Skip to content
Insanijughrafiakemubadiat-007

اکائی ۔۔۔۔۔۔۔

باب    -----7


ثلاثی اور رابعی سرگرمیاں

Tertiary and Quaternary Service

1

جب آپ بیمار پڑ تے ہیں تو اپنے خاندانی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں یا کسی اور ڈاکٹر کو بلاتے ہیں۔کبھی کبھی آپ کے والدین آپ کو علاج کے لیے ہسپتال لے جاتے ہیں۔ اسکول میں آپ کو اساتذہ پڑھاتے ہیں۔کسی طرح کا تنازعہ ہونے پر وکیل سے قانونی صلاح لی جاتی ہے۔ اسی طرح بہت سے پیشہ ور ہیں جو اپنی فیس کے بدلے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اس طرح تمام قسم کی خدمات خصوصی مہارتیں ہیں جو فیس ادائیگی کے بدلے فراہم کی جاتی ہیں۔صحت ، تعلیم ، قانون، حکمرانی اور تفریح طبع وغیرہ کے لیے خصوصی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان خدمات کے لیے دیگر نظریاتی معلومات اور عملی تربیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ثلاثی سرگرمیاں خدمات کے زمرے سے تعلق رکھتی ہیں۔ خدماتی زمرے کا ایک اہم عنصر انسانی قوت (Manpower) ہے کیونکہ زیادہ تر ثالثی سرگرمیاں ماہر، پیشہ ورانہ طورپر تربیت یافتہ ماہرین اورمشیروں کے ذریعہ انجام پاتی ہیں۔
معاشی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں لوگوں کے ایک بڑے حصے نے ابتدائی زمرے میں کام کیا۔ ترقی یافتہ معیشت میں زیادہ تر مزدور ثالثی سرگرمیوں میں ملازمت کرتے ہیں اور ایک معتدل حصہ ثانوی زمرے میں ملازمت کرتا ہے۔
ثلاثی سرگرمیوں میں پیداوار اور مبادلہ دونوں ہی شامل ہیں۔پیداوار میں وہ خدمات شامل ہوتی ہیں جو صرف کرلی جاتی ہیں۔ ماحصل کی پیمائش براہ راست مزدوری اور تنخواہوں کی شکل میں کی جاتی ہے۔ مبادلے میں تجارت ، نقل وحمل اور مواصلاتی سہولیات شامل ہوتی ہیںجو دوری طے کرنے میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس لیے ثلاثی سرگرمیوں میں ٹھوس اشیاکی پیداوار کی بہ نسبت خدمات کا تجارتی ما حصل شامل ہوتا ہے۔ یہ طبعی کچے مال کی عمل آوری  (processing) میں براہ راست شامل نہیں ہوتے ۔ اس کی  عام مثالیں  پلمبر، بجلی کا کام کرنے والا ، تکنیکی کام کرنے والا، کپڑے دھونے و الا، نائی ، دکاندار ، ڈرائیور، خزانچی (Cashier)، استاد، ڈاکٹر، وکیل اور ناشر وغیرہ ہیں۔ ثانوی اور ثلاثی سرگرمیوں کے درمیان اصل فرق یہ ہے کہ خدمات کے ذریعہ فراہم کردہ مہارت زیادہ تر خصوصی مہارتوں تجربات اور مزدوروں کی معلومات پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ پیداواری، تکنیکی ، مشینی اور فیکٹری کے کام پر۔

2

ثلاثی سرگرمیوں کی قسمیں 

TYPES OF TERTIARY ACTIVITIES

اب تک آپ جان گئے ہیں کہ آپ اپنی کتابیں، لکھنے پڑھنے کا سامان دکاندار سے خرید تے ہیں، بس یا ریل سے سفر کرتے ہیں، خط بھیجتے ہیں، ٹیلی فون پر بات کرتے ہیں پڑھنے کے لیے اساتذہ کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور بیماری کے وقت ڈاکٹر کی خدمات لیتے ہیں۔
اس طر ح سے تجارت ، نقل وحمل ، خبر رسانی اور خدمات ثلاثی سرگرمیوں کی کچھ مثالیں ہیں جس کی بحث اس باب میں کی گئی ہے۔ دیاگیا جدول ثلاثی خدمات کی درجہ بندی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے(شکل 7.1)۔

