Skip to content
Insanijughrafiakemubadiat-009



اکائی۔ 3

باب۔ 9

بین الاقوامی تجارت      

Intenational Trade 

2

ایک ثالثی سرگرمی کی حیثیت سے آپ لفظ ’’تجارت‘‘ سے پہلے سے ہی واقف ہیں جسے آپ نے اس کتاب کے باب 7میں پڑھا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ تجارت کا مطلب اشیا اور خدمات کا رضا کارانہ مبادلہ ہے۔ ایک آدمی فروخت کرتا ہے اور دوسرا خرید تا ہے۔کچھ مقامات پرلوگ اشیا کے بدلے اشیا لیتے ہیں ۔ دونوںفریقوں کے لیے تجارت برابری سے مفیدہوتی ہے۔

تجارت دو سطحوں پر کی جاسکتی ہے: بین الاقوامی اور قومی (گھریلو)۔بین الاقوامی تجارت ممالک کے درمیان قومی سرحد پار کرکے اشیا اور خدمات کا مبادلہ ہے۔ممالک کو تجارت کرنے کی ضرورت ان اشیا  کوحاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے جو وہ خود پیدا نہیں کر سکتے یا وہ اسے دوسری جگہ سے کم قیمت پر خرید سکتے ہیں۔

قدیم سماج میں تجارت کی ابتدائی شکل بارٹر نظام پر مبنی تھی جہاں اشیا کا راست مبادلہ ہوتا تھا۔ اس نظام میں اگر آپ کمہار ہیں اور آپ کو نل لگانے والے کی ضرورت ہے تو آپ کو ایسے نل لگانے والے کو ڈھونڈھنا ہوگا جسے برتنوں کی ضرورت ہو اور آپ اپنے برتن کے عوض اس کے نل لگانے کی خدمت کا مبادلہ کرسکیں ۔

3
شکل 9.1  :  جون بیل میلے میںدو عورتیں بار ٹر نظام سے خرید و فروخت کر رہی ہیں۔

ہر جنوری میں فصل کی کٹائی کے بعد گوہاٹی سے 35 کلو میٹر دور جاگیروڈ میں میلا لگتا ہے اور یہ شاید ہندوستان کا واحد میلہ ہے جہاں بارٹر نظام آج بھی رائج ہے۔ اس میلے کے دوران بڑا بازار لگتاہے جہاں مختلف قبیلوں اور معاشروں کے لوگ اپنی پیداوار کا مبادلہ کرتے ہیں۔

بارٹر نظام کی پریشانیاں روپے پیسے کی شروعات سے ختم ہوئیں ۔قدیم زمانے میں کاغذ اور سکے کی کرنسی سے پہلے اونچی اندرونی قیمت رکھنے والی نایاب چیزیں پیسے کی خدمت انجام دیتی تھیں جیسے پتھر، برکانی شیشہ، کوڑی، شیر پنجہ،وہیل کے دانت کتے کے دانت، چمڑہ ،فر، مویشی، چاول، الائچی، نمک، چھوٹے اوزار ، تانبا، چاندی اورسونا۔

کیا آپ جانتے ہیں

لفظ سیلری (تنخواہ) لاطینی لفظ سلیریم (Salarium) سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں نمک کے ذریعہ ادائیگی۔کیونکہ اس زمانے میں سمندر کے پانی سے نمک بنانا معلوم نہیں تھا اور اسے صرف چٹانی نمک سے بنایا جاتا تھا جو نایاب اور خرچیلا تھا۔ اس لیے یہ ادائیگی کا ایک طریقہ بن گیا ۔

بین الاقوامی تجارت کی تاریخ 

HISTORY  OF INTERNATIONAL TRADE 

قدیم زمانے میں اشیا کو لمبی دوری تک بھیجنا خطرات سے پُر تھا، اس لیے تجارت مقامی بازار تک محدود تھی۔ اس وقت لوگ زیادہ ترا پنے وسائل کو بنیادی ضروریات کھانا اور کپڑے پر خرچ کیا کرتے تھے۔صرف مالدار لوگ زیورات اور قیمتی کپڑے خریدتے تھے اس وجہ سے عیش و عشرت کے سامان کی تجارت شروع ہوئی۔
لمبی دوری تک تجارت کی ایک قدیم مثال ریشمی راستہ (Silk Route) ہے جو روم کو چین سے ملاتا ہے جو 6000 کلو میٹر لمبا ہے۔ تاجر لوگ چینی، ریشم، رومی اون اور قیمتی دھات اور بہت سی بیش قیمت اشیا ہندوستان ، فارس اور وسط ایشیا میں واقع وسطی مقامات سے نقل وحمل کیا کرتے تھے۔
رومی سلطنت کے زوال کے بعد بارھویں اور تیرھویں صدی میں یوروپی تجارت کا فروغ ہوا۔سمندر میں چلنے والےجنگی جہازوں کی ترقی کے ساتھ یوروپ اور ایشا کے درمیان تجارت کا فروغ ہوا اور امریکہ کا پتہ چلا۔
پندرھویں صدی کے بعد یوروپی نو آبادیات کا دور شروع ہوا اور بدیسی اشیاکی تجارت کے ساتھ ایک نئی شکل کی تجارت ابھری جسے غلاموں کی تجارت (Slave Trade) کہا جاتا ہے۔ پرتگالی، ڈچ، ہسپانوی اور برطانوی لوگوں نے افریقی باشندوں کو پکڑا اور انھیں زبر دستی نو دریافت امریکہ میں شجر کاری میں مزدوری کے لیے بھیج دیا ۔تقریباً دو سو سالوں تک غلاموں کی تجارت ایک نفع بخش کاروبار تھاجب تک کہ ڈنمارک میں 1792میں ، عظیم برطانیہ میں 1807میں اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں 1808میں اسے منسوخ نہیں کر دیا گیا۔

