سرگرمی
اپنے اٹلس کی مدد سے ریا ست ہائے متحدہ امریکہ اور مغربی یورپ کے ساحل پر کچھ اہم بندر گاہوں کا پتہ لگائیے۔
بحیرۂ روم۔بحر ہندکے سمندری راستے
(The Mediterranean–Indian Ocean Route)
یہ سمندری راستہ قدیم دنیا کے وسط سے گذرتا ہے اور کسی دوسرے راستے کی بہ نسبت زیادہ ممالک اور لوگوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔پورٹ سعید، عدن، ممبئی، کولمبو، سنگا پور اس راستے پر واقع کچھ اہم بندرگاہیں ہیں۔سوئیز نہر کی تعمیر نے کیپ آف گڈ ہوپ کے قدیم راستے کے مقابلے میں دوری اور وقت کوبہت حد تک کم کر دیا ہے۔
کیپ آف گڈ ہوپ سمندری راستہ
(The Cape of Good Hope Sea Route)
یہ تجارتی راستہ سب سے زیادہ صنعتی مغربی یورپ کے خطے کو مغربی افریقہ ، جنوبی افریقہ ، جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے تجارتی، زراعتی اور مویشی پر مبنی معیشت کے ساتھ جوڑتا ہے۔سوئیز نہر کے بننے سے پہلے یہ راستہ لیور پول اور کولمبو کو ملاتا تھا جو سوئیز نہر راستے کی بہ نسبت 6,400 کلومیٹرلمبا تھا ۔مشرقی اور مغربی افریقہ کے درمیان تجارت اورسواریوں کی مقدار بڑھ رہی ہےجس کی وجہ قدرتی وسائل جیسے سونا ، ہیرا، تانبہ ، ٹن، مونگ پھلی، ناریل تیل ، کافی اور پھلوں سے مالا مال ہے۔
یہ سمندری راستہ بحر اٹلانٹک کو پار کرنے والا دوسرا راستہ ہے جو مغربی یورپ اور مغربی افریقہ کے ممالک کو جنوبی امریکہ کے برازیل ، ارجنٹائنا اور ار گوئے سے جوڑتاہے۔شمالی اٹلانٹک راستے کی بہ نسبت اس راستے پر سواریاں بہت کم ہیں کیونکہ جنوبی امریکہ اور افریقہ میں آبادی اور ترقی محدود ہے۔صرف جنوب مشرقی برازیل ، خلیج پلاٹا کے کنارے اور جنوب افریقہ کے حصوں میں بڑے پیمانے کی صنعتیں ہیں۔ ریوڈی جنیرواور کیپ ٹاؤن کے درمیان راستے پر بھی سواریاں کم ہیں کیونکہ جنوبی امریکہ اور افریقہ دونوں میں ایک ہی جیسے وسائل اور پیداوار ہیں۔
شمالی بحر الکاہل کاسمندری راستہ
(The North Pacific Sea Route)
وسیع شمال بحرالکاہل کے آر پار کی تجارت کئی راستوں سے ہوتی ہے جو ہونو لولو پر آکر ملتے ہیں۔عظیم دائرے (Great Circle) پر سیدھا راستہ وینکو وور اور یوکو ہا ماکو ملاتا ہے اور سفر کی نصف دوری (2,480 کلو میٹر) کم ہو جاتی ہے۔
یہ سمندری راستہ شمالی امریکہ کے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہوں کو ایشیا کے بندر گاہوں سے ملا تا ہے۔ امریکہ کی طرف وینکو وور،سیٹل، پورٹ لینڈ،سان فرانسکو اور لاس انجلز ہیں اور ایشیا کی طرف یوکو ہاما، کوب،شنگھائی، ہانگ کانگ، منیلا، اور سنگا پور ہیں۔
جنوبی بحرالکاہل کا سمندری راستہ
(The South Pacific Sea Route)
یہ سمندری راستہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کو آسٹریلیا ، نیو زی لینڈ اور بحر الکاہل کے بکھرے جزائر کو پناما نہر کے راستے جوڑتا ہے۔اس راستے کا استعمال ہانگ کانگ،فلپائن اور انڈونیشیا تک پہنچنے کے لییبھی کیا جاتا ہے۔ پناما اور سڈنی کے درمیان طے کی جانے والی دوری 12,000 کلو میٹر ہے۔ ہونو لولو اس راستے پر ایک اہم بندر گاہ ہے۔
ساحلی جہاز رانی (Coastal Shipping)
