Skip to content
Insanijughrafiakemubadiat-008

 اکائی-III

باب۔ 8


نقل و حمل اور مواصلات

 Transport and Communication 

2

قدرتی وسائل ، معاشی سرگرمیاں اور بازار مشکل سے کسی ایک جگہ پر پائے جاتی ہیں۔نقل و حمل ،مواصلات اور تجارت پیداوا راور صرف کے مراکز کے درمیان ربط قائم کرتے ہیں۔کثیر تعداد میں پیداوار اور مبادلے کا نظام پیچیدہ ہے۔ ہر خطہ وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کے لیے وہ بہتر طور پر مناسب ہے۔ ایسی چیزوں کی تجارت یا مبادلہ نقل وحمل اور مواصلات پر مبنی ہوتا ہے۔ اسی طرح رہن سہن کا اعلیٰ معیاراور بہترزندگی نقل و حمل، مواصلات اور تجارت کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ قدیم زمانے میں نقل وحمل اور مواصلات ایک ہی جیسے تھے لیکن آج دونوں کی شکل ممتاز اور مخصوص ہوگئی ہے۔نقل وحمل رابطوں اور بوجھ ڈھونے والوں کا جال فراہم کرتا ہے جس کے ذریعہ تجارت ہوتی ہے۔

نقل وحمل TRANSPORT  

نقل وحمل انسانوں ، جانوروں اور سواری کی مختلف قسموں کا استعمال کرکے لوگوں اور چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی خدمت یا سہولت ہے۔ اس طرح کی حرکت زمین، پانی اور ہوا پر ہو سکتی ہے۔ سڑکیں اور ریلوے زمینی نقل و حمل کے حصے ہیں جب کہ جہازرانی اور آبی راستے اور ہوائی راستے دیگر دو طریقے ہیں۔ پائپ لائن کے ذریعہ پٹرولیم ، قدرتی گیس اور سیال شکل میں کچ دھات کی نقل وحمل کی جاتی ہے۔

مزید برآں، نقل وحمل ایک منظم خدماتی صنعت ہے جو سماج کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس میں نقل وحمل کی شریانیں ، لوگوں اور سامان کو ڈھونے والی سواریاں،اور شریانوں کی مرمت کرنے ، اور سامان چڑھانے ، اتارنے اورپہونچانے کا انتظام کرنے والی تنظیم شامل ہوتی ہیں۔ دفاعی اغراض کے تحت ہر ملک نے مختلف قسم کے نقل و حمل کو ترقی دی ہے۔ با صلاحیت مواصلات کے ساتھ یقینی اور تیز رفتار نقل و حمل بکھرے لوگوں کے درمیان اتحاد اور امداد باہمی کو فروغ دیتے ہیں۔


نقل وحمل کا جال کیا ہے؟

کئی مقامات (نوڈnodes) ایک دوسرے کے ساتھ راستوں کے سلسلوں (لنک) سے مل کر ایک پیٹرن بناتے ہیں۔


نقل وحمل کے ذرائع (Modes of Transportation)   

جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے دنیا کے نقل و حمل کے اہم ذرائع زمینی ،آبی ، ہوائی اور پائپ لائن ہے۔ ان کا استعمال بین علاقائی اور اندرون علاقائی نقل وحمل کے لیے کیا جاتا ہے اور ان میں سے ہر ایک (پائپ لائن کے علاوہ) سواری اور مال برداری دونوں کام کرتے ہیں۔ذرائع کی اہمیت نقل وحمل کی جانے والی اشیا اور خدمات کی قسموں ، نقل وحمل کی لاگت اور موجودہ طرز پر منحصر ہوتی ہے۔ اشیا کی بین الاقوامی حرکت سمندری مال برداری کے ذریعہ کی جاتی ہے۔سڑک نقل و حمل سستا ہے اور چھوٹی دوریوں اور گھر سے گھر تک کی خدمت کے لیے تیز رفتار ہے۔ ریلوے بھاری مال کو ملک کے اندر لمبی دوری تک لے جانے کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اونچی قدرو قیمت ، ہلکے اور جلد خراب ہونے والی اشیا ہوائی راستوں کے ذریعہ بہتر طور پر لے جائی جاتی ہیں۔ ایک بہتر طور پر منظم نقل و حمل کے نظام میں مختلف قسم کے ذرائع ایک دوسرے کے لیے تکملہ ہوتے ہیں۔

زمینی نقل وحمل (Land Transport)  

اشیا اور خدمات کی حرکت زمین پر ہوتی ہے۔قدیم زمانوں میں انسان خود بھی مال برداری کا کام کرتا تھا۔ کیا کبھی آپ نے کسی دولہن کو چار لوگوں کے ذریعہ (جن کو شمال ہند میں کہا ر کہا جاتا ہے) پالکی یا ڈولی میں لے جاتے ہوئے دیکھا ہے؟  بعد میں جانوروں کو بوجھ ڈھونے کے لیے استعمال کیا گیا تھا ۔کیا آپ نے خچر ، گھوڑے اور اونٹ کو دیہی علاقوں میں مال کا بوجھ اٹھاتے ہوئے دیکھا ہے؟ پہیے کی ایجاد کے ساتھ بیل گاڑی اور ڈبوں کا استعمال اہم ہو گیا۔نقل وحمل میں انقلاب اٹھارھویں صدی میں بھاپ کی انجن کی ایجاد کے بعد ہی شروع ہوا۔ شاید پہلی سرکاری ریلوے لائن 1825 میں شمالی انگلینڈ میں اسٹاکٹن اور ڈالنگٹن کے درمیان شروع ہوئی تھی اور پھر اس کے بعد انیسویں صدی میں ریلوے سب سے زیادہ دل پسند اور سب سے تیز رفتار نقل وحمل کی شکل بن گئی۔ یہ امریکہ کے بر اعظمی اندرون میں کمر شیل اناج کی کھیتی ، کان کنی اور کارخانوں کے لیے شروع کی گئی۔ داخلی اشتعال پذیر انجن (Internal Combustion engine) کی ایجاد نے سڑک نقل وحمل میں سڑک کی خوبی اور سڑک پر چلنے والی گاڑیوں (موٹر کاراور ٹرک) کے تعلق سے انقلاب برپا کر دیا ۔ زمینی نقل وحمل کی نئی ترقیات میں پائپ لائن، روپ وے (Rope Way) اور کیبل ویز ہیں۔ معدنی تیل ، پانی، گاد اور گندہ پانی پائپ لائن کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں۔ریلوے، سمندری جہاز، کشتیاں ، ناؤ اور موٹر ٹرک اور پائپ لائن بڑے مال بردارہیں۔
عام طور پر قدیم اور ابتدائی شکلیں جیسے قلی، سامان ڈھونے والے جانور، بیل گاڑی یا مال گاڑی کے ڈبے نقل و حمل کے سب سے زیادہ خرچیلے ذرائع ہیں اور بڑے مال بردار سستے ہوتے ہیں۔ یہ جدید چینلوں اور مال برداروں کی تکمیل میں اہم ہیں جو بڑے ممالک کے اندرون میں داخل ہوتے ہیں۔ ہندوستان اور چین کی گھنی آبادی والے ضلعوں میں زمینی نقل و حمل (Overland Transport)  اب بھی حمالوں اور ٹھیلوں کے ذریعہ ہوتی ہیں۔

3

شکل :8.1 آسٹریلیا میں روپ وے اور کیبل کار

نقل و حمل کا یہ ذریعہ عام طورپر تیز ڈھلان والے پہاڑوں اور کان کنی میں پائے جاتے ہیں جو سڑک بنانے کے لائق نہیں ہوتے۔




