Skip to content
Awamaurmaishat-001

اکائی  I

باب1

آبادی تقسیم، کثافت، افزائش اور ساخت

5268-1
لوگ کسی ملک کا نہایت اہم حصہ ہوتے ہیں۔ ہندوستان اپنی 1,210 کروڑ کی کل آبادی(2011) کے ساتھ چین کے بعد دنیا میں دوسرا سب سے گھنا بسا ہوا ملک ہے۔ ہندوستان کی آباد ی شمالی امریکہ ، جنوبی امریکہ او ر آسڑیلیا کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ اکثر وبیشتر کہا جاتا ہے کہ اتنی بڑی آبادی یقینی طور پر اس کے محدود وسائل پر دباؤ ڈالتی ہے اور ملک میں مختلف سماجی اور معاشی مسائل کے لیے ذمے دار ہوتی ہے۔

ہندوستان کا خیال آتے ہی آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ کیا یہ محض ایک خطہ ہے؟ کیا یہ لوگوں کے آپسی تعلق کو ظاہر کرتا ہے؟ کیا یہ مخصوص نظام کے تحت رہ رہے لوگوں سے بساہوا ایک خطہ ہے؟


اس سبق میں، ہم ہندوستان کی آبادی کی تقسیم، کثافت، افزائش اور ساخت پر بحث کریں گے۔

آبادی کے اعدادوشمار کے ذرائع

ہمارے ملک میں آبادی کے اعداد وشمار ہر دس سال کے بعد مردم شماری کے ذریعے اکٹھا کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں پہلی مردم شماری 1872میں ہوئی تھی، لیکن پہلی مکمل مردم شماری 1881میں ہوئی تھی۔

 آبادی کی تقسیم     (Distribution of Population) 

شکل1.1کا جائزہ لیجیے اور اس پر دکھائے گئے تقسیم آبادی کی علاقائی ترتیب کو بیان کرنے کی کوشش کیجیے۔شکل سے یہ ظاہر ہے کہ ہندوستان کی تقسیم آبادی کی ترتیب غیر مساوی ہے۔ملک میں صوبوں اور مرکزی علاقوں کا آبادی میں فی صد حصہ(ضمیمہi- )سے ظاہر ہوتاہے کہ اتر پردیش کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور اس کے بعد مہاراشٹر، بہار، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش کا مقام ہے۔
5268-2

تصویر1.1:ہندوستان۔آبادی کی تقسیم

سرگرمی


ضمیمہ(i)میں دیئے گئے اعددا شمار کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کی ریاستوں اور مرکزی علاقوں کو ان کیرقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ترتیب دیجیے اور پتہ لگائیے:


زیادہ رقبہ اور بڑی آبادی والے صوبے⁄مرکزی علاقے

بڑے رقبہ لیکن کم آبادی والے صوبے⁄ مرکزی علاقے 

کم رقبہ لیکن بڑی آبادی والے صوبے⁄ مرکزی علاقے

جدول(ضمیمہ iA-)سے ظاہر ہے کہ اترپردیش، مہاراشٹر، بہار،مغربی بنگال، آندھرا پردیش کے ساتھ تمل ناڈو، مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک اور گجرات کی مجموعی آبادی ملک کی کل آبادی کا 76 فی صد ہے۔ دوسری طرف جموں وکشمیر (%1.04)، اروناچل پردیش(%0.11) اور اترانچل (%0.84) جیسے صوبوں کی آبادی ان کے خاصہ بڑے جغرافیائی رقبے کے باوجود بہت کم ہے۔
ہندوستان میں غیرمساوی تقسیم آبادی اس بات کا مظہر ہے کہ آبادی، طبعی، سماجی ومعاشی اور تاریخی عوامل کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔ جہاں تک طبعی عوامل کا تعلق ہے، یہ ظاہر ہے کہ آب وہوا کے ساتھ زمین کی بناوٹ اور پانی کی فراہمی خا ص طور پرتقسیم آبادی پر زیادہ اثر اندازہوتے ہیں۔نتیجتاً ہم دیکھتے ہیں کہ شمالی ہندوستان کے میدانوں، ڈیلٹا اور ساحلی میدانوں میں آبادی کی کثافت ، جنوبی اور وسطی ہندوستان کے صوبوں کے اندرونی اضلاع، ہمالیہ، بعض شمالی مشرقی اور مغربی ہندوستانی ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تاہم سینچائی کی سہولیت (راجستھان)، معدنیات اور توانائی کے وسائل کی فراہمی (جھار کھنڈ) اور نقل و حمل کی بہتر سہولیات (دکنی ریاستیں)،کی وجہ سے ان علاقوں میں جہاں پہلے بہت کم آبادی تھی آج وہاں آبادی کی کثافت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔
تقسیم آبادی کے سماجی، معاشی اور تاریخی وجوہات میں استقلالی زراعت کی شروعات اور زراعت کا فروغ ؛ انسانی بستیوں کی اشکال ،نقل وحمل کی سہولیات، صنعت کاری اور شہرکاری میں فروغ اہم ہیں۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ ہندوستان کے سیلابی میدان اور ساحلی علاقے ہمیشہ ہی گھنی آبادی والے علاقے رہے ہیں۔ اگر چہ ان صوبوں میں زمین اور پانی جیسے قدرتی وسائل کے بے جا استعمال کی وجہ سے ان کے معیار میں گراوٹ آئی ہے۔ پھر بھی انسانی بستیوں کی ابتدائی تاریخ اور نقل وحمل کی ترقی کی وجہ سے آبادی کا گھناپن برقرار ہے۔ دوسری طرف دلی، ممبئی، کولکاتہ، بنگالورو،پونہ، احمدآباد، چینئی اور جے پور کے شہری علاقوں میں آبادی کا جماؤ زیادہ ہونے کی وجوہات صنعتی ترقی اور شہر کاری ہیں جو بڑی تعداد میں لوگوں کو گاؤں سے شہر کی طرف نقلِ مکانی  کے لیے راغب کرتے ہیں۔

