Skip to content
Insanijughrafiakemubadiat-005

اکائ 3

باب۔ 5


ابتدائی سرگرمیاں

16

وہ انسانی سرگرمیاں جن سے آمدنی حاصل ہوتی ہے ان کو معاشی سرگرمیاں کہتے ہیں۔ معاشی سرگرمیوں کو موٹے طور پر ابتدائی ، ثانوی، ثالثی اور رابعی سرگرمیوں میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ ابتدائی سرگرمیاں براہ راست ماحول پر منحصر ہوتی ہیں کیونکہ ان میں زمینی وسائل جیسے زمین ، پانی ، نباتات ، تعمیراتی سامان اور معدنیات کا استعمال کیا جاتا ہے۔اس طرح اس میں شکار کرنا اور خوراک جمع کرنا ، چراگاہی سرگرمیاں، ماہی گیری، جنگل بانی، زراعت، کا ن کنی اور کھدائی شامل ہیں

ساحلی اور میدانی علاقوں میں رہنے والے لوگ بالترتیب ماہی گیری اور زراعت میں ہی کیوں مشغول ہوتے ہیں؟ وہ طبی اور سماجی عوامل کیا ہیں جو مختلف خطوں میں ابتدائی سرگرمیوں کے ا قسام کو متاثر کرتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں

بتدائی سرگرمیوں میں مشغول لوگوں کو ان کے باہری کام کرنے کی فطرت کی وجہ سے لال کالر (Red-Collar) مزدور کہا جاتا ہے۔  

شکار کرنا اور خوراک جمع کرنا  

HUNTING AND GATHERING

اولین انسان اپنی گذر بسر کرنے کے لیے اپنے آس پاس کے ماحول پر انحصار کرتا تھا ۔ ان کی گذر اوقات ہوتی تھی (a) جانوروں پر جن کا وہ شکار کرتے تھے اور (b) قابل خوراک پودوں پرجنھیں وہ قریب کے جنگلات سے اکٹھا کرتے تھے۔
ابتدائی سماج جنگلی جانوروں پر منحصر تھا۔ بہت ہی ٹھنڈے اور انتہائی گرم آب و ہوا میں رہنے والے لوگ شکار پر زندگی گذارتے تھے۔ ساحلی علاقوں کے لوگ ابھی بھی مچھلی پکڑتے ہیں گرچہ تکنیکی ترقی کی وجہ سے ماہی گیری میں جدت آچکی ہے۔ اب جانوروں کے بہت سے اقسام ناپید ہو چکے ہیں یا غیر قانونی شکارکی وجہ سے خطرے میں پڑ گئے ہیں ۔ پہلے زمانے کے شکاری پتھر، ڈالیوں یا تیر سے بنے ابتدئی اوزاروں کا استعمال کرتے تھے اور اس طرح شکار میں مارے جانے والے جانوروں کی تعداد محدود تھی۔ ہندوستان میں شکار پر پابندی کیوں ہے؟
خوراک جمع کرنا اور شکار کرنا سب سے قدیم معاشی سرگرمی مانی جاتی ہے۔ یہ مختلف سطح پر مختلف ڈھنگ سے کی جاتی ہے۔
خوراک جمع کرنے کا کام سخت آب وہوا والے علاقوں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں اکثر ابتدائی سماج کے لوگ شامل ہوتے ہیں جو اپنی خوراک مکان اور کپڑے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پودوں اور جانوردونوں کا استحصال کرتے ہیں ۔ اس قسم کی سر گرمی میں قلیل مقدار میں سرمایہ کا ری کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے ٹکنالوجی کی سب سے کم سطح پر انجام دیا جاتا ہے۔فی کس پیداواری اضافہ بہت ہی کم ہو تا ہے اور زائد پیداوار تھوڑی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ہے۔
خوراک جمع کرنے کا کام ہوتا ہے:(i) اونچے عرض البلدی منطقوں میں جس میں شمالی کناڈا، شمالی یوریشیا اور جنوبی چلی شامل ہیں؛(ii)نچلےعرض البلدی منطقوں میں جیسے آمیزن طاس، حاری افریقہ ، آسٹریلیا کے شمالی کنارے اور جنوب مشرقی ایشیا کے اندرونی حصے (شکل 5.2)۔
17
شکل 5.1 :میزورم میں نارنگی جمع کرتی ہوئی عورتیں