سامان ڈھونے والے جانور (Pack Animals)  
مغربی ممالک میں بھی گھوڑوں کا استعمال بار برداری کے جانوروں کی طرح کیا جاتا ہے۔ شمالی امریکہ ، شمالی یوروپ اور سائبریا میں کتوں اوررین ڈیئر کا استعمال برفیلی زمین پرسلیج گاڑیوں کو کھینچنے کے لیے کیا جا تا ہے۔پہاڑی علاقوں میں خچروں کو ترجیح دی جاتی ہے ؛جبکہ ریگستانوں میں کارواں کو لے جانے کے لیے اونٹوں کا استعمال کیا جا تاہے۔ ہندوستان میں بیل گاڑی کھینچنےکےلیے بیلوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

4

سڑک(Roads)   

ریلوے کے مقابلے میں سڑک نقل وحمل چھوٹی دوریوں کے لیے سب سے کم خرچیلا ہے۔ سڑک کے ذریعہ بار برداری کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ یہ گھر سے گھر تک کی خدمت فراہم کرتا ہے۔لیکن کچی سڑکیں گرچہ بنانے میں آسان ہیں لیکن ہر موسم مین مؤثر اورخدمت کے  لائق نہیں ہوتیں۔ برسات کے موسم میں یہ موٹر چلانے کے لائق نہیں رہتیں یہاں تک کہ پکی سڑکیں بھی بھاری بارش اور سیلاب کے دوران بری طرح اپاہج ہوجاتی ہیں۔ ان حالات میں ریل راستوں کے اونچے کنارے اور ریلوے نقل وحمل خدمت کی کارآمد مرمت ایک مؤثر حل ہے۔لیکن ریل کے راستے محدود  ہونے کی وجہ سے وسیع اور ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو کم لاگت پر خدمت نہیں فراہم کی جا سکتی۔ اس لیے سڑکیں ملک کی تجار ت اور کامرس اور سیاحی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان سڑکوں کی کوالٹی کافی مختلف ہے کیونکہ سڑک کو بنانے اور مرمت کرنے پر کافی خرچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اچھی قسم کی سڑکیں ہمہ گیر ہیں اور تیز رفتار نقل وحرکت کے لیے موٹر راستے آٹو وان (جرمنی) اور بین ریاستی شاہراہوں کی شکل میں لمبی دوری کا ربط فراہم کرتی ہیں۔ بھاری بوجھ ڈھونے کے لیے بڑھتی جسامت اور طاقت کی لاریاں عام ہیں۔لیکن بد قسمتی سے دنیا کے سڑکوں کا نظام بہتر طور پر ترقی یافتہ نہیں ہے۔
دنیا میں موٹر چلنے کے لائق سڑکوں کی کل لمبائی صرف 15 ملین کلو میٹر ہے جس میں 33 فی صد شمالی امریکہ میں ہے۔مغربی یوروپ کے مقابلے میں اس بر اعظم میں درج شدہ سب سے زیادہ سڑک کی کثافت اور سب سے زیادہ سواری گاڑیوں کی تعداد پائی جاتی ہے۔

ٹریفک کی روانی (Traffic Flows)  

حالیہ سالوں میں سڑکوں پر ٹریفک ڈرامائی انداز میں بڑھا ہے۔جب سڑک جال ٹریفک کی مانگوں کو پورا نہیں کرپاتا تو بھیڑ لگ جاتی ہے۔شہر کی سڑکیں بھیڑ (Traffic Congestion) کا سامنا کرتی ہیں۔سڑک پر سواریوں کی روانی کا بڑھنا (اونچے نقاط) اورگھٹنا (نچلے نقاط) دن کے ایک خاص وقت میں دیکھا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر ، بڑھنے کا وقت کا م شروع کرنے سے پہلے اورختم ہونے کے بعد بھیڑ والے گھنٹوں میں ہوتا ہے۔ دنیا کے اکثر شہر بھیڑ کے مسائل سے دوچار ہیں۔

شاہراہیں (Highways)  

شاہراہیں پکی سڑکیں ہیں جو دور دراز مقامات کو جوڑتی ہیں۔ یہ اس ڈھنگ سے تعمیر کی جاتی ہیں کہ کسی روکاوٹ کے بغیر سواریوں کی نقل و حرکت ہو سکے ۔ اس طرح یہ 80 میٹر چوڑی ہوتی ہیں جس میں بغیر رکاوٹ سواریوں کی روانی کے لیے الگ الگ گلیارے ، پل ، فلائی اوور (Fly Over) اور دوسرے راستے ہوتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں ہر شہر اور بندر گاہی مقامات شاہراہوں سے مربوط ہیں۔

بہتر کل کے لیے مندرجہ ذیل خطوط پر غور کریں 

شہر ی نقل و حمل کا حل

اونچی پارکنگ فیس 
ماس ریپڈ ٹرانزٹ (=MRT) 
ترقی یافتہ سرکاری بس خدمت 
اکسپریس وے


5
شکل :8.3 دھرما ورم—تونی قومی شاہراہ ، ہندوستان

شمالی امریکہ میں شاہراہوں کی کثافت زیادہ ہے جو تقریباً فی مربع کلو میٹر پر 0.65 کلو میٹر ہے۔ہر مقام شاہراہ سے 20 کلو میٹر کے اندر ہی ہے ۔بحرالکاہل کے (مغربی) ساحل پر واقع شہر بحراٹلانٹک کے (مشرقی) ساحل پر واقع شہروں سے اچھی طرح مربوط ہیں۔ اسی طرح شمال میں کناڈا کے شہروں اور جنوب میں میکسیکو کے شہروں سے جڑے ہوئے ہیں۔کناڈا پار شاہراہ (Trans Canadian Highway) برٹش کولمبیا (مغربی ساحل) کے وینکو اوور کو نیو فاؤنڈ لینڈ کے سینٹ جون شہر (مشرقی ساحل) سے ملا تا ہے اور الاسکا شاہراہ ایڈمنٹن (Edmonton) (کناڈا) کو انکوریج (Anchorage) (الاسکا) سے جوڑتا ہے۔
پان امریکی شاہراہ ،جس کا بیشترحصہ بن چکا ہے،جنوبی امریکہ ، وسطی امریکہ کے ممالک اور کناڈا - امریکہ کو مربوط کریگا۔آسٹریلیا میں بر اعظم پار اسٹوارٹ شاہراہ ڈارون (مشرقی ساحل) اور میلبورن کو ٹیننٹ کریک (Tennant creek) اور الائس اسپرنگ کے راستے جوڑتا ہے۔
یورپ میں کثیر تعداد میں گاڑیاں ہیں اور بہتر طور پر ترقی یافتہ شاہراہوں کا جال ہے۔لیکن شاہراہوں کو ریلوں اور آبی راستوں سے کافی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
روس میں یورال کے مغربی صنعتی خطے میں شاہراہوں کا گھناجال بچھا ہوا ہےجس میں ماسکو ایک گہوارے (Hub)کی طرح ہے۔ ماسکو ۔ولادیووسٹک کی اہم شاہراہ مشرقی خطوں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ وسیع جغرافیائی علاقہ ہونے کی وجہ سے روس میں شاہراہوں کی اہمیت اتنی نہیں ہے جتنی ریلوے کی ہے۔
چین میں شاہراہیں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی تمام بڑے شہروں کو جوڑتی ہیں جیسے سنگتسو (ویت نام کی سرحد کے نزدیک)،شنگھائی (وسطی چین)، گوانگ زاؤ (جنوب )اور بیجنگ (شمال )۔ ایک نئی شاہراہ چینگ ڈوکو تبت میں لاسا سے جوڑتی ہے۔
ہندوستا ن میں کئی شاہراہیں ہیں جو بڑے قصبات اور شہروں کو ملاتی ہیں۔ مثال کے طور پرقومی شاہراہ نمبر (NH7) 7 بنارس کو کنیا کماری سے ملانے والی ملک میں سب سے لمبی شاہراہ ہے۔سنہرا چوگوشہ Golden) Quadrilateral) یا سپر اکسپریس وے زیرتعمیر ہے جوسبھی ام البلادی شہروں۔ نئی دہلی ،ممبئی، بنگلور، چنّئی، کولکاتا اور حیدرآباد کو جوڑے گا۔
افریقہ میں ایک شاہراہ شمال میں الجیرس کو گنی میں کوناکری سے جوڑتی ہے۔ اسی طرح قاہرہ ، کیپ ٹاؤن سے جڑا ہو اہے۔

