کے دوگنا ہونے کی مدت تیزی سے کم ہورہی ہے۔
آبادی کے دوگنا ہونے میں علاقائی تفریق بھی بہت زیادہ ہے۔ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک کی آبادی کو دوگنا ہونے میں زیادہ وقت لگاہے۔ زیادہ تر آبادی میں اضافہ ترقی پذیر ممالک میں ہو رہا ہے جہاں آبادی کا انفجار ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

تغیر آبادی کی مکانی ترتیب

SPATIAL  PATTERN  OF  POPULATION  CHANGE
دنیا کے مختلف حصوں میں آبادی کی تبدیلی کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ترقی پذیر ممالک کے موازنہ میں ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کی نمو کم ہے۔ معاشی ترقی اورآبادی کی نمو میں منفی تعلق ہے۔
اگر چہ آبادی میں تبدیلی کی سالانہ شرح (1.4فی صد) کم ظاہر ہوتی ہے (جدول 2.3) لیکن  حقیقت میں یہ ایسا نہیں ہے کیونکہ :
جبکہ سالانہ شرح بہت بڑی آبادی پر نافذ کی جاتی ہے تو ایسی آبادی میں بڑی تبدیلی ہوتی ہے۔
اگرچہ شرح نمو گھٹتی رہتی ہے پھر بھی آبادی میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔ بچوں کی پیدائش کے دوران شرح موت کی وجہ سے نوزائیدہ شرح اموات بڑھ سکتی ہے۔


جدول: 2.2 آبادی میں اضافہ (2010-15)



شرح نمو
خطے 95- 1990 15- 2010
دنیا
افریقہ
یورپ
شمالی امریکہ
لاطینی امریکہ اور کیربین
ایشیا
اوشینیا
( آسٹریلیا، نیوزیلینڈ اور فیجی )
1.6
2.4
0.2
1.4
1.7
1.6
1.5
1.4
2.6
0.1
0.8
1.1
1.0
1.5
 
ماخذ: ڈیموگرافک ایئریک 2015

آبادی کی شرح افزائش

ہندوستان میں آبادی کی سالانہ شرح نمو 1.64فی صد ہے۔کچھ ترقی یافتہ ممالک کی آبادی کو دوگنا ہونے میں 318 سال لگیں گے جب کہ کچھ ممالک میں اب تک دوگنا ہونے کی علامات نہیں ہیں۔

آبادیاتی عبور DEMOGRAPHIC  TRANSITION

کسی علاقے کی مستقبل کی آبادی کی تشریح اورپیشین گوئی کے لیے آبادیاتی عبور کے نظریے (Demographic Transition Theory) کا استعمال کیا جاتاہے۔ یہ نظریہ ہمیں بتاتاہے کہ کسی بھی خطے کی آبادی میں تبدیلی زیادہ پیدائش اور زیادہ اموات سے کم پیدائش اور کم اموات کی طرف ہوتی ہے جیسے جیسے سماج دیہی زرعی اور ناخواندہ سماج سے شہری صنعتی اور خواندہ سماج کی طرف بڑھتا ہے۔ یہ تبدیلیاں کئی مراحل میں ہوتی ہیں جن کو مجموعی طورپر آبادیاتی دور (Demographic Cycle) کہا جاتاہے۔
دیہی، آبادیاتی شہری،
زرعی   عبور صنعتی
آخر ی مرحلے میں ، زائیدگی اور اتلاف جان دونوں ہی کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔آبادی میں ٹھہراؤ آجاتاہے یا اضافے کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔آبادی کی شہر کاری ہو جاتی ہے لوگ خواندہ ہوتے ہیں،تکنیکی معلومات زیادہ ہوتی ہے اور جان بوجھ کر خاندان کے سائز پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
اس سے یہ پتہ چلتاہے کہ انسانی آبادی انتہائی لچیلی ہے اور اپنی زائیدگی ہم آہنگ کر سکتی ہے۔ 
موجودہ دور میں مختلف ممالک آبادیاتی عبور کے مختلف مراحل میں ہیں۔
12
سطح
تیزی سے بدلاو
وسعت
کم بدلاو
آبادی میں فطری اضافہ
کناڈا جاپان متحدہ ریاست ہائے امریکہ
سریلنکا 
کینیا
پیرو
بنگلہ دیش بارانی جنگلات کے قبائل
موجودہ عالمی مثالیں
 

