10
سفرنامہ
سفرنامہ ہمارے زمانے کی ایک مقبول صنف ہے۔ ہرسفر ایک تجربہ ہوتاہے اور اگر کسی شخص میں اس تجربے کو بیان کرنے کی صلاحیت بھی ہوتو ایک دل چسپ سفرنامہ لکھاجاسکتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب مسافر سفر سے واپس آتے تواپنے تجربات کی روداد دوستوں اور عزیزوں کو سناتے تھے۔اس طرح کے بہت سے قصّے آپ نے بھی پڑھے ہوں گے۔ اردو نثر کی ترقی کے ساتھ ہمارے ادبی سرمائے میں کئی صنفوں کااضافہ ہوا۔ سوانح نگاری، خودنوشت، تنقید، انشائیہ اورسفرنامہ، نثر کی نسبتاً جدیدتر صنفیں کہی جاتی ہیں۔
سفرنامے کے مطالعے سے ہمیں اجنبی دیاروں، دوردراز کے ملکوں ،تہذیبوں اورجغرافیائی حالات سے آگاہی ملتی ہے۔ بہت سے انوکھے کرداروں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ سفرنامے ہمارے لیے اس دنیا کے مختلف علاقوں سے تعارف کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سفرناموں کے مطالعے سے ہماری عام معلومات میں اضافہ ہوتاہے۔ ہم گھر بیٹھے بڑی بڑی مہمیںسرکرلیتے ہیں اورایسے دیاروں تک جاپہنچتے ہیں جہاں جانا ہمارے لیے آسان نہ ہوتا۔ اس لحاظ سے سفرنامے کو عملاً سفرکابدل بھی کہاجاسکتاہے۔
اردو کا پہلا سفرنامہ یوسف خاں کمبل پوش کا ’’عجائبات فرنگ‘‘ ہے۔ یوسف خاں نے 30 مارچ 1837میں کلکتہ سے پانی کے جہازکے ذریعے انگلستان کا سفر کیا تھا۔ انھوں نے انگلستان کے شہرلندن میں قیام کیا۔وہاں کی آب وہوا، نئی نئی ایجادات اور وہاں کے باشندوں کا ذکر انھوں نے نہایت دل چسپ انداز میں کیا ہے۔
سرسید احمدخاں کے سفرنامے ’’مسافرانِ لندن‘‘ کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔
سرسید کے معروف معاصرین میں محمدحسین آزاد کاسفرنامہ ’’سیرِایران‘‘ اور مولاناشبلی نعمانی کے ’’سفرنامۂ روم ومصروشام‘‘ بھی اہم سفر نامے ہیں۔
بیسویں صدی کے سفر ناموں میں منشی محبوب عالم کے دوسفرنامے ’’سفرنامہ یوروپ‘‘ اور ’’سفرنامۂ بغداد‘‘،قاضی عبدالغفار کا سفرنامہ ’’نقشِ فرنگ‘‘ بہت مقبول ہوئے۔
خواجہ احمدعباس کا ’’مسافرکی ڈائری‘‘ پروفیسر احتشام حسین کا ’’ساحل اورسمندر‘‘ قرۃ العین حیدرکا ‘‘جہانِ دیگر‘‘ اور ’’شاہراہِ حریر‘‘ اردو کے د ل چسپ سفر نامے ہیں۔مشہور سفر نامہ نگاروں میں بیگم اختر ریاض، مستنصر حسین تارڑ کے نام بھی شامل ہیں۔اردو میں چند مزاحیہ سفر نامے بھی لکھے گئے ہیں جن میں ابن انشا، شفیق الرحمٰن اور مجتبیٰ حسین کے سفرنامے قابلِ ذکر ہیں۔

رام لعل
1923 تا 1996
رام لعل اردو کے مقبول افسانہ نگارہیں۔ ان کے افسانوں کے تقریباً بارہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے تین ناول بھی لکھے ہیں۔ وہ مغربی پنجاب کے شہر میانوالی میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں تعلیم حاصل کی اور وہیں ریلوے میں ملازم ہوگئے۔ تقسیم کے بعد رام لعل ہندوستان آگئے اور یہاں بھی ریلوے میں ملازمت کرلی۔