سرحدی سڑکیں (Border Roads)  

بین الا قوامی سرحدوں کے ساتھ تعمیر شدہ سڑکوں کو سرحدی سڑکیں کہا جاتا ہے۔ یہ دور دراز علاقوں میں لوگوں کو بڑے شہروں کے ساتھ مربوط کرنے اور دفاع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سرحدی گاؤں اور فوجی کیمپ تک اشیا کو پہنچانے کے لیے تقریباًتمام ممالک میں اس قسم کی سڑکیں ہیں۔

ریلوے (Railways)  

بھاری سامان اور لمبی دوری کے مسافروں کے لیے ریلو ے زمینی نقل و حمل کا ذریعہ ہے۔ ریلوے گیج مختلف ممالک میں الگ الگ ہیں اور موٹے طور پر انہیں چوڑا (1.5میٹر سے زیادہ)، معیاری (1.44میٹر) میٹرگیج (1میٹر )اور چھوٹی گیج میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ معیاری گیج کا استعمال دولت متحدہ (UK) میں ہوتا ہے۔
دولت متحدہ ،ریاستہائے متحدہ امریکہ، جاپان اور ہندوستان میں کمیوٹر ٹرین کافی معروف ہیں۔ یہ لاکھوں مسافروں کو روزانہ شہر سے لاتی اور لے جاتی ہیں۔ دنیا میں تقریباً 13لاکھ کلو میٹر ریل راستے سواریوں کے لیے کھلے ہیں۔

6
شکل 8.4: ویانا (Vienna) میں ٹیوب ٹرین

دنیا میں یورپ کے پاس ریلوے کا سب سے زیادہ گھنا جا ل ہے۔ ریلوے کی لمبائی تقریباً 4,40,000 کلو میٹر ہے جن میں سے اکثر دوہرے یا کثیر راستے والے ہیں۔بلجیم میں ہر 6.5 مربع کلو میٹر کے رقبے میں ایک کلو میٹر ریلوے کی سب سے زیادہ کثافت پائی جاتی ہے۔ دنیا میں صنعتی خطے سب سے زیادہ کثافت کو ظاہر کرتے ہیں۔لندن، پیرس، برسلز،ملن ،برلن اور وارسا ریلوے کے اہم ہیڈکوارٹر ہیں۔ ان میں سے بہت سے ممالک میں مال برداری کی بہ نسبت مسافروں کا نقل وحمل زیادہ اہم ہے۔ لندن اور پیرس میں زمین دوز ریلوے اہم ہے۔ انگلینڈ کے یورو ٹنل (Euro Tunnel)گروپ کے ذریعہ چلایا جانے والا چینل ٹنل لندن کو پیرس سے جوڑتا ہے۔ ہوائی راستوں اور سڑک راستوں کی جلد تر اور زیادہ لچیلے نقل وحمل کی وجہ سے براعظم۔ پار ریلوے لائنوں کی اہمیت اب ختم ہوتی جارہی ہے۔
روس میں ، ملک کے نقل وحمل کا 90 فی صد ریلوے کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یورال کے مغرب میںریلوے کا بہت ہی کثیف جال ہے۔ ماسکو ریلوے کا سب سے اہم صدر مقام ہے جہاں سے ملک کے وسیع جغرافیائی علاقے کے مختلف حصوں میں بڑی ریل لائنیں نکلتی ہیں۔ ماسکو میں زمین دوز ریلوے اور کمیو ٹر ٹرین بھی اہم ہیں۔
شمالی امریکہ میں سب سے زیادہ وسیع ریلوں کا جال ہے جو دنیا کے کل ریل جال کا 40 فی صد ہے۔ بہت سے یوروپی ممالک کے مقابلے میں مسافروں کے بجائے ریلوے کا استعمال لمبی دور یوں تک کچ دھات، اناج،عمارتی لکڑی اور مشینوں جیسے بھاری مال کو ڈھونے کے لیے کیا جاتا ہے۔ریلوے کا سب سے زیادہ کثیف جال مشر قی وسطی امریکہ اور اس سے ملے ہوئے کناڈا کے سب سے زیادہ صنعتی اور شہری خطے میں پایا جاتا ہے۔
کناڈا میں ریلوے سرکاری زمرے میں ہے اور کم آبادی والے علاقوں میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ براعظم پار (Transcontinental)  ریلوے گیہوں اور کوئلے کے بہت بڑے حصے کو ڈھوتا ہے۔
آسٹریلیامیں ریلوے کی لمبائی تقریباً40.000 کلو میٹر ہے جس کا 2 5فی صدمحض نیو ساؤتھ ویلز میں پایا جاتا ہے۔مغرب سے مشرق تک آسٹریلیائی ریلوے لائن ملک کو پار کرتے ہوئے پر تھ سے سڈنی تک جاتی ہے۔نیوزی لینڈ کی ریلوے خاص کر شمالی جزیرے میں کھیتی والے علاقے کو خدمات بہم پہنچاتی ہے۔
جنوبی امریکہ میں ریل جال دو خطوں میں زیادہ کثیف ہے جن کا نام ہے ارجنٹائنا کا پمپاس اور برازیل کا کافی پیداکرنے والا علاقہ۔ دونوں مل کر جنوبی امریکہ کی کل ریل راستے کی لمبائی کا 40 فی صد ہیں۔ بقیہ ممالک میں سے صرف چلی میں کچھ ریل راستوں کی لمبائی ساحلی مراکز کو اندرون ملک کی کان کنی کی جگہوں سے جوڑتی ہیں۔پیرو، بولیویا، اکواڈور، کولمبیااور وینزیولا میں چھوٹی وحدانی ریل لائنوں کا راستہ ہے جو بندرگاہوں سے اندرونی حصوں کوایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔
صرف ایک براعظم پارر یل راستہ ہے جو بیونس آیرز (ارجنٹینا) کو والپر یسو (چلی) سے جوڑتا ہے۔ یہ انڈیز پہاڑ کو اُسپلاٹا درے سے پار کرتا ہے جو 3,900میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
ایشیا میں ریل نیٹ ورک جاپان، چین اور ہندوستان کی گھنی آبادی والے علاقوں میں زیادہ کثیف ہے۔ دوسرے ممالک میں ریل راستے کم ہیں۔مغربی ایشیا میں وسیع ریگستان اوربکھری آبادی والے خطوں کی وجہ سے ریل سہولیات کا فروغ سب سے کم ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
7

براعظم افریقہ دوسراسب سے بڑا بر اعظم ہونے کے باوجود ریلوے کی لمبائی صر ف 40,000 کلو میٹر ہے جس میں سے 18,000 کلو میٹر جنوبی افریقہ میں ہے کیو نکہ یہاں پر سونا ، ہیراا ور تانبے کی کان کنی سرگرمیوں کا ارتکاز ہے۔براعظم کے اہم ریل راستے ہیں۔ (1) بنگوئیلا ریلوے جو انگولا سے ہوتے ہوئے کٹنگا ۔زامبیا کی تانبہ پٹی تک جاتی ہے؛(2) تنزانیہ ریلوے جو زامبیائی تانبہ پٹی سے ساحل پر واقع ہے دارالسلام تک جاتی ہے؛(3) بوتسوانا اور زمبابوے سے ہوتی ہوئی زمین سے گھری ریاستوں کو ملاتے ہوئے جنوبی افریقہ کے جال تک جانے والی ریلوے؛ اور (4) کیپ ٹاؤن سے جمہوریہ جنوبی افریقہ میں واقع پریٹوریا تک جانے والی بلو ٹرین ۔ دوسرے ممالک جیسے الجیریا،سینیگل ، نائجریا،کینیا اور ایتھوپیا میں ریلوے لائن بندرگاہ شہروں کو اندرونی مراکز سے جوڑتی ہے لیکن دوسرے ممالک کے ساتھ کوئی اچھا جال نہیں بناتی۔