شکل 2.4 میں آبادیاتی عبورکے نظریہ کے تین مرحلہ وار نمونے کی تشریح کی گئی ہے۔

پہلے مرحلے میں زیادہ زائیدگی (Fertility) اور زیادہ اتلاف جان (Mortality) ہوتی ہے کیونکہ لوگ وبائی امراض اور تغیر پذیر خوراک کی سپلائی کی وجہ سے رونما اموات کی بھرپائی بچوں کی زیادہ پیدائش سے کرتے ہیں۔آبادی کی نمو سست رفتار ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ زراعت میں منہمک ہوتے ہیں جہاں بڑا خاندان ایک اثاثہ ہے ۔متوقع عمر (Life Expectancy) کم ہے، لوگ زیادہ تر ناخواندہ ہیں اور ان کی تکنیکی سطح کم ہے۔ 200سال قبل دنیا کے تمام ممالک اس مرحلے میں تھے۔
دوسرے مرحلے کی ابتدا میں زائیدگی زیادہ رہتی ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کم ہونے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ شرح اموات بھی کم ہو جاتی ہے۔صفائی ستھرائی اور حالات صحت میں اصلاح کی وجہ سے اتلاف جان میں کمی ہوتی ہے۔ اس خلیج کی وجہ سے آبادی میں خالص اضافہ زیادہ ہوتاہے۔

ضبط آبادی کے طریقے

POPULATION CONTROL MEASURES
خاندانی منصوبہ بندی بچوں کی پیدائش کے درمیان فاصلہ قائم کرنا یا پیدائش کو روکنا ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات تک رسائی آبادی کی نمو کو محدود کرنے اور عورتوں کی صحت کو سدھارنے کا ایک اہم عامل ہے۔ پروپیگنڈہ ، مانع حمل اشیا (Contraceptives) کی مفت تقسیم اور بڑے خاندانوں پر مزید ٹیکس کچھ ایسے پیمانے ہیں جن سے آبادی پر روک تھام میں مدد ملتی ہے۔
تھامس مالتھس نے اپنے نظریہ (1798) میں یہ کہا تھا کہ لوگوں کی تعداد خوراک کی سپلائی کے بہ نسبت زیادہ تیزی سے بڑھے گی ۔ اوراس میں مزید اضافے کا نتیجہ قحط،بیماری اور جنگ کی صورت میں آبادی کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ طبعی رکاوٹوں کی بہ نسبت انسدادی رکاوٹیں (Preventive Checks) بہتر ہوتی ہیں۔ اپنے وسائل کو برقرار رکھنے کے لیے دنیا کو آبادی کے تیز رفتار اضافے پر روک لگاناہوگا۔
مشق

1۔ ذیل میں دیے گیے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔

(i)مندرجہ ذیل میں سے کس بر اعظم میں آبادی کی نمو سب سے زیادہ ہے؟
(a) افریقہ (b) ایشیا
(c) جنوبی امریکہ (d) شمالی امریکہ

(ii) مندرجہ ذیل میں سے کون منتشر آبادی کا علاقہ نہیں ہے۔

(a) اٹاکاما (b) استوائی خطہ
(c) جنوب مشرقی ایشیا (d) قطبیخطہ

(iii) مندرجہ ذیل میں سے کون فشاری عامل (Push Factor) نہیں ہے؟

(a) پانی کی کمی (b) بے روزگاری
(c) طبی /تعلیمی سہولیات (d) وبائی امراض

(iv) مندرجہ ذیل میں سے کون سا ایک حقیقت نہیں ہے؟

(a)   گذشتہ 500 سالوں میں انسانی آبادی میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔
(b)   آبادی کو 5 ارب سے 6 ارب تک پہونچنے میں سو سال کا عرصہ لگا ۔
(c)   آبادیاتی عبور کے پہلے مرحلے میں آبادی کی نمو زیادہ ہوتی ہے۔
2۔مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔

(i) آبادی کی تقسیم کو متاثر کرنے والے تین جغرافیائی عوامل کا نام بتائیے۔

(ii)   دنیا میں آبادی کی اونچی کثافت والے کئی علاقے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟
(iii)   تغیر آبادی کے تین اجزاکیا ہیں؟

3۔مندرجہ ذیل کے درمیان فرق واضح کیجیے۔

(i)   شرح پیدائش اور شرح اموات
(ii)   ہجرت کے فشاری عوامل اور دل کش عوامل

4۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 150الفاظ میں دیں۔

(i)   دنیا کی آبادی کی تقسیم اور کثافت کو متاثر کرنے والے عوامل کو بیان کیجیے۔
(ii)   آبادیاتی عبور کے تین مراحل کو بیان کیجیے۔

نقشہ کی مہارت

دنیا کے خاکائی نقشے پر مندرجہ ذیل کو دکھائیے اور ان کے نام لکھیے۔
(i)    آبادی کی منفی شرح نمو والے یورپ اور ایشیا کے ممالک۔
(ii)   تین فی صد سے زائد آبادی کی شرح نمو والے افریقی ممالک (دیکھیے ضمیمہ I )

پروجیکٹ   سرگرمی


(i)  کیا آپ کے خاندان میں کسی نے ہجرت کی ہے؟ ان کے مقام مقصود کے بارے میں لکھیے۔ انہیں کس     بات نے ہجرت کرنے پر مجبور کیا؟
(ii)  اپنی ریاست میں آبادی کی تقسیم اور کثافت پر ایک مختصر رپورٹ لکھیے۔