Skip to content
Ghulistan-e-adab Chapter-9

9

طنز ومزاح

طنز ومزاح، ادب میں باقاعدہ کوئی صنف نہیں ہے بلکہ بیان کے ایک اسلوب کا نام ہے۔ اردو ادب میں طنز و مزاح کو عموماً اظہار کا ایک ہی اسلوب سمجھ لیا جاتا ہے لیکن در اصل ایسا نہیں ہے۔ طنز اور مزاح دونوں کی الگ الگ پہچان ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اردو کے بیشتر لکھنے والوں نے طنز و مزاح کو ایک مرکّب کے طور پر پیش کیا ہے اس لیے دونوں کو ایک ہی سمجھا جانے لگا۔

 اُردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت بہت پرانی ہے۔ جعفر زٹلّی کو اردو طنز و مزاح کا پہلا نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ وہ سترھویں صدی کے ایک باغی شاعر تھے۔ ان کے مزاح میں پھکّڑ پن نمایاں ہے۔ اٹھارویں صدی میں میرؔ اور سوداؔ کے یہاں بھی ہجویہ انداز ملتا ہے۔طنز ومزاح کے اعلیٰ ترین نمونے سب سے پہلے ہمیں سوداؔ کے یہاں اور اس کے بعد 19 ویں صدی میں غالبؔ کے یہاں دکھائی دیتے ہیں۔اس روایت کو سب سے زیادہ ترقی منشی سجّاد حسین کے اخبار ’’اودھ پنچ‘‘کے ذریعے ملی۔ سیاسی اور معاشرتی طنز کو’’ حلقۂ اودھ پنچ‘‘نے غیر معمولی ترقی دی۔ شاعری میں طنز و مزاح کے لحاظ سے سب سے بڑا نام اکبر الٰہ آبادی کا ہے ۔ نثر میں منشی سجّاد حسین کے علاوہ پنڈت رتن ناتھ سرشار کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔  

20 ویں صدی کے نثر نگاروں میں طنز و مزاح کی روایت جن لوگوں نے آگے بڑھائی ہے ان میں فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی، مرزا عظیم بیگ چغتائی، پطرس بخاری ، شوکت تھانوی، ملّا رموزی، کنھیّا لال کپور، ابنِ انشا، شفیق الرحمٰن، فکر تونسوی، مشفق خواجہ، یوسف ناظم، کرنل محمد خاں اور مجتبیٰ حسین وغیرہ معروف ہیں۔ موجودہ دور میں اردو طنز و مزاح کا سب سے بڑا نام مشتاق احمد یوسفی کا ہے۔

کنہیا لال کپور

کنھیا لال کپور

1910 تا   1980  

کنھیا لال کپور لاہور میں پیدا ہوئے۔وہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور انگریزی کے استاد مقرر ہوگئے۔ ملک کی تقسیم کے بعد ہندوستان آگئے۔یہاں گورنمنٹ کالج، موگا(پنجاب)میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے اور یہیں ان کی وفات ہوئی۔وہ ہندوستان آنے سے پہلے ہی مشہور ہوچکے تھے۔انھوں نے اپنے بعض مضامین میں خاص طرح کی نثرا ور شاعری کے علاوہ کئی عام انسانی رویّوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ انھیں پیروڈی لکھنے میں خاص مہارت حاصل تھی۔طنزومزاح ان کا خاص میدان ہے۔

