8
انشائیہ
لفظ انشا اردو میں کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔انشائیہ بھی اسی لفظ سے بنا ہے۔محققین کا خیال ہے کہ لفظ Essay عربی لفظ ’’السّعی‘ ‘سے نکلا ہے جو لفظ انشاکا بدل ہے۔ ’السّعی‘ فرانسیسی میںEssai اور انگریزی میںEssay بنا۔
ابتدا میں مضمون نگاری اور انشائیہ نگاری میں زیادہ فرق نہیں تھا،مگر رفتہ رفتہ ان میں فرق پیدا ہوتا گیا،یہاں تک کہ انشائیہ ایک علاحدہ صنف قرار پائی۔انشائیہ نگاراپنے مخصوص ذاتی مشاہدات اور تاثرات کو بے باکی اور بے تکلفی سے بیان کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انشائیہ میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات سے متعلق خیال کے تمام مرحلے خوش طبعی کے ساتھ طے کیے جاتے ہیں۔یہ بات میں بات پیدا کرنے کا فن ہے۔انشائیہ نگار مفہوم سے خالی گفتگو میں بھی معنی پیدا کردیتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔اختصار اس کی پہچان ہے۔ اس میں مزاح یا ٹھٹھول کی جگہ ہلکی پھلکی زیرِ لب ہنسی پنہاں ہوتی ہے۔خیال آفرینی اس کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔
اردو میں انشائیے کی ابتدا سر سید احمد کے رسالے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ سے ہوتی ہے۔ مولوی نذیر احمد اور ذکاء اللہ کے بعد ’’اودھ پنچ‘‘ اور’’مخزن‘‘ نے اسے فروغ دیا۔میرناصر علی، سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش، سجاد انصاری ،نیاز فتح پوری،مہدی افادی، فرحت اللہ بیگ،قاضی عبدالغفار، پطرس بخاری، سید محفوظ علی بدایونی، خواجہ حسن نظامی رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی نے اس صنف کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

خواجہ حسن نظامی
1878 تا 1955
خواجہ حسن نظامی دہلی میں پیدا ہوئے۔کم عمری میں ہی والد اور والدہ کا انتقال ہوگیا۔بڑے بھائی نے پرورش کی۔عربی وفارسی کی تعلیم دہلی ہی میں حاصل کی۔کتابوں کے مطالعے اورمضمون نویسی کا شوق بچپن ہی سے تھا۔پہلے اخبارات میں چھوٹے چھوٹے مضامین لکھے۔بعد میں تحریروتصنیف ہی اُن کا مشغلہ بن گیا۔انھوں نے بہت سی چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں۔ان میں انشائیے، سفرنامے، روزنامچے، قلمی چہرے اور نوحے سبھی کچھ شامل ہیں۔ کئی رسالے بھی نکالے جن میں ’’مُنادی‘‘ کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔
خواجہ حسن نظامی ایک خاص طرزِ تحریر کے مالک ہیں۔ان کی نثر میں ادبیت، علمیت اور روحانیت کی عجیب وغریب آمیزش نظرآتی ہے۔ان کا دل کش اسلوب معمولی واقعات اور روزمرّہ کی چیزوں کو بھی غیرمعمولی بنادیتا ہے۔بے تکلفی، سادگی اور لطیف طنز ان کی نثرکی نمایاں خصوصیات ہیں۔ جن میں دہلی کا روز مرہ اور محاورہ مزید لطف پیدا کر دیتا ہے ۔مُرقع نگاری اور منظرکشی میں بھی انھیں مہارت حاصل ہے۔وہ اپنے چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے تھے۔