یہ ظاہر ہے کہ آبی نقل وحمل ایک سستا ذریعہ ہے۔سمندری راستے مختلف ممالک کو جوڑتے ہیں جب کہ ساحلی جہاز رانی لمبے ساحل کے ساتھ جیسے ریا ست ہائے متحدہ امریکہ ، چین اور ہندوستان میں نقل وحمل کا آسان طریقہ ہے۔ یورپ میں شین زین ریاستیں ساحلی جہاز رانی کے لیے سب سے زیادہ مناسب ہیں کیو نکہ ایک ممبر کا ساحل دوسرے ممبر کے ساحل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اسے بہتر طور پر فروغ دیا جائے تو ساحلی جہاز رانی زمینی راستوں کے بھیڑ کو کم کرسکتی ہے۔
جہاز رانی والی نہریں (Shipping Canals)
سوئیز اور پناما نہریں دو اہم مصنوعی جہاز رانی والی نہریں یا آبی راستے ہیں جو مشرقی اور مغربی دونوں دنیا کے لیے باب تجارت (Gate way of Commerce) کی خدمت انجام دیتی ہیں۔
سوئیز نہر (The Suez Canal)
یہ نہر مصر میں 1869 میں شمال میں پورٹ سعید اور جنوب میں سوئیز بندرگاہ کے درمیان بحیرہ روم اور بحیرۂ احمر کو جوڑنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی ۔ اس نے یورپ کے لیے بحر ہندمیں ایک نیا دروازہ کھول دیا اور لیور پول اور کولمبو کے درمیان سمندری راستے کی دوری کو کیپ آف گڈ ہوپ کے مقابلے میں کم کر دیا۔ یہ سمندری سطح پر بنی ہوئی نہر ہے جس میں کوئی تالا (Lock) نہیں ہے جو 160 کلو میٹر لمبی اور 11 سے 15 میٹر گہری ہے ۔ ہر روز تقریباً 100جہاز سے پار کرتی ہیں اور اس نہر کو طے کرنے میں ہر جہاز کو تقریباً 10سے 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کا ٹیکس اتنا زیادہ ہے کہ کچھ جہاز کیپ کے لمبے راستے سے جانا سستا پاتے ہیں تا وقتیکہ اسی کے نتیجہ میں ہونے والی تاخیر اہم نہ ہو ۔ ایک ریل راستہ نہر کے ساتھ سوئیز تک جاتا ہے اور اسماعیلیہ سے ایک برانچ لائن قاہرہ تک جاتی ہے۔نیل ندی سے تازے پانی کی نہر سوئیز نہر کے ساتھ اسماعیلیہ میں ملتی ہے جس سے پورٹ سعید اور سوئیز بندرگاہوں کو تازے پانی کی سپلائی کی جاتی ہے۔
پناما نہر (The Panama Canal)
یہ نہر مشرق میں بحر اٹلانٹک کو مغرب میں بحر الکاہل سے جوڑتی ہے۔ اسے پناما خاکنائے کے آر پار شہر پناما اور کولون کے درمیان ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس حکومت نے دونوں طرف 8 کلو میڑ کا رقبہ خریدا اور اس کا نام منطقہ نہر (Canal Zone) رکھا تھا۔ یہ نہر 72 کلو میٹر لمبی ہے اور اس میں 12 کلو میٹر کی لمبائی تک گہرا کٹاو ہے۔ اس میں 6 تالوں کا نظام ہے اور جہاز خلیج پناما میں داخل ہونے سے پہلے ان تالوں کے ذریعہ مختلف سطحوں (26 میڑ اوپر اور نیچے) کو پار کرتے ہیں۔

شکل : 8.10 سوئیز نہر


اس سے نیو یارک اور سانفرانسکو کے درمیان سمندر کے ذریعہ 13,000 کلو میٹر کی دوری کم ہوگئی ہے۔جو مغربی یورپ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مغربی ساحل؛ اور شمال مشرقی اور وسطی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا کی مانند ہے۔ اس نہر کی معاشی اہمیت سوئیز نہر سے نسبتاً کم ہے۔ پھر بھی یہ لاطینی امریکہ کی معیشت میں روح رواں ہے۔
اندرونی آبی راستے (Inland waterways)
