نمو اور ترقی دونوں وقت کی ایک مدت کے دوران تبدیلی کوظاہر کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ نمومقداری ہوتی ہے اور قدرو قیمت کے لحاظ سے غیر جانب دار ہوتی ہے۔ اس میں مثبت یا منفی علامت ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تبدیلی یا تو مثبت ہوگی (اضافے کو دکھانے والی) یا منفی ہوگی (کمی کو بتانے والی)۔
ترقی کا مطلب کیفیتی تبدیلی ہے جس کی قدروقیمت ہمیشہ مثبت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ موجودہ حالات میں اضافہ یاجمع نہ ہو۔ ترقی اس وقت ہوتی ہے جب مثبت نمو ہوتی ہے۔ پھر بھی مثبت نمو کی وجہ سے ہمیشہ ترقی نہیں ہوتی۔ ترقی اس وقت ہوتی ہے جب کیفیت میں مثبت تبدیلی ہو۔
مثال کے طور پر اگر کسی شہر کی آبادی ایک وقتی مدت میں ایک لاکھ سے دو لاکھ ہو جاتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ شہر کی نمو ہوئی ہے۔ تاہم اگر گھر، بنیادی خدمات کی انتظامی سہولیات اور دیگر صفات پہلے جیسی ہی رہیں تو یہ نمو ترقی کے ساتھ نہیں ہے ۔
ایک مختصر مضمون لکھیں یا تصویروں کا ایک سیٹ بنائیے جس میں نمو بغیر ترقی اور ترقی کے ساتھ نمو ظاہر ہو۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ شہروں کا بھی منفی نمو ہوسکتا ہے؟ سونامی سے متاثر اس شہر کو دیکھیے۔کیا شہرکے سائز میں منفی نمو کے لیے صرف قدرتی آفات ہی واحد سبب ہیں؟
کئی دہائیوں تک کسی ملک کی ترقی کی سطح کی پیما ئش صرف معاشی نمو کی اصطلاح میں کی جاتی رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی معیشت جتنی بڑی ہوگی وہ زیادہ ترقی یافتہ سمجھی جائیگی اگرچہ اس نمو کا حقیقی مطلب یہ نہیں ہے کہ زیادہ تر لوگوں کی زندگی میں بھی کوئی زیادہ تبدیلی ہوئی ہو۔
یہ تصور کوئی نیا نہیں ہے کہ کسی ملک میں لوگوں کی زندگی کی کیفیت، ان کو میسرمواقع اورانھیں ملنے والی آزادی ترقی کے اہم پہلو ہیں۔
یہ خیالات بیسویں صدی کے آٹھویں عشرہ کے اواخر میں اورنویں عشرہ کے اوائل میں واضح طور پر بیان کیے گئے۔ اس سلسلے میں جنوبی ایشیا کے دو ماہرین معاشیات محبوب الحق اور امرتیہ سین کے کارنامے اہم ہیں۔
ڈاکٹر محبوب الحق نے انسانی ترقی کے تصور کو پیش کیا۔ ڈاکٹر حق نے انسانی ترقی کو ایسی ترقی سے تعبیر کیاجو لوگوں کے دائرہ انتخاب کو وسیع کر دے اور ان کی زندگی میں اصلاح لادے۔ اس تصور میں تمام ترقی کے مرکز ی کردار لوگ ہیں۔ یہ انتخاب متعین نہیں ہیں بلکہ بدلتے رہتے ہیں ۔ ترقی کا بنیادی مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جہاں لوگ بامعنی زندگی گذار سکیں۔
ایک بامعنی زندگی ایک لمبی زندگی نہیں ہے۔ یہ ایسی زندگی ہے جس میں مقصد ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ صحت مند ہوں ، اپنی ذہانت کو فروغ دینے کے لائق ہوں ، سماج میں شرکت کریں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں آزاد ہوں۔
کیا آپ جانتے ہیں!