تجارت اور کامرس TRADE AND COMMERCE

تجارت بنیادی طورپر کسی جگہ پیدا شدہ اشیاکا خرید و فروخت ہے۔خورداور تھوک تجارت یا کامر س کی تمام خدمات خاص طور پر نفع کمانے کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ تمام کام قصبات یا شہروں میں ہوتا ہے جنھیں تجارتی مراکز بھی کہا جا تا ہے۔
بارٹریا اشیاکے ادل بدل سے بین الاقوامی پیمانے کے زرمبادلہ کی سطح تک تجارت کے فروغ نے کئی مراکز اور اداروں جیسے تجارتی مراکز یا وصولی اورتقسیمی نکات کو جنم دیا ہے ۔
ان تجارتی مراکز کو دیہی اور شہری بازار کے مراکز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 
دیہی بازارکے مراکز (Rural marketing centres) اپنے قرب وجوارکی بستیوں کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ یہ نیم شہری مراکز ہیں۔ یہ سب بہت ابتدائی تجارتی مراکز کی حیثیت سے خدمات پیش کرتے ہیں۔ یہاں شخصی اور پیشہ ورانہ خدمات ترقی یافتہ نہیں ہوتیں۔ یہ مقامی طور پر اشیا کو اکٹھا کرنے اور تقسیم کے مرکز بن جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی منڈیاں (تھوک تجارت) اورخوردتجارت کا علاقہ بھی ہوتی ہیں۔ یہ اصل میں شہر ی مراکز نہیں ہیں لیکن یہ ان اشیا اور خدمات کو فراہم کرنے کے لیے اہم مراکز ہیں جن کی مانگ دیہات کے لوگوں کے ذریعہ بار بار کی جاتی ہے۔
3
شکل  7.2  :  سبزی فروخت کرنے کا تھوک بازار
دیہی علاقوں میں میعادی بازار (Periodic Markets) اس جگہ پائے جاتے ہیں جہاں باضابطہ بازار نہیں ہوتے اور مقامی میعادی بازاروں کو اوقات کے مختلف وقفوں پر لگایا جاتا ہے ۔ یہ ہفتے واری یا ہفتے میں دوبار لگنے والے بازار ہوسکتے ہیں  جہا ں گردونواح کے لوگ ہفتے بھر کی جمع مانگ کو پوراکرنے کے لیے ملتے ہیں ۔ یہ بازار مخصوص تاریخوں میں لگتے ہیں اورایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔ اس طرح دکاندار تمام دن مشغول رہتے ہیں اور ان کی خدمات ایک بڑے علاقے تک پہنچتی ہیں۔
شہری بازار کے مراکز (Urban Marketing Centres) مخصوص شہری خدمات پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کی ضرورت کے مطابق معمولی اشیا اور خدمات سے لیکر خصوصی اشیا اور خدمات تک فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح شہری مراکز کا رخانے کی بنی چیزیں فراہم کرتے ہیں اور خصوصی بازار کا فروغ ہونے لگتا ہے جیسے مزدوروں کے لیے بازار ، گھر اور نیم تیار یا تیار پیداوار۔تعلیمی اداروں کی خدمات اور پیشہ ور جیسے اساتذہ ، وکیل ، مشاور ڈاکٹر ، دندان ساز اور جانوروں کے ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں۔
4
شکل  7.3  : ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ڈبہ بند کھانے کا بازار

خُردہ تجارت RETAIL TRADING  

یہ وہ تجارتی سرگرمی ہے جس کا تعلق اشیا کو براہ راست صارفین کوفروخت کرنے سے ہے۔ زیادہ تر خردہ تجارت متعینہ دکانوں اور گوداموں میں ہوتی ہیں جو صرف فروخت کرنے کے لیے ہوتی ہیں ۔پھیری ،ٹھیلہ ، ٹرک، دروازوں پر لاکر اشیا فروشی، ڈاک سے آرڈر، ٹیلی فون ، خود کار فروخت کنندہ مشینیں اور انٹرنیٹ غیر گودامی خردہ تجارت کی مثالیں ہیں۔

اسٹور سے متعلق مزید معلومات 

More on Stores  

صارف امداد باہمی (Consumer Coopratives) خردہ فروشی میں پہلی بڑے پیمانے کی اختراع تھی۔
شعبہ جاتی گودام (Departmental Store) اشیا خریدنے اور گودام کے مختلف حصوں میں نگرانی کے لیے شعبہ جاتی صدور کو ذمہ داری اور اختیار سونپتا ہے۔
سلسلہ وار گودام (Chain Store) مال تجارت کو بہت کفایت شعاری سے خرید تے ہیں اس سلسلے میں وہ اکثر اس حد تک نکل جاتے ہیں کہ اپنی فرمائش کے مطابق اشیا کو تیار کرواتے ہیں۔ وہ کئی انتظامی کاموں میں سب سے زیادہ ماہرین خصوصی کو ملازم رکھتے ہیں۔ ان کی یہ بھی صلاحیت ہے کہ ایک گودام میں تجربہ کرکے نتیجے کو کئی گوداموں پر استعمال کرتے ہیں۔

تھوک تجارت (Wholesale Trading)   

