جو صنعت زیادہ توانائی کا استعمال کرتے ہیں وہ توانائی کی سپلائی کے وسائل کے نزدیک واقع ہوتے ہیں جیسے المونیم کی صنعت ۔
پہلے کوئلہ توانائی کا اصل وسیلہ تھا لیکن آج کل پن بجلی اور پٹرولیم بہت سی صنعتوں کے لیے اہم وسائل بن گئے ہیں۔
فیکٹری تک کچے مال کو لانے اور تیار اشیا کو بازار تک پہنچانے کے لیے تیز رفتار اور باصلاحیت نقل وحمل کی سہولیات صنعتوں کے فروغ کے لیے ضروری ہیں۔صنعتی اکائیوں کے محل وقوع میںنقل وحمل کی لاگت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مغربی یورپ اور مشرقی شمالی امریکہ میں نقل وحمل کا نظام کافی ترقی یافتہ ہے جس کی وجہ سے ان خطوں میں صنعتوں کا ارتکاز ہوتا رہا ہے۔ نقل وحمل میں اصلاح نے مجموعی معاشی ترقی اور صنعتوں کے علاقائی تخصص کو جنم دیا ہے۔
حکومتیں ’’علاقائی پالیسیاں ‘‘بناتی ہیں تاکہ ’’متوازن‘‘ اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جائے اور اسی لیے کچھ خاص علاقوں میں صنعتیں قائم کرتی ہیں۔
کئی صنعتیں رہنما صنعت اور دیگر صنعتوں کے قریب ہونے سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان فائدوں کو مجتمع معیشت (Agglomeration Economies) کہتے ہیں۔ ان رابطوں سے بچت پیدا کی جاتی ہے جو مختلف صنعتوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔
کارخانے کے اس سیکٹر میں پیدا کی جانے والی روزانہ کی کچھ عام پیداوار میں کھانے پینے کی چیزیں،کپڑے،چٹائیاں،کنٹینر، اوزار، فرنیچر، جوتے اور لکڑی کی تمثیلیں، جوتے ،تسمے اور چمڑے کی دوسری چیزیں ، مٹی کے برتن اورچکنی مٹی اور پتھر کی اینٹیں شامل ہیں۔ سنا ر، سونے،چاندی اور کانسے کے زیورات بناتا ہے۔کچھ چیزیں اور دستکاریاں بانس اور لکڑی کی بنائی جاتی ہیں جو مقامی جنگلات سے مل جاتی ہیں۔
شکل: (a) 6.2 ایک آدمی اپنے آنگن میں برتن بناتا ہوا۔ناگالینڈمیں گھریلو صنعت کی ایک مثال
شکل: (b) 6.2 اروناچل پردیش میں ایک آدمی سڑک کے کنارے بانس کی ٹوکری بناتاہوا۔
صنعتوں کی درجہ بندی
شکل:6.1 صنعتوںکی درجہ بندی
چھوٹے پیمانے کی صنعتیں
(Small Scale Manufacturing)
چھوٹے پیمانے کی صنعتیں گھریلو صنعتوں سے اپنی پیداوار تکنیکی اور بنانے کی جگہ (گھر/پیداکار کی رہائش سے باہر ورکشاپ)کے اعتبار سے ممتاز ہوتی ہیں۔ اس قسم کی صنعتوں میں مقامی کچے مال ، توانائی سے چلنے والی معمولی مشینیں اور نیم ماہر کاریگروں کا استعمال کیا جاتاہے ۔ یہ صنعتیں روزگار مہیا کرتی ہیں اور مقامی قوت خرید کو بڑھاتی ہیں۔ اس لیے ہندوستان ، چین، انڈونیشیا اوربرازیل وغیرہ جیسے ممالک نے مزدوروں پرمنحصر چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو فروغ دیا ہے تاکہ اپنی آبادی کو ملازمت فراہم کر سکیں۔
شکل 6.3 : آسام میں کٹیر صنعتوںکی مصنوعات بازار میں برائے فروخت
صنعتوں کو فروغ دیا ہے تاکہ اپنی آبادی کو ملازمت فراہم کر سکیں۔
بڑے پیمانے کی صنعتیں
(Large Scale Manufacturing)
بڑے پیمانے کی صنعتوں میں بڑے بازار ،کئی قسم کے کچے مال، کثیرتوانائی، مخصوص کاریگر،ترقی یافتہ ٹکنالوجی، اسمبلی لائن کی جم غفیر پیداوار اور بڑاسرمایہ شامل ہوتا ہے۔گذشتہ 200 سالوں میں اس قسم کی صنعتوں کا فروغ انگلینڈ، شمالی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپ میں ہوا۔ اب یہ صنعتیں تقریباً پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔
بڑے پیمانے کی صنعتوں کے نظام کی بنیاد پر دنیا کے اہم صنعتی خطوں کو مندرجہ ذیل دو بڑی قسموں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے:
(i) روایتی بڑے پیمانے کے صنعتی خطے جو چند ترقی یافتہ ممالک میں گنجان گچھوں میں ہیں۔
(ii) اعلیٰ ٹکنالوجی والے بڑے پیمانے کے صنعتی خطے جو کم ترقی یافتہ ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں
شکل 6.4 : جاپان میں موٹر کمپنی کے ایک کارخانے میں اسمبلی لائن پرمسافرکاروں کا بنانا
مادخل /کچے مال پرمبنی صنعتیں (Industries Based on inputs/Raw Material)
کچے مال کے استعمال کی بنیاد پر صنعتوں کو (a) زراعت پر مبنی (b) معدنیات پرمبنی (c) کیمیا پرمبنی (d) جنگلات پرمبنی (e) جانوروں پر مبنی زمروں میں درجہ بندکیا جاتاہے۔
(a) زراعت پرمبنی صنعتیں
((a) Agro based Industries)
زراعتی عمل میں کھیت اور فارم کے کچے مال کو دیہی اور شہری بازاروں کے لیے تیار مال میں بدلنا شامل ہے۔ زراعت پر مبنی اہم صنعتوں میں کھانا تیار کرنے والی، چینی ، اچار ، پھلوں کے رس، مشروبات (چائے، کافی اور کوکوا) ،مسالے، تیل، چربی اور کپڑے (سوتی، جوٹ، ریشم)،ربر وغیرہ کی صنعتیں ہیں کھانا تیار کرنے والی صنعتیں (Food Proccessing)
زراعت سے تیار صنعتوں میں ڈبہ بند، مکھن تیار کرنا، پھلوں کی تیاری اور کنفکشزی شامل ہیں جب کہ کچھ حفاظتی تکنیک جیسے خشک کرنا، خمیرہ بنانا، اچار بنانا قدیم زمانے سے مستعمل ہیں ۔صنعتی انقلاب سے پہلے ان کی مانگ کو پورا کرنا محدود تھا ۔
شکل 6.5 : تامل ناڈو کے نیل گیری پہاڑیوں پر چائے کا باغ اور چائے فیکٹری
(b) معدنیات پر مبنی صنعتیں
(b) (Mineral based Industries)
ان صنعتوں میں معدنیات کو کچے مال کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔کچھ صنعتوں میں آہنی دھات کے معدن کا استعمال ہوتا ہے جس میں آہن (لوہا) ہوتا ہے جیسے لوہا اور اسپات کے کارخانے، لیکن کچھ غیر آہنی دھات کے معدن جیسے المونیم، تانبے کا استعمال کرنے والے اور زیورات کی صنعتیں شامل ہیں۔ بہت سی صنعتیں غیر دھاتی معدن کا استعمال کرتی ہیں جیسے سیمنٹ اور برتن بنانے کی صنعتیں۔
(c) کیمیا پرمبنی صنعتیں
(c) (Chemical based Industries)
ایسی صنعتیں قدرتی کیمیائی معدنیات کا استعمال کرتی ہیں جیسے پٹرو کیمیکل کارخانے میں معدنی تیل (پٹرولیم) کا استعمال کیا جاتاہے۔نمک، سلفراور پوٹاش بنانے کے کارخانے بھی قدرتی معدنیات کا استعمال کرتے ہیں۔کیمیائی صنعتیں لکٹری اور کوئلے سے حاصل کچے مال پر بھی مبنی ہوتی ہیں۔نائلون کے ریشے ، پلاسٹک وغیرہ کیمیا پر منحصر صنعتوں کی دوسری مثالیں ہیں۔
(d) جنگلات پرمبنی کچا مال استعمال کرنے والی صنعتیں
(d) (Forest based Raw Material using Industries)
جنگلات کئی چھوٹی اور بڑی پیداوار فراہم کرتے ہیں جن کا استعمال کچے مال کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ فرنیچر کی صنعت کے لیے عمارتی لکڑی، کاغذ کارخانے کے لیے لکڑی ، بانس اور گھانس، لاکھ کارخانے کے لیے لاکھ جنگلات سے ملتے ہیں۔