ڈاکٹر محبوب الحق اور پروفیسر امرتیہ سین قریبی دوست تھے۔ ڈاکٹر حق کی رہنمائی میں دونوں نے مل کر ابتدائی انسانی ترقی کی رپورٹ شائع کرنے کا کام کیا۔ ان دونوں جنوب ایشائی ماہرین معاشیات نے ترقی کا متبادل نظریہ پیش کیا۔
وسیع نظر رکھنے والے اور رحم دل پاکستانی ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق نے انسانی ترقی کا اشاریہ 1990میں وضع کیا۔ ان کے مطابق ترقی کا تعلق لوگوں کے انتخاب کو وسیع کرنے سے ہے تاکہ وہ عزت کے ساتھ ایک صحت مند زندگی گذار سکیں۔ 1990سے اب تک ہر سال انسانی ترقی کی رپورٹ کو شائع کرنے میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے ان کے اس انسانی ترقی کے تصور کو استعمال کیا ہے۔
ڈاکٹر حق کے دماغ کے لچیلے پن اور اپنے خول سے باہر نکل کر سوچنے کی صلاحیت کو ان کی ایک تقریرسے واضح کیا جا سکتا ہے جہاں انھوں نے شاکے مقولہ کو بطور حوالہ کے پیش کیا۔ ’’آپ چیزوں کو دیکھتے ہیں جو موجود ہیں ،اور سوال کرتے ہیں کیوں؟ میں ان چیزوں کا تصور کرتاہو ں جو کبھی نہیں تھیں اور پوچھتا ہوں کہ کیوں نہیں تھیں؟‘‘
نوبل پرائز سے سرفراز پروفیسر امرتیہ سین نے آزادی میں اضافہ (غیر آزادی میں کمی) کو ترقی کے اہم مقصد کے طورپر دیکھا۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ آزادی میں اضافہ ترقی لانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ ان کا کام سماجی اور سیاسی اداروں کے کردار اور آزادی میں اضافہ کے عمل کی تفتیش کرتا ہے۔
ان ماہرین معاشیات کا کام اپنی ڈگر سے ہٹ کر ہے اور ترقی کے موضوع پر کسی بھی بحث کے مرکز میں لوگوں کو شامل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

ایک بامعنی زندگی کیا ہے؟
جنم دن مبارک ہو شہناز!
میری صحت کے لیے بھی دعا کرو! میں اس قابل بننا چاہتی ہوں کہ اسکول کی تعلیم مکمل کرکے کالج جاسکوں
اوہ! تو تم ایک بامعنی زندگی گذارنا چاہتی ہو
۔۔۔ میں کچھ کرنے کے لائق بننا چاہتی ہوں تاکہ میں خود کچھ بن سکوں۔
بچوں کے صنفی تناسب میں گراوٹ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت ہند نے ’’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ‘‘ پروگرام شروع کیا ہے ۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کریں کہ کسی طرح یہ لڑکیوں کے لیے زندگی کو زیادہ با معنی بنائے گا ۔
ان میں سے کون سی زندگی ایک با معنیٰ زندگی ہے؟
اب سے ایک سال بعد آپ اپنے کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں؟
مردہ یا قید میں
میں کینسر کے معالجہ کے لیے ایک سستا اور مئوثر علاج ڈھونڈنے کی امید کرتی ہوں
لمبی اور صحت مند زندگی گذارنا ، علم حاصل کرنے کے قابل ہو نا اور ایک عمدہ زندگی گذارنے کے لیے کافی ذرائع ہونا انسانی ترقی کے سب سے زیادہ اہم پہلو ہیں۔
اس لیے وسائل تک رسائی ، صحت اور تعلیم انسانی ترقی کے کلیدی علاقے ہیں۔ ان پہلوؤں میں سے ہر ایک کی پیمائش کے لیے مناسب اشاریہ کو فروغ دیا گیا ہے ۔کیاآپ ان اشاریوں میں سے کچھ کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