رام لعل نے دوسفرنامے ’’خواب خواب سفر‘‘ اور ’’زردپتّوں کی بہار ‘‘ بھی لکھے۔پہلا یورپ کے سفر کی روداد ہے اور دوسرے میں پاکستان کے سفر کی تفصیلات ہیں۔
رام لعل کادوسرا سفرنامہ اس اعتبار سے بہت انوکھا ہے کہ یہ سفرمصنّف نے نئی دنیا کی دریافت کے لیے نہیں کیا بلکہ اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے کیاتھا۔ اس لیے اس سفر نامے میں ماضی اور حال ایک دوسرے سے گلے ملتے نظر آتے ہیں۔ وہ جب کسی جگہ کسی عمارت کو دیکھتے ہیں یا کسی شخص سے ملتے ہیں تو اس کے حوالے سے انھیں اپنے لاہور کے دنوں کی یاد آنے لگتی ہے۔
رام لعل کو سفر نامہ نگاری کی حیثیت سے اپنے مشاہدات اور تجربات کو مناسب الفاظ میں پیش کرنے کا فن آتا ہے۔ اس سفر نامے میں ان کی نثر بہت سادہ اور رواں ہے۔
زردپتّوں کی بہار
میں جب واہگہ کے راستے آٹھ فروری 1980کو ریل کے ذریعے لاہور کی طرف بڑھ رہا تھا تو میرے دل میں کئی طرح کے وسوسے تھے۔ میں وہاں کیوں جارہاہوں؟وہاں تو اب میراکوئی سگا سمبندھی بھی نہیں رہتا۔ پاکستان سرکار نے1978 میں ایک بار میری ویزا کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اب دوسری بار درخواست دینے پر اچانک منیراحمد شیخ نے جو ہندوستان میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس کونسلرہیں، مجھے یہ کہہ کر ویزا دلوادیا کہ موجودہ حکومت ِ پاکستان دونوں طرف کے عوام میں محبت اور دوستی کے جذبات کو بڑھانا چاہتی ہے۔ اب میں اپنے قلم کے رشتے داروں سے ہی ملنے کے لیے وہاں جارہاہوں، جن میں سے بیشتر کی کتابیں مجھے ملتی رہی ہیں۔ جن کے رسالوں میں میں چھپتارہاہوں اور جن کے خدوخال، میں ان کی تخلیقات سے پہچانتا ہوں۔ ان میں سے کئی ایک نے اکثر مجھے اپنے یہاں آنے کی دعوت دی ہے۔

میں میانوالی میں پیدا ہواتھا، جہاں میرے آباواجداد صدیوں پہلے راجستھان کے ریتیلے میدانوں میں گھوڑوں پر عرب حملہ آوروں کے آگے آگے بھاگتے ہوئے وہیں جاکر پناہ گزیں ہوئے تھے۔ اس سے بھی بہت پہلے وہ کشمیراور وزیرستان کے کسی درمیانی علاقے کی سلطنت اجڑجانے پر جنوب کی طرف ایک قافلے کے ساتھ راجستھان کی طرف نکل گئے تھے۔ نقل مکانی مجھے وراثت میں ہی ملی ہے۔ اب میں عارضی طور پر اس جگہ کی طرف لوٹ رہاہوں جہاں میرے کئی بزرگوں اور عزیزوں نے آخری سانسیں لی تھیں۔ جس مکان میں میری ماں نے جان دی تھی اورجس کی شکل بھی مجھے یاد نہیں ہے۔ کیونکہ تب میں صرف دواڑھائی سال کا تھا۔ اسی مکان میں اسے پھر سے تلاش کروں گا۔ میں بھی اسی مکان میں پیدا ہواتھا۔ لاہور میں جوان ہوا تھا۔ اور وہاں سے میں جوان ہی ہوکر آیاتھا۔ اب چھپن برس کی عمر میں وہاں لوٹ رہا ہوں۔ میرے بچپن اور بڑھاپے کے درمیان عمر کا یہ فاصلہ کس قدر طویل ہوگیاتھا، جو اَب ریل کی رفتار کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ سمٹتا جارہا ہے، کم ہوتا جاتا ہے، اسی فاصلے کو میں بے شمار بار خوابوں کی مدد سے آنا ًفاناً لانگھ گیا۔ خوابوں کے سامنے سرحدیں اور فاصلے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ میں اپنے ماضی کے ساتھ اس لیے ابھی تک جڑا رہاہوں کہ وہ میرے خوابوں میں اپنی اصلی حالت میں ابھی تک موجود رہا ہے۔ میں نے اتنا عرصہ خوابوں کے ساتھ جینا سیکھا ہے۔ میں نے اپنے ماضی کو بھلانے کی کبھی کوشش کی تو یہ اچانک میری کسی نہ کسی کہانی میں گھس کر بیٹھ گیا۔ ماضی انسان کی پہچان بن جاتا ہے۔ یہ نہ ہو تو وہ بالکل اجنبی بن جائے۔ کسی دوسری ہی دنیا کا انسان جس کے پاؤں زمین کے ساتھ نہیں لگے ہوں گے۔ماضی ہماری زمین ہے اورزمین ہی کے ساتھ ہم نے ہمیشہ گہرا رشتہ قائم رکھا ہے۔
میں اچانک ماضی کی بھول بھلیّوں میں سے نکل کر لاہورکے مضافات میں پھیلے ہوئے کھیتوں، اینٹوں کے بھٹّوں، چھوٹے چھوٹے قصباتی مکانوں اور چھوٹی چھوٹی مسجدوں کے مناروں کے درمیان پہنچ جاتاہوں۔ میں محسوس کرنے لگتاہوں میرے نتھنوں میں جوتازہ ہوا آرہی ہے وہ میری جانی پہچانی سی ہے۔ میں اس کی خوش بوسونگھ کربتاسکتاہوں کہ یہ میرے لاہور سے آرہی ہے۔ پنجاب کے اس حصے سے آرہی ہے جسے میں کبھی بھلا نہیں پایا۔ میں ریلوے ٹرین کی کھڑکی میں سے بڑی خاموشی سے تیزی سے گزرتے ہوئے واچ ٹاوروں اور اونچی اونچی اُگی ہوئی گھاس پھوس اور مٹی میں چھپے ہوئے پل باکسوں کی طرف دیکھتاہوں جہاں سے سن پینسٹھ میں بڑی کامیابی سے ہندوستانی یلغارسے دفاع کیاگیاتھا۔ اب تو یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ صرف ہوا ہے اور دھوپ ہے اور خوشبوہے اور کھیتوں میں ہر طرف اُگے ہوئے سنہری گندم کے لہلہاتے ہوئے خوشے ہیں اور ریل کی پٹری کے متوازی دوڑتی ہوئی ایک سڑک ہے جس پر دوجاپانی کاریں آگے پیچھے دوڑ رہی ہیں اور ایک ٹوبھّے(جوہڑ) کے سامنے کئی بھینسیں بیٹھی ہوئی ہیں جن کی طرف ذرا فاصلے پر ایک چھکڑے کے پہیّے کے ساتھ بندھا ہوا ایک اونٹ فلاسفروں کی سی گمبھیرتاسے ایک ٹک دیکھ رہا ہے اورایک پیڑ کے نیچے ایک گبرولیٹے لیٹے بانسری بجارہا ہے اورایک مکان کے آنگن کی دیوار پر کوئی دوشیزہ دھوپ میں سوکھتے ہوئے رنگین کھیس کو الٹ پلٹ کر دیکھتے دیکھتے اچانک گاڑی کی طرف متوجہ ہوگئی ہے۔