’’نوک نشتر‘‘،’’ بال وپر‘‘،’’ نرم گرم‘‘،’’گردِ کارواں‘‘،’’ نازک خیالیاں‘‘ ،’’نئے شگوفے‘‘، ’’سنگ و خشت‘‘،’’چنگ و رباب‘‘، ’’شیشہ و تیشہ‘‘ اور’’کامریڈ شیخ چلّی‘‘ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔کنھیّالال کپور سماجی ناہمواریوں کی بہت جاندار تصویریں پیش کرتے ہیں جن میں ایک احتجاجی پہلو بھی ہوتا ہے۔اپنے طنزکو آزمانے میں وہ کسی رورعایت کے قائل نہیں ہیں۔شاید اسی لیے ان کے طنزومزاح میں جرأ ت اور بے باکی ان کی خاص پہچان ہے۔ان کے کئی انشائیے بہت مقبول ہوئے، جن میں برج بانو، گھریاد آتا ہے، زندہ باد، اردو افسانہ نویسی کے چند نمو نے، مقبولِ عام فلمی سین،چارملنگوں کی داستان، چوپٹ راجا سبزباغ اور جانشین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اس کتاب میں کنھیّا لال کپور کا جو مضمون شامل ہے اس میں انھوں نے جدید شاعری اور خاص طور پر آزاد شاعری کو لطیف طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ غالبؔ کے ساتھ مجلس میں شریک سبھی شاعر، کنھیّا لا ل کپور کے مشہور اور معتبر ہم عصر ہیں مگر انھوں نے غالب کے ذریعے ان کی شاعری میں پوشیدہ مزاحیہ پہلو واضح کرکے پڑھنے والوں کے لیے د ل چسپی کا سامان فراہم کیا ہے۔


غالبؔ جدید شعراکی ایک مجلس میں

(دورجدید کے شعرا کی ایک مجلس میں مرزاغالبؔ کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس مجلس میں تقریباً تمام جلیل القدرشعرا تشریف فرما ہیں۔مثلاً م ن ارشد، ہیراجی، ڈاکٹرقربان حسین خالص، میاں رقیق احمد خوگر، راجہ مہر علی خاں، پروفیسر غیظ احمد غیظ، بکرماجیت ورما، عبدالحی نگاہ وغیرہ وغیرہ۔ یکایک مرزا غالبؔ داخل ہوتے ہیں۔ان کی شکل وصورت بعینہہ وہی ہے جو مولانا حالیؔ نے یادگارِغالب میں بیان کی ہے، ان کے ہاتھ میں دیوانِ غالب کا ایک نسخہ ہے۔تمام شعرا کھڑے ہوکر آداب بجالاتے ہیں)

غآلب

  غالب : حضرات میں آپ کا نہایت شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے جنّت میں دعوت نامہ بھیجا اور اس مجلس میں مدعو کیا۔ میری مدّت سے آرزوتھی کہ دورِجدید کے شعرا سے شرفِ نیاز حاصل کروں۔

ایک شاعر:   یہ آپ کی ذرّہ نوازی ہے وگرنہ :

                      وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے     

                   کبھی ہم ان کو کبھی   اپنے گھر کو دیکھتے   ہیں  

غالب:         رہنے بھی دیجیے، اس بے جا تعریف کو، من آنم کہ من دانم   

دوسراشاعر: تشریف رکھیے گا۔کہیے جنت میں خوب گزرتی ہے؟ آپ تو فرمایا کرتے تھے ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن۔

غالب  : بھئی جنت بھی خوب جگہ ہے جب سے وہاں گیا ہوں، ایک شعر بھی موزوں نہیں کرسکا۔

دوسراشاعر  : تعجّب ہے۔ جنت میں آپ کو کافی فراغت ہے اور پھر ہر ایک چیز میسّر ہے۔پینے کو شراب، انتقام لینے کو پری زاد——اور اس پر یہ فکرکوسوں دور کہ :      

        آپ کا بندہ اور پھروں ننگاآپ کا نوکراور کھاؤں ادھار

باوجود اس کے آپ کچھ لکھ ...

تیسراشاعر  : (بات کاٹ کر) سنائیے اقبال کا کیا حال ہے؟

غالب      :   وہی جو اس دنیا میں تھا۔دن رات خدا سے لڑنا جھگڑنا، وہی پرانی بحث :  

       مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے، یا میرا           

پہلاشاعر   :   میرے خیال میں وقت کافی ہوگیا ہے، اب مجلس کی کارروائی شروع کرنی چاہیے۔

دوسراشاعر: میں کرسیِ صدارت کے لیے جناب م ن ارشد کا نام تجویز کرتا ہوں۔

تیسراشاعر  :   اور میں تائید کرتا ہوں۔         

(ارشد صاحب کرسیِ صدارت پر بیٹھنے سے پہلے حاضرینِ مجلس کا شکریہ اداکرتے ہیں)

م ن ارشد  :   میرے خیال میں ابتدا مرزا کے کلام سے ہونی چاہیے ……میں نہایت ادب سے مرزا موصوف سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنا کلام پڑھیں۔