تھوک تجارت کئی بچولیے سوداگروں اورسپلائی ہاؤس کے ذریعے بڑی تعداد میں کارو بار پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں خردہ گوداموں سے کاروبار نہیں ہوتا ۔سلسلہ وار گودام کے ساتھ کچھ بڑے گودام براہ راست کارخانوں سے خرید نے کے قابل ہوتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر خردہ گودام بچولیوں کے ذریعہ سپلائی حاصل کرتے ہیں۔تھوک تاجر اکثر خردہ گوداموں کو اس حد تک ادھار دیتے ہیں کہ خوردہ بڑی حد تک تھوک تاجروں کے سرمایہ پر ہی کام کرتے ہیں۔

نقل وحمل TRANSPORT  

نقل و حمل ایک خدمت یا سہولت ہے جس کے ذریعے عوام،مواد اور تیارشدہ اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا یا جاتا ہے۔ یہ ایک منظم صنعت ہے جو انسانوں کی بنیادی ضرورت نقل و حرکت کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔جدید سماج کو پیداوار، تقسیم اور اشیا کو صر ف کرنے میں معاونت کے لیے تیز رفتار اور با صلاحیت نقل و حمل کے نظام کی ضرورت ہے۔ اس پیچیدہ نظام کے ہر مرحلے پر نقل وحمل کے ذریعے مال کی قیمت بڑھتی جاتی ہے۔
نقل وحمل کی دوری کی پیمائش درج ذیل طریقوں سے کی جاتی ہیـ: کلومیٹر دوری (K m Distance) یا راستے کی لمبائی کی اصل دوری؛ وقتی دوری (Time Distance) یا کسی خاص راستے پر چلنے میں لگا ہوا وقت ؛ اور لاگت دوری (Cost Distance) یا کسی راستے پرسفر کرنے کا خرچ۔نقل وحمل کے طرز کا انتخاب کرنے میں وقت اور لاگت کے لحاظ سے دوری ایک مقررہ عامل ہے۔ نقشے پر یکساں مسافت والے خطوط (isochrone lines) کھینچے جاتے ہیں جو ان مقامات کو ملاتے ہیں جہاں پہنچنے میں یکساں وقت لگتا ہے۔

نیٹ ورک اور رسائی

جیسے جیسے نقل وحمل کا نظام ترقی کرتا ہے، مختلف مقامات ایک دوسرے کے ساتھ مل کرایک جال (Network) بنا لیتے ہیں۔جال، نوڈ(Node) اور کڑیوں (Links) پرمشتمل ہوتا ہے۔ نوڈ دو یا دو سے زیادہ راستوں کے ملنے کا نقطہ، نقطۂ آغاز ، منزل مقصود کا نقطہ یا راستے پر کوئی بڑا قصبہ ہو سکتا ہے۔ہر وہ سڑک جو دو نوڈ کو ملا تی ہے اسے کڑی (Link) کہتے ہیں ۔ ایک ترقی یافتہ نیٹ ورک میں کئی لنک ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ مقامات پوری طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

نقل و حمل کو متاثر کرنے والے عوامل 

(Factors Affecting Transport)

نقل وحمل کی مانگ آبادی کی جسامت سے متاثر ہوتی ہے۔جتنی زیادہ آبادی کی جسامت ہوگی اتنی ہی زیادہ نقل وحمل کے لیے مانگ ہوگی۔
راستوں کا انحصار شہروں ، قصبوں، گاؤں ،صنعتی مراکز کے محل وقوع اور کچے مال ، ان کے درمیان تجارت کا نتیجہ ، آب و ہوا کی قسم اور راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دستیاب فنڈ پر ہوتا ہے۔

مواصلات  COMMUNICATION

مواصلاتی خدمات کے تحت الفاظ اور پیغامات ، حقائق اور خیالات کا بھیجنا شامل ہے۔تحریر کی ایجاد نے پیغامات کو محفوظ کیا اورپیغام رسانی کو نقل و حمل کے ذرائع پرمنحصر کرنے میں تعاون دیا۔ یہ پیغامات دراصل دستی طور پر جانوروں سے ، کشتی، سڑک، ریل اور ہوائی جہاز کے راستے بھیجے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نقل و حمل کی تمام شکلوں کو مواصلاتی خطوط بھی کہا جاتا ہے۔جہاں پر نقل و حمل کا  جال موثر ہے وہاں مواصلات کو آسانی سے پھیلایا جاسکتا ہے۔کچھ ترقیات جیسے موبائل، ٹیلی فون اور سیٹلائٹ نے مواصلات کو نقل و حمل سے آزاد کردیا ہے۔لیکن تمام شکلیں الگ نہیں ہوئی ہیں کیوں کہ پرانا نظام سستا پڑتا ہے۔ اس لیے پوری دنیا میں ڈاک کی ایک بڑی مقدار ڈاک گھروں کے ذریعہ پہنچائی جاتی رہی ہے۔
کچھ مواصلاتی خدمات کو درج ذیل میں بیان کیا گیا ہے:

ٹیلی مواصلات (Telecommunications) 