پھرمیری نظروں کے سامنے مغل پورہ ورکشاپ کے شیڈوں کے چمکتے ہوئے ٹین ابھرآتے ہیں۔ یہیں کہیں میں پانچ سال تک بطور ایپرنٹس خراد مشین کاکام سیکھتا رہاتھا۔ ریل کاشور اچانک بڑھ گیا ہے۔ اب گاڑی یارڈ میں داخل ہوگئی ہے۔ دونوں طرف مال گاڑیوںکاسلسلہ ہے جس میں سے نکلتے ہی اچانک مجھے لاہور کا سائن بورڈ دکھائی دے جاتا ہے، اور گاڑی پلیٹ فارم پر پہنچ کر رک جاتی ہے اس ڈبے میں میرا ہم سفرعلی عباس حسینی مرحوم کا ایک رشتے دار ہے جسے کراچی جانا ہے۔ وہ اور میں دونوں کتنی دیر سے خاموش ہیں۔ وہ مجھے بڑی خاموشی سے بیٹھا ہوا دیکھتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے۔
’’رام لعل صاحب، قلی کو بلایاجائے؟‘‘
میں اسے کوئی جواب دیے بغیر پلیٹ فارم پر اترجاتاہوں۔ پلیٹ فارم پر چل کر محسوس کررہاہوں ، میں واقعی زمین پر ہوں۔ یہ خواب نہیں ہے۔ جوخواب تھا وہ اب پورا ہوچکا ہے۔ قلی سامان اٹھا کر آگے آگے بھاگ رہے ہیں۔ گاڑی کے ہر ڈبے سے سیکڑوں لوگ اُبل سے پڑے ہیں۔ بمبئی، حیدرآباد، مدھیہ پردیش اور بہار اور یوپی کے لوگ مرداور عورتیں اور بچے۔ سفر کی گرد سے اٹے ہوئے اور پریشان اور حواس باختہ کچھ عورتیں جلدی جلدی اپنے برقعے پہن رہی ہیں۔ ایک لڑکے کے ہاتھ میں کرکٹ کا بلاہے۔ ایک لڑکی اپنے بیگ میں جلدی جلدی فلم فیر ٹھونس رہی ہے۔ اسے وہ کسٹم والوں کی نظرسے بچاکر اپنی ہندوستانی فلموں کی شوقین فرینڈزتک لے جاناچاہتی ہے۔ جہاں قلی نے لے جاکر میرا سامان ایک طرف رکھ دیا تھا وہاں پاسپورٹ چیک کرانے والوں کی بھیڑدیکھ کر میں گھبرا جاتاہوں۔ یہاں توکئی گھنٹے اپنی باری آنے میں لگ جائیں گے۔ کسٹم کے پاکستانی عملے کی طرف میں بڑی خاموشی سے دیکھتاہوں ۔ یہ سب لوگ خوبصورت اور اسمارٹ ہیں سب پنجابی ہی بولتے ہیں۔ قلی بھی پنجابی بولتے ہیں۔ لال لال وردیوں کے نیچے نیشنل ڈریس بھی پہنے ہوئے ہیں۔ یک رنگی شلوار اور قمیص، شکل وصورت سے قلی نہیں لگتے۔ میں خود کو پنجابی بولنے کے لیے آمادہ کرکے ایک آدمی کو روک کر پوچھتاہوں۔
’’اِتھے ریسیوکرن آن والے لوگ تاں باہری کھڑے رہندے نیں؟‘‘
بھیڑمیں اچانک میرے سامنے ڈاکٹر احراز نقوی کاچہرہ ابھر آتاہے، وہ جلدی سے میرے ہاتھ سے پاسپورٹ اور ویزا لے کر کسٹم والوں کی طرف چل دیتا ہے۔ وہ بھی دوسرے مسافروں کی طرح گھبرا یاہوا ہے۔ اس کی گھبراہٹ پر میں مسکرادیتا ہوں اور پھر میرے سامنے تین اور مسکراتے ہوئے چہرے آجاتے ہیں۔ ڈاکٹر آغا سہیل، طاہر تو نسوی اور ابصار عبدالعلی، احراز کی طرح آغاسہیل اورابصار بھی لکھنؤ کے ہیں۔ ان تینوں کو میں ان کے بچپن سے جانتاہوں۔ وہ ہماری ادبی محفلوں میں ہی جوان ہوئے ہیں اور اب لاہور کی محفلوں میں جگمگارہے ہیں۔ طاہرتونسوی پچھلے سال ڈاکٹر مسعود حسن رضویؔ ادیب مرحوم پرریسرچ کرنے کے لیے لکھنؤ آیاتھا اور دومہینے وہاں رہاتھا۔ان کے ساتھ بشیربھی تھے۔ طاہررضا زیدی کاڈرائیور۔ وہ سب میرے سامان کاایک ایک نگ اٹھاکر بھیڑمیں گھستے چلے جاتے ہیں۔ ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ پر۔وہ وہاں کسی نہ کسی کو ضرورجانتے ہیں۔ ان سے مجھے بھی متعارف کراتے جاتے ہیں۔ رام لعل کاافسانہ نگار ہونا جیسے کوئی اہم بات ہو! سب لوگ ہاتھ ملاکرمسکراتے ہیں اور مجھے آگے بڑھ جانے کے لیے کہتے ہیں۔ اچانک ایک ٹکٹ کلکٹر مجھ سے ٹکٹ طلب کرتا ہے۔ امرتسر سے لاہور تک کا اور میں اچانک یاد کرکے بتاتاہوں ٹکٹ تو میں نے لیا ہی نہیں تھا۔ میں تو ریلوے کاملازم ہوں۔ آپ ہی کی طرح‘‘
وہ مسکرا کر مجھے جانے دیتے ہیں۔
’’اب تم لاہور میں ہو! اپنے لاہور میں!‘‘ آغاسہیل مسکرارہاہے۔
’’میں نے یہاں سے آخری بارتنخواہ لی تھی ۔ چھ اگست1947 کو۔‘‘ میں اسی پلیٹ فارم پربنے ہوئے کیش آفس کی طرف اشارہ کرکے بتاتاہوں۔
’’اورمیں اسی پلیٹ فارم سے کالکا میل سے جالندھر کے لیے روانہ ہواتھا۔‘‘
لاہوراسٹیشن کے باہردوکاریں موجود تھیں۔ ایک توابصارعبدالعلی کی تھی۔ دوسری طاہررضازیدی نے بھیجوائی تھی۔ وہیں پر کراچی سے آئے ہوئے راحت سعید اور’ واہ سیمنٹ فیکٹری‘ کے محمدحسن عسکری بھی موجودتھے۔ ان دونوں سے میراپہلی بار تعارف ہوا۔ راحت سعید،پی آئی اے میں ٹیکنیکل منیجر ہیں اوراکثر مختلف ملکوں میں گھومتے رہتے ہیں۔ وہ میری خاطر رک گئے تھے اوراسی شام کو کراچی جانے کا پروگرام بناچکے تھے۔ ایک شام پہلے اردو کے منفرد نقاد محمد علی صدیقی کو ایک بہت ضروری کام سے واپس کراچی جانا پڑگیا تھا لیکن وہ معذرت کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیغام چھوڑ گئے تھے کہ اب وہ میراستقبال کراچی میں ہی کریں گے۔
اچانک آغاسہیل نے مجھ سے پوچھا۔
’’لاہور کو کچھ بدلاہوا پایا…؟‘‘
میں نے سرگھماکر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں جو بلاشبہ ایک ذہین کہانی کار کی آنکھیں تھیں، مجھ پر ٹکی ہوئی تھیں اور میری حیرت سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔ وہ بھی تو لکھنؤ کی گلیوں سے کٹ چکاتھا۔ چند ماہ پہلے آیاتھا تو وہ بھی تووہاں اپنے کھوئے نشان تلاش کرتاپھراتھا۔کہاں بیٹھ کر وہ دوستوں کے ساتھ چائے پیا کرتاتھا۔ کس جگہ اس نے جمال پاشا کے ساتھ ایک خاص ایکٹی وٹی کی تھی اور یونیورسٹی جانے کے لیے وہ کون کون سی گلیوں سے ہوکرنکلتاتھا۔ تب وہ لکھنؤ آزادی سے پہلے کا تھا اوراپنی ساری روایات اورپورے آب وتاب کے ساتھ موجود تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے جواب دیا:
’’بہت کچھ تووہی ہے۔ بہت کچھ نیانیاسابھی ہے۔‘‘