غالب        : بھئی جب ہمارے سامنے شمع لائی جائے گی تو ہم بھی کچھ پڑھ کر سنادیں گے۔

م ن ارشد: معاف کیجیے گا۔مرزا اس مجلس میں شمع وغیرہ کسی کے سامنے نہیں لائی جائے گی۔شمع کے بجائے یہاں پچاس کینڈل پاورکالیمپ ہے، اس کی روشنی میں ہر ایک شاعر اپنا کلام پڑھے گا۔

غالب      : بہت اچھا صاحب توغزل سنیے گا۔     

باقی شعرا  :     ارشاد۔        

غالب      :      عرض کیا ہے :                    

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو

ہم تو   عاشق   ہیں تمھارے   نام کے

(باقی شعرا ہنستے ہیں۔مرزاحیران ہوکر ان کی جانب دیکھتے ہیں)

غالب        :      اجی صاحب یہ کیا حرکت ہے؟ نہ داد نہ تحسین اس بے موقع خندہ زنی کا مطلب؟     

ایک شاعر:     معاف کیجیے گا مرزا ہمیں یہ شعر کچھ بے معنی سا معلوم ہوتا ہے۔

غالب      :     بے معنی؟

ہیراجی   : دیکھیے نا مرزا، آپ فرماتے ہیں خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو۔اگر مطلب کچھ نہیں تو خط لکھنے کا فائدہ ہی کیا، اگر آپ صرف معشوق کے نام ہی کے عاشق ہیں تو تین پیسے کا خط برباد کرنا ہی کیاضرور، سادا کاغذپر اس کا نام لکھ لیجیے۔   

ڈاکٹرقربان حسین خالص   : میرے خیال میں اگریہ شعراس طرح لکھا جائے تو زیادہ موزوں ہے۔


خط لکھیں گے کیونکہ چھٹی ہے ہمیں دفتر سے آج

    اور   چاہے    بھیجنا    ہم   کو   پڑے   بیرنگ    ہی

    پھر   بھی   تم    کو   خط   لکھیں   گے   ہم   ضرور

چاہے      مطلب      کچھ      نہ    ہو

جس طرح سے میری اک اک نظم کا

کچھ      بھی       تو      مطلب      نہیں

خط لکھیں گے کیونکہ الفت ہے ہمیں

میرا   مطلب   ہے   محبت   ہے   ہمیں

یعنی   عاشق   ہیں   تمھارے   نام   کے

غالب : یہ تو اس طرح معلوم ہوتا ہے جیسے آپ میرے اس شعر کی ترجمانی کررہے ہیں۔

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی  

ہیراجی : جنوں! جنوں کے متعلق مرزا میں نے کچھ عرض کیا ہے اگر اجازت ہو تو کہوں۔

غالب : ہاں ہاں بڑے شوق سے

ہیراجی :   

                     جنوں ہوا جنوں ہوا

مگرکہاں جنوں ہوا

کہاں ہوا وہ کب ہوا

ابھی ہوا یا اب ہوا

نہیں ہوں میں یہ جانتا

مگر جدید شاعری

میں کہنے کا جو شوق ہے

تو بس یہی ہے وجہ کہ

دماغ میرا چل گیا

یہی سبب ہے جو مجھے

جنوں ہوا جنوں ہوا

غالب : (ہنسی کوروکتے ہوئے) سبحان اللہ کیا برجستہ اشعار ہیں۔

م ن ارشد   : اب مرزا غزل کا دوسرا شعر فرمائیے

غالب : میں اب مقطع ہی عرض کروں گا، کہا ہے:   

عشق   نے    غالبؔ   نکمّا    کردیا   

    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

عبدالحی نگاہ   :   گستاخی معاف مرزا۔اگراس شعر کا پہلا مصرع اس طرح لکھا جاتا تو ایک بات پیدا ہوجاتی ۔

غالب         :   کس طرح؟

عبدالحی نگاہ : عشق نے، ہاں ہاں تمھارے عشق نے

عشق نے سمجھے؟ تمھارے عشق نے

مجھ کو نکمّا کردیا

اب نہ اٹھ سکتا ہوں میں

اور چل تو سکتا ہی نہیں

جانے کیا بکتا ہوں میں

یعنی نکّما کردیا

اتنا تمھارے عشق نے!

