اکائی I
باب1
آبادی تقسیم، کثافت، افزائش اور ساخت

ہندوستان کا خیال آتے ہی آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ کیا یہ محض ایک خطہ ہے؟ کیا یہ لوگوں کے آپسی تعلق کو ظاہر کرتا ہے؟ کیا یہ مخصوص نظام کے تحت رہ رہے لوگوں سے بساہوا ایک خطہ ہے؟
آبادی کے اعدادوشمار کے ذرائع
ہمارے ملک میں آبادی کے اعداد وشمار ہر دس سال کے بعد مردم شماری کے ذریعے اکٹھا کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں پہلی مردم شماری 1872میں ہوئی تھی، لیکن پہلی مکمل مردم شماری 1881میں ہوئی تھی۔
آبادی کی تقسیم (Distribution of Population)

تصویر1.1:ہندوستان۔آبادی کی تقسیم
سرگرمی
بڑے رقبہ لیکن کم آبادی والے صوبے⁄ مرکزی علاقے
کم رقبہ لیکن بڑی آبادی والے صوبے⁄ مرکزی علاقے
آبادی کی کثافت(Density of Population)

عضویاتی کثافت= مجموعی آبادی/ خالص پیداوارکا رقبہ
زراعتی کثافت= مجموعی زراعتی آبادی/خالص پیداوارکا رقبہ
زرعی آبادی میں کسان او ر زراعتی مزدور اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔
سرگرمی
| مردم شماری سال | کل آبادی | شرح افزائش* | |
|---|---|---|---|
| حقیقی تعداد | فی صد افزائش | ||
| 1901 1911 1921 1931 1941 1951 1961 1971 1981 1991 2001 **2011 |
238396327 252093390 251321213 278977238 318660580 361088090 439234771 548159652 683329097 846302688 1028610328 1210193422 |
---------- 13697063(+) 772117(-) 27656025(+) 39683342(+) 42420485(+) 77682873(+) 108924881(+) 135169445(+) 162973591(+) 182307640(+) 181583094(+) |
--------- 5.75(+) 0.31(-) 11.60(+) 14.22(+) 13.31(+) 21.51(+) 24.80(+) 24.66(+) 23.85(+) 21.54(+) 17.64(+) |
جدول1.1:ہندوستان کی دس سالہ شرح افزائش،1901.2011

افزائش آبادی (Growth of Population)
کسی علاقے میں مخصوص مدت میں باشندوں کی تعداد میں تبدیلی کو افزائش آبادی کہتے ہیں۔اس کی شرح کو فی صد میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ افزائش آبادی کے دواہم جزہوتے ہیں۔ قدرتی اور ترغیبی – قدرتی افزائش کا تعین خام شرح پیدائش اور شرح اموات سے کیا جاتا ہے۔ ترغیبی اجزا کا تعین علاقے میں رہنے والے لوگوں کے اندرونی وبیرونی نقل مکانی کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ تاہم اس سبق میں ہم صرف ہندوستان کی قدرتی افزائش آبادی کامطالعہ کریں گے۔
ہندوستان میں افزائش آبادی کی دس سالہ اور سالانہ دونوں شرحیں بہت زیادہ ہیں اورجو وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہیں۔ ہندوستان کی سالانہ شرح افزائش 2.4 فی صد ہے۔ افزائش کی اس شرح سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اگلے 36سالوں میں ملک کی آبادی دوگنی ہوجائے گی یہاں تک کہ چین کی آبادی کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
آبادی کے دوگنا ہونے کی مدت
آبادی کے دوگنا ہونے کی مدت سے مراد موجودہ سالانہ شرح افزائش سے کسی بھی آبادی کے دوگنا ہونے میں لگنے والا وقت ہے۔

