5
یادیں
اردوکے کئی ادیبوں نے اپنی زندگی کے اکثر اہم تجربات اور واقعات کو ’یادیں‘ کے عنوان سے مرتّب کیاہے۔’یادیں‘کے برعکس ’سوانح‘ کا دائرہ وسیع ہوتاہے۔ ’یادیں‘ اُسی کے ذیل میں آتی ہیں۔ ’سوانح ‘ میں ترتیب و تسلسل پایا جاتا ہے، جب کہ یادوں میں سوانحی تسلسل کو قائم رکھنے کی شرط ضروری نہیں۔ یادیں قلم بند کرنے والا بہت سی یادوں میں سے، محض اُن یادوں کا انتخاب کرتا ہے، جو کسی نہ کسی پہلو سے اہم ، نمایاں اور توجّہ طلب ہوتی ہیں۔ بعض ادیب ’یادیں‘ کے لیے اب ’یادنگاری‘کی اصطلاح بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔ ’یادنگاری‘ کوئی با قاعدہ صنفِ ادب تو نہیں ہے، لیکن ’یادیں‘ کے تحت بعض ادیبوں کی بہت دل چسپ تحریریں سامنے آچکی ہیں، اِس لیے ممکن ہے مستقبل قریب میں اِسے ایک مستقل صنف کا درجہ بھی مل جائے۔
سجادظہیر
1905 تا 1973
سجّادظہیرلکھنؤ کے ایک معزّز گھرانے میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد وزیرحسن لکھنؤ کے معروف قانون داں تھے۔حکومت نے اُنھیں سر کے خطاب سے نوازا تھا۔باہر کی دنیا میں سجّاد ظہیر ’بنّے بھائی‘ کے نام سے بھی جانے گئے۔سجاد ظہیر نے بیرسٹری کی تعلیم انگلستان میں حاصل کی، لیکن وکالت کو وہ اپنا پیشہ نہ بنا سکے۔وہ ایک قابل ذکر ادیب ،صحافی اور شاعر بھی تھے ۔ انھیں اپنے دور کی سیاست اور افکار سے بھی غیرمعمولی دل چسپی تھی۔انھوں نے مارکسزم کے فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا۔کارل مارکس کے نظریات نے اُن کی زندگی کا رُخ بدل دیا۔ انگلستان میں تعلیم کے دوران ہی سجّاد ظہیر نے محسوس کرلیا تھا کہ ہندوستان کی مفلسی اور پس ماندگی کا ایک بڑا سبب انگریز سامراج کی لوٹ کھسوٹ کی پالیسی ہے ۔ آزادی کے بغیربیشترمسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔اسی خیال کے تحت سجاد ظہیر نے انگلستان میں ملک راج آنند، جیوتی گھوش اور ڈاکٹر محمددین تاثیرجیسے دوستوں کے ساتھ مل کر ادیبوں کی ایک انجمن بنائی۔ اس انجمن کا نام ’’انجمن ترقی پسند مصنفین‘‘ رکھا گیا۔ہندوستان میں یہ انجمن 1936 میں قائم ہوئی اور رفتہ رفتہ ایک تحریک بن گئی جسے اردوا دب کی تاریخ میں اہم حیثیت حاصل ہے۔
سجاد ظہیر نے انگلستان میں رہتے ہوئے کئی افسانے لکھے جو ’’انگارے‘‘ نام کے مجموعے میں شامل ہیں۔اُن کا ناول ’’لندن کی ایک رات‘‘ اپنے موضوع اور تکنیک کے لحاظ سے بہت معروف ہے۔1948 میں وہ پاکستان چلے گئے۔اپنے سیاسی نظریات کی بنا پر وہ حکومت کے عتاب کا شکار ہوئے اور کچھ روز جیل میں رہے۔ وہاں انھوں نے’’روشنائی‘‘ اور ’’ذکر حافظ‘‘ جیسی اہم کتابیں لکھیں۔1955 میں وہ ہندوستان واپس آگئے اور اپنا تمام وقت ترقی پسند تحریک کے لیے وقف کردیا۔انجمن کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
