Skip to content
Ghulistan-e-adab Chapter-4
                                                                        

4

مختصرافسانہ


مختصرافسانہ جدید دورکی اہم نثری صنف ہے ۔اس کے ذریعے کسی شخص کی زندگی کے ایک پہلویا کسی واقعہ کا بیان اس طرح کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے دل ودماغ پر اُس کا گہرااثر پڑے۔
افسانے کی متعدد تعریفیں کی گئی ہیں۔ایک ممتاز مغربی ادیب کا کہنا ہے کہ افسانہ ایسی نثری کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکے۔ افسانہ سیدھی سادی کہانی نہیں بلکہ ایسی فنّی تخلیق ہے جس میں فن کار کے ارادے اور حکمت کا بھی دخل ہوتا ہے۔کسی مخصوص واقعے یا صورتِ حال یا کسی مخصوص کردار کا نقش اِس طرح ابھارا جاتا ہے کہ پلاٹ یعنی واقعات کی ترتیب وتنظیم پڑھنے والے کو متاثر کرسکے۔
افسانے کے ماہروں نے اس کی جوتعریفیں بیان کی ہیں اُن سے واضح ہوتا ہے کہ افسانہ بیانیہ تخلیقی تحریر ہے۔افسانے میں کسی ایک کردار یا کرداروں کے ایک مخصوص گروہ کے نقوش یا ذہنی کشمکش کو نمایاں کیا جاتا ہے۔افسانے میں واقعات کی تفصیل، کرداروں کی گفتگو اور منظروماحول کی پیشکش بہت نپی تلی ہوتی ہے۔
ہر افسانے کے لیے پلاٹ، کردار اور زمان ومکاں لازمی اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی لحاظ سے افسانے کی اقسام بھی بیان کی گئی ہیں یعنی پلاٹ کا افسانہ، کردار کا افسانہ یا معاشرتی افسانہ۔
افسانے کی کامیابی کے لیے کچھ ناقدین، افسانہ نگار کے نقطۂ نظر کو اہم قرار دیتے ہیں۔افسانہ نگار کے اسلوب میں رمز، کنایے اور تاثیرکو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اردو میں مختصرافسانے کا آغاز بیسویں صدی کے ساتھ ہوا۔سب سے پہلے پریم چند اورسجّاد حیدر یلدرم کے افسانے سامنے آئے۔ان کے فوراً بعد کئی افسانہ نگارابھرے: مثال کے طور پر ل۔احمد اکبرآبادی، سلطان حیدر جوش، نیازفتح پوری، حجاب امتیاز علی وغیرہ ۔
1936 میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔اس سے چند برس پہلے ’’انگارے‘‘ کے نام سے باغیانہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہوچکا تھا۔ان کہانیوں نے موضوع اور فن دونوں اعتبار سے نئے تجربوں کی بنیاد ڈالی۔اس کے بہت پہلے پریم چند (1880 تا  1936 )نے اردو، افسانہ نگاری کو عروج پر پہنچادیا تھا۔ پریم چند نے حقیقت نگاری اور نفسیاتی کردار نگاری کے ساتھ مشرقی یوپی کی دیہی زندگی اور قومی زندگی کے مسائل کی ترجمانی کی۔اس کے بعد سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندرسنگھ بیدی، عصمت چغتائی، غلام عبّاس،حیات اللہ انصاری، احمد ندیم قاسمی اوربلونت سنگھ کے ہاتھوں اردو افسانے نے بہت ترقی کی۔
آزادی کے بعد اُبھرنے والے افسانہ نگاروں میں قرۃ العین حیدر نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔1960کے لگ بھگ اردو میں علامتی افسانے کا آغاز ہوا۔اس رنگ کے نمائندہ افسانہ نگار انتظار حسین ، سریندرپرکاش، انورسجّاد، بلراج مین را، نیّر مسعود اور خالدہ حسین ہیں۔حقیقت نگاری کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں حیات اللہ انصاری ، خواجہ احمد عبّاس، احمد ندیم قاسمی، شوکت صدیقی، اشفاق احمد، رام لعل ، جوگندرپال قابل ذکر ہیں۔نئی نسل کے کئی افسانہ نگاروں نے براہ راست طرز بیان کے بجائے علامتی طرزِ بیان کو ترجیح دی ہے۔