آپ کس کو سمجھتے ہیں کہ زیادہ بامعنی زندگی گذار رہا ہے؟ان میں سے ایک کو دوسرے کے بالمقابل زیادہ بامعنی زندگی گذارنے کے قابل کیا چیز بناتی ہے؟
اکثر لوگوں کے پاس بنیادی انتخاب کے لیے بھی صلاحیت اور آزادی نہیں ہوتی۔ اس کی ایک وجہ علم حاصل کرنے کے لیے ان کی عدم صلاحیت ،ان کی مادی غربت، سماجی امتیاز ، اداروں کی نا اہلی اور دیگر وجوہات ہوسکتی ہیں جو ایک صحت مند زندگی گذارنے ،تعلیم یافتہ ہونے یا ایک ایسی زندگی گذارنے کے لیے وسائل مہیا کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔
اس لیے صحت ، تعلیم اور وسائل تک رسائی کے علاقوں میں لوگوں کو باصلاحیت بنانا، ان کے انتخابات کو وسیع کرنے کے لیے اہم ہے ۔ اگر لوگوں کے پاس ان علاقوں میں صلاحیت نہیں ہے تو ان کے اتخابات بھی محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک غیر تعلیم یافتہ بچہ ڈاکٹر بننے کا انتخاب نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا انتخاب اس کی تعلیم کی کمی کی وجہ سے محدود ہوگیا ہے۔ اسی طرح اکثر غریب لوگ بیماری کے لیے طبی علاج کا انتخاب نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا انتخاب وسائل کی کمی کی وجہ سے محدود ہے ۔
سرگرمی
اپنے کلاس میں ساتھیوں کے ساتھ پانچ منٹ کا ڈرامہ کیجیے جس میں یہ دکھائیے کہ کس طرح آمدنی ، تعلیم یا صحت کے علاقوں میں عدم صلاحیت کی وجہ سے انتخابات محدود ہو جاتے ہیں۔
انسانی ترقی کے چار ستون
THE FOUR PILLARS OF HUMAN DEVELOPMENT
جس طرح عمارات ستون پر قائم رہتی ہیں اسی طرح انسانی ترقی کا خیال بھی اختیاردینا۔ اس قسم کا اختیار آزادی اور صلاحیت کو بڑھانے سے ہو تا ہے۔ اچھی حکومت اور لوگوں کے حق میں پالیسی بنانا لوگوں کو با اختیار بنانے کے لیے ضروری ہے ۔ سماجی اور معا شی طور پر پسماندہ طبقات کو با اختیار بنانا خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
مساوات ،پائیداری ،پیداوار اور بااختیار بنانے کے تصورات پر قائم ہے۔
مساوات (Equity)
کا مطلب ہے کہ ہر آدمی کو مواقع تک رسائی برابر ہو ۔لوگوں کے لییموجود مواقع جنس، نسل، آمدنی اور ہندوستانی حالت میں ذات پات کا امتیاز کیے بغیر برابر ہونا چاہیے ۔حالانکہ اکثر ایسی حالت نہیں ہوتی اور تقریباً ہر سماج میں امتیازی سلوک کابرتاؤکیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر کسی ملک میں یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ اسکول چھوڑ نے والا کس گروپ سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس سے ہمیشہ اس قسم کے برتاؤ کے لیے وجوہات کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ ہندوستان میں عورتوں اور سماجی ومعاشی اعتبار سے پس ماندہ طبقات کی ایک بڑی تعداد اسکول چھوڑ دیتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان طبقات کے انتخابات کس طرح محدود ہو جاتے ہیں۔
