12
حصۂ نظم
غزل
’’غزل‘‘ عربی زبان کالفظ ہے۔لغت میں اس کے معنی ہیں’’عورتوں کی باتیں کرنا‘‘ یا ’’عورتوں سے باتیں کرنا‘‘۔ عرب شعرا جب اپنی معشوقاؤں کا سراپا کھینچتے یا ان کے حسن وجمال کی تعریف کرتے یا ان کی محبت میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے تو اس عمل کو ’’تغزل‘‘ اور ایسے اشعار کو ’’غزل‘‘ کہتے تھے۔ عربی میں غزل ’’عشقیہ اشعار کو کہتے ہیں۔ عربی غزل میں مطلع بھی ہوتا تھا اور غزل کی ہیئت کے مطابق دوسرے اشعار کے تمام مصرعے ہم قافیہ بھی ہوتے تھے۔ غزل کا ہر شعر مستقل مضمون کا حامل نہیں ہوتا تھا۔
عربی سے غزل فارسی میں آئی۔ فارسی شاعروں نے غزل میں کئی بڑے کارنامے انجام دیے۔ ایک یہ کہ انھوں نے غزل کے ہر شعر کو ایک مستقل مضمون کا حامل بنایا۔ غزل کے ہر شعر میں ایک مستقل مضمون ادا کرنے کی کوشش کے نتیجے میں غزل کے اندر اشاروں اور کنایوں میں بات کرنے کی صلا حیت پیدا ہوئی۔ بڑے سے بڑے مضمون کو علامت، تشبیہ اور استعارے کے پردے میں صرف دو مصرعوں میں ادا کیا جانے لگا۔ فارسی شاعروں نے موضوعات ومضامین کے لحاظ سے غزل میں وسعت پیدا کی۔ غزل میں عشق مجازی کے ساتھ ساتھ عشق الٰہی، بے ثباتیِ دنیا، زاہدوں سے چھیڑ چھاڑ، اہل ریا پر طنز اور رندی ومے خواری کے مضامین فارسی شاعروں ہی کی ایجاد ہیں۔غزل میں ’’ردیف‘‘ فارسی شاعروں کی دین ہے۔ عربی شاعری میں قافیہ ہوتا ہے، ردیف نہیں ہوتی۔
اردو میںغزل فارسی ادب سے آئی ۔اب یہ اردو کی سب سے مقبول صنفِ سخن ہے۔ فارسی کی طرح اردو غزل میں بھی مضامین وموضوعات کی کوئی قید نہیں ہے۔ فلسفیانہ، عاشقانہ، زاہدانہ ہر طرح کے مضامین نظم کیے جاسکتے ہیں اسی طرح اشعار کی تعداد بھی مقرّر نہیں ہے۔ عام طور پر پانچ سے اُنیس اشعار تک کی غزلیں ہوتی ہیں۔
غزل کا پہلا شعر’’مطلع‘ ‘کہلاتا ہے، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ اگر کسی غزل میں دوسرا مطلع بھی ہو تو اسے ’’حسنِ مطلع‘‘ یا’’ زیبِ مطلع‘‘ کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص نظم کرتا ہے، جسے ’’مقطع‘‘ کہتے ہیں۔جس غزل میں ردیف نہ ہو، صرف قافیے ہوں اسے ’’ غیر مردّف غزل‘‘ کہتے ہیں۔ وہ بحر اور ردیف وقافیہ جس کی غزل میں پابندی کی جاتی ہے، اس کو غزل کی ’’زمین‘‘ کہا جاتاہے۔
غزل کے اشعار میں الگ الگ مضمون بیان کرنے کی رسم کو بعض لوگوں نے ناپسندیدگی اور نکتہ چینی کی نگاہ سے دیکھا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کا عیب نہیں، حسن ہے۔