اُن کی کتاب ’’پگھلانیلم‘‘ کو نثری نظم کا پہلا مجموعہ کہاجاتا ہے۔سجّاد ظہیر نے جیل سے جو خطوط اپنی بیگم رضیہ سجّاد ظہیر کے نام لکھے تھے وہ ’’نقوشِ زنداں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکے ہیں۔سجاد ظہیرایک کامیاب صحافی بھی تھے۔انھوں نے الگ الگ وقتوں میں کئی رسائل اخبارات مثلاً ’’چنگاری‘‘،’’ بھارت‘‘، ’’قومی جنگ‘‘،’’ عوامی دور‘‘اور’’ حیات‘‘ کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔
روشنائی
1937 کی گرمیوں کے شروع میں پنجاب کسان کمیٹی کا سالانہ اجلاس امرتسرمیں ہونا قرار پایا۔ صوبۂ متحدہ کی کسان سبھا کے کارکنوں کی حیثیت سے ڈاکٹراشرف کو اور مجھے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ہم دونوں اس کے آرزومند بھی تھے۔ اس لیے کہ پنجاب کی کسان تحریک ہمارے صوبہ کی کسان تحریک سے زیادہ مضبوط تھی اور ہم چاہتے تھے کہ اپنی آنکھوں سے پنجاب کے جری اور آزادی خواہ کسان عوام کو ہزاروں کی تعداد میں ایک جگہ پر جمع دیکھیں۔ ان کے اتّحاد، طاقت اور انقلابی جذبے کا ذاتی تجربہ کریں، اور اس طرح خود اپنے انقلابی شعور کو وسعت دیں۔
اس کے چند دنوں بعد مجھے اطلاع ملی کہ اس موقعے پر پنجاب کے ترقی پسند مصنفین نے بھی امرتسر میں اپنی کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے مجھے لکھا کہ چونکہ یہ ان کی پہلی صوبائی کانفرنس ہے، جس کے بعد لاہور اور امرتسر کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی انجمن کی شاخیں قائم ہونے کی امید کی جاتی ہے، اس لیے انجمن کے کل ہندجنرل سیکریٹری کی حیثیت سے میری شرکت اس کانفرنس میں ضروری ہے۔
اب میرے لیے امرتسرپہنچنا اور بھی زیادہ ضروری ہوگیا۔کسان کانفرنس جلیانوالہ باغ میں تھی، جہاں پر ہزاروں پنجابی کسان اکٹھّے ہوئے تھے۔ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس بھی یہیں ہونا قرار پائی، فیض اس کے مہتمم تھے۔کسان کانفرنس کے موقعے پر وہ ایک بستہ ہاتھ میں لیے جلیانوالہ باغ میں اِدھر اُدھر مسکراتے، گھومتے ہوئے مجھے کبھی کبھی نظرآجاتے۔میں نے ان سے کہا کہ ’’اس ہنگامے اور مجمعے میں مصنّفین کی کانفرنس کیسے ہوگی؟ کسان کانفرنس کے سیشن جب ختم بھی ہوجاتے ہیں اس وقت بھی کافی بڑا مجمع کانفرنس کے پنڈال میں موجود رہتا ہے۔فیضؔ نے کہا کہ کیا کریں، ہم نے بہت کوشش کی کہ مقامی کالجوں یا اسکولوں میں سے کوئی ہمیں دو دن کانفرنس کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا ہال دے دے لیکن کوئی بھی راضی نہ ہوا۔آخر کو ہم نے کسان کانفرنس والوں سے کہا، وہ بڑی خوشی سے خالی وقت میں ا پنا پنڈال دینے کے لیے راضی ہوگئے۔اچھّا ہے۔پنجاب کے کسان اپنے عوامی مصنّفین کی صورتیں تو دیکھ لیں اور مصنّفین کے لیے بھی کسانوں کے سائے میں اپنی کارروائی کرنا مفید ہوگا۔‘‘ مجھے تعجب اس پر تھا کہ ایم۔اے۔او۔ کالج والوں نے بھی ہال نہیں دیا۔تاثیرؔ اس کے پرنسپل تھے اور فیضؔ وہاں پڑھاتے تھے۔فیضؔ نے کہا کہ ’’بس سمجھ لیجیے یہاں کے بعض حلقے ہماری انجمن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔‘‘ جس شان سے ترقی پسندوں کی یہ کانفرنس ہوئی ویسے شاید ہی کوئی اور ہوئی ہو۔پنڈال تو بہت بڑا تھا جس میں دس ہزار آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ہماری کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ دوسو آدمی شریک ہوئے۔اس لیے آخر وقت میں یہ فیصلہ ہوا کہ پنڈال کے ڈائس پر (جوجلیانوالہ باغ کے درمیان پکّے چبوترے پر تھا) ہی کانفرنس کرلی جائے۔سارے پنڈال کو ہم استعمال نہ کریں۔