براعظم- پار ریلوے

(Trans-Continental Railways) 

براعظم- پار ریلوے بر اعظم کے اِس پار سے اُس پار تک چلتی ہے اور دونوںسِروں کو جوڑتی ہے۔ ان کی تعمیر معاشی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر ہوئی تھی تاکہ مختلف سمتوں میں لمبی دوری کی سہولت فراہم کی جا سکے ۔ ان میں سے سب سے اہم ریلوے مندرجہ ذیل ہیں:

سائبر یا۔ پار ریلوے (Trans-Siberian Railway) 

 سائبریا۔پار ریلوے روس کا سب سے بڑا ریل راستہ ہے جو مغرب میں سینٹ پیٹرس برگ سے  ماسکو، اوفا، نوووسبرسک، ارکٹسک ، چیتا اور خباروسک سے ہوتے ہوئے مشرق میں بحرالکاہل کے ساحل پر واقع ولادی ووستک تک جاتا ہے۔ یہ ایشیا کا سب سے اہم راستہ ہے اور دنیا میں سب سے لمبا (9,332 کلو میڑ) ڈبل ٹریک والابرقی براعظم پار ریلوے ہے۔ اسکی وجہ سے ایشیائی خطوں کو مغربی یوروپی بازار تک رسائی میں مدد ملتی ہے۔ یہ یورال پہاڑ، اوب اور ینیسی دریاؤں کو عبورکرتا ہوا گذرتا ہے۔ چیتا ایک اہم زراعتی مرکز ہے اور ارکٹسک سمور کا مرکز ہے ۔جنوب سے اسے جوڑنے والے رابطوں میں اوڈیسا (یوکرین)، بحر کیسپیئن کے ساحل پرواقع باکو ،تاشقند، (ازبکستان)، الان بٹور (منگولیا) اور شین یانگ (مکڈین) اور چین میں بیجنگ ہیں۔

کناڈا۔پار ریلوے  (Trans-Canadian Railway) 

کناڈا میں یہ 7050 کلو میٹر لمبی مشرق میں ہیلی فیکس سے بحرالکاہل کے ساحل پر وینکو اور تک مونٹریال ، اوٹاوہ، وینی پیگ اور کال گری سے ہوتے ہوئے جاتی ہے (شکل 8.6)۔ اسے 1886 میں تعمیر کیا گیا تھا۔شروع میں یہ اس معاہدے کا حصہ تھا کہ مغربی ساحل پر واقع برٹش کولمبیا کوریا ستوں کے وفاق سے ملایا جائے ۔ بعد میں اسے معاشی اہمیت حاصل ہوگئی کیونکہ اس نے کیوبک مونٹریال صنعتی علاقے کو پریری خطے کی گیہوں کی پٹی اور شمال میں مخروطی جنگلات کے خطے سے جوڑ دیا۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک خطہ دوسرے کے لیے تکملہ بن گیا ۔ وینی پیگ سے خلیج تھنڈر (سپریر جھیل) تک کی ایک لوپ لائن اس ریل راستے کو دنیا کے اہم آ بی راستوں سے جوڑتی ہے۔ یہ لائن کناڈا کی معاشی شہ رگ ہے۔ 

8
اس راستے سے گیہوں اور گوشت کی اہم بر آمدات ہوتی 
شکل  8.5  :  سائبیریا۔ پار ریلوے
9
 شکل 8.6: کناڈا ۔پار ریلوے 

یونین اور بحرالکاہلی ریلوے 

(The Union and Pacific Railway)

یہ ریل لائن اٹلانٹک کے ساحل پر واقع نیویارک کو کلیو لینڈ، شکاگو، اوماہا، ایوان، اوگڈن اور سیکری مینٹو سے ہوتے ہوئے بحرالکاہل کے ساحل پر واقع سانفرانسکو سے جوڑتی ہے۔ اس راستے پر کچ دھات ، اناج، کاغذ ، کیمیا اور مشینیں سب سے زیادہ قیمتی بر آمدات ہیں۔

آسٹریلیائی ۔ پار بر اعظمی ریلوے (The Australian Trans-Continental Railway)

یہ ریل لائن بر اعظم کے جنوبی حصے میں مشرق سے مغرب تک چلتی ہے اور مغربی ساحل پر واقع پرتھ ،کال گورلی، بروکن ہل اور اگستا بندرگاہ سے ہوتے ہوئے مشرقی ساحل پر واقع سڈنی تک جا تی ہے۔ 
ایک دوسری بڑی شمال۔جنوب لائن ایڈی لیڈ اور الائس اسپرنگ کو جوڑتی ہے اور آگے ڈارون ۔برڈوم لائن تک ملنے والی ہے۔

اورینٹ اکسپریس (The Orient Express) 

یہ ریلوے لائن پیرس سے اسٹریس برگ ،میونخ ، وینا، بوڈاپسٹ اور بیلگریڈ ہوتے ہوئے استنبول تک جاتی ہے۔ اس اکسپریس کے ذریعہ سفر کا وقت سمندری راستے سے 10 دن سے کم ہو کر صرف 96 گھنٹے کا ہو گیا ہے۔ پنیر ،سور کا نمکین گوشت، جو ، شراب ،پھل اور مشینیں اس ریل راستے کی اصل برآمدات ہیں۔ 
ایران، پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش اور میانمار کے راستے استنبول کو بنگکاک سے جوڑنے کے لیے ایشیا- پار ریلوے (Trans-Asiatic Railway) بنانے کی تجویز چل رہی ہے۔

آبی نقل وحمل WATER TRANSPORT    

پانی کے راستے نقل وحمل کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں راستہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بحراعظم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور مختلف سائز کی جہازوں کے ساتھ قابل رسائی ہیں۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ دونوں سروں پر بندر گاہ کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ کافی سستا ہے کیو نکہ پانی کی رگڑ زمین کی بہ نسبت بہت کم ہے۔آبی نقل وحمل کو بحراعظمی راستوں اور اندرونی آبی راستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
10
 شکل8.7  :  آسٹریلیائی پار۔ بر اعظمی ریلوے
11
شکل  8.8  :  ایفل ٹاور سے سین ندی کا منظر(آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ندی کس طرح ایک اہم اندرونی آبی راستہ بن گئی ہے)

سمندری راستے   (Sea Routes)    

بحر اعظم ہموار شاہراہ فراہم کرتے ہیں جو تمام سمتوں میں جا سکتے ہیں اور جس کی مرمت پر کوئی لاگت نہں ہوتی ۔سمندر میں چلنے والے جہازوں کے ذریعہ راستے بدلنا طبعی ماحول میں انسانی مطابقت کی اہم ترقی ہے۔ زمینی اور ہوائی راستوں کے بالمقابل بحری نقل وحمل لمبی دوری تک ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک بھاری سامان لے جانے کا سستا ذریعہ ہے۔
جدید مسافر بردار (جہاز) اورمال بردار جہاز (کارگو) میں راڈار، وائرلیس اور دیگر جہاز رانی کے سامان ہوتے ہیں۔خراب ہونے والی اشیا کے لیے انجمادی چیمبر،ٹینکر اور خصوصی جہازوں کی ترقی نے بھی مال برداری (کارگو)نقل وحمل کو فروغ دیا ہے۔ کنٹینرکے استعمال نے دنیا کے اہم بندرگاہوں پر با ر برداری کو اور بھی آسان بنا دیا ہے۔

