11
خاکہ
اصطلاحی معنی میں لفظ’’خاکہ‘‘ انگریزی لفظ اسکیچ(Sketch) کا ترجمہ ہے۔شخصی خاکے کے لیے انگریزی میں Pen Portrait یاPersonal Sketch کی اصطلاحیں بھی استعمال کی گئی ہیں۔آج کل ’’خاکہ ‘‘ ہی کی اصطلاح رائج ہے۔خاکے سے مراد ایسی نثری تحریر ہوتی ہے جس میں کسی شخصیت کی منفرد اور نمایاں خصوصیات کو اس اندازسے بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی مکمّل تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔اس میں جس شخص کی تصویر کشی کی جاتی ہے اس کے خیالات و افکار، سیرت وکردار، عادات واطوار سب کی جھلکیاں نظرآتی ہیں۔خاکے کا مقصدہی یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ شخصیت کی ظاہری اورباطنی خصوصیات میں سے ایسے نمایاں اوصاف کا بیان کیا جائے، جو اس کی انفرادیت اور پہچان کا ذریعہ ہوں۔اس کے لیے خاکہ لکھنے والے کا اُس انسان کی شخصیت سے نہ صرف متاثّرہونا ضروری ہے بلکہ اُس سے واقفیت اور قربت بھی ضروری ہے۔خاکہ نگاری سوانح نگاری سے مختلف ہے۔اس میں سوانح حیات کی طرح واقعات ترتیب وار نہیں لکھے جاتے اور نہ ہی تمام حالات و واقعات کا بیان کرنا ضروری ہے، بلکہ خاکہ نگاری میں حالات و واقعات کا بیان ضمنی طور پر کیا جاتا ہے جو شخصیت کے کسی پہلو کو اُجاگر کرتے ہیں۔خاکہ نگار کسی شخصیت سے متاثر ہوکر اس کا خاکہ ضرور لکھتا ہے، لیکن اس کی تحریر سے مرعوبیت کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔اُس کا بیان ایسا ہونا چاہیے کہ وہ غیرجانبدار نظرآئے۔اس لیے یہ ـضروری ہے کہ خاکے میں شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو بیان کیا جائے، ورنہ شخصیت کی مکمّل تصویر سامنے نہ آسکے گی جو خاکہ نگاری کا اصل مقصد ہے۔جس طرح خوبیوں کا بیان مرعوبیت سے پاک ہونا چاہیے، اسی طرح خامیوں کے بیان میں ذاتی دشمنی وعناد کا پہلو نہیں آنا چاہیے۔خامیوں کے بیان میں بھی اپنائیت کا احساس نمایاں ہونا چاہیے۔
کتاب میں شامل خاکہ ’’کلیم الدین احمد‘‘ خاکہ نگاری کی اچھی مثال ہے۔

احمد جمال پاشا
1929 تا 1987
احمد جمال پاشا کا اصلی نام محمد نزہت پاشا ہے۔ وہ الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد آغا شجاعت حسین پاشا نے بعد میں امین آباد، لکھنؤ میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے بی۔اے۔ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم۔ اے۔ کیا۔ لکھنؤ سے ’اودھ پنچ‘ نکالنا شروع کیا جسے اِس کا تیسرا دور کہا جاتا ہے۔ بعد میں ’قومی آواز‘ اخبار کے شعبۂ ادارت سے منسلک ہوگئے جس کے ایڈیٹر مشہور افسانہ نگار حیات اللہ انصاری تھے۔ 1976 میں سیوان (بہار) منتقل ہوگئے، جہاں ذکیہ آفاق اسلامیہ کالج میں اردو کے استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پٹنہ میں انتقال ہوا۔