پہلا مرحلہ :
دوسرا مرحلہ:
تیسرا مرحلہ :
چوتھا مرحلہ:
افزائش آبادی کا علاقائی تغیر (Regional Variation in Population Growth)
سرگرمی
آبادی کی ساخت (Population Composition)
دیہی– شہری ساخت (Rural–Urban Composition)
سرگرمی
سرگرمی
لِسانی ساخت (Linguistic Composition)
سرگرمی
لسانی درجہ بندی (Linguistic Classification)
جدول 1.2 جدید ہندوستانی زبانوں کی درجہ بندی
| خاندان | ذیلی خاندان | شاخ/گروپ | علاقے جہاں بولی جاتی ہے |
| آسٹرک (نشادہ) 1.38فی صد |
آسٹرو۔ایشیائی آسٹرو۔نیشین |
مون کھمیر منڈ |
میگھالیہ، نکوبار جزائر مغربی بنگال،بہار، اڑیسہ، آسام،مدھیہ،پردیش،مہاراشٹرا،بیرون ہند |
| دراوڑی (دراوڑ) 20فی صد |
جنوبی دراوڑی وسطی دراوڑی شمالی دراوڑی |
تمل ناڈو، کرناٹک،کیرلا،آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش،اڑیسہ، مہاراشٹرا،بہار،مغربی بنگال | |
| سائنو۔تبّتی (کیراٹہ) 0.85فی صد |
تبتو۔میانماری سامی چینی |
تبتو ہمالیائی شام آسام آسام۔ میانماری |
جموں و کشمیر، ہماچل پردیش ، سکّم، اروناچل پردیش،آسام ناگالینڈ،منی پور، میزورم،تری پورہ،میگھالیہ |
| ہند یورپی (آریائی) 73فی صد |
ہند آریائی | ایرانی ڈارڈک ہند آریائی |
بیرون ہند جموں و کشمیر جموں و کشمیر پنجاب ، ہماچل پردیش،اتر پردیش،راجستھان،ہریانہ،مدھیہ پردیش،بہار، اڑیسہ،مغربی بنگال،آسام،گجرات،مہاراشٹر، گووا |
مذہبی ساخت (Religious Composition)
سرگرمی
جدول1.2کو دیکھیے اور ہر لسانی طبقے کا حصہ دکھاتے ہوئے ہندوستان کی زبانی ساخت کا ایک پائی ڈائیگرام تیارکیجیے۔
یا
کیفیتی اشاروں (qualitative symbol) کی مدد سے ہندوستان کے مختلف لسانی گروہوں کی تقسیم کو نقشے پر دکھائیے۔