ندیاں، نہریں، جھیل اورساحلی علاقے غیر معینہ مدت سے اہم آبی راستے رہے ہیں۔ مسافر اور مال برداری کے لیے کشتیوں اور دخانی جہازوں کا استعمال نقل وحمل کے ذرائع کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ اندرونی آبی راستوں کی ترقی اور دریاؤں میں کشتی رانی کی قابلیت چوڑائی اور گہرائی، پانی کی روانی میں تسلسل اور استعمال کی جانے والی نقل وحمل کی ٹکنالوجی پرمنحصر ہوتی ہے۔ بہت بھاری مال جیسے کوئلہ، سیمنٹ،عمارتی لکڑی اور کچ دھات کا نقل وحمل ملک کے اندرآبی راستوں کے ذریعہ کیا جا تا ہے۔ قدیم زمانے میں ندی راستے نقل وحمل کے اصل شاہراہ تھے جیسا کہ ہندوستان میں۔لیکن ریلوے سے مقابلہ ،سینچائی کے لیے نہروں سے پانی لینے، دھار موڑنے سے پانی کی کمی اورخراب دیکھ بھال کی جہ سے ان کی اہمیت ختم ہو گئی۔
(شکل 8.12 ممالک کے اندر آبی راستے ان جگہوں پرنقل وحمل کا بڑا ذریعہ ہیں جہاں ندیاں چوڑی،گہری اور گادے سے خالی ہیں۔)
گھریلو اور بین الا قوامی نقل وحمل اور تجارت کے لیے اندرونی آبی راستوں کی حیثیت سے ندیوں کی وقعت کی پہچان پوری ترقی یافتہ دنیا میں کی جاتی ہے۔ذاتی کمیوں کے باوجود بہت سی ندیوں کی اصلاح کی گئی ہے تاکہ کیچڑ نکال کر ،ندی کے کناروں کو پائیدار بنا کر ،باندھ اور پشتے بنا کر اور پانی کی روانی کو ٹھیک کر کے ان میں کشتی رانی کی صلاحیت کو بڑھا یا جاسکے۔مندرجہ ذیل ندیوں کے آبی راستے دنیا میں تجارت کی کچھ اہم شاہراہیں ہیں۔
رھائن آبی راستہ (The Rhine Water ways)
رھائن ندی جرمنی اور نیدر لینڈ میں بہتی ہے۔ یہ نیدر لینڈ میں ندی کے دہانے پر واقع روٹرڈم سے لیکر سوئٹزر لینڈ میں بیسل تک 700 کلو میٹر کے لیے جہاز رانی کے قابل ہے۔ رور ندی رھائن میں مشرق سے ملتی ہے۔ یہ کوئلے سے مالا مال علاقے سے بہتی ہے اور پورا طاس ایک خوش حال صنعتی علاقہ بن گیا ہے۔ اس خطے کے لیے ڈسل ڈورف رھائن کا بندرگاہ ہے ۔رورکی جنوبی وسعت کے ساتھ بھاری ٹنوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کا سب سے زیادہ بھاری بوجھ ڈھونے کے لیے استعمال کیاجانے والا راستہ ہے۔ ہر سال 20,000 سے زائد سمندر میں چلنے والے جہاز اور 2,00,000 اندرونی آبی راستوں پر چلنے والے جہاز اپنی بار برداری کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہ جرمنی ، فرانس،بلجیم اور نیدرلینڈ کے صنعتی علاقوں کو شمالی اٹلانٹک سمندری راستے سے جوڑتا ہے۔

شکل 8.13: رھائن آبی راستہ
ڈینوب آبی راستہ (The Danube Waterway)
یہ اہم آبی راستہ مشرقی یورپ کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ ڈینوب ندی بلیک فوریسٹ سے نکلتی ہے اور مشرق کی طرف بہت سے ممالک سے ہو کر بہتی ہے۔ یہ ٹورنا سیو رن تک کشتی رانی کے قابل ہے ۔ اس کے ذریعے گیہوں ، مکا ، عمارتی لکڑی اور مشینوں کے بر آمدات اہم ہیں۔
شکل 8.14 : رھائن آبی راستہ
وولگا آبی راستہ (The Volga Waterway)
روس میں کثیر تعدا دمیں ترقی یافتہ آبی راستے ہیں جن میں وولگا سب سے اہم ہے۔ یہ ندی 11,200 کلو میٹرجہاز رانی کے قابل آبی راستہ فراہم کرتی ہے اور بحیرۂ قزوین (Capsian Sea) میں مل جاتی ہے۔ وولگاماسکو نہر اسے ماسکو کے خطے سے اور وولگا۔ڈان نہر بحر اسود سے جوڑتا ہے۔
عظیم جھیلیں ۔سینٹ لارنس سمندری راستہ
(The Great Lakes-St. Lawrence Seaway)