4
شکل  9.2  :  غلاموں کی نیلامی کے لیے اشتہار،1829

یہ غلاموں کی نیلامی کا امریکی اشتہار مالکو ں کی طرف سے غلاموں کو فروخت کرنے یا عارضی طور پر کرائے پر لانے کے لیے ہے۔ ایک ماہر صحت مند غلام کے لیے خریدار اکثر 2000 ڈالر تک ادا کرتے تھے۔ اس طرح کی نیلامی اکثر خاندان کے افراد کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی تھی اور وہ دوبارہ اپنے عزیر و اقارب کو کبھی نہیں دیکھ پاتے تھے۔
صنعتی انقلاب کے بعد کچے مال جیسے اناج، گوشت، اون کی مانگ میں بھی توسیع ہوئی لیکن ان کی مالیا تی قیمت فیکٹری میں بنی اشیا کے مقابلے میں کم ہو گئی۔
صنعتی ممالک ابتدائی پیداوار کو کچے مال کی حیثیت سے درآمد کرتے تھے اور اضافی قیمت والے تیار مال کو غیرصنعتی ممالک کو واپس بر آمد کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے نصف آخرمیں جو خطے ابتدائی اشیا پیدا کررہے تھے ان کی اہمیت کم ہوگئی،اور صنعتی ممالک ایک دوسرے کے اصل گراہک بن گئے۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران ممالک میں پہلی بار تجارتی محصولات اور کمیاتی پابندیوں کو عائد کیا گیا۔جنگ کے بعد کے زمانے میں گیٹ (General Agreement of Tariff and Trade) جیسی تنظیم نے جو بعد میں چل کر عالمی تجارتی تنظیم (WTO=World Trade Organisation) بن گئی ، محصولات کو کم کرنے میں مدد کی۔

بین الاقوامی تجارت کیوں وجود میں آئی؟ 

(Why  Does  International Trade Exist?)

بین الاقوامی تجارت پیداوار میں تخصص (Specialisation) کا نتیجہ ہے۔ یہ عالمی معیشت کے لیے سود مند ہوتی ہے اگر مختلف ممالک اشیا کی پیداوار اور خدمات فراہم کرنے میں تخصص اور محنت کی تقسیم (Division of labour)   پر عمل کرتے ہیں۔ ہر قسم کا تخصص تجارت کو بڑھا وا دے سکتا ہے۔ اس طرح سے عالمی تجارت توازنی افادیت ، ایک دوسرے کے لیے تکملہ اور اشیا و خدمات کی منتقلی کے اصول پر مبنی ہے جواصولی طور پر تجارتی فریقین کے لیے مساوی طور پر نفع بخش ہونا چاہیے۔
جدید زمانے میں تجارت عالمی معاشی تنظیم کی بنیاد ہے اور ممالککی خارجہ پالیسیوں سےمتعلق ہے۔ نقل وحمل اور مواصلاتی نظام کے بہترطور پر ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ کوئی بھی ملک نہیں چاہتا کہ بین الا قوامی تجارت میں شرکت سے حاصل فوائد کو چھوڑدے۔

بین الاقوامی تجارت کی بنیاد 

(Basis of International Trade)

(i) ملکی؍قومی وسائل میں فرق (Diffrence  in :national resoures) دنیا کے قومی وسائل غیر مساوی طور پرمنقسم ہیں۔کیونکہ ان کی طبعی بناوٹ یعنی علم ارضیات،خدوخال ، مٹی اور آب وہوا میں           فرق ہے۔
(a)      ارضیاتی ساخت  :(Geological Structure) یہ معدنی وسائل کی بنیاد کاتعین کرتی ہے اوروضعی اختلافات (Topographical differences) فصلوں اور پالتو جانوروں کے تنوع کی ضمانت دیتی ہے۔نشیبی زمینوں میں                  زراعت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔پہاڑ سیاحوں کو کھینچتے ہیں اور سیاحت کو فروغ ملتاہے۔
(b) معدنی وسائل: یہ بھی پوری دنیا میں غیر مساوی طور پرمنقسم ہیں۔ معدنی وسائل کی دستیابی موجودہ صنعتی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔
(c) آب و ہوا : یہ نباتات اور حیوانات کی قسموں کو متاثر کرتی ہے جو کسی دیے گئے خطے میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ مختلف قسم کی پیداوار کے حد میں تنوع کی ضمانت بھی دیتی ہے جیسے اون کی پیدوار سرد خطے میں ہوتی ہے، کیلا، ربڑ اور کوکوا منطقہ حارہ میں اُگ سکتے ہیں۔