| مذہبی گروہ | 2011 | |
|---|---|---|
| آبادی ( ملین میں) |
کل آبادی کا فی صد | |
| ہندو مسلم عیسائی سکھ بودھ جین دیگر |
966.3 172.2 27.8 20.8 8.4 7.9 2.9 |
79.8 14.2 2.3 1.7 0.4 0.7 0.2 |
ہندوستان کے سب سے چھوٹے مذہبی فرقے جین اور بودھ ملک کے گنے چنے حصو ںمیں ہی ہیں ۔ جین فرقے کے لوگ خاص کر راجستھان کے شہری علاقوں،گجرات اور مہاراشٹرا میں ہی رہتے ہیں جب کہ زیادہ تر بودھ مہاراشٹرا میں آباد ہیں۔سکم ،اروناچل پردیش ،جموں و کشمیر میں لداخ، ترپیورا، اور ہماچل پردیش میں لاہل اور سپستی، بودھ اکثریت والے دیگر علاقے ہیں۔
مذہب اور خشکی کے مناظر
خشکی کے مناظرپر مذاہب کا سطح اظہار متبرک عمارتوں قبرستانوں، نباتات اورحیوانات کی اجتماعیت اور مذہبی مقاصد کے لیے پیڑوں کے جھُرمٹ کی شکل میں ہے متبرک عمارتیں اور مقامات سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ گاؤں کے گم نام مزارسے لے کر عظیم ہندومندروں، یادگارمساجدیا خوبصورت نقاشی سے مزئین گرجاگھر تک ہوسکتے ہیں۔یہ مندر، مساجد،گرودوارے اور گرجا گھر جسامت ، شکل، جگہ، استعمال اور تعداد میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
ہندوستان کے دیگر مذاہب میں پارسی، قبائلی اور دیگر مقامی عقائد شامل ہیں۔ یہ طبقے چھوٹے گروہوں کی شکل میں تمام ملک میں بکھرے ہوئے ہیں۔
کارکن آبادی کی ساخت
(Composition of Working Population)
معاشی حیثیت کے اعتبار سے ہندوستان کی آبادی کوتین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن کے نام ہیں: اصل کامگار، حاشیہ بردار کامگار اور غیرکامگار۔
مردم شماری کی معیاری تعریف
اصل کامگار (Main Worker )وہ ہے جو پورے سال میں کم ازکم 183دن کا م کرتا ہو۔
حاشیہ کامگار(Marginal Worker) وہ ہے جو پورے سال میں 183دن (یا چھ مہینے)سے کم کام کرتا ہو۔
ایسا دیکھا گیا ہے کہ ہندوستان میں کل کامگاروں(خاص کارمگار اور حاشیہ برادار کامگار) کی مجموعی تعداد صرف39.8فی صد ہے (2011) جب کہ 60فی صد غیر کامگار ہیں یہ ایک ایسی معاشی حالت کو اجاگر کرتا ہے جس میں آبادی کا بڑا حصہ دوسروں پر منحصر ہے۔ یہ اس بات کا مظہرہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعدادیاتو وقتی کارکناں کی ہے یابے روزگارلوگوں کی ہے۔
کام کی شرح شمولیت سے کیا مراد ہے؟
ہندوستان کی ریاستوں اور مرکزی ریاستوں میں کام گاروں کی آبادی کے تناسب میں معمولی تغیرپایا جاتا ہے، یہ تغیر گوامیں تقریباً 39.6فی صد سے دمن اور دیو میں تقریباً49.9 فی صد تک ہے۔ہماچل پردیش ،سکم، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش ،کرناٹک، اروناچل پردیش ،ناگالینڈ، منی پور اور میگھالیہ میں کام گاروں کا فی صد دوسری ریاستوں سے نسبتاً زیادہ ہے۔ جب کہ مرکزی ریاستوں میں دادرا اور نگر حویلی، دمن اوردیو میں شرح شمولیت زیادہ ہے۔ عام طور پر ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں کم ترمعاشی ترقی والے علاقوں میں کارکنوں کی شرح شمولیت زیادہ ہے کیونکہ بقاکے لیے معاشی سرگرمی کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ مزدورں کی ضرورت پڑتی ہے۔
پیشہ ورانہ تشکیل سے مراد کسی فرد کے زراعت، صنعت وتجارت یا کسی بھی قسم کی خدمات یا پیشہ ورانہ کام میں لگے ہونے سے ہے۔ہندوستان کی پیشہ ورانہ تشکیل (باکس دیکھیں) ثانوی یا ثالثی شعبہ کے مقابلے میں ابتدائی شعبہ کے کام گاروں کے ایک بڑے تناسب کو ظاہر کرتی ہے ۔کل کام گاروں کی تعداد کا تقریباً 54.6فی صد کسان او رجب کہ صرف3.8 فی صد کام گار گھریلو صنعت میں لگے ہوئے ہیں اور 41.6 فی صد دوسرے کام گار ہیں جو دوسری غیر گھریلو صنعتوں ،تجارت،تعمیرو مرمت اور دیگر دوسری خدمات میںمصروف ہیں۔ جہاں تک ملک میں مردوں اور عورتوں کے پیشے کا سوال ہے تینوں شعبوں میں مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہے۔ (جدول1.4 شکل1.4)
پیشے کے اعتبار سے کام گاروں
کی درجہ بندی
2011 کی مردم شماری نے ہندوستان کی کام گار آبادی کو چار مخصوص حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
1۔ کسان یا کاشت کار
2۔ زراعتی مزدور
3۔ گھریلو صنعتی کامگار
4۔ دیگر کامگار

’بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ‘ سماجی مہم کے ذریعہ صنفی حساسیت کوفروغ دینا
سرگرمی
| درجات | کل آبادی | |||
|---|---|---|---|---|
| افراد | کل کامگاروں کا فی صد | مرد | عورتیں | |
| ابتدائی ثانوی ثالثی | 26,30,22,473 1,83,36,307 20,03,84,531 |
54.6 3.8 41.6 |
16,54,47,075 97,75,635 15,66,43,220 |
9,75,75,398 85,60,672 4,37,41,311 |