gulsitan e adab 5257 pic.8

بلونت سنگھ

1920/21 تا   1986  

بلونت سنگھ ضلع گجرا نوالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں ہوئی۔ میٹرک دہرہ دون کے کیمبرج اسکول سے پاس کیا۔ کرسچین کالج الہ آباد سے انٹر اور الہ آباد یونیورسٹی سے بی۔اے کرنے کے بعد معاش کی تلاش میں لاہور اور کراچی بھی گئے۔ دہلی میں رسالہ’’ آج کل‘‘کے نائب مدیر کی خدمات بھی انجام دیں۔ اس کے بعد سے اپنے انتقال تک الہ آباد میں رہے۔ انھوں نے الہ آباد سے اردو میں رسالہ ’’فسانہ‘‘اور ہندی میں ’’اردو ساہتیہ ‘‘جاری کیا جس میں اردو تخلیقات ،ناگری رسم الخط میں شائع ہوتی تھیں۔
بلونت سنگھ نے کئی طویل اور مختصر ناول لکھے ۔’’رات چور اور چاند‘‘اور ’’چک پیراں کا جسّا ‘‘ پہلے اردو میں شائع ہوئے ۔ان کے ناگری رسم الخط میں شائع ہونے والے ناولوں اور افسانوی مجموعوں کی تعداد لگ بھگ تیس ہے ۔
ان کا پہلا افسانہ ’’سزا ‘‘ 1937 میں دہلی کے رسالے’’ساقی‘‘میں شائع ہوا۔ ’’جگّا‘‘، ’’تار وپود‘‘ ، ’’ہندوستان ہمارا‘‘ ، ’’پہلا پتھر‘‘،’’بلونت سنگھ کے افسانے‘‘ اور’’ سنہرا دیس‘‘ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔
بلونت سنگھ کے ابتدائی افسانوں میں پنجاب کی دیہی زندگی کا بہت جیتا جاگتا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ اسی بنا پر کچھ لوگوں نے فرض کرلیا کہ بلونت سنگھ صرف پنجاب کے دیہات اورسکھ کرداروں کی زندگی کے عکاس ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا افسانوی کینوس خاصا وسیع ہے۔
Ghulistan-e-adab-005

