اکائی۔ 3
باب۔ 9
بین الاقوامی تجارت
Intenational Trade

ایک ثالثی سرگرمی کی حیثیت سے آپ لفظ ’’تجارت‘‘ سے پہلے سے ہی واقف ہیں جسے آپ نے اس کتاب کے باب 7میں پڑھا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ تجارت کا مطلب اشیا اور خدمات کا رضا کارانہ مبادلہ ہے۔ ایک آدمی فروخت کرتا ہے اور دوسرا خرید تا ہے۔کچھ مقامات پرلوگ اشیا کے بدلے اشیا لیتے ہیں ۔ دونوںفریقوں کے لیے تجارت برابری سے مفیدہوتی ہے۔
تجارت دو سطحوں پر کی جاسکتی ہے: بین الاقوامی اور قومی (گھریلو)۔بین الاقوامی تجارت ممالک کے درمیان قومی سرحد پار کرکے اشیا اور خدمات کا مبادلہ ہے۔ممالک کو تجارت کرنے کی ضرورت ان اشیا کوحاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے جو وہ خود پیدا نہیں کر سکتے یا وہ اسے دوسری جگہ سے کم قیمت پر خرید سکتے ہیں۔
قدیم سماج میں تجارت کی ابتدائی شکل بارٹر نظام پر مبنی تھی جہاں اشیا کا راست مبادلہ ہوتا تھا۔ اس نظام میں اگر آپ کمہار ہیں اور آپ کو نل لگانے والے کی ضرورت ہے تو آپ کو ایسے نل لگانے والے کو ڈھونڈھنا ہوگا جسے برتنوں کی ضرورت ہو اور آپ اپنے برتن کے عوض اس کے نل لگانے کی خدمت کا مبادلہ کرسکیں ۔

ہر جنوری میں فصل کی کٹائی کے بعد گوہاٹی سے 35 کلو میٹر دور جاگیروڈ میں میلا لگتا ہے اور یہ شاید ہندوستان کا واحد میلہ ہے جہاں بارٹر نظام آج بھی رائج ہے۔ اس میلے کے دوران بڑا بازار لگتاہے جہاں مختلف قبیلوں اور معاشروں کے لوگ اپنی پیداوار کا مبادلہ کرتے ہیں۔
بارٹر نظام کی پریشانیاں روپے پیسے کی شروعات سے ختم ہوئیں ۔قدیم زمانے میں کاغذ اور سکے کی کرنسی سے پہلے اونچی اندرونی قیمت رکھنے والی نایاب چیزیں پیسے کی خدمت انجام دیتی تھیں جیسے پتھر، برکانی شیشہ، کوڑی، شیر پنجہ،وہیل کے دانت کتے کے دانت، چمڑہ ،فر، مویشی، چاول، الائچی، نمک، چھوٹے اوزار ، تانبا، چاندی اورسونا۔
کیا آپ جانتے ہیں
بین الاقوامی تجارت کی تاریخ
HISTORY OF INTERNATIONAL TRADE