شکل 6.6 : الاسکا کے کیچی کان ٹمبر علاقے کے وسط میں ایک لگدی کا رخانہ
(e) جانوروں پر مبنی صنعتیں
(e) (Animal based Industries)
چمڑہ کا رخانے کے لیے چمڑے، اونی کپڑوں کے لیے اون جانوروں سے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاتھی دانت بھی ملتاہے۔
ماحصل /پیداوار پر منحصر صنعتیں
(Industries based on output/product)
آپ نے لوہا یا اسٹیل سے بنی مشین اور اوزار دیکھے ہوں گے۔ ایسی مشینوں اور اوزاروں کے لیے کچا مال لوہا اور اسٹیل ہے ۔ ایسی صنعتیں جن کی پیداوار کو کچے مال کی حیثیت سے استعمال کرکے دوسری چیزوں کو بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے انہیں بنیادی صنعت کہا جاتا ہے۔کیا آپ اس رابطے کو پہچان سکتے ہیں؟لوہا /اسٹیل کپڑے کی صنعت کے لیے مشین صارفین کے ذریعہ استعمال کرنے کے لیے کپڑے۔
صارف اشیا صنعتیں ایسی اشیا تیارکرتی ہیں جنہیں صارفین کے ذریعہ راست استعمال کرلیا جاتاہے۔
مثلا بریڈ اور بسکٹ بنانے والی صنعتیں چائے، صابن، بناؤسنگھار ، لکھنے کے لیے کاغذ ، ٹیلی ویژن وغیرہ صارف اشیا یا غیر بنیادی صنعتیں ہیں۔
ملکیت کی بنیاد پر صنعتیں
(Industries Based on Ownership)
(a) سرکاری سیکٹر کی صنعتوں کی ملکیت اور انتظام سرکارکے ہاتھوں میں ہوتاہے۔ ہندوستان میں کئی پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگز (PSU) تھے۔ اشتراکی ممالک میں کئی صنعتیں ریاست کی ملکیت میں ہوتی ہیں ۔مخلوط معیشت میں سرکاری اور نجی زمرے کی دونوں صنعتیں ہوتی ہیں۔
(b) نجی زمرے کی صنعتوں کی ملکیت انفرادی سرمایہ لگانے والے کے ہاتھ
میں ہوتی ہے۔ ان کا انتظام وانصرام نجی تنظیموں کے ذریعہ ہوتاہے۔ سرمایہ دار ممالک میں عام طور پر صنعتیں نجی ملکیت میں ہوتی ہیں۔
(c) مشترک زمرے کی صنعتوں کا انتظام مشترک صرافہ کمپنیوں (Joint Stock Components) کے ذریعہ ہوتا ہے یا کبھی کبھی سرکاری اور نجی زمرے ایک ساتھ صنعتوںکو قائم کرتے ہیں اور ان کا انتظام کرتے ہیں۔کیا آپ ایسی صنعتوں کی فہرست تیار کرسکتے ہیں؟
روایتی بڑے پیمانے کے صنعتی خطے (Traditional Large-scale Industrial Regions)
یہ بھاری صنعتوں پرمنحصر ہوتے ہیں، اکثر کوئلے کی کانوں کے پاس واقع ہوتے ہیں اور دھات پگھلانے ، بھاری انجینئرنگ ، کیمیائی صنعت یا کپڑے کی پیداوار کرنے میںمشغول ہوتے ہیں۔ ان صنعتوں کو آج کل اسموک اسٹیک (Smoke stack) کارخانے کہا جاتا ہے۔روایتی صنعتی خطوں کی پہچان درج ذیل طور پر کی جاتی ہے:
• کارخانہ صنعتوں میں ملازمت کا اونچا تناسب
• اونچی کثافت کے گھر، اکثر کمتر قسم کے، اور خراب خدمات
• غیر دلکش ماحول جیسے آلودگی ، کوڑے کا انبار وغیرہ ۔
• بے روزگاری کے مسائل، ہجرت اور دنیا بھر میں مانگ میں کمی کے سبب فیکٹریوں کے بند ہونے کی وجہ سے متروک زمینی علاقہ ۔
رورکوئلے کا میدان،جرمنی (Ruhr Coal-Field, Germany)
یہ لمبے زمانے تک یورپ کا ایک بڑا صنعتی خطہ رہا ہے۔کوئلہ، لوہا، اور اسٹیل معیشت کی بنیاد بنے لیکن جیسے جیسے کوئلے کی مانگ گھٹی ،صنعتیں سکڑنے لگیں۔یہاں تک کہ خام لوہے کے ختم ہونے کے بعد صنعتیں پانی کے راستے رور تک لائی گئی بر آمداتی کچ دھات کا استعمال کرنے لگیں۔