احمد جمال پاشا نے 1950 سے لکھنا شروع کیا۔ زمانۂ طالب علمی میں علی گڑھ کے رسالے’’اسکالر‘‘ کے مدیر ہوئے اور اُس کے ’’پیروڈی نمبر‘‘ کی وجہ سے شہرت پائی۔’’ اندیشہ ٔ شہر‘‘،’’ ستم ایجاد‘‘،’’ لذّت آزار‘‘، ’’مضامین پاشا‘‘،’’ چشم حیراں‘‘اور ’’پتّوں پر چھڑکاؤ‘‘ وغیرہ ان کی مشہور مزاحیہ کتابیں ہیں۔ ’’ظرافت اور تنقید‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان کے مشہور مضامین میں ’’ادب میں مارشل لا‘‘ ،’’مجھ سے ایک چائے کی پیالی نے کہا‘‘ ،’’ یونیورسٹی کے لڑکے‘‘، ’’گِلّی ڈنڈے پر سمینار‘‘اور ’’رستم امتحان کے میدان میں‘‘ اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے بعض پیروڈیاں بھی لکھیں جن میں ’’کپور:ایک تحقیقی وتنقیدی مطالعہ‘‘ اور ’’آموختہ بیانی میری‘‘ کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ آخری زمانے میں انھوں نے خاکہ نگاری کی طرف توجہ کی۔
احمد جمال پاشا کو ادبی خدمات کے لیے غالب ؔایوارڈ اور بہار اردو اکادمی کا اختراورنیوی ایوارڈ دیا گیا۔
کلیم الدّین احمد
یہ بات کوئی55-1954کی ہے جب میں استاذی پروفیسر سید احتشام حسین کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اگر وہ تنہا ہوتے تو ایک کتاب بہت غور سے پڑھتے یا اس پر پنسل سے نشان لگاتے ہوتے ۔ ہم لوگوں کو بڑی جستجو رہتی کہ آخر یہ کون سی کتاب ہے ۔اس کتاب پر ایک موٹا سا چمک دار کور چڑھا رہتا جو غالباً کسی کلینڈر کو کاٹ کر تیار کیا گیا تھا ۔کبھی کبھی وہ اتنے منہمک اور مستغرق ہوتے کہ ہماری موجودگی تک کا نوٹس نہ لیتے۔ اس کو پڑھتے میں ان کے چہرے کا رنگ بدلتا رہتا اور اکثر بڑبڑاتے بھی ۔ ہمارا محتاط اندازہ یہ تھا کہ یہ یا تو تنقید پر کوئی کتاب ہے یا پھر اس کی شرح یاکنجی ہے، مگر ہمارے ایک دوست شوکت عمرکا محتاط انداز ہ تھا کہ اس کتاب کا تعلق بارودسازی کی صنعت سے ہے یا پھر اس میں بم بنانے کا نسخہ درج ہے۔ وہ کتاب رفتہ رفتہ سوت کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ایک دن دوپہر کو ہم لوگ مئی جون کی گرمی میں پہنچے تو دیکھا کہ قبلہ تو بے خبر انٹا غفیل ہیں اور سرہانے میرؔ کے وہی سوت نما کتاب دھری ہے ۔ ہم لوگوں نے آپس میں آنکھوں ہی آنکھوںمیں ایک دوسرے کو اشارے کیے ،خاموشی سے کتاب اٹھائی اور غائب ہو گئے۔
گولہ گنج میں مہدی کے ہوٹل میں ان تمام صاحب زادوں نے جو مستقبل میں اردو شعر وادب کے چاند ستارے قرار پانے والے تھے ، اس کتاب کو بہت ہی غور سے کھولا ۔ کتاب کا کور نکال کر الگ کر دیا۔ اس پر لکھا تھا :
’’اردو تنقیدپر ایک نظر ‘‘
ازکلیم الدین احمد
ساری کتاب پر معلوم ہوتا تھا کہ پنسل سے چاندماری کر کے گوددیا گیاتھا ۔ کچھ اس قسم کے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
’’آخر کلیم الدین کیا چاہتے ہیں ؟‘‘
بات تو صحیح ہے مگر آخر یہ انداز کس حد تک مناسب ہے ؟‘‘
’’کو ئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘‘
’’مخالفت تو آسان ہے مگر مارکسزم سمجھنابہت مشکل ہے ۔‘‘
’’بات تو سیدھی ہے مگر اس میں برہمی یا طنز کی کیاگنجائش تھی؟‘‘
’’تکرار ‘‘
’’ژولیدہ بیانی ‘‘
’’آخر اس بات کا مغرب سے کیا تعلق ؟ـ‘‘
’’غزل سے انگریزی شاعری یا مغرب کا کیا واسطہ ؟‘‘
’’یہ تعریف ہے یا ہجوملیح؟‘‘
’’مطلب واضح نہ ہو سکا ۔‘‘
’’آخر کہنا کیا چاہتے ہیں ؟‘‘
محسوس یہ ہوتا تھا کہ استادِ محترم اس کتاب کو پڑھتے نہیں بلکہ اس کتاب پر مصنف سے ذہنی کشتی لڑتے تھے ۔جابجا کتاب پر مارکس اور اینگلزکے اقوالِ زرّیں درج تھے ۔