آبادی کی کثافت(Density of Population)      

آبادی کی کثافت کو فی اکائی رقبے میں انسانوں کی تعداد کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ زمین کے تعلق سے آبادی کی علاقائی تقسیم کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ہوتی ہے۔ ہندوستان کی آبادی کی کثافت (2001) کا اوسط313افراد فی مربع کلو میٹر ہے جو کہ ایشیا کے سب سے گھنے بسے ممالک بنگلہ دیش (849افراد) اور جاپان (334افراد) کے بعد تیسرے درجہ پر ہے۔ 1951ـمیں آبادی کی کثافت 117افراد فی مربع کلو میٹر بڑھ کر 2001 میں 313افراد فی مربع کلو میٹر ہوگئی جو تقریباً پچھلے50سالوں میں آبادی کی کثافت میں تقریباً200افراد فی مربع کلو میٹر کا اضافہ ہے۔ 
ضمیمہ(i)میں دیئے گئے اعداد وشمار ملک میں آبادی کی کثافت کے علاقائی تغیرکو ظاہر کرتے ہیں،جو ارونانچل پردیش میں سب سے کم 17افراد  فی مربع کلو میٹر سے لے کر دہلی کے قومی دارالحکومت علاقہ میں 11,297 افراد فی مربع کلو میٹر تک ہے۔ شمالی ہندوستان کے صوبوں مغربی بنگال (1029)، بہار (1102)اور اترپردیش(829)میں آبادی کی کثافت سب سے زیادہ ہے جب کہ ہندوستان کے ساحلی صوبوں میں کیرلا(859)اور تمل ناڈو (555) میں آبادی کی کثافت زیادہ پائی جاتی ہے۔ آسام ،گجرات، آندھرا پردیش، ہریانہ ، جھارکھنڈ اور اڑیسہ جیسی ریاستوں میں اوسط درجہ کی کثافت پائی جاتی ہے- ہمالیہ کے پہاڑی صوبوں اور شمال مشرقی ریاستوں (آسام کے علاوہ) میں آبادی کی کثافت نسبتاً کم ہے ۔ جب کہ انڈمان اورنکوبار جزائر کو چھوڑ کر سبھی مرکزی ریاستوں میں آبادی کی کثافت زیادہ ہے  (ضمیمہ1-)۔

5268-3
شکل1.2:ہندوستان آبادی کی کثافت

آبادی کی کثافت جیساکہ پہلے بیان کیا جا  چکا ہے کسی ملک کی آبادی اور اس ملک کے کل رقبہ کے تناسب کو ظاہر کرتی ہے جو کہ ایک خام پیمانہ ہے۔ہندوستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصرہے عضویاتی (Physiological)اور زراعتی (Agricultural) کثافت مجموعی انسانی آبادی اورزمینی تناسب کو معلوم کرنے کا زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

عضویاتی کثافت= مجموعی آبادی/ خالص پیداوارکا رقبہ
زراعتی کثافت= مجموعی زراعتی آبادی/خالص پیداوارکا رقبہ        
    زرعی آبادی میں کسان او ر زراعتی مزدور اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔

سرگرمی


 ضمیمہ(i)میں دیے گئے اعدادوشمارکی مدد سے ہندوستان کی ریاستوں اور مرکزی علاقوں کی عضویاتی اورزراعتی کثافت معلوم کیجیے۔ ان کاآبادی کی  کثافت سے کا موازنہ کیجیے اور دیکھیے کہ ان کے درمیان کیا فرق ہے؟

مردم شماری سال کل آبادی شرح افزائش*

حقیقی تعداد فی صد افزائش
1901
1911
1921
1931
1941
1951
1961
1971
1981
1991
2001
**2011
238396327
252093390
251321213
278977238
318660580
361088090
439234771
548159652
683329097
846302688
1028610328
1210193422
----------
 13697063(+)
772117(-)
27656025(+)
39683342(+)
42420485(+)
77682873(+)
108924881(+)
135169445(+)
162973591(+)
182307640(+)
181583094(+)

---------
5.75(+)
0.31(-)
11.60(+)
14.22(+)
13.31(+)
21.51(+)
24.80(+)
24.66(+)
23.85(+)
21.54(+)
17.64(+)

جدول1.1:ہندوستان کی دس سالہ شرح افزائش،1901.2011

5268-9

افزائش آبادی  (Growth of Population)

 کسی علاقے میں مخصوص مدت میں باشندوں کی تعداد میں تبدیلی کو افزائش آبادی کہتے ہیں۔اس کی شرح کو فی صد میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ افزائش آبادی کے دواہم جزہوتے ہیں۔ قدرتی اور ترغیبی – قدرتی افزائش کا تعین خام شرح پیدائش اور شرح اموات سے کیا جاتا ہے۔ ترغیبی اجزا کا تعین علاقے میں رہنے والے لوگوں کے اندرونی وبیرونی نقل مکانی کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ تاہم اس سبق میں ہم صرف ہندوستان کی قدرتی افزائش آبادی کامطالعہ کریں گے۔