ٹیلی مواصلات کا استعمال جدید ٹکنالوجی کی ترقی سے مربوط ہے۔ اس نے مواصلات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیاجس کی وجہ وہ تیز رفتاری ہے جس سے پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ وقت ہفتوں سے کم ہو کر منٹوں تک پہنچ گیا۔ ان کے علاوہ نئی کامیابیاں جیسے موبائل ٹیلی فون نے کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پر مواصلات کو براہ راست اور فوری بنا دیا ہے۔ٹیلی گراف، مورس کوڈ اور ٹیلیکس اب تقریباً ماضی کی باتیں ہو گئی ہیں۔
ریڈیو اورٹیلی ویژن بھی خبروں ، تصویروں اور ٹیلی فون کال کو دنیا کے کثیر سامعین تک نشر کرتے ہیں اس لیے ان کو ماس میڈیا کہا جاتا ہے۔ یہ اشتہارات شائع کرنے اور تفریح طبع کے لیے کافی اہم ہیں۔ اخبارات دنیا کے سبھی حصوں میں رونما ہونے والے واقعات کا احاطہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔سیٹلائٹ مواصلات خلا سے زمین کی معلومات نشر کرتے ہیں۔ انٹر نیٹ کی وجہ سے عالمی مواصلاتی نظام میں صحیح معنوں میں انقلاب رونما ہو اہے۔

خدمات  SERVICES  

خدمات کئی مختلف سطحوں پرفراہم کی جاتی ہیں۔ کچھ صنعتوں کو دی جاتی ہیں، کچھ لوگوںکو اور کچھ صنعت اور لوگ دونوں کو دی جاتی ہیں جیسےنقل وحمل کا نظام ۔ اعلیٰ سطح کی خدمات یا مخصوص خدمات جیسے اکاؤنٹنٹ ، مشاور اورڈاکٹر کی بہ نسبت کم سطح کی خدمات جیسے پارچون کی دکان اور لانڈری، زیادہ عام اور وسیع پیمانے پر پھیلی ہوتی ہیں۔خدمات انفرادی صارفین کو بھی پیش کی جاتی ہیں جوان کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
اب بہت سی خدمات کو شروع کیا گیا ہے ، شاہراہوں اور پلوں کا بنانا اور مرمت کرنا، دمکل شعبے کی دیکھ بھال، تعلیم فراہم کرنا یا اس کی نگرانی کرنا اور خریداروں کی دیکھ ریکھ (Customer Care) وہ اہم خدمات ہیں جو اکثر حکومت یا کمپنی کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں اور ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔ریاستی اور یونین کی مقننہ نے نقل وحمل ، ٹیلی مواصلات ، توانائی اور پانی کی فراہمی جیسی خدمات کے بازار پر نگرانی کرنے اور کنٹرول کرنے کے لیے  کارپوریشن (نگم) قائم کر رکھا ہے۔ پیشہ ورانہ خدمات میں بنیادی طور پرصحت کی دیکھ بھال ، انجینیئرنگ، قانون اور انتظام شامل ہیں۔تفریح طبع اور تفنن  طبع کی خدمات کا محل وقوع  بازار پرمنحصر ہوتا ہے ۔ملٹی پلیکس اور ریستوران کا محل وقوع مرکزی تجارتی ضلع (CBD) کے اندر یا اس کے نزدیک ہوتا ہے جب کہ گولف کو رس کے لیے زمین کا انتخاب اس جگہ کیا جاتا ہے جہاں زمین کی قیمت  CBD سے کم ہوتی ہے۔
لوگوں کو ان کے روزانہ کے کاموں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے انفرادی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ روزگار کی تلاش میں دیہی علاقوں سے کامگار ہجرت کرکے آتے ہیں اور وہ ماہر نہیں ہوتے ہیں۔ انھیں گھریلو خدمات میں چوکیدار، باورچی ، اور مالی کی حیثیت سے ملازمت ملتی ہے۔کامگاروں کا یہ طبقہ عام طور پر غیرمنظم ہوتا ہے۔ اس طرح کی ایک مثال ممبئی کاڈبہ والا (ٹفن) کی خدمت ہے جو تقریباًپورے شہر میں 1,75,000 لوگوں کو فراہم کی جاتی ہے۔
5
شکل  7.4  :  ممبئی میں ڈبہ والا کی خدمت

ثلاثی سرگرمیوں میں مشغول لوگ

PEOPLE ENGAGED IN TERTIARY ACTIVITIES 

آج کل زیادہ تر لوگ خدمت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ خدمات تمام سماج میں بہم پہنچائی جاتی ہیں۔لیکن زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں کامگاروں کا بڑا تناسب خدمات کے انتظام میں منسلک ہے جب کہ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں 10فی صد سے بھی کم لوگ خدمات کے زمرے میں ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تقریباً 75 فی صدکامگارخدمات میں مشغول ہے۔ اس زمرے میں ملازمت کا رجحان بڑھ رہا ہے جب کہ ابتدائی اور ثانوی سرگرمیوں میں تبدیلی نہیں ہوئی ہے یا کم ہوئی ہے۔