(ii) آبادی کے عوامل : (Population Factors) ممالک کے درمیان آبادی کی جسامت ،تقسیم اور تنوع تجارت کی جانے والی اشیا کی ضخامت اور نوعیت کو متاثر کرتی ہے۔

(a)   ثقافتی عوامل: (Cultural Factors) کسی خاص ثقافت میں فروغ پذیر آرٹ اور دستکاری کی ممتاز شکلیں جس کی قدر پوری دنیا میں کی جاتی ہے۔ جیسے چین عمدہ قسم کے چینی کے برتن اور کمخواب بناتا ہے، ایران کے قالین                     مشہور ہیں جبکہ شمالی افریقہ کے چمڑے کا کام اور انڈونیشیا کے بوٹی کپڑے دستکاری کے نمونے ہیں۔ 
(b)    آبادی کی مقدار یا جسامت : گنجان آبادی والے ممالک میں داخلی تجارت زیادہ ہوتی ہے لیکن خارجی تجارت کم ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ تر زراعتی اورصنعتی پیداوار مقامی بازار میں صرف کیا جاتا ہے۔ معیار زندگی بہترین معیار کے درآمدی پیداور کی مانگ کا تعین کرتی ہے کیونکہ کم معیار زندگی کے ساتھ صرف چند لوگ ہی قیمتی برآمداتی پیداوارکو خرید نے کی مالی صلاحیت رکھتے ہیں۔

(iii) معاشی ترقی کی منزل (Stage of Economic :Development) ممالک کی معاشی ترقی کے مختلف مراحل پر تجارتی اشیا کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ زراعتی طور پر اہم ممالک میں زرعی پیداوار کو فیکٹری پیداوار کے لیے تبادلہ کیا جاتا ہے جبکہ صنعتی ممالک مشین اور تیار مال کو بر آمد کرتے ہیں اور خوراکی اناج اور دیگر کچے مال در آمد کرتے ہیں۔

(iv) غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد (Extent of foreign Investment) : ترقی پذیر ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری تجارت کو بڑھا سکتی ہے۔ ان ممالک کے پاس کان کنی ، تیل نکالنے ، بھاری انجینئرنگ، عمارتی لکڑی اور شجر کاری زراعت کے لیے مطوبہ سرمائے کی کمی ہوتی ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس طرح کے سرمائے پر مبنی صنعتوں کو فروغ دے کرصنعتی ممالک اناج کے سامان اور معدنیات کی درآمد کو یقینی بناتے ہیں اور اپنی تیار اشیا کے لیے بازار پیدا کرتے ہیں۔ یہ پورا دور اقوام کے درمیان تجارت کی ضخامت کو بڑھاوا دیتا ہے۔

(v) نقل وحمل :قدیم زمانے میں نقل وحمل کے مناسب اور قابل ذرائع کے فقدان کی وجہ سے تجارت مقامی علاقوں تک محدودتھی۔صرف بیش قیمت اشیا جیسے جواہرات ، ریشم ، مسالوں کی تجارت لمبی دوری تک کی جاتی  تھی۔ ریل، بحری اور ہوائی نقل و حمل، انجمادی عمل اور تحفظ کے بہتر طریقوں میں توسیع کی وجہ سے تجارت میں بھی مکانی توسیع ہوئی ہے۔

بین الاقوامی تجارت کے اہم پہلو (Important Aspects of International Trade)

بین الاقوامی تجارت کے تین پہلو بہت ہی اہم  ہیں۔ضخامت (Volume) زمرہ جاتی یا حلقہ واری ساخت (Sectoral Composition) اور تجارت کی سمت (Direction of Trade) 

تجارت کی ضخامت (Volume of Trade)

تجارت کردہ اشیا کے اصل  ٹنوں کا حساب  اس کی ضخامت سے لگایاجاتا ہے۔ البتہ خدمات کی تجارت کی پیمائش ٹن میں نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے تجارت شدہ اشیا اورخدمات کی کل قیمت کو تجارت کی ضخامت مانا جاتا ہے۔ جدول 9.1  دکھاتا ہے کہ گذشتہ عشروں میں عالمی تجارت کی کل ضخامت تیزی سے بڑھتی رہی ہے۔

سرگرمی

آپ کیوں سوچتے ہیں کہ گذشتہ عشروں میں تجارت کی ضخامت بڑھی ہے؟ کیا ان اعداد و شمارکا موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ 1995کے بالمقابل 2015 میں نمو کتنی ہوئی ہے؟

تجارت کی ساخت  (Composition of Trade)  

گذشتہ صدی کے دوران ممالک کے ذریعہ در آمد و برآمدکی جانے والی اشیا کی نوعیت بدلتی رہی ہے۔