پائیداری (Sustainability) کا مطلب ہے مواقع کی فراہمی میں تسلسل ۔ پائیدار انسانی ترقی کے لیے ہر نسل کو یکساں موقع ملنا چاہیے ۔ تمام ماحولیاتی اور انسانی وسائل کا استعمال مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔ ان وسائل کا غلط استعمال آئندہ نسل کے لیے کمتر مواقع کا مترادف ہے۔
ایک اچھی مثال لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کے بارے میں ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے پر زور نہیں دیتا ، تو جب وہ بڑی ہوتی ہیں تو ان نوجوان لڑکیوں سے کئی مواقع چھن جاتے ہیں۔ ان کے کیریئر کا انتخاب شدید طور پر کم ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے ان کی زندگی کے دوسرے پہلو بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ اس لیے ہر نسل کو اپنی آئندہ نسل کے لیے انتخاب اور مواقع کی فراہمی کی ضمانت دینی ہوگی ۔
یہاں پر پیداوار (Productivity) کا مطلب ہے مزدوروں کی محنت سے پیداوار یا انسانی کام کی اصطلاح میں پیداوار میں بارآوری ۔ اس طرح کی پیداوار کو لوگوں کی صلاحیت کی تعمیر کر کے لگاتاربڑھانا ہوگا ۔آخر کار اقوام کی اصلی دولت لوگ ہی ہیں اس لیے ان کے علم کو بڑھانے کی کوشش یا انھیں بہتر صحت کی سہولیت مہیا کرنا ہی ان کی کامگاری صلاحیت کو بہتر بنا نا ہے۔
با اختیار بنانا (Empowerment) کا مطلب ہے انتخابات کرنے کا (Minimum Needs Approach) اور (d) صلاحیات کی رسائی (Capabilities Approach) (جدول 4.1)۔
سرگرمی
اپنے پڑوس میں سبزی بیجنے والیوں سے بات کیجیے اور پتہ لگائیے کہ کیا وہ اسکول گئیں؟ کیا انھوں نے اسکول چھوڑ دیا ؟ اسکو ل چھوڑا توکیوں؟ ان کے انتخابات اور ان کو ملی آزادی کے بارے میں اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ اس بات کو قلمبند کیجیے کہ ان کی جنس ، ذات اور آمدنی نے کس طرح ان کے مواقع کو محدود کر دیا ہے؟
انسانی ترقی کی پیمائش
(Measuring Human Development)
انسانی ترقی کا اشاریہ ممالک کو صحت ، تعلیم اور وسائل تک رسائی کے کلیدی علاقوں میں ان کی کار کردگی کی بنیاد پر درجہ بند کرتا ہے ۔ یہ درجہ بند ی 0 سے 1کے درمیان حاصل کردہ نشان (Score) پر مبنی ہے جوہر ملک انسانی ترقی کے کلیدی علاقوں میں اپنے مندرجات (Record) کی بنیاد پر حاصل کرتا ہے۔
صحت کا تحمینہ لگا نے کے لیے منتخب اشاریہ پیدائش کے وقت کی متوقع عمر (Life expectancy) ہے۔اعلیٰ متوقع عمر کا مطلب ہے کہ لوگوں کے پاس زیادہ دن زندہ رہنے اور صحت مند زندگی گذارنے کا موقع زیادہ ہے۔
بالغوں کی شرح خواندگی اور کل اندراجی شرح (Gross Enrolment ratio) علم تک رسائی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ بالغین کی تعداد جو پڑھ اور لکھ سکتے ہیں اور اسکولوںمیں مندرج بچوں کی تعداد دکھاتی ہے کہ کسی ملک میں علم تک رسائی کتنی آسان یا مشکل ہے۔
وسائل تک رسائی کی پیمائش (امریکی ڈالر میں) قوت خرید کی شکل میں کی جاتی ہے۔