کچھ منتخب مثالیں (Some Selected Examples)  

سیاحت  Tourism) (

سیاحت وہ سفر ہے جس میں تجارت کے بجائے تفریح طبع کی غرض سے سفر کیا جاتا ہے۔کل درج شدہ نوکریوں (250 ملین) اور کل مال گذاری (کل گھریلو پیداوار کا 40 فی صد) میں یہ دنیا کی واحد سب سے بڑی سر گرمی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے مقامی لوگ ٹھہرانے، کھانے، نقل وحمل، تفریح طبع اور سیاحوں کے لیے خصوصی دکانوں کی خدمات فراہم کرنے کے لیے ملازم ہوتے ہیں۔ سیاحت بنیادی ساخت کی صنعتوں ، خردہ تجارت اور دستکاری صنعت (تحائف) کو فروغ دیتی ہے۔ کچھ علاقوں میں سیاحت موسمی ہے کیوںکہ چھٹیوں کا وقت سازگار موسمی حالات پرمنحصر ہوتا ہے لیکن کئی علاقوں میں سیاحت سال بھر چلتی رہتی ہے۔
6
شکل  7.5  :  سوئٹزرلینڈ کے برف سے ڈھکے پہاڑی ڈھلانوں پر سیاحوں کے ذریعے اسکیٹنگ

سیاحتی خطے             Tourist Regions  

بحیرۂ روم کے ساحل کے چاروں طر ف کے گرم مقامات اور ہندوستان کے مغربی ساحل دنیا میں کچھ پسندیدہ سیاحتی مقامات ہیں۔ دیگر مقامات میں موسم سرما میں کھیل کے خطے جو خاص کر پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور بہت سے قابل دید زمینی منظر اور قومی پارک شامل ہیں جوہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ تاریخی مقامات بھی یادگارنشانیوں ، وراثتی جگہوں اور ثقافتی سرگرمیوں کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

سیاحت کو متاثر کرنے والے عوامل

Factors Affecting Tourism

مانگ: گذشتہ صدی سے چھٹیوں کی مانگ تیزی سے بڑھی ہے۔ رہن سہن کے معیارمیں اصلاح اور بڑھتے ہوئے خالی وقت کی وجہ سے کئی لوگوں کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ چھٹیاں گذارنے کے لیے جائیں۔
نقل وحمل: سیاحتی علاقوں کے کھلنے میں نقل وحمل کی سہولیات میں اصلاح سے بھی مدد ملی ہے۔ اچھی سڑکوں پر کا رسے سفر کرنا آسان ہوگیا ہے۔ حالیہ برسوںمیں زیادہ اہمیت کا کام ہوائی نقل و حمل میں توسیع ہے۔ مثال کے طور پر ہوائی سفر کے ذریعہ کو ئی بھی آدمی اپنے گھر سے چند گھنٹوں کی اڑان میں دنیا میں کہیں بھی پہنچ سکتا ہے۔چھٹی پیکج کی ایجاد نے لاگت کوکم کر دیا ہے۔

سیاحوں کی دل کشی (Tourist Attractions)  

آب و ہوا: سرد خطوں کے زیادہ تر لوگ ساحلی چھٹیوں کے لیے گرم ، دھوپ کا موسم پسند کرتے ہیں۔جنوبی یورپ اور بحیرۂ رومی زمین میں سیاحت کی اہمیت کے لیے یہ ایک اہم وجہ ہے۔ یورپ کے دوسرے حصوں کی بہ نسبت بحیرۂ رومی آب و ہوا میں لگا تار اونچے درجہ حرارت ، دھوپ کی طویل مدت اور پوری چھٹی کے موسم میں کم بارش ہوتی ہے۔ جو لوگ موسم سرما کی چھٹی گذارنا چاہتے ہیں ان کی چاہت ان کے وطن کی بہ نسبت زیادہ درجہ حرارت والے مقامات یا برف سے ڈھکی سرزمین ہوتی ہے جس پر اسکیٹنگ کی جا سکے۔
زمینی منظر: بہت سے لوگ اپنی چھٹیاں دل کش ماحول میں گذارنا چاہتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے پہاڑ، جھیل، قابل دید سمندری ساحل اور ایسی سرزمین جہا ں لوگ نہ پہنچتے ہوں۔
تاریخ اور آرٹ: کسی علاقے کی تاریخ اور آرٹ میں امکانی دل کشی ہوتی ہے۔لوگ قدیم اور خوبصورت بستیوں اور آثار قدیمہ کے مقامات پر جاتے ہیں۔ اور قلعہ جات، محلوں اور چرچ کی کھوج میں لطف اٹھاتے ہیں۔
ثقافت اور معیشت: یہ ان سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں جو نسلی اور مقامی رواجوں کے تجربے میں رغبت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی خطہ سیاحوں کی ضرورت کے لیے سستی لاگت مہیا کرتا ہے تو اس کے پسندیدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ ہوم۔اسٹے (Home-Stay) ایک منافع بخش تجارت کی صورت میں ابھرا ہے جیسے گوا میں ہیر ٹیج ہوم اور کرناٹک کے کورگ میں میڈیکر۔