ہندوستان میں افزائش آبادی کی دس سالہ اور سالانہ دونوں شرحیں بہت زیادہ ہیں اورجو وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہیں۔ ہندوستان کی سالانہ شرح افزائش 2.4 فی صد ہے۔ افزائش کی اس شرح سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اگلے 36سالوں میں ملک کی آبادی دوگنی ہوجائے گی یہاں تک کہ چین کی آبادی کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

آبادی کے دوگنا ہونے کی مدت

 آبادی کے دوگنا ہونے کی مدت سے مراد موجودہ سالانہ شرح افزائش سے کسی بھی آبادی کے دوگنا ہونے میں لگنے والا وقت ہے۔
5268-5
شکل1.3:ہندوستان ---افزائش آبادی

پچھلی صدی میں ہندوستان کی آبادی میں اضافہ سالانہ شرح پیدائش، شرح اموات اور شرح نقل مکانی کی وجہ سے ہوئی ہے اسی لیے یہ افزائش مختلف رجحانات کو ظاہر کرتی ہے۔ اس دوران افزائش آبادی کے چار مرحلوں کی شناخت کی گئی ہے:

پہلا مرحلہ  :

1901سے 1921کے عرصہ کو ہندوستان کی آبادی کے جمود کے دورکے طورپر جاناجاتا ہے کیوں کہ اس دوران شرح افزائش بہت کم تھی ۔ یہاں تک کہ 1911-1921 کے درمیان منفی شرح افزائش درج کی گئی تھی۔ شرح پیدائش اور شرح اموات دونوں زیادہ تھیں جس کی وجہ سے شرح افزائش کم رہی۔ (ضمیمہiii- )۔ خراب صحت ، اورنا کافی طبی سہولیات ،لوگوں میں وسیع تر ناخواندگی ، کھانے کی اشیا اور دوسری بنیادی سہولیات کے غیرمستعد نظام تقسیم اس دور میں موٹے طور پر زیادہ شرح پیدائش اور شرح اموات کے لیے ذمہ دار تھے۔

دوسرا مرحلہ:

1921-1951کے مابین عرصے کومستقل افزائش آبادی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں صحت اور صفائی کی وجہ سے شرح اموات میں کمی درج کی گئی۔ ساتھ ہی بہتر نقل و حمل اور رسل و رسائل کے ذرائع کی وجہ سے نظام تقسیم میں سدھار ہوا۔اس درمیان خام شرح پیدائش اونچی بنی رہی نتیجتاً پہلے مرحلہ کے مقابلے شرح افزائش زیادہ بنی رہی۔1920کی دہائی کی معاشی گراوٹ اور دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں یہ شرح معنی رکھتی ہے۔

تیسرا مرحلہ :

1951-1981کی دہائیوں کو ہندوستان میں آبادی کے دھماکہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ملک میں شرح اموات میں تیز گراوٹ اور شرح پیدائش میں تیزی کی وجہ سے ہوا۔اوسط سالانہ شرح افزائش 2.2فی صد تک زیادہ رہی۔ آزادی کے بعد یہی وہ دور تھا جس میں ایک مرکزی منصوباتی عمل کے تحت ترقیاتی کاموں کی شروعات کی گئی۔
معیشت میں بہتری کے آثار مجموعی طور پر لوگوں کے بہتر رہن سہن کے ضامن تھے۔ نتیجتاً آبادی کی قدرتی افزائش زیادہ اوراضافی شرح افزائش بہت زیادہ درج کی گئی ان سب کے علاوہ تبتیوں، بنگلادیشیوں، نیپالیوں کے بڑھتے بین الاقوامی نقل وطن اور یہاں تک کہ پاکستان سے آنے والے لوگوں نے بھی اونچی شرح افزائش میں اہم کردار ادا کیا۔

چوتھا مرحلہ:

1981کے بعد سے موجودہ وقت تک ملک کی آبادی کی شرح افزائش اگرچہ اونچی بنی رہی ، لیکن رفتہ رفتہ گھٹنے لگی(جدول1.1)۔ اس طرح کی شرح افزائش کے لیے خام شرح پیدائش میں کمی کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ جو کہ ملک میں شادی کی اوسط عمر میں اضافہ ،بہتر معیارزندگی خاص کر تعلیم نسواں میں سدھار کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ 
ملک میں آبادی کی شرح افزائش ابھی بھی اونچی بنی ہوئی ہے اور عالمی ترقی رپورٹ کے اندازہ کے مطابق 2025 تک ہندوستان کی آبادی 135کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
اب تک کیا گیا تجزیہ اوسط شرح افزائش کو ظاہرکرتا ہے لیکن ملک کے ایک خطہ سے دوسرے خطہ میں شرح افزائش میں نمایاں فرق ہے جو کہ (ضمیمہiv–)ذیل میں بیان کیا گیاہے۔

افزائش آبادی کا علاقائی تغیر (Regional Variation in Population Growth)

1991-2001کے درمیان ہندوستان کی ریاستوں اورمرکزی علاقوں میں آبادی کی شرح اضافہ میں بہت ہی نمایاں فرق ظاہر ہوتا ہے۔
کیرلا، کرناٹک، تمل ناڈو، آندھراپردیش ،اڑیسہ،پانڈیچیری اور گوا جیسی ریاستوں میں شرح افزائش کم پائی جاتی ہے جو کہ ایک دہائی میں20 فی صدی سے زیادہ نہیں ہوئی۔ کیرالا میں سب سے کم شرح اضافہ درج کیا گیا (9.4) نہ صرف اس گروپ کی ریاستوں میں بلکہ پورے ملک میں بھی سب سے کم شرح افزائش درج کی گئی۔
ملک کی شمال مغربی، شمالی، اور شمالِ وسطیٰ خطوں میں مغرب سے مشرق تک پھیلی ریاستوں کی ایک مسلسل پٹی میں جنوبی ریاستوں کے مقابلے اونچی شرح افزائش پائی جاتی ہے۔ اس پٹی کی ریاستوں جیسے گجرات، مہاراشٹر ، راجستھان، پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، اترانچل، مدھیہ پردیش، سِکم، آسام، مغربی بنگال، بہار، چھتیس گڑہ اور جھارکھنڈ میں اوسط شرح افزائش 20-25 فی صد  کے درمیان بنی رہی ۔
1991-2001 جیسی دہائی کے مقابلے میں 2001-2011میں تقریباً تمام صوبوں اور مرکزی علاقوں میں شرح افزائش کم درج ہوئی ہے۔ 1991-2001کے مقابلے میں 2001-2011 میں کثیر آبادی والی   چھے ریاستوں اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور مدھیہ پردیش میں شرح افزائش میں گراوٹ نظر آئی ہے۔ اس گراوٹ میں سب سے زیادہ کمی آندھرا پردیش میں (3.5 فی صد پوائنٹ) اور سب سے زیادہ مہاراشٹر (6.7 فی صد پوائنٹ)میں واقع ہوئی۔ گذشتہ دہائیوں کے مقابلے 2001-2011 میں تمل ناڈو (3.9فی صد پوائنٹ) اور پڈوچیری  (7.1 فی صد پوائنٹ) میں معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے۔

سرگرمی


ضمیمہ (i)اور(iA)میں دیے گئے اعدادوشمارکی مدد سے مختلف ریاستوں ⁄ مرکزی اختیاروالے علاقوں میں1991-2001اور2001-2011 کے درمیان آبادی میں شرح افزائش کاموازنہ کیجیے۔


اپنی اپنی ریاست کے چنے ہوئے اضلاع کے کل مردوں اور عورتوں کی آبادی سے متعلق شرح افزائش کے اعداد شمار کو لیجیے اور انھیں کمپوزٹ بارگراف(Composite Bar Graph) کی مدد سے ظاہر کریے۔
ہندوستان کی آبادی میں اضافہ کا اہم پہلو اس کے نوخیز جوانوںکا اضافہ ہے۔ دور حاضرمیں نوخیز جوانوں یعنی10-19سال کے طبقہ کاآبادی میں حصہ تقریباً22 فی صدہے(2001)،جس میں 53فی صدی لڑکے اور47فی صدی لڑکیاں شامل ہیں۔نوخیزجوانوںکی آبادی اگر چہ نوجوان تصور کی جاتی ہے اور اہلیت سے پر سمجھی جاتی ہے لیکن اگر انھیں صحیح راستہ نہ دکھایا جائے تو یہ نوخیز سماج کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ ان نوجوانوں کے تعلق سے سماج کے سامنے مختلف دشواریاں ہیں جن میں سے کچھ کم عمر میں شادی، ناخواندگی، خاص کرنسواں ناخواندگی، اسکول چھوڑ دینا، غذائیت کی کمی، چھوٹی عمر کی ماؤں کی اونچی شرح اموات، ایچ آئی وی/ایڈس ،جسمانی اور ذہنی معذوری نشیلی دواؤں کا استعمال، شراب نوشی اورکم عمر میں مجرمانہ حرکات وغیرہ شامل ہیں۔
ان حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کی سرکارنے نوخیز جوانوںکو مناسب تعلم مہیاّ کرانے کے لیے کچھ حکمتِ عملی مرتب کی ہیں تاکہ ان کی ذہانت کواجاگر کرکے بہتر طور پر استعمال کیا جاسکے۔ قومی یوتھ پالیسی ایک ایسی ہی مثال ہے جو ہمارے نوخیزوں اور نوجوانوں کی بہتری کے لیے تیار کی گئی ہے۔
قومی یوتھ پالیسی (NYP-2014)فروری 2014میں شروع کی گئی تھی۔ اس میں ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ایک کلی بصیرت پرزور دیا گیا تھا۔اس کا مطلب تھا ملک کے نوجوانوں کوبااختیاربنانا تاکہ وہ ساری بالقوہ صلاحیتوںکو بروئے کارلاسکیں اور ہندوستان کواس قابل بناسکیں کہ وہ اقوام عالم کے درمیان اپنا مقام بناسکے۔ اس قومی یوتھ پالیسی 2014میں 15-29سال کی عمر کے لوگوں کویوتھ کی تعریف میں لایاگیا ہے۔
حکومت ہند نے 1915میں مہارت کے فروغ اور کاراندازی (انٹرپریٹرشپ)کے لیے ایک قومی پالیسی بھی وضع کی ہے جس کا مقصد ملک میں چل رہی تمام مہارتی سرگرمیوں کے لیے ایک جامع سانچہ مہیا کرنا، ان کو مشترک معیاروں کی صف میں لانا اور مہارتوں کوطلب کے مراکزسے جوڑنا ہے۔
درج بالا مباحثہ سے ایسا لگتا ہے کہ ملک میں جگہ اور وقت کے تعلق سے آبادی کی شرح افزائش میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے اورجو افزائش آبادی سے متعلق مختلف سماجی مسائل کو اجاگر کرتاہے۔ پھر بھی افزائش آبادی کی ترتیب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آبادی کی سماجی ساخت پر غورکیا جائے۔

آبادی کی ساخت    (Population Composition)

آبادی کی ساخت یا آبادیاتی تشکیل آبادیاتی جغرافیہ کا ایک اہم جز ہے جس میں عمر، صنف، جائے پیدائش،نسلی خصوصیات، قبائلی، زبان، مذہب ، ازدواجی زندگی کی حیثیت، خواندگی، تعلیم اور پیشہ ورانہ خصوصیات وغیرہ کے بارے میں مطالعہ کیا جاتا ہے۔

دیہی– شہری ساخت (Rural–Urban Composition)

جائے رہائش کے مطابق آبادی کی تشکیل ، سماجی اور معاشی خصوصیات کا اہم اشارہ ہوتی ہے۔ جب کسی ملک کی کل آبادی کا68.8فی صدی حصہ گاؤں میں رہتا ہو تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے(2011)۔

سرگرمی


ضمیمہ(iv)اورiv Aمیں دیے گئے اعدادو شمار کا موازنہ کرتے ہوئے ہندوستانی ریاستوں کی فی صد دیہی آبادی کا حساب لگائیے اور انھیں نقشہ سازی  کے  مطابق ہندوستان کے نقشے پر دکھائیے۔

کیا آپ جانتے ہیں2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں کل640,867گاؤں ہیں جن میں سے 597,608 (93.2 فی صدی) آباد ہیں؟ پھر بھی پورے ملک میں دیہی آبادی کی تقسیم یکساں نہیں ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ بہار اورسِکم جیسی ریاستوں میں دیہی آبادی کا فی صد بہت زیادہ ہے۔ گووا اورمہاراشٹرا جیسی ریاستوں میں کل آبادی کا آدھے سے کچھ زیادہ حصہ دیہاتوں میں بستا ہے۔
دوسری طرف دادرا اور نگر حویلی (53.38فی صد) کو چھوڑ کر سبھی مرکزی ریاستوں میں دیہی آبادی کا حصہ بہت کم ہے۔دیہاتوںکی جسامت آبادی میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ شمال مشرقی ہندوستان کی پہاڑی ریاستوں ، مغربی راجستھان اور کچھ کے رن (میدان) میں یہ 200افراد سے کم اور کیرالہ و مہاراشٹرا کے کچھ حصوں میں یہ 17ہزار افراد تک پائی جاتی ہے۔ ہندوستان کی دیہی آبادی کے تقسیم کی ترتیب کا جائزہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ریاستوں کے مابین اور ریاستوں کے اندر شہر کاری اور دیہی۔ شہری نقل مکانی کی وسعت دیہی آبادی کے ارتکاز کو متعین کرتا ہے۔
آپ نے دیکھا ہے کہ ہندوستان میں دیہی آبادی کے برخلاف شہری آبادی کا تناسب 31.16 فی صد ہے جو کافی کم ہے۔تاہم پچھلی دہائیوں میں اس کی شرح کافی تیز رہی ہے۔ شہری آبادی کی شرح، معاشی ترقی، صحت اور حفظان صحت سے متعلق سہولیات کی اضافی فراہمی کی وجہ سے کافی تیز درج کی گئی ہے۔
مجموعی آبادی کی طرح شہری آبادی کی تقسیم بھی ملک میں یکساں نہیں ہے اور اس میں وسیع اختلافات پائے جاتے ہیں(ضمیمہiv-)۔

سرگرمی


ضمیمہ(iv) اورiv Aکے اعداد و شمارکاموازنہ کرئیے اور شہری آبادی کے بہت زیادہ اور بہت کم ، تناسب والی ریاستوں اور مرکزی ریاستوں کی پہچان کیجیے۔ 

پھر بھی ایسا دیکھا گیا ہے کہ تقریباً سبھی ریاستوں اور مرکزی ریاستوں میں شہری آبادی میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں سماجی اور معاشی حالت میں سدھار ہوا ہے اور گاؤں سے شہروں کی طرف، ہجرت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شمالی ہندوستان کے میدانوں میں اہم سٹرکوں اور ریل راستوں سے منسلک شہری علاقوں ، کولکاتہ ، ممبئی، بنگلور، میسور، مدورائی، کوئمبٹور، احمدآباد، سورت، دہلی، کانپوراور لدھیانہ، جالندھرکے اطراف میں صنعتی علاقوں میں دیہی– شہری ہجرت میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ زراعتی طور پر پچھڑے ہوئے درمیانی اور نچلی گنگا کے میدان، تیلنگانہ،غیر آب پاشی والے مغربی راجستھان ،دوردراز کے پہاڑی علاقے وشمال مشرق کے قبائلی علاقے، جنوبی ہندوستان کے سیلاب زدہ علاقے اور مدھیہ پردیش کے مشرقی حصہ میں مدنیت کاری کی سطح کم ہے۔

لِسانی ساخت  (Linguistic Composition)

ہندوستان مختلف زبانوں والا ملک ہے۔ گریرسن( Linguistic Survey of india 1903-1928)کے مطابق ہندوستان میں179زبانیں اور تقریباً 544 بولیاں ہیں۔ آج کے نئے ہندوستان میں18زبانیں شیڈیولڈ (1991مردم شماری) اور بہت سی زبانیں غیر شیڈیولڈہیں۔

سرگرمی


 دیکھیے کہ دس روپے کے نوٹ پر کتنی زبانیں چھپی ہیں؟
  
شیڈیولڈ زبانوں میں ہندی بولنے والوں کاتناسب سب سے زیادہ ہے۔ سنسکرت، بوڈو اورمنی پوری بولنے والے سب سے کم ہیں(2011)۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ لسانی خطوں کی حدود یقینی اور واضح نہیں ہیں بلکہ وہ آہستہ آہستہ آپس میں ملے ہوئے علاقوں میں ضم ہوجاتی ہیں۔

لسانی درجہ بندی   (Linguistic Classification)

 اہم ہندوستانی زبانوں کو بولنے والے لوگ زبان کے چارکنبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے ذیلی خاندان، شاخیں یا گروپ ہیں۔ اسے جدول1.2 سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ 

جدول  1.2  جدید ہندوستانی زبانوں کی درجہ بندی

                                               جدول1.2:جدید ہندوستانی زبانوں کیدرجہ بندی

خاندان ذیلی خاندان شاخ/گروپ علاقے جہاں بولی جاتی ہے
آسٹرک
(نشادہ)
1.38فی صد

آسٹرو۔ایشیائی
آسٹرو۔نیشین

مون کھمیر
منڈ

میگھالیہ، نکوبار جزائر
مغربی بنگال،بہار، اڑیسہ، آسام،مدھیہ،پردیش،مہاراشٹرا،بیرون ہند
دراوڑی
(دراوڑ)
20فی صد
جنوبی دراوڑی
وسطی دراوڑی
شمالی دراوڑی
تمل ناڈو، کرناٹک،کیرلا،آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش،اڑیسہ، مہاراشٹرا،بہار،مغربی بنگال
سائنو۔تبّتی
(کیراٹہ)
0.85فی صد
تبتو۔میانماری
سامی چینی
تبتو ہمالیائی 
شام آسام
آسام۔ میانماری
جموں و کشمیر، ہماچل پردیش ، سکّم، اروناچل پردیش،آسام ناگالینڈ،منی پور، میزورم،تری پورہ،میگھالیہ
ہند یورپی
(آریائی)
73فی صد
ہند آریائی ایرانی
ڈارڈک
ہند آریائی
بیرون ہند
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پنجاب ، ہماچل پردیش،اتر پردیش،راجستھان،ہریانہ،مدھیہ پردیش،بہار، اڑیسہ،مغربی بنگال،آسام،گجرات،مہاراشٹر، گووا

5268-10

ماخذ: احمد،اے۔(1999)Social Geography،راوت پبلیکیشن، نئی دہلی

مذہبی ساخت   (Religious Composition)

ہندوستانیوں کی ثقافتی اور سیاسی زندگی پر اثر اندازہونے والی طاقتوں میں مذہب سب سے اہم ہے۔چونکہ مذہب سبھی کی گھریلو اور سماجی زندگی کے تقریباً ہر پہلو میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے لہٰذا مذہب کی ساخت کا تفصیلی مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
ملک میں مذہبی فرقوں کی مکانی تقسیم(ضمیمہ۔v) سے ظاہر ہے کہ کچھ ریاستوں اور اضلاع میں ایک مذہب کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ اسی کی تعداد دوسری ریاستوں میں نہیں کے برابر ہے۔
ہندبنگلہ دیش اور ہندوپاک کے سرحدی علاقوں، جموںو کشمیر ، شمال مشرق کی پہاڑی ریاستوں اور دکن کے پٹھارکے کچھ پھیلی علاقوں اور گنگا کے میدان کے چُنندہ علاقوں کو چھوڑ کر ہندو بہت سی ریاستوں میں ایک بڑے گروہ کی شکل میں پھیلے ہوئے (70-90فی صد اور اس سے زیادہ)ہیں۔
مسلمان ،جو کہ سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں، جموںو کشمیر، مغربی بنگال کے کچھ اضلاع اور کیرلا ، اترپردیش کے کئی اضلاع، دلی اور اس کے نواح اورلکش دیپ میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ وادی کشمیر اورلکشدیپ میں یہ اکثریت میں ہیں۔

سرگرمی


 جدول1.2کو دیکھیے اور ہر لسانی طبقے کا حصہ دکھاتے ہوئے ہندوستان کی زبانی ساخت کا ایک پائی ڈائیگرام تیارکیجیے۔

یا
کیفیتی اشاروں (qualitative symbol) کی مدد سے ہندوستان کے مختلف لسانی گروہوں کی تقسیم کو نقشے پر دکھائیے۔


عیسائی آبادی زیادہ تر ملک کے دیہی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان کے مخصوص علاقوںمیں مغربی ساحل پر گووا اور کیرلا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میگھالیہ، میزورم اور ناگالینڈ کی پہاڑی ریاستیں، چھوٹا ناگپور اور منی پور کی پہاڑیوں میں بھی عیسائی آبادی پائی جاتی ہے۔
زیادہ تر سکھ آبادی ملک کے نسبتاً چھوٹے علاقے ، خاص کر پنجاب، ہریانہ اور دہلی میں ہی ہے۔

5268-11


مذہبی گروہ 2011
آبادی
( ملین میں) 
کل آبادی کا فی صد
ہندو 
مسلم
عیسائی
سکھ
بودھ 
جین
دیگر
966.3
172.2
27.8
20.8
8.4
7.9
2.9
79.8
14.2
2.3
1.7
0.4
0.7
0.2

ہندوستان کے سب سے چھوٹے مذہبی فرقے جین اور بودھ ملک کے گنے چنے حصو ںمیں ہی ہیں ۔ جین فرقے کے لوگ خاص کر راجستھان کے شہری علاقوں،گجرات اور مہاراشٹرا میں ہی رہتے ہیں جب کہ زیادہ تر بودھ مہاراشٹرا میں آباد ہیں۔سکم ،اروناچل پردیش ،جموں و کشمیر میں لداخ، ترپیورا، اور ہماچل پردیش میں لاہل اور سپستی، بودھ اکثریت والے دیگر علاقے ہیں۔