گذشتہ صدی کے اوائل میں ابتدائی پیداوار کی تجارت غالب تھی ۔بعد میں کارخانوں میں بنی اشیا نمایاں ہونے لگیں۔حالیہ دنوں میں اگر چہ کارخانے کا زمرہ عالمی تجار ت کی بڑی تعداد پر حاوی ہے، خدمت کا زمرہ جس میں سفر ، نقل وحمل اور دیگر کمر شیل خدمات شامل ہیں، آگے بڑھنے کے رجحان پر ہے۔کل عالمی تجارت میں مختلف اشیا کا حصہ ذیل میں دیئے گئے خاکہ Graph) میں دیکھا جا سکتا ہے۔

جدول  9.1  :  عالمی درآمدات و بر آمدات  (ملین امریکی ڈالر میں)


  1955 1965 1975 1985 1995 2005 2015
برآمدات کل مال تجارت
درآمدات کل مال تجارت
95,000
99,000
1,90,000
1,99,000
8,77,000
9,12,000
19,54,000
20,15,000
51,62,000
52,92,000
103,93,000
1,07,53,000
155,83,232
156,28,204

 

حوالہ:  wits.worldbank.org مورخہ 21.07.2017 

6

ہم دیکھتے  ہیں کہ مشین اور نقل وحمل کے سامان ، ایندھن اور کان کنی پیداوار ، دفتر اورٹیلی مواصلات کے ساز وسامان ، کیمیا، موٹر گاڑیوں کے پرزے زرعی پیداوار ، لوہا اور اسپات ، کپڑے اور ٹیکسٹائل، مال تجارت کی بڑی اشیا ہیں جن کی تجارت دنیابھرمیں کی جاتی ہے۔خدماتی زمرے کی تجارت ابتدائی اور کارخانہ جاتی زمرے کی پیداوار ی تجارت سے بالکل الگ ہے کیونکہ خدمات کی وسعت لامحدود ہو سکتی ہے، کئی لوگوں کے ذریعہ صرف کی جاتی ہے،اور بغیر وزن کی ہوتی ہے۔ ایک بارتیار کیے جانے کے بعد آسانی سے اس کی نقل تیار کی جا سکتی ہے اور اس طرح اشیا کی بہ نسبت زیادہ منافع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ 

تجارت کی سمت (Direction of Trade)  

تاریخی حیثیت سے موجودہ ترقی پذیر ممالک بیش قیمت اشیا اور آرٹ کے سامان وغیرہ یوروپی ممالک کو بر آمد کیا کرتے تھے ۔ انیسویں صدی کے دوران تجارت کی سمت میں تبدیلی ہوئی۔ یوروپی ممالک نے اپنی نو آبادیات سے خام جنس، اناج اور کچے مال کے بدلے کارخانوں کی بنی اشیا کو بر آمد کرنا شروع کیا۔ یوروپ اور امریکہ دنیا میں بڑے تجارتی شریک کی حیثیت سے ابھرے اور کارخانوں سے بنی اشیا کی تجارت میں رہنما بن گئے۔ اس وقت جاپان بھی تیسرا اہم تجارتی ملک تھا۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران عالمی تجارت کے نمونے میں نمایاں تبدیلی ہوئی۔ یوروپ کی نوآبادیات ختم ہوگئیں، ہندوستان ، چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا مقابلہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ شروع ہوا۔تجارتی اشیا کی نوعیت بھی بدل گئی۔

تجارت کا توازن  (Balance of Trade)  

تجارت کا توازن ایک ملک سے دوسرے ملک میں درآمد اور بر آمد کی گئی اشیا اور خدمات کی ضخامت کا اندراج ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کی در آمدات کی قیمت بر آمدات کی قیمت سے زیادہ ہے تو اس ملک کا تجارتی توازن منفی یا ناموافق ہے۔ اگر بر آمدات کی قیمت در آمدات کی قیمت سے زیادہ ہے تو اس ملک کا تجارتی توازن مثبت یا موافق ہے۔
تجارت کا توازن اور ادائیگی کا توازن کسی ملک کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کرتے ہیں۔منفی تجارتی توازن کا مطلب ہے کہ وہ ملک اپنی اشیا کو بیچ کر حاصل آمدنی کی بہ نسبت اشیا کی خرید پر زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا زرمبادلہ کاذخیرہ ختم ہو جائے گا۔

بین الاقوامی تجارت کی قسمیں

(Types of International Trade)

بین الاقوامی تجا رت کو دو قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
(a)    دو طرفہ تجارت: (Bilateral Trade) دوطرفہ تجارت دو ممالک کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ کی جاتی ہے۔ وہ اپنے درمیان مذکورہ اشیا کی تجارت کے لیے معاہدہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک A ملک B کے ساتھ کچھ      کچے مال کی تجارت کا معاہدہ کرتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ کچھ مخصوص اشیا ملک B سے خریدے گا یا اس کے برعکس۔
(b)    کثیر رخی تجارت: (Multi-lateral Trade) جیسا کہ اس لفظ سے ظاہر ہے کہ کثیر رخی تجارت کئی تجارتی ممالک کے ساتھ کی جاتی ہے۔ ایک ہی ملک کئی ممالک کے ساتھ تجارت کر سکتا ہے۔ ایک ملک کچھ تجارتی ساتھیوں کو ’’سب سے زیادہ ساتھ دینے والا ملک‘‘ (Most Favoured Nation=MFN) کا درجہ دے سکتا ہے۔