اہم سمندری راستے (Important Sea Routes) 

شکل 8.9 میں اہم بحری راستوں کو دکھایا گیا ہے۔مندرجہ ذیل صفحات میں کچھ اہم بحری راستوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

شمالی اٹلانٹک سمندری راستہ

(The Northern Atlantic Sea Route)

یہ سمندری راستہ امریکہ کے شمال مشرق اور شمال مغربی یورپ کو جوڑتا ہے، یہ دونوں صنعتی طور پر دنیا کے ترقی یافتہ خطے ہیں۔ اس راستے پر غیر ملکی تجارت باقی دنیا کے کل تجارت کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ اس راستے سے دنیا کی ایک چوتھائی غیر ملکی تجارت ہوتی ہے۔ اس لیے یہ دنیا میں مشغول ترین راستہ ہے اور اسے بڑا ٹرنک راستہ (Big Trunk Route) کہتے ہیں۔ دونوں ساحلی کناروں پر کافی ترقی یافتہ بندرگاہوں کی سہولت موجود ہے۔
12
شکل  8.9  :  اہم بحری تجارتی راستے اور بندر گاہیں


سرگرمی

اپنے اٹلس کی مدد سے ریا ست ہائے متحدہ امریکہ اور مغربی یورپ کے ساحل پر کچھ اہم بندر گاہوں کا پتہ لگائیے۔


بحیرۂ روم۔بحر ہندکے سمندری راستے

 (The Mediterranean–Indian Ocean Route) 

یہ سمندری راستہ قدیم دنیا کے وسط سے گذرتا ہے اور کسی دوسرے راستے کی بہ نسبت زیادہ ممالک اور لوگوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔پورٹ سعید، عدن، ممبئی، کولمبو، سنگا پور اس راستے پر واقع کچھ اہم بندرگاہیں ہیں۔سوئیز نہر کی تعمیر نے کیپ آف گڈ ہوپ کے قدیم راستے کے مقابلے میں دوری اور وقت کوبہت حد تک کم کر دیا ہے۔

کیپ آف گڈ ہوپ سمندری راستہ

(The Cape of Good Hope Sea Route)

یہ تجارتی راستہ سب سے زیادہ صنعتی مغربی یورپ کے خطے کو مغربی افریقہ ، جنوبی افریقہ ، جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے تجارتی، زراعتی اور مویشی پر مبنی معیشت کے ساتھ جوڑتا ہے۔سوئیز نہر کے بننے سے پہلے یہ راستہ لیور پول اور کولمبو کو ملاتا تھا جو سوئیز نہر راستے کی بہ نسبت 6,400 کلومیٹرلمبا تھا ۔مشرقی اور مغربی افریقہ کے درمیان تجارت اورسواریوں کی مقدار بڑھ رہی ہےجس کی وجہ قدرتی وسائل جیسے سونا ، ہیرا، تانبہ ، ٹن، مونگ پھلی، ناریل تیل ، کافی اور پھلوں سے مالا مال ہے۔
یہ سمندری راستہ بحر اٹلانٹک کو پار کرنے والا دوسرا راستہ ہے جو مغربی یورپ اور مغربی افریقہ کے ممالک کو جنوبی امریکہ کے برازیل ، ارجنٹائنا اور ار گوئے سے جوڑتاہے۔شمالی اٹلانٹک راستے کی بہ نسبت اس راستے پر سواریاں بہت کم ہیں کیونکہ جنوبی امریکہ اور افریقہ میں آبادی اور ترقی محدود ہے۔صرف جنوب مشرقی برازیل ، خلیج پلاٹا کے کنارے اور جنوب افریقہ کے حصوں میں بڑے پیمانے کی صنعتیں ہیں۔ ریوڈی جنیرواور کیپ ٹاؤن کے درمیان راستے پر بھی سواریاں کم ہیں کیونکہ جنوبی امریکہ اور افریقہ دونوں میں ایک ہی جیسے وسائل اور پیداوار ہیں۔ 

شمالی بحر الکاہل کاسمندری راستہ  

(The North Pacific Sea Route)

وسیع شمال بحرالکاہل کے آر پار کی تجارت کئی راستوں سے ہوتی ہے جو ہونو لولو پر آکر ملتے ہیں۔عظیم دائرے (Great Circle) پر سیدھا راستہ وینکو وور اور یوکو ہا ماکو ملاتا ہے اور سفر کی نصف دوری (2,480 کلو میٹر) کم ہو جاتی ہے۔
یہ سمندری راستہ شمالی امریکہ کے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہوں کو ایشیا کے بندر گاہوں سے ملا تا ہے۔ امریکہ کی طرف وینکو وور،سیٹل، پورٹ لینڈ،سان فرانسکو اور لاس انجلز ہیں اور ایشیا کی طرف یوکو ہاما، کوب،شنگھائی، ہانگ کانگ، منیلا، اور سنگا پور ہیں۔

جنوبی بحرالکاہل کا سمندری راستہ  

(The South Pacific Sea Route)

یہ سمندری راستہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کو آسٹریلیا ، نیو زی لینڈ اور بحر الکاہل کے بکھرے جزائر کو پناما نہر کے راستے جوڑتا ہے۔اس راستے کا استعمال ہانگ کانگ،فلپائن اور انڈونیشیا تک پہنچنے کے لییبھی کیا جاتا ہے۔ پناما اور سڈنی کے درمیان طے کی جانے والی دوری 12,000 کلو میٹر ہے۔ ہونو لولو اس راستے پر ایک اہم بندر گاہ ہے۔

ساحلی جہاز رانی  (Coastal Shipping) 

یہ ظاہر ہے کہ آبی نقل وحمل ایک سستا ذریعہ ہے۔سمندری راستے مختلف ممالک کو جوڑتے ہیں جب کہ ساحلی جہاز رانی لمبے ساحل کے ساتھ جیسے ریا ست ہائے متحدہ امریکہ ، چین اور ہندوستان میں نقل وحمل کا آسان طریقہ ہے۔ یورپ میں شین زین ریاستیں ساحلی جہاز رانی کے لیے سب سے زیادہ مناسب ہیں کیو نکہ ایک ممبر کا ساحل دوسرے ممبر کے ساحل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اسے بہتر طور پر فروغ دیا جائے تو ساحلی جہاز رانی زمینی راستوں کے بھیڑ کو کم کرسکتی ہے۔
جہاز رانی والی نہریں (Shipping Canals)
سوئیز اور پناما نہریں دو اہم مصنوعی جہاز رانی والی نہریں یا آبی راستے ہیں جو مشرقی اور مغربی دونوں دنیا کے لیے باب تجارت (Gate way of Commerce) کی خدمت انجام دیتی ہیں۔

سوئیز نہر (The Suez Canal)

یہ نہر مصر میں 1869 میں شمال میں پورٹ سعید اور جنوب میں سوئیز بندرگاہ کے درمیان بحیرہ روم اور بحیرۂ احمر کو جوڑنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی ۔ اس نے یورپ کے لیے بحر ہندمیں ایک نیا دروازہ کھول دیا اور لیور پول اور کولمبو کے درمیان سمندری راستے کی دوری کو کیپ آف گڈ ہوپ کے مقابلے میں کم کر دیا۔ یہ سمندری سطح پر بنی ہوئی نہر ہے جس میں کوئی تالا (Lock) نہیں ہے جو 160 کلو میٹر لمبی اور 11 سے 15 میٹر گہری ہے ۔ ہر روز تقریباً 100جہاز سے پار کرتی ہیں اور اس نہر کو طے کرنے میں ہر جہاز کو تقریباً 10سے 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کا ٹیکس اتنا زیادہ ہے کہ کچھ جہاز کیپ کے لمبے راستے سے جانا سستا پاتے ہیں تا وقتیکہ اسی کے نتیجہ میں ہونے والی تاخیر اہم نہ ہو ۔ ایک ریل راستہ نہر کے ساتھ سوئیز تک جاتا ہے اور اسماعیلیہ سے ایک برانچ لائن قاہرہ تک جاتی ہے۔نیل ندی سے تازے پانی کی نہر سوئیز نہر کے ساتھ اسماعیلیہ میں ملتی ہے جس سے پورٹ سعید اور سوئیز بندرگاہوں کو تازے پانی کی سپلائی کی جاتی ہے۔