ہم لوگوں کا خیال تھا کہ کلیم الدین احمد کوئی بہت بے ڈھب آدمی ہے جو ہمارے استاد کو بری طرح پریشان کیے ہوئے ہے ۔ مجبوری یہ تھی کہ معاملے کی تہہ یا گہرائی تک پہنچنے کی صلاحیت ہم میں سے کسی میں نہ تھی اور کتاب غائب کرنے کے بعد اب مصنف کے بارے میں استاد سے دریافت کرنا بارود کو آگ دکھانا تھی۔اس لیے کلیم الد ین روز اول ہی ہمارے لیے معمہ بن گئے ۔ اب کیا کیا جائے ۔طے پایا کہ چونکہ ہم لوگوں نے سرور صاحب کو سرِ دست کوئی نقصان نہیں پہنچایاہے،اس لیے ان سے جاکر اتا پتا معلوم کیا جائے۔اس لو‘دھوپ میں سرور صاحب نے ہم لوگوں کو نہایت مشکوک نظروں سے دیکھا اور خیریت پوچھی۔ بہت ہمّت کرکے ایک صاحب نے بڑا ہی بنیادی سوال کیا ۔
’’سر! ہم لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تنقید کس کو کہتے ہیں۔‘‘
’’ہاں بھئی !یہ ایک بات ہوئی ۔‘‘
سرور صاحب نے بڑی تفصیل سے نہایت سادہ و آسان طریقے سے اس طرح سمجھایاکہ موضوع کو پانی کر دیا جو ہمارے سروں پر سے گزر گیا۔
پھر ایک صاحب زادے نے جو آج کل ایک یونیورسٹی میں صدر شعبۂ اردو ،پروفیسر اور نامی گرامی نقاد واقع ہوئے ہیں،اپنی تسلی کے لیے پوچھا۔
’’سر جو تنقید کرتا ہے اسے کیا کہتے ہیں ؟‘‘
’’ناقد …!تنقید کرنے والا…نقاد۔‘‘
ایک دوسرے صاحب زادے نے ٹکڑا لگایا۔
’’اردو میں بے حد اہم نقاد کون کون ہیں ؟‘‘
’’حالی ،شبلی ،عبدالحق،رشید احمد صدیقی،ڈاکٹر سید عبداللہ،کلیم الدین احمد،پروفیسراحتشام حسین وغیرہ۔کلیم الدین احمدکانام سنتے ہی ہمارے چہرے گلاب کی طرح کھِل اٹھے۔ ایک صاحب زادے نے پوچھا۔
’’سر !یہ کلیم الدین احمد کی کیا اہمیت ہے کس قسم کے نقادوں میں ان کا شمار ہے؟‘‘
’’بھئی !موجودہ دور میں سچی بات تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ اِنہی کا شہرہ ہے ۔بہت ہی اہم نقّاد ہیں۔ان کی تنقید میں کچھ انتہا پسندی ہوتی بھی ہے ،نہیں بھی ہوتی ہے ۔کلیم صاحب اصولِ تنقید پر زور دیتے ہیں مگر خود اصولوں پر ذرا کم ہی چلتے ہیں ،چلتے بھی ہیں ۔ان کے یہاں توازن کی جگہ شدت ہے مگر توازن ہے بھی اور نہیں بھی ہے ۔کچھ صاف نہیں کہاجاسکتا۔ ان کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے اس لیے لوگ جھنجھلاتے بھی ہیں۔مگر باتیں بڑے پتے کی کرتے ہیں ۔ ان کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے اور خوب ہے ۔
غرض سرور صاحب بہت دیر تک کلیم الدین احمد کے میزانِ نقد کے دونوں پلڑے برابر کرتے رہے جس سے ہم لوگ صرف یہ اندازہ کر سکے کہ پروفیسر آل احمد سرور بھی ضرب ِکلیم سے بے حد خائف ہیں اور کلیم الدین احمد ضروردہشت پسند نقاد ہیں اور ہم لوگ وہاں سے سلام کر کے رخصت بلکہ منتشر ہو گئے۔
دو تین دن بعد ہم لوگ احتشام صاحب کے یہاں گئے تو دیکھا کہ وہی کتاب پھران کے ہاتھ میں ہے اور کافی خونخوار انداز سے ہے کہ اس پر ایک سرخ رنگ کا کور چڑھا ہوا تھا۔ غالباً نئی خرید کرلائے تھے اور سوویت دیس کا ورق پھاڑکر اس پر چڑھایاگیا تھا ،جس پر ہنسیا،ہتھوڑااور مزدور کے خون کی سرخی تھی ۔
بات آئی گئی ہو گئی ۔یہ بھی کسی کو یاد نہ رہا کہ وہ کتاب کن صاحب کے پاس پہنچی۔ دن گزرتے رہے۔ایک دن معلوم ہوا کہ سرور صاحب کو بخارچڑھ گیا۔ہم لوگ دیکھنے گئے۔آنے والوں کی خاصی بھیڑتھی ۔عیادت کا انداز کچھ تعزیت والاتھا ۔بار بار کلیم صاحب کانام سنائی دیتا ۔ معلوم ہواکہ تازہ’’نقوش‘‘میں سرور صاحب کو کلیم صاحب نے دُھن ڈالاہے ۔اہلِ علم کامجمع تھا۔اندازِگفتگو میں ٹھہراؤاور صبر وضبط کا ایساانداز تھاگویالکھنؤکا قلعہ کلیم الدین نے ڈھا دیاہے اور سالارِ قافلہ بیمار غم بناہوا ہے ۔سامنے کتابِ عیادت کے طور پر ’’نقوش‘‘رکھاہوا تھا ۔جسے لوگ اٹھاکر پڑھتے اور پھر کچھ دبا دباساتبصرہ کرتے۔اندازِگفتگو کچھ تسلّی و ڈھارس والاتھا۔ڈاکٹر احسن فاروقی گھر کا بھیدی بنے آپے بلکہ جامے سے باہر تھے اور بے طرح ناک میں ڈکرارہے تھے اور جب وہ ناک میں منمناکر کہتے :