جدید دور میں کچھ جمع کرنے کے کچھ کاموں نے کاروباری رخ اختیار کرلیا ہے اور تجارتی بن گیا ہے۔جمع کرنے والے قیمتی پودوں کو اکٹھا کرتے ہیں جیسے پتیاں، درختوں کے چھال اور طبی پودے اور سیدھی سادی عمل سازی کے بعد پیداوار کو بازار میں بیچ دیتے ہیں۔وہ پودوں کے مختلف حصوں کا استعمال کرتے ہیں۔مثال کے طورپر کھال کو کونین،روغن کاری اور ڈھکن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔پتیوں سے مشروبات ، دوائیاں ، غازے ، ریشے ، چھپر اور کپڑوں کے لیے سامان بنائے جاتے ہیں ،گری (nut) کھانے اور تیل کے لییاور درختوں کی ٹہنیوں سے ربر، بلا ٹا ، گوند اور رال حاصل کیے جاتے ہیں۔

18
شکل 5.2: خود کفالتی اکٹھا کرنے والے علاقے

کیا آپ جانتے ہیں

چیونگم کو چوسنے کے بعد باقی بچے حصے کو کیا کہتے ہیں؟اسے چکل (Chicle) کہا جاتا ہے۔ یہ زپوٹا درخت کے دودھیارس سے بنایا جاتا ہے۔ 
عالمی سطح پر خوراک جمع کرنے کے کام کو اہمیت حاصل کرنے کی امید بہت کم ہے۔ اس طرح کی سرگرمی کی پیداوارعالمی بازار کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔  علاوہ ازیں اکثر بہتر کو الٹی اور کم قیمت کے کیمیاوی مصنوعات ٹراپیکی جنگلات میں خوراک جمع کرنے والوں کے ذریعہ فراہم کردہ بہت سی چیزوں کے متبادل بن گئے ہیں۔

19

شکل 5.3: موسم گرما کے آغاز پر پہاڑوں پر اپنی بھیڑوں کو لے جاتے ہوئے خانہ بدوش

گلّہ بانی PASTORALISM   

تاریخ کے ایک مرحلے پر یہ محسوس کرتے ہوئے کہ شکار غیر پائیدار سرگرمی ہے انسانوں نے جانوروں کو پالنے کا خیال کیا ہوگا ۔مختلف آب و ہوائی حالت میں رہنے والے لوگوں نے اس خطے میں پائے جانے والے جانوروں کو پالتو بنانے کے لیے چنا ۔جغرافیائی عو امل اور تکنیکی ترقی پر منحصر آج کل جانوروں کا پالنا یا تو گذر اوقات کے لیے ہو تا ہے یا تجارتی سطح پر ہو تا ہے۔

خانہ بدوش چراگاہی  (Nomadic Herding) 

خانہ بدوش چراگاہی یا چراگاہی خانہ بدوشی (Pastoral nomadism)  ابتدائی گذربسر کی سرگرمی ہے جس میں چرواہے خوراک کپڑا، مکان ،اوزار اور نقل و حمل کے لیے جانوروں پر منحصر رہتے ہیں۔ چراگاہ اور پانی کی کیفیت اور مقدار پرمنحصر وہ اپنے مویشیوں کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتے رہتے ہیں ۔ رسمی طورپر ہر خانہ بدوش خاندان کے پاس ایک متعینہ اور پہچان کردہ خطہ زمین ہوتا ہے ۔

مختلف علاقوں میں جانوروں کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ حاری افریقہ میں گائے بھینس سب سے زیادہ اہم ہیں جب کہ ایشیائی ریگستانوںمیں بیشتر بکری اور اونٹ پالے جاتے ہیں۔ تبت اور انڈیز کے پہاڑی علاقوں میں یاک ، لاما اور آرکٹک اور نیم آرکٹک علاقوں میں رین ڈیر سب سے اہم جانور ہیں۔

چراگاہی خانہ بدوشی تین اہم خطوں سے منسلک ہے ۔ مر کزی خطہ شمالی افریقہ کے اٹلانٹک کنارے سے لے کر مشرق کی طرف جزیرہ نما عرب کو پار کرتے ہوئے منگولیا اور وسطی چین تک پھیلا ہوا ہے۔ دوسرا خطہ یوریشیا کے ٹنڈرا علاقے پر پھیلا ہے۔ جنوبی نصف کرہ میں جنوب مغربی افریقہ میں اور مڈگاسکر کے جزیرے پر چراگاہ کے چھوٹے چھوٹے علاقے ہیں۔

چراگاہ کی تلاش میں گھومنایا تو وسیع افقی دوریوں پر ہوتا ہے یا پہاڑی خطوں میں (عمودی طور پر ) ایک بلندی سے دوسری بلندی تکہوتا ہے۔موسم گرما میں میدانی علاقوں سے پہاڑی علاقوں کے چراگاہو ں کی طرف اور موسم سرما میں پہاڑی چراگاہوں سے میدانی علاقوں کی طرف ہجرت کے عمل کو موسمی ہنکاؤ (Transhumance) کہا جاتا ہے۔ ہمالیہ جیسے پہاڑی علاقوں میں گجّر ، بکروال، گدّی ، اور بھوٹیا موسم گرما میں میدانی علاقوں سے پہاڑوں کی طرف اور موسم سرما میں بلند چراگاہوں سے میدان کی طرف ہجرت کر تے ہیں۔ اسی طرح ٹنڈرا کے خطے میں خانہ بدوش چرواہے موسم گرما میں جنوب سے شمال کی طرف اور موسم سرما میںشمال سے جنوب کی طرف چلتے رہتے ہیں۔چراگاہی خانہ بدوشوں کی تعداد کم ہو تی جا رہی ہے اور ان کی چراگاہی کے علاقے سکڑتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ (الف) سیاسی حدود کا نفاذ اور (ب) مختلف ممالک کے ذریعہ نئی بستیوں کے منصوبے ہیں۔