پناما نہر (The Panama Canal)   

یہ نہر مشرق میں بحر اٹلانٹک کو مغرب میں بحر الکاہل سے جوڑتی ہے۔ اسے پناما خاکنائے کے آر پار شہر پناما اور کولون کے درمیان ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس حکومت نے دونوں طرف 8 کلو میڑ کا رقبہ خریدا اور اس کا نام منطقہ نہر (Canal Zone)  رکھا تھا۔ یہ نہر 72 کلو میٹر لمبی ہے اور اس میں 12 کلو میٹر کی لمبائی تک گہرا کٹاو ہے۔ اس میں 6 تالوں کا نظام ہے اور جہاز خلیج پناما میں داخل ہونے سے پہلے ان تالوں کے ذریعہ مختلف سطحوں (26 میڑ اوپر اور نیچے) کو پار کرتے ہیں۔
13
شکل  : 8.10 سوئیز نہر
14
شکل   8.11:  پناما نہر
15
اس سے نیو یارک اور سانفرانسکو کے درمیان سمندر کے ذریعہ 13,000 کلو میٹر کی دوری کم ہوگئی ہے۔جو مغربی یورپ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مغربی ساحل؛ اور شمال مشرقی اور وسطی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا کی مانند ہے۔ اس نہر کی معاشی اہمیت سوئیز نہر سے نسبتاً کم ہے۔ پھر بھی یہ لاطینی امریکہ کی معیشت میں روح رواں ہے۔

اندرونی آبی راستے (Inland waterways)  

ندیاں، نہریں، جھیل اورساحلی علاقے غیر معینہ مدت سے اہم آبی راستے رہے ہیں۔ مسافر اور مال برداری کے لیے کشتیوں اور دخانی جہازوں کا استعمال نقل وحمل کے ذرائع کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ اندرونی آبی راستوں کی ترقی اور دریاؤں میں کشتی رانی کی قابلیت چوڑائی اور گہرائی، پانی کی روانی میں تسلسل اور استعمال کی جانے والی نقل وحمل کی ٹکنالوجی پرمنحصر ہوتی ہے۔ بہت بھاری مال جیسے کوئلہ، سیمنٹ،عمارتی لکڑی اور کچ دھات کا نقل وحمل ملک کے اندرآبی راستوں کے ذریعہ کیا جا تا ہے۔ قدیم زمانے میں ندی راستے نقل وحمل کے اصل شاہراہ تھے جیسا کہ ہندوستان میں۔لیکن ریلوے سے مقابلہ ،سینچائی کے لیے نہروں سے پانی لینے، دھار موڑنے سے پانی کی کمی اورخراب دیکھ بھال کی جہ سے ان کی اہمیت ختم ہو گئی۔
16
(شکل 8.12 ممالک کے اندر آبی راستے ان جگہوں پرنقل وحمل کا بڑا ذریعہ ہیں جہاں ندیاں چوڑی،گہری اور گادے سے خالی ہیں۔)

گھریلو اور بین الا قوامی نقل وحمل اور تجارت کے لیے اندرونی آبی راستوں کی حیثیت سے ندیوں کی وقعت کی پہچان پوری ترقی یافتہ دنیا میں کی جاتی ہے۔ذاتی کمیوں کے باوجود بہت سی ندیوں کی اصلاح کی گئی ہے تاکہ کیچڑ نکال کر ،ندی کے کناروں کو پائیدار بنا کر ،باندھ اور پشتے بنا کر اور پانی کی روانی کو ٹھیک کر کے ان میں کشتی رانی کی صلاحیت کو بڑھا یا جاسکے۔مندرجہ ذیل ندیوں کے آبی راستے دنیا میں تجارت کی کچھ اہم شاہراہیں ہیں۔

رھائن آبی راستہ (The Rhine Water ways)  

رھائن ندی جرمنی اور نیدر لینڈ میں بہتی ہے۔ یہ نیدر لینڈ میں ندی کے دہانے پر واقع روٹرڈم سے لیکر سوئٹزر لینڈ میں بیسل تک 700 کلو میٹر کے لیے جہاز رانی کے قابل ہے۔ رور ندی رھائن میں مشرق سے ملتی ہے۔ یہ کوئلے سے مالا مال علاقے سے بہتی ہے اور پورا طاس ایک خوش حال صنعتی علاقہ بن گیا ہے۔ اس خطے کے لیے ڈسل ڈورف رھائن کا بندرگاہ ہے ۔رورکی جنوبی وسعت کے ساتھ بھاری ٹنوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کا سب سے زیادہ بھاری بوجھ ڈھونے کے لیے استعمال کیاجانے والا راستہ ہے۔ ہر سال 20,000 سے زائد سمندر میں چلنے والے جہاز اور 2,00,000 اندرونی آبی راستوں پر چلنے والے جہاز اپنی بار برداری کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہ جرمنی ، فرانس،بلجیم اور نیدرلینڈ کے صنعتی علاقوں کو شمالی اٹلانٹک سمندری راستے سے جوڑتا ہے۔
17
شکل   8.13:  رھائن آبی راستہ

ڈینوب آبی راستہ (The Danube Waterway)

یہ اہم آبی راستہ مشرقی یورپ کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ ڈینوب ندی بلیک فوریسٹ سے نکلتی ہے اور مشرق کی طرف بہت سے ممالک سے ہو کر بہتی ہے۔ یہ ٹورنا سیو رن تک کشتی رانی کے قابل ہے ۔ اس کے ذریعے گیہوں ، مکا ، عمارتی لکڑی اور مشینوں کے بر آمدات اہم ہیں۔
18
شکل  8.14  :  رھائن آبی راستہ

وولگا آبی راستہ (The Volga Waterway)  

روس میں کثیر تعدا دمیں ترقی یافتہ آبی راستے ہیں جن میں وولگا سب سے اہم ہے۔ یہ ندی  11,200 کلو میٹرجہاز رانی کے قابل آبی راستہ فراہم کرتی ہے اور بحیرۂ قزوین (Capsian Sea)  میں مل جاتی ہے۔ وولگاماسکو نہر اسے ماسکو کے خطے سے اور وولگا۔ڈان نہر بحر اسود سے جوڑتا ہے۔

عظیم جھیلیں ۔سینٹ لارنس سمندری راستہ 

(The  Great  Lakes-St.  Lawrence  Seaway)

شمالی امریکہ کی عظیم جھیلیں سپیریر ، ہیورن ایری اور اونٹاریو ،سو نہر اور ویلا نڈ نہر کے ذریعہ مل کر اندرون ملک آبی راستہ بناتی ہیں۔سینٹ لارنس کا مد و جزری دہانہ عظیم جھیلوں سے مل کر شمالی امریکہ کے شمالی حصے میں ایک بے مثال آبی راستے کی تشکیل کرتا ہے۔اس راستے کی بندرگاہیں جیسے ڈولوتھ اور بفیلو بحری بندرگاہ تمام سہولیات سے مزین ہیں۔اس طرح بڑے بحری بیڑے بر اعظم کے اندر مونٹر یال تک ندی کی گہرائی کے ساتھ جہاز رانی کرنے کے لائق ہیں۔لیکن یہاں پر تیز روؤں کی موجودگی کی وجہ سے اشیا کو چھوٹے جہازوں پر لادنا پڑتا ہے۔ ان سے بچنے کے لیے 3.5 میٹر کی گہرائی تک نہروں کی تعمیر کی گئی ہے۔

