6
آپ بیتی
خودنوشت یا آپ بیتی کامطلب ہے اپنی زندگی کا حال بیان کرنا۔اس بیان کے دائرے میں پوری زندگی بھی آسکتی ہے اور زندگی کا کوئی خاص دور یا واقعہ بھی۔
خودنوشت کیوں لکھی جاتی ہے؟ اس سوال کے کئی جواب ہوسکتے ہیں۔مثلاً یہ کہ لکھنے والا اپنی یادوں کو مرتّب اور محفوظ کرنا چاہتا ہے۔یا یہ کہ لکھنے والا اپنے تجربوں میں پڑھنے والوں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے۔یا یہ کہ لکھنے والااپنے قاری کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس نے دنیا اور اس کے لوگوں کو کس نظر سے دیکھا ہے۔
اچھّی خودنوشت میں لکھنے والا خود اپنے منہ میاں مِٹھو نہیں بنتا۔اسی لیے خودنوشت لکھنے والے کو ہمیشہ بہت ضبط واحتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔دوسروں کے بیان میں بھی سچّائی اور دیانت داری کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اردو میں خودنوشت کی روایت زیادہ پرانی نہیں ہے۔مولانا جعفرتھانیسری کی آپ بیتی ’’کالاپانی‘‘ کو اردو کی پہلی خود نوشت کہا جاتا ہے۔اس کی اشاعت 1923 میں ہوئی۔ اگرچہ اسے اشاعت سے بہت پہلے لکھا جاچکا تھا۔
ہمارے زمانے میں رشید احمد صدیقی کی ’’آشفتہ بیانی میری‘‘ سررضاعلی کی ’’اعمال نامہ‘‘ جوشؔ ملیح آبادی کی ’’یادوں کی برات‘‘ قرۃ العین حیدر کا سوانحی ناول ’’کارجہاں درازہے‘‘، قدرت اللہ شہاب کی ’’شہاب نامہ‘‘، خلیق ابراہیم خلیقؔ کی ’’منزلیں گرد کے مانند‘‘، اخترالایمان کی ’’اس آباد خرابے میں‘‘ بہت مشہور ہوئیں۔ خواتین کی آپ بیتیوں میں بیگم حمیدہ اخترکی ’’ہم سفر‘‘، اداجعفری کی ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ اورسعیدہ بانو احمد کی ’’ڈگر سے ہٹ کر‘‘ بہت دل چسپ اور مقبول آپ بیتیاں ہیں۔
آپ بیتی بالعموم نثر میں لکھی جاتی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے منظوم آپ بیتیاں بھی لکھی ہیں۔

اخترالایمان
1915 - 1996
اخترالایمان کا اصل نام محمد اخترالایمان تھا۔وہ نجیب آباد، ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد مسجد میں امامت کرتے تھے۔اختر الایمان کی ابتدائی تعلیم مختلف گاؤں اور قصبوں کے مدرسوں اور اسکولوں میں ہوئی۔ انھوں نے میٹرک فتح پوری مسلم ہائی اسکول دہلی سے پاس کیا۔بی ۔اے دہلی کالج (موجودہ ذاکرحسین کالج)سے کیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم۔اے اردو میں داخلہ لیا مگر اسے مکمل نہ کرسکے۔پہلا سال مکمل کرنے کے بعد پونہ چلے گئے جہاں فلموں کے لیے لکھتے رہے۔کچھ دنوں بعد ممبئی گئے اور پوری زندگی وہیں گزاری۔ ممبئی کے اپنے پچاس سالہ قیام کے دوران انھوں نے بہت سی فلموں کے منظرنامے اور مکالمے لکھے۔ا ن کی لکھی ہوئی بعض فلمیں بہت مقبول ہوئیں۔مگر ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے باوجود، انھوں نے فلموں کے لیے گانے کبھی نہیں لکھے۔