20
شکل 5.5:  تجارتی مویشی پالن

تجارتی مویشی پالن   

(Commercial Livestock Rearing)

خانہ بدوش چراگاہی کے بر عکس تجارتی مویشی پالن زیادہ منظم اور سرمایہ کاری پر مبنی ہے۔ تجارتی مویشی پالن بنیادی طور پر مغربی ثقافت سے منسلک ہے اور مستقل مویشی خانوں (Ranches) پر کی جاتی ہیں۔ یہ مویشی خانے بڑے علاقوں پر پھیلے ہوتی ہیں اور کئی ٹکڑوں میں منقسم ہو تے ہیں۔ جب ایک ٹکڑے کی گھاس چرلی جاتی ہے تو جانوروں کو دوسرے ٹکڑے پر ہانک دیا جاتاہے۔ چراگاہ میں جانوروں کی تعداد کو چراگاہ کی حملی صلاحیت (Carrying Capacity)کے مطابق رکھا جاتا ہے۔
الاسکا کے شمالی خطوں میں رین ڈیر پالنا جہاں زیادہ تر اسکیموں کے پاس دوتہائی مویشی ہوتے ہیں۔ یہ ایک مخصوص سرگرمی ہے جس میں صرف ایک قسم کے جانوروں کو پالا جاتا ہے۔ اہم جانوروں میں بھیڑ ، گائے،بھینس، بکریاں اورگھوڑے شامل ہیں۔ گوشت، اون ،ہڈیاں اور چمڑے جیسی پیداوار کو بنا کر اور سائنسی طور پر پیک کرکے مختلف عالمی بازاروں میں بر آمد کیا جاتا ہے۔
مویشی خانوں میں جانوروں کو پا لنے کا نظم ونسق سائنسی بنیاد پر کیا جاتاہے۔ ان کی افزائش نسل،نسلی اصلاح،بیماری پر کنٹرول اور جانوروں کی صحت کی دیکھ بھال پر اصل زور دیا جا تا ہے۔
نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، ارجنٹائنا، اوروگوئے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ وہ اہم ممالک ہیں جہاں تجارتی گلہ بانی کی جاتی ہے۔(شکل 5.6)

21
شکل  5.4  :  خانہ بدوش چراگاہی کے علاقے
22
شکل 5.6:تجارتی گلہ بانی کے علاقے
24
شکل 5.7  :  ابتدائی خود کفالتی زراعت کے علاقے

زراعت

زراعت طبعی اور سماجی اقتصادی حالات کے کثیر تال میل کے تحت کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مختلف قسم کے زرعی نظام پیدا ہوئے ہیں۔
کھیتی کے مختلف طریقوں پر منحصر ، مختلف قسم کی فصلیں اگائی جاتی ہیں  اور مویشیوں کو پالاجا تا ہے ۔ اہم زراعتی نظام درجہ ذیل ہیں۔

خود کفالتی زراعت  (Subsistence Agriculture)

خود کفالتی زراعت وہ ہے جس میں مقامی طور پر اگائی جانے والی پیداوار کا تمام تریا اکثر حصہ اسی علاقے میں صرف ہو جاتاہے۔ اسے دو زمروں میں درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی خود کفالتی زراعت اور انتہائی خود کفالتی زراعت ۔

ابتدائی خود کفالتی زراعت 

(Primitive Subsistence Agriculture)

ابتدائی خود کفالتی زراعت یا انتقالی زراعت (Shifting agriculture) منطقہ حارہ کے علاقوں خاص کر افریقہ ، جنوبی اور شمالی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیامیں کئی قبائل کے ذریعہ وسیع پیمانے پر کی جا تی ہے (شکل 5.7)۔