رور خطے میں جرمنی کے کل اسٹیل کی پیدوار کا 80 فی صد ہوتا ہے۔صنعتی ساخت میں تبدیلی کی وجہ سے کچھ علاقوں میں زوال شروع ہوا اور اب صنعتی کباڑ اور آلودگی کا مسئلہ ہے۔ رور کی خوش حالی کا مستقبل کوئلے اور اسٹیل پر کم مبنی ہے ، جس کے لیے یہ شروع میں مشہور تھا۔ اور اب زیادہ تر نئی صنعتوں جیسے ضخیم اوپل کار اسمبلی پلانٹ،نیاکیمیائی پلانٹ، یونیورسٹی وغیرہ پر مبنی ہے۔شہر سے باہر خریداری مراکز (Shopping Centres) نئے رور (New Ruhr) کا زمینی منظر ظاہر کرتے ہیں۔
لوہا اور فولاد کی صنعت (Iron and Steel Industry)
لوہے اور فولاد کی صنعت تمام دیگر صنعتوں کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے، اس لیے اسے بنیادی صنعت کہتے ہیں۔ یہ بنیادی ہے کیونکہ یہ دیگر صنعتوں کے لیے کچا مال فراہم کرتی ہے جیسے مشینی اوزاروں کا استعمال مزید پیداوار کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسے بھاری صنعت بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں بھاری کچا مال کثیر تعداد میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی پیداوار بھی بھاری ہوتی ہے۔
لوہا، لوہے کے کچ دھات سے ایک آتشی تنور میں کاربن (کوک) اور چونا پتھر کے ساتھ پگھلا کر حاصل کیا جاتا ہے۔پگھلے لوہے کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور پگ آئرن (کچے لوہے) میں ڈھالا جاتا ہے جس میں میگنیز جیسے استحکام بخش مادوں کو ملا کر فولاد میں بد لا جاتا ہے۔
بڑی بڑی مرکب فولادی صنعتیں روایتی طور پر کچے مال کے ذرائع- خام لوہا، کوئلہ، میگنیز اور چونا پتھر کے نزدیک یاان مقامات پر واقع ہیں جہاں ان چیزوں کو آسانی سے لایا جاسکے جیسے بندرگاہ-لیکن چھوٹی فولادی ملوں میں مادخل کے بجائے بازار تک کی رسائی زیادہ اہم ہے۔ انہیں بنانا اور چلانا کم خرچیلا ہے اور بازار کے پاس واقع ہوسکتی ہیں جہا ں اس کا اہم مادخل بے کار دھات کی بھر مار ہوتی ہے۔ روایتی طور پر ، زیادہ تر فولاد بڑے مرکب فیکٹریوں میں پیدا کیے جاتے تھے لیکن چھوٹی فولاد کی ملیں جو صرف ایک مرحلہ عمل یعنی فولاد بنانے تک محدود ہیں، عام ہوتی جارہی ہیں۔
تقسیم:(Distribution) جوصنعتیں سب سے زیادہ پیچیدہ اور سرمائے پر مبنی ہیں وہ زیادہ ترشمالی امریکہ،یورپ اور ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مرتکز ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں زیادہ تر پیداوار شمالی اپلیشیئن خطہ(پٹس برگ) عظیم جھیل کا خطہ (شکاگو۔ گیری، ایری، کلیو لینڈ، لورین، بفیلو اور ڈولوتھ) اور اٹلانٹک کے ساحل (اسپیرو پوائنٹ اور مورس ولے) سے حاصل ہوتا ہے۔صنعت الباما کے جنوبی ریاست میں بھی پہنچی ہے۔پٹس برگ کا علاقہ آج کل کمزور پڑرہا ہے۔ یہ آج کل ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا ’’زنگ کشکول‘‘ (rust bowl) بن چکا ہے۔یوروپ میں سلطنت متحدہ (U.K.)،جرمنی، فرانس، بلجیئم، لگزمبرگ، نیدر لینڈ اور روس قائدپیداکار ہیں۔