لمحے

سوم کا دن تھا۔
یوں تو میں اپنے دوستوں کی بہت قدرکرتا ہوں لیکن کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ دوستوں کی صورت تک نہ دکھائی دے اور میں محض اپنے لیے ہی ہوکر رہ جاؤں۔میرے دوستوں کی تعداد بہت کم ہے اس لیے مجھے ایسے دن بھی میسرآجاتے ہیں۔
جس روز کا میں ذکر کررہاہوں۔ وہ اسی قسم کا دن تھا ، صبح کا وقت تھا، پیشتراس کے کہ کوئی دوست میرے مکان پر پہنچ کر ’’اُماکانت! اُماکانت!!‘‘ کے نعرے لگاتا میں چائے سے فارغ ہوکر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔
نہ بیوی ، نہ بچے، نہ ملازمت، نہ کاروبار، نہ خوشی نہ غمی، عجب ویران کیفیت میں زندگی بسر ہورہی تھی۔میری بیکاری سے گھر والوں کی ناخوشی کے باعث ، دل پر اداسی چھائی رہتی تھی۔کوئی ذمہ داری نہ ہونے کی وجہ سے دماغ ہلکا رہتا تھا۔اپنی بیوی نہ ہونے کے سبب سے، ذہن پر رومانیت کا تسلّط تھا۔
بس اسٹینڈ پر پہنچ کر دیکھا کہ کناٹ پلیس جانے کے لیے بس تیار کھڑی ہے۔اندر اِکّا دُکّا مسافر بیٹھے ہیں، کوٹ کے کالر درست کرتا ہوا بس کے اندر داخل ہوگیا۔
آٹھ بجے تھے۔بھلا سردی کے موسم میں کسی کو کیا پڑی تھی کہ گھر کی گرم فضا سے نکل کر باہر کو اٹھ بھاگے۔چنانچہ بس میں ایک عجیب سکون طاری تھا۔چند لوگ ایک دوسرے سے پرے پرے بیٹھے دھیرے دھیرے باتیں کرنے میں محو تھے۔
میں نے پہلے عورتوں اور لڑکیوں کا جائزہ لیا۔تین لڑکیاں تھیں اور دوعورتیں۔لڑکیاں گوری تھیں،دودوچوٹیاں، آنکھیں بڑی نہ چھوٹی، باتیں میٹھی نہ پھیکی۔ دوسری عورت کی جانب دیکھا۔ہرے رام ! وہ تو صورت سے بالکل آیالگی۔ شاید سچ مچ کی آیاہو۔خیر اب ایک عورت کا جائزہ لینا باقی تھا۔وہ میری جانب پیٹھ موڑے بیٹھی تھی۔اس کے کندھے پر ننھے بچے کا سرٹِکا تھا اور ایک بچّی سامنے کی سیٹ پر بیٹھی تھی۔گویا وہ کم ازکم دوبچّوں کی ماں تھی۔
دل پر مایوسی کا جذبہ طاری ہونے لگا۔بیس پچیس منٹ کا یہ سفر یونہی کٹ جائے گا۔دل بہلاوے کی کوئی حسین صورت دکھائی نہ دے گی۔کیا یہ سفر جماہیاں لیتے ہی بِتانا پڑے گا۔
سوچا—اگر دوبچّوں کی ماں بدصورت ہے تو اپنی بہنوں سے بڑھ کر کیا ہوگی۔یہی ناکہ ان کے برابر ہوگی یا ذرا بہتر۔آخریہی طے پایا کہ اُس خاتون کے عین پیچھے والی سیٹ پر ڈیرا جمایا جائے۔
پچھلی سیٹ پر چپکے سے بیٹھ کر میں نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بالوں کی تہٖ جمائی اور پھر انتظار کرنے لگا کہ وہ ذر ادِھر اُدھر گھوم کر دیکھے تو صورت کا جائزہ لیا جائے۔
gulsitan e adab 5257 pic.9
لیکن وہ اِدھر اُدھردیکھے بغیرسامنے کی جانب منہ کیے چپکی بیٹھی رہی۔یہاں تک کہ بس چل دی۔
مجھے بے چینی سی محسوس ہونے لگی۔بارے کنڈکٹر نے آکر دام طلب کیے۔ٹکٹ لیتے وقت خیال آیا کہ کاش اُس خاتون سے تھوڑی بہت بات چیت ہوچکی ہوتی تو اُس کے ٹکٹوں کے دام دے کر اچھے خاصے مراسم پیدا کیے جاسکتے تھے۔جب اس کی باری آئی تو اس نے منہ پھیر کر دیکھا۔ رخِ روشن کاجلوہ دکھائی دیا دل دھک سے رہ گیا۔
وہ واقعی بہت حسین تھی۔تارا سی آنکھیں، نازک لب، اور درخشاں پیشانی— خلافِ امید اُس عورت کو حسین پاکر ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس سے گفتگوکیوں کر شروع کی جائے۔کون سا موضوع مناسب رہے گا۔موسم؟…لیکن ہندوستان میں ابھی موسم کے موضوع پر گفتگو کا آغاز کرنا خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں کرسکتا۔اس عورت سے یہ کہنا کہ آہا! کیا ہی خوشگوار موسم ہے محض بیکار ہوگا۔سینما، ایکٹر، ایکٹریس، بسیں، سڑکیں…نہیں، نہیں، یہ باتیں مہمل ہیں…اتنے میں عورت کے شانے کے ساتھ لگے ہوئے ننھے بچّے نے آنکھیں کھولیں اور حیرت واستعجاب سے اِدھراُدھر دیکھنے لگا۔بڑا پیارا بچہ تھا۔میں نے اس کے گال پر ہلکی سی چٹکی لی تو اس کے چھوٹے چھوٹے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا ہوئی ۔پھرمیں نے دونوں انگلیوں سے اس کی ٹُھڈّی کو ہلکے ہلکے سہلانا شروع کیا تو وہ ہنسنے لگا —میں جانتا تھا کہ اس کی ماں کو اس بات کا علم ہوچکا ہے۔