گرتا ہوں اور اٹھتا ہوں میں

اٹھتا ہوں اور گرتا ہوں میں

یعنی تمھارے عشق نے

اتنا نکمّا کردیا

غالب : (طنزاً) بہت خوب بھئی غضب کردیا۔

غیظ احمد :    اور دوسرا مصرع اس طرح لکھا جاسکتا ہے:      

جب تک نہ مجھ کو عشق تھا

تب تک مجھے کچھ ہوش تھا

سب کام کرسکتا تھا میں

اور دل میں میرے جوش تھا

اس وقت تھا میں آدمی

اور آدمی تھا کام کا

لیکن تمھارے عشق نے

مجھ کو نکمّا کردیا

غالب         :   واللہ کمال ہی تو کردیا۔بھئی اب آپ لوگ اپنا کلام سنائیں ۔  

م ن ارشد  :    اب ڈاکٹر قربان حسین خالص جو جدید شاعری کے امام ہیں، اپنا کلام سنائیں گے۔

ڈاکٹرخالص   :   اجی ارشد صاحب میں کیا کہوں اگر میں امام ہوں تو آپ مجتہدہیں۔آپ جدید شاعری کی منزل ہیں اورمیں سنگِ میل ، اس لیے آپ اپنا کلام پہلے پڑھیے۔

م ن ارشد  :  وبہ توبہ اتنی کسرِنفسی، اچھا اگر آپ مصر ہیں تو میں ہی اپنی نظم پہلے پڑھتا ہوں، نظم کا عنوان ہے ’’بدلہ ‘‘،عرض کیا ہے:

آمری جان مرے پاس انگیٹھی کے قریب

جس کے آغوش میں یوں ناچ رہے ہیں شعلے

جس طرح دورکسی دشت کی پہنائی میں

رقص کرتا ہو کوئی بھوت کہ جس کی آنکھیں

کرمِ شب تاب کی مانند چمک اُٹھتی ہیں

ایسی تشبہیہ کی لذّت سے مگر دور ہے تو

تو کہ اک اجنبی انجان سی عورت ہے جسے

رقص کرنے کے سوا اور نہیں کچھ آتا

اپنے بے کار خدا کے مانند

دوپہر کو جو کبھی بیٹھے ہوئے دفتر میں

خودکشی کا مجھے یک لخت خیال آتا ہے

میں پکار اٹھتا ہوں یہ جینا بھی ہے کیا جینا

اور چپ چاپ دریچے میں سے پھر جھانکتا ہوں

آمری جان مرے پاس انگیٹھی کے قریب

تاکہ میں چوم ہی لوں عارضِ گلفام ترا

اور اربابِ وطن کو یہ اشارہ کردوں

اس طرح لیتا ہے اغیار سے بدلہ شاعر

اور شب عیش گزرجانے پر

بہرِجمّع درم ودام نکل جاتا ہے

ایک بوڑھے سے تھکے ماندے سے رہوار کے پاس

چھوڑکر بسترسنجاب وسمور

(نظم سن کر سامعین پروجد کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ہیرا جی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ۔ یہ نظم اس صدی کی بہترین نظم ہے بلکہ میں کہوں گا کہ اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس میں انگیٹھی بھوت اور دفتر تہذیب وتمدن کی مخصوص الجھنوں کے حامل ہیں — حاضرین ایک دوسرے کو معنی خیزنظروں سے دیکھتے ہوئے زیرِلب مسکراتے ہیں۔)

غالب           :       ارشد صاحب معاف کیجیے گا آپ کی یہ نظم کم ازکم میرے فہم سے تو بالاتر ہے۔         

غیظ احمدغیظ  :   یہ صرف ارشد ہی پرکیا منحصر ہے، مشرق کی جدید شاعری ایک بڑی حد تک مبہم اور ادراک سے بالاترہے۔

م ن ارشد  : مثلاً میرے ایک دوست کے اس شعر کو لیجیے:

     پاپوش   کی   کیا فکر ہے   دستار   سنبھالو

       پایاب ہے جو موج گزرجائے گی سرسے

غالب      : (شعرکو دہراکر) صاحب سچ تو یہ ہے کہ اگرچہ اس شعر میں سر اور پیر کے الفاظ شامل ہیں مگر باوجود ان کے اس شعر کا نہ سر ہے نہ پیر۔

ن م ارشد  :  اجی چھوڑئیے اس حرف گیری کو آپ اس شعر کو سمجھے ہی نہیں مگر خیر اس بحث میں کیا رکھا ہے۔ کیوں نہ اب ڈاکٹر قربان حسین خالص سے درخواست کی جائے کہ اپنا کلام پڑھیں۔

ڈاکٹرخالص  :   میری نظم کا عنوان ہے ’’عشق ‘‘ ، عرض کیا ہے:

عشق کیا ہے؟

میں نے اک عاشق سے پوچھا

اس نے یو ں روکر کہا

عشق اک طوفان ہے

عشق اک سیلاب ہے

عشق ہے اک زلزلہ

شعلہ ٔ جوّالہ—عشق

عشق ہے پیغامِ موت

غالب         :   بھئی یہ کیا مذاق ہے، نظم پڑھیے مشاعرے میں نثرکا کیا کام؟

ڈاکٹرخالص  : (جھنجھلاکر) تو آپ کے خیال میں یہ نثرہے! یہ ہے آپ کی سخن فہمی کا عالم؟ اور فرمایا تھا آپ نے : ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدارنہیں

غالب        :    میری سمجھ میں تو نہیں آیا کہ کس قسم کی نظم ہے نہ ترنم نہ قافیہ نہ ردیف۔

ڈاکٹرخالص:      مرزاصاحب۔ یہی تو جدیدشاعری کی خصوصیت ہے۔ آپ نے اردو شاعری کو قافیہ اور ردیف کی فولادی زنجیروں میںقیدکررکھا تھا۔ ہم نے اس کے خلاف جہاد کرکے اسے آزاد کیا اور اس طرح اس                         میں وہ اوصاف پیدا کیے ہیں جو محض خارجی خصوصیات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔میری مراد رفعتِ تخیل، تازگیِ افکار اور ندرتِ فکر سے ہے۔

غالب      : رفعتِ تخیل کیا خوب، کیا پرواز ہے؟

       میں نے ایک عاشق سے پوچھا اس نے یوں رو کر کہا        

ڈاکٹرخالص:   (چڑکر)عاشق روکر نہیں کہے گا تو کیا قہقہہ لگاکرکہے گا؟ مرزا آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ عشق اوررونے میں کتنا گہرا تعلق ہے۔

غالب      :     مگرآپ کو قافیہ اور ردیف ترک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

رقیق احمدخوگر   :    اس کی وجہ مغربی شعرا کا تتبع نہیں بلکہ ہماری طبیعت کا فطری میلان ہے جو زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح شعروادب میں بھی آزادی کا جوٗیا ہے، اس کے علاوہ دورِجدید کی روحِ انقلاب، کشمکش، تحقیق، تجسّس، تعقّل پرستی اور جدوجہد ہے۔ ماحول کی اس تبدیلی کا اثر ادب پر ہوا ہے اور میرے اس نکتے کو تھیکرے نے بھی اپنی کتاب ونیٹی فئیرمیں تسلیم کیا ہے۔اس لیے ہم نے محسوس کیا کہ قدیم شاعری ناقص ہونے کے علاوہ روح میں وہ لطیف کیفیت پیدا نہیں کرسکتی جو مثال کے طورپر ڈاکٹر خالص کی شاعری کا جوہر ہے۔قدیم شعرا اور جدید شعرا کے ماحول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قدیم شعرا بقول مولانا آزاد حسن وعشق کی حدود سے باہر نہ نکل سکے ۔اور ہم جن میدانوں میں گھوڑے دوڑارہے ہیں نہ ان کی وسعت کی کوئی انتہا ہے اور نہ ان کے عجائب ولطائف کا شمار۔