’’سررو سررو!کلیم الدین نے ینہ بانت تو ٹھینک کہیں ہیں۔‘‘تو سرور صاحب کی کمزوری بڑھ جاتی اور وہ خلاف قاعدہ جھلّاتے نظر آتے۔سرور صاحب ہم لوگوں کولفٹ ذرا کم ہی دیتے تھے اس لیے لڑکے لوگ کچھ خوش ہی تھے کہ کوئی تو انھیں ملا۔ غرض عر صے تک کلیم صاحب کے اس مضمون کے چرچے رہے اور یہ بھی افواہ گرم ہوئی کہ سرور صاحب کلیم صاحب سے ملنے پٹنہ گئے ہیں ۔ ایک صاحب زادے جو خود آج کل امریکہ میں پروفیسر ہیں،ان کا حلفیہ بیان تھا کہ خود برتھ ریزرو کرانے گئے تھے ۔
رفتہ رفتہ یہ چرچے ختم ہوئے اور ان کی جگہ ہند پاک کرکٹ نے لے لی کہ اچانک بیٹھے بٹھائے کلیم صاحب نے دوسرا ایٹمی دھماکہ کر دیا ۔ وہ یہ کہ تازہ ’’نقوش‘‘میں انھوں نے احتشام حسین کی تنقید نگاری پر مضمون سر کر دیا تھا۔ اس کا چھپنا تھاکہ کہرام مچ گیا۔لوگ جوق در جوق تعزیت کے لیے احتشام صاحب کے پاس پہنچنے لگے ۔ احتشام صاحب عجب سوگوارانہ انداز سے بیٹھے ہوئے تھے ۔ایک طرف سے انھیں باقر مہدی سنبھالے ہوئے تھے دوسری طرف مرزاجعفر حسین اور ایک ان کے شاگردجو آج کل نقاد ہو گئے ہیں۔ باقر وغیرہ کی آستینیں چڑھی ہوئی تھیں۔احتشام صاحب کبھی ٹھنڈا کرتے کبھی جھڑک دیتے ۔ جوابی کارروائی کی دھمکی پر، سختی سے منع کرتے ۔
’’نھیں بھئی!بالکل کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
’’معلوم نہیں کیسے کیاہو جاتا ہے ۔‘‘
’’خاموشی بہتر ہے ۔معاملہ تو کچھ بھی نہیں ہے ۔الجھانے سے حاصل۔‘‘
ہم نے تسلی دیتے ہوئے عرض کیا۔
’’حضور !آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ کلیم صاحب نے آپ کو کم از کم ہاتھی تو مان لیا ہے کہ ’’احتشام حسین جب آل احمد سرور کی نقل کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ہاتھی خوش فعلیاں کر رہا ہے۔ ‘‘
اس پر ایک قہقہہ پڑا ۔احتشام صاحب چند دن بیمار اور کئی دن جھنجھلائے رہے ۔
جب علی گڑھ میں ایم ۔اے کرنے کے دوران تنقید کے پرچے سے ہمارا سابقہ پڑا تو ہم نے کلیم الدین احمد کی کتابیں ’’اردو تنقید پر ایک نظر ‘‘اور ’’اردو شاعری پر ایک نظر ‘‘غور سے پڑھیں۔ اسی زمانے میں ہم نے اردو ناقدین کی ایک پیروڈی ’’کپور کا فن ‘‘ کے عنوان سے لکھی ۔ اس میں کلیم الدین احمد کے انداز بیان کا بھی چربہ اڑایاجو بے حد پسند کیا گیا ۔سر سید ہال میگزین ’’اسکالر ‘‘کا میں ایڈیٹر تھا ،اس کا پیروڈی نمبر نکالا۔پہلی بار یہ پیروڈی اس میں یا علی گڑھ میگزین میں شائع ہوئی تھی ۔کلیم صاحب کے ایک شاگرد ہمارے گہرے دوست تھے۔ان کے اصرار پر ہم نے وہ رسالہ کلیم صاحب کو ڈاک سے بھیج دیا ۔ان صاحب کا کہنا تھا کہ کلیم صاحب کو خط کا جواب دینے کی عادت نہیں ہے مگر وہ بہت پڑھتے ہیں اور آپ کا مضمون ضرور پڑھیں گے اور پسند کر یں گے ۔خلاف توقع چند دن بعد مجھے کلیم صاحب کا ایک خط ملا جس میں انھوں نے لکھا تھا –
’’مکرمی !