بچے کے کانوں کے پیچھے داد کے نشان دکھائی دے رہے تھے۔میں نے جرأت سے کام لے کر پوچھا۔
’’کیوں جی! ننھے کے کانوں کے پیچھے داد ہورہا ہے…‘‘
’’جی —ہاں…‘‘
’’توکیا آپ اس کا علاج نہیں کرائیں گی؟
’’علاج تو ہورہا ہے…‘‘
’’کیا ہو میوپیتھی علاج کرارہی ہیں؟‘‘
’’جی نہیں، ہے تو ایلوپیتھی…‘‘
’’ایک ڈاکٹر ہیں، رُچی رام۔ ہومیوپیتھی علاج کرتے ہیں۔خصوصاً بچوں کے علاج میں تو اُنھیں مہارت حاصل ہے۔اگر یہ علاج موثر ثابت نہ ہوا، تو اُن سے رجوع کیجیے گا۔‘‘
’’بہتر۔‘‘
’’بہت ہی پیارا بچّہ ہے۔‘‘ میں نے سلسلۂ کلام جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
عورت نے بچّے کو شانے سے ہٹاکر کھڑکی کے ساتھ پیٹھ لگالی۔اب اُس کا رُخ قریب قریب میری جانب تھا۔اس نے بچّے کو زانو پر بٹھاکر دیکھنا شروع کیا وہ واقعی حسین ہے یا نہیں۔پھرجیسے دل ہی دل میں اُس نے میرے قول کی تائید کرتے ہوئے میٹھی نظروں سے میری جانب دیکھا۔
’’آپ کو بچّوں سے خاصا لگاؤ ہے۔کیا آپ کے بھی بچّے ہیں؟‘‘
’’ جی نہیں۔‘‘ میں نے قدرے جھینپ کر کہا۔’’ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔‘‘
’’کیوں شادی نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟‘‘
’’یونہی۔‘‘ میں نے سرکھجاتے ہوئے جواب دیا۔’’یہی، ابھی بے کارہوں۔جب تک آمدنی کی معقول صورت نہ ہو، دل میں شادی کا خیال بھی نہیں آسکتا۔‘‘
’’لیکن آپ بیکار کیوں ہیں؟‘‘
میں اس جرح سے گھبراگیا تھا۔’’میں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے کرنے کے بعد پشاور میں کاروبار شروع کیاتھا۔آمدنی کی صورت نظرآنے لگی تو فساد شروع ہوگئے اور مجھے اِدھربھاگنا پڑا…اب نئے سرے سے کام کرنے کا خیال ہے۔‘‘
عور ت کی آنکھوں میں اُداسی کی جھلک دکھائی دی۔اُس وقت وہ کچھ کھوئی سی نظرآرہی تھی۔موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُس کے حسین چہرے کے خدوخال کا بغورجائزہ لینے لگا…کیا وہ میری خاطر اُداس تھی؟ ایک لمحے کے لیے ہی سہی!——کاش! مجھے بھی ایسی ہی موہنی بیوی مل جائے۔
کہتے ہیں کہ عورت مرد کے دلی جذبات کو بہت جلد پہچان لیتی ہے۔عورت نے نظریں جھکالیں اور پھر قدرے تامّل کے بعد نہ معلوم کیوں——بڑی بچّی کی جانب اشارہ کرکے مسکراکر بولی۔’’یہ میری بیٹی ہے۔‘‘
’’آؤ بیٹی! میرے قریب آؤ…‘‘ میں نے ہاتھ پھیلائے۔وہ مارے شرم کے آگے نہیں بڑھی تو میں نے خود ہی بڑھ کر اسے گود میں بٹھالیا۔’’آہاہاہا…بڑی اچھی ہے ہماری بے بی…اچھا تو تم پڑھتی ہو کیا؟‘‘
لیکن وہ بڑے اہتمام کے ساتھ شرماتی رہی۔
عورت بولی ’’بتاؤنا بے بی! تم سے کَے مرتبہ کہا ہے کہ یونہی مت شرمایا کرو۔‘‘
میں نے سوچا۔کس قدر مہذب ہے یہ عورت۔اس کی بات چیت سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ پڑھی لکھی اور خاصی سلجھی ہوئی ہے۔
ماں کے سرزنش کرنے پر بیٹی نے اثبات میں سرہلادیا۔
’’کیا پڑھا ہے بھئی ہمیں بھی سناؤ…تم تو بہت اچھی بے بی ہو۔تمھیں تو پڑھا لکھا یاد ہوگا سارا، بولو یاد ہے؟‘‘