غالب         :        میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔

م ن ارشد:      خوگر صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک نئی دنیا میں رہتے ہیں۔ یہ ریڈیو ہوائی جہاز اور دھماکے سے پھٹنے والے بموں کی دنیا ہے۔یہ بھوک بیکاری انقلاب اور آزادی کی دنیا ہے۔اس دنیا میں رہ کر ہم اپناوقت حسن وعشق، گل وبلبل، شیریںو فرہاد کے افسانوں میں ضائع نہیں کرسکتے۔شاعری کے لیے اوربھی موضوعِ سخن ہیں جیسا کہ ہمارے ایک شاعر نے کہاہے:  

آج تک سرخ وسیہ صدیوں کے سائے کے تلے

آدم وحوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے

موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں

ہم پہ کیا گزرے گی، اجداد پہ کیا گزری ہے

یہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جو بن جن کا

یہ ہر اک سمت پُراسرار کڑی دیواریں

یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے

راجہ مہرعلی خاں   :   بہت خوب۔یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے، ایسے ہی مضامین میں سے ایک مضمون ’’ڈاک خانہ‘‘ ہے جو میری اس نظم کا، جو میں ابھی آپ کے سامنے پڑھوں گا موضوع ہے۔

غالب      :      ڈاک خانہ؟

راجہ مہرعلی خاں   :   مرزا اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے ۔سنیے عرض کیا ہے:

ڈاک خانے کے ہے اندر آج اف کتنا ہجوم

ڈالنے کو خط کھڑے ہیں کس قدر اف آدمی

ان میں ہر اک کی تمنا ہے کہ وہ

ڈال کر جلدی سے خط یا پارسل

بھاگ کر دیکھے کہ اس کی سائیکل

ہے پڑی باہر جہاں رکھ کر اسے

ڈاک خانہ میں ابھی آیا تھا وہ خط ڈالنے

جارہے ہیں خط چہار اطراف کو

بمبئی کو، مصرکو، لندن کو، کوہِ قاف کو

دیکھنا آئی ہے اک عورت لفافہ ڈالنے

کون کہتا ہے کہ اک عورت ہے یہ

یہ تو لڑکا ہے کسی کالج کا کہ

جس کے بال

خدوخال

اس قدر ملتے ہیں عورت سے کہ ہم

اس کو عورت کا سمجھتے ہیں بدل

اف ہماری لغزشیں

ہے مگر کس شخص کا یہ سب قصور

کیا نظرمیری نہیں کرتی ہے کام

جھٹپٹا سا ہوگیا ہے شام کا

یا ہمارے ہے تمدن کا قصور

کہ ہمارے نوجواں

ڈاک خانے میں ہیں جب آتے لفافہ ڈالنے

اس قدر دیتے ہیں وہ دھوکا ہمیں

کہ نظرآتے ہیں ہم کو عورتیں

(زوروں کی داد دی جاتی ہے۔ہر طرف سے مرحبا بھئی کمال کردیا، کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ مرزا غالبؔ کی سراسیمگی ہر لمحہ بڑھتی جارہی ہے)

م ن ارشد     : اب میں ہندوستان کے مشہور شاعر پروفیسر غیظ سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے تازہ افکار سے ہمیں نوازیں۔

پروفیسرغیظ   :     میں نے تو کوئی نئی چیز نہیں لکھی۔

ہیراجی        :    تو پھر وہی نظم سنادیجیے جو پچھلے دنوں ریڈیووالوں نے آپ سے لکھوائی تھی۔

پروفیسرغیظ  :     آپ کی مرضی ہے تو وہی سن لیجیے عنوان ہے ’’لُگائی‘‘

فون پھر آیا دل زار نہیں، فون نہیں

سائیکل ہوگا، کہیں اور چلاجائے گا

ڈھل چکی رات اترنے لگا کھمبوں کا بخار

کمپنی باغ میں لنگڑانے لگے سرد چراغ

تھک گیا رات کو چِلّا کے ہر اک چوکیدار

گل کرو دامن افسردہ کے بوسیدہ داغ

یاد آتا ہے مجھے سرمۂ دنبالہ دار

اپنے بے خواب گھروندے ہی کو واپس لوٹو

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

(نظم کے دوران میں اکثر مصرعے دو دو بلکہ چار چار بار پڑھوائے جاتے ہیں اور پروفیسرغیظ بار بار مرزا غالب کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ مرزا غالب مبہوت ہیں)

م ن ارشد     :   حضرات میرے خیال میں یہ کوئی عشقیہ نظم نہیں ہے بلکہ اس میں شاعر نے اینٹی فاشسٹ جذبے کوخوب نبھایا ہے۔

رقیق احمد        :   (سر گوشی کے انداز میں ہیراجی سے)بکواس ہے!

