7
رپور تاژ
رپورتاژکو انگریزی میں Reportage کہتے ہیں۔ رپورٹ کے لغوی معنی روداد یا خبر کے ہیں۔ خاص طور پر عوام کے سامنے کسی چیز یا واقعے کے بارے میں بیان دینا یا اطلاع دینا۔ رپورتاژ بھی ایک روداد اور اطلاع نامہ ہی ہوتا ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک ادبی صنف کی ہے۔ ادبی صنف کے اعتبار سے رپورتاژ کو تاثراتی روداد کا نام دیا جاتا ہے۔ رپورتاژ میں کسی تقریب یا ادبی کانفرنس یا مذاکرے یا جلسے کی کارروائی کی روداد بیان کی جاتی ہے۔ رپورتاژ کا مقصد صرف اطلاع یا خبر دینا نہیں ہوتا، کیوں کہ خبر یا اطلاع کے علم کے بعد پھر اس میں کوئی دل چسپی قائم نہیں رہتی۔ وہ جلد ہی باسی یا بے مصرف سی چیز میں بدل جاتی ہے۔
رپورتاژ لکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تخلیقی مزاج بھی رکھتا ہو۔ اگر وہ صحافی ہے تو اس میں خبر کو افسانہ بنانے کی اہلیت ہونا چاہیے۔ رپورتاژ میں اسلوب بیان کی خاص اہمیت ہے۔

کرشن چندر
1914 تا 1977
کرشن چندر بھرت پور میں پیدا ہوئے ۔ ان کا بچپن پونچھ (کشمیر) میں گزرا۔جہاں ان کے والد بحیثیت ڈاکٹر تعینات تھے۔ انھوں نے وکالت کا امتحان پاس کیا۔پھر انگریزی میں ایم۔اے کیا۔ کچھ دنوں وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ فلموں کی کشش انھیں بمبئی لے گئی، مگر انھیں فلموں میں زیادہ کامیابی نہ مل سکی۔ انھوں نے قلم کو ہی روزگار کا وسیلہ بنایا۔ کچھ لوگ کرشن چندر پر بسیار نویسی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔
کرشن چندر کا شمار اردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے افسانے کے علاوہ ناول، انشائیے، رپورتاژ، ڈرامے، خاکے، طنزیہ و مزاحیہ مضامین بھی لکھے۔ مگر ان کی اصل پہچان ناول اور افسانے ہی کی وجہ سے ہے۔ کرشن چندر کا پہلا افسانہ ’’یرقان‘‘ ہے جو ’’ادبی دنیا‘‘(لاہور) میں1936 میں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’طلسمِ خیال‘‘1939 میں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں کے تقریباً 32 مجموعے اور 47ناول شائع ہوئے۔
اپنی تخلیقات میں وہ بہت خوبصورت شاعرانہ زبان استعمال کرتے تھے۔ ان کے یہاں منظر نگاری کے اعلیٰ نمونے بھی پائے جاتے ہیں ۔انھوں نے ہیئت اور تکنیک کے بہت سے تجربے کیے ہیں ۔ کرشن چندر کا طنزبہت تیکھا ہوتا ہے۔ کرشن چندر کی طنزیہ و مزاحیہ تحریریں بھی بہت مقبول ہوئیں۔ بہت سی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں ان کے افسانے اور ناولوں کے ترجمے ہوئے ہیں۔ انھیں ’’سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ‘‘ اور ’’پدم بھوشن‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔
پودے
جب سردار جعفری اور کرشن چندر نظام کالج سے لوٹے تو فراق اور احتشام اور ڈاکٹر عبد العلیم لکھنؤ سے تشریف لے آئے تھے۔ یہ سب لوگ کھانے پر بیٹھے عریانی پر بحث کررہے تھے۔ سردار نے آتے ہی قلم ہاتھ میں لے کر ایک تجویز اس امر کے متعلق لکھنا شروع کی اور بحث طویل ہوتی گئی۔ فراق حسن کار ہیں، اس لیے انھیں عریانی سے اتنی نفرت نہیں۔ احتشام کی طبیعت میں نوجوانی کے باوجود اتنا ٹھہراؤ ہے کہ وہ عریانی کو دیکھ کر بدکتے نہیں، برافروختہ نہیں ہوجاتے، صلواتیں سنانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر عبدالعلیم کا اندازیہ تھا: ’’میاں ابھی تم بچّے ہو، کیا طفلانہ باتیں کررہے ہو‘‘۔ ان کے ہشاش بشاش چہرے پر مسکراہٹ کی لہر دوڑ دوڑ کے کم ہوجاتی تھی۔ وہ اپنی داڑھی اور وضع قطع سے فرانسیسی معلوم ہوتے ہیں اور اپنے درشت انداز تکلم سے ہیڈ ماسٹر،اور آگ بگولا ہوتے وقت سو فیصدی کمیونسٹ نظر آتے ہیں۔ اکثر لوگ غلط بات غلط موقعے پر کہتے ہیں۔ یا غلط بات صحیح موقعے پر کہتے ہیں۔لیکن ڈاکٹر عبدالعلیم کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح بات کہتے ہیں اور ہمیشہ غلط موقعے پر کہتے ہیں۔چدّر گھاٹ کالج میں انھوں نے تقریر کرتے ہوئے طلبا کے مجمعے میں کالج کے استادوں کو وہ ڈانٹ بتائی کہ بے چارے اب تک یاد کرتے ہوں گے۔ اسی طرح P.E.N. کانفرس کے موقعے پر جب ڈاکٹر مُلک راج آنند نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان میں بھی فرانسیسی انسائیکلوپیڈسٹس (ENCYLOPAEDISTIS) کی طرح ایک تحریک جاری کی جائے۔ تو بہت سے لوگوں نے اس انقلابی تجویز کی حمایت کی۔ان میں ریاست بیکانیر کے وزیر سردار پانیکر بھی شامل تھے ،لیکن صرف ایک آدمی کی پرزور مخالفت سے یہ تحریک رہ گئی۔ یہ مخالفت کرنے والا جانتے ہو، کون تھا؟ یہی اپنے ڈاکٹر عبدالعلیم صاحب! آپ نے اٹھ کر کہا: ’’ تجویز تو بہت معقول ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ فرانس میں اس تحریک کے چلانے والوں میں بڑے بڑے لوگ تھے۔ روسو اور والٹیئر۔ یہاں ایسا کون ادیب ہے۔ کون ایسا مفکر ہے۔‘‘ آپ نے پورے مجمعے پر نظر ڈال کر کہا۔ مجھے تو آپ لوگوں میں سے ایک آدمی بھی اس پائے کا نظر نہیں آتا۔ اس پر ایک قہقہہ بلند ہوا۔ پھر مجمعے میں سے کسی من چلے نے کہا—’’اور کیا ڈائس پر بھی کوئی ایسا آدمی آپ کو نظر نہیں آتا۔‘‘
ڈائس پر سروجنی نائیڈو تشریف فرماتھیں۔جواہرلعل نہرو تھے۔۔۔ فلسفہ داں رادھا کرشنن ، ہرمین اولڈ اور۔۔۔ فارسٹر۔اور ملک راج آنند، احمد شاہ بخاری پطرس اور دوسرے لوگ۔ڈاکٹر صاحب نے وائس پرنگاہ ڈالی۔ سب کی طرف دیکھااور پھر مجمعے کی طرف مڑ کر کہنے لگے۔ ان میں بھی کوئی نہیں۔۔۔!