’’ہاں جی۔‘‘ بے بی نے بڑی بڑی آنکھیں اٹھاکر بھرپور نظروں سے میری جانب دیکھا۔معلوم ہوتا تھا کہ اس بات کا اقبال کرنے میں اسے بہت فخرمحسوس ہورہا ہے۔کیا پڑھا ہے تم نے؟
’’اے بی، سی، وائی، زیڈ۔‘‘
اس پر ہم دونوں قہقہہ مارکر ہنسے۔میں اور وہ عورت۔ہم دونوں جو ایک دوسرے سے بہت دور تھے۔لیکن قہقہوں کی ملی جلی آواز سے یوں محسوس ہونے لگا جیسے کسی فلم کے ہیرو اور ہیروئین کوئی سحر انگیزڈویٹ گارہے ہوں۔
عورت نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا۔ ’’اری بے بی! تجھے اے، بی، سی، ابھی تک یاد نہیں ہوئی۔سی کے بعد ایک دم وائی زیڈ؟‘‘
اب ہماری ملاقات قابلِ اطمینان درجے تک آن پہنچی تھی۔اب بیشترخدشات دور ہوچکے تھے۔ہم دو بہت اچھے واقف کاروں بلکہ دوستوں کی طرح گفتگوکرنے لگے۔
بیس یا پچیس منٹ کے سفر میں زیادہ باتیں نہیں ہوسکتی تھیں، لیکن اگر احساسات کو لیجیے تو لمحہ بھر میں کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔ایک میٹھی نظرتھی کہ زندگی کے ان لمحوں کو رنگین بناتی چلی گئی۔اس کی آواز میں ایسا لوچ اور رسیلاپن تھا کہ مدّتوں کانوں میں شہد سا گھلتا رہا۔
اِدھر اُدھر کی باتوں میں ہم اس قدر محو تھے کہ ارد گرد کی کچھ خبر نہیں رہی تھی——جب میں نے جنگل میں شیر کے فرضی شکار کی کہانی سنائی اور میں نے شیر کے سامنے کھڑے ہوکر اس پر گولی چلائی تھی تو عورت کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔حیرت سے بولی۔
’’لیکن میں نے تو سنا ہے کہ شیر کا شکار مچان پر بیٹھ کر کیا جاتا ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ میں نے بے پروائی سے جواب دیا ’’لیکن کہنہ مشق شکاری مچان پر کبھی نہیں بیٹھتے ہیں۔‘‘ وہ سچ مچ میری بات پر ایمان لے آئی۔ باتوں باتوںمیں مجھے خیال آیا کہ مرد کے دل میں عورت کی کشش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عورت کے سامنے وہ دل کھول کر جھوٹ بول سکتا ہے۔
عورت طفلانہ انداز سے کئی باتیں پوچھتی رہی اور میں بڑی توجہ سے ان کے جواب دیتا رہا۔بس کی منزل قریب آرہی تھی۔
بے بی ابھی تک میری گود میں بیٹھی تھی۔دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ کام نکل جانے کے بعد بے بی کو تو میں بھول ہی گیا تھا۔میں نے محجوب ہوکر بے بی کی بغلوں کو گدگدایا ’’ارے بے بی! تم تو کوئی بات ہی نہیں کرتیں —— کیا تم ہم سے خفا ہو؟‘‘
وہ چپ رہی۔
’’بولو—بے بی۔‘‘
’’لا ہیں۔‘‘ بے بی نے انکار کے طورپر سرہلاتے ہوئے جواب دیا۔
’’اچھا تو بتاؤتمھارا نام کیا ہے؟‘‘
’’میرا لام؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’سول تاناں۔‘‘
’’سلطانہ۔‘‘ عورت نے کہا۔
مجھے پہلی مرتبہ اس بات کاعلم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں۔سلطانہ کی بغلوں کو گدگداتے ہوئے میرے ہاتھ رُک گئے۔میں نے قدرے ہچکچاتے ہوئے دریافت کیا۔
’’کیا آپ مسلمان ہیں؟‘‘
’’ جی۔‘‘ یہ کہہ کر عورت نے میری طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔
’’نہیں کچھ نہیں۔‘‘ میں ہنس دیا——’’مجھے محسوس نہیں ہوا کیونکہ بظاہر…‘‘
پھر قدرے بھدّی سی خاموشی طاری ہوگئی۔
بات کچھ بھی نہیں تھی——میں نے سکوت توڑتے ہوئے پوچھا۔
’’فساد کے دنوں میں آپ دہلی ہی میں تھیں؟‘‘
’’جی ہاں ہم سب یہیں تھے۔‘‘
میرے دل کو نہ معلوم کیا ہونے لگا۔میں نے رکی رکی آواز میں پوچھا۔’’آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟‘‘
عورت نے قدرے سکوت کیا۔ ’’بس کچھ نہ پوچھیے۔مالی نقصان بہت ہوا، جانیں بچ گئیں۔یہی غنیمت سمجھیے۔ کناٹ پلیس میں ہماری دکان لُٹ گئی۔مکان میں فسادی گھس آئے…لیکن پیشتر اس کے کہ کوئی نقصان ہوتا پولس آگئی…‘‘