ان کی تصانیف میں ’’سی پارئہ دل‘‘،’’ کاناباتی‘‘، ’’چٹکیاں‘‘ اور’’ گدگدیاں‘‘ ’’بہادرشاہ کا روزنامچہ‘‘ ،’’بیگمات کے آنسو‘‘، ’’غدر کے صبح وشام‘‘، ’’آپ بیتی‘‘اور ’’روزنامچۂ حسن نظامی‘‘ خاص طور پر مشہور ہیں۔
زیرِنظرانشائیہ ’’مچھّر‘‘ ان کے اسلوبِ تحریر کی نمائندگی کرتا ہے۔
مچھّر
یہ بھِنبھناتا ہوا ننّھا سا پرندہ آپ کو بہت ستاتا ہے۔رات کی نیند حرام کردی ہے۔ہندو، مسلمان، عیسائی یہودی سب بالاتفاق اس سے ناراض ہیں۔ہرروز اس کے مقابلے کے لیے مہمیں تیار ہوتی ہیں، جنگ کے نقشے بنائے جاتے ہیں مگرمچھر ّوں کے جنرل کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔شکست پر شکست ہوئی چلی جاتی ہے اور مچھر ّوں کا لشکربڑھا چلاآتا ہے۔

اتنے بڑے ڈیل ڈول کا انسان ذرا سے بھُنگے پر قابو نہیں پاسکتا۔طرح طرح کے مسالے بھی بناتا ہے کہ ان کی بُوسے مچھر بھاگ جائیں۔لیکن مچھّراپنی یورش سے باز نہیں آتے۔ آتے ہیں اور نعرے لگاتے ہوئے آتے ہیں۔بے چارا آدم زاد حیران رہ جاتا ہے اور کسی طرح ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
امیر،غریب،ادنیٰ،اعلیٰ،بچے،بوڑھے،عورت،مرد،کوئی اس کے وار سے محفوظ نہیں۔ یہاں تک کہ آدمی کے پاس رہنے والے جانوروں کو بھی ان کے ہاتھ سے ایذا ہے۔مچھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں۔ان جانوروں نے میرے دشمن کی اطاعت کی ہے تو میں ان کو بھی مزا چکھاؤں گا۔
آدمیوں نے مچھروں کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ہر شخص اپنی سمجھ اور عقل کے موافق مچھروں پر الزام رکھ کر لوگوں میں ان کے خلاف جوش پیدا کرنا چاہتا ہے مگر مچھر اس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔
طاعون نے گڑبڑ مچائی تو انسان نے کہا کہ طاعون مچھّراور پسّوکے ذریعے سے پھیلتا ہے۔ان کو فنا کردیا جائے تو یہ ہولناک وبادور ہوجائے گی۔ملیریا پھیلاتو اس کا الزام بھی مچھر پر عائد ہوا۔اس سرے سے اس سرے تک کالے گورے آدمی غل مچانے لگے کہ مچھروں کو مٹادو، مچھروں کو کچل ڈالو، مچھروں کو تہس نہس کردو اورایسی تدبیریں نکالیں جن سے مچھروں کی نسل ہی منقطع ہوجائے۔
مچھر بھی یہ سب باتیں دیکھ رہا تھا اور سن رہا تھا اور رات کو ڈاکٹرصاحب کی میز پر رکھے ہوئے ’’پانیر‘‘(Pioneer ) کو آکر دیکھتا اور اپنی برائی کے حروف پر بیٹھ کر اُس خون کی ننھی ننھی بوندیں ڈال جاتا جو انسان کے جسم سے یا خود ڈاکٹر صاحب کے جسم سے چوس کر لایا تھا۔گویا اپنے فائدہ کی تحریر سے انسان کی ان تحریروں پر شوخیانہ ریمارک لکھ جاتا کہ میاں تم میرا کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
انسان کہتا ہے کہ مچھربڑا کم ذات ہے۔کوڑے،کرکٹ،میل کچیل سے پیدا ہوتا اور گندی موریوں میں زندگی بسرکرتا ہے اور بزدلی تو دیکھواس و قت حملہ کرتا ہے جب کہ ہم سوجاتے ہیں۔سوتے پروارکرنا، بے خبرکے چرکے لگانا مردانگی نہیں ہے۔صورت تو دیکھو کالا بھُتنا،لمبے لمبے پاؤں، بے ڈول چہرہ،اس شان وشوکت کا وجود اور آدمی جیسے گورے چٹّے،خوش وضع کی دشمنی؛ بے عقلی اور جہالت اسی کو کہتے ہیں۔