آزاد تجارت کا معاملہ (Case for free Trade)  

تجارت کے لیے اپنی معیشت کھولنے کے عمل کو آزاد تجارت یا تجارت کی کشادہ کاری کہا جاتا ہے۔ اسے تجارتی رکا وٹوں جیسے محاصل کو کم کر کے کیا جاتا ہے۔ تجارت کی کشادہ کاری سے گھریلو پیداوار اور خدمات کو ہر جگہ کی اشیا اور خدمات سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
آزاد تجارت کے ساتھ عالم کاری ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو بری طرح متاثر کرتی ہے کیونکہ شرائط کو نافذ کرکے مساوی کھیل کا میدان نہیں فراہم کیا جاتا جو نا موافق ہوتا ہے ۔نقل وحمل اورمواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ اشیا اور خدمات تیزی سے دور تک سفرکرسکتی ہیں جو پہلے نہیں تھا۔لیکن آزاد تجارت نہ صرف مالدار ممالک کو بازار میں داخلہ فراہم کرتی ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو اس بات کی اجازت بھی دیتی ہے کہ وہ اپنے بازار کو غیر ملکی پیداوار سے محفوظ رکھ سکیں۔
ممالک کو ڈمپ اشیا (Dumped goods) سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ آزاد تجارت کے ساتھ سستی قیمت کی ڈمپ اشیا گھریلو پیداوار کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ڈمپنگ (Dumping)  

دو ممالک میں اشیا کو ایسی قیمت پر فروخت کرنے کا عمل جو کئی وجوہات سے مختلف ہوں اور لاگت سے متعلق نہ ہوں، اسے ڈمپنگ کہا جاتا ہے۔
7
سرگرمی
ایسی چند وجوہات کے بارے میں سوچیے کہ تجارتی اقوام کے درمیان ڈمپنگ ایک سنگین مسئلہ کیوں ہوتا جا رہا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم (World Trade Organistion) 

1948 میں دنیا کو اونچے کسٹم محصولات اور مختلف دوسری قسم کی پابندیوں سے نجات دلا نے کے لیے کچھ ممالک کے ذریعہ محصولات اور تجارت کے لیے عام رضا مندی (General Agreement for Tariffs and Trade =GATT) کی تشکیل کی گئی تھی۔ 1994 میں ممبر ممالک کے ذریعہ ایک مستقل ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ممالک کے درمیان آزادی اور بے عیب تجارت کے فروغ پر نگرانی کی جا سکے اور پہلی جنوری 1995 میں GATT کو عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں بدل دیا گیا۔
عالمی تجارتی تنظیم واحد بین الاقوامی تنظیم ہے جو ممالک کے درمیان تجارت کے عالمی اصولوں سے بحث کرتی ہے۔ یہ عالمی تجارتی نظام کے لیے اصول وضع کرتی ہے اور اپنے ممبر ممالک کے درمیان جھگڑوں کا تصفیہ کرتی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے تحت خدمات کی تجارت جیسے ٹیلی مواصلات اور بینک  کی خدمات اوردانشورانہ حق ملکیت (Intellectual Right) جیسے دیگر مدعے بھی شامل ہیں۔
عالمی تجارتی تنظیم کی تنقید اور مخالفت ان کے ذریعہ ہوتی رہی ہے جو آزاد تجارت اور معاشی عالم کاری کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ آزاد تجارت عام آدمی کی زندگی کو زیادہ خوش حال نہیں بناتی ۔ یہ درحقیقت امیر ممالک کو مزید امیر بناکر امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو وسیع کر رہی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم میں با اثر ممالک اپنے تجارتی مفاد پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے ترقی پذیر ممالک کی پیداوار کے لیے اپنے بازاروں کو پور ی طرح نہیں کھولا ہے۔ یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ صحت ، مزدوروں کے حق ، بچہ مزدوری اور ماحول کے مدعوں کو نظر انداز کیا گیا ہے

کیا آپ جانتے ہیں

عالمی تجارتی تنظیم کا ہیڈ کوارٹر جنیوا، سوئٹزر لینڈ میں واقع ہے ۔                           
دسمبر 2016 میں 164    ممالک عالمی تجارتی تنظیم کے ممبر تھے ۔                           
ہندوستان عالمی تجارتی تنظیم کا ایک بانی ممبر رہا ہے۔   

علاقائی تجارتی بلاک (Regional Trade Blocs)  