اخترالایمان کاشمار اردو کے بڑے نظم گوشعرا میں ہوتا ہے۔ان کے دس شعری مجموعے شائع ہوئے۔پہلا مجموعہ ’’گرداب‘‘ اور آخری ’’زمستاں سرد مہری کا‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ نثر میں انھوں نے اپنی آپ بیتی ’’اس آباد خرابے میں‘‘ کے علاوہ چند ادبی مضامین بھی لکھے ہیں۔
اس آباد خرابے میں
رات کتنی گزرچکی تھی اب کچھ یاد نہیں صرف اتنا یاد ہے ہم عبداللہ پور (جمنا نگر) کے اسٹیشن پر اترے تھے۔پلیٹ فارم پر لگی ہوئی مٹی کے تیل کی لالٹینیں اجالاکرنے کی پوری کوشش کررہی تھیں۔ اس کے باوجود بھی گردوپیش پر اندھیرا غالب تھا۔میرے پاس ایک ٹین کا صندوق تھا جس کی بناوٹ ایسی تھی جیسے جسم پر آبلے پڑجاتے ہیں۔ جگہ جگہ سے اٹھا ہوا تھا۔ابّا نے وہ صندوق میرے سرپر رکھ دیا اور باقی سامان خودا ٹھالیا اور ہم اسٹیشن سے باہر نکل کر بغیر کوئی سواری لیے ہوئے، ایک لمبی سڑک پر چل کھڑے ہوئے۔
ہم کہاں جارہے تھے، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔پچھلا گاؤں، ہم جہاں سے چلے تھے، اس کا نام کمباسی تھا۔اس گاؤں کے بارے میں ایسی کوئی تفصیل نہیں جو دل چسپ ہو۔ایسا بھی کوئی واقعہ نہیں جو بہت اہم ہو، سوا اس بات کے کہ جس گھر میں ہم رہتے تھے، کہا جاتاتھا وہاں آسیب کا اثرہے۔رضوان پیدا ہواتھا، جو تقریباً ہفتہ بھر یا پندرہ دن زندہ رہ کر مر گیا تھا۔اپنے اس چھوٹے بھائی سے مجھے اتنا لگاؤ ہوگیا تھا کہ میں اس کی قبر پر چلا جاتا تھا اور وہاں بیٹھے روتا رہتا تھا۔بستی کا کوئی آدمی ادھر سے گزرتا تھا تو مجھے گھر لے آتا تھا۔

میرے والد امامت کا پیشہ کرتے تھے۔انھوں نے مذہبی تعلیم سہارنپور میں حاصل کی تھی۔بہت اچھّے قاری تھے۔انھیں دیہات بہت پسند تھے۔امامت کے علاوہ مسجد کے صحن میں مکتب کھولتے تھے جہاں دیہات کے ہر عمر کے لڑکے لڑکیاں پڑھنے آتے تھے۔
یہ دیہات جس میں میرا بچپن گزرا زیادہ تر مسلمان آرائیوں اور راجپوتوں کے تھے۔ان دیہاتوں کا اور میرا بڑا ذہنی تعلق ہے۔میں بچپن سے اکیلا ہوں۔والدہ جب اپنے میکے چلی جاتی تھیں، میں والد کے پاس رہتا تھا۔میری تعلیم کا ہرج نہ ہو اس خیال سے وہ مجھے امّاں کے ساتھ نہیں جانے دیتے تھے۔میری تعلیم کا تصوّر ان کے ذہن میں وہی تھا جو انھوں نے خود حاصل کی تھی۔قرآن حفظ کرنا اور اردو ،فارسی کی تھوڑی شدبد تاکہ بڑا ہوکر میں بھی ان کی طرح امامت کا پیشہ اختیار کرسکوں، مگر یہ خانہ بدوشانہ زندگی جو میرے والد نے اختیار کر رکھی تھی، اس نے کبھی مجھے ایک طرح کی تعلیم پر نہیں جمنے دیا۔کبھی سرکاری اسکول میں داخل کردیاجاتا تھا۔کبھی قرآن حفظ کرنے پر لگا دیا جاتا تھا اور بس۔ دن رات اسی طرح گزرتے چلے جارہے تھے۔
