Skip to content
Ghulistan-e-adab Chapter-2

2

منشی نبی بخش حقیرؔ کے نام

بھائی صاحب کا عنایت نامہ پہنچا۔ آپ کاہاتھرس سے کول آجاناہم کو معلوم ہو گیا تھا ۔ ہمارا ایک وقائع نگار اُس ضلعے میں رہتا ہے۔حَق تَعالیٰ اُس کو جیتا رکھے ۔
گرمی کاحال کیا پوچھتے ہو، اس ساٹھ برس میں یہ لُواوریہ دھوپ اور یہ تپش نہیں دیکھی۔ چھٹی ساتویں رمضان کو مینہ خوب برسا۔ ایسامینہ،جیٹھ کے مہینے میں بھی کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اب مینہ کھُل گیا ہے ۔ ابر گھِرا رہتا ہے ۔ہوا اگر چلتی ہے تو گرم نہیں ہوتی اور اگر رُک جاتی ہے توقیامت آتی ہے ۔ دھوپ بہت تیز ہے ۔روزہ رکھتاہوں مگر روزے کو بہلائے رہتاہوں ،کبھی پانی پی لیا، کبھی حُقّہ پی لیا، کبھی کوئی ٹکڑا روٹی کاکھا لیا۔ یہاں کے لوگ عجب فہم اورطرفہ روش رکھتے ہیں۔میں تو روزہ بہلاتارہتاہوں اور یہ صاحب فرماتے ہیں کہ تو روزہ نہیں رکھتا۔یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنااور چیز ہے اور روزہ بہلانا اور بات ہے۔
جے پور کا حال آپ کو منشی صاحب کے اظہار سے یا ان کے نام کے خطوط دیکھ کر معلوم ہو گیاہے ۔ مکرّرکیوں لکھوں۔خیر غنیمت ہے ۔ یہ کیا فرض تھا کہ ہم جو چاہتے تھے،وہی ہوتا۔ 
ہاں بھائی پرسوں کسی شخص نے مجھ سے ذکر کیاکہ ’’ـ اردو اخبار ‘‘دہلی میں تھا کہ ہاتھرس میں بلوہ ہوا اورمجیسٹریٹ زخمی ہوگیا۔ آج میں نے ایک دوست کے ہاں سے اس اخبار کا دو ورقا منگا کر دیکھا ۔ واقعی اس میں مندرج تھاکہ راہیں چوڑی کرنے پر اور حویلیاں اور دوکانیں ڈھانے پر بلوہ ہوااور رعایانے پتھّرمارے اور مجیسٹریٹ زخمی ہوا ۔حیران ہوں کہ اگر یوں تھاتوصاحب وہاں سے چلاکیوں نہ آیا۔ اور اگر حاکم نہیں آیاتو آپ کیوں کر تشریف لائے ۔ہوس ناکا نہ خواہش ہے کہ آپ اس حال کومفصّل لکھیے۔

                                                                                             (غالبؔ)

مشق                             

لفظ و معنی

وقائع نگار                     :            واقعہ نویس،خبریں دینے والا
تپش                           :              گرمی  
فہم                            :            سمجھ  
طُرفہ                          :            انوکھا  
دو ورقا                         :      دو ورق والا
ہوس نا کانہ                    :     ہوس سے بھرا ہوا، مراد، بے تابی سے     

غور کرنے کی بات  

  • ہاتھرس کے فساد کی خبر سے غالبؔ کو جو تشویش ہوئی اس کا اظہار انھوں نے اس خط میں کیا ہے۔
  • یہ فساد راستوں کو چوڑا کرنے اور حویلیوں کو ڈھانے کے سبب رو نما ہوا تھا۔
  • اس خط میں گرمی کے مہینے میں روزے کی کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے ۔

سوالات

1.     غالب ؔنے کن لفظوں میں گرمی کی شدّت کا ذکر کیا ہے؟
2. غالب ؔکی مکتوب نویسی کی خصوصیات واضح کیجیے۔
 3.     ہاتھرس میں فساد کا سبب کیا تھا؟

عملی کام  

  • آپ پر گرمی کا موسم کیا اثر ڈالتا ہے۔ ان کیفیات کو اپنے لفظوں میں لکھیے۔