ان میں سے ہر بعد (dimension) کو 1/3 کا وزن دیا جاتا ہے۔ انسانی ترقی کا اشاریہ کل افراد کا مجموعہ ہے جو ان تمام ابعاد کو دی جاتی ہیں۔
حاصل کردہ نشان 1 سے جتنا قریب ہو گا انسانی ترقی کی سطح اتنی ہی زیادہ ہوگی اس لیے 0.983 کا اسکور (score) بہت زیادہ مانا جاتا ہے جب کہ 0.268 کا مطلب ہے کہ انسانی ترقی کی سطح بہت ہی کم ہے۔
انسانی ترقی کا اشاریہ انسانی ترقی میں حصولیابی (Attainment) کی پیمائش کرتا ہے۔ یہ اسی بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانی ترقی کے کلیدی علاقوں میں کیا حاصل ہوا ہے۔ پھر بھی یہ زیادہ قابل اعتماد پیمائش نہیں ہے۔کیونکہ یہ تقسیم کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔
انسانی غربت کا اشاریہ انسانی ترقی کے اشاریے سے متعلق ہے۔ یہ اشاریہ انسانی ترقی میں کمی (shortfall) کی پیمائش کرتا ہے۔ یہ غیر آمدنی والا پیمائش ہے ۔ 40 سال کی عمر تک زندہ نہ رہنے کا امکان ، بالغان کی خواندگی شرح، صاف پانی تک رسائی نہ رکھنے والوں کی تعداد اور کم وزن کے چھوٹے بچوں کی تعدادکو کسی خطے میں انسانی ترقی میں کمی دکھانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ اکثر انسانی غربت کا اشاریہ انسانی ترقی کے اشاریے کی بہ نسبت زیادہ نمایاں ہوتاہے۔
انسانی ترقی کے ان دو پیمائشوں کو ایک ساتھ دیکھیں تو کسی ملک میں انسانی ترقی کی صحیح تصویر سامنے آتی ہے۔
انسانی ترقی کے پیمائش کے طریقے کو لگاتار خالص بنایا جا رہا ہے اور انسانی ترقی کے مختلف عناصر کی گرفتگی کے نئے طریقوں پر تحقیق کی جارہی ہے۔محققین نے کسی خطے میں رشوت خوری کی سطح یا سیاسی آزادی کے درمیان ربط کا پتہ لگایا ہے۔ سیاسی آزادی کا اشاریہ اور سب سے زیادہ رشوت خور ملک کی فہرست کے بارے میں بھی بحث جاری ہے۔ کیا آپ انساتی ترقی کے دیگر رابطوں کے بارے میں غور کر سکتے ہیں؟
انسانی ترقی کی رسائیاں (APPROACHES TO HUMAN DEVELOPMENT) انسانی ترقی کے مسائل پر غور کرنے کے کئی طریقے ہیں ۔ کچھ اہم رسائیاں ہیں۔(a) آمدنی کی رسائی (Income Approach) ،(b)رفاہ عامہ کی رسائی (Welfare Approach)،(c) کم از کم ضروریات کی رسائی کے اندر انسانی ترقی میں فی کس آمدنی کم ہونے کے باوجود کیرالہ کی کا کردگی پنجاب اور گجرات کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے۔
انسانی ترقی میں ان کی حصولیابی کی بنیاد پر ممالک کو چار گروہوں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔ (جدول 4.2)
جدول 1 ۔4 انسانی ترقی کی رسائیاں
| ( a ) آمدنی رسائل |
یہ انسانی ترقی کی سب سے قدیم رسائی ہے۔ انسانی ترقی کو آمدنی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ آمدنی کی سطح آزادی کی اس سطح کی عکاسی کرتا ہے جس سے ایک فرد لطف اندوز ہوتا ہے۔ جتنی زیادہ آمدنی کی سطح ہوگی اتنی ہی زیادہ انسانی ترقی کی سطح ہوگی۔ |
| ( b ) رفاہ عامہ رسائی |