ان تصویروں میں جن کا تعلق میرے ذہنی پس منظر سے ہے ایک تصویر میرے ذہن میں بہت واضح ہے۔میں ایک بیل گاڑی کے پاس کھڑا ہوں۔ہم ایک گاؤں چھوڑکر دوسرے گاؤں میں جارہے ہیں۔ہمارا سامان بیل گاڑی میں لادا جارہا ہے اور میں یہ منظربڑی بے بسی کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔بے بسی اس لیے کہ میں یہ گاؤں نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔اس گاؤں کا نام رَکڑی تھا۔ یہاں بہت سے جوٗہڑ تھے۔جوٗہڑوں میں کنول اورنیلوفر کھلتے تھے ۔سب طرف بڑے بڑے آموں کے گھنے باغ تھے۔باغوں میں کھلیان پڑتے تھے۔کویلیں کوکتی تھیں ۔پپیہے بولتے تھے۔ہرے ہرے جنگلوں اور کھیتوں میں ہرنوں کی ڈاریں کلیلیں کرتی دکھائی دیتی تھیں۔کیکر اور کھجور کے پیڑوں میں بَیوں کے گھونسلے تھے جن میں بیٹھے وہ جھولتے رہتے تھے، گیت گاتے رہتے تھے۔ایک دوسرے کا تعاقب کرتے رہتے تھے۔پدّے تھے۔شامائیں تھیں ، لال تھے جو موسم کی تبدیلی کے ساتھ رنگ بدلتے تھے، مینائیں تھیں، خوبصورت آواز والے دیّڑتھے۔غرض کہ وہ سب کچھ تھا جو مجھے مرغوب اور پسند تھا۔مگرمیری مرضی نہیں چلی، مجھے گاڑی میں بٹھا دیا گیا اور گاڑی مجھے لے کر روانہ ہوگئی۔ مگر میں وہیں کھڑا رہ گیا۔ یہی وہ گاؤں رکڑی تھا جسے چھوڑکر ہم کمباسی گئے تھے۔
عبداللہ پور (جمنا نگر) سے چل کر ہم جَگادھری پہنچے۔شہرکے باہر، سڑک کنارے ایک چوکی تھی وہاں جو چوکیدار تھا، ابّا سے جانے کیوں اس کی تکرار ہوگئی۔ابّاایک دم بگڑگئے، جھگڑا شاید اس پر ہوا تھاکہ وہاں رات گزارنا چاہتے تھے۔اس جھگڑے کے بعد، انھوں نے وہاں رات گزارنے کا ارادہ ترک کردیا اور دوسری سمت جانے والی ایک کچّی سڑک پر مڑگئے۔
رات چاندنی تھی۔کچّی سڑک پر تھوڑی دیر چلنے کے بعد ایک بہت بڑا تالاب آیا۔ابّا تالاب کے کنارے رک گئے۔آگے تالاب سے گزرکرجانا تھا۔تھوڑی دیر سوچنے کے بعدابّا نے کہا: ’’میرے پیچھے پیچھے آؤ‘‘، اور لاٹھی سے پانی ناپتے ہوئے تالاب میں اتر گئے اور دھیرے دھیرے لاٹھی سے پانی ناپتے ناپتے دوسری طرف پہنچ گئے۔ تالاب سے گزرنے کے بعد راستے میں دوتین باغ پڑے مگر ابّا نہیں رُکے۔اس کے بعد ایک کانس کا جنگل آیا مگر وہ چلتے رہے۔ہم بہت دیر تک چلتے رہے۔جنگل کے بولتے سناٹے کے سِوا اور کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔گاہے گاہے آس پاس سے گیدڑوں کے بولنے کی آواز سنائی دے جاتی تھی۔بہت دیر چلنے کے بعد پھر ایک جوہڑآیا جس کے دائیں طرف کانس کا جنگل تھا اور سامنے ایک باغ۔ابّا نے باغ میں سامان رکھ دیا۔ایک چادر نکال کر بچھادی اور کہا سوجاؤ۔میں لیٹتے ہی سوگیا۔
یہ جگہ جہاں ہم نے رات قیام کیا تھا ایک قبرستان تھا۔کمباسی سے ہم جس جگہ کے لیے روانہ ہوئے تھے، اس کا نام سَگھ مدرسہ تھا۔ابّا نے ایک راہ گیر سے دریافت کیا۔معلوم ہوا سگھ مدرسہ اس جگہ سے بہت قریب ہے۔وہ باغ جہاں ہم نے رات قیام کیا تھا اور سگھ مدرسہ کے بیچ وہی کانس کا جنگل جس کا میں نے ذکر کیا ہے اسی باغ سے تھوڑے فاصلے پر ایک گاؤں تھا۔جس کا نام سگھ تھا اسی نسبت سے اس مدرسے کا نام سگھ مدرسہ تھا۔تھوڑی دیر بعد ہم سگھ مدرسہ پہنچ گئے۔