ایک دن صبح کے سیشن کے بعد دوپہر کو کسان کانفرنس کا اجلاس نہیں تھا۔ اسی دن تیسرے پہر کو مصنّفین کی کانفرنس جلیانوالہ باغ کے چبوترے پر ہوئی۔ اوپر ایک پھٹا ساشامیانہ تھا اور نیچے ایک میلی پرانی دری، جو صبح کے کسان جلسے کے بعد اور بھی مٹی میں لتھڑگئی تھی اور جسے کوئی صاف کرنے والا نہیں تھا۔کرسیاں یا میز وہاں بالکل نہ تھیں، اس لیے سب لوگ دری پر بیٹھ گئے۔کانفرنس میں شریک ہونے والوں میں سب تو مجھے یاد نہیں، لیکن وہ جن کی صورتیں ابھی تک نظروں میں ہیں یہ تھے۔ چراغ حسن حسرت، ڈاکٹرتاثیر، فیروزدین منصور، ٹیکارام سخن، پروفیسرمحب الحسن، رگھونش کمارکپور (ڈی۔اے۔وی۔ کالج) رگھوپتی چوپڑا، پروفیسرسنت سنگھ (خالصہ کالج)، ڈاکٹراشرف، فیض ان کے علاوہ پنجاب کے کئی عوامی کسان شاعر بھی تھے۔مجھے ظہیر کاشمیری یا کرشن چندر کی اس کانفرنس میں شرکت یاد نہیں۔ممکن ہے رہے ہوں۔اس وقت ادیب کی حیثیت سے ہم انھیں نہیں جانتے تھے۔اجلاس میں پنجاب کے دوسرے شہروں کے بھی نمائندے تھے،جن کی کل تعداد پچیس تیس رہی ہوگی۔لیکن حاضرین کی تعداد کئی سوتھی، جو پورے چبوترے پر سمٹے بیٹھے تھے۔ان میں اکثر طالب علم، شہر کے نوجوان، دانشور اور وہ کسان تھے جن کو اَدب، شعروشاعری سے دل چسپی تھی۔
اس کانفرنس کی رو داد مجھے یاد نہیں۔ممکن ہے فیض کو یاد ہو یا ان کے پاس کانفرنس کی تجاویز اور بحثوں کی رپورٹ محفوظ ہو،لیکن میرا خیال ہے کہ اس کانفرنس کی روداد سے زیادہ اہم اس کا ماحول اور اسکی فضا تھی۔مجھے ابھی تک یاد ہے کہ اس کانفرنس کی بے سروسامانی اور بے ترتیبی پر مجھے کسی قدرجھنجھلاہٹ اور بے اطمینانی ہوئی تھی۔اس ہنگامے میں سنجیدہ اَدبی بحث ممکن نہ تھی۔ مگر اَدب میں محض سنجیدگی ہی کی تو ضرورت نہیں ۔درمیانہ طبقے کے دانشورجو اپنے کو عام طورسے تنہا، کمزور اور بے بس تصور کرتے ہیں، کیا محنت کش عوام کے مجمعے کی طاقت سے اپنی روح اور نفس کو تازہ اور جاندار بنانا نہیں چاہتے؟ بوڑھے، نوجوان اور درمیانہ عمر کے محنت کشوں کی ہزاروں آنکھیں چاروں طرف سے تعجب اور ہمدردی کے ساتھ جلیانوالہ باغ کے چبوترے پر بیٹھے ہوئے اس مجمعے کو دیکھ رہی تھیں۔ان کی سمجھ میں ان کی بہت سی باتیں نہ آتی ہوں، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ اَدیب ان کی طرف ہیں، یہ ان کے ساتھ ہیں۔ان کے دل میں یہ خواہش ضرور ہوگی کہ کاش یہ ایسی زبان میں بات کرتے جو ان کی سمجھ میں پوری طرح آتی۔اور اَدیب بھی سوچتے ہوں گے، ابھی ہم ان کے بیچ میں بیٹھ تو گئے ہیں لیکن ان کی زبان میں ان کے دل کی بات کہنے کے لیے ہمیں اور زیادہ ان کے پاس جاناہوگا۔حُبِ وطن کا وہ شعلہ جو جلیانوالہ باغ کے شہیدوں نے اپنا خون بہاکر روشن کیا تھا، کیا ایک نہ ایک دن ہمارے قومی ادب کی لکیروں کو بھی تابندہ نہیں کرے گا۔ایسی لکیریں اور ایسے لفظ جو عوام کے دلوں میں کھُب جائیں اور ان کے دماغ میں اُجالا کریں اور ان کو آزادی اور ترقی کی شاہراہ پر زیادہ تیزی اور ثابت قدمی سے آگے بڑھائیں۔
پنجاب کے اسی سفر میں مجھے علامہ اقبال سے ملنے کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔پہلی بار جب میں لاہور آیا تھا تو ڈاکٹر صاحب سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔ظاہر ہے اقبال سے ملنا اور ترقی پسند اَدب کی تحریک کے متعلق ان سے گفتگو کرنا ہمارے لیے ضروری تھا۔تاثیر نے امرتسر میں ہمیں بتایا کہ انھوں نے علاّمہ سے نئی تحریک کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ انھوں نے اس سے ہمدردی اور دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔
امرتسر سے ڈاکٹر اشرف اور میں لاہور آئے اور میاں افتخار الدین کے یہاں ٹھہرے۔میاں صاحب نے علاّمہ اقبال سے ہمارے ملنے کا وقت مقرر کیا۔ہم تیسرے پہر، چائے کے بعد ان کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔گرمیوں کے دن تھے اور اقبال اپنی کوٹھی کے باہر ایک کھردری بان کی چارپائی پر نیم دراز اپنے بستر کا تکیہ لگائے بیٹھے تھے اور حقّہ پی رہے تھے۔وہ اشرف سے اور مجھ سے بڑے تپاک اور شفقت سے ملے۔ان کے پلنگ کے گرد جو تین چار مونڈھے رکھے ہوئے تھے ہم ان پر بیٹھ گئے۔ ہم دونوں ڈاکٹر صاحب کے داہنے طرف تھے۔اقبال سے پہلی بار ملاقات کا تجربہ میرے لیے کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ان کا کلام بچپن سے ہمارے ذہن اور روح بلکہ خون میں رچا ہوا تھا۔چھوٹی عمر میں جب ہماری زبان میں لکنت تھی، ہم کو ان کے قومی اور ملّی ترانے یاد کرائے گئے تھے۔جوں جوں عمر بڑھی اور شعور آیا مسدسِ حالی کے ساتھ ساتھ شکوہ ، جوابِ شکوہ، شمع وشاعر کے بیشتر حصّے وردِزبان رہتے تھے۔ انگلستان کی تعلیم کے زمانے میں اقبال کا فارسی کلام پڑھتے رہے۔میں خود جب اپنی ذہنی اور اَدبی تربیت کے متعلق اپنی طالب علمی کے زمانے کا خیال کرتا ہوں تو اُردو کے شاعروں میں انیس، غالب، حالی، اور اقبال کا اس میں سب سے زیادہ حصّہ نظر آتا ہے۔
ہمارے ساتھ علامّہ اقبال کے التفات وعنایت کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ مجھے جرأت ہوئی کہ سب سے پہلے ان سے ہمیں جو اختلاف اور شکایتیں تھیں، وہی ان کے سامنے پیش کروں اور محض عقیدت مندی کی باتیں نہ کروں۔سوشلزم کے بارے میں گفتگو شروع ہوگئی۔
میں نے کہا کہ نوجوان ترقی پسند ادیبوں کا گروہ اس نئے نظریے سے کافی متاثر ہے۔وہ بڑی توجہ اور سنجیدگی سے میری باتیں سنتے رہے۔بلکہ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس طرح کی باتوں کے لیے میری ہمّت افزائی فرمارہے ہیں۔پھر انھوں نے کہا ’’تاثیر نے مجھ سے ترقی پسند تحریک کے متعلق دو ایک بار باتیں کی تھیں اور مجھے اس سے بڑی دل چسپی ہوئی…ممکن ہے سوشلزم کے سمجھنے میں مجھ سے غلطی ہوئی ہو۔۔۔۔بات یہ ہے کہ میں نے اس کے متعلق کافی پڑھا بھی نہیں ہے۔میں نے تاثیرسے کہا تھا کہ وہ اس موضوع پر مجھے مستند کتابیں دیں۔انھوں نے وعدہ کیا تھا، لیکن ابھی تک پورا نہیں کیا۔۔۔۔میرا نقطۂ نظر آپ جانتے ہیں۔ظاہر ہے کہ مجھے ترقی پسند اَدب یا سوشلزم کی تحریک کے ساتھ ہمدردی ہے۔آپ لوگ مجھ سے ملتے رہیے۔‘‘
