اکائ---
باب- 3
آبادی کی درجہ بندی

کسی بھی ملک کے لوگ کئی صورتوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ ہر آدمی یاعورت اپنی ذات میں منفرد ہے ۔لوگوں کے درمیان ان کی عمر، جنس اور جائے سکونت کے اعتبار سے فرق کیا جاسکتا ہے۔ پیشہ ،تعلیم اورمتوقع عمر آبادی کی کچھ دیگر امتیازی صفات ہیں ۔
جنسی درجہ بندی SEX COMPOSITION
کسی ملک میں مردوں اور عورتوں کی تعداد ایک اہم آبادیاتی خصوصیت ہے۔آبادی میں عورتوں اور مردوں کی تعداد کا تناسب جنسی تناسب (Sex Ratio) کہلاتا ہے۔کچھ ممالک میں اس کی پیمائش اس فارمولے پر کی جاتی ہے۔
مردوں کی آبادی
————————1000x
عورتوں کی آبادی
یافی ہزار عورتوں پر مردوں کی تعداد۔
ہندوستان میں جنسی تناسب کی پیمائش اس اصول کا استعمال کر کے کی جاتی ہے۔
عورتوں کی آبادی
——————1000x
مردوں کی آبادی
یعنی فی ہزار مردوں پر عورتوں کی تعداد
جنسی تناسب کسی ملک میں عورتوں کی حیثیت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
جن خطوں میں جنسی امتیاز سب سے زیادہ ہے ، وہاں جنسی تناسب عورتوں کے حق میں مفید نہیں ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں جنین کشی، طفل کشی اور عورتوں پر خاندانی جبرو تشدد غالب رہتا ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ ان علاقوں میں عورتوں کی سماجی معاشی حیثیت کا کمتر ہونا ہے۔آپ کو یاد رکھناچاہیے کہ کسی آبادی میں عورتوں کے زیادہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی حیثیت بہترہے۔یہ اسلیے بھی ہو سکتا ہے کہ مرد روزگار کے لیے دوسرے علاقوں میں ہجرت کر گئے ہوں ۔
طبعی بہتری بمقابلہ سماجی ابتری
حیاتیاتی طور پر عورتوں کو مردوں پرفوقیت حاصل ہے کیونکہ وہ مردوں کے بالمقابل زیادہ لوچدار ہوتی ہیں پھر بھی یہ فوقیت ان کے تئیں موجود سماجی ابتری اور امتیازی سلوک کی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے۔
اوسطاً دنیا کی آبادی فی ہزار مردوں پر 990 عورتوں کے جنسی تناسب کی عکاسی کرتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ جنسی تنا سب لاٹویا میں درج کی گئی ہے جہاں فی ہزار مردوں پر عورتوں کی تعداد 1187ہے۔ اس کے بر عکس سب سے کم جنسی تناسب متحدہ عرب امارات میں ہے۔جہاں فی ہزار مردوں پرعورتوں کی تعداد صرف 468ہے۔
جنسی تناسب کی عالمی ترتیب دنیا کے ترقی یافتہ علاقوں میں تغیر یا تبدیلی نہیں ظاہر کرتی ہے۔اقوام متحدہ کے ذریعہ فہرست شدہ دنیا کے 139 ممالک میں جنسی تناسب عورتوں کے حق میں بہتر ہے اور باقی 72 ممالک میں بہتر نہیں ہے ۔
عام طور پر ایشیا میں جنسی تناسب کم ہے۔چین، ہندوستان، سعودی عرب، پاکستان، افغانستان میں جنسی تناسب کم تر ہے۔
دوسری جانب یورپ (بشمول روس) کا زیادہ تر حصہ وہ ہے جہاں مرد اقلیت میں ہیں۔ بہت سے یوروپی ممالک میں مردوں کی کمی کی وجہ عورتوں کی بہتر حالت اور سب سے زیادہ مردوں پر مشتمل خارجی ہجرت بتائی جاتی ہے جو ماضی میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہوئی ہے۔
عمر کی ساخت (Age Structure)
عمر کی ساخت مختلف عمر گروپ کے لوگوں کی تعداد کی نمائندگی کر تی ہے۔ یہ آبادی کی ساخت کا ایک اہم اشاریہ ہے۔کیونکہ 15 سے 59 سال کی عمر کی جماعت میں آبادی کا بڑا حصہ بڑی کامگار آبادی کوظاہر کرتا ہے۔ 60 سال سے زیادہ کی آبادی کا ایک بڑا تناسب عمر دراز آبادی کی نمائندگی کرتا ہے جس میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والی سہولیات کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کی آبادی کے بڑے تناسب کا مطلب ہے کہ اس علاقے میں شرح پیدائش زیادہ ہے اور آبادی نوجوان ہے۔
