اکائ 3
باب۔ 5
ابتدائی سرگرمیاں

ساحلی اور میدانی علاقوں میں رہنے والے لوگ بالترتیب ماہی گیری اور زراعت میں ہی کیوں مشغول ہوتے ہیں؟ وہ طبی اور سماجی عوامل کیا ہیں جو مختلف خطوں میں ابتدائی سرگرمیوں کے ا قسام کو متاثر کرتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں
شکار کرنا اور خوراک جمع کرنا
HUNTING AND GATHERING


کیا آپ جانتے ہیں

گلّہ بانی PASTORALISM
خانہ بدوش چراگاہی (Nomadic Herding)
مختلف علاقوں میں جانوروں کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ حاری افریقہ میں گائے بھینس سب سے زیادہ اہم ہیں جب کہ ایشیائی ریگستانوںمیں بیشتر بکری اور اونٹ پالے جاتے ہیں۔ تبت اور انڈیز کے پہاڑی علاقوں میں یاک ، لاما اور آرکٹک اور نیم آرکٹک علاقوں میں رین ڈیر سب سے اہم جانور ہیں۔
چراگاہی خانہ بدوشی تین اہم خطوں سے منسلک ہے ۔ مر کزی خطہ شمالی افریقہ کے اٹلانٹک کنارے سے لے کر مشرق کی طرف جزیرہ نما عرب کو پار کرتے ہوئے منگولیا اور وسطی چین تک پھیلا ہوا ہے۔ دوسرا خطہ یوریشیا کے ٹنڈرا علاقے پر پھیلا ہے۔ جنوبی نصف کرہ میں جنوب مغربی افریقہ میں اور مڈگاسکر کے جزیرے پر چراگاہ کے چھوٹے چھوٹے علاقے ہیں۔
چراگاہ کی تلاش میں گھومنایا تو وسیع افقی دوریوں پر ہوتا ہے یا پہاڑی خطوں میں (عمودی طور پر ) ایک بلندی سے دوسری بلندی تکہوتا ہے۔موسم گرما میں میدانی علاقوں سے پہاڑی علاقوں کے چراگاہو ں کی طرف اور موسم سرما میں پہاڑی چراگاہوں سے میدانی علاقوں کی طرف ہجرت کے عمل کو موسمی ہنکاؤ (Transhumance) کہا جاتا ہے۔ ہمالیہ جیسے پہاڑی علاقوں میں گجّر ، بکروال، گدّی ، اور بھوٹیا موسم گرما میں میدانی علاقوں سے پہاڑوں کی طرف اور موسم سرما میں بلند چراگاہوں سے میدان کی طرف ہجرت کر تے ہیں۔ اسی طرح ٹنڈرا کے خطے میں خانہ بدوش چرواہے موسم گرما میں جنوب سے شمال کی طرف اور موسم سرما میںشمال سے جنوب کی طرف چلتے رہتے ہیں۔چراگاہی خانہ بدوشوں کی تعداد کم ہو تی جا رہی ہے اور ان کی چراگاہی کے علاقے سکڑتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ (الف) سیاسی حدود کا نفاذ اور (ب) مختلف ممالک کے ذریعہ نئی بستیوں کے منصوبے ہیں۔

تجارتی مویشی پالن
(Commercial Livestock Rearing)



زراعت
خود کفالتی زراعت (Subsistence Agriculture)
ابتدائی خود کفالتی زراعت
(Primitive Subsistence Agriculture)
ابتدائی خود کفالتی زراعت یا انتقالی زراعت (Shifting agriculture) منطقہ حارہ کے علاقوں خاص کر افریقہ ، جنوبی اور شمالی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیامیں کئی قبائل کے ذریعہ وسیع پیمانے پر کی جا تی ہے (شکل 5.7)۔
عام طورپر نباتات کو جلا کرصاف کیا جا تا ہے اور راکھ مٹی کی زر خیز ی میں اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح سے انتقالی زراعت کو کاٹواور جلا و زراعت (Slash and burn agriculture)بھی کہتے ہیں۔کھیت کے ٹکڑے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور کھیتی ابتدائی قسم کے اوزاروں جیسے چھڑی اور کدال کی مدد سے کی جاتی ہے۔ کچھ وقت (3 سے5 سال )کے بعد مٹی کی زرخیز ی ختم ہو جاتی ہے اور کسان دوسرے حصے پر منتقل ہو جا تا ہے اور زراعت کے لیے جنگل کا دوسرا ٹکڑا صاف کرتا ہے۔کسان پہلے والے ٹکڑے پر کچھ دنوں کے بعد پھر کھیتی کرتا ہے۔ انتقال زراعت کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مختلف قطعات میں زرخیزی کے خاتمہ کی وجہ سے جھوم کا دور کمتر ہوتا جاتا ہے۔ یہ منطقہ حارہ کے خطوں میں مختلف ناموں سے جا نا جاتا ہے جیسے جھومنگ (Jhuming) ہندوستان کے شمال مشرقی ریاستوں میں، ملپا (Milpa) وسطی امریکہ اورمیکسیکو میں اورلڈانگ (Ladang) انڈونیشیااور ملیشیا میں۔ ان دوسرے علاقوں اور ناموں کا پتہ لگائیے جہاں انتقالی زراعت کی جاتی ہے۔