عام طورپر نباتات کو جلا کرصاف کیا جا تا ہے اور راکھ مٹی کی زر خیز ی میں اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح سے انتقالی زراعت کو کاٹواور جلا و زراعت (Slash and burn agriculture)بھی کہتے ہیں۔کھیت کے ٹکڑے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور کھیتی ابتدائی قسم کے اوزاروں جیسے چھڑی اور کدال کی مدد سے کی جاتی ہے۔ کچھ وقت (3 سے5 سال )کے بعد مٹی کی زرخیز ی ختم ہو جاتی ہے اور کسان دوسرے حصے پر منتقل ہو جا تا ہے اور زراعت کے لیے جنگل کا دوسرا ٹکڑا صاف کرتا ہے۔کسان پہلے والے ٹکڑے پر کچھ دنوں کے بعد پھر کھیتی کرتا ہے۔ انتقال زراعت کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مختلف قطعات میں زرخیزی کے خاتمہ کی وجہ سے جھوم کا دور کمتر ہوتا جاتا ہے۔ یہ منطقہ حارہ کے خطوں میں مختلف ناموں سے جا نا جاتا ہے جیسے جھومنگ (Jhuming) ہندوستان کے شمال مشرقی ریاستوں میں، ملپا (Milpa) وسطی    امریکہ اورمیکسیکو میں اورلڈانگ (Ladang) انڈونیشیااور ملیشیا میں۔ ان دوسرے علاقوں اور ناموں کا پتہ لگائیے جہاں انتقالی زراعت کی جاتی ہے۔

26

شکل  5.8  :  غالی خود کفالتی زراعت کے علاقے

27

شکل  5.9  :  دھان کی پود کاری

انتہائی خود کفالتی زراعت 

(Intensive Subsistence Agriculture)

زیادہ تر اس قسم کی زراعت مانسونی ایشیاکے کثیف آبادی والے خطوں میں پائی جاتی ہے۔ 

بنیادی طور پر انتہائی خود کفالتی زراعت کی دو قسمیں ہیں:

(i) نم دھان کی غالب کاشتکاری والی انتہائی خود کفالتی زراعت:(intensive subsistence agriculture dominated by wet paddy)  اس قسم کی زراعت کی خصوصیت میں چاول کی فصل غالب ہے۔ زیادہ گنجان آبادی کی وجہ سے کھیتوں کا رقبہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ کسان خاندان کے افراد کی مدد سے زراعت کرتا ہے جس میں زمین کا انتہائی استعمال کیا جاتا ہے۔مشینوں کا استعمال محدود ہوتا ہے اور زیادہ تر کا م مزدوروں سے کرایا جاتا ہے ۔مٹی کی زر خیزی قائم رکھنے کے لیے کھیتوں میں تیار کردہ کھاد (Farm yard manure) کا استعمال کیا جا تا ہے۔اس قسم کی زراعت میں فی اکائی رقبے پر حاصل فصل کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے لیکن فی کس پیداوار کم ہوتی ہے۔

(ii) دھان کے علاوہ دیگر غالب فصلوں والی انتہائی خود کفالتی زراعت  (Intensive  Subsistence Agriculture dominated by crops other than paddy) زمینی خد وخال ، آب وہوا ، مٹی اور کچھ دیگر جغرافیائی عوامل میں فرق کی وجہ سے مانسون ایشیا کے کئی حصوں میں دھان اگانا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ شمالی چین، منچوریا، شمالی کوریا اور شمالی جاپان میں گیہوں، سویابین، جو اور جوار کی کاشت کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں سندھ گنگا میدان کے مغربی حصوں میں گیہوں کی کاشت ہوتی ہے اورمغربی اور جنوبی ہندوستان کے خشک حصوں میں جو کی کھیتی کی جاتی  ہے۔ اس قسم کی زراعت کی زیادہ تر خصوصیات نم دھان کی غالب خصوصیات کے مشابہ ہیں سوائے اس کے کہ آب پاشی کا استعما ل اکثر کیا جا تا ہے۔

یوروپ کے لوگوں نے دنیا کے کئی حصوں میں نو آبادیات (Colonies)  کو بسایا اور کچھ دوسری قسم کی زراعت سے متعارف کرایا جیسے پودکاری/شجرکاری (Plantation) جو خاص کر نفع پر مبنی بڑے پیمانے کا پیداواری نظام ہے۔

پودکاری /شجرکاری زراعت:  

(Plantation Agriculture)
جیساکہ پہلے ذکر کیاگیا ہے یوروپ کے لوگوں نے پود کاری زراعت کو منطقہ حارہ کے نوآبادیات میں شروع کیا۔پودکاری زراعت کی کچھ اہم فصلیں چائے، کافی، کوکو، ربر، روئی، ناریل، گنا، کیلا اور انناس ہیں۔
اس قسم کی زراعت کے خصوصی خد و خال ہیں بڑے قطعہ زمین پر پودکاری ، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، انتظامی اورتکنیکی امداد، کاشت کا سائنسی طریقہ، ایک فصل کا اختصاص، سستے مزدور، اورنقل و حمل کا اچھا نظام جو پیداوار کی برآمدگی کے لیے فارم اسٹیٹ کو فیکٹری اور بازار سے جوڑتا ہے۔
فرانسیسیوں نے مغربی افریقہ میں کوکوا اور کافی کی شجرکاری کو قائم کیا۔برطانوی باشندوں نے ہندوستان اور سری لنکا میں چائے کے بڑے باغات لگائے، ملیشیا میں ربرکی کاشت کاری اور ویسٹ لوگوں کا واحد اختیار (Monopoly) تھا۔ برازیل میں کچھ کافی فزنڈا (بڑی شجرکاری) کا انتظام ابھی بھی یوروپین لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔
28
شکل  5.10  :  چائے کی شجر کاری
29
شکل 5.11:  مشینی زراعت
کمبائن کریوز ایک دن میں کئی ہیکٹر زمین پر پھیلے اناج کی کٹائی کر سکتے ہیں۔