اہرام عمر و جنس (Age-Sex pyramid)
کسی آبادی میں عمر -جنس کی ساخت مختلف عمر کے گروپ میں عورتوں اور مردوں کی تعداد بتاتی ہے ۔ اہرام آبادی کا استعمال آبادی کی عمر- جنس ساخت کو دکھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
اہرام آبادی کی شکل آبادی کی خصوصیت کی عکاسی کرتی ہے۔اہرام آبادی میںبائیں طرف مردوں کے فی صدکو دکھایاجاتا ہے جب کہ دائیں طرف ہر عمرکے گروپ میں عورتوں کا فیصد دکھایا جاتا ہے۔
شکل 3.1،3.2 اور 3.3 میں اہرام آبادی کی مختلف قسمیں ظاہر کی گئی ہیں۔
توسیعی آبادی (Expanding Population)
نائجیریا کا اہرام عمر و جنس جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں چوڑی بنیاد والا مثلثی شکل کا ہے اورکم ترقی یافتہ ممالک کی نمائندگی کر تا ہے۔ ان میں زیادہ شرح پیدائش کی وجہ سے آبادی کا بڑا حصہ کم عمر کی جماعت میں ہوتا ہے۔ اگر آپ بنگلہ دیش اور میکسیکو کا اہرام بنائیں گے تو وہ اسی طرح نظر آئے گا۔
نائجیریا
عورت
مرد
فی صد
شکل 3.1 : توسیعی آبادی
ماخد: ڈیموگرافک ائیر بک 2009-10
مستقل آبادی (Constant Population)
آسٹریلیا کا اہرام عمر و جنس گھنٹی کی شکل کا ہے اور اوپر کی طرف پتلا ہوتا جاتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ شرح پیدائش اور شرح اموات تقریباً برابر ہیں جس کی وجہ سے آبادی تقریباً یکساں ہے۔
آسٹرلیا
عورت مرد
فی صد
گھٹتی آبادی (Declining Population)
جاپان کے اہرام کی تنگ بنیاد اور پتلا ہوتاہوا اوپری سراکم شرح پیدائش اور کم شرح اموات کو دکھاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کی نمو عام طور پر صفر ہے یا منفی ہے۔
و
جاپان
عورت
مرد
فی صد
سرگرمی
اپنے اسکول کے بچوں کی آبادی کا اہرام بنائیے اور اس کی خصوصیت بیان کیجیے۔
دیہی شہری ساخت
RURAL URBAN COMPOSITION
دیہی اور شہری ساخت میں آبادی کی تقسیم سکونت پر مبنی ہے۔ یہ تقسیم ضروری ہے کیونکہ دیہی اور شہری طرز زندگی ذریعہ معاش اور سماجی حالات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ عمر و جنس -پیشہ ورانہ ساخت ، آبادی کی کثافت اور ترقی کی سطح دیہی اور شہری علاقوں میں بدلتی رہتی ہیں ۔
دیہی اور شہری آبادی میں فرق کا معیار ایک ملک سے دوسرے ملک میں بدلتا رہتا ہے۔ عام طور پر دیہی علاقے وہ ہیں جہاں لوگ ابتدائی معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور شہری علاقے وہ ہیں جہاں کا مگار آبادی کی اکثریت غیر ابتدائی معاشی سر گرمیوں میں مصروف رہتی ہے۔
شکل 3.4 میں منتخب ممالک کے دیہی شہری جنسی ساخت کو دکھایا گیا ہے۔ کناڈا اور مغربی یورپی ممالک جیسے فن لینڈ میں جنسی تناسب میں دیہی اور شہری تفریق افریقی اور ایشیائی ممالک جیسے زمبابوے اور نیپال کے بالکل برعکس ہے۔ مغربی ممالک کے دیہی علاقوں میں مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہے اور شہری علاقوں میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ نیپال، پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں حالت برعکس ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ، کناڈا اور یورپ کے شہری علاقوں میں عورتوں کی کثرت دیہی علاقوں سے عورتوں کی آمد کا نتیجہ ہے تاکہ وہ روزگار کے وسیع مواقع سے بہرہ ور ہوسکیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک میں زراعت بھی کافی میکانیکی ہے اور زیادہ تر مردوں کا پیشہ ہے ۔ اس کے بر عکس ایشیائی شہری علاقوں میں مردوں کا غلبہ ہے کیونکہ ہجرت کرنے والوں میں مردوں کی اکثریت ہے۔ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک میں دیہی علاقوں کی زرعی سرگرمیوں میں عورتوں کی شرکت اچھی خاصی ہے۔ گھروں کی کمی ، رہن سہن کی اونچی قیمت ،روزگار کے مواقع کی قلت اور شہروں میں تحفظ کی کمی دیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں عورتوں کی ہجرت کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔
خواندگی (Literacy)
کسی ملک کی خواندہ آبادی کا تناسب اس کی سماجی اقتصادی ترقی کا ایک اشاریہ ہے کیونکہ یہ رہن سہن کے معیار ، عورتوں کی سماجی حیثیت ، تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور حکومت کی پالیسیوں کو ظاہر کرتاہے۔ معاشی ترقی کی سطح خواندگی کا سبب اور انجام دونوں ہی ہیں۔ ہندوستان میں شرح خواندگی 7سال کی عمر سے زیادہ آبادی کے فی صدکو بتاتا ہے جو لکھنے، پڑھنے کے قابل ہیں اور سمجھ داری کے ساتھ حساب کتاب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شکل 3.4 : دیہی شہری جنسی ساخت، (منتخب ممالک)
پیشہ ورانہ ساخت (Occupational Structure)
کامگار آبادی (یعنی15 سے 59 سال کے عمر گروپ کی عورتیں اور مرد) مختلف پیشوں میں حصہ لیتی ہے جس میں زراعت ، جنگل بانی، ماہی گیری ، کارخانہ چلانا، تعمیری کام، تجارتی نقل و حمل ، خدمات ، مواصلات اوردیگر غیر درجہ بند خدمات شامل ہیں۔
زراعت ، جنگل بانی ، ماہی گیری اور کان کنی کو ابتدائی ؛تعمیرات اور کارخانہ چلانے کو ثانوی ؛تجارت ، نقل و حمل ، مواصلات اور دیگر خدمات کو ثالثی اور تحقیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی و نظریہ سازی سے متعلق سرگرمیوں کو رابعی سرگرمی کی حیثیت سے درجہ بند کیا جاتا ہے۔ ان زمروں میں منہمک کامگار آبادی کا تناسب کسی قوم کی اقتصادی ترقی کی سطح کا بہتر اشاریہ ہے۔ یہ اس لیے کہ صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی یافتہ معیشت ہی ثانوی ، ثالثی اور رابعی سرگرمیوں میں زیادہ مزدوروں کو کھپاسکتی ہے۔ اگر معیشت ابھی تک ابتدائی مرحلے میں ہے تو ابتدائی سرگرمیوں میں مصروف لوگوں کا تناسب زیادہ ہو گا کیونکہ وہ طبعی و سائل کی حصولیابی میں ہی مشغول ہوں گے۔
مشق
1۔ ذیل میں دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) مندرجہ ذیل میں سے کس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کا جنسی تناسب کم ہے؟
(a) مردوں پر مشتمل کامگار آبادی کی منتخب ہجرت
(b) مردوں کی اونچی شرح پیدائش
(c) عورتوں کی نیچی شرح پیدائش
(d) عورتوں کی اونچی خارجی ہجرت
(ii) مندرجہ ذیل میں سے کو ن سی شکل آبادی کے کامگار عمرگروپ کی نمائندگی کرتی ہے؟
(a) 15سے 65 سال (b) 15 سے 64 سال
(c) 15 سے 66 سال (d) 15سے 59 سال
(iii) مندرجہ ذیل میں سے کس ملک میں دنیا کا سب سے زیادہ جنسی تناسب ہے؟
(a) لاٹویا (b) جاپان
(c) متحدہ عرب امارات (d) فرانس
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔
(i) آبادی کی ساخت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(ii) عمر کی ساخت کی کیا اہمیت ہے؟
(iii) جنسی تناسب کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے جو 150 الفاظ سے زائد نہ ہوں
(i) آبادی کی دیہی -شہری ساخت بیان کیجیے؟
(ii) ان عوامل کو بیان کیجیے جو دنیا کے مختلف حصوں میں جنس و عمر میں اور پیشہ ورانہ ساخت میں عدم توازن کے لیے ذمہ دار ہیں ۔
پروجیکٹ سرگرمی
اپنے ضلع صوبے کے لیے عمر و جنس کا اہرام بنا ئیے۔