
3
تنقیدی مضمون
وہ مضمون جس میں کسی ادبی صنف ، کسی ادبی تخلیق یا کسی ادبی نظریے کے مختلف پہلؤوں پر رائے زنی کی جائے تنقیدی مضمون کہلاتا ہے۔ ادب میں تنقید کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ اس کے تحت ادبی تخلیقات کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ہر فن کے کچھ اصول ہوتے ہیں ، جن کی روشنی میں فن اور ادب کی جانچ کی جاتی ہے۔ تنقید نگار کے لیے ذاتی پسند وناپسند سے زیادہ اہم وہ معیار ہوتے ہیں جن کی قدر و قیمت ہر زمانے میں برقرار رہتی ہے۔
ہم جب کسی ادبی تخلیق کو پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں متاثر کرتی ہے۔ یہ تاثر اچھا بھی ہوسکتا ہے اور بُرا بھی۔یہ تاثر وقتی بھی ہوسکتا ہے اور مستقل بھی۔چوں کہ ہم میں زیادہ تر لوگ ادب کو وقت گزاری کی چیز سمجھتے ہیں اور اس سے صرف تفریح حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم بالعموم کسی تخلیق کو بار بار نہیں پڑھتے ۔ جب کہ تنقید نگار ادبی تخلیق کا ایک سے زیادہ بار مطالعہ کرتا ہے اور ہر بار وہ ایک نئے تاثر سے دوچار ہوتا ہے۔ بہت سے تاثرات سے گزرنے کے بعد وہ اُن کی چھان پھٹک کرتا ہے۔ اس طرح اُس تخلیق کی زیادہ سے زیادہ خوبیاں اور خامیاں اُس پر واضح ہوتی جاتی ہیں۔ اِس عمل سے گزرنے کے بعد ہی تنقید نگار کسی نتیجے تک پہنچتا ہے۔ تنقید، تشریح اور تجزیہ ہی نہیں کرتی، ادبی تخلیق کے بارے میں ایک سوچی سمجھی رائے بھی دیتی ہے۔
حالی، شبلی اور محمد حسین آزاد کے دور کے بعد جن نقادوں کی تحریریں ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں ان میں عبد الرحمن بجنوری، مسعود حسن رضوی ادیب، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، آل احمد سرور ، کلیم الدین احمد وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔
احتشام حسین
1912 تا 1972
سید احتشام حسین اعظم گڑھ کے ایک گاؤں ماہل میں پیدا ہوئے۔تعلیم اعظم گڑھ اور الہ آباد میں حاصل کی۔ 1932 کے آس پاس ان کی ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا میں افسانہ نگاری اور ڈرامانویسی کے ساتھ ساتھ نظمیں اور غزلیں بھی لکھتے رہے۔ بعدمیں تنقید پر توجہ کی۔1936 میں الہ آباد یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا۔1938 میں لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں استاد مقرر ہوئے۔ 1952میں راک فیلر فاؤنڈیشن کی مدد سے امریکا اور انگلستان کا سفر کیا۔1961 میں الہ آباد یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ انتقال الہ آباد میں ہوا۔
احتشام حسین نے علم زبان سے متعلق جان بیمز کی انگریزی کتاب کا ترجمہ ’’ہندوستانی لسانیات کا خاکہ‘‘ کے نام سے کیا۔ اس کے علاوہ افسانوں کا مجموعہ ’’ویرانے‘‘ اورسفرنامہ ’’ساحل اورسمندر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بچوں کے لیے ’’اردو کی کہانی‘‘ لکھی۔ ہندی میں اردو ادب کی تاریخ ’’اردو ساہتیہ کا آلوچناتمک اتہاس‘‘ کے عنوان سے مرتّب کی۔
احتشام حسین کا اصل میدان تنقید ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے شروع سے وابستہ رہے۔ اشتراکیت میں یقین رکھتے تھے۔ لہٰذا اپنی تنقیدی تحریروں میں انھوں نے اسی نظریے کی روشنی میں زندگی اور ادب کے مسائل کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔تنقیدی مضامین کے متعدد مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ چند کے نام درج ذیل ہیں:
’’تنقیدی جائزے‘‘،’’روایت اور بغاوت‘‘ ،’’ادب اور سماج‘‘، ’’تنقیدی اور عملی تنقید‘‘ ’’ذوقِ ادب اور شعور‘‘، ’’افکار ومسائل‘‘ اور’’ اعتبارِ نظر‘‘ وغیرہ۔
پیش نظر مضمون ’’اعتبار نظر‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اس میں رتن ناتھ سرشارؔ کے ناول ’’فسانۂ آزاد‘‘ کے مشہور مزاحیہ کردار’’ خوجی‘‘ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
خوجی — ایک مطالعہ
کبھی کبھی تو خوجی پر غور کرتے ہوئے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اسے صرف لکھنؤ کا انسان سمجھنا اس کی عظمت اور آفاقیت کی توہین ہے۔ وہ ہر ایسے عہد میں پیدا ہوتا ہے جب اس دور کی صداقت پر شک ہونے لگتا ہے۔ وہ شیکسپیر کو فالسٹاف اور کنگ لیئر کے درباری ظریف کی شکل میں ملا تھا۔ سروینٹیز نے اسے ڈان کوئکزوٹ اور سینکو پائنزا کے لباس میں پایا تھا۔ سرشار نے اسے خوجی کے بھیس میں ڈھونڈ نکالا اور منشی سجاد حسین نے حاجی بغلول کہہ کر پکارا۔ وہ ہر دفعہ عاقلوں کی دنیا پر تنقید کرنے کے لیے اٹھتا ہے اور اپنی احمقانہ باتوں سے بہت سی ایسی صداقتوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے، سنجیدگی جس کی متحمّل نہیں ہوسکتی تھی۔ ہاں، یہ نہ بھولنا چاہیے کہ لکھنؤ اور سرشار خوجی ہی کوجنم دے سکتے تھے۔
خوجی سے ہماری پہلی ملاقات نواب صاحب کے تاریخی بٹیر صف شکن علی شاہ کے گم ہو جانے کے وقت ہوتی ہے، جہاں بہت سے مصاحب نواب صاحب کو بٹیر کی گم شدگی پر تعزیت دے رہے ہیں، وہاں خوجی بھی ہے۔ اس میں کوئی خصوصیت ایسی ضرور ہے کہ وہ بہت جلد ہمیں اپنی طرف متوجّہ کر لیتا ہے۔ اس کی تیز زبانی، اس کے فقرے، اس کی خالص افیونیوں کی سی گفتگو ، سب میں ایک ذہین بھانڈ کی کیفیت ہے۔ شروع میں ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ آگے بڑھ کر اس کی ہستی افسانے پر چھاجائے گی اور جہاں وہ نہ ہوگا، وہاں’’ فسانہ آزاد‘‘ کی دلکشی کوگہن لگ جائے گا۔ لیکن جب نواب صاحب کی زبانی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خوجی کی عمر ساٹھ سال ہے تو ہمیں اس کی باتوں میں ا یک طرح کا مزاآنے لگتا ہے۔ وہ اپنے خیال میں سنجیدگی سے رائے دے رہا ہے لیکن ہر شخص اسے چھیڑتا ہے۔ وہ بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری ہے۔ ہر جگہ اپنی برتری جتانا ضروری ہے اور ہر شخص پر تنقید کرنا لازمی ہے۔ یہیں ہمیں اس کی سیرت کے ابتدائی نقوش مل جاتے ہیں، جن کا زیادہ حصّہ کتاب کے ختم ہو نے تک باقی رہتا ہے۔ اس کے ڈرنے اور نفرت کرنے کی چیزوں میں پانی ہے جس کے نام سے وہ پناہ مانگتا ہے ۔ آگے چل کر اس میں کمہار اور بوٗا زعفران کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کی پسند کی چیزیں افیون اور گنّا ہیں۔ چونکہ اس کا کردار مبالغہ آمیز اور غیر معتدل ہے اس لیے اس کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی محبت اور نفرت ہر چیز جلد جلد نمایاں ہوتی رہتی ہیں۔