سگھ مدرسہ دراصل ایک یتیم خانہ تھا جو ایک بغیر چھت کی مسجد اور چند پھونس کے چھپّروں پرمشتمل تھا۔اس سگھ مدرسہ کے مہتمم اور روح رواں حافظ اللہ دیا نام کے ایک صاحب تھے۔گورے چٹّے، قدتھوڑا نکلتا ہوا، طباق سا چہرہ اور پھیلی ہوئی ناک ، بات چیت میں اچھے تھے اور گوارا آداب واطوار کے انسان تھے۔جب ہم سگھ مدرسہ میں آئے امّاں اپنے میکے چلی گئی تھیں۔ابّا یہاں کیوں آئے تھے، مجھے نہیں معلوم، اس لیے کہ یہاں امامت کا کوئی سلسلہ نہیں تھا۔اس مدرسے میں تیس پینتیس لڑکے تھے۔یہاں دینی تعلیم کا انتظام بھی تھا۔جہاں نہ صرف اس مدرسے کے لڑکے پڑھتے بلکہ سگھ بستی کے لڑکے لڑکیاں بھی آتے تھے۔
یہ مدرسہ جنگل کے بیچوں بیچ تھا، جس کے دوطرف کھیت تھے۔تیسری طرف آموں کا باغ اور سگھ بستی اور چوتھی جانب کانس کا بہت بڑا جنگل، جس کے ایک سرے پر ایک بہت بڑی جھیل تھی جس کے پانی میں مگر مچھ تیرتے دکھائی دیتے تھے جو کبھی کبھی کنارے پر بھی آجاتے تھے اور دھوپ میں لیٹے رہتے تھے۔جھیل کا بیشتر حصّہ نرسُل اور پیٹرے کے جھنڈ سے پٹا ہوا تھا۔
یہاں مرغابی اور چہے کا شکار کرنے بہت شکاری آتے تھے، خاص طور پر انگریز۔ سردیوں میں جب کانس کا جنگل پھولتا تھا تو بہت اچھّا لگتا تھا۔
کچھ روز ساتھ رہ کر میرے والد مجھے چھوڑکر چلے گئے۔بعد میں پتہ چلا انھوں نے امامت کا پیشہ ترک کردیا اور مدرسے کے لیے چندہ اکٹھّا کرنے کا کام اپنے ذمے لیا تھا۔ مدرسے کے لیے چندہ وہ گاؤں گاؤں گھوم کر کرتے تھے۔حافظ اللہ دیا بھی زیادہ تر یہی کام کرتے تھے اور گرمیوں میں چندہ اکٹھا کرنے شملہ چلے جاتے تھے۔یہاں پھر قرآن حفظ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔جانے سے پہلے ایک دن ابّا نے مجھے نماز سکھائی۔پوچھا سورئہ فاتحہ آتی ہے؟ میں نے نیت باندھے باندھے کہا ———’’آتی ہے۔‘‘
کہنے لگے نمازکی نیت بندھی ہوتو بولا نہیں کرتے۔میں نے نیت باندھے باندھے کہا—’’اچھّا‘‘۔ سگھ مدرسہ چندے کے روپیہ پر کم چل رہا تھا اللہ کی مرضی اور توکّل پر زیادہ۔ یہاں کھانا کم اور کھانے کا انتظار زیادہ رہتا تھا ۔راتوں کو افزائش رزق کے لیے چلّہ کشی اور قرآن خوانی ہوتی۔جب کئی دن تک آس پاس کے گاؤں سے کوئی دعوت یا اور کچھ کھانے کو نہیں آتا تھا کہ لڑکوں کو منہ اندھیرے اٹھایا جاتا تھا۔انھیں کچھ کنکریاں دے دی جاتی تھیں جن پر وہ قرآن کی سورۃ کئی کئی بار پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔کون سی سورۃ تھی، اس وقت مجھے یاد نہیں۔سردیوں کی راتوں میں اٹھنا مصیبت معلوم ہوتا تھا مگر قہردرویش بر جانِ درویش۔