مسی سیپی آبی راستہ  (Mississippi Waterway) 

مسی سیپی۔اوہائیوآبی راستہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اندرونی حصوں کو جنوب میں خلیج میکسیکو سے جوڑتا ہے۔ بڑے دخانی جہاز اس راستے سے مِنیاپولس تک جا سکتے ہیں۔

ہوائی نقل وحمل AIR TRANSPORT  

 نقل وحمل کے ذرائع میں ہوائی نقل وحمل تیز ترین ذریعہ ہے لیکن کافی مہنگا ہے۔تیزرفتار ہونے کی وجہ سے مسافر اسے لمبی دوری کی مسافت میں ترجیح دیتے ہیں۔قیمتی جہازی مال عالمی پیمانے پر تیز رفتاری سے پہنچائے جا سکتے ہیں۔ نارسائی علاقوں میں پہنچنے کے لیے یہ اکثر واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ ہوائی نقل وحمل نے دنیا میں رابطے کا ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے۔پہاڑی برفیلے علاقوں یا بےآسائش ریگستانی قطعہ زمین سے پیدا شدہ مزاحمت پر قابو پالیا گیا ہے۔رسائی بڑھ گئی ہے۔ ہوائی جہاز شمالی کناڈا میں مختلف اشیا منجمد زمین کے ذریعے روک ٹوک کے بغیر اسکیمو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ہمالیائی خطوں میں زمین کھسکنے ، اولانشی اور بھاری برف باری کی وجہ سے راستے اکثر بند ہوجاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کسی جگہ پر پہونچنے کے لیے صرف ہوائی سفر ایک متبادل ہوتا ہے۔ ہوائی راستوں کی فوجی اہمیت بھی بڑی ہوتی ہے۔عراق میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور برطانوی فوجوں کا ہوائی حملہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔ ہوائی راستوں کا جال تیزی سے پھیل رہا ہے۔
19
شکل  8.15  :  سالس بری ہوائی اڈے پر ایک ہوائی جہاز

ہوائی جہاز کو بنانے اور انہیں چلانے میں مکمل بنیادی ساخت جیسے ہینگر  (hangars) ، لینڈنگ (Landing) تیل بھرنا (Fuelling) اور ہوائی جہازوں کے لیے مرمت کی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوائی اڈوں کی تعمیر بھی کافی مہنگی ہے اور زیادہ ترصنعتی ممالک میں ہی اسکی ترقی ہوئی ہے جہاں سواریاں کثیر تعداد میں ہیں۔
موجودہ وقت میں دنیا میں کوئی بھی جگہ 35 گھنٹے سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ چونکا دینے والی حقیقت ان لوگوں کی وجہ سےممکن ہوسکی جنہوں نے ہوائی جہاز بنایا اور اسے اڑایا۔ ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کی پیمائش اب  سال اور مہینوں کے بجائے گھنٹوں اور منٹوں میں کی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں متعدد ہوائی خدمات موجود ہیں۔ اگرچہ دولت متحدہ (UK) تجارتی جیٹ کے نقل وحمل میں رہنما رہاہے لیکن جنگ کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے زیادہ تر عالمی شہری ہوابازی کو فروغ دیا۔ آج 250 سے زیادہ ائرلائنز دنیا کے مختلف حصوں میں باقاعدہ خدمات پیش کر رہی ہیں۔ حالیہ ترقی ہوائی نقل وحمل کے مستقبل کے راستے کو بدل سکتی ہے۔ سپر سونک ہوائی جہاز لندن اور نیویارک کے درمیان کی دوری کو ساڑھے تین گھنٹہ میں طے کر لیتے ہیں۔
20
شکل  8.16  :  بڑے ہوائی اڈے

بین بر اعظمی ہوائی راستے  

(Inter-Continental Air Routes)

شمالی نصف کرہ میں بین بر اعظمی ہوائی راستوں کی مشرق مغرب پٹی واضح ہے۔مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ ،مغربی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا میں گھنا جال بچھا ہے۔صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہی دنیا کا 60 فی صد ہوائی راستہ ہے۔ نیویارک، لندن، پیرس، ایمسٹرڈم ، فرینک فرٹ، روم، ماسکو ، کراچی، نئی دہلی،ممبئی، ہانگ کانگ، سنگاپور،ٹوکیو، سانفرانسسکو، لاس انجلز اور شکاگو مرکزی نقاط ہیں جہاں پر ہوائی راستے ملتے ہیں اور وہیں سے تمام براعظموں کے لیے جاتے بھی ہیں۔
افریقہ ،روس کا ایشیا ئی حصہ اور جنوب امریکہ میں ہوائی خدمات کی کمی ہے ۔بکھری آبادی،محدود زمین اور معاشی ترقی کی وجہ سے جنو بی صف کرہ میں 10سے 35عرض البلاد کے درمیان محدود ہوائی خدمات ہیں۔

پائپ لائن Pipe Line      

سیال اور گیس جیسے پانی، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی بغیر روک ٹوک روانی کے لیے پائپ لائنوں کا استعمال فراخ دلی سے کیا جاتا ہے۔ پائپ لائنوں کے ذریعہ پانی کی سپلائی کو سبھی جانتے ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں کھاناپکانے کی گیس یا ایل پی جی کو پائپ لائنوں کے ذریعہ فراہم کیا جاتا ہے۔پائپ لائنوں کا استعمال سیال کوئلے کے نقل وحمل میں بھی کیا جا سکتا ہے۔نیوزی لینڈ میں فارم سے فیکٹریوں تک دودھ کی سپلائی پائپ لائنوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔

21
شکل  8.17  :  یوکرین میں قدرتی گیس کا نقل وحمل کرتا ہوا پائپ لائن

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تیل پائپ لائنوں کا گھنا جال پیداواری علاقوں سے صارفین کے علاقوں تک پھیلا ہے ۔ بگ انچ (Big Inch) ایک مشہور پائپ لائن ہے جو پٹرولیم کو خلیج میکسیکو کے تیل کنوؤں سے شمال مشرقی ریاستوں تک پہنچاتی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں فی ٹن کلو میٹر تما م مال برداری کا 17 فی صد پائپ لائنوں کے ذریعہ ڈھو یا جاتا ہے۔
یورپ ، روس ،مغربی ایشیا اور ہندوستان میں پائپ لائن کے ذریعے تیل کے کنوئیں کو صفائی کارخانوں ،بندرگاہوں اور گھریلو بازار سے جوڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
وسطی ایشیا میں ترکمانستان نے اپنی پائپ لائن کو ایران اور چین کے حصوں تک بھی پھیلا رکھا ہے۔ پاکستان کے راستے مجوزہ ایران ہند بین الاقوامی تیل اور قدرتی گیس پائپ لائن دنیا کی سب سے لمبی پائپ لائن ہوگی۔

مواصلات (Communications)  

انسانوں نے لمبی دوری تک مواصلات کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کیا ہے جس میں سے ٹیلیگراف اور ٹیلی فون اہم تھے۔ٹیلیگراف امریکہ میں مغرب کی نو آباد کاری میں آلہ کارتھا۔بیسویں صدی کے اوائل اور وسط میں امریکی ٹیلیگراف اور ٹیلی فون کمپنی (AT & T) کا امریکہ کی ٹیلی فون صنعت پر واحداختیار تھا۔ در حقیقت امریکہ کی شہری آبادکاری میں ٹیلی فون ایک اہم عامل تھا۔ فرموں نے اپنی کارکردگی کو شہری ہیڈ کوارٹر میں مرکوز کیا اور اپنے شعبہ جاتی دفتروں کو چھوٹے شہروں میں قائم کیا۔ آج بھی ٹیلی فون سب سے زیادہ عام طور پر استعمال کیا جانے والا طرز ہے۔ترقی پذیر ممالک میں سیٹلائٹ کے ذریعہ سیل فون کا استعمال ممکن ہوسکا جو دیہی رابطوں کے لیے اہم ہے۔
آج کل ترقی کی رفتار حیرت انگیزہے۔پہلی بڑی کامیابی آپٹک فائبر کیبل (OFC) کا استعمال ہے۔ بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا کرتے ہوئے دنیا بھر میں ٹیلی فون کمپنیوں نے اپنے تانبہ کیبل نظام میں ایک درجہ آگے بڑھ کر آپٹک فائبر کیبل کو شامل کر لیا ہے۔ اس کی وجہ سے کثیر تعداد میں اعداو شمار کو تیزی سے ،حفاظت کے ساتھ اور غلطیوں سے پاک کرکے بھیجنے میں آسانی ہوئی ہے۔ 1990 کے عشرہ میں معلومات کو ہندسی شکل دینے (digitisation)  کے ساتھ مواصلات نے آہستہ آہستہ کمپیوٹر کے ساتھ مل کر ایک مرکب جال بنالیا جسے انٹر نیٹ کہا جاتا ہے۔