شمالی امریکہ کی عظیم جھیلیں سپیریر ، ہیورن ایری اور اونٹاریو ،سو نہر اور ویلا نڈ نہر کے ذریعہ مل کر اندرون ملک آبی راستہ بناتی ہیں۔سینٹ لارنس کا مد و جزری دہانہ عظیم جھیلوں سے مل کر شمالی امریکہ کے شمالی حصے میں ایک بے مثال آبی راستے کی تشکیل کرتا ہے۔اس راستے کی بندرگاہیں جیسے ڈولوتھ اور بفیلو بحری بندرگاہ تمام سہولیات سے مزین ہیں۔اس طرح بڑے بحری بیڑے بر اعظم کے اندر مونٹر یال تک ندی کی گہرائی کے ساتھ جہاز رانی کرنے کے لائق ہیں۔لیکن یہاں پر تیز روؤں کی موجودگی کی وجہ سے اشیا کو چھوٹے جہازوں پر لادنا پڑتا ہے۔ ان سے بچنے کے لیے 3.5 میٹر کی گہرائی تک نہروں کی تعمیر کی گئی ہے۔
مسی سیپی آبی راستہ (Mississippi Waterway)
مسی سیپی۔اوہائیوآبی راستہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اندرونی حصوں کو جنوب میں خلیج میکسیکو سے جوڑتا ہے۔ بڑے دخانی جہاز اس راستے سے مِنیاپولس تک جا سکتے ہیں۔
ہوائی نقل وحمل AIR TRANSPORT
نقل وحمل کے ذرائع میں ہوائی نقل وحمل تیز ترین ذریعہ ہے لیکن کافی مہنگا ہے۔تیزرفتار ہونے کی وجہ سے مسافر اسے لمبی دوری کی مسافت میں ترجیح دیتے ہیں۔قیمتی جہازی مال عالمی پیمانے پر تیز رفتاری سے پہنچائے جا سکتے ہیں۔ نارسائی علاقوں میں پہنچنے کے لیے یہ اکثر واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ ہوائی نقل وحمل نے دنیا میں رابطے کا ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے۔پہاڑی برفیلے علاقوں یا بےآسائش ریگستانی قطعہ زمین سے پیدا شدہ مزاحمت پر قابو پالیا گیا ہے۔رسائی بڑھ گئی ہے۔ ہوائی جہاز شمالی کناڈا میں مختلف اشیا منجمد زمین کے ذریعے روک ٹوک کے بغیر اسکیمو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ہمالیائی خطوں میں زمین کھسکنے ، اولانشی اور بھاری برف باری کی وجہ سے راستے اکثر بند ہوجاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کسی جگہ پر پہونچنے کے لیے صرف ہوائی سفر ایک متبادل ہوتا ہے۔ ہوائی راستوں کی فوجی اہمیت بھی بڑی ہوتی ہے۔عراق میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور برطانوی فوجوں کا ہوائی حملہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔ ہوائی راستوں کا جال تیزی سے پھیل رہا ہے۔
شکل 8.15 : سالس بری ہوائی اڈے پر ایک ہوائی جہاز
ہوائی جہاز کو بنانے اور انہیں چلانے میں مکمل بنیادی ساخت جیسے ہینگر (hangars) ، لینڈنگ (Landing) تیل بھرنا (Fuelling) اور ہوائی جہازوں کے لیے مرمت کی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوائی اڈوں کی تعمیر بھی کافی مہنگی ہے اور زیادہ ترصنعتی ممالک میں ہی اسکی ترقی ہوئی ہے جہاں سواریاں کثیر تعداد میں ہیں۔