تحریک گرگئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب سچائی کو اس شدتِ احساس کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور اس پر اس سختی سے کار بند ہوتے ہیں کہ اکثر اوقات ہمدرد بھی مخالف ہو جاتے ہیں لیکن اس کی انھیں کوئی پرواہ نہیں وہ ادیبوں کے مہا تما گاندھی ہیں لیکن ذرا عدم تشدد کے قائل نہیں اور اگر کبھی ہندوستان میں ایسا قانون نافذ ہوا کہ ادیبوں کو ان کی فکری،ذہنی یا خارجی غلطیوں کی سزا ملنے لگی تو اس احتساب کا محکمہ ڈاکٹر صاحب کے ہی سپرد ہوگا۔ ان کی صاف گوئی سے بہت سے لوگ ان سے گھبراتے ہیں لیکن اس میں ان کی عظمت ہے اور اگر اس صنف میں کوئی ان سے ٹکر لے سکتا ہے تو وہ حسرت موہانیؔ ہیں جو خوش قسمتی سے اس کانفرنس میں تشریف رکھتے تھے اور بلاناغہ اس کے ہر جلسے میں شرکت کرتے رہے۔ چنانچہ جب ترقی پسند ادیبوں کی طرف سے عریانی کے خلاف قرار داد پیش کی گئی تو اس کی مخالفت کرنے والے مولانا حسرت موہانی تھے اور قاضی عبد الغفار۔ مزے کی بات یہ تھی کہ نوجوان عریا نی کے خلاف تحریک پیش کررہے تھے اور بزرگ اس تحریک کی مخالفت کررہے تھے۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اس طرح نوجوان اذہان کی قوتیں مسلوب ہوجائیں گی اور ان کی تخیلی نمو رک جائے گی۔ مولانا حسرت موہانی کی پر زور تقریر سے قرار داد مسترد کردی گئی۔ سبطے بے حد ناخوش تھا۔ کہنے لگا۔
’’اماں،مولانا کا ہمیشہ یہی رول رہا ہے۔ وہ جہاں گئے لوگوں کو مصیبت میں ڈالتے گئے۔ جب کانگریس میں تھے تو ہوم رول کے دنوں میں آزادی کا ذکر کرکے کانگریس ہائی کمانڈ کو خائف کیا کرتے تھے اور جب کانگریس نے لاہور کانفرس کے موقعے پر مکمل آزادی کی قرار داد منظور کرلی تو آپ نے اشتراکیت کی پخ لگادی اور کانگریس سے ایسے ناخوش ہوئے کہ مسلم لیگ میں چلے گئے۔ وہاں پہنچے ہیں تو اب بے چارے شریف خان بہادروں کو بغاوت پر اکسارہے ہیں اور مکمل آزادی کا ریزولیوشن پاس کئے دے رہے ہیں۔ ہر جگہ مصیبت میں ڈالتے ہیں، یہ لوگوں کو۔ بھئی اب اچھّا بھلا یہ ریزولیوشن پاس ہورہا تھا۔۔۔۔ خیر۔۔۔ ہٹاؤ اب اس قصّے کو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رک گیا اور اس کے چہرے پر ہزاروں درد کی لکیریں یکایک معدوم ہوگئیں اور پھر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ مگر بھئی۔ یہ خوب ہیں مولانا چٹان ہیں۔ بس کسی کی نہیں سنیں گے۔ اپنی جگہ سے کبھی نہیں ہٹیں گے۔
دوپہر کو پریم چند سوسائٹی کا افتتاح تھا۔ حسین ساگر میں جو کلب ہے وہاں دعوت بھی تھی۔ ادیبوں کوکشتیوں میں سوار کرکے کلب میں پہنچایا گیا۔ درآنحالیکہ ایک راستہ خشکی سے بھی جاتا تھا۔ غالباً موٹر بوٹ کی نمائش مقصود تھی۔ کلب کی عمارت جھیل میں تعمیر کی گئی ہے۔ کوئی پچاس کے قریب ملازم ہوں گے۔ آٹھ کورس کا کھانا۔ اس دعوت پر اتنا صرف کیا گیا تھا کہ غالباً پریم چند کواپنی زندگی میں اتنی رائلٹی نہ ملی ہوگی۔ یورپ میں جب ادیب زندہ ہوتا ہے تو اس کی قدر ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مرنے کے بعداسے پوچھا جاتا ہے۔ چنانچہ آج پریم چند سوسائٹی کا افتتاح تھا۔ قاضی عبد الغفّار تقریر کررہے تھے۔ اور مرغن کھانے دعوت میں شامل تھے۔ جھیل کے منظر سے ادیب لطف اندوز ہورہے تھے۔ قاضی عبدالغفار کی شخصیت پر متانت کا ایک دبیز پردہ پڑا ہوا ہے لیکن اتنا دبیز بھی نہیں کہ ان کی جبلی خوش طبعی اس متانت کے اندر سے جھلک نہ اُٹھے۔ متانت ہے لیکن بوجھل نہیں ہے۔ خوش طبعی ہے لیکن کھُل کر نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کسی چیز نے، کسی خاص واقعے نے، یا کسی خاص ماحول نے، ان کے ذہن کے، ان کے فکر کے، ان کی فطری صلاحیت کے دو ٹکڑے کردیے ہیں۔ وہ اس پر بھی مجبور ہیں۔ اس پر بھی دونوں رنگ ایک ہی شخصیت میں جھلکتے نظر آتے ہیں۔ پیرس کی رنگینی بھی ہے ، عالمانہ زہد بھی ہے، شگفتہ انشا پردازی بھی ہے۔ اور فکری ٹھہراؤ بھی۔ لباس میں امارت کی جھلک ہے اور گفتگو میں حلم کی چاشنی۔ تیور جاگیردارانہ ہیں اور ذہن باغیانہ، قاضی صاحب اک ایسے نوجوان جسے عرصے سے کسی نے گُد گُدایا نہ ہو لیکن خود اس کے دل میں شوخیاں چٹکیاں لے رہی ہوں۔ کاش کوئی مصنّف’’ِ لیلیٰ کے خطوط‘‘ کو گُد گُدادے۔ اس طرح کہ وہ بھری محفل میں یاروں کی محفل میں، نہیں، ہزاروں لاکھوں معمولی آدمیوں کی محفل میں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ یہ گُدگُدی ایک بہت بڑے شاہکار کا پیش خیمہ ہوگی۔
(کرشن چندر)
مشق
لفظ ومعنی
عریانی : ننگا پن،برہنگی
حسن کار : حسن کی تخلیق کرنے والا، آرائش کرنے والا
برافروختہ : غصیلا، ناراض، بھڑکا ہوا
صلواتیں سنانا : برا بھلا کہنا
طفلانہ : بچکانہ
درشت : کرخت، کھردرا
اندازِ تکلم : بولنے کا انداز
عدم تشدد : خود کوظلم اور زیادتی سے علاحدہ رکھنا، اہنسا
احتساب : حساب کرنا، جائزہ لینا
مسلوب : سلب کیا گیا، چھینا ہوا
تخیلی نمو : فکری ارتقا، ذہنی نشوو نما
خائف : خوف زدہ
ریزولیو شن : قرارداد
معدوم : مٹایا گیا
درحالیکہ : اس صورت میں
رائلٹی : مصنف کواپنی تصنیف پر ناشر کی طرف سے ملنے والی رقم
متانت : سنجیدگی
دبیز : موٹا(کسی کپڑے یا کاغذ کے لیے بولا جاتا ہے)
جبلّی : فطری
زہد : پرہیزگاری
حلم : بردباری
غور کرنے کی بات
l. ’ پودے‘ در اصل انجمن ترقی پسند مصنفین کی حیدر آباد کانفرنس کی روداد ہے۔ اس روداد میں کرشن چندر نے یہ بتایا ہے کہ اس انجمن نے کس طرح ہمارے ادب میں انسان دوستی اور حقیقت پسندی کی ایک نئی روایت کا پودا لگایا۔
2. دانشوروں کی مجلس میں جب کوئی تجویز منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہے تو کچھ لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ مخالفت۔ اس طرح اس تجویز کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہاں مصنّف نے یہ بتایا ہے کہ ملک راج آنند کی پیش کردہ تجویز، کئی لوگوں کی حمایت کے باوجود، ڈاکٹرعبد العلیم کی مخالفت کے باعث پاس نہ ہوسکی۔
سوالات
1۔ ڈاکٹر عبد العلیم کے کردار کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟
2۔ ملک راج آنند کی پیش کردہ تجویز کیوں منظور نہ ہوسکی؟
3۔ ادیبوں کے احتساب کا محکمہ ڈاکٹر علیم صاحب کے پاس ہی ہونے کی کیا وجہ بتائی گئی ہے؟
4۔ مولانا حسرت موہانیؔ کے بارے میں کس راے کا اظہار کیا گیا ہے؟
5۔ قاضی عبدالغفار کے کردار کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
عملی کام
- پریم چند سوسائٹی کے افتتاح کا حال اپنے الفاظ میں لکھیے۔
- آپ نے اپنے اسکول میں کئی جلسے اور تقریبات دیکھی ہوں گی۔ ایسی کسی تقریب یا جلسے کے بارے میں ایک رپور تاژ لکھیے۔