میرا سر جھک گیا۔۔۔۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اسٹینڈ پر پہنچ کر بس رُک گئی۔
اس خیال سے کہ عورت تنہا ہے اور بچے دو، شاید اُسے میری مدد کی ضرورت ہو، میں نے اپنی سیٹ سے اٹھنے میں تامل کیا لیکن عورت کے ہلکے پن سے روشن ہوا کہ(اُسے) میری مدد درکار نہیں ہے۔چنانچہ میں شریف مرد کی طرح اٹھ کر چل دیا۔
چند قدم چلنے کے بعد میں نے یونہی گھوم کر دیکھا کہ وہ عورت اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے قدم اکھڑے اکھڑے دکھائی دیتے تھے ۔وہ قدرے لنگڑا کر چل رہی تھی۔
  میں سوچنے لگا کہ اگر اس کی ٹانگ میں یہ نقص نہ ہوتا تو وہ قدم قدم پر فتنے جگاتی۔ ایسی حسین عورت اور یہ عیب!
دفعتاً ہماری نظریں ملیں—— غالباً وہ سمجھے بیٹھی تھی میں چلا گیا ہوں۔مجھے ایک مرتبہ پھر اپنے سامنے پاکر وہ پریشان سی ہوگئی جیسے کہہ رہی ہو۔ ’’آخر تم نے مجھے لنگڑا کر چلتے ہوئے دیکھ لیا نا۔‘‘
محجوب ہوکر اس نے اپنا گلابی ہوتا ہوا چہرہ جیسے جھکا لیا اور پھر جیسے روٹھ کر منہ دوسری طرف پھیرلیا۔
میں اُسے منانے کے لیے آگے بڑھا اور اس کے سامنے جاکھڑا ہوا اور اس کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے دل ہی دل میں کہا۔’’معزز خاتون! تم بہت حسین ہو ۔تم حسن کی پتلی ہو، تم کیا جانو میں ان چنددلفریب لمحوں کے لیے تمھارا کس قدر شکرگزارہوں۔‘‘… اور پھر میں نے قدرے بلند آواز میں کہا۔ ’’معاف کیجیے گا——آپ کچھ پریشان سی نظرآتی ہیں۔کیا آپ کو کہیں آگے جانا ہے۔تانگہ لاؤں؟…یا آپ کو کسی کا انتظار ہے؟‘‘
اس نے سر پر دوپٹّہ سنوارتے ہوئے جواب دیا۔ ’’جی جانا تو قریب ہی ہے…وہ نہیں آئے…ملازم کو بھیج دیتے ، ملازم کو تو آنا ہی چاہیے تھا…‘‘
میں نے آگے بڑھ کر لڑکی کو گود میں اٹھا لیا اور بولا۔ ’’چلیے میں آپ کو چھوڑ آؤں۔‘‘وہ بغیرکچھ کہے میرے ساتھ ہولی۔
ابھی ہم پندرہ بیس قدم ہی چلے ہوں گے کہ وہ بول اٹھی۔ ’’لیجیے وہ لڑکا۔۔۔ہمارا نوکرچلا آرہا ہے۔‘‘
ہم رک گئے۔میں نے جھجکتے ہوئے ٹانگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دریافت کیا۔’’کیا پیدائشی نقص ہے؟‘‘
اس نے قدرے تامّل کیا۔پھر اپنی آنکھیں میری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے مسکراکربولی۔’’جی نہیں—جب فسادیوں نے ہمارے مکان پر حملہ کیا تو ایک سوربیرنے لاٹھی گھماکر ماری تھی…‘‘
میرا دل بیٹھنے لگا۔لرزتے ہوئے ہاتھوں سے میں نے بچّی کو نوکر کی طرف بڑھایا…میری پیشانی پر ٹھنڈے پسینے کی بوندیں پھوٹ پڑیں۔کانپتے ہوئے ہاتھ سے جیب میں رومال ٹٹولنے لگا۔
رخصت کے موقعے پر کچھ کہنا چاہا لیکن ہونٹ پھڑپھڑاکر رہ گئے۔چنانچہ میں کچھ اس انداز سے دوقدم پیچھے ہٹاجیسے وہ قدیم بابلیوں کی حسین شہزادی ہو۔میری آنکھیں جھک کر اُس کے قدموں پر جم گئیں۔میں نے تصور ہی تصور میں اس کے پاؤں پر سر رکھ دیا۔
پھر اچٹتی ہوئی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تو معلوم ہوا کہ اب ان آنکھوں میں وہ روکھا پن نہ تھا، نہ سختی اور پھر مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ مہربان ہوتی ہوئی کسی خود سرملکہ کی طرح کہہ رہی ہے ’’مابدولت خوش ہوئے…مابدولت نے نہ صرف تمھیں بلکہ تمھاری ساری قوم کو معاف کیا۔‘‘
ایک مرتبہ پھر ہم نے ایک دوسرے کی جانب شکرگزارنظروں سے دیکھا—اور پھر ہم ایک دوسرے سے دور ہونے لگے۔یہاں تک کہ بالآخر ایک دوسرے کی نظروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئے۔