ہندوستان میں سمندر پار مریضوں کے لیے طبی خدمات  

(Medical  Services  for  Overseas  Patients  in  India) 

 2005 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے تقریباً 55,000 مریض علاج کے لیے ہندوستان آئے ۔ یہ پھر بھی ان لاکھوں جراحیوں کے مقابلے میں کم ہے جو ہر سال ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے حفظان صحت کے نظام میں کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان دنیا میں طبی سیاحی کے ایک نمائندہ ملک کی حیثیت سے ابھرا ہے۔ ام البلادی شہروں میں واقع عالمی درجے کے ہسپتال پوری دنیا میں مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ہندوستان ، تھائی لینڈ، سنگا پو اور ملیشیاجیسے ترقی پذیر ممالک طبی سیاحی سے کافی بہرہ و ر ہورہے ہیں۔طبی سیاحی کے علاوہ طبی جانچ اور اعدادو شمار کی تشریح کی آئو ٹ سورسنگ کا بھی رجحان ہے۔ ہندوستان ، سوئٹزر لینڈ اور آسٹریلیا کے ہسپتال کچھ طبی خدمات فراہم کررہے ہیں جو شعاعی شبیہوں کے مطالعہ سے لے کرمقناطیسی آواز کی لہروں کی شبیہوں (MRIs) اورا لٹرا ساؤنڈ جانچ تک پہنچتی ہیں۔

7
یہ سب چیزیں کہاں لے جائیں گے؟
کیا یہ آغاز ہے یہ انجام؟
دوسرا کیا ہے؟
مخمسی
رابعی
ثلاثی
ثانوی
ابتدائی
مریضوں کے لیے  آٹ  سورسنگ کے بے پناہ فوائد ہیں اگر اس کا مرکز نگاہ کیفی اصلاح یا مخصوص دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے ہو۔

طبی سیاحت (Medical Tourism)  

جب طبی معالجے کو بین الاقوامی سیاحتی سرگرمی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو یہ وہ تصور بن جاتا ہے جسے عام طور پرطبی سیاحت کہتے ہیں۔

رابعی سرگرمیاں (Quaternary Activities) 

نیویارک کے کوپن ہیگن میں ایک کثیر اقوامی کمپنی (MNC) کے سی ای او (CEO)  اور بنگلور کے طبی نسخہ نویس میں کیا چیز مشترک ہے۔ یہ تمام لوگ خدماتی زمرے کے ایسے حصے میں کام کرتے ہیں جو علم پر مبنی ہے۔ اس زمرے کو رابعی اور مخمسی سرگرمیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
رابعی سرگرمیوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:معلومات اکٹھا کرنا،پیدا کرنا اور اسے پھیلانا حتیٰ کہ معلومات کی تخلیق کرنا بھی شامل ہے ۔ رابعی سرگرمیوں کا مرکز تحقیق و ترقی ہے اور اسے خدمات کی ترقی یافتہ شکل میں دیکھا جا سکتا ہے  مخصوص علم اور تکنیکی مہارت میں شامل ہوتی ہیں۔

رابعی زمرہ

رابعی زمرے نے ثلاثی زمرے کے ساتھ مل کر معاشی نمو کے لیے بنیادی حیثیت سے تقریباً ابتدائی اور ثانوی ملازمت کو بدل دیا ہے۔ ترقی یافتہ معیشت میں نصف سے زائد کا مگار ، معلوماتی زمرے  میں ہیں۔ اور معلومات پر منحصر خدمات کی مانگ اور صرف میں باہمی (میوچول ) فنڈ مینجر سے لے کرٹیکس مشاور ، سافٹ ویر بنانے والے اور شماریات کرنے والوں تک کی مانگ میں بہت اونچی نمو ہے۔تعمیرات ، ابتدائی اسکول اور یونیورسیٹی کلاس روم، ہسپتال اور ڈاکٹر کے دفتر ،تھیٹر ، اکاؤنٹنگ اور فلم میں کام کرنے والے افراد سب کے سب خدمت کے اس درجے سے تعلق رکھتے ہیں۔
کچھ ثلاثی اعمال کی طرح رابعی سرگرمیوںکی کاربراری (Outsourcing) کی جا سکتی ہے۔ یہ وسائل کے ساتھ بندھے نہیں ہیں نہ ہی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کا محل و قوع بازار کی وجہ سے ہو۔

مخمّسی سرگرمیاں (QUINARY ACTIVITIES)    