کچھ دن بعد ابّا واپس آگئے۔ امّاں بھی آگئیں۔ایک رات امّاں سوتے سوتے ایک دم ہڑبڑاکر اٹھیں۔انھیں اپنے سینے پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا۔انھوں نے جھٹک دیا۔ابّا نے جلدی سے لالٹین جلائی دیکھا ایک چھوٹا سا سانپ ہے۔ایک رات ہم چولھے کے پاس بیٹھے کھانا کھارہے تھے۔اچانک چولھے کی عقبی دیوار سے ایک بہت بڑا سانپ نکلا اور تیزی سے دوسری طرف چلا گیا اور غائب ہوگیا۔اس کے علاوہ اور بھی کچھ یادیں ہیں، جن میں دواہم یہ ہیں۔ایک لالی کا سراور دوسرے برسات کے کیڑے۔
سگھ مدرسہ میں دوبہن بھائی پڑھتے تھے۔لڑکے کا نام میرے ذہن میں نہیں۔ لڑکی کا نام لالی تھا۔وہ کسی بیرے یا بٹلر کے بچّے تھے جو شملہ میں کام کرتا تھا۔انھیں حافظ اللہ دیا لے آئے تھے۔لالی بہت چھوٹی تھی۔یہی کوئی چار پانچ سال کی ہوگی۔سب لڑکے اس سے بڑا لاڈ کرتے تھے۔ایک روز سوکر اٹھے تو معلوم ہوا لالی غائب ہے۔سب کو بڑا تعجب ہوا۔وہ کہاں جاسکتی ہے۔مدرسے میں ہر جگہ ڈھونڈا مگر نہیں ملی۔سب جنگل کی طرف دوڑے۔ اسے پکارتے ہوئے کچھ لڑکے جنگل میں ایک طرف گئے، کچھ دوسری طرف، آخر لالی مل گئی۔ایک بھِٹ کے باہر کچھ خون، خون میں لت پت لالی کے کپڑے اور اس کی کھوپڑی پڑی تھی۔اسے لکڑبگھااٹھا لے گیا تھا۔
ہرطرف جنگل ہونے کی وجہ سے رات کو بھنگے اورپتنگے بہت آتے تھے اور جب کھانا کھانے بیٹھتے تھے تو دال میں گرگرجاتے تھے۔ان کی بو اتنی تیزاور خراب ہوتی تھی کہ اب تک میری ناک میں بسی ہوئی ہے۔
کچھ مدّت بعد ابّا اور حافظ اللہ دیا میں اختلاف ہوگیا۔کیوں؟ اس کی تفصیل مجھے نہیں معلوم، مگر اس اختلاف میں نابینا حافظ کا ہاتھ ضرور تھا۔
اس واقعے کے بعد سگھ مدرسے سے ہمارا سلسلہ منقطع ہوگیااور ہم رہنے کے لیے سگھ بستی میں چلے گئے۔
سگھ بستی پچاس ساٹھ گھروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں زیادہ تر مسلمان راجپوت اورارائیں کاشت کار تھے وہاں رحمت اللہ نام کا ایک شخص تھا جس نے اپنی حویلی کا ایک حصّہ ہمیں رہنے کے لیے دے دیا تھا۔میری تعلیم کا ڈھرّا پھر بدل گیا۔میں سگھ مدرسے میں قرآن حفظ کررہا تھا، مگر سگھ بستی میں آنے کے بعد ابّا نے مجھے سرکاری اسکول میں داخل کرادیا۔سگھ سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک پرانا قصبہ تھا جس کا نام بوڑیہ تھا۔وہاں ایک مڈل اسکول تھا۔پڑھنے کے لیے میں وہاں جانے لگا۔مدرسے کے قریب ایک محل نما مکان، محل نما کیا محل ہی تھا۔کس کا تھا نہیں معلوم۔بہت سال بعد معلوم ہوا وہ بیربل کا محل تھا۔قصبہ بوڑیہ بھی بہت قدیم بستی معلوم ہوتا تھا۔ جگہ جگہ منہدم مکانات تھے۔ایسا محسوس ہوتا تھا یہ شہر ضرورکسی قدیم تہذیب کا حصّہ ہے۔ابھی سال پہلے میں نے اخبار میں پڑھا، وہاں کھدائی ہوئی دوتین صدی قبل مسیح کی تہذیب کے آثار ملے۔