موجودہ وقت میں دنیا میں کوئی بھی جگہ 35 گھنٹے سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ چونکا دینے والی حقیقت ان لوگوں کی وجہ سےممکن ہوسکی جنہوں نے ہوائی جہاز بنایا اور اسے اڑایا۔ ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کی پیمائش اب سال اور مہینوں کے بجائے گھنٹوں اور منٹوں میں کی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں متعدد ہوائی خدمات موجود ہیں۔ اگرچہ دولت متحدہ (UK) تجارتی جیٹ کے نقل وحمل میں رہنما رہاہے لیکن جنگ کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے زیادہ تر عالمی شہری ہوابازی کو فروغ دیا۔ آج 250 سے زیادہ ائرلائنز دنیا کے مختلف حصوں میں باقاعدہ خدمات پیش کر رہی ہیں۔ حالیہ ترقی ہوائی نقل وحمل کے مستقبل کے راستے کو بدل سکتی ہے۔ سپر سونک ہوائی جہاز لندن اور نیویارک کے درمیان کی دوری کو ساڑھے تین گھنٹہ میں طے کر لیتے ہیں۔

شکل 8.16 : بڑے ہوائی اڈے
بین بر اعظمی ہوائی راستے
(Inter-Continental Air Routes)
شمالی نصف کرہ میں بین بر اعظمی ہوائی راستوں کی مشرق مغرب پٹی واضح ہے۔مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ ،مغربی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا میں گھنا جال بچھا ہے۔صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہی دنیا کا 60 فی صد ہوائی راستہ ہے۔ نیویارک، لندن، پیرس، ایمسٹرڈم ، فرینک فرٹ، روم، ماسکو ، کراچی، نئی دہلی،ممبئی، ہانگ کانگ، سنگاپور،ٹوکیو، سانفرانسسکو، لاس انجلز اور شکاگو مرکزی نقاط ہیں جہاں پر ہوائی راستے ملتے ہیں اور وہیں سے تمام براعظموں کے لیے جاتے بھی ہیں۔
افریقہ ،روس کا ایشیا ئی حصہ اور جنوب امریکہ میں ہوائی خدمات کی کمی ہے ۔بکھری آبادی،محدود زمین اور معاشی ترقی کی وجہ سے جنو بی صف کرہ میں 10سے 35عرض البلاد کے درمیان محدود ہوائی خدمات ہیں۔
پائپ لائن Pipe Line
سیال اور گیس جیسے پانی، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی بغیر روک ٹوک روانی کے لیے پائپ لائنوں کا استعمال فراخ دلی سے کیا جاتا ہے۔ پائپ لائنوں کے ذریعہ پانی کی سپلائی کو سبھی جانتے ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں کھاناپکانے کی گیس یا ایل پی جی کو پائپ لائنوں کے ذریعہ فراہم کیا جاتا ہے۔پائپ لائنوں کا استعمال سیال کوئلے کے نقل وحمل میں بھی کیا جا سکتا ہے۔نیوزی لینڈ میں فارم سے فیکٹریوں تک دودھ کی سپلائی پائپ لائنوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔
شکل 8.17 : یوکرین میں قدرتی گیس کا نقل وحمل کرتا ہوا پائپ لائن
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تیل پائپ لائنوں کا گھنا جال پیداواری علاقوں سے صارفین کے علاقوں تک پھیلا ہے ۔ بگ انچ (Big Inch) ایک مشہور پائپ لائن ہے جو پٹرولیم کو خلیج میکسیکو کے تیل کنوؤں سے شمال مشرقی ریاستوں تک پہنچاتی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں فی ٹن کلو میٹر تما م مال برداری کا 17 فی صد پائپ لائنوں کے ذریعہ ڈھو یا جاتا ہے۔
یورپ ، روس ،مغربی ایشیا اور ہندوستان میں پائپ لائن کے ذریعے تیل کے کنوئیں کو صفائی کارخانوں ،بندرگاہوں اور گھریلو بازار سے جوڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
وسطی ایشیا میں ترکمانستان نے اپنی پائپ لائن کو ایران اور چین کے حصوں تک بھی پھیلا رکھا ہے۔ پاکستان کے راستے مجوزہ ایران ہند بین الاقوامی تیل اور قدرتی گیس پائپ لائن دنیا کی سب سے لمبی پائپ لائن ہوگی۔
مواصلات (Communications)