سب سے اونچی سطح کے فیصلہ کرنے والے اور پالیسی وضع کرنے والے مخمّسی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔مخمّسی زمرے میں جو کام ہوتا ہے وہ عمو ماً معلومات پر منحصر صنعت سے تھوڑا مختلف ہے۔
کاربراری (Out Sourcing) کے نتیجے میں ہندوستان ، چین، مشرقی یورپ، اسرائیل، فلپائن اور کوسٹاریکا میں کثیر تعداد میں کال سینٹر کھلے ۔ اس کی وجہ سے ان ممالک میں نئی نوکریاں پیدا ہوئیں۔ کاربراری ان ممالک میں ہو رہی ہے جہاں سستے اور ماہر کامگار دست یاب ہیں۔ یہ خارجی ہجرت (Out-migration) والے ممالک بھی ہیں۔ کاربراری کے ذریعہ کام کی فراہمی سے ان ممالک سے ہجرت کم ہو سکتی ہے۔ کاربراری والے ممالک اپنے ہی ملک میں نوکری تلاش کرنے والے نوجوانوں کی مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔کاربراری کے جاری رہنے کی اصل وجہ متناسب فائدہ ہے۔مخمسّی خدمات
کے لیے رجحان میں معلوماتی عمل کی کاربراری Knowledge) (Processing Outsourcing=KPOاور ’’گھریلو سہارا  Home) (Shoring ہے ۔مابعد والی اصطلاح کا ربراری کا متبادل ہے۔ معلوماتی عمل کی کار براری (KPO) صنعت کاروباری عمل کی کاربراری (BPO=Business ProcessingOutsourcing) سے الگ ہے کیوں کہ اس میں زیادہ ماہر کام گاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معلومات سے چلنے والی علم کی کار براری ہے۔ KPO کمپنیوں کو اس لائق بنا دیتی ہے کہ وہ اضافی کاروباری مواقع پیداکر سکیں۔ KPO کی مثال میں تحقیق اور ترقی (R & D)کی سرگرمیاں : ای ۔لرننگ ، بزنس ریسرچ عقولی املاک (Intellectual Properties) ریسرچ ،قانونی پیشہ اور بنک سیکٹر شامل ہیں۔

مخمسی سرگرمیاں

مخمسی سرگرمیاں وہ خدمات ہیں جن کا ارتکاز تخلیق ، ازسرنو ترتیب اور نئی اور موجودہ خیالات کی تشریح ، اعدادو شمار کی تشریح اور نئی ٹکنالوجی کے استعمال اور اندازۂ قدر پر ہوتا ہے۔اسے اکثر ’’سنہرا کالر‘‘ ، پیشہ کہا جاتا ہے، یہ ثالثی زمرے کی دوسری ذیلی تقسیم ہے جو سینئر بزنس منتظمہ ، سرکاری افسران ، ریسرچ سائنس داں، مالیاتی اور قانونی صلاح کار وغیرہ کی خصوصی اور اونچی ادائگی والی مہارت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اعلٰی معیشت کی ساخت میں ان کی اہمیت ان کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔
8
اپنے درجے میں ایک غیر رسمی مباحثہ منعقد کریں کہ کس طرح ہمارے ملک کی ابھرتی طبی صنعت گرم بازاری ہے کہ کساد بازاری  ۔

آؤٹ سورسنگ 

آؤٹ سورسنگ  یا باہر ٹھیکہ دینا کار کردگی کو بڑھانے اور لاگت کو کم کرنے کے لیے کسی باہر کی ایجنسی کو کام تفویض کرناہے ۔ جب آئوٹ سورسنگ  میں کام کو سمندر پار کے ملک میں منتقل کیا جاتا ہے تو اسے سمندر پار(Off-Shoring)کہا جاتا ہے، حالاں کہ سمندر پار اور آؤٹ سورسنگ  دونوں کاہی استعمال کیا جاتا ہے۔ آؤٹ سورس کی جانے والی آؤ ٹ سورسنگ سرگرمیوں میں انفارمیشن ٹکنالوجی (IT) انسانی وسائل ، امداد گراہک اور کال سینٹر کی خدمات شامل ہیں اور کبھی کبھی کارخانے اور انجینئرنگ بھی شامل ہوتے ہیں۔
اعداد وشمار کا عمل آئی ٹی سے متعلق خدمت ہے جو ایشیائی مشرقی یوروپین اور افریقی ممالک میں آسانی سے کی جاسکتی ہے کیوں کہ ان ممالک میں انگریزی زبان میں اچھی مہارت کے ساتھ آئی ٹی میں مہارت رکھنے والا عملہ ترقی یافتہ ممالک کی بہ نسبت کم تنخواہ پر مل جاتا ہے۔ اس طرح حیدر آباد یا منیلا میں ایک کمپنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا جاپان جیسے ملک کے لیے جی آئی ایس تکنیک پر مبنی پروجیکٹ پر کام کرتی ہے۔ اس میں بالائی لاگت بھی بہت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے سمندر پار کام کرنا منافع بخش ہوجاتا ہے خواہ وہ ہندوستان ، چین، یا افریقہ میں بوٹسوانا جیسا کم آبادی کا ملک ہی کیوں نہ ہو۔