سگھ بستی سے نکلتے ہی دائیں بائیں آموں کے باغ تھے اور بیچ میں کانس کا جنگل ۔بوڑیہ کا راستہ اسی جنگل سے ہوکر گزرتا تھا۔یہ اسی کانس کے جنگل کا سلسلہ تھا جو سگھ مدرسے کے اردگرد پھیلا ہوا تھا۔مارکنڈندی اس جنگل کو چھوتی ہوئی گزرتی تھی۔پانی صرف برسات کے دنوں میں ہوتا تھا۔باقی دنوں میں مارکنڈسوکھا پڑا رہتا تھا۔چلچلاتی دھوپ اور یخ بستہ سردیوں میں جب میں اس ندی کی ریت پر سے ننگے پاؤں گزرتا تھا، تو میرے آنسو نکل آتے تھے۔تلووں کو دھوپ اتنا نہیں جلاتی تھی جتنا سردی جلاتی تھی۔مجھے اکثرایسا احساس ہوتا ہے جیسے اس بستی میں کئی جنم گزارے تھے۔کتنا اتار چڑھاؤ دیکھا اور بھگتا، جیسے ہفت خواں طے کیا ہو۔
(اخترالایمان)
مشق
لفظ ومعنی
آسیب : بھوت پریت
خانہ بدوش : بے ٹھکانا، جس کا کوئی مستقل گھر نہ ہو
جوٗہڑ : چھوٹا تالاب
ڈار : ہرنوں کاجھنڈ
مرغوب : پسندیدہ
کانس : ایک قسم کی لمبی گھاس جو غیرزراعتی زمین پر پیدا ہوتی ہے
روحِ رواں : وہ شخص جو کسی کام کی اصل ذمّے داری سنبھا لے ہوئے ہو
طباق سا چہرہ : چوڑا چکلا چہرہ
نرسُل : سرکنڈا، نرکل
پٹیرے : ایک قسم کی گھاس
چہے : ایک چھوٹی آبی چڑیا
افزائش : اضافہ،زیادتی
قہردرویش برجانِ درویش : غریب کا غصّہ اپنے ہی اوپر نکلتا ہے
منہدم : گِرا ہوا، مسمار کیا ہوا
یخ بستہ : بہت زیادہ ٹھنڈا، برف کی طرح جما ہوا
ہفت خواں : کیکاؤس کی رہائی کے لیے رُستم نے ماژندران تک جو راستہ سات دن میں طے کیا اسے ہفت خواں کہا جاتا ہے ۔مراد کٹھن اور مشکل کام
غورکرنے کی بات
- ایک اچھی آپ بیتی میں صرف گزری ہوئی باتوں کا بیان ہی نہیں ہوتا بلکہ اس بیان کو حقیقت پر بھی مبنی ہونا چاہیے۔ اختر الایمان نے اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں، اورناکامیوں کو بھی دیانت داری کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اخترالایمان کی نثر بہت سادہ صاف اور رواں ہے۔ان کی نثر میں ذرا بھی تصنع اور آرائش نہیں ہے۔
- یہ اقتباس اخترالایمان کی خودنوشست ’اس آباد خرانے میں‘ کے اس حصّے سے لیا گیا ہے جب مصنف کو گیارہ سال کی عمر میں اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا۔غورکیجیے کہ چوتھے پیراگراف میں مصنف نے اپنے گاؤں کی کتنی اچھی اورسچّی تصویریں پیش کی ہیں۔
سوالات
1. خودنوشت یا آپ بیتی کی تعریف بیان کیجیے۔
2. اخترالایمان کسی ایک طرح کی تعلیم پر کیوں نہ جم سکے؟
3. اپنے گاؤں رکڑی کی کیا کیا چیزیں اخترالایمان کو پسند تھیں؟
4. اخترالایمان جب اپنے والد کے ساتھ جگادھری پہنچے تو وہاں کیا منظرتھا؟
5. مدرسے میں رہنے والی بچّی لالی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟
عملی کام
- آپ کو اپنی زندگی کے کچھ ایسے واقعات یاد ہوں گے جن کی یاد آپ کے ذہن میں ہوگی، انھیں یادداشت کی شکل میں لکھیے۔