آج زیادہ تر پودکاریوں اور شجر کاریوں کے مالکانہ حقوق متعلقہ ممالک کی حکومت یا قوموں کے ہاتھ میں ہیں۔مناسب جغرافیائی حالات کی وجہ  سے پہاڑیوں کے ڈھلانوں کو چائے کی شجرکاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہی۔  

وسیع پیمانے پر تجارتی اناج کی کاشتکاری 

(Extensive Commercial Grain Cultivation)

تجارتی اناج کی کاشتکاری وسطی عرض البلدکی نیم خشک زمینوں کے اندورنی حصوںمیں کی جاتی ہے۔ گیہوں اہم فصل ہے اگرچہ دوسری فصلیں جیسے مکا، جو، جئی اور رائی بھی اگائی جاتی ہیں ۔کھیت کا سائز کافی بڑا ہوتاہے اس لیے کھیت کی جو تائی سے لیکر فصلوں کی کٹائی تک سارا کام مشینوں سے کیا جاتا ہے (شکل5.11)۔فی ایکڑ حاصل فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے لیکن فی کس حاصل فصل کی پیداوار  زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس قسم کی زراعت کو یوریشیاکے اسٹیپی، کناڈا اور امریکہ کے پریریز، ارجنٹائنا کے پمپاس، جنوبی افریقہ کے ویلڈز، آسٹریلیا کے ڈاؤنس اور نیوزی لینڈ کے کینٹر بری میدانوں میں اچھا خاصا فروغ ملا ہے۔ (ان علاقوں کو دنیا کے نقشے پر دکھائیے)۔
30
شکل  5.12  :  وسیع پیمانے پر تجارتی اناج کی کاشت کاری کے علاقے

مخلوط زراعت  (Mixed Farming)    

اسی قسم کی زراعت دنیا کے بہت زیادہ ترقی یافتہ حصوں جیسے شمالی مغربی یورپ، مشرقی شمالی امریکہ، یوریشیا کے کچھ حصوں اور جنوبی براعظموں کے معتدل عرض البلاد میں پائی جاتی ہے۔(شکل 5.14)
مخلوط فارم کا رقبہ درمیانہ ہوتا ہے اور عام طور پر گیہوں ، جو،جئی، رائی، مکا، چارہ اور جڑوالی فصلیں اس سے منسلک ہوتی ہیں۔ چارے کی فصل مخلوط زراعت کا ایک اہم عنصر ہے۔فصل گردانی (crop rotation) اور درمیانی فصلیں (intercropping) مٹی کی زرخیزی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔فصل کی کاشت کاری اور جانور کے پالنے پر مساوی توجہ دی جاتی ہے۔ گائے،بیل، بھیڑ، بکری،خنزیر اور مرغی پالن فصلوں کے ساتھ آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔

31
شکل  4.13  :  آسٹریلیا کا ایک ڈیری فارم

مخلوط زراعت کی خصوصیات میں کھیتی کرنے والی مشینوں اور عمارت پر زیادہ سرمایہ کاری، کیمیاوی کھاداور ہر ی کھاد کا وسیع استعمال اور اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کی مہارت اور تجربہ بھی شامل ہے۔

32
شکل  5.14 :  مخلوط زراعت کے علاقے

ڈیری فارم    (Dairy Farming)

ڈیری دودھ دینے والے جانوروں کو پالنے کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مؤثر قسم ہے ۔  یہ بہت زیادہ سرمائے پر منحصر ہوتا ہے۔ جانوروں کا سائبان ، چارے کی ذخیرہ اندوزی کی سہولیات ، کھلانے والی اور دوہنے والی مشینیں، ڈیری فارمنگ کی لاگت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ جانوروں کی افزائش، ان کی صحت کی دیکھ بھال اور و یٹنری خدمات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
یہ سب سے زیادہ محنتپر مبنی زراعت ہے کیونکہ اس میں کھلانے اور دودھ دوہنے پر کافی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سال بھر میں کوئی چھٹی کا موسم نہیں ہوتا جیسا کہ فصلوں کی کاشت کاری میں ہوتا ہے۔
یہ خاص طور پر شہری اور صنعتی مراکز کے پاس کی جاتی ہے جو پڑوس کے بازاروں کو تازہ دودھ اور ڈیری کی اشیا فراہم کرتی ہے،نقل وحمل ، انجماد کاری، جراثیم کشی اور دیگر نگہداشت کے اعمال کی وجہ سے مختلف ڈیری مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی  کی مدت بڑھ گئی ہے۔
تجارتی ڈیری فارمنگ کے تین اہم خطے ہیں سب سے بڑا شمال مغربی یورپ کاہے دوسرا کناڈا اور تیسری پٹی میں جنوب مشرقی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تسمانیہ ہیں (شکل 5.16)۔