پرچہ کا شکریہ ۔’’کپور ایک مطالعہ‘‘ پسند آیا ۔ پیروڈی خوب ہے ۔اردو کے لیے یہ نئی چیز ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو مغربی ادب کے مطالعے میں دل چسپی ہے ۔ اس فن کو ترقی دیں ۔
آپ کا خیال غلط ہے۔میں نے برا نہیں مانا۔ پیروڈی تو شہکاروں کی ہوتی ہے۔ یہ تو کارٹون کا فن ہے۔آپ کا اندازاستہزائیہ نہیں بلکہ اسلوب کو نمایا ں کرنے کا ہے ۔ اسے آپ جو اپنی کتاب شائع کرنا چاہتے ہیں اس میں ضرور شامل کریں ۔ کتاب کے نام کی فرمائش مصروفیت کی نذر ہو گئی۔ آپ خود کوئی اچھا سا (مختصر )نام رکھ لیں۔پٹنہ آئیں تو ضرور ملیں۔ٹیلی فون کرلیں۔ قاضی صاحب خیریت سے ہیں۔ پیروڈی کی اطلاع پہلے انھوں نے دی تھی ۔وہ بھی خوش ہیں ۔
کلیم الدین احمد ‘‘
ایک طالب علم کی اس سے بڑھ کر کیا حوصلہ افزائی ہو سکتی تھی ۔ خوشی کے مارے برا حال تھا ۔ احباب اور اساتذہ میں کئی دن کلیم صاحب کے خط کی نمائش کا سلسلہ جاری رہا اور بار بار دوستوں کو چائے پلانا پڑی۔
غالبؔ صدی تقریبات کا ہنگامہ پٹنہ یونیورسٹی میں برپا ہوا تو مجھے بھی مدعوکیاگیا تھا ۔ میں پروفیسر اختر اور ینوی کا مہمان تھا ۔ ان تقریبات کا افتتاح پروفیسر کلیم الدین احمد نے کیا تھا۔ بس وہ دو جملے بولے تھے اور سینیٹ ہال تالیوں سے گونج گیا تھا ۔
’’غالب کے زمانے میں ان کی عزت افزائی جو کی گئی وہ ان کی حیثیت سے کم تھی اور اس زمانے میں جو عزت افزائی ہو رہی ہے وہ ان کی حیثیت سے زیادہ ہے ۔‘‘
میں نے پہلی بار انھیں بہت غور سے دیکھا ۔ وہ مجھے نہایت سرخ وسپید تندرست قسم کے بزرگ لگے ۔بونا سا قد ،لمبائی کے مقابلے میں چوڑان اطمینان بخش۔نہایت سنجیدہ ، متین، خاموش ، لیے دیے ، چہرے پر وقار اور آسودگی ۔خاموش بیٹھتے تو چہرہ تقریباًچوکور مگر بھرا بھرا ۔ مسکراتے یا بات کر تے تو منہ گول ہو جاتا ۔ غرض عام انسانی چہروں سے خاصا مختلف ۔ جب اجلاس ختم ہوا اور لوگوں نے انھیں گھیرا تو میں نے بھی انھیں سلام کیا ، جس کا جواب انھوں نے Face Expression سے دیا اور میں بس دیکھتا ہی رہ گیا اور وہ چل دیے ۔ ان کے ساتھ وائس چانسلر ،ڈاکٹر ممتاز احمد ، پروفیسر عطا کا کوی اور ڈاکٹر اختر اور ینوی تھے، جو انھیں موڑتک پہنچاکر واپس آگئے ۔ ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ شام کو کلیم صاحب کے یہاں آپ لوگوں کے اعزاز میں ایک ایٹ ہوم ہے ۔ آپ لوگ سے مراد ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی ،ڈاکٹر حسن ، ڈاکٹر قاضی عبدالستار اور خاکسار ۔
شام کو موٹروں پر اختر اور ینوی صاحب کے یہاں سے ہم لوگ کلیم صاحب کے یہاں روانہ ہوئے ، سڑک ابھی بن رہی تھی ۔ فٹ پاتھ پر کنکر پتھر تھے ۔ برآمدے میں لمبی لمبی میزیں ، آمنے سامنے کرسیا ں جن پر مہمان اورمیزبان بیٹھ گئے ۔کلیم صاحب ایک کونے میں کھڑے مسکراہٹ سے لوگوں کے سلام اور باتوں کا جواب دے رہے تھے ۔ جو نوجوان اس تقریب کے انتظام اور ہماری پزیرائی میں پیش پیش تھے وہ ڈاکٹر ممتاز احمد ، ڈاکٹر محمد صدیق ،ڈاکٹر خالد رشید صبااور ڈاکٹر محمد طیب ابدالی تھے ۔ طیب ابدالی بہت دبلے پتلے تھے اور ممتاز صاحب بالکل پہلوان معلوم ہوتے تھے اور نہایت تندرست ۔ سر پر چھوٹے چھوٹے بال بھرا بھرا چہرہ کھلتا ہوا رنگ ۔سب سے زیادہ خوش پوشاک ڈاکٹر خالد رشید صبااور ڈاکٹر صدیق تھے۔