خوجی اپنی عام گفتگو میں اپنا مذہب اوراپنی قومیت ہندوستانی ظاہر کرتا ہے۔ لیکن جب تہذیب کے امتحان کا وقت آتا ہے تو خوجی اپنی عام گفتگو میں اپنا مذہب اوراپنی قومیت ہندوستانی ظاہر کرتا ہے۔ لیکن جب تہذیب کے امتحان کا وقت آتا ہے تو وہ خالص مسلمان بن جاتا ہے۔ قدیم اورجدید میں اس کے انتخاب اور اجتناب کی حدیں واضح ہوجاتی ہیں۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے کبابیے کے یہاں سے کباب خرید کر کھانے کوبُرا نہیں سمجھتا کیونکہ ایسا ہوتا آیا ہے لیکن ہوٹل میں جا کر کھانے کووہ شرعاً ناجائز خیال کرتا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہاں شراب ضرور پینا پڑتی ہے اور سوٗر کے گوشت سے تو چھٹکارا ہی نہیں۔ انھیں باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خوجی میں در حقیقت وہ طنز ہے جوایک مٹتی ہوئی تہذیب،معاشرتی تغیرات کے خلاف اپنے آخری حربے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
یہ کبھی نہ بھولنا چاہیے کہ آزاد اور خوجی مل کر اس وقت کی زندگی کی تصویر بناتے ہیں۔ایک کے بغیر دوسرا ادھو را رہ جائے گا، ایک دوسرے کے لیے عقبی زمین کا کام دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ سرشار نے ایک ہی کردار کے دو ٹکڑے کردیے ہیں۔ انسانی سیرت کے جن پہلوؤں میں ان کو بلندیٔ فکر اور ربط نظر آیا، وہ آزاد کے لیے مخصوص کردیے اور جن میں پستی فکر اور بے ڈھنگاپن تھا، وہ خوجی کے سرمنڈھ دیے چنانچہ دونوں کا تقابلی مطالعہ بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر میاں آزاد عالم فاضل ہیں تو خوجی بھی اپنی علمیت کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ وہ آزاد کے ساتھ ساتھ فیضی کی غزلوں کے اشعار پڑھتا ہے۔ وہ طبیبوں کے لکھے ہوئے نسخے پر اعتراض کرتا ہے۔ وہ لکھا پڑھا ہے اور نظمیں لکھا کرتا ہے۔ اگر چہ اس کی یہ علمیت بھی بے سلیقگی کا شکار ہے۔ سچ یہ ہے کہ جب انسان کا علم نامکمل اور بے ترتیب ہوتا ہے تو اس میں دونوں پہلو نکلتے ہیں۔ میاں آزاد بہادر ہیں تو خوجی بھی اپنی بزدلی کوعمل کے پردوں میں چھپانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ عاشق مزاج دونوں ہیں اور دونوں کے عشق میں ایک عجیب طرح کی ناہمواری ہے۔ فرق صرف مذاقِ سلیم اور حسنِ انتخاب کا ہے۔ ظرافت اوربذلہ سنجی دونوں کے یہاں ہے، لیکن سطح کا فرق ہے۔ اس طرح یہ نظر آنے لگتا ہے کہ خوجی اور آزاد دونوں مل کر ایک مکمّل تصویر بناتے ہیں، علاحدہ علاحدہ ان میں سے کوئی بھی مکمّل نہیں۔ خوجی کی سیرت آزادہی کی صحبت میں نمایاں ہوسکتی تھی۔ دوسرے کے ساتھ اور دوسرے ماحول میں دب کر رہ جاتی۔ وہ آزاد ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ آزاد کو بگاڑ دیا جائے تو وہ خوجی بن جائے گا اور خوجی کوسنوار دیا جائے تو وہ آزاد کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
لیکن خوجی، آزاد کا ایک بگڑا ہوا خاکہ ہونے کے باوجود، اپنی ہستی ہم سے منوالیتا ہے اور سنجیدگی کی دنیا سے باہر نکل کر ہم سے سنجیدہ تنقید کے سارے حربے چھین لیتا ہے۔لااُبالی پن کے باوجود اس میں ایک تسلسل ہے۔ اس کی افیون کی ڈبیا، اس کے چندزبان زد فقرے، قرولی کی ہر قدم پر یاد، آزاد سے محبت، پانی سے خوف، اپنی کمزوریوں اور غلطیوں سے بے خبر ہونا، اپنے کوحسین اور خوب صورت سمجھنا، اَکڑ،غصّہ، یہ سب اور ایسی بہت سی دوسری باتیں ہندوستان اور ہندوستان کے باہر اس کے ہر عمل اور فعل سے ظاہر ہوتی ہیں۔ کوئی شخص اس سے سنجیدگی سے باتیں کرنا چاہتا ہے، وہ اپنی نفسی کجروی کی وجہ سے یہی سمجھتا ہے کہ اس کا مذاق اڑارہا ہے۔ کوئی عورت اس کا قداور چہرہ دیکھ کر ہنستی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس کی تیز نگاہ سے گھائل ہوگئی۔