یہ رسائی انسانوں کو وظیفہ خوار کی حیثیت سے یا تمام ترقیاتی سرگرمیوں کے نشانہ کی طرح دیکھتی ہے۔ یہ رسائی تعلیم، صحت، سماجی زندگی اور سہولیات پر حکومت کی طرف سے زیادہ اخراجات پر زور دیتی ہے۔ لوگ ترقی میں حصہ دار نہیں ہوتے بلکہ غیر فعال وصول کنندہ ہوتے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ رفاہ عامہ پر اخراجات زیادہ کرکے انسانی ترقی کی سطح کو بڑھائے۔ |
| ( c ) بنیادی ضروریات رسائی |
اس رسائی کی تجویز ابتدائی طور پر بین الاقوامی مزدور ( ILO ) نے کی تھی۔ چھ بنیادی ضروریات یعنی صحت، تعلیم،خوراک، پانی کی فراہمی، صفائی اور گھر کی فراہمی کی پہچان کی گئی۔ انسانی انتخاب کے سوال کو نظر انداز کردیا گیا اور منتخب گروہ کی بنیادی ضروریات کے انتظام پر زور دیا گیا۔ |
| ( d ) صلاحیت رسائی |
یہ رسائی پروفیسر امرتیہ سین کے ساتھ منسلک ہے۔ صحت، تعلیم اور وسائل تک رسائی کے علاقوں میں انسانی صلاحیت کی تعمیر انسانی ترقی کو بڑھانے کی کنجی ہے۔ |
بھوٹان دنیا کا واحد ملک ہے جو سرکا ری طور پر ملک کی ترقی کی پیمائش میں کل قومی خوشی (Gross National Happiness =GNH) کااعلان کرتا ہے۔ مادی ترقی اور تکنیکی ترقی کی رسائی کو زیادہ احتیاط کے ساتھ ان ممکنہ نقصانات کا لحاظ کرتے ہوئے کیا کیا ہے ۔ جو ماحول یا بھوٹانیوں کی ثقافتی اور مذہبی زندگی میں لاسکتی ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مادی ترقی خوشی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ GNH ہمیں اکساتا ہے کہ ہم ترقی کے روحانی ، غیر مادی اور کیفی پہلوؤں پر سوچیں۔
صفائی کی لمبائی
ہسپتال کی تعداد
کل گھریلو
کل ترقی پیداوار
صفائی
روزگار
خوشی
صحت
1990سے اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (UNDP) ہر سال انسانی ترقی رپورٹ شائع کر رہا ہے۔ یہ رپورٹ انسانی ترقی کی سطح کے مطابق تمام ممبر ممالک کی درجہ بند فہرست فراہم کرتی ہے۔ UNDP کے ذریعہ استعمال کیا گیا انسانی ترقی کا اشاریہ اور انسانی غربت کا اشاریہ انسانی ترقی کی پیمائش کے لیے دو اہم اشاریے ہیں۔
عالمی موازنے INTERNATIONAL COMPARISONS
انسانی ترقی کا عالمی موازنہ دل چسپ ہے۔ ملک کا طول و عرض اور فی کس آمدنی انسانی ترقی سے براہ راست متعلق نہیں ہیں ۔اکثر بڑے ممالک چھوٹے ممالک کے مقابلے میں انسانی ترقی میں بہتر کرتے ہیں۔ اسی طرح انسانی ترقی میں نسبتاً غریب ممالک کی درجہ بندی پڑوس کے امیر ممالک کی بہ نسبت زیادہ اونچی ہے۔
مثال کے طورپر سری لنکا، ٹرینی داد اور ٹوباگوکا درجہ انسانی ترقی میں ہندوستان سے اونچا ہے اگرچہ ان کی معیشت چھوٹی ہے۔ اسی طرح ہندوستانکے اندر انسانی ترقی میں فی کس آمدنی کم ہونے کے باوجود کیرالہ کی کا کردگی پنجاب اور گجرات کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے۔
انسانی ترقی میں ان کی حصولیابی کی بنیاد پر ممالک کو چار گروہوں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔(جدول 4.2)
جدول 2۔4 انسانی ترقی ؛ اقسام معیار اور ممالک
