Skip to content
Insanijughrafiakemubadiat-010

اکائی ۔ 4

باب ۔ 10

انسانی بستیاں

12

ہم سب گھروں کے جھنڈ میں رہتے ہیں۔آپ اسے گاؤں ،قصبہ ،شہر کہہ سکتے ہیں۔ یہ سب انسانی بستیوں کی مثالیں ہیں۔ انسانی بستیوں کا مطالعہ انسانی جغرافیہ کا بنیادی پہلو ہے کیونکہ کسی خاص خطے میں بستیوں کی شکل ماحول کے ساتھ انسانی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ انسانی بستی کی تعریف کم و بیش مستقل سکونت پذیر مقام کی حیثیت سے کی جاتی ہے۔گھروں کا ڈیزائن دوبارہ کیا جاسکتا ہے، عمارتوں میں ترمیم کی جا سکتی ہے، کام بدل سکتے ہیں لیکن بستی زمان و مکان میں قائم رہتی ہے۔ کچھ بستیاں ایسی ہو سکتی ہیں جس میں چھوٹی مدت کے لیے بود وباش ہو۔ممکن ہے وہ ایک موسم کے لیے ہی ہو۔

بستیوں کی درجہ بندی

CLASSIFICATION  OF  SETTELMENTS

دیہی شہری تضاد   RURAL URBAN DICHOTOMY

یہ بات بڑے پیمانے پر تسلیم کی جاتی ہے کہ بستیوں میں فرق دیہی اور شہری کی اصطلاح میں کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس بات پر کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ایک گاؤں یا شہر کی تعریف ٹھیک طور پر کیسے کی جائے۔اگرچہ آبادی کی تعداد ایک اہم معیار ہے لیکن یہ آفاقی معیار نہیں ہے کیونکہ ہندوستان اور چین کی گنجان آبادی والے ممالک میں بہت سے گاؤں کی آبادی مغربی یورپ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے کچھ شہروں سے زیادہ ہے۔

کبھی گاؤں میں رہنے والے لوگ زراعت اور دیگر ابتدائی سرگرمیوں میں مشغول ہواکرتے تھے لیکن فی الحال ترقی یافتہ ممالک میں شہری آبادی کا ایک حصہ گاؤں میں رہنا پسند کرتا ہے حالاں کہ وہ شہروں میں کام کرتے ہیں۔قصبہ اور گاؤں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ قصبے میں لوگوں کا اصل پیشہ ثانوی اور ثالثی زمرے سے متعلق ہوتا ہے جب کہ گاؤں میں زیادہ تر لوگ ابتدائی پیشے میں مشغول ہوتے ہیں جیسے زراعت ،مچھلی پالنا،لکڑی کاٹنا، کان کنی، جانوروں کی افزائش وغیرہ۔ کام کی بنیاد پر دیہی اور شہری بستیوں کا فرق زیادہ با معنی ہے حالاں کہ دیہی اور شہری بستیوں کے ذریعہ فراہم کردہ کاموں کی درجہ بندی میں کوئی یکسانیت نہیں ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں پٹرول پمپ کو کم درجے کا کام سمجھا جاتا ہے۔جب کہ ہندوستا ن میں یہ ایک شہری کام ہے۔ یہاں تک کہ ملک کے اندر بھی کاموں کی قیمت علاقائی معیشت کے مطابق بدل سکتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے گاؤں میں موجود سہولیات ترقی پذیر اورکم ترقی یافتہ ممالک کے گاؤں میں نایاب سمجھی جاتی ہیں۔


شہری مضافات  (Sub Urbanisation)  

بہتر معیار زندگی کی تلاش میں شہری علاقوں کی بھیڑ سے دور شہر کے مضافات کے صاف ستھرے علاقوں میں لوگوں کے جانے کا ایک نیا رجحان ہے ۔ اہم شہری مضافات بڑے شہروں کے چاروں طرف ترقی کرتے ہیں اور ہر دن ہزاروں لوگ اپنے شہری مضافات کے گھروں سے نکل کر شہر میں واقع اپنے کام کی جگہ پر آتے جاتے رہتے ہیں۔


1991 کی ہندوستان مردم شماری میں شہری بستیوں کی تعریف اس طرح کی گئی ہے ’’وہ تمام مقامات جس میں میونسپلٹی ، کارپوریشن ، کینٹون منٹ ، بورڈ یا نو ٹیفائڈ ٹاؤن ایریا کمیٹی ہو اورکم سےکم پانچ ہزار لوگوں کی آبادی ہو،کم ازکم 75 فی صد مردکامگار غیر زرعی کاموں میں مشغول ہوں اور کم ازکم آبادی کی کثافت فی مربع کلو میٹر400 لوگ ہوں وہ شہری بستیاں ہیں۔


بستیوں کی قسمیں اور طرز  

(Types and patterns of Settlements) 

بستیوں کو ان کی شکل اور طرزکی اقسام کے لحاظ سے بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔شکل کے اعتبار سے اہم قسمیں ہیں۔
(i)   گٹھی بستی یا مربوط بستی (Compact or :Nucleated Settlement) یہ وہ بستیاں ہیں جن میں گھروں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کے نزدیک ہوتی ہیں ۔ ایسی بستیاں ندی طاس کے ساتھ         اور زرخیز میدانوں میں فروغ پاتی ہیں۔ معاشرہ ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے اور ان کا مشترک  پیشہ ہوتا ہے۔
(ii)    منتشر بستیاں : (Dispersed Settlement) ان بستیوں میں گھر ایک دوسرے سے کافی دور ہوتے ہیں اور اکثر ان کے درمیان زرعی کھیت ہوتے ہیں۔ کوئی ثقافتی مقام جیسے عبادت گاہ یا بازار ان بستیوں کو آپس میں مربوط کرتا ہے۔
13
شکل   10.2: منتشر بستیاں

دیہی بستیاں (Rural Settlement)  

دیہی بستیوں کابراہ راست زمین سے بہت گہرا تعلق ہوتاہے۔ ان میں ابتدائی سرگرمیاں جیسے زراعت، جانوروں کی افزائش اور مچھلی پالن شامل ہیں۔ بستی کی قامت نسبتاً چھوٹی ہوتی ہے۔
14
شکل  10.1  :  گٹھی ہوئی یا مربوط بستی
15
شکل   10.3: پانی کے پاس وقوع

پانی کی فراہمی  (Water Supply) 

عام طور پر دیہی بستیاں آبی اجسام جیسے ندیوں، جھیلوں اور آبشاروں کے نزدیک واقع ہوتی ہیں جہاں پانی آسانی سے حاصل کیا جا سکے۔کبھی کبھی پانی کی ضرورت لوگوں کو غیر مفید جگہوں جیسے دلدل سے گھرے جزیروں یا ندی کنارے نشیبوں میں رہنے کے لیے مجبور کر دیتی ہیں۔ زیادہ تر پانی پر مبنی’’مرطوب نقطہ‘‘ بستیوں کے کئی فوائد ہوتے ہیں جیسے پینے، کھانا بنانے اور دھونے کے لیے پانی دستیاب ہوتا ہے۔ندیوں اور جھیلوں کا استعمال کھیتوں کی سینچائی کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔آبی اجسام میں مچھلیاں ہوتی ہیں جنھیں کھانے کے لیے پکڑا جا سکتا ہے۔ جہازرانی کے قابل ندیوں اور جھیلوں کا استعمال نقل وحمل کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

زمین (Land)  

لوگ زراعت کے لائق زرخیز زمینوں کے پاس رہناپسند کرتے ہیں۔یورپ میں گاؤں کی نشو نما ڈھلواں زمین پر ہوتی ہے، دلدلی اور نشیبی زمینوں سے بچا جاتا ہے جب کہ جنوب مشرقی ایشیا میں لوگ مرطوب چاول کی کاشتکاری کے لیے مناسب نشیبی ندی کی وادیوں اور ساحلی میدانوں میں رہنا پسند کرتے ہیں ۔ اولین بسنے والوں نے زرخیز مٹی والے میدانی علاقوں کا انتخاب کیا تھا۔

اونچی جگہ (Upland)

گھروں کو بربادی اور جانی نقصان سے بچانے کے لیے ایسی اونچی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا تھا جہاں سیلاب کا اثر نہ ہو۔اس طرح،نشیبی ندی طاسوں میں لوگ بسنے کے لیے چبوترہ اور پشتوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جو ’’خشک نقاط‘‘ ہیں۔منطقہ حارہ کے ممالک میں لوگ دلدلی زمینوں کے پاس اپنا گھر بانس کے ٹیکوں پر بناتے ہیں تاکہ وہ سیلاب،حشرات الارض اور کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رہ سکیں۔

 عمارتی سامان (Building Material)  

بستیوں کے پاس عمارتی سامان ۔لکڑی ، پتھر کی دستیابی ایک دوسرا فائدہ ہے۔قدیم گاؤں جنگلات صاف کرکے بنائے گئے تھے جہاں لکڑی وافر مقدار میں تھی۔
چین کے لوئس (باریک ریت کے) علاقوں میں غار کا مسکن اہم تھا اور افریقہ کے سوانا کاعمارتی سامان اینٹ تھا اورقطبی خطے میں اسکیموں برف کے تو دوں کا استعمال اگلو بنانے کے لیے کرتے ہیں۔
16
شکل  10.4  :  با نس ٹیک پر بنا گھر

دفاع (Defence)

سیاسی عدم استحکام،جنگ اور پڑوسی جماعتوں کی دشمنی کے دوران گاؤں دفاعی پہاڑوں اور جزیروں پر بسائے جاتے تھے۔ نائجیریا میں سیدھے کھڑے انسلبرگ بہتر دفاعی مقام فراہم کرتے تھے۔ ہندوستان میں زیادہ تر قلعے اونچی زمین یا پہاڑیوں پر واقع ہیں۔

منصوبہ بند بستیاں (Planned Settlement)  

وہ مقامات جو خود گاؤں والوں کے ذریعہ فطری طور پرنہیں منتخب کیے گئے۔ منصوبہ بند بستیاں حکومت کی طرف سے قبضہ شدہ زمین پر پناہ گاہ، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کرکے بنائی گئی ہیں۔ ایتھوپیا میں گاؤں بسانے کی تجویز اور ہندوستان میں اندرا گاندھی نہر کمانڈ علاقے میں نہری کالونیاں بسانا بعض اچھی مثالیں ہیں۔

دیہی بستیوں کا طرز

(Rural Settlement Patterns) 

دیہی بستیوں کا طرز اس طریقے کی عکاسی کرتا ہے جس میں گھر ایک دوسرے کے تعلق سے بنائے جاتے ہیں۔ گاؤں کی جگہ، گردو پیش کا وضع اور قطعہ زمین گاؤں کی شکل اور قامت کو متاثر کرتے ہیں۔
 دیہی بستیوں کی تقسیم کئی معیاروں پر کی جاسکتی ہے ۔
(i)  ترتیب کی بنیاد پر: (On the basis os Setting) اسکی اہم قسمیں میدانی گاؤں ، پٹھاری گاؤں، ساحلی گاؤں، جنگلاتی گاؤں اور ریگستانی گاؤںہیں۔
(ii) کام کی بنیادپر: (On the basis of Function) :زراعتی گاؤں، مچھواروں کے گاؤں، لکڑہاروں کے گاؤں ، چرواہے گاؤں ہو سکتے ہیں۔
(iii) بستیوں کی ہیئت یا شکل کی بنیاد پر (On the :basis of forms or shape of the settlement) گاؤںکی کئی اقلیدسی ہیئت        اور شکل ہو سکتی ہے جیسے خطّی، مستطیلی، دائرہ نما، ستارہ نما، ٹی شکل کا گاؤں، دوہرا گاؤں ، چورا ہے کی شکل کا گاؤں وغیرہ۔
(a) خطی طرز: (Linear Pattern) ایسی بستیوں میں گھر ،سڑک ، ریلوے لائن، ندی، نہر، وادی کے کنارے یا پشتے کے ساتھ واقع ہوتے ہیں۔
(b) مستطیلی طرز : (Rectangular Pattern) میدانی علاقوں یا بین پہاڑی وادیوں میں دیہی بستیوں کے ایسے طرز پائے جاتے ہیں۔ ان کی سڑکیں مستطیلی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کو زاویہ قائمہ پر کاٹتی ہیں۔
(c) دائرہ نما طرز: (Circular Pattern) دائرہ نما گاؤں کا فروغ  منصوبہ بند بستیاں جھیل ، تالاب کے چاروں طرف ہوتا ہے اورکبھی کبھی گاؤں کی منصوبہ بندی اس طرح کی جاتی ہے کہ مرکزی حصہ کھلا رہتا ہے اور اسے جانوروں کو رکھنے        اور انہیں جنگلی جانوروں سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
(d) ستارہ نما طرز: (Star like pattern) جہاں کئی سڑکیں آکر ملتی ہیں ان سڑکوں کے ساتھ گھروں کے بننے سے ستارہ کے شکل کی بستی بن جاتی ہے۔

17
ستارہ نما طرز
صلیبی شکل کی طرز
خطی طرز
دوہری طرز
دائرہ نما طرز
ٹی شکل کی طرز
کنواں نہر ندی سدڑک ریلوے درخت تالاب گاوں مندر پل

شکل  10.5  :  دیہی بستیوں کا طرز

(e) ٹی(T) شکل ،وائی (Y) شکل، چوراہے شکل یا صلیبی شکل کی بستیاں  (T-Shaped , Y-Shaped , Cross-Shaped or Cruciform :Settlements)  ٹی شکل کی بستیاں سڑک کے ترا ہے (T) پر بنتی ہیں۔ جبکہ وائی (Y) شکل کی بستیاں ان جگہوں پر بنتی ہیں جہاں دو سڑکیں تیسری سڑک کے ساتھ ملتی ہیں اور گھر ان سڑکوں کے کنارے بنائے جاتے ہیں۔صلیبی شکل کی بستیاں چوراہے پر بنتی ہیں اور گھرچاروں سمت میں پھیلتے جاتے ہیں۔
18
شکل  10.6  :  خطی طرز کی بستیاں
19
شکل   10.7  :  وائی (Y) شکل کی بستیاں
(f) دوہرے گاؤں (Double Village) یہ بستیاں ندی کے دونوں طرف پھیلتی جاتی ہیں جہاں پل یا فیری (ناؤ) سے پار کرنے کی سہولت ہوتی ہے۔

سرگرمی

اس پیٹرن کی کسی وضعی نقشے کی مدد سے پہچان کیجیے جو آپ جغرافیہ میں عملی کام، حصہ اول (این سی ای آرٹی 2006) درجہ یازدہم میں پڑھ چکے ہیں۔


دیہی بستیوں کے مسائل 

(Problems of Rural Settlements) 

ترقی پذیر ممالک میں دیہی بستیوں کی تعداد زیادہ ہے اور بنیادی سہولت کی کمی ہے۔ یہ منصوبہ کاروں کی لیے بڑی چنوتی اور موقع کی نمائندگی کرتی ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے دیہی بستیوں میں پانی کی فراہمی مناسب نہیں ہے۔ گاؤں کے لوگوں کو خاص کر پہاڑی اور خشک علاقوں میں پینے کا پانی لانے کے لیے لمبی دوری تک جانا پڑ نا ہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے ہیضہ اور یرقان عام مسائل ہیں۔جنوبی ایشیا کے ممالک کو اکثرسیلاب اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے-سینچائی کی عدم موجودگی سے فصلوں کے کاشتکاری سلسلے کو نقصان پہونچتا ہے۔ بیت الخلا اور کوڑا کرکٹ اٹھانے کی سہولیات کی عدم موجودگی سے صحت سے متعلق مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ڈیزائن اور عمارتی سامان ایک ماحولیاتی خطے سے دوسرے خطے میں بدلتے رہتے ہیں۔مٹی اور لکڑی کے بنے ہوئے گھر اور چھپر کو بھاری بارش اور سیلاب میں نقصان کا خطرہ رہتا ہے اور انہیں ہر سال مرمت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ تر گھروں میں مناسب روشن دان کی کمی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ گھر کی ڈیزائن میں مویشیوں کا باڑہ اور چارہ رکھنے کا گھر بھی اسی میں ہوتا ہے ۔ اور یہ اس مقصد کے تحت ہوتا ہے کہ پالتو جانور اور ان کے کھانے کو جنگلی جانوروں سے محفوظ رکھا جائے۔
کچی سڑکیں اورجدید مواصلاتی جال کی کمی ایک مثالی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ برسات کے دنوں میں یہ بستیاں کٹی ہوئی رہتی ہیں اور ناگہانی خدمات فراہم کرنے میں بھی مشکلات پیدا کر دیتی ہیں۔ ان کی بڑی دیہی آبادی کے لیے مناسب صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ ان مقامات پرمسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جہاں گاؤں بھی صحیح طور پر نہیں بن اور بس پاتے ہیں۔ اور گھر ایک بڑے علاقے میں پھیلے ہوتے ہیں۔

شہری بستیاں (Urban Settlement) 

تیز رفتار شہری نمو ایک نیا مظہر ہے۔حالیہ زمانے تک صرف چند بستیوں کی آبادی کی قدوقامت کچھ ہزار بودوباش کرنے والوں سے زیادہ تھی۔پہلی شہری بستی جس کی آبادی 1810 تک دس لاکھ سے زیادہ ہوگئی وہ تھا لندن کا شہر۔ 1982 تک دنیا کے تقریباً 175 شہروں کی آ بادی دس لاکھ کے نشانے کو پار کر گئی۔ آج کل دنیا کی 54 فی صد آبادی شہری بستیوں میں رہتی ہے جب کہ 1800 میں یہ تناسب صرف 3فی صد تھا (جدول10.1)

جدول 10.1 شہری علاقوں میں رہنے والی دنیا کی آبادی کا فی صد


سال فی صد
1800
1850
1900
1950
1982
2001
2017
3
6
14
30
37
48
54

 

شہری بستیوں کی درجہ بندی

(Classification of Urban Settlements) 

شہری علاقے کی تعریف ایک ملک سے دوسرے ملک میں بدلتی رہتی ہے۔ اس کی  درجہ بندی کی کچھ عام بنیادوں میں آبادی کی قامت، پیشہ ورانہ ساخت اور انتظامی نظام ہیں۔
آبادی کی قامت (Population Size) شہری علاقوں کی تعریف کرنے کے لیے زیادہ تر ممالک کے ذریعہ استعمال کیا جانے والا یہ ایک اہم معیار ہے۔کسی بستی کو شہری بستی کہنے کے لیے آبادی کی کم سے کم حد کولمبیا میں 1500ہے، ارجنٹائنا اور پرتگال میں 2000 ہے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور تھائی لینڈ میں 2500، ہندوستان میں 5000 اور جاپان میں 30,000 ہے۔آ بادی کی قامت کے علاوہ ہندوستان میں فی مربع کلو میٹر 400 لوگوں کی کثافت اور غیر زرعی کا مگاروں کی حصہ داری کا بھی خیال کیا جاتا ہے۔آبادی کی کم کثافت والے ممالک زیادہ کثافت والے ممالک کے موازنے میں کم تعداد کو قطعی شکل دے سکتے ہیں۔ ڈنمارک، سویڈن اورفن لینڈ میں 250 لوگوں کی آبادی والے تمام مقامات کو شہری کہا جاتا ہے۔آئس لینڈمیں ایک شہرکی کم سے کم آبادی 300 ہے جب کہ کناڈا اور وینیزیولا میں 1000ہے۔

پیشہ ورانہ ساخت (Occupational Structure)  

ہندوستان جیسے بعض ممالک میں ایک بستی کو شہری درجہ دینے کے لیے آبادی کی قامت کے علاوہ اہم معاشی سرگرمیوں کو بھی ایک معیار کی حیثیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح سے اٹلی میں ایک بستی کو اس وقت شہرکہا جاتا ہے جب کہ اس کی معاشی طور پر پیداوار ی آبادی کا 50 فی صد سے زیادہ حصہ غیر زرعی کاموں میں مشغول  ہے ہندوستان میں یہ معیار 75 فی صد ہے۔

انتظام  (Administration)  

کچھ ممالک میں بستی کو شہری درجہ دینے کے لیے انتظامی نظام ایک معیار ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں کسی بھی قامت کی بستی کو شہرکہا جا سکتا ہے اگر اس میں میونسپلٹی، کنٹونمنٹ بورڈ یا نوٹیفائڈ ایریا کونسل ہے۔ اسی طرح لاطینی امریکی ممالک برازیل اور بولیویا میں کسی بھی انتظامی مرکز کو اس کی آبادی کی قامت کا خیال کیے بغیر شہر مانا جاتاہے۔

محل وقوع  (Location)  

شہری مراکز کے محل وقوع کی جانچ ان کے کاموں کے حوالے سے کی جاتی ہے مثال کے طور پر تعطیلی گذرگاہوں (Holiday resort) کی نشست گاہی ضروریات ایک صنعتی قصبے،عسکری مرکز یا بندر گاہ کی ضروریات سے بالکل مختلف ہیں۔فوجی مصلحت رکھنے والے قصبات ایسے مقام کی تلاش کرتے ہیں جہاں قدرتی دفاع موجود ہو، کان کنی والے قصبات کی ضرورت معاشی طور پر قیمتی معدنیات کی موجودگی ہے،صنعتی قصبات کی ضرورت مقامی طور پر توانائی یا کچے مال کی فراہمی ہوتی ہے، سیاحوں کے لیے مراکز کو دل کش مناظر ، یا سمندری ریتیلی ساحل (Beach) ، ادویاتی پانی کا چشمہ (جھرنا) یا تاریخی کھنڈر کی ضرورت ہوتی ہے، بندرگاہوں کو پناہ گاہ وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
قدیم شہری بستیوں کا محل وقوع پانی کی موجودگی ،عمارتی سامان اور زرخیز زمین پر مبنی تھا۔آج جب کہ یہ چیزیں ابھی بھی قابل التفات ہیں ، جدید ٹکنالوجی ان شہری بستیوں کو ان اسباب کے وسائل سے دور واقع کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پائپ کے ذریعہ پانی دور دراز کی بستیوں کو فراہم کیا جاسکتاہے، اسی طرح عمارتی سامان کو لمبی دوری سے لایا جا سکتا ہے۔
جگہ کے علاوہ قصبات کی توسیع میں صورت حال کا اہم کردار ہوتا ہے۔ وہ شہر مراکز جو تجارتی راستوں کے پاس واقع ہیں، ان میں تیز رفتار ترقی ہوئی ہے۔

شہری مراکزکے کام

(Functions of Urban Centres)   

قدیم قصبات انتظامی امور، تجارت، صنعت ، دفاع اور مذہبی اہمیت کے مراکز تھے۔ امتیازی کاموں کی حیثیت سے دفاع اور مذہب کی اہمیت عام طور پر کم ہوگئی ہے لیکن دوسرے کام مرکزی فہرست میں اب بھی شامل ہیں۔آج کل کئی نئے کام جیسے تفریح طبع، رہائش گاہ، نقل وحمل ، کان کنی ،صنعت کاری یا فیکٹری لگانا اور معلوماتی ٹکنالوجی سے متعلق سب سے جدید سرگرمیاں مخصوص قصبات میں کی جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کاموں کے لیے لازمی طور پر شہری مراکزکی ضرورت نہیں ہوتی نہ ہی ان کا پڑوس کے دیہی علاقوں کے ساتھ کوئی بنیادی تعلق ہوتا ہے۔

موجودہ اور نئی بستیوں کی ترقی پر ایک کام کی حیثیت سے معلوماتی اور مواصلاتی ٹکنالوجی (ICT) کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟


سرگرمی                                                 

ان شہروں کی فہرست بنائیے جن کے پرانے کام نئے کاموں سے بدل گئے ہیں۔اگرچہ ایک شہر میں متعدد کام ہوتے ہیں لیکن ہمارا حوالہ ان کے غالب کام پر مبنی ہوگا۔مثلاً ہم شیفلڈ کو ایک صنعتی شہر، لندن کو بندرگاہی شہراور چنڈی گڑھ کو انتظامی شہر کہتے ہیں۔بڑے شہروں میں کاموں کی نوعیت بہت زیادہ ہے۔اس کے علاوہ شہر متحرک ہوتے ہیں اور ایک مدت کے بعد نئے کاموں کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انگلینڈمیں انیسویں صدی کے اوائل کے زیادہ تر ماہی گیر بندرگاہ اب سیاحت کے مراکز بن گئے ہیں ۔ زیادہ ترقدیم بازاری شہر اب صنعتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہیں۔قصبات اور شہروں کو مندرجہ ذیل درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔


انتظامی قصبات (Administrative Towns)  

قومی دارالسلطنت جہاں مرکزی حکومت کے انتظامی دفاتر ہوتے ہیں جیسے نئی دہلی ، کینبرا، بیجنگ، عدیس ابابا، واشنگٹن ڈی سی اور لندن وغیرہ انتظامی قصبات ہیں۔صوبائی (ریاستی) قصبات میں بھی انتظامی کام ہوسکتے ہیں جیسے وکٹوریہ(برٹش کولمبیا) البانی (نیویارک)، چنّئی (تامل ناڈو)

تجارتی اور کمر شیل قصبات

(Trading and Commercial Towns) 

زراعتی بازار کے قصبات جیسے وینی پیگ اور کنساس سیٹی؛بینک اور مالیات کے مراکز جیسے فرینک فرٹ، ایمسٹرڈم؛بڑے اندرون ملک کے مراکز جیسے مانچسٹر اور سینٹ لوئس؛ نقل وحمل کے نوڈس (Nodes) جیسے لاہور، بغداد اور آگرہ اہم تجارتی مراکز ہیں۔

ثقافتی قصبات (Cultural Towns)   

حج وزیارت اور یاترا والے مقامات جیسے یروشلم، مکہ جگن ناتھ پوری اور بنارس وغیرہ کو ثقافتی قصبات مانا جاتاہے۔ ان شہری مراکز کی مذہبی اہمیت زیادہ ہے ۔
شہروں میں جو اضافی کام ہوتے ہیں ان میں صحت اور تفریح طبع (میامی اور پنجی)، صنعت (پٹس برگ اور جمشید پور) کان کنی اور کھدائی (بروکن ہل اور دھنباد) اور نقل وحمل (سنگاپور اور مغل سرائے) اہم ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

شہر کاری (Urbanisation) کا مطلب ہے ملک کی آبادی میں شہری علاقوں میں رہنے والوں کے تناسب میں اضافہ کرنا ۔                             
شہرکاری کی سب سے اہم وجہ دیہی۔شہری ہجرت ہے۔1990کے آخری عشرہ کے دوران 20 سے 30 ملین لوگ ہر سال دیہاتی علاقوں کو چھوڑ کر قصبات اور شہروں میں جاتے رہے ہیں۔                               
انیسویں صدی کے دوران ترقی یافتہ ممالک میں تیزرفتار شہر کاری ہوئی۔       
بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران ترقی پذیر ممالک میں تیز رفتار شہر کاری دیکھنے کو ملی۔              

شکلوں کی بنیاد پر قصبات کی درجہ بندی

CLASSIFICATION OF TOWNS ON THE BASIS OF FORMS 

ایک شہری بستی کی شکل خطی ، مربع ، ستارہ نما یا ہلالی ہوسکتی ہے۔ درحقیقت بستی کی شکل ،فن تعمیر، عمارتوں کا انداز اور دیگر ساخت ،اس کی تاریخی اورثقافتی روایات کا نتیجہ ہیں۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے شہروقصبات منصوبہ بندی اور ترقی میں نمایاں فرق کی عکاسی کرتے ہیں۔ایک طرف ترقی یافتہ ممالک کے زیادہ تر شہر منصوبہ بند ہیں۔ تو دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کی زیادہ تر شہری بستیاں نا ہموار شکلوں کے ساتھ تاریخی طور پر ابھر کر سامنے آتی ہیں۔مثال کے طور پر چنڈی گڑھ اور کینبرا منصوبہ بند شہر ہیں جب کہ ہندوستان میں چھوٹے قصبات تاریخی طور پر قلعہ بند شہروں سے نکل کر بڑی شہری وسعت میں تبدیل ہوگئے ہیں۔

عدیس ابابا (گل نو)

(Addis Ababa (The new flower)

ایتھوپیا کی دارالسلطنت کا نام عدیس اباباہے، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے (عدیس بمعنی نیا اور ابابا بمعنی پھول)یہ ایک نیا شہر ہے جسے 1878ء میں قائم کیا گیا تھا۔
پورا شہر ایک پہاڑی وادی کی وضع میں واقع ہے سڑکوں کی ترتیب پر مقامی وضع کا اثر نمایاں ہے۔سڑکیں سرکاری صدر دفتر پیازا، ارات اور امسٹ کلو سے چاروں طرف نکلتی ہیں۔ مرکاتومیں بازار ہیں جو وقت کے ساتھ بڑھتے رہے ہیں اور اس وقت قاہرہ اور جوہانسبرگ کے درمیان سب سے بڑا بازار سمجھا جاتا ہے۔ ایک کثیر شعبہ یونیورسٹی ، ایک میڈیکل کالج اور اچھے اسکولوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے عدیس ابابا   ایک تعلیمی مرکز بن گیا ہے یہ جیبوتی اور عدیس ابابا ریل راستے کا ٹرمینل اسٹیشن بھی ہے۔بولے ہوائی اڈہ نسبتاً ایک نیا ہوائی اڈہ ہے۔ اس کے کثیر رخی کاموں کی فطرت اور ایتھوپیا کے وسط میں ایک بڑی مرکز ی گانٹھ ہونے کی وجہ سے اس شہر کا تیز رفتار نمو ہوا ہے۔
21
شکل  10.8  :  عدیس ابابا کی شہری ہیئت
22
شکل  10.9  :  عدیس ابابا کا حدفلکی (skyline)

کینبرا (Canberra) 

آسٹریلیا کی دارالسلطنت کی حیثیت سے کینبرا کی منصوبہ بندی امریکی زمینی منظر فن تعمیر کے ماہر والٹر برلن گرفن کے ذریعہ 1912ء میں کی گئی تھی۔ اس نے زمینی منظر کے قدرتی اشکال کو مد نظر رکھتے ہوئے 25,000 لوگوں کے لیے ایک باغاتی شہر بنانے کا تصور کیا تھا جس میں پانچ اصل مراکز قائم کرنے تھے اور ہر ایک کا علیٰحدہ علیٰحدہ شہر ی کام تھا۔گذشتہ چند دہائیوںمیں شہر کی وسعت اس قدر بڑھی کہ کئی سیارچہ قصبات اس میں شامل ہو گئے جن کے اپنے مراکز تھے۔     اس شہر میں وسیع کھلے مقامات ہیں اور کئی پارک اور باغات ہیں۔
23
شکل   : 10.10منصوبہ بند شہر کی شہری ہیئت۔کینبرا
شہری بستیوں کی اقسام
 (Types of Urban Settlement)  
قدوقامت، مہیا خدمات اور سر انجام دیئے جانے والے کاموں کی بنیاد پر شہری مراکز کو قصبہ ، شہر، ملین شہر، توسیع شدہ شہر (Conurbation) اور بلدعظمی (Megalopolis) کا نام دیا جاتا ہے۔

قصبہ (Town) 

قصبے کے تصور کو گاؤں کے حوالے سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔صرف آبادی کی قامت معیار نہیں ہے۔شہر اور گاؤں کے درمیان محض رسمی کاموں سے فرق ہمیشہ واضح نہیں ہو پاتا، بلکہ مخصوص کام جیسے کارخانہ چلانا، خوردہ فروشی اور تھوک تجارت اور پیشہ ورانہ خدمات قصبوں میں ہی پائی جاتی ہیں۔

شہر (City)  

شہر کو ایک رہنما قصبے کی حیثیت سے دیکھا جا سکتا ہے جو اپنے مقامی اور علاقائی حریفو ں سے خالی ہو۔لیوس ممفورڈ کے الفاظ میں’’شہر درحقیقت مربوط زندگی کی اعلیٰ اور سب سے پیچیدہ قسم کی طبعی شکل ہے‘‘۔شہر قصبات سے بہت بڑے ہوتے ہیں اور ان میں معاشی سرگرمیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں نقل وحمل کے آخری پڑاو (Terminals) بڑے مالیاتی ادارے اور علاقائی انتظامی دفاتر ہوتے ہیں۔ جب ان شہروں کی آبادی ایک ملین سے زیادہ ہو جاتی ہے تو انھیں ملین شہر (Million City) کہتے ہیں۔

توسیع شدہ شہر (Conurbation)  

توسیع شدہ شہر (Conurbation) کی اصطلاح گیڈس نے 1915ء میں دی اور اسے شہر ی ترقی کے ان بڑے علاقوں پر نافذ کیا جو ابتداً الگ الگ قصبات اور شہروں کے ملنے سے وجود میں آئے ۔گریٹر لندن، مانچسٹر ، شکاگو اور ٹوکیو اس کی مثالیں ہیں۔کیا آپ ہندوستان سے کوئی مثال دے سکتے ہیں؟

ملین شہر(Million City) 

دنیا میں ملین شہروں کی تعداد اس قدر بڑھ رہی ہے جو پہلے کبھی نہ تھی ۔ 1800 میںلندن  ملین کے نشانے تک پہونچ گیا، اس کے بعد 1850میں پیرس، 1860میں نیو یارک اور 1950تک تقریباً80شہر اس درجے میں آگئے۔ 70 کی دہائی کے وسط میں ملین شہروں کی تعداد 162 تھی اور 2005 میں اس میں تین گنااضافہ ہوا اور یہ تعداد بڑھ کر 438 ہو گئی۔2016 میں ، 512  شہروں میں کم از کم 1 ملین (10لاکھ) رہائشی تھے۔ 2030 تک، ممکنہ طور پر 662 شہروں میں کم از کم 1 ملین با شندے ہوں گے۔ 

بلد عظمی  (Megalopolis) 

میگا لو پولس ایک یونانی لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے ’’بڑا شہر‘‘ ۔اس لفظ کوجین گوٹ مین (1957) نے مشہور کیا اور اسے شہر الشہر (Conurbation) کے اتحاد کی حیثیت سے ام البلادی علاقوں کی توسیع کے لیے استعمال کیا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بوسٹن کے شمال سے لےکر واشنگٹن کے جنوب تک پھیلا ہوا شہری زمینی منظر بلدعظمی کی بہترین مثال ہے۔

میگا شہریا بلاد عظمیٰ کی تقسیم

(Distribution of Mega Cities)

میگا شہر یا میگا لو پولس (بلد عظمیٰ) ان شہروں کے لیے ایک عام اصطلاح ہے جن کی آبادی ان کے ذیلی شہروں کے ساتھ 10 ملین افراد سے زیادہ ہو۔نیویارک پہلا شہر تھا جو 1950ء تک 12.5 ملین آبادی سے ساتھ اس سطح تک پہنچ سکا۔   اس وقت بلا دعظمیٰ کی تعداد 25 ہے گذشتہ 50 سالوں میں ترقی یافتہ ممالک کے بالمقا بل ترقی پذیر ممالک میں بلاد عظمیٰ کی تعداد زیادہ بڑھی ہے۔

جدول  10.2  :  دنیا کے بلاد عظمیٰ


Population in 2016 thousand
City Country  Rank
38140
26454
24484
21357
21297
21240
21157
20337
19128
18604
18237
17121
15334
14980
14365
13744
13661
13131
13070
12981
12317
12260
12071
11558
10925
10828
10483
10456
10434
10163
10072

Tokyo,japan
Delhi,india.
Shanghat,china
Mumbai, india
salo, paulo,Barazil
Beijing, china
 (Cludad,de mexico  ( Mexico city 
Kinki MMA ( osaka ) japan
Al- Qahirah ( cairo ) Egypt
New York  USA
Dhaka, Bangladesh
Karachi,Pakistan
Buenos, Aires, Argentina
Kolkata, India
Istanbul, Turkey
Chongqing, China
Lagos.Nigeria
Manila, Philippines
Guangzhou,Guangdong,china
Rio de janeiro,Barazil
Los Angeles - Long Beach - Santa
Ana- USA
Moskva,( Moscow) Russian Federation
Kinshasa, Democratic Republic of the Congo
Tainjin, China
Paris, Farance
Shenzhen, China
Jakarta,Indonesia
Bangalore,India
London,United Kingdom
Chennai ( Madras) India
Lim, Peru

1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
ماخذ: www.citypopulation.de/world.html
                      
 

ترقی پذیر ممالک میں انسانی بستیوں کے مسائل 

(Problems of Human Settlement in Developing Countries) 

ترقی پذیر ممالک میں بستیاں کئی مسائل سے دو چار ہیں جیسے آبادی کا ناپائیدار ارتکاز، بھیڑ بھاڑ والے گھراور گلیاں ، پینے کے پانی کی سہولیات کی عدم موجودگی ۔ ان میں بنیادی سہولت جیسے بجلی ، گندے پانی کی نکاسی، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی بھی کمی ہے۔

سرگرمی   

دیہی /شہری مسائل                                                                   

کیا آپ اپنے شہر/قصبہ/گاؤں کے مسائل کی  مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کے تحت پہچان کر سکتے ہیں؟                                               
قابل استعمال پانی کی موجودگی                                         
بجلی کی فراہمی                                                       
گندے پانی کے نکاس کانظام                                          
نقل وحمل اور مواصلاتی سہولیات   
صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات                                       
پانی اور ہوا کی آلودگی                                                  
کیا آپ ان مسائل کے حل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟   

شہری بستیوں کے مسائل 

(Problems of Urban Settlements)

لوگ شہر میں روزگار کے مواقع اور شہر ی سہولیات کا فائدہ اٹھانے کے لیے آتے ہیں۔ چونکہ ترقی پذیر ممالک میں زیادہ تر شہر غیر منصوبہ بند ہیں اس لیے ان میں انتہائی بھیڑ ہوتی ہے۔گھروں کی کمی ،عمودی توسیع اور جھگی جھونپڑی کی نشو نما ترقی پذیر ممالک کے جدید شہروں کی مخصوص خصوصیات ہیں ۔کئی شہروں میں آبادی کا بڑھتا ہوا تناسب غیر معیاری گھروں یعنی جھگی اور جھونپڑپٹی بستیوں میں رہتا ہے ۔ہندوستان میں ملین سے زائد آبادی والے شہروں میں ہر چار میں سے ایک سکونت پذیر غیرقانونی بستی میں رہتا ہے جو باقی ماندہ شہر کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔ ایشیا کے بحرالکاہلی ممالک میں بھی تقریباً60 فی صد شہری آبادی جھونپڑ پٹی بستیوں میں گذاراکرتی ہے۔
26
شکل 10.11: جھگی جھونپڑی

ایک صحت مند شہر کیا ہے؟

عالمی صحت تنظیم (WHO) نے مشورہ دیا ہے کہ صحت مند شہر کے لیے دوسری چیزوں کے ساتھ مندرجہ ذیل باتیں ضرور ہونی چاہئیں:
صاف اور محفوظ ماحول ہو۔
اپنے تمام ساکنین کی ’’بنیادی ضرورت‘‘ پورا کرے۔
مقامی حکومت میں ’’معاشرے ‘‘ کی حصہ داری ہو۔
آسان قابل رسائی’’صحت ‘‘خدمات فراہم کرے۔

معاشی مسائل (Economic Problems) 

ترقی پذیر ممالک کے دیہی اور چھوٹے شہری علاقوں میں ملازمت کے مواقع میں کمی آبادی کو شہری علاقوں کی طرف دھکیلتی ہے۔لا تعداد مہاجرین کی آبادی نے غیر ماہر اور نیم ماہر مزدوروں کا ایک پول بنا ڈالاہے جب کہ شہری علاقے  پہلے سے ہی سیراب ہیں۔

سماجی- ثقافتی مسائل (Socio-Cultural Problems)  

ترقی پذیر ممالک کے شہر کئی سماجی برائیوں سے دو چار ہیں۔ ناکافی مالیاتی وسائل مناسب سماجی بنیادی ڈھانچے کی تخلیق میں ناکام ہیں جو کثیر آبادی کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ موجودہ تعلیم اورصحت کی سہولیات شہر کے غریبوں کی رسائی سے ماوراہیں۔صحت کے اشاریے بھی ترقی پذیر ممالک کے شہروں کی بے نور تصویر پیش کرتے ہیں۔ ملازمت اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے جرم کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔شہری علاقوں کی طرف مردوں کی منتخبہ اجرت بھی ان شہروں میں جنسی تناسب کا حلیہ بگاڑ دیتی ہے۔

ماحولیاتی مسائل  (Environmental  Problems)     

ترقی پذیر ممالک میں بڑی شہر ی آبادی نہ صرف وسائل کا استعمال کرتی ہے بلکہ بڑی مقدار میں پانی اور ہر قسم کے کچرے اور سامان کو بھی پھینکتی رہتی ہے۔ترقی پذیر ممالک کے کئی شہروں میں پینے کے لائق پانی اور گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے پانی کی کم از کم مطلوبہ مقدار کو بھی فراہم کرنا کافی مشکل ہے۔ گھریلو اور صنعتی زمروں میں روایتی ایندھن کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا کو سنگین طور پر آلودہ کر رہا ہے۔ گھریلو اور صنعتی کچرے یا تو گندے پانی کی نالیوں میں ڈالے جاتے ہیں یا کسی نا معلوم جگہ پران کا معالجہ کیے بغیر ڈھیر کر دیے جاتے ہیں۔ آبادی کو ٹھہرنے کی جگہ فراہم کرنے کے لیے اینٹ پتھر کی کھڑی کی گئیں ضخیم عمارتیں اور کفایت شعاری، حرارتی جزائر کو پیدا کرنے میں بہت ہی معاون کردار ادا کرتی ہیں۔
شہر، قصبات اور دیہی بستیاں اشیا،وسائل اور لوگوں کی آمد و رفت کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ انسانی بستیوں کی پائیداری کے لیے شہری دیہی ربط فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہے۔ جیسے جیسے دیہی آبادی کی رفتار بڑھی ہے، روزگار اورمعاشی مواقع کی تخلیق ، دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف ہجرت تیزی سے بڑھی ہے۔خاص طورپر ترقی پذیر ممالک میں جہاں پہلے سے ہی سنگین تناؤ کے تحت کام کر رہے شہری پر بنیادی ڈھانچے اور خدمات پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دیہی غربت کو ختم کرنا اور معیار زندگی میں اصلاح کرنا ، اسی طرح سے دیہی علاقوں میں ملازمت اور تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اشد ضروی ہو گیا ہے۔ ان مختلف معاشی ، سماجی اور ماحولیاتی ضروریات میں توازن پیدا کرکے دیہی ۔شہری ربط اور ان کےتکمیلی تعاون کو بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

شہری حکمت عملی (Urban Strategy)

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے اپنی شہری حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر ان ترجیحات کا خاکہ مرتب کیا ہے ۔
شہر کے غریبوں کے لیے جائے پناہ (Shelter) میں اضافہ کرنا۔
بنیادی شہری خدمات جیسے تعلیم، ابتدائی حفظان صحت، صاف پانی اور صفائی کی فراہمی۔
بنیادی خدمات اور سرکاری سہولیات تک عورتوں کی رسائی میں اصلاح کرنا۔
توانائی کے استعمال اور متبادل ،نقل وحمل نظام کو بلند کرنا۔
ہوا کی آلوگی کم کرنا۔

مشق

مندرجہ ذیل چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے

(i) بستی کی مندرجہ ذیل شکلوں میں سے کون سی شکل سڑک، ندی یا نہر کے دونوں کناروں پر بنتی ہے؟

(a) دائرہ جاتی (b) خطی
(c) صلیبی شکل (d) مربع

(ii)  مندرجہ ذیل میں سے کون سی معاشی سرگرمی ہر دیہی بستی میں غالب رہتی ہے؟

(a) ابتدائی (b) ثالثی
(c) ثانوی (d) رابعی

(iii) مندرجہ ذیل میں سے کس خطے میں سب سے قدیم دستاویزی ثبوت والی شہری بستی پائی جاتی ہے؟

(a) ہوانگ ہے  گھاٹی (b) سندھو گھاٹی
(c) نیل گھاٹی (d) میسوپوٹامیا

(iv)

2006 کے اوائل میں ہندوستان کے کتنے شہروں نے ملین شہر کا درجہ حاصل کر لیا؟  

(a) 40 (b) 42
(c) 41 (d) 43

(v) کس قسم کے وسائل کی کفایت ترقی یافتہ ممالک میں عظیم آبادی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے مناسب سماجی ڈھانچہ بنانے میں مدد کرسکتی ہے۔

(a) مالیاتی (b) انسانی
(c) قدرتی (d) سماجی

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔

(i) آپ بستی کی تعریف کر طرح کریں گے؟

(ii)   وقوع (Site) اور حالت (Situation) میں فرق واضح کیجیے۔
(iii)    بستیوں کو درجہ بند کرنے کی بنیادیں کیا ہیں؟
(iv) انسانی جغرافیہ میں انسانی بستیوں کے مطالعہ کی تائید آپ کس طرح کریں گے؟لکھیے۔
(v)   تصویر میں دکھائی گئی بستیوں کے اقسام کی پہچان کیجیے اور اس پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب لکھیے۔ جواب 150الفاظ سے زیادہ نہ ہوں۔

(i) دیہی اور شہری بستیاں کیا ہیں؟ ان کی خصوصیات بیان کیجیے۔

(ii) ترقی پذیر ممالک کی شہری بستیوں سے متعلق مسائل پر بحث کیجیے۔

پروجیکٹ/عملی سرگرمی

(i) کیا آپ شہر میں رہتے ہیں؟ اگر نہیں،کیا آپ اس کے آس پاس رہتے ہیں؟ کیا آپ کی زندگی کس طرح شہر سے جڑی ہوئی ہے؟

(a) اس شہر کا نام کیا ہے؟
(b) سب سے پہلے یہ کب بسا؟
(c) یہ جگہ کیوں منتخب کی گئی؟
(d) اس کی آبادی کتنی ہے؟
(e) یہ کون سے کام انجام دیے جاتے ہیں؟
(f) شہر کے خاکے پر ان علاقوں کو پہچاننے کی کوشش کرئیے جہاں یہ کام انجام دیے جاتے ہیں۔
ہر طالب علم پانچ چیزوں کی فہرست تیار کرے گاجو منتخب شہر سے منسلک ہیں؛ وہ چیزیں جو کہیں نہیں پائی جاتیں۔ یہ شہرکی ایک چھوٹی سی تعریف ہے جیسا کہ ہر طالب علم اسے دیکھتا ہے فہرستوں پر درجے کے باقی ہم جماعت کے ساتھ ملائیے۔ فہرستوں کے درمیان کتنی موافقت پائی جاتی ہے؟

(ii)   کیا آپ کچھ ایسے طریقوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جن کے ذریعہ آپ تن تنہا اپنی بستی کی آلودگی کی سطح کو کم کرنے میںتعاون دے سکیں۔

اشارے:
(a) کوڑا کرکٹ ڈالنے کا مناسب انتظام۔
(b) سرکاری نقل وحمل کا استعمال۔
(c) گھریلو پانی خرچ کرنے کا بہتر انتظام۔
(d) آس پڑوس میں درخت لگانا۔