علاّمہ اقبالؔ سے ترقی پسند اَدب کی تحریک کے متعلق ہماری بات چیت تشنہ اور نامکمّل رہی، اس کا مجھے افسوس رہا۔خاص طور پر اس وجہ سے کہ علاّمہ اقبال نے ہماری تحریک کے ساتھ دل چسپی اور ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔میں نے تہیّہ کیا کہ اگلی بار جب پنجاب آؤں گا تو ان سے پھر مل کر تحریک کے متعلق زیادہ وضاحت سے گفتگوکروں گا۔لیکن بدقسمتی سے اس کا موقع نہیں ملا۔جب میں دوبارہ لاہور گیا تو وہ طائر قدسی اس جہان سے پرواز کرچکا تھا۔
(سجاد ظہیر )
مشق
لفظ ومعنی
جری : جرات مند، بہادر
انقلابی شعور : دنیا اور حالات کو تبدیل کرنے کا احساس
مہتمم : اہتمام کرنے والا
تابندہ : روشن
دانش ور : روشن خیال، اہل علم، عقل وفہم کی بنیاد پر را ے قائم کرنے والا شخص
سعادت : توفیق، خوش نصیبی
لکنت : ہکلاہٹ
سوشلزم : اشتراکیت،سماج واد
مستند : معتبر، قابلِ اعتماد
غورکرنے کی بات
- پنجاب کے کسان بڑے بہادر اور محنت کش ہوتے ہیں۔
- کسان کانفرنس اور ترقی پسند مصنّفین کی کانفرنس جہاں منعقد کی جارہی تھی، اس مقام کا نام جلیانوالہ باغ ہے، جو امرتسر میں واقع ہے۔جنگ آزادی کی تاریخ میں اس مقام کی خاص اہمیت ہے۔یہاں 1920 میں آزادی کے متوالوں کا ایک جلسہ ہورہا تھا جس پر جنرل ڈایر کے حکم سے اندھا دھندگولیاں برسائی گئی تھیں۔اور آن کی آن میں سینکڑوں بے قصور لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ یہ سب شہیدانِ وطن کہلاتے ہیں۔
- وہ ادیب جو ایک بڑے سماجی اور تہذیبی مقصد کو لے کر چلتے ہیں،اُن میں بڑی خاکساری ہوتی ہے۔اس مضمون میں ’’پھٹے سے شامیانے اورمیلی پرانی دری جو مٹّی میں لتھڑگئی تھی‘‘ جیسے فقرے اُن کی اسی بے نیازی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
- ترقی پسند مصنّفین محنت کش کسانوں اور مزدوروں کے ہم درد تھے کیوں کہ یہ وہ طبقہ ہے جس کی ہمیشہ حق تلفی کی گئی ہے۔
- ’’روشنائی‘‘ کے اس حصّے میں اقبال اور ان کے پہلے مجموعۂ کلام ’’بانگ درا‘‘ کا بھی ذکر ہے۔ساتھ ہی حالیؔ اور ان کی نظم ’’مسدسِ حالی‘‘ کا بھی حوالہ ہے جس کا عنوان ’’مدّوجزرِاسلام‘‘ ہے۔ نظم کی تاریخ میں حالی اور اقبال کا درجہ بہت بلند ہے۔
سوالات
1. پنجابی کسان کانفرنس اور ترقی پسند مصنّفین کی کانفرنس کہاں منعقدہوئی تھی؟
2. جنگِ آزادی کی تاریخ میں جلیانوالہ باغ کی کیا اہمیت ہے؟
3. سجاد ظہیر نے علاّمہ اقبال کو کن خاص باتوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تھی؟
4. علاّمہ اقبال نے سجاد ظہیرکی باتوں کا کیا جواب دیا؟
عملی کام
- کانفرنس میں شامل شاعروں اور ادبیوں کے ناموں کی فہرست بنائیے۔