میں ایک دفعہ کرسی سے اٹھ کر کلیم صاحب تک گیا مگر ان کی خاموشی نے پسپا کردیا۔ پھر آکر بیٹھ گیا۔ میں نے ڈاکٹر اختر اورینوی سے کہا:
’’بھئی! یہ تو بولتے ہی نہیں ہیں۔‘‘
’’خوب بولتے ہیں مگر اس کی ایک ترکیب ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
ان کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ بولے
’’کلیم صاحب ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں مگر بیمار ہیں۔ بیماری چھپاتے ہیں۔ آپ ان سے صحت اور خیریت پوچھیے۔ ہارٹ، بلڈ پریشر، شوگر وغیرہ کے بارے میں، اور بلا کسی کا نام لیے کہیے کہ لوگوں نے بتایا کہ آپ بیمار ہیں۔ پھر دیکھیے کیسا بولتے ہیں۔‘‘
غرض انھوں نے ٹھیل ٹھال کر ہمیں پھر کلیم صاحب کے پاس بھیج دیا۔ ہم نے اختر صاحب کے نسخے پر عمل کرتے ہوئے جا کر ان کی صحت کو کریدا۔ کلیم صاحب بولنے لگے۔ پہلے تو یقین دلایا کہ وہ قطعی تندرست ہیں۔ پھر بتایا کہ لوگ بد نام کرنے کے لیے ایسا کہتے ہیں۔ پھر میں نے اپنی نئی کتاب ’’مضامینِ پاشا‘‘ کے بارے میں کہا کہ لانا بھول گیا۔ بولے ’’آپ کی یہ اور دوسری کتابیں میرے پاس ہیں۔ میں پڑھ چکا ہوں کچھ مضامین پر پسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔ بولے ’’ادب میں مارشل لا‘‘ اور ’’رستم امتحان کے میدان میں‘‘ Prose میںMass Epic ہیں۔ مختصر خاکے کے آرٹ پر بولے :’’بہت مشکل فن ہے۔ آپ کے خاکے پڑھ چکا ہوں۔ یہ سلسلہ جاری رکھیے۔‘‘ غرض وہ بول رہے تھے اور میں سن رہاتھا۔ جب میں لوٹا تو احباب نے حیرت سے پوچھا :’’کلیم صاحب آپ سے تو خوب باتیں کر رہے تھے ۔‘‘ اختر صاحب مسکرائے۔ ان کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ میں بیماری کا ذکر گول کرگیا اور بولا:
’’میری ظرافت کے فن پر روشنی ڈال رہے تھے۔ مضامین کی تعریف کررہے تھے۔‘‘
’’تعجب ہے۔‘‘
’’تعجب تو مجھے بھی ہے۔‘‘
جب لکھنؤ سے ہم نے سیوان میں ڈیرہ جما یا تو پٹنہ کے چکر شروع ہوگئے۔ جب بھی پٹنہ جاتے اور ذرا بھی فرصت ملتی تو کلیم صاحب کو ٹیلی فون کرتے اور وہ عموماً شام کا وقت دیتے۔ پھر کلیم صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمارا محتاط اندازہ ہے کہ وہ مردم شناس تو نہ تھے مگر بڑے مروت کے انسان تھے۔ عموماً عشا بعد لکھنا پڑھنا شروع کرتے جس کا سلسلہ عام طور پر صبح چار بجے تک چلتا۔ دس بجے کے قریب وہ سو کر اٹھتے۔
نیاز فتح پوری کی طرح کلیم الدین احمد بے حد با قاعدہ انسان تھے، اردو بورڈ کی لغت کا د فتر ان کے گھر پر تھا جس میں بہت سے لوگ کام کرتے ۔ کلیم صاحب دن بھر پابندی سے بیٹھ کر کام کرتے۔ ان کے آفس میں دنیا بھر کی سیکڑوں ڈکشنریاں اور ڈکشنری سازی کا ہر قسم کا ساز وسامان تھا۔ وہ مشین کی طرح کام کرتے ۔ دفتری اوقات میں ملاقاتی سے گفتگو تقریباً نہیں کے برابر ہوتی۔
کلیم صاحب تنہائی میں خوب باتیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھیں جنسی موضوعات اور اسکینڈلز میں بڑی دل چسپی تھی۔ وہ بہت کم کھلتے لیکن جب بے تکلف ہوجاتے تو خوب ہنستے بولتے۔ ساتھ میں اگر کوئی اجنبی ہو یا کسی نے ان کی عظمت کا قصیدہ پڑھ دیا تو وہ شرما کر بالکل خاموش ہوجاتے۔ کلیم صاحب کے مزاج میں مروّت اور دریا دلی بہت تھی۔ تنقید کے مزاج میں وہ جتنے گرم تھے روز مرہ کی زندگی میں اتنے ہی نرم۔ ہمیشہ سلوک کرنے کے لیے تیار رہتے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے دو ایک سفارشیں ان سے کی تھیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ انھوں نے وہ کام بڑی خوش اسلوبی سے نہ صرف کردیا بلکہ مجھے خط لکھ کر اس کی اطلاع بھی دے دی۔ یوں تو کلیم صاحب خوب باتیں کرتے بلکہ آخری زمانے میں صرف وہی بولتے تھے۔ کلیم صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے ان کے طریقۂ تنقید خاص طور پر اقبال کے سلسلے میں قطعی اختلاف ہے مگر اس کے باوجود اس کا تعلقات پر کبھی کوئی اثر نہ پڑا۔ ان میں اور قاضی عبدالودود میں کبھی نہ پٹی۔ بیش تر میں قاضی صاحب کے یہاں سے ان کو فون کرتا لیکن کبھی انھوں نے قاضی صاحب کے خلاف میری موجودگی میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
میں جب بھی کلیم صاحب سے ملنے جاتا تو وہ ’’معاصر‘‘ کا نیا شمارہ دیتے۔ اس کا مجھے ممبر بنایا، اس میں لکھنے کی فرمائش کرتے۔ اگر کبھی بھی کسی کتاب یا رسالے کے بارے میں دریافت کیا تو وہ لاکر کہتے ’’لیجیے آپ کی نذر ہے۔‘‘ اکثر انھوں نے بڑی قیمتی کتابیں مجھے ’’نذر‘‘ کردیں۔
ہمارے کالج کا مقدمہ ہائی کورٹ میں تھا۔ جسٹس فضل علی نے اس کی تحقیقات کلیم صاحب کے سپرد کی۔ مجھے اس کا علم تھا اور اس دوران برابر میں ان کے یہاں جاتا بھی تھا۔ مگر میں نے کبھی اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی۔ جب میں چلنے لگتا تو کلیم صاحب مجھے روک کر پھر باتیں کرنے لگتے۔ گھما پھرا کر سیوان کا ذکر کرتے مگر میں نے کالج کے سلسلے میں ان سے کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے یونس صاحب سے اس بات کی بڑی تعریف کی اور سیوان جاکر میرے یہاں قیام کرنے کا پروگرام بھی بنایا اور کہا کہ ’’جمال صاحب سے انکوائری میں بڑی مدد ملے گی۔‘‘ ان کے سیوان آنے سے چند یوم قبل اچانک وہ وفات پاگئے اور یہ باتیں مجھے خود ان کے گھر والوں اور یونس صاحب سے معلوم ہوئیں، جب میں ان کے انتقال کی ریڈیو سے خبر سن کر تعزیت کے لیے پٹنہ گیا۔
اب بھی ان کا خیال آتا ہے اور یاد آتا ہے کہ عالمی ادب یا انگریزی ادب پر میں نے انھیں چھیڑ دیا ہے اور وہ مسلسل بولے چلے جارہے ہیں اور محسوس ہوتا کہ علم ودانش کا ایک سمندر ابل رہا ہے۔ ان کی ہمارے لیے اس وجہ سے بھی ہمیشہ ایک اہمیت رہے گی کہ بہار کی شناخت ہمارے جن جواہر سے اردو دنیا کے خزانے میں ہوتی ہے ان میں کلیم الدین احمد کی حیثیت کوہ نور کی ہے۔ کلیم صاحب اصولِ تنقید پر زور دیتے تھے۔ متن اور شخصیت کے مطالعے پر ان کا زور تھا جس سے ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کی تنقید کا انداز کچھ Demolition Expert کا تھا جس کی ادب میں ضرورت بھی ہے اور اہمیت بھی۔ بت سازی سب کچھ نہیں، بت شکنی بھی ادبی اور تاریخی سائیکل کا جزوِلاینفک ہے۔ احتساب اور گرفت کا فن ان پر ختم ہوگیا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ ان کے کارناموں کی ایڈیٹنگ اور تلخیص کی جائے تاکہ کام کی باتیں ہم گرہ میں باندھ سکیں اور بقیہ کی حیثیت تاریخی رہ جائے۔