مچھر کی سنو تو وہ آدمی کو کھری کھری سناتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب ہمّت ہے تو مقابلہ کیجیے۔ذات صفات نہ دیکھیے۔ میں کالا سہی، بدرونق سہی، مگر یہ تو کہیے کہ کس دلیری سے آپ کا مقابلہ کرتا ہوں اور کیوں کرآپ کی ناک میں دم کرتا ہوں۔
یہ الزام سراسر غلط ہے کہ بے خبری میں آتا ہوں اور سوتے میں ستاتا ہوں۔یہ تو تم اپنی عادت کے موافق سراسرنا انصافی کرتے ہو۔حضرت میں تو کان میں آکر ’’اَلٹی میٹم‘‘ دے دیتا ہوں کہ ہوشیار ہوجاؤ اب حملہ ہوتا ہے۔تم ہی غافل رہو تو میرا کیا قصور۔ زمانہ خود فیصلہ کردے گا کہ میدانِ جنگ میں کالابھتنا، لمبے لمبے پاؤں والا بیڈول فتح یاب ہوتا ہے یا گورا چٹا آن بان والا۔
میرے کارناموں کی شاید تم کو خبر نہیں کہ میں نے اس پردئہ دنیا پر کیاکیا جوہر دکھائے ہیں۔ اپنے بھائی نمرود کا قصّہ بھول گئے جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنے سامنے کسی کی حقیقت نہ سمجھتا تھا؟کس نے اس کا غرور توڑا؟کون اس پر غالب آیا؟ کس کے سبب اس کی خدائی خاک میں ملی؟ اگر آپ نہ جانتے ہوں تو اپنے ہی کسی بھائی سے دریافت کیجیے یا مجھ سے سنیے کہ میرے ہی ایک بھائی مچھر نے اس سرکش کا خاتمہ کیا تھا۔
اورتم تو ناحق بگڑتے ہو اور خواہ مخواہ اپنا دشمن تصور کیے لیتے ہو۔میں تمھارا مخالف نہیں ہوں۔اگر تم کو یقین نہ آئے تو اپنے کسی شب بیدار صوفی بھائی سے دریافت کرلو، دیکھو وہ میری شان میں کیا کہے گا۔کل ایک شاہ صاحب عالمِ ذوق میں اپنے ایک مرید سے فرمارہے تھے کہ میں مچھر کی زندگی کو دل سے پسند کرتا ہوں۔دن بھر بے چارہ خلوت خانہ میں رہتا ہے۔رات کو، جو خدا کی یاد کا وقت ہے۔باہر نکلتا ہے اور پھر تمام شب تسبیح وتقدیس کے ترانے گایا کرتا ہے۔آدمی غفلت میں پڑے سوتے ہیں تو اس کو ان پر غصّہ آتا ہے۔چاہتا ہے کہ یہ بھی بیدار ہوکر اپنے مالک کے دیے ہوئے اس سہانے خاموش وقت کی قدر کرے اور حمدوشکرکے گیت گائے۔اس لیے پہلے ان کے کان میں جاکر کہتا ہے اٹھومیاں اٹھو جاگو جاگنے کا وقت ہے۔سونے کا اور ہمیشہ سونے کا وقت ابھی نہیں آیا۔جب آئے گا تو بے فکر ہوکر سونا ۔اب تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا موقع ہے مگر انسان اس سریلی نصیحت کی پروا نہیں کرتا اور سوتا رہتا ہے تو مجبور ہوکر غصّہ میں آجاتا ہے اور اس کے چہرے اور ہاتھ پاؤں پرڈنک مارتا ہے۔پر واہ رے انسان، آنکھیں بند کیے ہوئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور بے ہوشی میں بدن کو کھجاکر پھر سوجاتا ہے اور جب دن کو بیدار ہوتا ہے تو بے چارے مچھرکو صلواتیں سناتا ہے کہ رات بھر سونے نہیں دیا۔کوئی اس دردغ گو سے پوچھے کہ جناب عالی کَے سکنڈ جاگے تھے جو ساری رات جاگتے رہنے کا شکوہ ہورہاہے۔
شاہ صاحب کی زبان سے یہ عارفانہ کلمات سن کر میرے دل کو بھی تسلّی ہوئی کہ غنیمت ہے ان آدمیوں میں بھی انصاف والے موجود ہیں بلکہ میں دل میں شرمایا کہ کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے کہ شاہ صاحب مصلّے پر بیٹھے وظیفہ پڑھا کرتے ہیں اور میں اُن کے پیروں کا خون پیا کرتا ہوں۔یہ تو میری نسبت، ایسی اچھی اور نیک رائے دیں اور میں ان کو تکلیف دوں۔اگرچہ دل نے یہ سمجھایا کہ تو کاٹتا تھوڑی ہے، قدم چومتا ہے اور ان بزرگوں کے قدم چومنے ہی کے قابل ہوتے ہیں لیکن اصل یہ ہے کہ اس سے میری ندامت دور نہیں ہوئی اور اب تک میرے دل میں اس کا افسوس باقی ہے۔