یوکے میں برمنگھم اور شیفیلڈ، جرمنی میں ڈوئس برگ،ڈارٹمنڈ، ڈسل ڈارف اور ایسن، فرانس میں لی کر یوسوٹ، سینٹ ایٹنی اور روس میں ماسکو، سینٹ پیٹرس برگ لی پیٹسک، تولااور یوکرین میں ڈونیٹسک اور کرووئی راگ فولاد کے اہم مراکز ہیں۔ ایشیا کے اہم مراکز میں جاپان میں ناگاساکی، ٹوکیو-یوکو ہاما؛ چین میں شنگھائی، تینس تین (Tienstin) اور ووہان اور ہندوستان میں جمشید پور،کلٹی-برن پور، درگاپور، راوڑکیلا، بھلائی، بوکارو، سیلم ، وشاکھا پٹنم اور بھدرواتی ہیں۔ ان مقامات /مراکز کے جائے وقوع بتانے کے لیے اپنے اٹلس کا مطالعہ کیجیے۔
سوتی کپڑے کی صنعت (Cotton Textile Industry)
سوتی کپڑے کی صنعت میں تین ذیلی زمرے ہیں۔ ہنڈلوم، پاور لوم اور ملیں۔ ہینڈلوم سیکٹر مزدوروں پر مبنی ہے اور نیم ماہر مزدوروں کو ملازمت فراہم کرتا ہے۔ اس میں چھوٹی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ مہاتما گاندھی نے تحریک آزادی کے ایک حصے کے طورپر کھادی کا پر چار کیوں کیا؟ اس زمرے میںکپڑے کے لیے سوت کاتنا، بننا اور تکمیل کرنا شامل ہے۔ پاور لوم کے زمرے میں مشینوں کا استعمال ہوتا ہے اور مزدوروں پر کم مبنی ہوتا ہے۔ اس میں پیداوار کی جسامت بڑھ جاتی ہے۔سوتی کپڑوں کی ملوں کا زمرہ سب سے زیادہ سرمائے پر مبنی ہوتا ہے اور باریک کپڑوں کو بڑی مقدارمیں تیار کرتا ہے۔
کپڑوں کی صنعت کے لیے کچے مال کے طور پر روئی کی اچھی کوالٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوستان، چین، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، پاکستان، ازبکستان، مصر دنیا کی روئی کا نصف سے زیادہ حصہ پیدا کرتے ہیں۔سلطنت متحد(U.K.) شمال مشرقی یورپی ممالک اور جاپان بھی بر آمداتی دھاگوں سے سوتی کپڑے تیار کرتے ہیں۔ اس صنعت کو مصنوعی ریشوں کے ساتھ سخت مقابلہ درپیش ہے۔ اس لیے یہ اب بہت سے ممالک میں تنزلی کے رجحان پر ہے۔سائنسی ترقی اور تکنیکی اصلاح کے ساتھ اس صنعت کی ساخت بدلتی جارہی ہے۔مثال کے طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد ستّرکے عشرے تک جرمنی میں سوتی کپڑے کی صنعت مسلسل بڑھتی رہی لیکن اب یہ زوال پذیرہے۔ یہ صنعت کم ترقی یافتہ ممالک کی طرف منتقل ہورہی ہے جہاں مزدوری کی لاگت کم ہے۔
اعلی ٹیکنا لوجی کا تصور
(Concept of High Technology Industry)
اعلیٰ ٹکنالوجی یاآسان الفاظ میں ہائی ٹیک صنعتی سرگرمیوں کی جدید ایجاد ہے۔ اسے بہتر طور پر یوں سمجھا جا سکتاہے کہ یہ عمیق تحقیق اور ترقی (R & D) کا استعمال کرکے ایک اعلی سائنسی اور انجینئرنگ صفت والی پیداوار بنانے کی کوشش ہے۔پیشہ ور (سفید کالر) کا مگار کل کاروباری قوت (Work Force) کا ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ ماہران مخصصین کی تعداد اصل پیدا کرنے والے (نیلے کالر) کامگاروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اسمبلی لائن پر مبنی روبوٹ (Robot) (مشینی آدمی)، کمپیوٹر کے ذریعہ ڈیزائن (CAD) اور دستکاری، پگھلانے اور صاف کرنے کے اعمال کا الیکٹرونک کنٹرول اور نئی کیمیاوی اور ادویاتی مصنوعات کی لگاتار ترقی ہائی ٹیک صنعت کی نمایاں مثا لیں ہیں۔
