Skip to content
Awamaurmaishat-002

اکائی I

باب 2

نقل مکانی اقسام ، اسباب اور نتائج

68-2-2
چھتیس گڑھ کے بھلائی اسپات کارخانے میں انجینئرکے طور پر کام کررہے رام  بابو کی پیدائش بہار کے بھوجپور ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی تھی۔ بارہ سال کی عمر میں سینئر سیکنڈری کی تعلیم مکمل کر نے کے لیے وہ پڑوسی قصبہ آرا چلے گئے ۔وہ  انجینئرنگ کی ڈگری کے لیے سندری (جھار کھنڈ )  گئے اور بعد میں انھیں بھلائی میں نوکری مل گئی ، جہا ں وہ پچھلے 31سال سے رہ رہے ہیں۔ اُ ن کے والدین ناخواندہ تھے اور ان کااکلوتہ ذریعہ ٔ معاش کھیتی سے ہونے والی معمولی آمدنی تھی۔ اُنھوں نے اپنی ساری زندگی اُسی گاؤں میں گزاری تھی۔
رام بابو کے تین بچے ہیں۔ جنھوں نے سینئرسیکنڈری تک کی تعلیم بھلائی میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف مقامات پر گئے۔ پہلے بچے نے اِلہٰ آباد اورممبئی میں تعلیم حاصل کی اور آج کل دہلی میں ایک سائنسداں کے طور پر کام کر رہاہے۔ دوسرے بچے (لڑکی) نے اعلیٰ تعلیم ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے حاصل کی ہے اوراب وہ امریکہ میں کام کر رہی ہے ۔ تیسری اپنی پڑھائی پوری کرکے شادی کے بعدسورت میں آباد ہوگئی۔
یہ کہانی اکیلے رام بابو اور اُن کے بچوں کی ہی نہیں ہے بلکہ اس طرح کی نقل مکانی کے رجحانات عام ہوگئے ہیں۔ لوگ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں، گاؤں سے قصبوں، چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں آجارہے ہیں ۔
اپنی کتاب ’’انسانی جغرافیہ کے مبادیات ‘‘ میں آپ نقل مکانی کے تصوراور تعریف کو پہلے ہی سمجھ چکے ہیں ۔نقل مکانی وقت اور جگہ کے اعتبار سے آبادی کی تقسیم نوکا ایک بہت ہی اہم جزہے۔ ہندوستان کی تاریخ وسطی ایشیا، مغربی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے نقل مکانی کر نے والوں کی گواہ ہے۔ دراصل ہندوستان کی تاریخ نقل مکانی کر کے آنے والو ںکی ایک تاریخ ہے جو ایک کے بعد ایک آکر ملک کے مختلف حصوں میں بستے چلے گئے۔ مشہور شاعر فراقؔ گورکھپوری نے اسے کچھ اس طرح بیان کیا ۔
رہی ہے۔
’’سر زمین ِ ہند پر اقوامِ عالم کے فرؔاق 
  کارواں بستےگئے، ہندوستاں بنتا گیا‘‘
(دنیا کے سبھی خطوں سے لوگوں کے کارواں ہندوستان میں آتے رہے، بستے رہے اور اسی سے ہندوستان بنا)
اِسی طرح ہندوستان سے بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں مختلف علاقوں خاص کرمشرقِ وسطیٰ اور مغربی یوروپ، امریکہ، آسٹریلیااور جنوب مشرقی ایشیا کوہجرت کرتے رہے۔