سیارچہ مواصلات (Satellite Communication)  

آج انٹر نیٹ اس سیارے پر سب سے بڑا الکٹرونک جال ہے جو 100 سے زیادہ ممالک میں اربوں لوگوں کو جوڑتا ہے۔

سیارچہ یا سیٹلائٹ کئی طریقوں سے انسانی زندگی سے جڑ گیاہے۔ جب کبھی آپ اپنے دوست سے سیل فون کے ذریعہ بات کرتے ہیں، پیغام بھیجتے ہیں، یا کیبل ٹیلی ویزن پر کوئی دلچسپ پروگرام دیکھتے ہیں، تو آپ سیارچہ مواصلات کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

مواصلاتی ٹکنالوجی میں سیٹلائٹ کے ذریعہ مواصلات 1970 سے ایک نئے علاقے کی حیثیت سے ابھرا ہے جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سابق سویت یونین روس نے خلائی تحقیق میں رہنمائی کی ۔مصنوعی سیارچے اب کامیابی کے ساتھ زمینی مدار میں رکھے جارہے ہیں تاکہ گلوب کے دور دراز گوشوں سے بھی محدود مقامی تصدیق کے ساتھ ربط قائم کیا جا سکے ۔ ان کی وجہ سے مواصلات کی اکائی لاگت اور وقت دوری کے لحاظ سے بے نیازہو گئے  ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے سیٹلائٹ کے ذریعہ 500 کلو میٹر اور 5000 کلو میٹرتک ترسیل کی لاگت برابر ہوگی۔
ہندوستان نے بھی سیارچہ ترقی میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔19 اپریل 1979 کو آریہ بھٹ چھوڑا گیا۔ بھاسکر 1979 I -میں اور روہنی 1980 میں چھوڑے گئے۔ 18؍جون 1981 کو APPLE (ایرین پسنجرپے لوڈ اکسپریمنٹ)کو ایرین راکٹ کے ذریعہ خلا میں پہونچایا گیا۔بھاسکر، چیلنجر اور انسیٹ I  B- نے لمبی دوری کے مواصلات ، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کو بہت زیادہ موثر بنا دیا۔آج کل ٹیل ویژن کے ذریعہ موسم کی پیشین گوئی ایک عطیہ ہے۔

سائبر اسپیس۔ انٹر نیٹ (Cyber Space- Internet) 

سائبر اسپیس الکٹرونک کمپیوٹر کاری اسپیس کی دنیا ہے ۔ اس میں انٹر نیٹ جیسے ورلڈ وائد ویب (www) شامل ہیں۔آسان لفظوں میں یہ کمپیوٹر جال پر معلومات کی رسائی اور مواصلات کے لیے الیکٹرونک ہندسی دنیا ہے جس میں بھیجنے والے یا موصول کرنے والے کی جسمانی حرکت نہیں ہوتی ،اسے انٹر نیٹ بھی کہا جاتا ہے۔سائبر اسپیس ہر جگہ ہے۔ یہ دفتر آفس میں ،چلتی کشتی میں، اڑتے ہوئے ہوائی جہاز میں اور فی الواقع ہر جگہ پر ہوسکتا ہے۔
الیکٹرونک نیٹ ورک جس رفتار سے پھیلا ہے وہ انسانی تاریخ میں بے نظیر ہے۔1995 میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 5 کروڑ سے بھی کم تھے، 2000 میں ان کی تعداد 40 کروڑ ہوگئی اور 2005 میں ایک ارب سے بھی زیادہ ہوگئے۔
2010 میں ایک ارب کا اضافہ اور ہو جائے گا۔ گذشتہ کچھ برسوں میں عالمی سطح پر استعمال کرنے والوں میں امریکہ سے ترقی پذیر ممالک کی طرف تبدیلی ہوئی ہے۔امریکہ کا فی صد حصہ 1995میں 66 فی صد سے کم ہوکر 2005 میں صرف 25 فی صد رہ گیا ہے۔ اب دنیا میں استعمال کرنے والوں کی اکثریت امریکہ، برطانیہ،جرمنی،جاپان، چین اور ہندوستان میں ہے۔
جیسا کہ اربوں لوگ انٹرنیٹ کا ہر سال استعمال کر رہے ہیں،سائبر اسپیس ،ای۔میل، ای۔کامرس، ای۔ لرننگ اور ای۔ گورننس کے ذریعہ عصری معاشی اور سماجی فضا کی توسیع کرے گا ۔فیکس، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ساتھ انٹر نیٹ مقام اور وقت کو پار کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہونچے گا۔نقل وحمل کی بہ نسبت اسی جدید مواصلاتی نظام نے عالمی گاؤں کے تصور کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔

مشق

ذیل میں دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔

(i) بر اعظم پار اسٹوارٹ شاہراہ کن مقاموں کے درمیان سے ہو کر گذرتی  ہے؟
(a) ڈارون اور میلبورن 
(b) ایڈ منٹن اور انکو ریج
(c) وینکو اور سینٹ جان شہر
(d) چینگڈواور لاسا

(ii) کس ملک میں ریلوے کا نیٹ ورک سب سے گھنا ہے؟

(a) برازیل (b) ریاست ہائے متحدہ امریکہ
(c) کناڈا (d) روس

(iii) بگ ٹرنک روٹ کس کے درمیان سے گذرتا ہے۔

(a) بحیرہ رومی۔ بحرہ ہند (b) شمالی بحر اٹلانٹک
(c) جنوبی بحر اٹلانٹک (d) شمالی بحر الکاہل

(iv) بگ انچ پائپ لائن نقل وحمل کرتا ہے۔

(a) دودھ (b) سیال پٹرولیم گیس (LPG) 
(c) پانی (d) پٹرولیم

(v) مندرجہ ذیل مقامات کا کون سا جوڑا چینل ٹنل سے جڑا ہوا ہے؟

(a) لندن۔ برلن (b) پیرس ۔ لندن
(c) برلن۔ پیرس (d) بارسلونا۔ برلن

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔

(i) پہاڑی، ریگستانی اور سیلاب زدہ خطوں میں سڑک نقل وحمل کے کیا مسائل ہیں؟
(ii) بر اعظم پار ریلوے کیاہے؟
(iii) آبی نقل وحمل کے کیا فوائد ہیں؟

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیں جو 150 الفاظ سے زیادہ نہ ہوں؟

(i) اس بیان کی تشریح کریں’’ایک بہتر منظم نقل وحمل کے نظام میں مختلف ذرائع  ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔‘‘
(ii) دنیا کے وہ اہم خطے کو ن سے ہیں جن میں ہوائی راستوں کے جال کی کثافت زیادہ ہے؟
(iii) وہ کون سے ذرائع  ہیں جن کے ذریعہ سائبر اسپیس انسانوں کے معاصر معاشی اور سماجی فضا کی توسیع کر پائیں گے؟