(بلونت سنگھ)

مشق

لفظ ومعنی

سوم کا دن                      :                 سوم وار، پیر
مراسم                            :                 (رسم کی جمع)میل جول، تعلّقات
درخشاں                         :                 چمک دار
ہاتھ پاؤں پھولنا                  :                 (محاورہ) گھبراجانا
خاطرخواہ                          :               مرضی کے مطابق
مہمل                            :                 بے معنی
شانہ                             :                  کندھا
مؤثر                              :               کارگر، اثردار
رجوع کرنا                        :              کسی سے مشورہ طلب کرنا
زانو                              :              جانگھ، ران
قول                             :              کہی ہوئی بات
تائید                             :              مددکرنا، اتفاق کرنا، ساتھ دینا
خدوخال                         :               ناک نقشہ
مہذّب                          :              تہذیب یافتہ
موہنی                           :               پُرکشش
تامّل                             :               جھجک، دیر
سرزنش                          :             ڈانٹ پھٹکار
اثبات میں سرہلانا               :             کسی بات کو تسلیم کرنا
اقبال کرنا                       :               مان لینا
ڈویٹ(DUET )            :      دوگانا، مردانہ اور نسوانی آوازوں میں ملاکر گایا ہوا گیت
خدشات                       :            (خدشہ کی جمع)اندیشہ، خطرہ
کہنہ مشق                      :               ماہر، تجربے کار
طفلانہ انداز                    :               بچّوں جیسا ڈھنگ
محجوب ہونا                    :               شرمندہ ہونا
سکوت                        :             خاموشی
فتنے جگانا                     :       ہنگامہ برپا کرنا، مصیبت کھڑی کرنا
دفعتاً                         :             اچانک
مابدولت                      :            ہم (بادشاہ اور شہزادے شہزادیاں اپنے آپ کو ’’ہم‘‘کے 
                                             بجاے مابدولت کہتے تھے)

غورکرنے کی بات  

  • بلونت سنگھ نے یہ افسانہ، اس کے ایک کردار اُما کانت کی زبانی بیان کیا ہے۔افسانہ ’’لمحے‘‘ کسی بہت نمایاں واقعے کے بجاے ایک دُکھ بھرے احساس پر مبنی ہے۔  
  • عورت کی گہری اداسی اور اُماکانت کی شدید شرمندگی کے ذریعے، بلونت سنگھ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے دُکھوں میں شرکت ہی حقیقی انسانیت ہے۔

سوالات

1 .     اس افسانے کا عنوان لمحے کیوں رکھا گیا ہے؟
2 .     بس کے مسافروں کے بارے میں افسانہ نگار نے جو تفصیل پیش کی ہے اسے اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔
3 .     اس افسانے کا مرکزی خیال کیا ہے؟

عملی کام

  • اس افسانے میں جس واقعے کا بیان کیا گیا ہے اسے اپنے لفظوں میں لکھیے۔