بھاری بھرکم یکجا تعمیرات ، کارخانے اور ذخیرہ اندوزی رقبوں کے بجائے صفائی کے ساتھ کشادہ ،کم،جدید ،منتشر آفس۔ پلانٹ۔ لیب کی عمارتیں ہائی ٹیک صنعتی مناظر کی علامتیں ہیں۔ ہائی ٹیک اسٹارٹ۔اَپ کے لیے منصوبہ بند بزنس پارک، علاقائی اور مقامی ترقیاتی تجویز وں کاحصہ بن چکا ہے۔
ہائی ٹیک صنعتیں جو علاقائی طور پر مرتکز ہیں، خود کفیل ہیں اورسب سے زیادہ مخصوص ہیں انہیں ٹکناپولس (Technopolies) کہا جاتا ہے۔ سان فرانسکو کے پاس سلیکن وادی اور سیٹل کے پاس سلیکن جنگل ٹکناپولس کی مثالیں ہیں۔
صنعتیں عالمی معیشت میں اہم تعاون کرتی ہیں۔ لوہا اور فولاد، کپڑے کی صنعت ، آٹو موبائل، پٹروکیمیائی اور الیکٹرونکس دنیا کی کچھ سب سے اہم مصنوعاتی صنعتیں ہیں۔
مشق
1۔ مندرجہ ذیل چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان غلط ہے؟
(a) سستے نقل وحمل کی وجہ سے جوٹ مل کی صنعت کا فروغ ہگلی کے کنارے ہوا ۔
(b) چینی، سوتی کپڑے کی صنعت اور بناسپتی تیل آزاد پا (Foot loose)صنعتیں ہیں۔
(c) پن بجلی اور پٹرلیم کی ترقی نے صنعتوں کے محل وقوع کے عامل کی حیثیت سے کوئلے کی وقعت کوبڑی حد تک کم کر دیا ہے۔
(d) ہندوستان کے ساحلی شہروں میں صنعتوں کا فروغ ہوا ہے۔
(ii) مندرجہ ذیل میں سے کس قسم کی معیشت میں پیداوار کے عوامل انفرادی ملکیت میں ہوتے ہیں؟
(a) سرمایہ داری (b) مخلوط
(c) اشتراکی (d) کوئی نہیں
(iii) مندرجہ ذیل میں سے کس قسم کی صنعت دوسری صنعتوں کے لیے کچے مال تیار کرتی ہے؟
(a) کٹیر صنعت (b) چھوٹے پیمانے کی صنعت
(c) بنیادی صنعت (d) آزاد پا صنعت
(iv) مندرجہ ذیل میں سے کون سا جوڑا صحیح ملا ہوا ہے؟
(a) آٹو موبائل صنعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاس انجلز (b) جہازی صنعت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوساکا
(c) ہوائی جہاز کی صنعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلورنس (d) لوہا اور فولاد کی صنعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پٹس برگ
2۔ مندرجہ ذیل پر تقریباً 30 الفاظ پر مشتمل مخصر نوٹ لکھیے۔
(i) ہائی -ٹیک صنعت
(ii) کارخانہ چلانا (Manufacturing)
(iii) آزاد پا صنعتیں (Foot loose Indusries)
3۔ مندرجہ ذیل کاجواب دیں جو 150الفاظ سے زائد نہ ہو۔
(i) ابتدائی اور ثانوی سرگرمیوں کے درمیان فرق واضح کیجیے۔
(ii) خاص کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے تعلق سے اہم صنعتی سرگرمیوں کے رجحان پر بحث کیجیے۔
(iii) تشریح کریں کہ بہت سے ممالک میں ہائی ٹیک صنعتیں اہم ام البلادی مراکز کے گردو نواح میں کیوں قائم ہو رہی ہیں؟
(iv) افریقہ میں بے حد قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں پھربھی یہ صنعتی طور پر سب سے زیادہ پسماندہ بر اعظم ہے۔تبصرہ کیجیے۔
پروجیکٹ /سرگرمی Project/ Activity
(i) اپنے اسکول میں طلبا اور اساتذہ کے ذریعہ استعمال کی جانے والی فیکٹری میں بنی چیزوں کا سروے کیجیے۔
(ii) حیاتی-قابل بر طرف (Bio-degradable) اور غیر حیاتی-قابل بر طرف (Non-biodegradable) اصطلاحات کے معنی معلوم کیجیے۔کس قسم کے مادوںکو استعمال کرنا بہتر ہے۔؟ کیوں؟
(iii) اپنے چاروں طرف دیکھیے اور عالمی برانڈ ، ان کی علامات اورمصنوعات کی فہر ست تیار کیجیے۔