م ن ارشد     :     اب جناب بکرما جیت ورما سے استدعا کی جاتی ہے کہ اپنا کلام سنائیں

بکرما جیت ورما :   میں نے حسبِ معمول کچھ گیت لکھے ہیں۔

غالب               :         (حیران ہوکر) شاعرا ب گیت لکھ رہے ہیں مرے اللہ دنیا کدھر کو جارہی ہے۔

بکرماجیت ورما :    مرزا آپ کے زمانے میں گیت شاعری کی ایک باقاعدہ صنف قرار نہیں دیے گئے تھے۔دورِجدید کے شعرا نے انھیں ایک قابلِ عزت صنف کا درجہ دے دیا ہے۔

غالب                :   جی ہاں ہمارے زمانے میں عورتیں، بھانڈ، میراثی یا اسی قماش کے اور لوگ، گیت لکھا کرتے تھے۔

بکرماجیت ورما   :     پہلا گیت ’’برہن کا سندیس‘‘ عرض کیا ہے:

اڑ جادیس بدسیں رے کوّے اڑجادیس بدیس

سن کر تیری کائیں کائیں۔

غالب            :        خوب، سن کر تیری کائیں کائیں!

بکرما جیت      :      عرض کیا ہے:

سن کر تیری کائیں کائیں

آنکھوں میں آنسوبھر آئیں

بول یہ تیرے من کو بھائیں

مت جانا پردیس رے کوّے اڑجادیس بدیس

م ن ارشد      :      بھئی کیا اچھوتا خیال ہے پنڈت صاحب میرے خیال میں ایک گیت آپ نے کبوتر پر بھی لکھا تھا وہ بھی مرزا کو سنا دیجیے۔

بکرماجیت ورما   :      سنیے پہلا بند ہے:

بول کبوتر بول

دیکھو کوئلیا کوک رہی ہے

من میرے ہوک اٹھی ہے

کیا تجھکو بھی بھوک لگی ہے

بول غٹرغوں بول کبوتر

بول کبوتر بول

باقی شعرا : (ایک زبان ہوکر) بول کبوتر بول، بول کبوتر بول

(اس اثنا میں مرزا غالب نہایت گھبراہٹ اور سراسیمگی کی حالت میں دروازے کی طرف دیکھتے ہیں)

بکرماجیت ورما   :    اب دوسرا بند سنیے:

بول کبوتر بول

کیا میرا ساجن کہتا ہے

کیوں مجھ سے روٹھا رہتا ہے

کیوں میرے طعنے سہتا ہے

بھید یہ سارے کھول کبوتر

بول کبوتر بول

باقی شعرا : (ایک زبان ہوکر) بول کبوتر بول، کبوتر بول، کبوتر بول  

(اس شوروغل کی تاب نہ لاتے ہوئے میاں رقیق احمد خوگر اور عبدالحی نگاہ کے سنانے کی باری آنے سے پہلے ہی مرزا غالبؔ، بھاگ کر کمرے سے باہر نکل جاتے ہیں)

(کنھیّالال کپور)         

مشق        

لفظ ومعنی

جلیل القدر                  :            بڑی شان والا، نہایت معزّز

بعینہٖ                           :     ہوبہ ہو

مدعوکرنا                       :           دعوت دینا

شرف نیاز                     :         کسی محترم یا بزرگ شخص کودیکھنے یا اس سے ملنے کا اعزاز، کسی بزرگ کی خدمت میں حاضری دینا

من آنم کہ من دانم         :        میں کیا ہوں یہ میں جانتا ہوں‘‘، تعریف کے جواب میں اپنی عاجزی ظاہر کرنے کے لیےکہتے ہیں

فراغت                        :      فرصت، چھٹکارا

خندہ زنی                       :        ہنسی اُڑانا

موزوں                        :      مناسب

برجستہ                         :        رواں ،چست درست، ڈھلا ہوا

کسرنفسی                       :        اپنے آپ کو کم تر ظاہر کرنا، عاجزی

مجتہد                             :      اجتہاد کرنے والا، نئی بات پیدا کرنے والا،نئی راہ نکالنے والا