ڈیجیٹل تقسیم   THE DIGITAL DIVIDE      

معلوماتی و مواصلاتی ٹکنالوجی پر منحصر ترقی سے پیدا مواقع دنیا میں غیرمساوی طور پرمنقسم ہیں۔ممالک کے درمیان معاشی، سیاحی اور سماجی اختلافات کا دائرہ کافی وسیع ہے ۔ممالک  اپنے شہریوں کوکتنی جلدی معلوماتی مواصلاتی ٹکنالوجی تک رسائی اور فوائد فراہم کرتے ہیں یہ ایک فیصلہ کن عمل ہے۔ترقی یافتہ ممالک آگے بڑھ چکے ہیں جب کہ ترقی پذیر ممالک پیچھے رہ گئے ہیں ، اسی کو ڈیجیٹل تقسیم کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سے ڈیجیٹل تقسیم ملک کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان اورروس جیسے بڑے ممالک میں یہ لازم ہے کہ کچھ علاقے جیسے ام البلادی مراکز کے پا س نواحی دیہی علاقوں کے بالمقابل ڈیجیٹل دنیا تک بہتر رسائی ہوتی ہو۔
سرگرمی
ہر ایک رنگ کے نام کے سامنے کام کی نوعیت بیان کیجیے 



کالے رنگ کام کی نوعیت
سرخ
سنہرا
سفید
بھورا
نیلا
گلابی
؟
؟
؟
؟
؟
؟

 
 

مشق

دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔

(i) مندرجہ ذیل میں سے کون ثالثی سرگرمی ہے؟ 
(a) کھیتی (b) تجارت
(c) بنائی (d) شکار کرنا

(ii) مندرجہ ذیل سرگرمیوں میں سے کون ثانوی زمرے کی سرگرمی نہیں ہے؟

(a) لوہا پگھلانا (b) مچھلی پکڑنا
(c) کپڑے تیار کرنا (d) ٹوکری بننا

(iii) مندرجہ ذیل میں سے کو ن سا زمرہ دہلی، ممبئی ، چنّئی اور کولکاتامیں سب سے زیادہ ملازمت فراہم کرتا ہے؟

(a) ابتدائی (b) رابعی
(c) مخمّسی (d) خدمت

(iv) جن نوکریوں میں اختراعات کی اونچی ڈگری اور سطح شامل ہوتی ہے اسے مندرجہ ذیل میں سے کیا کہتے ہیں؟

(a) ثانوی سرگرمیاں (b) مخمسی سرگرمیاں
(c) چوگوشی سرگرمیاں (d) ابتدائی سرگرمیاں

(v) مندرجہ ذیل میں سے کون سی سرگرمی رابعی زمرے سے منسلک ہے؟

(a) کمپیوٹر بنانا (b) یونیورسٹی تدریس
(c) کاغذ اور لگدی پیدا کرنا (d) کتاب کی طباعت

(vi)     مندرجہ ذیل میں سے کو ن سا بیان صحیح نہیں ہے؟

(a) آؤٹ سورسنگ  لاگت کو کم کردیتی ہے اور صلاحیت بڑھا دیتی ہے۔
(b) بسااوقات انجینئرنگ اور کار خانے کی نوکری کی بھی آؤٹ سورسنگ  کی جاسکتی ہے۔
(c) کے پی او (KPOs) کے مقابلے میں بی پی او (BPOs) میں کاروبار کے مواقع زیادہ ہیں۔
(d) جو ممالک نوکریوں کی آؤٹ سورسنگ کرتے ہیں وہاں نوکری تلاش کرنے والوں کے درمیان بے اطمینانی ہو سکتی ہے۔

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔

(a) خوردہ تجارتی خدمات کی تشریح کیجیے۔
(b) رابعی خدمات کی تشریح کیجیے۔
(c) دنیا میں طبی سیاحی میں تیز ی سے ابھر تے ممالک کاکے نام بتائیے۔
(d) ڈیجیٹل تقسیم کیا ہے؟

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے جو 150الفاظ سے زیادہ نہ ہوں۔

(a) جدید معاشی ترقی میں خدماتی زمرے کی اہمیت اور نموکو بیان کیجیے۔
(b) نقل وحمل اور مواصلاتی خدمات کی اہمیت کا تفصیلی تذکرہ کیجیے۔

پروجیکٹ/ سرگرمی

(i) بی پی او کی سرگرمیوں کا پتہ لگائیے
(ii) ایک ٹریول ایجنٹ سے غیر ممالک میں سفر کرنے کے لیے ضروری دستاویزات کا پتہ لگائیے۔