بحیرۂ رومی زراعت  (Mediterranean Agriculture)

بحیرۂ رومی زراعت سب سے زیادہ مخصوص تجارتی زراعت ہے۔ یہ یورپ اور شمالی افریقہ میں بحیرۂ روم کے دونوں طرف واقع ممالک میں تیونیشیا سے لے کر بحر اوقیانوس کے ساحل، جنوبی کیلی فورنیا ، وسطی چلی ، جنوبی افریقہ کے جنوب مغربی حصوں اور آسٹریلیا کے جنوب اور جنوب مغربی حصوں میں کی جاتی ہے۔یہ خطہ ترش پھلوں کا اہم فراہم کنندہ ہے۔ 
ویٹی کلچر (Viticulture) یا انگور کی کاشت کاری بحیرۂ روم خطے کی خصوصیت ہے۔ دنیا میں اعلیٰ معیار کے انگوروں سے مخصوص خوشبوؤں والی بہترین کوالٹی کی شراب اس خطے کے مختلف ممالک میں تیارکی جاتی ہے۔کمتر درجہ کے انگوروں کو خشک کر کے کش مش اور منقیٰ تیار کیا جاتا ہے۔ یہ خطہ زیتون اور انجیر بھی پیدا کرتا ہے۔بحیرۂ رومی زراعت کا فائدہ یہ ہے کہ زیادہ قیمتی فصلیں جیسے پھل اور سبزیاں موسم سرما میں اگائی جاتی ہیں جب یورپ اور شمالی امریکہ کے بازاروں میں اس کی زبردست مانگ ہوتی ہے۔

کاروباری باغبانی اور پھلوں و پھولوں کی باغبانی 

(Market  Gardening  and  Horticulture )

کاروباری باغبانی اور پھولوں کی باغبانی میں اونچی قیمت والی فصلوں جیسے سبزیاں پھل اور پھول کی تخصیص ہوتی ہے جو صرف شہری بازاروں کے لیے ہوتی ہے۔ کھیت چھوٹے ہوتے ہیں اور ان جگہوں پر واقع ہوتے ہیں جہاں شہری مراکز کے ساتھ نقل و حمل کا ربط اچھا ہے اور جہاں اونچی آمدنی والے صارفین رہتے ہیں ۔ یہ محنت اور سرمایہ دونوں پر منحصر ہوتا ہے اور اس میں سینچائی ، اونچی پیداوارفصل کے اقسام کے بیج ، کھاد،جراثیم کش دوائیں ، گلاس گھر اور سر دخطوں میں مصنوعی زراعت کے استعمال پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اس قسم کی زراعت کو شمالی مغربی یورپ ، شمالی مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور بحررومی خطے کے گنجان آبادی والے صنعتی ضلعوں میں زیادہ فروغ ملا ہے۔پھولوں کو اُگانے اور فن باغبانی میں نیدر لینڈ کو انفرادیت حاصل ہے خاص کر گل لالہ کی پیداوار میں جسے یورپ کے تمام بڑے شہروں میں ہوائی جہازسے پہنچا یا جاتا ہے۔
وہ خطے ، جہاں کسانوں کو صرف سبزی اگانے میں انفرادیت حاصل ہے ایسی زراعت کو ٹرک فارمنگ (Truck Farming) کہتے ہیں۔ بازار سے ٹرک فارمنگ کی دوری اس دوری سے طے کی جاتی ہے جو ایک ٹرک رات بھر میں طے کرتا ہے۔ اسی لیے اس کا نا م ٹرک فارمنگ رکھا گیا ہے۔
کاروباری باغبانی کے علاوہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کے صنعتی علاقوں میں فیکٹری فارمنگ ایک جدید ترقی ہے۔گھاریوں اور لمبے ڈربوں میں مویشی خاص کر گائے ، بیل اور مرغیاں پالی جاتی ہیں ،انہیں مشینی چارہ کھلایا جاتا ہے اور بیماریوں سے حفاظت کی جاتی ہے۔ اس میں تعمیر ، مختلف کا موں کے لیے مشینوں ، مویشی معالجہ کے لیے خدمات اور گرمی و روشنی کے تعلق سے کافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔مرغی پالن اور مویشی پالن کی ایک اہم خصوصیت اچھی نسل کا انتخاب اور سائنسی طور پر نسلی افزائش ہے۔
زراعت کی قسموں کو زراعتی تنظیم کے اعتبار سے بھی درجہ بند کیا جاتا ہے۔  اپنے کھیتوں پر کسانوں کی ملکیت اور ان کھیتوں کو کار آمد بنانے کے لیے حکومت کی مختلف پالیسیوں کا اثر زراعتی تنظیم پر پڑتا ہے ۔