| بہت اونچی سطح |
0.800 سے زیادہ |
59 |
| اونچی سطح |
0.701 سے 0.799 کے درمیان |
53 |
| میانہ سطح |
0.550 سے 0.700 کے درمیان |
39 |
| کم سطح |
0.549 سے نیچے |
38 |
جدول 3 ۔4 اونچے اشاریاتی قدروں والے اوپر کے دس ممالک
| درجہ |
ممالک |
درجہ |
ممالک |
| 1 |
ناروے |
6 |
آئس لینڈ |
| 2 |
سوئزر لینڈ |
7 |
ہونگ کونگ |
| 2 |
آسٹیریلیا |
7 |
سویڈن |
| 4 |
آئر لینڈ |
9 |
سنگاپور |
| 5 |
جرمنی |
10 |
نیدر لینڈ |
اونچے انسانی ترقیاتی اشاریہ والے ممالک وہ ہیں جن کی حصولیابی 0.800 سے زیادہ ہے۔ انسانی ترقی رپورٹ 2018 کے مطابق اس گروہ میں 59 ممالک شامل ہیں۔ جدول 4.3 میں اس گروپ کیپ پہلے دس ممالک کو دکھایا گیا ہے۔
ان ممالک کو نقشے پر دکھانے کی کوشش کیجیے۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں ان ممالک میں کیا چیزیں مشترک ہیں؟ اس کا پتا لگانے کے لیے ان ممالک کے سرکاری ویب سائٹ دیکھیے۔
انسانی ترقی کے اعلیٰ سطحی گروپ میں 53 ممالک ہیں۔ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال مہیا کرنا حکومت کی اہم ترجیح ہے ۔ اعلیٰ انسانی ترقی کے ممالک وہ ہیں جہاں سماجی سیکٹر میں بہت زیادہ سرمایہ لگایا گیا ہے ۔ ان سب کے ساتھ لوگوں اور اچھی حکومت میں زیادہ سرمایہ کاری نے اس گروپ کے ممالک کو دوسروں سے ممتاز کر رکھا ہے۔
انسانی بہبود رپورٹ 2006 کے مطابق انسانی بہبود کے اشاریئے میں ہندوستان کا 126واں مقام تھا۔ HDI رپورٹ2018 میں ہندوستان کا مقام مزید نیچے 130واں ہوگیا۔ HDI میں ہندوستان کے 130 ممالک سے پیچھے ہونے کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟
اس سیکٹر میں خرچ کی گئی ملکی آمدنی کے فی صد کا پتہ لگائیے ۔کیا آپ کچھ دیگر خصوصیات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو ان ممالک میں عام ہیں؟
آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے بہت سے ممالک سابقہ شاہی طاقت کے حامل تھے۔ ان ممالک میں سماجی فرق کا دائرہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ اونچی انسانی ترقی کی حصولیابی والے بہت سے ممالک یورپ میں واقع ہیں اور صنعتی مغربی دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود غیر یوروپی ممالک کی ایک معتدبہ تعداد ہے جنھوں نے اپنے آپ کو اس فہرست میں داخل کیا ہے۔
انسانی ترقی کے میانہ سطح والے ممالک کا گروہ سب سے بڑا ہے۔ اس گروپ میں کل 39 ممالک ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر وہ ممالک ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد وجود میں آئے۔ اس گروپ کے کچھ ممالک سابق کالونیاں ہیں۔ جب کہ بہت سے دوسرے 1990میں سابق سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد وجود میں آئے۔ ان میں سے بہت سے ممالک لوگوں کے حق میں زیادہ سے زیادہ پالیسی وضع کرکے اور سماجی امتیاز کو کم کرکے اپنی انسانی ترقی کی حصولیابی کو تیزی سے سدھار رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ممالک میں اعلیٰ انسانی ترقیاتی حصولیابی والے ممالک کی بہ نسبت سماجی تفریقزیادہ ہے۔ اس گروپ کے بہت سے ممالک نے اپنی حالیہ تاریخ کے کسی نہ کسی زمانے میں سیاسی عدم استحکام اور سماجی شورش کا سامنا کیا ہے۔