ہندوستانی نقل مکانی


نوآبادیات (برطانوی دور حکومت) میں انگریزوں نے اُترپردیش اور بہار سے مندرج کار کنا ن ماریشش، کیریبین جزائر (ٹرینیڈاڈ،ٹوبیگو، اورگیانا )، فجی اور جنوبی افریقہ ؛ فرانسیسوں اور ڈچ نے ری یونین جزیرہ گوائڈِ لوپ ، مارٹینیک ، اور سوری نام میں؛ پُر تگالیوں نے گووا، دمن اور دیپ سے انگولہ ، موزامبک ودیگر ممالک کو لاکھوں مزدور باغاتی زراعت کے لیے بھیجا تھا ۔ ایسے سبھی ترک وطن کرنے والے امیگریشن ایکٹ (Indian Emigration Act)کے تحت آتے تھے۔ اِس ایکٹ کے مطابق لوگ ایک معینہ مدّت کے لیے ٹھیکے پرکام کرتے تھے۔لیکن اِن ٹھیکے کے مزدوروں کی زندگی غلاموں سے بدترتھی۔

نقل مکانی کی دوسری لہر میں موجودہ دور میں بہت سے لوگ پیشہ وروں ، تاجروں اور فیکٹری مزدوروں کے طور پر بہتر معاش کے مواقع کی تلاش میں پڑوسی ممالک جیسے تھائی لینڈ ، سنگاپور، انڈونیشیا ، برونئی وغیرہ گئے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ 1970کی دہائی میں مغربی ایشیا میں بڑے پیمانے پر معدنی تیل کی دستیابی کی وجہ سے ماہر اور غیرہنرمند اور نیم ہُنرمند مزدوروں کی ہندوستان سے بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی۔ اس کے علاوہ کچھ صنعت کاروں ، گودام مالکوں ، پیشہ وروںاور تاجروں نے بھی مغربی ممالک کے لیے ہجرت کی۔

 نقل مکانی کی تیسری لہر (1960کے بعد) میں ڈاکٹر ، انجینئراور 1980 کے بعد کے عرصے میں مشیرانتظامات، ماہرمالیات، سافٹ ویئر انجینئراور ذرائع ابلاغ سے جڑے لوگ شامل ہیں جنھوں نے امریکہ، کناڈا، برطانیہ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، اور جرمنی وغیرہ کی طرف ہجرت کی۔اِ ن پیشہ وروں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ ، بہت زیادہ کمائی کرنے والے اور کامیاب ترین لوگوں میں شمار ہونے کا بھرپور مزہ لیا۔فراخد لانہ پالیسی (liberalisation) کے نفاذ کے بعد 90کی دہائی میں تعلیم اور واقفیت کی بنیاد پرہندوستان سے ترک وطن کرنے والوں نے ہندوستانی نقل مکانی ) (Indian Diaspora کو دنیا کا سب سے طاقتور نقل مکانی گروہ بنادیا۔
ان تمام ممالک کی ترقی میں ہندوستانی نقل مکانی اہم کردار بخوبی نبھا رہی ہے ۔  


نقل مکانی(Migration) 