کرمِ شب تاب             :      رات کو چمکنے والا کیڑا، جگنو

یک لخت                       :      اچانک ،یک بہ یک

عارض                          :        گال، رُخسار

اغیار                              :      غیر کی جمع

درم و دام                     :      روپیہ پیسہ

سنجاب                           :      جنگلی جانور جس کی کھال ملائم بالوںوالی ہوتی ہے، اس سے لباس تیار کیا جاتا ہے

سمور                              :     شمالی برفستان کاجانور جس کی کھال بہت نفیس ہوتی ہے جس سے پوشاک بنائی جاتی ہے

وجد                                :      سرمستی  

مبہم                                :      جس کا مطلب صاف نہ ہو، غیر واضح

ادراک                             :     عقل، فہم

پاپوش                             :        جوتا

سخن فہم                        :       شعر کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھنے والا

رفعتِ تخیّل                  :        خیالات کی بلندی، اُڑان

ندرتِ فکر                     :      سوچ کا انوکھا پن

تتّبع                              :      تقلید، پیروی

میلان                           :        جھکاؤ

جوٗیا                                :      تلاش کرنے والا

تعقّل پرستی                    :      عقلیت پرستی، صرف اسی بات کو تسلیم کرنا جسے عقل قبول کرتی ہو

صف آرائی                    :        ایک قطار میں کھڑا ہونا،کسی کے خلاف مقابلے کی تیاری

کوہِ قاف                       :      ایک پہاڑ جو ایشیائے کوچک کے شمال میں واقع ہے۔مراد وہ جگہ جہاں آدمی کا گزرنہ ہوسکے۔کوہِ قاف کی پریاں مشہور ہیں

خدوخال                          :        شکل وصورت

لغزش                             :     پھسل جانا، غلطی      

سراسیمگی                          :      خوف، گھبراہٹ

دنبالہ                              :     سرمے یا کاجل کی لکیر

مبہوت                           :      حیرت زدہ، حیران پریشان

اینٹی فاشسٹ                   :      مذہبی تنگ نظری اور ظلم وجبر کی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھانے والا

چھب                           :        نا زوانداز، خوب صورتی

استدعا                           :        درخواست، گزارش

میراثی                          :       گانے بجانے والی ایک خاص قوم

اثنا                              :        درمیان، بیچ

غورکرنے کی بات  

  • کنھیّالال کپور کی یہ تحریر ایک خیالی مشاعرے کا منظر پیش کر رہی ہے، جس میں غالب بھی موجود ہیں، اور جدیددور کے کئی نمائندہ شعرا اپنا کلام سنا رہے ہیں۔ کنھیّا لال کپور نے ان شعرا کی مشہور نظموں کی اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں نقل اتاری ہے۔ اسے انگریزی میں ’پیروڈی‘ کہتے ہیں۔ مصنف نے شعرا کو جو نام دیے ہیں وہ ہمارے جدید شعرا کے ناموں سے ملتے جلتے ہیں، جیسے ن۔م۔راشد، میراجی،تصدق حسین خالدؔ، اندر جیت ورما، راجہ مہدی علی خاں، فیض احمد فیض وغیرہ۔
  • مصنف نے اس مضمون میں ایسی جدت پسندی کا مذاق اڑایا ہے جو توازن سے عاری ہو۔

سوالات

1.     غالبؔ نے پہلا شعر کون سا سنایا اور کیا کہہ کر اس کا مذاق اڑایا گیا؟

2.     م۔ن۔ارشد کی نظم پر ہیراجی نے کیا تبصرہ کیا؟

3.     ڈاکٹر خالص نے جدید شاعری کی کیا خصوصیات بتائی ہیں؟

4.     بکرما جیت ورما نے جو کلام سنایا اس کا تعلق کس صنف سے ہے؟

عملی کام

  • اپنے اسکول میں تمثیلی مشاعرے کا اہتمام کیجیے۔
  • اس مضمون میں شامل پانچ شعرا کے اصل نام لکھیے۔


lllککک