کم وبیش 38 ممالک میں انسانی ترقی کی سطح کا اندراج کم ہے۔ ان میں سے ایک بڑا حصہ چھوٹے ممالک کا ہے جو سیاسی اتھل پتھل اورخانہ جنگی قحط اور بیماریوں کے زیادہ واقعات کی صورت میں سماجی عدم استحکام کا شکار رہتا ہے۔ اس گروپ کے انسانی ترقی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مناسب طریقے سے سوچی سمجھی پالیسیوں کی فوری ضرورت ہے۔
انسانی ترقی کا عالمی موازنہ کچھ بہت دل چسپ نتیجوں کو دکھاسکتا ہے۔ اکثر لوگ انسانی ترقی کی کم سطح کا الزام لوگوں کی ثقافت پر ڈال دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر x ملک کی انسانی ترقی کمتر ہے کیونکہ وہاں کے لوگ yمذہب کے پیروکار ہیں یا z معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس قسم کے بیانات گمراہ کن ہیں۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ ایک خاص خطہ انسانی ترقی کی سطح میں کم یا زیادہ کیوں ہے،یہ اہم ہے کہ سماجی سیکٹر میں حکومت کے اخراجات کے طرز کو دیکھا جائے۔ ملک کا سیا سی ماحول اور لوگوں کو حاصل آزادی کی مقدار بھی اہم ہیں ۔اعلیٰ انسانی ترقی کے ممالک سماجی سیکٹر میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور عموماً سیاسی اتھل پتھل اور عدم استحکام سے آزاد ہیں ۔ملک کے وسائل کی تقسیم بھی زیادہ تر منصفانہ ہے۔
مشق
1۔ مندرجہ ذیل چار متبادل میں صحیح جواب کا انتخاب کریں
(i) مندرجہ ذیل میں سے کون ترقی کو بہتر طور پر بیان کرتا ہے؟
(a) جسامت میں اضافہ (c) کیفیت میں مثبت تبدیلی
(b) جسامت میںیکساں (d) کیفیت میں معمولی تبدیلی
(ii) مندرجہ ذیل میں سے کس اسکالر نے انسانی ترقی کا تصور پیش کیا؟
(a) پروفیسر امرتیہ سین (c) ڈاکٹر محبوب الحق
(b) الین سی سمپل (d) ریٹزل
(iii) مندرجہ ذیل میں سے کون سب سے زیادہ انسانی ترقی کا ملک نہیں ہے۔
(a) ناروے (c) ارجنٹائنا
(b) جاپان (d) مصر
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیں۔
(i) انسانی ترقی کے تین بنیادی علاقے کیا ہیں؟
(ii) انسانی ترقی کے چار اہم اجزا ئے تر کیبی کا نام بتائیں؟
(iii) انسانی ترقی کے اشاریے کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب 150 الفاظ میںمیں دیں۔
(i) انسانی ترقی کی اصطلاح سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(ii) انسانی ترقی کے تصورمیں مساوات اور پائیداری کا کیا مطلب ہے؟
پروجیکٹ سرگرمی
سب سے زیادہ رشوت خور دس ممالک اور سب سے کم رشوت خور دس ممالک کی فہرست تیار کیجیے۔ انسانی ترقی کے اشاریے پر ان کی حصولیابی کا موازنہ کیجیے۔ آپ اس سے کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟
اس کے لیے انسانی ترقی کی تازہ ترین رپورٹ ملاحظہ کریں۔