بین الاقوامی تجارت کیوں وجود میں آئی؟
(Why Does International Trade Exist?)
بین الاقوامی تجارت کی بنیاد
(Basis of International Trade)
(ii) آبادی کے عوامل : (Population Factors) ممالک کے درمیان آبادی کی جسامت ،تقسیم اور تنوع تجارت کی جانے والی اشیا کی ضخامت اور نوعیت کو متاثر کرتی ہے۔
(iii) معاشی ترقی کی منزل (Stage of Economic :Development) ممالک کی معاشی ترقی کے مختلف مراحل پر تجارتی اشیا کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ زراعتی طور پر اہم ممالک میں زرعی پیداوار کو فیکٹری پیداوار کے لیے تبادلہ کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی ممالک مشین اور تیار مال کو بر آمد کرتے ہیں اور خوراکی اناج اور دیگر کچے مال در آمد کرتے ہیں۔
(iv) غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد (Extent of foreign Investment) : ترقی پذیر ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری تجارت کو بڑھا سکتی ہے۔ ان ممالک کے پاس کان کنی ، تیل نکالنے ، بھاری انجینئرنگ، عمارتی لکڑی اور شجر کاری زراعت کے لیے مطوبہ سرمائے کی کمی ہوتی ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس طرح کے سرمائے پر مبنی صنعتوں کو فروغ دے کرصنعتی ممالک اناج کے سامان اور معدنیات کی درآمد کو یقینی بناتے ہیں اور اپنی تیار اشیا کے لیے بازار پیدا کرتے ہیں۔ یہ پورا دور اقوام کے درمیان تجارت کی ضخامت کو بڑھاوا دیتا ہے۔
(v) نقل وحمل :قدیم زمانے میں نقل وحمل کے مناسب اور قابل ذرائع کے فقدان کی وجہ سے تجارت مقامی علاقوں تک محدودتھی۔صرف بیش قیمت اشیا جیسے جواہرات ، ریشم ، مسالوں کی تجارت لمبی دوری تک کی جاتی تھی۔ ریل، بحری اور ہوائی نقل و حمل، انجمادی عمل اور تحفظ کے بہتر طریقوں میں توسیع کی وجہ سے تجارت میں بھی مکانی توسیع ہوئی ہے۔
بین الاقوامی تجارت کے اہم پہلو (Important Aspects of International Trade)
بین الاقوامی تجارت کے تین پہلو بہت ہی اہم ہیں۔ضخامت (Volume) زمرہ جاتی یا حلقہ واری ساخت (Sectoral Composition) اور تجارت کی سمت (Direction of Trade)
تجارت کی ضخامت (Volume of Trade)
تجارت کردہ اشیا کے اصل ٹنوں کا حساب اس کی ضخامت سے لگایاجاتا ہے۔ البتہ خدمات کی تجارت کی پیمائش ٹن میں نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے تجارت شدہ اشیا اورخدمات کی کل قیمت کو تجارت کی ضخامت مانا جاتا ہے۔ جدول 9.1 دکھاتا ہے کہ گذشتہ عشروں میں عالمی تجارت کی کل ضخامت تیزی سے بڑھتی رہی ہے۔
سرگرمی
آپ کیوں سوچتے ہیں کہ گذشتہ عشروں میں تجارت کی ضخامت بڑھی ہے؟ کیا ان اعداد و شمارکا موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ 1995کے بالمقابل 2015 میں نمو کتنی ہوئی ہے؟
تجارت کی ساخت (Composition of Trade)
گذشتہ صدی کے دوران ممالک کے ذریعہ در آمد و برآمدکی جانے والی اشیا کی نوعیت بدلتی رہی ہے۔
گذشتہ صدی کے اوائل میں ابتدائی پیداوار کی تجارت غالب تھی ۔بعد میں کارخانوں میں بنی اشیا نمایاں ہونے لگیں۔حالیہ دنوں میں اگر چہ کارخانے کا زمرہ عالمی تجار ت کی بڑی تعداد پر حاوی ہے، خدمت کا زمرہ جس میں سفر ، نقل وحمل اور دیگر کمر شیل خدمات شامل ہیں، آگے بڑھنے کے رجحان پر ہے۔کل عالمی تجارت میں مختلف اشیا کا حصہ ذیل میں دیئے گئے خاکہ Graph) میں دیکھا جا سکتا ہے۔
جدول 9.1 : عالمی درآمدات و بر آمدات (ملین امریکی ڈالر میں)
| 1955 | 1965 | 1975 | 1985 | 1995 | 2005 | 2015 | |
| برآمدات کل مال تجارت درآمدات کل مال تجارت |
95,000 99,000 |
1,90,000 1,99,000 |
8,77,000 9,12,000 |
19,54,000 20,15,000 |
51,62,000 52,92,000 |
103,93,000 1,07,53,000 |
155,83,232 156,28,204 |
حوالہ: wits.worldbank.org مورخہ 21.07.2017

تجارت کی سمت (Direction of Trade)
تجارت کا توازن (Balance of Trade)
بین الاقوامی تجارت کی قسمیں
(Types of International Trade)
آزاد تجارت کا معاملہ (Case for free Trade)
ڈمپنگ (Dumping)