شکل 5.8 : غالی خود کفالتی زراعت کے علاقے

شکل 5.9 : دھان کی پود کاری
انتہائی خود کفالتی زراعت
(Intensive Subsistence Agriculture)
زیادہ تر اس قسم کی زراعت مانسونی ایشیاکے کثیف آبادی والے خطوں میں پائی جاتی ہے۔
بنیادی طور پر انتہائی خود کفالتی زراعت کی دو قسمیں ہیں:
(i) نم دھان کی غالب کاشتکاری والی انتہائی خود کفالتی زراعت:(intensive subsistence agriculture dominated by wet paddy) اس قسم کی زراعت کی خصوصیت میں چاول کی فصل غالب ہے۔ زیادہ گنجان آبادی کی وجہ سے کھیتوں کا رقبہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ کسان خاندان کے افراد کی مدد سے زراعت کرتا ہے جس میں زمین کا انتہائی استعمال کیا جاتا ہے۔مشینوں کا استعمال محدود ہوتا ہے اور زیادہ تر کا م مزدوروں سے کرایا جاتا ہے ۔مٹی کی زر خیزی قائم رکھنے کے لیے کھیتوں میں تیار کردہ کھاد (Farm yard manure) کا استعمال کیا جا تا ہے۔اس قسم کی زراعت میں فی اکائی رقبے پر حاصل فصل کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے لیکن فی کس پیداوار کم ہوتی ہے۔
(ii) دھان کے علاوہ دیگر غالب فصلوں والی انتہائی خود کفالتی زراعت (Intensive Subsistence Agriculture dominated by crops other than paddy) زمینی خد وخال ، آب وہوا ، مٹی اور کچھ دیگر جغرافیائی عوامل میں فرق کی وجہ سے مانسون ایشیا کے کئی حصوں میں دھان اگانا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ شمالی چین، منچوریا، شمالی کوریا اور شمالی جاپان میں گیہوں، سویابین، جو اور جوار کی کاشت کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں سندھ گنگا میدان کے مغربی حصوں میں گیہوں کی کاشت ہوتی ہے اورمغربی اور جنوبی ہندوستان کے خشک حصوں میں جو کی کھیتی کی جاتی ہے۔ اس قسم کی زراعت کی زیادہ تر خصوصیات نم دھان کی غالب خصوصیات کے مشابہ ہیں سوائے اس کے کہ آب پاشی کا استعما ل اکثر کیا جا تا ہے۔
یوروپ کے لوگوں نے دنیا کے کئی حصوں میں نو آبادیات (Colonies) کو بسایا اور کچھ دوسری قسم کی زراعت سے متعارف کرایا جیسے پودکاری/شجرکاری (Plantation) جو خاص کر نفع پر مبنی بڑے پیمانے کا پیداواری نظام ہے۔
پودکاری /شجرکاری زراعت:


وسیع پیمانے پر تجارتی اناج کی کاشتکاری
(Extensive Commercial Grain Cultivation)

مخلوط زراعت (Mixed Farming)


ڈیری فارم (Dairy Farming)
بحیرۂ رومی زراعت (Mediterranean Agriculture)
کاروباری باغبانی اور پھلوں و پھولوں کی باغبانی
(Market Gardening and Horticulture )
امداد باہمی کھیتی (Co-operative Farming)





اجتماعی کھیتی (Collective Farming)
کان کنی (Mining)