آبادی ملین 

مذہب اور خشکی کے مناظر

خشکی کے مناظرپر مذاہب کا سطح اظہار متبرک عمارتوں قبرستانوں، نباتات اورحیوانات کی اجتماعیت اور مذہبی مقاصد کے لیے پیڑوں کے جھُرمٹ کی شکل میں ہے متبرک عمارتیں اور مقامات سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ گاؤں کے گم نام مزارسے لے کر عظیم ہندومندروں، یادگارمساجدیا خوبصورت نقاشی سے مزئین گرجاگھر تک ہوسکتے ہیں۔یہ مندر، مساجد،گرودوارے اور گرجا گھر جسامت ، شکل، جگہ، استعمال اور تعداد میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

ہندوستان کے دیگر مذاہب میں پارسی، قبائلی اور دیگر مقامی عقائد شامل ہیں۔ یہ طبقے چھوٹے گروہوں کی شکل میں تمام ملک میں بکھرے ہوئے ہیں۔

کارکن آبادی کی ساخت

(Composition of Working Population)

معاشی حیثیت کے اعتبار سے ہندوستان کی آبادی کوتین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن کے نام ہیں: اصل کامگار، حاشیہ بردار کامگار اور غیرکامگار۔


 مردم شماری کی معیاری تعریف

اصل کامگار (Main Worker )وہ ہے جو پورے سال میں کم ازکم 183دن کا م کرتا ہو۔ 
  حاشیہ کامگار(Marginal Worker) وہ ہے جو پورے سال میں 183دن (یا چھ مہینے)سے کم کام کرتا ہو۔

ایسا دیکھا گیا ہے کہ ہندوستان میں کل کامگاروں(خاص کارمگار اور حاشیہ برادار کامگار) کی مجموعی تعداد صرف39.8فی صد ہے (2011) جب کہ 60فی صد غیر کامگار ہیں یہ ایک ایسی معاشی حالت کو اجاگر کرتا ہے جس میں آبادی کا بڑا حصہ دوسروں پر منحصر ہے۔ یہ اس بات کا مظہرہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعدادیاتو وقتی کارکناں کی ہے یابے روزگارلوگوں کی ہے۔

 کام کی شرح شمولیت سے کیا مراد ہے؟

ہندوستان کی ریاستوں اور مرکزی ریاستوں میں کام گاروں کی آبادی کے تناسب میں معمولی تغیرپایا جاتا ہے، یہ تغیر گوامیں تقریباً 39.6فی صد سے دمن اور دیو میں تقریباً49.9 فی صد تک ہے۔ہماچل پردیش ،سکم، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش ،کرناٹک، اروناچل پردیش ،ناگالینڈ، منی پور اور میگھالیہ میں کام گاروں کا فی صد دوسری ریاستوں سے نسبتاً زیادہ ہے۔ جب کہ مرکزی ریاستوں میں دادرا اور نگر حویلی، دمن اوردیو میں شرح شمولیت زیادہ ہے۔ عام طور پر ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں کم ترمعاشی ترقی والے علاقوں میں کارکنوں کی شرح شمولیت زیادہ ہے کیونکہ بقاکے لیے معاشی سرگرمی کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ مزدورں کی ضرورت پڑتی ہے۔

 پیشہ ورانہ تشکیل سے مراد کسی فرد کے زراعت، صنعت وتجارت یا کسی بھی قسم کی خدمات یا پیشہ ورانہ کام میں لگے ہونے سے ہے۔ہندوستان کی پیشہ ورانہ تشکیل (باکس دیکھیں) ثانوی یا ثالثی شعبہ کے مقابلے میں ابتدائی شعبہ کے کام گاروں کے ایک بڑے تناسب کو ظاہر کرتی ہے ۔کل کام گاروں کی تعداد کا تقریباً 54.6فی صد کسان او رجب کہ صرف3.8 فی صد کام گار گھریلو صنعت میں لگے ہوئے ہیں اور 41.6 فی صد دوسرے کام گار ہیں جو دوسری غیر گھریلو صنعتوں ،تجارت،تعمیرو مرمت اور دیگر دوسری خدمات میںمصروف ہیں۔ جہاں تک ملک میں مردوں اور عورتوں کے پیشے کا سوال ہے تینوں شعبوں میں مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہے۔ (جدول1.4 شکل1.4)


پیشے کے اعتبار سے کام گاروں

کی درجہ بندی
2011 کی مردم شماری نے ہندوستان کی کام گار آبادی کو چار مخصوص حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
کسان یا کاشت کار
زراعتی مزدور
گھریلو صنعتی کامگار
دیگر کامگار

ابتدائی شعبہ میں عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ حال کے برسوں میں ثانوی اور ثالثی شعبوں میں بھی عورتوں کی حصہ داری میں کچھ بہتری ہوئی ہے۔
5268-6

’بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ‘ سماجی مہم کے ذریعہ صنفی حساسیت کوفروغ دینا

مرد،عورت، صنف ثالث (Transgender)میں سماج کی تقسیم کوفطری اور حیاتیاتی خیال کیا جاتاہے۔لیکن حقیقت میں یہ سماجی ترتیب ہے اورافراد کوعطاکردہ کردارمیں جن کوسماجی ادارے تقویت پہنچاتے ہیں،نتیجتاً یہ حیاتیاتی اختلافات سماجی امتیازات ،بھیدبھاؤاورعلیحدگی کی اساس بن جاتے ہیں۔ تقریباً آدھی آبادی کی علیحدگی کسی بھی مہذب اور ترقی پذیر سماج کی ایک سنجیدہ معذوری ہے۔ یہ ایک عالمی چیلنج ہے جس کا اعتراف UNDPنے بھی کیا ہے۔

عمومی بھیدبھاؤ اورخاص طورپرصنفی بھیدبھاؤ تمام انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔ تعلیم ،روزگار ،سیاسی نمائندگی، ایک ہی قسم کے کام کے لیے کم مزدوری اورایک باوقار زندگی گذارنے کے استحقاق جیسے مواقع کی محرومی کودورکرنے کی تمام کوششیں کرنی چاہئیں۔ جوسماج اس بات کو نظرانداز کرتاہے اور اس طرح کے امتیازات کودورکرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتا تو ایسے سماج کومہذب ماناجاسکتا۔حکومت ہند نے ایسے امتیازات ناخوشگوار اثرات کومحسوس کیا ہے اور’’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘‘جیسی مہم کوشروع کیا ہے۔

 سرگرمی


ایک ہندوستان کے لیے اور دوسرا اپنے صوبے کے لیے ایک کمپوزٹ بارگراف بنائیے اور اس میں مرداور عورت کامگار جو زراعت، گھریلو صنعت اور دیگر شعبوں سے منسلک ہیں ان کے تناسب کودکھائیے اور موازنہ بھی کیجیے


قابل غور بات یہ ہے کہ پچھلی کچھ دہائیوں میں ہندوستان میں زراعت کے شعبہ میں کارکنوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے (2001میں 58.2%سے گھٹ کر2011میں54.6%) اس کا اثر یہ ہوا کہ ثانوی اور ثالثی شعبوں کی شرح شراکت میں اضافہ ہوا جویہ ظاہر کرتاہے کہ ملک کے کارکنوں کا انحصار زراعت اور اس سے جڑے ہوئے کاموں سے ہٹ کر غیرزراعتی کاموں پر بڑھا ہے۔ یہ اس بات کا مظہرہے کہ شعبوں کے حوالہ سے ملک کی معیشت میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
ملک کے مختلف معاشی شعبوں کی شرح شرکت میںوسیع تر مکانی تغیر پایا جاتا ہے (ضمیمہ V-)۔مثال کے طورپر ہماچل پردیش اور ناگالینڈ جیسی ریاستیں ہیں جہاں کاشتکاروں کی تعداد زیادہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف آندھرا پردیش، اڑیسہ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش میں زرعی  مزدوروں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ دہلی ، چنڈی گڑھ اور پانڈیچیری جیسے زیادہ شہری آبادی والے علاقوں میں دیگر خدمات میں لگے ہوئے کام گاروں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ نہ کی صرف زراعت کے لیے زمین کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر شہر کاری اور صنعت کاری کی وجہ سے غیرزرعی شعبوں میں کامگاروں کی زیادہ ضرورت ہے۔


درجات کل آبادی
افراد کل کامگاروں کا فی صد مرد عورتیں
ابتدائی ثانوی ثالثی 26,30,22,473
1,83,36,307
20,03,84,531
54.6
3.8
41.6
16,54,47,075
97,75,635
15,66,43,220
9,75,75,398
85,60,672
4,37,41,311

                    جدول6.4:ہندوستان میں قوتِ عمل(Work force)کی شعبہ جاتی تشکیل،2011

1.1111111111111
5268-8

مشقیں

.1 مندرجہ ذیل سوالوں کے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
2011  (i)کی مرم شماری کے مطابق ہندوستان کی آبادی ہے:
(a) 1028 کروڑ (b) 3182کروڑ
(c) 3287کروڑ (d) 1210کروڑ
(ii) مندرجہ ذیل میں ہندوستان کی کس ریاست میں آبادی کی کثافت سب سے زیادہ ہے؟
(a) مغربی بنگال (b) کیرالا
(c) اترپردیش (d) پنجاب
(iii) 2011 کی مردم شماری کے مطابق ذیل کی کس ریاست میں شہری آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے؟
(a) تمل ناڈو (b) مہاراشٹر
(c) کیرالا (d) گوا
(iv) مندرجہ ذیل میں ہندوستان کا سب سے بڑالسانی فرقہ کون سا ہے؟
(a) سائنو۔تبتی (b) آسڑک
(c) ہندآریائی (d) دراویڈی
.2 مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30الفاظ میں لکھیے۔
(i) ہندوستان کے بہت گرم اورخشک اور بہت سرد اور نم علاقوں میں آبادی کی کثافت بہت کم ہے ۔ اس بیان کی روشنی 
میں تقسیم آبادی پر آب وہوا کے اثرات کو بیان کیجیے۔
(ii) ہندوستان کی کن ریاستوں میں آبادی کا بڑا حصہ دیہی ہے۔اتنی بڑی دیہی آبادی کی کوئی ایک وجہ لکھیے۔
(iii) ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں دوسری ریاستوں کے مقابل شرح شرکت کامگار زیادہ کیوں ہے؟
(iv) زراعتی شعبہ میں ہندوستانی کام گاروں کی سب سے زیادہ حصہ داری ہے۔وضاحت کیجیے۔
مندرجہ ذیل سوالوں کے جوا ب تقریباً 150الفاظ میں لکھیے۔
(i) علاقائی تقسیم کے لحاظ سے ہندوستان کی آبادی کی کثافت سے متعلق بحث کیجیے۔
(ii)     ہندوستان کی آبادی کی پیشہ وارانہ تشکیل کا جائزہ لیجیے۔