انسانوں نے لمبی دوری تک مواصلات کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کیا ہے جس میں سے ٹیلیگراف اور ٹیلی فون اہم تھے۔ٹیلیگراف امریکہ میں مغرب کی نو آباد کاری میں آلہ کارتھا۔بیسویں صدی کے اوائل اور وسط میں امریکی ٹیلیگراف اور ٹیلی فون کمپنی (AT & T) کا امریکہ کی ٹیلی فون صنعت پر واحداختیار تھا۔ در حقیقت امریکہ کی شہری آبادکاری میں ٹیلی فون ایک اہم عامل تھا۔ فرموں نے اپنی کارکردگی کو شہری ہیڈ کوارٹر میں مرکوز کیا اور اپنے شعبہ جاتی دفتروں کو چھوٹے شہروں میں قائم کیا۔ آج بھی ٹیلی فون سب سے زیادہ عام طور پر استعمال کیا جانے والا طرز ہے۔ترقی پذیر ممالک میں سیٹلائٹ کے ذریعہ سیل فون کا استعمال ممکن ہوسکا جو دیہی رابطوں کے لیے اہم ہے۔
آج کل ترقی کی رفتار حیرت انگیزہے۔پہلی بڑی کامیابی آپٹک فائبر کیبل (OFC) کا استعمال ہے۔ بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا کرتے ہوئے دنیا بھر میں ٹیلی فون کمپنیوں نے اپنے تانبہ کیبل نظام میں ایک درجہ آگے بڑھ کر آپٹک فائبر کیبل کو شامل کر لیا ہے۔ اس کی وجہ سے کثیر تعداد میں اعداو شمار کو تیزی سے ،حفاظت کے ساتھ اور غلطیوں سے پاک کرکے بھیجنے میں آسانی ہوئی ہے۔ 1990 کے عشرہ میں معلومات کو ہندسی شکل دینے (digitisation) کے ساتھ مواصلات نے آہستہ آہستہ کمپیوٹر کے ساتھ مل کر ایک مرکب جال بنالیا جسے انٹر نیٹ کہا جاتا ہے۔
سیارچہ مواصلات (Satellite Communication)
آج انٹر نیٹ اس سیارے پر سب سے بڑا الکٹرونک جال ہے جو 100 سے زیادہ ممالک میں اربوں لوگوں کو جوڑتا ہے۔
سیارچہ یا سیٹلائٹ کئی طریقوں سے انسانی زندگی سے جڑ گیاہے۔ جب کبھی آپ اپنے دوست سے سیل فون کے ذریعہ بات کرتے ہیں، پیغام بھیجتے ہیں، یا کیبل ٹیلی ویزن پر کوئی دلچسپ پروگرام دیکھتے ہیں، تو آپ سیارچہ مواصلات کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔
مواصلاتی ٹکنالوجی میں سیٹلائٹ کے ذریعہ مواصلات 1970 سے ایک نئے علاقے کی حیثیت سے ابھرا ہے جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سابق سویت یونین روس نے خلائی تحقیق میں رہنمائی کی ۔مصنوعی سیارچے اب کامیابی کے ساتھ زمینی مدار میں رکھے جارہے ہیں تاکہ گلوب کے دور دراز گوشوں سے بھی محدود مقامی تصدیق کے ساتھ ربط قائم کیا جا سکے ۔ ان کی وجہ سے مواصلات کی اکائی لاگت اور وقت دوری کے لحاظ سے بے نیازہو گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے سیٹلائٹ کے ذریعہ 500 کلو میٹر اور 5000 کلو میٹرتک ترسیل کی لاگت برابر ہوگی۔
ہندوستان نے بھی سیارچہ ترقی میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔19 اپریل 1979 کو آریہ بھٹ چھوڑا گیا۔ بھاسکر 1979 I -میں اور روہنی 1980 میں چھوڑے گئے۔ 18؍جون 1981 کو APPLE (ایرین پسنجرپے لوڈ اکسپریمنٹ)کو ایرین راکٹ کے ذریعہ خلا میں پہونچایا گیا۔بھاسکر، چیلنجر اور انسیٹ I B- نے لمبی دوری کے مواصلات ، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کو بہت زیادہ موثر بنا دیا۔آج کل ٹیل ویژن کے ذریعہ موسم کی پیشین گوئی ایک عطیہ ہے۔
سائبر اسپیس۔ انٹر نیٹ (Cyber Space- Internet)