آغاسہیل کی رہایش گاہ واقع ایف سی کالج میں دونوں گاڑیاں ساتھ ساتھ پہنچیں۔ اُن کے بیٹے محسن سے پہلی بار ملاقات ہوئی باپ سے کچھ زیادہ ہی اونچا اور صحت مند نظرآیا۔ اس نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ ہاتھ ملایااور میرا سامان بشیر کی مدد سے اترواکر اندر لے گیا۔ ہم سب ایک کھلے کھلے اور خوبصورتی سے سجے ہوئے ڈرائنگ روم میں جابیٹھے، ابصارعبدالعلی ، طاہرتونسوی، احرازنقوی، محمدحسن عسکری اور راحت سعید،آغاسہیل اندرچائے کاانتظام کرنے چلاگیاتھا۔ پھر اس کی آواز بھی سنائی دی وہ فون کر رہاتھا۔ اس نے مجھ سے کہا۔ آئیے آپ کو اپنے ایک دیرینہ رفیق سے ملاؤں…
اُس طرف احمدندیم قاسمی تھے۔ جمعہ کی وجہ سے گھر پر تھے۔ ایک مدت کے بعد (1942کے بعد)میں نے ان کی آواز سنی۔ اتنے قریب سے ۔ اس شہر میں مجھے سب سے پرانے جاننے والوں میں ایک وہ تھے، دوسرے میرزا ادیب، میرزاادیب صاحب سے بھی پہلی ملاقات دہلی میں1961 میں پہلی ہندوپاک ثقافتی کانفرنس میں ہوئی تھی۔ قاسمی صاحب نے پوچھا:
’’کب آئے؟‘‘
میں نے بتایا ’’بس ابھی آکر بیٹھاہوں۔‘‘
’’خوش آمدید۔ سب خیریت ہے نا۔ کب ملوگے؟‘‘
’’جی شکریہ۔ جس وقت آغاسہیل لے کر آئیں گے، حاضر ہوجاؤں گا۔‘‘
’’اچھا کیاپروگرام ہے؟‘‘
میں آج ہی رات کو ملتان چلاجاؤں گا۔ وہاں کل میرے ایک دوست کی شادی کا ولیمہ ہے۔‘‘
کچھ باتیں اور بھی ہوئیں۔ پھر میں جلدی جلدی گرم پانی سے نہاکر اور کپڑے بدل کر ڈرائنگ روم میں آبیٹھا سہیل صاحب کی بیگم اور ان کے بچوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ بہت سے پروگرام طے ہونے لگے لیکن کوئی پروگرام نہ بن سکا۔ آخرفیصلہ یہی ہوا کہ میں آج رات سے پہلے کہیں نہیں جاؤں گا۔ اور ملتان سے لوٹ کر ہی سب سے ملوں گا۔ سب لوگ چائے پی کر اور رخصت لے کر چلے گئے۔
(رام لعل)
مشق
لفظ ومعنی
خدشہ : خطرہ، ڈر، خوف، اندیشہ
غمّاز : اشارہ کرنے والا، چغل خور
خدوخال : شکل وصورت، چہرہ مہرہ
مضافات : مضاف کی جمع، اِردگِرد، شہر کے آس پاس کے قصبے، گاؤں
یلغار : حملہ
دفاع : بچاؤ
عملہ : کسی محکمے کے ملازم، کام کرنے والے، کارکن
غورکرنے کی بات
l. ملک کی تقسیم کے بعد ایک شخص جو اپنا وطن چھوڑ کر دوسری جگہ جا بستا ہے اسے دوبارہ اپنے وطن کی یاد کس طرح بے چین کرتی ہے اور اسے ایک بار پھر وہاں جانے کا موقع ملتا ہے تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ اس کااظہار اس سفر نامے میں بخوبی کیا گیا ہے۔ وطن سے محبت کاجذبہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
سوالات
1. ایک اچھے سفر نامے میں ہم کیا کیا خوبیاں تلاش کرتے ہیں؟
2. رام لعل پاکستان کیوں جاناچاہتے تھے؟
3. لاہور پہنچ کر رام لعل کن معروف ادیبوں سے ملے؟
4. اپنے ماضی کے بارے میں رام لعل نے جو باتیں لکھی ہیں انھیں اپنے لفظوں میں لکھیے۔
عملی کام
- آپ نے اگر کسی ملک یا شہر کا سفر کیا ہے تواسے سفرنامے کی صورت میں تحریر کیجیے۔