امداد باہمی کھیتی  (Co-operative Farming) 

زیادہ باصلاحیت اور منفعت بحش کھیتی کے لیے کسانوں کی ایک جماعت رضاکارانہ طور پر اپنے وسائل کو اکٹھا کر کے ایک امداد باہمی کی سو سائٹی بنالیتی ہے۔ انفرادی کھیت محفوظ رہتے ہیں ۔ اور کھیتی امداد باہمی کے ذریعہ فیصلوں پر مبنی ہوتی ہے۔
امدادباہمی کی تحریک ایک صدی قبل شروع ہوئی تھی اور بہت سے مغربی یورپ کے ممالک ڈنمارک ، نیدر لینڈ، بلجیم، سوڈان ، اٹلی وغیرہ میں کامیاب رہی ہے۔ڈنمارک میں یہ تحریک اتنی کامیاب رہی کہ عملی طور پرہر کسان امداد باہمی کا ممبر ہے 
33
شکل  5.15  (الف)  :  سوئٹزر لینڈ میں انگور کا باغ
34
شکل  5.15  (ب)  :  قز اخستان کی اجتماعی کھیتی میں انگور جمع کرنا
35
شکل  5.16  :  ڈیری فارمنگ کے علاقے
36
شکل  5.17  (الف) : شہر کے گردونواح میں سبزیاں اُگائی جا رہی ہیں۔
37
شکل  5.17  (ب) : شہر کے بازار میں پہنچانے کے لیے سبزیوں کو ٹرک اور سائیکل گاڑیوں میں لادا جا رہا ہے ۔ 

اجتماعی کھیتی (Collective Farming) 

اس قسم کی کھیتی کا بنیادی اصول پیداوار کے وسائل پر سماجی ملکیت اور اجتماعی جفاکشی پر مبنی ہے۔ اجتماعی کھیتی کو لکھوز (Kolkhoz) کا ماڈل سابق سویت یونین میں شروع کیا گیا تھا تاکہ سابق زراعتی طریقوں کے ناکارہ پن کی اصلاح کی جاسکے اور خود انحصاری کے لیے زراعتی پیداوار کو بڑھایا جا سکے۔
کسان اپنے تمام وسائل جیسے زمین، مویشی اور مزدور وغیرہ کو اکٹھاکرتے تھے۔ حالاں کہ انھیں ایک چھوٹا قطعہ زمین رکھنے کی اجازت تھی تاکہ اپنی روزانہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فصل اُگا سکیں۔

کان کنی (Mining)

انسانی ترقی کی تاریخ میں معدنیات کی ایجاد عہد تانبہ ، عہد کا نسہ اور عہد آہن کے کئی مراحل میں منعکس ہوتی ہے۔قدیم زمانے میں معدنیات کا استعمال اوزار، برتن اور ہتھیار بنانے تک محدود تھا۔ کان کنی کی اصل ترقی صنعتی انقلاب کے ساتھ شروع ہوئی اور اس کی اہمیت لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔
38
شکل  5.18  :  خلیج میکسیکو میں تیل ڈرلنگ کا عمل
39
شکل  5.19  :  کان کنی کے طریقے

کان کنی (Mining)

انسانی ترقی کی تاریخ میں معدنیات کی ایجاد عہد تانبہ ، عہد کا نسہ اور عہد آہن کے کئی مراحل میں منعکس ہوتی ہے۔ قدیم زمانے میں معدنیات کا استعمال اوزار، برتن اور ہتھیار بنانے تک محدود تھا۔ کان کنی کی اصل ترقی صنعتی انقلاب کے ساتھ شروع ہوئی اور اس کی اہمیت لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔

کان کنی کے طریقے (Methods of Mining) 