سائبر اسپیس الکٹرونک کمپیوٹر کاری اسپیس کی دنیا ہے ۔ اس میں انٹر نیٹ جیسے ورلڈ وائد ویب (www) شامل ہیں۔آسان لفظوں میں یہ کمپیوٹر جال پر معلومات کی رسائی اور مواصلات کے لیے الیکٹرونک ہندسی دنیا ہے جس میں بھیجنے والے یا موصول کرنے والے کی جسمانی حرکت نہیں ہوتی ،اسے انٹر نیٹ بھی کہا جاتا ہے۔سائبر اسپیس ہر جگہ ہے۔ یہ دفتر آفس میں ،چلتی کشتی میں، اڑتے ہوئے ہوائی جہاز میں اور فی الواقع ہر جگہ پر ہوسکتا ہے۔
الیکٹرونک نیٹ ورک جس رفتار سے پھیلا ہے وہ انسانی تاریخ میں بے نظیر ہے۔1995 میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 5 کروڑ سے بھی کم تھے، 2000 میں ان کی تعداد 40 کروڑ ہوگئی اور 2005 میں ایک ارب سے بھی زیادہ ہوگئے۔
2010 میں ایک ارب کا اضافہ اور ہو جائے گا۔ گذشتہ کچھ برسوں میں عالمی سطح پر استعمال کرنے والوں میں امریکہ سے ترقی پذیر ممالک کی طرف تبدیلی ہوئی ہے۔امریکہ کا فی صد حصہ 1995میں 66 فی صد سے کم ہوکر 2005 میں صرف 25 فی صد رہ گیا ہے۔ اب دنیا میں استعمال کرنے والوں کی اکثریت امریکہ، برطانیہ،جرمنی،جاپان، چین اور ہندوستان میں ہے۔
جیسا کہ اربوں لوگ انٹرنیٹ کا ہر سال استعمال کر رہے ہیں،سائبر اسپیس ،ای۔میل، ای۔کامرس، ای۔ لرننگ اور ای۔ گورننس کے ذریعہ عصری معاشی اور سماجی فضا کی توسیع کرے گا ۔فیکس، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ساتھ انٹر نیٹ مقام اور وقت کو پار کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہونچے گا۔نقل وحمل کی بہ نسبت اسی جدید مواصلاتی نظام نے عالمی گاؤں کے تصور کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔
مشق
1۔ ذیل میں دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) بر اعظم پار اسٹوارٹ شاہراہ کن مقاموں کے درمیان سے ہو کر گذرتی ہے؟
(a) ڈارون اور میلبورن
(b) ایڈ منٹن اور انکو ریج
(c) وینکو اور سینٹ جان شہر
(d) چینگڈواور لاسا
(ii) کس ملک میں ریلوے کا نیٹ ورک سب سے گھنا ہے؟
(a) برازیل (b) ریاست ہائے متحدہ امریکہ
(c) کناڈا (d) روس
(iii) بگ ٹرنک روٹ کس کے درمیان سے گذرتا ہے۔
(a) بحیرہ رومی۔ بحرہ ہند (b) شمالی بحر اٹلانٹک
(c) جنوبی بحر اٹلانٹک (d) شمالی بحر الکاہل
(iv) بگ انچ پائپ لائن نقل وحمل کرتا ہے۔
(a) دودھ (b) سیال پٹرولیم گیس (LPG)
(c) پانی (d) پٹرولیم
(v) مندرجہ ذیل مقامات کا کون سا جوڑا چینل ٹنل سے جڑا ہوا ہے؟
(a) لندن۔ برلن (b) پیرس ۔ لندن
(c) برلن۔ پیرس (d) بارسلونا۔ برلن
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔
(i) پہاڑی، ریگستانی اور سیلاب زدہ خطوں میں سڑک نقل وحمل کے کیا مسائل ہیں؟
(ii) بر اعظم پار ریلوے کیاہے؟
(iii) آبی نقل وحمل کے کیا فوائد ہیں؟
3۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیں جو 150 الفاظ سے زیادہ نہ ہوں؟
(i) اس بیان کی تشریح کریں’’ایک بہتر منظم نقل وحمل کے نظام میں مختلف ذرائع ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔‘‘
(ii) دنیا کے وہ اہم خطے کو ن سے ہیں جن میں ہوائی راستوں کے جال کی کثافت زیادہ ہے؟
(iii) وہ کون سے ذرائع ہیں جن کے ذریعہ سائبر اسپیس انسانوں کے معاصر معاشی اور سماجی فضا کی توسیع کر پائیں گے؟