خوجی میں ایک دنیا دار آدمی کا تدبّر بھی ہے۔ میاں آزاد بیمار ہوتے ہیں۔ حکیم صاحب جوانھیں دیکھنے آتے ہیں، وہ نیم حکیم ہیں۔ خوجی ایک تمدّنی مرکز سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انھیں بھانپ لیتا ہے اور قرولی کی دھمکیوں سے انھیں بھگا کر خود نسخہ لکھتا ہے۔سرا میں ایک قتل ہوجاتا ہے تو خوجی ہی تدبیر بتاتا ہے کہ کس طرح وہ اور اس کے ساتھی اپنی بے گناہی ثابت کرسکتے ہیں۔ اس میں اتنی سمجھ ہے کہ وہ داروغہ کی رشوت میں شریک ہوجائے اور بہروپیے کی شرارتوں کا بدلا اس کی بیوی سے لے۔
خوجی کی اکڑ جس سے اُسے کافی نقصان پہنچتا ہے، اس کے احساس برتری کی مظہر ہے۔ وہ اپنا نام کم سے کم مفتی خواجہ بدیع صاحب علیہ الرحمۃ و الغفران بتاتا ہے۔ ہار جانے کے بعد ہار نہیں مانتا۔ مار کھانے کے بعد اپنی قرولی کو ضرور یاد کرتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو ’’فسانہ آزاد‘‘ کی شکل ہی کچھ اور ہوتی۔ کیونکہ وہی ہے جو اس طویل کتاب کو خشک ہونے سے بچا لیتا ہے۔
خوجی کی وہ خصوصیت جو، اُسے زوال آمادہ جاگیر دارانہ تمدن کا خاص کردار بناتی ہے، اس کا جذبۂ وفاداری ہے۔ جب وہ نواب صاحب کے یہاں تھا، تو ان کا نمک خوار ہونے کی حیثیت سے ان کی محبت کا دم بھرتا تھا اورجب یہی وفاداری آزاد کی طرف منتقل ہوگئی تو و ہ ان کے لیے اپنی جان کو مصیبتوں میں ڈالنے کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ بنا ہوا درباری ظریف یا بھانڈ نہیں ہے بلکہ ایک نفسیاتی کردار ہے، جس میں سچّائی اور اپنی فطرت کے ساتھ خلوص پایا جاتا ہے۔ جب نواب صاحب کا بٹیر صف شکن علی شاہ گم ہوگیا اور اس کی تلاش میں لوگ نکل کھڑے ہوئے، اس وقت آزاد نے بھی بٹیر کوڈھونڈ نکالنے کا وعدہ کیا۔ خوجی اپنے ولیِ نعمت (نواب صاحب) کی وفاداری میں آزاد پر اعتبار نہیں کرنا چاہتا۔ شاید نواب کوجُل دے جائیں اور بٹیر کے ساتھ ساتھ ان کا غم بھی نواب کو لگ جائے۔ پھر جب آزاد کے ساتھ اس کی وفاداری اور محبت کی آزمائش کا وقت آتا ہے تو اسے آزاد ہی کی بہی خواہی سے کام ہے۔ وہ آزاد کو ایسی نصیحتیں کرتا ہے جو صرف ایک خیر خواہ ہی کرسکتا ہے۔ جیساکہ ابھی کہا گیا، اس کی زندگی میں کسی قسم کی بناوٹ نہیں معلوم ہوتی اور اگر ہے تو اتنی گہری ہے کہ وہ اس کی فطرت کا جزو بن گئی ہے، جسے کسی وقت اُس کی ذات سے علاحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ بالکل یہی بات اس معاشرت کے لیے بھی کہی جاسکتی ہے جس سے اس کا تعلّق تھا۔ معاشرت میں یہ چیز بہت جلد نمایاں ہوجاتی ہے۔
خوجی کی تصویر ہر کردار نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق کھینچی ہے۔ اگر سب کو اکٹھّا کریں تو سرشار کی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ خوجی مجسّم شامت، پستہ قامت،کوتاہ گردن، تنگ پیشانی، خباثت اور شرارت کی نشانی تھا۔ سرشار نے خباثت کا لفظ کچھ زیادہ مناسب نہیں استعمال کیا ہے، کیونکہ اس کے نفس میں کینہ پروری نہیں پائی جاتی۔ ہاں، اس میں اور عیوب ضرور ہیں۔ بیچارے کی صورت ایسی ہے کہ کوئی اسے شریف نہیں سمجھتا۔ یہاں تک کہ خود اسے اپنی شرافت پر شک ہونے لگتا ہے اور وہ اپنی صورت دیکھنے کے لیے آئینہ مانگتا ہے۔ خوجی کو اپنے خاندان اور آباو اجداد کی بھی ٹھیک خبر نہیں۔ ایک جگہ پر تو اپنے دفن کی وصیت کے سلسلے میں کہتا ہے کہ میں جہاں بھی مروں، مجھے میرے والد کے پہلو میں دفن کرنا۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ خدا جانے والد تھے بھی یا نہیں۔ اگر تھے تو نہ جانے کب اور کہاں مرے، کہاں دفن ہوئے، اس لیے فوراً بول اٹھتا ہے کہ جو سب سے اچھی قبر دکھائی دے، اس کے والد کی قبر تسلیم کرلی جائے اور اسی کے پہلو میں اسے دفن کردیاجائے۔ اگر اس خیال کا تجزیہ کیا جائے تو شرافت کے پرانے معیار پر طنز کے عجیب و غریب پہلو پیدا ہوتے ہیں۔ جس وقت شرافت کا معیار بدل رہا ہو، اس وقت خوجی کی زبان سے ایسے شکوک کا اظہار بہت ہی بامعنی ہے۔
مختصر یہ کہ خوجی ہندوستان میں ہو یا روس، تُرکی اور پولینڈ میں،وہ اپنی خصوصیتیں اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ وہ اپنی تہذیب کا عَلم بردار ہے۔ اس کا لااُبالی پن اسے بَددل ہونے سے اور اس کا یقین اسے شکست کھانے سے بچاتا ہے۔ اسے دیکھ کر ہماری نظر میں زندگی کے بڑے بڑے سوال بے معنی نظر آنے لگتے ہیں اور اس کی بے اصولی ماحول پر قبضہ جمالیتی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ہم مزے لے لے کے سیر کرسکتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہ ہوگا کہ ہم کس قدر غیر سنجیدہ ہوگئے ہیں۔
(احتشام حسین)
مشق
لفظ ومعنی
عاقل : عقلمند
متحمّل : برداشت کرنے والا
صف شکن : صفوں کوتوڑ دینے والا، بہادر
گم شدگی : کھو جانا
مبالغہ آمیز : حد سے بڑھاہوا، غیر معمولی
غیر معتدل : جس میں اعتدال نہ ہو، حد سے گزر جانے والا
اجتناب : پرہیز
تغیّرات : تبدیلیاں
حربہ : ہتھیار
عقبی : چھلا
فیضیؔ : فارسی کا ایک مشہور شاعر جو مغل بادشاہ اکبر کا درباری تھا
مذاقِ سلیم : اچھا ذوق
حسنِ انتخاب : انتخاب کا سلیقہ
بذلہ سنجی : ظرافت، فقر ے بازی
زبان زد فقرے : وہ فقرے جو زبان پر چڑھے ہوئے ہوں
قرولی : ایک قسم کا چاقو، خنجر، کٹاری
کجروی : ٹیڑھاپن
زوال آمادہ : زوال پذیر،جو پستی کی طرف جائے
نمک خوار : نمک کھانے والا مطلب وفادار
جُل : دھوکا
بہی خواہی : بھلا چاہنا، خیر خواہی
خیرخواہ : بھلائی چاہنے والا
کینہ پروری : چھپی ہوئی دشمنی،دشمنی پالنا
عیوب : عیب کی جمع، برائیاں
غور کرنے کی بات
- ’خوجی‘ پنڈت رتن ناتھ سرشار کی داستان نما ناول فسانۂ آزاد کا مشہور کردار ہے۔
- سید احتشام حسین نے خوجی کے کردار کی اہمیت بتاتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سرشار نے ایک ہی کردار کے دو ٹکڑے کر دیے۔ ایک حصّہ میاں آزاد کی شکل میں ظاہر ہوا اور دوسرا خوجی کی صورت میں۔
- مصنف کے مطابق خوجی لاپرواہ، مغرور اور غصّہ ور ہونے کے باوجود دوستوں کی محبت کا دم بھرنے والا، لوگوں کے کام آنے والا اور معاملات کوسمجھداری سے سلجھانے والا کردار ہے۔
- مصنف کے مطابق خوجی فسانۂ آزاد میں دل چسپی پیدا کرنے والا مسخرہ نہیں ہے بلکہ اس کا کردار لکھنؤ کی زوال پذیر معاشرت کی علامت ہے۔
سوالات
1۔ خوجی کا حلیہ بیان کیجیے۔
2۔ خوجی کو مغرور ثابت کرنے کے لیے کیا دلیلیں پیش کی گئی ہیں؟
3۔ خوجی کے جذبۂ وفاداری کے بارے میں مصنف کی کیا رائے ہے ؟
4۔ خوجی اور آزاد کے کرداروں میں کیا مطابقت ہے؟
عملی کام
- اپنے استاد کی مدد سے فسانۂ آزاد کا وہ حصّہ پڑھیے جس میں سرشار نے خوجی کا تعارف کرایا ہے۔