 آپ ہندوستان کی مردم شماری سے پہلے ہی متعارف ہو چکے ہیں ۔ اس میں ملک کے نقل مکانی سے متعلق معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔ در حقیقت نقل مکانی سے متعلق معلومات پہلی مردم شماری (1881)میں ہی درج ہونا شروع ہوگئیں تھیں۔ ان اعدا د کو جائے پیدائش کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا ۔ لیکن 1961کی مردم شماری میں پہلی بڑی تبدیلی کی گئی جس کے مطابق جائے پیدائش یعنی گاؤں یا شہر (ii) قیام کی مد ّت (اگر جائے پیدائش کہیں اور ہے)کو شامل کیا گیا۔اس کے بعد 1971کی مردم شماری میں پچھلی جائے قیام اور جائے مردم شماری میں قیام کی مدّت کو بھی شامل کیا گیا ۔نقل مکانی کی وجوہات سے متعلق معلومات کو 1981کی مردم شماری میں شامل کیا گیا ہے نیزبعد کی مردم شماریوں میں اور بھی تبدیلیاں ہوتی رہیں:
 مردم شماری میں نقل مکانی سے متعلق مندجہ ذیل سوالات پوچھے جاتے ہیں :
کیافرد اسی گاؤں یا شہر میں پیدا ہوا ہے؟اگر نہیں تو جائے پیدائش کی شہری/دیہی حیثیت ،ضلع اور ریاست کا نام اور اگر جائے پیدائش ہندوستان سے باہر ہے تو اس ملک کے نام سے متعلق دیگر معلومات درج کی جاتی ہیں۔
کیا فرداس گاؤں یا شہر میں کہیں اور سے آیا ہے؟ اگر ہاں تو پہلے جائے قیام ( گاؤں یا شہر ) ضلع اور ریاست کانام اور اگر پیدائش ہندوستان کے باہرکی ہے تو ملک کے نام پر سوالات پوچھے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ پچھلی جائے قیام سے منتقل ہونے کی وجوہات اور مردم شماری کی جگہ قیام مدت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
ہندوستان کی مردم شماری میں نقل مکانی کا تعین دو بنیادوں پر کیا جا تا ہے: (i)جائے پیدائش ، اگر جائے پیدائش مردم شماری کی جگہ سے مختلف ہے (اسے تازندگی نقل مکانی کے نام سے جانا جاتا ہے) ۔ (ii)جائے قیام، اگر پچھلی جائے سکونت مردم شماری کی جگہ سے الگ ہے (اِسے پچھلی جائے سکونت کے حوالہ سے مہاجرمانا جاتا ہے) ۔کیاآپ ہندوستان کی آبادی میں نقل مکانی کرنے والوں (مہاجروں) کی تعدادکوتصور کرسکتے ہیں؟ 2001کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل 1,029کروڑ آبادی میں سے 307کروڑ (30فی صد) کو اپنی جائے پیدائش سے دورہنے کی بنیاد پرمہاجر مانا گیا ہے اگر چہ پچھلے جائے قیام کی بنیاد پر یہ تعداد 315کروڑ (31فی صد ) ہے۔

سرگرمی


نقل مکانی کر نے والوں کے حالات معلوم کر نے کے لیے اپنے پڑوس کے پانچ گھروں کا سروے کریں ۔ اگرمہاجر ہیں تودی گئی دو کسوٹیوں کی بنیاد پران کی درجہ بندی کریں۔


68-2-3


شکلa)2.1):آخری جائے قیام کیبنیاد پر ریاستوں کے مابین رود و نقل مکانی(0-9سال کی مدت) ہندوستان،2001
شکلb) 2.1):آخری جائے قیام کی بنیادپردرون ریاست رودِ نقل مکانی (0-9سال کی مدت) ہندوستان،2001
سرگرمی

شکل  2.1 a   2.1 b میں درون صوبہ اور بیرون صوبہ ہونے والی ہجرت 2001 کے اعداد وشمار کی بنیاد پر دکھائی گئی ہے۔ان کا تجزیہ کیجیے اور معلوم کیجیے کہ؛
(i) دونوں اشکال میں گاؤں سے گاؤں کو نقل مکانی کرنے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ کیوں ہے؟
(ii) گاؤں سے شہروں کی طرف نقلِ مکانی کرنے والوں میں مردوں کی تعداد کیوں زیادہ ہے؟

نقل مکانی کے بہاؤ (Streams of Migration) 


درونِ ملک نقل مکانی (ملک کے اندر ) اور بین الاقوا می نقل مکانی (ملک کے باہر اور دوسرے ممالک سے ملک کے اندر ) سے متعلق کچھ حقائق یہاں دیے جا رہے ہیں۔ درونِ ملک نقل مکانی کے تحت چار لہروں کی پہچان کی گئی ہے: 
(a) گاؤں سے گاؤں (R-R)؛ (b) گاؤں سے شہر (R-U)؛ (c)شہرسے شہر (U-U)؛اور (d) شہر سے گاؤں(U-R) ۔ ہندوستان میں 2001کے دوران پچھلی جائے سکونت کی بنیاد پر مشتمل 315کروڑ نقل مکانی کرنے والوں میں سے 98کروڑ نے پچھلے دس سالوں میں اپنی سکونت تبدیل کی ہے۔جن میں سے 81کروڑ لوگوں نے درون ملک جائے سکونت تبدیل کی۔ نقل مکانی کی اس لہر میں خواتین کی تعداد زیادہ رہی۔ان میں سے بیشتر شادی کے بعد اپنی جائے پیدائش سے منتقل ہوئی تھیں۔
درونِ ریاست اور ریاستوں کے مابین ہونے والی ہجرت کی مختلف لہروں میں عورتوں اور مردوں کی تعداد کو تصویر2.1(a) اور2.1(b) میں دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طرح کی کم دوری والی گاؤں سے گاؤں کی طرف ہجرت کرنے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کے برخلاف معاشی وجوہات کی بنا پر ریاستوں کے مابین ہونے والی ہجرت میں گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت کرنے والوں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔
درونِ ملک میں ہجرت کی ان لہروں کے علاوہ ہندوستان میں پڑوسی ممالک سے لوگ نوآبادکاری کی غرض سے آئے ۔ اوراُن ممالک کی طرف لوگوں نے ترک وطن بھی کیا ۔جدول2.1 پڑوسی ممالک سے آئے نوآبادکاروں کے اعداد و شمار کو ظاہر کرتی ہے۔ 2001کی مردم شماری کے مطابق دوسرے ممالک سے 50 لاکھ لوگ ہندوستان آئے۔ ان میں سے 96فی صد لوگ پڑوسی ممالک :بنگلہ دیش (30لاکھ) پاکستان (9لاکھ) اور نیپال (5لاکھ) سے آئے۔ان میں تبّت ، سری لنکا ، بنگلہ دیش ، پاکستان، افغانستان، ایران اور میانمار سے آئے ہوئے 1.6لاکھ پناہ گزیں بھی شامل ہیں۔ جہاں تک ہندوستان سے ترک وطن کا تعلق ہے تو ایک اندازہ کے مطابق بین الاقوامی نقل مکانی کرنے والے ہندوستانیوں کی تعدادتقریباً2کروڑ ہے جو 110 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔

سرگرمی


پڑوسی ممالک سے ہجرت کرنے والوں کی تعداد 4,918,266کو 100فی صد مانتے ہوئے جدول 2.1 میں دیے گئے اعداد و شمار کی مدد سے ایک شامی خاکہ (Pie diagram) تیار کیجیے۔

68-2-4

مکانی تنوع اورہجرت

(Spatial Variation in Migration)

کچھ ریاستیں جیسے مہاراشٹر، دہلی، گجرات اورہریانہ وغیرہ دوسری ریاستوں جیسے اترپردیش اور بہار سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں (تفصیل کے لیے ضمیمہvii دیکھیں)۔23لاکھ خالص مہاجرین دخول کے ساتھ مہاراشٹر سرِفہرست ہے۔ جس کے بعد دہلی، گجرات اور ہریانہ آتے ہیں۔دوسری طرف اُترپردیش (26لاکھ) اور بہار (17 لاکھ) ایسی ریاستیں ہیں جہاں سے خالص مہاجرین خروج اَجتماع  (net out migration) کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

میں ساحلی تمل ناڈو کی مچھوارا برادری سے تعلق رکھنے والی سُبا لکشمی ہوں ۔ تباہ کن سنامی میرے دو بچوں کو چھوڑ کر گھر کے سبھی افراد کو بہا لے گئی۔ سب کچھ برباد ہوگیا۔ تب سے میں چنئی کی گنجان میلی بستی میں رہ رہی ہوں۔ میں یہاں ایک گھریلو نوکرانی کی طرح کام کرتی ہوں اور میرے بچے اسکول جاتے ہیں۔ خالی اوقات میںکوڑے کرکٹ سے چتڑھے چننے میں میری مدد کرتے ہیں پھر بھی میں اپنی جگہ کو بہت یاد کرتی ہوں ۔لیکن میں واپس نہیں جاؤںگی۔اُن دیوقامت جان لیوا لہروں کو میں بھلا نہیں سکتی۔ مجھے اپنے بچوں کو محفوظ رکھناہے۔

میں عارف خان ہوں۔ میں اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ گائوں میں رہتاہوں ۔ میں یہاں پر 30 روپیے روزانہ کی مزدوری پر کھیتوں پر کام کرتا ہوں۔ یہاں پورے 30دن کام نہیں ملتاہے اسی کے ساتھ میں نے کھیتی کے لیے پٹے پرکچھ زمین بھی لے رکھی ہے تاکہ میں اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بناسکوں۔ میری بیوی بیمار ہے اور تپ دق سے پریشان ہے۔ طِبّی سہولیات اور پیسے کی کمی کی وجہ سے میں اپنی بیوی کا علاج کرانے سے مجبور ہوں ۔ موجودہ حالات نے مجھے اُلجھاکر رکھ دیاہے۔


میں بنش گاورکر باندرہ سے سائنس گریجویٹ ہوں۔ میںیہاں ممبئی میں پوسٹ گریجویشن کر رہاہوں ۔ ساتھ ہی جزوی ملازمت بھی کر رہا ہوں ۔ پھر بھی یہاں زندگی کے اخراجات زیادہ ہیں۔لوگوں کو دوسروں کے لیے فرصت نہیں ہے۔ میں ممبئی آیا کیونکہ یہ میرا خواب تھا ۔ یہ شہر زیادہ تنخواہ اور باہر جانے کے بہت سارے بہتر مواقع فراہم کراتا ہے۔

میں موہن سنگھ ہوں ۔ لُدھیانہ میں ہوزری (موزہ،بنیان )کارخانے میں کام کرتا ہوں ۔ وہاں میں 8 گھنٹہ کام کر کے 2000 روپیے ماہانہ کماتا ہوں میرے پاس اضافی اوقات میںکام کرکے کچھ اور کمانے کا موقع بھی ہے یہاں طِبی ، تعلیمی اور تفریح کی سہولتیں موجود ہیں۔ پھر بھی میں گھر والوں اور بچوں کی غیر موجودگی میں بے چینی محسوس کرتا ہوں ۔یہاں نوکری کے بہت سے مواقع ہیں۔


68-2-5

سرگرمی


چار کہانیاں نقلِ مکانی کے مختلف حالات کو بیان کرتی ہیں۔
عارف کے معاملے میں کشش اور انقباض کے عوامل کا جائزہ لیجیے۔
موہن سنگھ کے لیے کشش کے عوامل کون سے ہیں؟

 
شہری گچھوں میں گریٹر ممبئی میں سب سے بڑی تعداد میں مہاجر آئے۔ اس میں ریاستوں کے مابین نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔اِس کی بنیادی وجہ ریاستوں کا حجم ہے جہاں یہ شہری گچھے پائے جاتے ہیں۔   

جدول:2.1  ہندوستان میں پڑوسی ممالک سے آئے نوآبادکار  پچھلی جائے سکونت کی بنیاد پر ، 2001 

     جدول:2.1 ہندوستان میں پڑوسی ممالک سے آئے نو آباد کار پچھلی جائے سکونت کی بنیاد پر،2001

ممالک(%) نو آبادکاروں کی تعداد کل نو آبادکاروں کا فی صد
کل عالمی ہجرت 
پڑوسی ممالک سےآئے مہاجر
افغانستان
بنگلہ دیش 
بھوٹان
چین
میانمار
نیپال
5,155,423
49,18,266
9,194
30,84,826
8,337
23,721
49,086
5,96,696
9,97,106
149,300
100
95.5
0.2
59.8
0.2
0.5
1.0
11.6
19.3
2.9
ماخذ: ہندوستان کی مردم شماری، 2001

68-2-6

سرگرمی


ضمیمہ (vii) میں ریاستوں کے حوالہ سے مہاجرین دخول اورمہاجرین خروج کے اعدادوشمار دیے گئے ہیں۔ان کی مدد سے ملک کی سبھی ریاستوں کے لیے خالص نقل مکانی معلوم کریں۔

نقل مکانی کی وجوہات 

( Causes  of  Migration)

عموماً لوگ اپنی جائے پیدائش سے جذباتی طور پر جڑے ہوتے ہیں ،لیکن لاکھوں لوگ اپنی جائے پیدائش اورسکونت کو چھوڑ دیتے ہیں اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جنھیں دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (i) عواملِ انقباض : جو لوگوں کو اپنا وطن یاجائے سکونت چھوڑنے کی وجہ بنتے ہیں ۔ (ii)  عواملِ کشش : جو مختلف جگہوں سے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں ۔
ہندوستان میں لوگ دیہاتوں سے شہروں کی طرف عموماً غربت اورزمین پر آبادی کازیادہ دباؤ ،صحت عامہ،تعلیم وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے نقل مکانی کرتے ہیں ۔ ان وجوہات کے علاوہ سیلاب ، قحط، طوفان، زلزلہ ، سُنامی جیسی قدرتی آفات، جنگ اور مقامی جھگڑے بھی نقل مکانی کو بڑھاوا دیتے ہیں ۔ دوسری طرف کشش کے عوامل ہیں جو لوگوں کودیہاتوں سے شہروں کی طرف کھینچتے ہیں ۔ روزگار کے بہتر مواقع ، مستقل کام اور نسبتاً زیادہ مزدوری کشش کے اہم عوامل ہیں جن کی وجہ سے زیادہ لوگ گاؤں سے شہرکی طرف ہجرت کرتے ہیں ۔ تعلیم کے بہتر مواقع، بہتر طبی سہولیات اور تفریح کے بہتر ذرائع وغیرہ بھی قدر اہم کشش کے دیگر عوامل ہیں۔
شکل2.2b اور22.b میں مردوں اور عورتوں کے ہجرت کرنے کی وجوہات کا الگ الگ جائزہ لیجیے۔ تصویر کے تجزیہ کے بعد یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے لیے نقل مکانی کی وجوہات الگ الگ ہیں۔ مثال کے طور پر کا م اور روزگارمردوں کے ہجرت کرنے کی خاص وجہ ہے (38 فی صد) جب کہ یہی وجہ عورتوں کے معاملہ میں صرف 3فی صداہمیت کی حامل ہے۔ اس کے برخلاف 65فی صدی عورتیں شادی کے بعد اپنے مائکہ سے باہر جاتی ہیں۔ ہندوستان کے دیہی علاقو ںمیں نقل مکانی کی یہ سب سے عام وجہ ہے۔ لیکن میگھالیہ میں معاملہ اس کے بر عکس ہے۔

میگھالیہ میں عورتوں کی شادی کا قانون الگ کیوں ہے؟

 اس کے برخلاف ملک میں شادی کی وجہ سے مردوں کی نقل مکانی صرف 2فی صد ہی ہے۔

نقل مکانی کے نتائج

 (Consequences of Migration)

نقل مکانی جگہوں کے اعتبار سے مناسب مواقع کی غیر مساوی تقسیم کا نتیجہ ہے۔ لوگوں میں کم مناسب مواقع والے اورکم محفوظ جگہوں سے بہتر مواقع والے اورزیادہ محفوظ جگہوں پر جانے کا رجحان ہوتا ہے۔ نقل مکانی کی وجہ سے اُن علاقوں پر جہاں سے لوگ ہجرت کرتے ہیں اور اُن علاقوں کو بھی جہاں لوگ ہجرت کرتے ہیں ، فائدہ اورنقصان دونو ں ہوتے ہیں۔ نقل مکانی کا انجام معاشی،سماجی ، ثقافتی ، سیاسی اور آبادکاری کی شکل میں سامنے آتاہے۔ 

معاشی نتائج(Economic  Consequences)    

 جن مقامات سے ہجرت کی جاتی ہے ان کے لیے سب سے بڑا فائدہ نقل مکانی کرنے والوں کے ذریعہ بھیجاگیا زرمبادلہ ہے۔ بین الاقوامی مہاجروں کے ذریعہ بھیجی گئی رقم بیرونی زرِ مبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ 2002 میں ہندوستان نے بین الاقوامی مہاجروں کے ذریعہ 110کھرب امریکی ڈالر حاصل کیے۔ پنجاب، کیرالہ اور تمل ناڈو اپنے بین الاقوامی مہاجرین کے ذریعہ کافی بڑی رقم حاصل کرتے ہیں ۔ بین الاقوامی مہاجرین کے مقابلہ میں اندرونی مہاجرین کے ذریعہ بھیجی گئی رقم گوکہ بہت کم ہوتی ہے تاہم یہی رقم مخرجی علاقے کی معاشی حالات کی سدھار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کے ذریعہ بھیجی گئی رقم کا استعمال عام طور پر کھانے، قرض کی ادائیگی ، علاج و معالجہ، شادی ، بچوں کی تعلیم ،زراعت کی ضروریات ، مکان کی تعمیر وغیرہ کے لیے کیا جاتا ہے۔ بہار،اُترپردیش ، اُڑیسہ ، آندھراپردیش ، ہماچل پردیش وغیرہ کے ہزاروں غریب خاندانوںکی معیشت کے لیے یہ رقم دوران خون کا کام کرتی ہے۔ مشرقی اترپردیش ، بہار، مدھیہ پردیش ، اور اُڑیسہ کے دیہی علاقوں سے پنجاب، ہریانہ، اور مغربی اترپردیش کے دیہی علاقوںمیں نقل مکانی نے زراعت کی ترقی سے متعلق سبز انقلاب کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اس کے علاوہ غیر ضابطی نقل مکانی نے ہندوستان کے بڑے شہروں میں اضافی بھیڑ کو بڑھاوا دیا ہے۔ مہاراشٹر،گجرات ، کرناٹک ، تمل ناڈو اور دہلی جیسے صنعتی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں میں گندی بستیوں (Slum) کا وجود ملک میں غیرضابطی نقل مکانی کے منفی پہلو کواُجاگر کرتا ہے۔ 

کیا آپ نقل مکانی کے کچھ مثبت اور منفی اثرات بتا سکتے ہیں ؟

آبادیاتی نتائج

 (Demographic Consequences)

نقل مکانی سے ملک کے اندر آبادی کی تقسیم نو ہوتی ہے۔گاؤں سے شہر کی ہجرت شہروں کی آبادی میںاضافہ کی اہم وجہ ہے۔ گاؤں کے نوجوانوں اور ہنر مند لوگوں کے ہجرت کرنے کی وجہ سے گاؤں کے آبادیاتی ڈھانچہ پر ایک منفی اثر پڑتا ہے۔ اگرچہ اترا کھنڈ ، راجستھان ، مدھیہ پردیش اور مشرقی مہاراشٹرا سے ہونے والی خروج نقل مکانی نے اِن ریاستوں کی عمر اورجنسی ڈھانچہ کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ ایسی ہی دشواریاں ان ریاستوں میں بھی ہوگئی ہیں جہاں لوگ نقل مکانی کرکے آتے ہیں ۔ خروجی اور دخولی علاقوں میں جنسی ڈھانچہ کے غیر متوازن ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟

سماجی نتائج(Social Consequences) 