کلیم صاحب کے علمی ذخیرے میں بڑی نادر ونایاب کتب ہیں۔ شیکسپیئر کے بیش تر پہلے ایڈیشن انھوں نے مجھے دکھائے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خزانے کو محفوظ کردیا جائے۔
مجھے اب بھی کلیم صاحب یاد آتے ہیں۔ خصوصاً ان کی کوئی کتاب میرے ہاتھ میں ہو یا پھر جب میں بہار اردو اکاڈمی جاتا ہوں اور راستے میں ان کا گھر پڑجائے تو ایک دم مجھ پر اداسی چھا جاتی ہے اور ان کا چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ بزرگوں میں جن سے بہت کچھ حاصل کیا ان میں وہ مجھے بہت عزیز ہیں۔
(احمد جمال پاشا)
مشق
لفظ ومعنی
منہمک : مصروف، مشغول
مستغرق : ڈوبا ہوا، کسی کام میں کھویا ہوا
محتاط : احتیاط برتنے والا، بہت سنبھل کام کرنے والا
برہمی : غصّہ کرنا، ناراضگی
تکرار : لڑائی جھگڑا، توتو میں میں
ژولیدہ بیانی : غیر مربوط گفتگو کرنا، بے سر پیر کی ہانکنا
ہجوِ ملیح : ایسی تعریف جس میں برائی کا پہلو نکلتا ہو
معمّہ : ایسی پہیلی جس کا حل آسان نہ ہو
مشکوک : جس پر شک کیا جائے
سالار : فوج کا سردار، قافلے کی رہبری کرنے والا
جوق در جوق : گروہ در گروہ، مجمع
چربہ : عکس، نقل
استہزائیہ : مسخرے پن کا انداز
متین : سنجیدہ، گمبھیر
Face Expression: چہرے کے تاثرات شکل سے نمایاں ہونا
توسیع : پھیلاؤ، اضافہ
مردم شناس : آدمی پہچاننے والا، تیز نظر رکھنے والا
دریا دلی : سخاوت، فیاضی
نذر کرنا : پیش کرنا
کوہِ نور : روشنی کا پہاڑ، ایک بیش قیمت ہیرا
جزوِلاینفک : لازمی حصّہ، جسے الگ نہ کیا جاسکے
متن : کوئی با معنی تحریر، کسی مصنف کے قلم سے نکلی ہوئی کوئی عبارت یا شعر
احتساب : محاسبہ کرنا، جائزہ لینا، گرفت، پکڑ
گرفت : پکڑ
نادر : انوکھا، کم یاب
نایاب : نہ ملنے والا، بہت مشکل سے ملنے والا
غور کرنے کی بات
- کلیم الدین احمد اردو کے معروف نقاد اور انگریزی زبان کے استاد تھے۔
- احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کا خاکہ لکھتے ہوئے اُن کے بعض مضامین اور کتابوں کے سلسلے میں اردو کے دو ادبی مراکز لکھنؤ اور علی گڑھ میں موجود ادیبوں کے تاثرات بھی اپنے دل چسپ انداز میں شامل کرکے اس خاکے کی معنویت بڑھادی ہے۔ اس خاکے میں کلیم الدین احمد کے ساتھ ساتھ اُن کے چند معاصرین بالخصوص آل احمد سرور اور سید احتشام حسین کے احوال بھی موجود ہیں۔
- اس خاکے میں طنز وظرافت کے ساتھ ساتھ تنقیدی نقطۂ نگاہ کو بھی احمد جمال پاشا نے روا رکھا ہے۔ وہ ہنسی ہنسی میں ہمیں کلیم الدین احمد کی ادبی حیثیت سے بھی آگاہ کرتے گئے ہیں۔
سوالات
1. احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کی تنقیدی اہمیت کے بارے میں کیا لکھا ہے؟
2. پیروڈی کے فن پر کلیم الدین احمد کے خیالات کیا ہیں؟ لکھیے۔
3. ’میزانِ نقد کے دونوں پلڑے برابر کرتے رہے‘ — اس کی تفصیل اس سبق کی روشنی میں بیان کیجیے۔
4. احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کی ذاتی لائبریری کے بارے میں کون سی اطلاع دی ہے؟ بتائیے۔
5. اس خاکے میں اردو ادب سے متعلق جن شخصیات کا ذکر ہوا ہے، ان میں سے پانچ کے بارے میں تین تین جملے لکھیے۔
عملی کام
- اس خاکے سے ظریفانہ اور سنجیدہ حصّوں کو الگ الگ کرکے لکھیے۔
- احمد جمال پاشا کے کسی دوسرے خاکے یا مضمون کا مطالعہ کیجیے۔