عالمی تجارتی تنظیم (World Trade Organistion)
کیا آپ جانتے ہیں
علاقائی تجارتی بلاک (Regional Trade Blocs)
بین الاقوامی تجارت کے گذرگاہ
GATEWAYS OF INTERNATIONAL TRADE
بندرگاہ (Ports)
بین الاقوامی تجارت کی اصل گذرگاہیں پناہ گاہیں (Harbours) اور بندرگاہیں (Ports) ہیں۔ مال بردار جہاز اور مسافر دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک انھیں بندرگاہوں سے گذرتے ہیں۔ بندرگاہیں مال بردار جہازوں کے لیے گودی،مال چڑھانا،مال اتارنا اور سامان کی حفاظت کی سہولیات مہیا کرتی ہیں۔ ان سہولیات کو فراہم کرنے کے لیے بندرگاہوں کے عہدیدار،رود باروں کو جہاز رانی کے قابل بنائے رکھنے کے لیے انتظام کرتے ہیں۔رسیوں اور کشتیوں کا انتظام کرتے ہیں مزدور اور انتظامی خدمات فراہم کرتے ہیں۔کسی بندرگاہ کی اہمیت کا فیصلہ مال بردار جہازوں کی قامت اور وہاں آنے جانے والے جہازوں کی تعداد سے کیا جا تا ہے۔ ایک بندرگاہ پر مال بردار جہازوں کی مقدار اس کے پس پشت زمین (Hinterland) کی ترقی کی سطح کا اشاریہ ہے۔
جدول 9.2: اہم علاقائی تجارت
| امداد باہمی کے دیگر علاقے | اشیا | آغاز | ممبر ممالک | ہیڈ کوارٹر | علاقائی بلاک |
| معاشی ترقی کی رفتاربڑھانا، ثقافتی ترقی، امن اور علاقائی استحکام | زرعی پیداوار ربر،ناریل،تیل،چاول،کوپرا،کافی،معدنیات،تانبہ،کوئلہ،نکل،ٹنکشن،توانائی،پٹرولیم،اور قدرتی گیس اور سافٹ ویر کے پیداوار | اگست 1967 | برونئی دارالسلام، کمبوڈیا، انڈونیشیا،لاوس،ملیشیا،میانمار،فلپائن،سنگاپور،تھائی لینڈ،ویت نام | جکارتا،انڈونیشیا | جنوب مشرقی ایشیا ممالک کی ایسوسی ایشن ( Association south east asian nations ) |
| معاشیات، دفاع اور خارجہ پالیسی معاملوں پر سالمیت اور امداد باہمی | خام تیل،قدرتی گیس،سوناروئی، ریشم، المونیم | ____ | آرمینیا، آزربائی جان،بیلا روس،جارجیا،قزاخستان،مالڈووا،روس،تاجکستان،ترکمنستان،یوکرین اورازبکستان | منسک، بیلاروس | کامن ویلتھ آزاد ریاستیں (CIS ) سی آئی ایس |
| ایک سکے کے ساتھ ایک بازار | زرعی پیداوار،معدنیات کیمیا،لکڑی،کاغذ،نقل وحمل کی گاڑیاں،آنکھوں کے آلے،گھڑیاں، آرٹ کے کام، قدیم اشیا | ای ایسی مارچ1957 ای یو فروری 1992 | آسٹریا،بلجیم،بلغاریہ،کروشیا، سائپرس،چیک جمہوریہ،ڈنمارک، اسٹونیا،فرانس،جرمنی،یونان،ہنگری،فن لینڈ،آئیرلینڈ اٹلی،لاویا،لتھوانیا،نیدر لینڈ،لھزر مبرگ،مالٹا پرتگال،سلو واکیا،سلووین،اسپین،سویڈن اور برطانیہ | بروسیل، بیلجیم | یوروپین یونین( EU )ای یو |
| ____ | _____ | 1960 | ارجنٹا ئنا،بولیویا،برازیل،کولمبیا،اکواڈور،میکسیکو،پراگوے،پیرو،ارگوے اور وینیزیولا | مونٹےویڈیو اردگوئے |
لاطینی امریکی انٹیگریشن ایسوسی ایشن (LAIA )ایل اے آئی اے |
| ____ | زرعی پیداوار، موٹرگاڑیاں موٹرگاڑیوں کے پرزے،کمپیوٹر،ٹیکسٹائل | 1994 | ریاست ہائے متحدہ امریکہ،کناڈا اور میکسیکو | شمالی امریکی آزاد تجارت گٹھ جوڑ (NAFTA )این اے ایف ٹی اے | |
| پٹرولیم پالیسی کو مربوط کرنا اور متحدکرنا | خام پٹرولیم | 1994 | الجیریا، انڈونیشیا،ایران،عراق،کویت،لیبیا،نائجیریا،قطر،سعودی،ورب، متحدہ عرب امارات اور وینیزولا | وینا، آسٹریا | (پٹرولیم برآمداتی ممالک کی تنظیم )OPEC ( اوپیک ( او پی ای سی |
| علاقائی تجارتوں کے درمیان محصولات کم کرنا | _____ | جنوری 2006 | بنگلہ دیش،مالدیپ۔بھٹان،نیپال،ہندوستان،پاکستان اور سری لنکاس | جنوبی ایشیائی آزاد تجارت ایگریمنٹ ( SAFTA ) ایس اے ایف ٹی اے |

بندرگاہ کی قسمیں (Types of Port)
محل وقوع کی بنیاد پر بندرگاہ کی قسمیں:
