حصہ نثر
- مکتوب نگاری
- تنقیدی مضمون
- ؐمختصر افسانہ
- یادیں
- آپ بیتی
- رپورتاژ
- انشائیہ
- طنز و مزاح
- سفرنامہ
- خاکہ
مکتوب نگاری
بعض اہلِ قلم نے مکتوب نگاری کو ایک لطیف فن قرار دیا ہے۔ ایسے خطوط بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں اعلیٰ تخلیقی ادب کی شان پائی جاتی ہے۔
مکتوب نگاری شخصی اظہار کی ایک شکل ہے۔ مکتوب نگار کا مخاطب کوئی ایک شخص ہوتا ہے جب کہ ادب کی دوسری اصناف میں ایک ساتھ کئی لوگ مخاطب ہوسکتے ہیں۔کچھ ادیبوں نے ایسے عمدہ خط لکھے ہیں کہ اب مکتوب نگاری کو ایک ادبی صنف کا مرتبہ حاصل ہو چکا ہے۔ایسے خطوط کا مطالعہ اس اعتبار سے اور بھی دل چسپ ہوجاتا ہے۔
مکتوب نگار کا مخاطب کوئی ہو، اگر مکتوب نگار کی تحریر میں کشش ہو تو خط ہر پڑھنے والے کے لیے د ل چسپ ہوسکتا ہے۔ اچھے خطوط ادب پاروں کے طور پر پڑھے جاتے ہیں۔ اردو نثر کی روایت میں غالب ، شبلی، مہدی افادی، چودھری محمد علی رودولوی، رشید احمد صدیقی،منٹوؔ، میراجیؔ اور ابو الکلام آزاد وغیرہ کے خطوط نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
مرزا غالبؔ
1797 تا 1869
غالبؔ نے نثر نگاری کا آغاز فارسی سے کیا۔ ان کی تین کتابیں’ پنج آہنگ‘،’ مہر نیمروز‘ اور’دستنبو‘ قابلِ ذکر ہیں۔ اردو میں بھی ان کے چار نثری رسالے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے مختلف کتابوں پر دیباچے، تقریظیں اور کچھ متفرق تحریریں بھی لکھی تھیں۔ ان میں غالبؔ کی نثر عام طور پر صاف اور سادہ ہے لیکن ان کا سب سے بڑا نثری کا رنامہ ان کے خطوط ہیں۔غالبؔ نے اردو خطوط نگاری کو ایک نیا راستہ دکھایا۔ بقول حالیؔ:
’’مرزا کی اردو خط وکتابت کا طریقہ فی الواقع سب سے نرالا ہے۔ نہ مرزا سے پہلے کسی نے خط وکتابت میں اختیار کیا اور نہ ان کے بعد کسی سے اس کی پوری پوری تقلید ہوسکی۔‘‘
غالبؔ نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ۔ان کے اردو خطوط میں ان کی اپنی زندگی اور زمانے کے بہت د ل چسپ نقشے سمٹ آئے ہیں۔ خاص طور پر 1857 کے آس پاس کا ماحول غالبؔ کے خطوط میں جس تفصیل کے ساتھ رونما ہوا ہے ، اس کے پیشِ نظر، یہ خطوط ایک تاریخی مواد کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ غالبؔ کے اردو خطوط کے د و مجموعے ’عودِ ہندی‘ اور ’اردوئے معلّے‘بہت مشہور ہوئے۔ غالبؔ نے جو اسلوب اختیار کیا تھا اس کی نقل کسی سے بھی ممکن نہ ہوسکی۔ واقعہ نگاری ، منظر نگاری اور جذبات نگاری کی غیر معمولی مثالیں ان کے خطوط میں بکھری ہوئی ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ طنز ومزاح کا عنصر بھی غالب ؔکی نثر میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔
(1)
منشی ہر گوپال تفتہؔ کے نام
صاحب!
تم جانتے ہو کہ یہ معاملہ کیا ہے اور کیا واقع ہوا؟ وہ ایک جنم تھا کہ جس میں ہم تم باہم دوست تھے اور طرح طرح کے ہم میں تم میں معاملاتِ مہرومحبت درپیش آئے۔ شعر کہے، دیوان جمع کیے۔ اُسی زمانے میں ایک بزرگ تھے کہ وہ ہمارے تمھارے دوستِ دلی تھے اور منشی نبی بخش اُن کا نام اور حقیرؔ تخلص تھا۔ ناگاہ، نہ وہ زمانہ رہا، نہ وہ اشخاص، نہ وہ معاملات، نہ وہ اختلاط ، نہ وہ انبساط، بعد چند مدّت کے دوسرا جنم ہم کو ملا۔ اگر چہ صورت اس جنم کی بعینہٖ مثل پہلے جنم کے ہے، یعنی ایک خط میں نے منشی نبی بخش صاحب کو بھیجا، اُس کا جواب مجھ کو آیا اور ایک خط تمھارا کہ تم بھی موسوم بہ منشی ہر گوپال ومتخلص بہ تفتہ ؔ ہو، آج آیا اور میں جس شہر میں ہوں ، اُس کا نام بھی دلّی اور اُس محلّے کا نام بلّی ماروں کا محلّہ ہے، لیکن ایک دوست اُس جنم کے دوستوں میں سے نہیں پایا جاتا۔ واللہ ڈھونڈنے کو مسلمان، اس شہر میں نہیں ملتا۔ کیا امیر، کیا غریب، کیا اہلِ حِرفہ۔ اگر کچھ ہیں تو باہر کے ہیں۔ ہنود البتہ کچھ کچھ آباد ہوگئے ہیں۔
اب پوچھو کہ تو کیوں کر مسکنِ قدیم میں بیٹھا رہا۔ صاحب بندہ! میں حکیم محمد حسن خاں مرحوم کے مکان میں نو دس برس سے کرایے پر رہتا ہوں اور یہاں قریب کیا بلکہ دیوار بہ دیوار ہیں گھر حکیموں کے اور وہ نوکر ہیں راجہ نرندر سنگھ بہادر والیِ پٹیالہ کے ۔ راجا نے صاحبانِ عالی شان سے عہد لے لیا تھا کہ بر وقتِ غارتِ دہلی، یہ لوگ بچ رہیں۔ چناں چہ بعدِ فتح، راجا کے سپاہی یہاں آبیٹھے اور یہ کوچہ محفوظ رہا ورنہ میں اور یہ شہر کہاں؟ مبالغہ نہ جاننا، امیر غریب سب نکل گئے۔ جو رہ گئے تھے، وہ نکالے گئے۔ جاگیردار، پنشن دار، دولت مند، اہلِ حِرفہ، کوئی بھی نہیں ہے۔ مفصّل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ ملازمانِ قلعہ پر شدّت ہے۔ اور بازپُرس اور داروگیر میں مبتلا ہیں، مگر وہ نوکر جو اس ہنگام میں نوکر ہوئے ہیں اور ہنگامے میں شریک رہے ہیں۔ میں غریب شاعر دس دس برس سے لکھنے اور شعر کی اصلاح دینے پر متعلق ہوا ہوں، خواہی اُس کو نوکری سمجھو، خواہی مزدوری جانو۔ اس فتنہ وآشوب میں کسی مصلحت میں ، میں نے دخل نہیں دیا۔ صرف اشعار کی خدمت بجالاتا رہا اور نظر اپنی بے گناہی پر، شہر سے نکل گیا۔ میرا شہر میں ہونا حکام کو معلوم ہے، مگر چوں کہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیان سے کوئی بات پائی نہیں گئی، لہٰذا طلبی نہیں ہوئی۔ ورنہ جہاں بڑے بڑے جاگیر دار بلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آئے ہیں، میری کیا حقیقت تھی۔ غرض کہ اپنے مکان میں بیٹھا ہوں ، دروازے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ سوار ہونا اور کہیں جانا تو بہت بڑی بات ہے۔ رہا یہ کہ کوئی میرے پاس آوے، شہر میں ہے کون جو آوے؟ گھر کے گھر بے چراغ پڑے ہیں۔ مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں۔ جرنیلی بندوبست یازدہم مئی سے آج تک، یعنی شنبہ پنجم دسمبر۱۸۵۷ئتک بہ دستور ہے۔ کچھ نیک وبد کا حال مجھ کو نہیں معلوم بلکہ ہنوز ایسے امور کی طرف حکام کو توجہ بھی نہیں۔ دیکھیے انجامِ کار کیا ہوتاہے۔ یہاں باہر سے اندر کوئی بغیر ٹکٹ کے آنے جانے نہیں پاتا۔ تم زنہار یہاں کا ارادہ نہ کرنا۔ ابھی دیکھا چاہیے، مسلمانوں کی آبادی کا حکم ہوتا ہے یا نہیں۔ بہ ہر حال، منشی صاحب کو میرا سلام کہنا اور یہ خط دکھا دینا۔ اس وقت تمھارا خط پہنچا اور اسی وقت میں نے یہ خط لکھ کر ڈاک کے ہرکارے کو دیا۔
شنبہ۵دسمبر۱۸۵۷ء
(غالبؔ)
مشق
لفظ ومعنی
ناگاہ : یک بہ یک، اچانک
اختلاط : میل ملاپ
انبساط : خوشی
بعینہٖ : ہو بہ ہو، بالکل
موسوم : نام سے پکارا جانے والا
واللہ : خدا کی قسم
اہلِ حِرفہ : مختلف پیشوں سےمتعلق لوگ مسکن : رہنے کی جگہ، گھر
صاحبانِ عالی شان : مراد انگریز حکّام غارت : لوٗٹ، تباہی وبربادی کوچہ : گلی
مبالغہ جاننا : واقعے کے خلاف سمجھنا، غلط جاننا شدّت : سختی
بازپرس : پوچھ گچھ
ہنگام داروگیر : وقت، زمانہ،پکڑ دھکڑ
ہنگامہ : شورش، فتنہ وفساد
خواہی : چاہے آشوب : ہنگامہ، فتنہ وفساد
مصلحت : مشورہ مخبر : خبر دینے والا، خفیہ رپورٹ دینے والا
سیاست پانا : سزا پانا جرنیلی بندوبست : فوجی انتظام
ٹکٹ : اجازت نامہ زنہار : ہرگز
غور کرنے بات
- انگریزوں کے خلاف 1857کی بغاوت کی ابتدا ۱۰؍مئی کو ہوئی۔ اس ہنگامے کے زمانے میں اور اس کے ختم ہونے کے بعد، دہلی والے جن تکلیف دہ اور مایوس کن حالات سے دوچار ہوئے، غالبؔ نے اس خط میں نہایت پر اثر انداز میں ان کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس قسم کے واقعات انسان کی شخصی اور سماجی زندگی کا تانا بانا بری طرح سے بکھیر دیتے ہیں۔ اس خط سے اس کا بہ خوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
- اس خط کو غور سے پڑھا جائے تو یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ غالبؔ کے خطوط صرف اُن کی ذاتی زندگی ہی کی عکّاسی نہیں کرتے، ان کے زمانے کے سماجی ماحول اور سیاسی حالات کے بارے میں بھی نہایت کار آمد معلومات فراہم کرتے ہیں۔
سوالات
1 . ’دوسرا جنم ہم کو ملا‘‘اس سے غالبؔ کی کیا مراد ہے؟
2 . ’’مفصّل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں‘‘ غالبؔ نے یہ بات کیوں لکھی ہے؟
3 . ’’اس فتنہ وآشوب میں میں نے کسی مصلحت میں دخل نہیں دیا‘‘ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
4 . ’’گھر کے گھر بے چراغ پڑے ہیں‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟
5 . ’’مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں‘‘ غالبؔ نے اس جملے میں کیا کہنا چاہا ہے؟
عملی کام
- اس خط کی روشنی میں غالبؔ کے زمانے پر ایک نوٹ لکھیے۔