جغرافیائی قربت، یکسانیت اور تجارتی اشیا میں ایک دوسرے کو پورا کرنے والے ممالک کے درمیان تجارت کی ہمت افزائی کرنے اور ترقی پذیر ممالک کی تجارت پر پا بندیو ں کو کم کرنے کے لیے علاقائی تجارتی بلاکوں کی تشکیل ہوئی۔آج 120علاقائی تجارتی بلاک ہیں جو دنیا کی تجارت کا 52 فی صدحصہ پیدا کرتے ہیں۔ان تجارتی بلاکوں کی ترقی عالمی تنظیموں کی ناکامی کی وجہ سے ہوئی تاکہ علاقوں کے اندر تجارت کی رفتار بڑھائی جا سکے۔
اگرچہ تجارتی بلاک ممبر ممالک کے درمیان تجارتی محصولات کو ختم کرتے ہیں اور آزاد تجارت کی ہمت افزائی کرتے ہیں، لیکن مستقبل میں مختلف تجارتی بلاکوں کے درمیان آزاد تجارت 9.2 میں کچھ بڑے علاقائی تجارتی بلاکوں کی فہرست دی گئی ہے۔
بین الاقوامی تجارت سے متعلق تفکرات (Concerns Related to International Trade) 
بین الاقوامی تجارت کو جاری رکھنا ممالک کے لیے مساوی طور پر سود مند ہے اگر اس میں علاقائی تخصص، پیداوار کی اونچی سطح، بہتر معیار زندگی،دنیا بھر میں اشیا اور خدمات کی دستیابی، قیمت اور مزدوری کی مساوی تقسیم اور علم و ثقافت کا انتشار ہوتا ہو۔
بین الاقوامی تجارت اقوام کے لیے مضر ہے اگر اس کی وجہ سے ددسرے ممالک پر انحصار ، ترقی کی غیر مساوی سطح ، استحصال اور جنگ کی حد تک تجارتی دشمنی شروع ہوجاتی ہو۔عالمی تجارت زندگی کے کئی پہلوؤں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے، ماحول سے لے کرصحت اور دنیا کے لوگوں کی فلاح و بہبود تک۔ جیسے جیسے ممالک کے درمیان زیادہ تجارت کے لیے مقابلہ ہوتا ہے، پیداوار اور قدرتی وسائل کا استعمال چکر دار طور پر بڑھتا جاتا ہے، وسائل کے استعمال کی رفتار ان کی معموری کے بالمقابل تیز ہوتی ہے۔ نتیجے کے طورپر بحری زندگی بھی تیزی سےختم ہورہی ہے، جنگلات کی کٹائی ہورہی ہے اور ندی کے طاس پانی پینے کی نجی کمپنیوں کے ہاتھوں بکتے جارہے ہیں۔تیل، گیس،کان کنی، دوائیوں اور زرعی کاروبار کی تجارت کرنے والی کثیر ملکی کمپنیاں اپنے کام کو کسی بھی قیمت پر بڑھاتی جارہی ہیں۔جس کی وجہ سے زیادہ آلودگی ہو رہی ہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ پائیدار ترقی کے اصولوں پر نہیں ہوتا۔ اگر تنظیموں کا مقصد صرف نفع کمانا ہے اور ماحول وصحت کے متعلق تفکرات کو مخاطب نہیں کیا جاتا ہے تواس سےمستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

بین الاقوامی تجارت کے گذرگاہ 


GATEWAYS OF INTERNATIONAL TRADE

بندرگاہ (Ports)

بین الاقوامی تجارت کی اصل گذرگاہیں پناہ گاہیں (Harbours) اور بندرگاہیں (Ports) ہیں۔ مال بردار جہاز اور مسافر دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک انھیں بندرگاہوں سے گذرتے ہیں۔ بندرگاہیں مال بردار جہازوں کے لیے گودی،مال چڑھانا،مال اتارنا اور سامان کی حفاظت کی سہولیات مہیا کرتی ہیں۔ ان سہولیات کو فراہم کرنے کے لیے بندرگاہوں کے عہدیدار،رود باروں کو جہاز رانی کے قابل بنائے رکھنے کے لیے انتظام کرتے ہیں۔رسیوں اور کشتیوں کا انتظام کرتے ہیں مزدور اور انتظامی خدمات فراہم کرتے ہیں۔کسی بندرگاہ کی اہمیت کا فیصلہ مال بردار جہازوں کی قامت اور وہاں آنے جانے والے جہازوں کی تعداد سے کیا جا تا ہے۔ ایک بندرگاہ پر مال بردار جہازوں کی مقدار اس کے پس پشت زمین (Hinterland)     کی ترقی کی سطح کا اشاریہ ہے۔

جدول 9.2: اہم علاقائی تجارت


امداد باہمی کے دیگر علاقے اشیا آغاز ممبر ممالک ہیڈ کوارٹر علاقائی بلاک
معاشی ترقی کی رفتاربڑھانا، ثقافتی ترقی، امن اور علاقائی استحکام زرعی پیداوار ربر،ناریل،تیل،چاول،کوپرا،کافی،معدنیات،تانبہ،کوئلہ،نکل،ٹنکشن،توانائی،پٹرولیم،اور قدرتی گیس اور سافٹ ویر کے پیداوار اگست 1967 برونئی دارالسلام، کمبوڈیا، انڈونیشیا،لاوس،ملیشیا،میانمار،فلپائن،سنگاپور،تھائی لینڈ،ویت نام جکارتا،انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا ممالک کی ایسوسی ایشن
( Association south east asian nations )
معاشیات، دفاع اور خارجہ پالیسی معاملوں پر سالمیت اور امداد باہمی خام تیل،قدرتی گیس،سوناروئی، ریشم، المونیم ____ آرمینیا، آزربائی جان،بیلا روس،جارجیا،قزاخستان،مالڈووا،روس،تاجکستان،ترکمنستان،یوکرین اورازبکستان منسک، بیلاروس کامن ویلتھ آزاد ریاستیں (CIS ) سی آئی ایس 
ایک سکے کے ساتھ ایک بازار زرعی پیداوار،معدنیات کیمیا،لکڑی،کاغذ،نقل وحمل کی گاڑیاں،آنکھوں کے آلے،گھڑیاں، آرٹ کے کام، قدیم اشیا ای ایسی مارچ1957 ای یو فروری 1992 آسٹریا،بلجیم،بلغاریہ،کروشیا، سائپرس،چیک جمہوریہ،ڈنمارک، اسٹونیا،فرانس،جرمنی،یونان،ہنگری،فن لینڈ،آئیرلینڈ اٹلی،لاویا،لتھوانیا،نیدر لینڈ،لھزر مبرگ،مالٹا پرتگال،سلو واکیا،سلووین،اسپین،سویڈن اور برطانیہ بروسیل، بیلجیم  یوروپین یونین( EU )ای یو
____ _____ 1960 ارجنٹا ئنا،بولیویا،برازیل،کولمبیا،اکواڈور،میکسیکو،پراگوے،پیرو،ارگوے اور وینیزیولا مونٹےویڈیو
اردگوئے
لاطینی امریکی انٹیگریشن ایسوسی ایشن (LAIA )ایل اے آئی اے 
____ زرعی پیداوار، موٹرگاڑیاں موٹرگاڑیوں کے پرزے،کمپیوٹر،ٹیکسٹائل 1994 ریاست ہائے متحدہ امریکہ،کناڈا اور میکسیکو شمالی امریکی آزاد تجارت گٹھ جوڑ  (NAFTA )این اے ایف ٹی اے 
پٹرولیم پالیسی کو مربوط کرنا اور متحدکرنا خام پٹرولیم 1994 الجیریا، انڈونیشیا،ایران،عراق،کویت،لیبیا،نائجیریا،قطر،سعودی،ورب، متحدہ عرب امارات اور وینیزولا وینا، آسٹریا  (پٹرولیم برآمداتی ممالک کی تنظیم )OPEC ( اوپیک ( او پی ای سی 
علاقائی تجارتوں کے درمیان محصولات کم کرنا _____ جنوری 2006 بنگلہ دیش،مالدیپ۔بھٹان،نیپال،ہندوستان،پاکستان اور سری لنکاس جنوبی ایشیائی آزاد تجارت ایگریمنٹ ( SAFTA ) ایس اے ایف ٹی اے 
 
9
شکل  9.5  :  سین فرانسسکو، سب سے بڑی زمین بند پناہ گاہ

بندرگاہ کی قسمیں (Types of Port)  

عام طور پر بندرگاہوں کی درجہ بندی وہاں آنے والی سواریوں کی قسموں کے مطابق کی جاتی ہے۔
مال بردار جہازوں کے مطابق بندرگاہ کی قسمیں:
(i)    صنعتی بندرگاہ: (Industrial Ports) یہ بندرگاہیں بھاری مقدار میں مال بردار جہازوں کے لیے خاص ہیں جیسے اناج، چینی، کچ دھات، تیل ، کیمیا اور اس جیسے سامان۔
(ii)   تجارتی بندر گاہ : (Commercial Ports) یہ بندرگاہیں عام مال بردار جہازوں میں لدی پیداوار اورفیکٹری اشیا کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان بندرگاہوں پر مسافر سواریاں بھی آتی جاتی ہیں۔
(iii)   جامع بندرگاہ : (Comprehensive Ports) ایسی بندرگاہوں پر بھاری اور عام مال بردار جہاز بڑے مقدار میں ہوتے ہیں ۔دنیا کے اکثر بڑے بندر گاہوں کو جامع بندرگاہ کے درجے میں رکھا گیا ہے۔

محل وقوع کی بنیاد پر بندرگاہ کی قسمیں:

(i) اندرون ملک بندرگاہ : (Inland Ports) یہ بندرگاہ ساحل سمندر سے دور واقع ہوتے ہیں۔سمندر سے ان کا تعلق ندی یا نہر کے ذریعہ ہوتا ہے۔ ایسے بندرگاہوں تک رسائی مسطح پیندے والے جہاز وں اور کشتیوں کے ذریعہ ہوتی ہے مثال کے طورپر مانچسٹر ایک نہر کے ذریعہ جڑاہے۔میمفس مسی سی پی ندی پر واقع ہے، رھائن پر مین ہیم اور دوئس برگ جیسے کئی بندرگاہ ہیں اور کولکتہ گنگا ندی کی ایک شاخ ہگلی ندی پر واقع ہے۔
(ii)    باہری بندرگاہ : (Out Ports) یہ گہرے پانی کے بندرگاہ ہیں جو اصلی بندرگاہ سے دور بنائے جاتے ہیں۔ یہ ممتاز بندرگاہ کی حیثیت سے ان جہازوں کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں جو اپنی جسامت میں بڑے ہونے کی وجہ سے کنارے            تک نہیں پہنچ سکتے اس کی ایک کلاسیکی مثال عدن ہے جس کا باہریبندرگاہ یونان کے پائیریس میں واقع ہے۔
مخصوص کا موں کی بنیاد پر بندرگاہوں کی قسمیں:
(i)    تیل بندرگاہ : (Oil Ports) یہ بندرگاہ تیل کو پر اسیس کرنے اور اسے جہاز پر لادنے کی کاروائی میں مشغول ہوتی ہیں ۔ ان میں سے کچھ ٹینکر بندرگاہ ہیں اور کچھ صفائی کارخانوں کی بندرگاہیں ہیں۔وینیزویلا میں مارا کیبو، تیونیشیا میں ایس کھیرا، لبنان میں تریپولی ٹینکر بندرگاہیں ہیں۔خلیج فارس پر ابادان صفائی کار خانہ بندرگاہ ہے۔
(ii)    لنگر اندازی بندرگاہیں : (Ports of Call) شروع میں ان بندرگاہوں کو اصل سمندری راستے پر لنگر اندازی نقطہ کی حیثیت سے فروغ دیا گیا تھا جہاں جہازتیل بھرنے، پانی اور کھانے کی اشیا لینے کے لیے لنگر انداز ہوتے تھے۔ بعد           میں انھیں تجارتی بندر گاہ میں بدل دیا گیا۔ عدن ، ہونولولواور سنگاپور اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
(iii)    پیکٹ اسٹیشن: (Packet Station) ان کو پھیری بندر گاہ بھی کہتے ہیں۔ یہ پیکٹ اسٹیشن چھوٹی دوریوں کے لیے پانی کے آر پار خاص کرمسافروں اورڈاک کی نقل وحمل کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ اسٹیشن جوڑے میں ہوتے ہیں جیسے انگلینڈ میں ڈوور اور فرانس میں کیلس انگلش چینل کے آر پار واقع ہیں۔
(iv)    گودامی بندرگاہیں: (Entrepot Ports) یہ ذخیرہ اندوزیکے مراکز ہیں جہاں مختلف ممالک سے سامان /اشیا کو بر آمدات کے لیے لایا جاتا ہے۔سنگاپور ایشیا کی گودامی بندرگاہ ہے۔ روٹرڈم یوروپ کا اور کوپن ہیگن بالٹک علاقے کا گودامی بندر گاہ ہے۔
(v)    بحریہ بندر گاہیں : (Naval Ports) یہ وہ بندر گاہ ہیں جو صرف جنگی اہمیت والے ہیں۔ یہ بندرگاہ جنگی بیٹروں کی خدمت کرتے ہیں اور ان کے پاس ان کی مرمت کے لیے ورکشاپ ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں ایسے بندرگاہوں کی مثال کو چی اور کاروار ہیں۔
10
شکل   9.6 :  لینن گریڈ کمرشیل بندرگاہ

مشق

مندرجہ ذیل چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔

(i) دنیا کے بڑے بندرگاہوں میں سے اکثر کی درجہ بندی کی جاتی ہے  بطور
(a) بحری بندرگاہ (b) تیل بندرگاہ
(c) جامع بندرگاہ (d) صنعتی بندرگاہ

(ii) مندرجہ ذیل میں سے کس بر اعظم میں عالمی تجارت کی روانی سب سے زیادہ ہے؟

(a) ایشیا (b) شمالی امریکہ
(c) یوروپ (d) افریقہ

(iii) مندرجہ ذیل شمالی امریکی ممالک میں سے کون اوپیک (OPEC) کا حصہ ہے؟

(a) برازیل (b) چلی
(c) وینیزیولا (d) پیرو

(iv) مندرجہ ذیل کس تجارتی بلاک میں ہندستان ایک ایسوسی ایٹ ممبر ہے؟

(a) ایس اے ایف ٹی اے (SAFTA) (b) او ای سی ڈی(OECD)
(c) آسیان(ASEAN) (d) اوپیک(OPEC)

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔

(i)    عالمی تجارتی تنظیم کا بنیادی کام کیا ہے؟
(ii) کسی ملک کی ادائیگی کامنفی توازن نقصان دہ کیوں ہے؟
(iii) تجارتی بلاک بنانے سے ممالک کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے جو  150 الفاظ سے زیادہ نہ ہوں۔

(i) بندرگاہ تجارت کے لیے سود مند کیسے ہیں؟ محل وقوع کی بنیاد پر بندرگاہوں کی درجہ بندی کیجیے۔
(ii) بین الاقوامی تجارت سے ممالک کو کیسے فائدہ پہونچتا ہے؟