معدنیات کے ظاہر ہونے کے طرز اور کچ دھات کی فطرت پر منحصر کان کنی کے دو طریقے ہیں: سطحی اور زمین دوز کان کنی۔سطحی کان کنی کو اوپن کا سٹ (Open Cast) یا کھلی کان کنی کہتے ہیں جو سطح کے پاس واقع معدنیات کو نکالنے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ ہے ۔ اس طریقہ میں حفاظتی تدابیر اور آلات جیسی بالائی لاگت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ پیداوار بڑے پیمانے پر اور تیزی سے ہوتی ہے۔جب کچ دھات سطح کے نیچے گہرائی میں ہوتے ہیں تو کان کنی کا زمین 
دوز طریقہ (Underground Mining Method) یا شیفٹ طریقہ (Shaft Method) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں عمودی کھائیاں (vertical Shaft) کھودی جاتی ہے جہاں سے زمین دوز گلیاروں کے ذریعہ معدنیات تک پہونچا جا تا ہے۔ معدنیات کو نکال کر انہیں راستوں سے سطح تک پہنچایا جا تا ہے۔ اس میں مخصوص طرز پر بنے لفٹ، برما ، ہول گاڑیاں، حفاظت اور لوگوں اور چیزوں کے نقل و حمل کے لیے روشن دان کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ طریقہ خطرناک ہے۔ زہریلی گیس ، آگ، سیلاب اور غاروں کے دھنسنے سے جان لیواحادثے ہو سکتے ہیں۔کیا آپ نے کبھی ہندوستان میں کا ن کی آگ اور کوئلے کی کان میں سیلاب کے بارے میں پڑھا ہے؟
ترقی یافتہ معیشت مزدوروں کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے کان کنی ، عمل تیاری اور صفائی کے مراحل سے پیچھے ہٹ رہی ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک مزدوروں کی بڑی قوت اور اونچی طرز زندگی کی کوشش میں زیادہ اہم ہوتی جارہی ہیں۔ افریقہ کے بہت سے ممالک، جنوبی امریکہ اور ایشیا کے کچھ ممالک کی 50 فی صد سے زیادہ کمائی صرف معدنیات سے ہوتی ہے۔

مشق

نیچے دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کریں۔

(i) مندرجہ ذیل میں سے کون پود کا ری فصل نہیں ہے؟
(a) کافی (b) گنا
(c) گیہوں (d) ربڑ

(ii)   مندرجہ ذیل کس ملک میں امداد باہمی زراعت سب سے زیادہ  کامیاب رہی؟

(a)           روس (b) ڈنمارک
(c)        ہندوستان (d)         نیدرلینڈ
(iii)  پھولوں کے اگانے کو کیا کہا جا تا ہے؟
(a)            ٹرک فارمنگ (b)  فیکٹری فارمنگ
(c)            مخلوط زراعت (d)      فلوری کلچر

(iv)   مندرجہ ذیل میں سے کس قسم کی کاشتکاری کا فروغ یوروپین نو آبادیات کے ذریعہ کیا گیا؟

(a)      کول کوج (b) ویٹی کلچر
(a)         مخلوط زراعت (d)      پودکاری

(v)   مندرجہ ذیل میں سے کس خطے میں تجارتی اناج کی کاشتکاری نہیں کی جاتی ؟

(a) امریکی کنیڈیائی پریری (b) ارجنٹائنا کا پمپاس
(c) یوروپین اسٹیپی (d) آمیزن طاس

(vi)   مندرجہ ذیل میں سے کس قسم کی زراعت میں کھٹے پھلوں کی کھیتی اہم ہے؟ 

(a) بازاری باغبانی (b) بحیرہ ٔ رومی زراعت
(c) پود کاری زراعت (d) امداد باہمی کاشتکاری

(vii) مندرجہ ذیل میں سے کس قسم کی زراعت کو ’’کاٹو اور جلاؤ زراعت‘‘ کہتے ہیں؟

(a) وسیع خود کفیل زراعت (b) ابتدائی خود کفیل زراعت
(c) وسیع تجارتی اناج کاشتکاری (d) مخلوط کاشتکاری

(viii) مندرجہ ذیل میں سے کون وحدانی زراعت (Monoculture) نہیں ہے؟

(a) ڈیری فارم (b) پودکاری زراعت
(c) مخلوط کاشتکاری (d) تجارتی اناج کاشتکاری

2۔     مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے ۔

(i)      انتقالی زراعت کا مستقبل تاریک ہے ۔ وضاحت کریں۔
(ii)   کاروباری زراعت شہری علاقوں کے پاس ہوتی ہے۔ کیوں؟
(iii)    بڑے پیمانے کی ڈیری فارمنگ نقل وحمل اور انجماد کی ترقی کا نتیجہ ہے۔

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیں جو 150 الفاظ سے زیادہ نہ ہوں۔

(i)     خانہ بدوش چراگاہی اور تجارتی مویشی پالن میں فرق واضح کیجیے۔
(ii) پودکاری زراعت کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔مختلف ممالک سے کچھ اہم پودکاری فصلوں کے نام بنائیے۔

پروجیکٹ عمل سرگرمی

پڑوس کے گاؤں میں جائیے اور کچھ فصلوں کا مشاہد ہ کیجیے۔ کسانوں سے دریافت کرکے مختلف کاموں کی فہرست تیا رکیجیے۔