سو …اگر سب انسان ایسا طریقہ اختیار کرلیں جیسا کہ صوفی صاحب نے کیا تو یقین ہے کہ ہماری قوم انسان کو ستانے سے خودبخود باز آجائے گی۔ورنہ یادرہے کہ میرا نام مچھرّ ہے ، لطف سے جینے نہ دوں گا ۔
(خواجہ حسن نظامی)
مشق
لفظ ومعنی
یورِش : حملہ
آدم زاد : آدم کی اولاد،انسان
ادنیٰ : چھوٹا
اعلیٰ : بڑا
اطاعت : حکم ماننا
پانیر(Pioneer ) : مشہور انگریزی اخبار
چرکا لگانا : زخم لگانا،نقصان پہنچانا
سرکشی : بغاوت ،حکم نہ ماننا
شب بیدار : راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والا
عالمِ ذوق : دل و دماغ کی ایک خاص کیفیت
خلوت خانہ : تنہائی کی جگہ
تسبیح : اللہ کی پاکی بیان کرنا
تقدس : بزرگی،پاکی
دردغ گو : جھوٹا
شکوہ : شکایت
عارفانہ کلمات : معرفت کی باتیں،خدا رسیدہ بزرگوں کی باتیں
ندامت : شرمندگی
غورکرنے کی بات
- اس انشائیے میں مچھر کے ذریعے انسان کو کئی نصیحت آمیز باتوں کی طرف توجّہ دلائی گئی ہے۔اگر وہ نصیحتیں براہِ راست کی جاتیں تو ان کی تاثیر ختم ہوجاتی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بالواسطہ گفتگو اور لطیف طنز سے بیان کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔
- اس سبق میں کئی محاورے استعمال ہوئے ہیں مثلاً : مزا چکھانا، کھری کھری سنانا، غرور توڑنا، ناک میں دم کرنا، محاوروں کے استعمال سے تحریر میں بات چیت کا انداز پیدا ہوجاتاہے۔
- اس سبق سے الفاظ کے مندرجہ ذیل جوڑوں کو دیکھیے :
کوڑا کرکٹ، میل کچیل، گورا چٹّا، تہس نہس، آن بان
ان میں سے ہر جوڑے کا دوسرا لفظ، پہلے لفظ کے ہم معنی ہے اور اس کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ایسے تاکیدی الفاظ کو اصطلاح میں، تابع موضوع، کہتے ہیں۔تابع کی دوسری قسم، تابع مہمل کہلاتی ہے۔اس میں جوڑے کا دوسرا تاکیدی لفظ مہمل یعنی بے معنی ہوتا ہے۔ مثلاً: چادر وادر، تکیہ وکیہ، بستروستر، وغیرہ۔
سوالات
1. مضمون نگارنے مچھر کا حلیہ کن الفاظ میں بیان کیا ہے؟ لکھیے۔
2. اس سبق میں انسان کو کیا نصیحتیں کی گئی ہیں؟ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
3. مصنف نے مچھروں کے کس عمل کو شوخیانہ ریمارک قرار دیا ہے؟
4. ’’مچھّر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں‘‘ اس جملے کے ذریعے مصنف ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے؟
عملی کام
- اس سبق میں مچھراور انسان کے درمیان مکالمے کے کچھ اقتباسات اپنی کاپی میں نقل کیجیے۔
- اس مضمون میں جو محاورے آئے ہیں ان میں سے پانچ کا اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
- خواجہ حسن نظامی کے ذریعے لکھے ہوئے انشائیوں کا مطالعہ کیجیے۔
- انشائیے میں آئے ہوئے انگریزی الفاظ لکھیے۔