 نقل مکانی کرنے والے سماجی تبدیلی کے ایک کارکن کے طورپر کام کرتے ہیں۔ نئی صنعتی معلومات ، خاندانی منصوبہ بندی ، تعلیم نسواں وغیرہ سے متعلق نئی معلومات ، شہرسے گاؤں کی نقل مکانی کرنے والوں کے ذریعہ گاؤں کو پہنچتی ہیں۔

نقل مکانی سے مختلف تہذیب و تمد ن کے لوگوں کاآپسی میل جول پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک گنگا جمنی تہذیب کے بننے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ  لوگوں میں تنگ نظری کو ختم کرتا ہے اور لوگوں کے ذہنی دائرے کو وسیع کرتاہے۔ لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہیں ۔ مثال کے طور پر گمنامی ایک اہم منفیت ہے جو ایک سماجی خلا پیدا کرتا ہے۔ جس سے لوگوں میں بددلی پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً ایسے لوگ غیر سماجی کام جیسے نشے کی عادت اوردیگر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں اور غیر سماجی عناصر کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

68-2-7

شکلa) 2.2):آخری جائے سکونتسے مردوں کی نقل مکانی کی وجوہات، مدت کے ساتھ (0-9سال)، ہندوستان،2001
شکل2.2(b):آخرے جائے سکونت سے عورتوں کی نقل مکانی کی وجوہات مدت کےساتھ(0-9کے سال)، ہندوستان،2001

ماحولیاتی نتائج

(Environmental Consequences)

گاؤں سے شہر کی ہجرت کی وجہ سے شہروں کے موجودہ  طبعی اورسماجی ذرائع پر غیرمعمولی دباؤ پڑتا ہے۔نتیجتاً شہروں کا غیرمنصوبہ بند پھیلاؤہوتا ہے اور جھگی جھوپڑیاںو گنجان بستیا ں وجود میں آتی ہیں ۔اس کے علاوہ، قدرتی وسائل کے استحصال کی وجہ سے شہری علاقوںمیں زیرزمین پانی کی سطح میں گراوٹ ،ہوا کی آلودگی،گندے پانی کو ٹھکانے لگانا ، ٹھوس کچرے کا بندوبست جیسی دشواریاں عام ہوچکی ہیں۔ 

دیگر نتائج(Others)  

 نقل مکانی عورتوں کی حیثیت (شادی کی وجہ سے نقل مکانی کو چھوڑ کر) پر بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوںہی طرح سے اثرڈالتا ہے۔ گاؤںسے بالخصوص مردوں کے ہجرت کرنے کی وجہ سے خواتین پر جسمانی اور ذہنی دباؤ کافی بڑھ جاتا ہے۔ تعلیم یاروزگارکے لیے عورتوں کا نقل مکانی کرنا اُن کی خود مختاری اور معیشت میں اُن کی اہمیت کو بڑھا دیتا ہے۔ ساتھ ہی اُن کو غیر محفوظ بھی بنادیتا ہے۔

 اگر چہ نقل مکانی کرنے والوں کے ذریعہ بھیجی گئی رقم ان علاقوں کے لیے جہاں سے انھوں نے ہجرت کی تھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف انسانی وسائل خاص کر ہنر مند اور ماہر لوگوں کی کمی ہونانقصان کا باعث بھی ہے۔اعلیٰ ذہنوں کا بازار صحیح معنوں میں جہانی بازار بن گیا ہے اور متحرک صنعتی معاشیات پسماندہ علاقوں سے تربیت یافتہ پیشہ وروں کو بڑی تعداد میں نوکری دے رہے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ اُن علاقوں میں جہاں سے نقل مکانی ہوتی ہے پسماندگی اور بڑھ جاتی ہے۔

5268-8

مشقیں

-1 نیچے دیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔

(i)  مندرجہ ذیل میں سے کون سی وجہ ہندوستان میں مردوں کی نقل مکانی کی اہم ترین وجہ ہے؟

(a)  تعلیم    (b)  تجارت

 (c)  کام اور روزگار   (d)  شادی

-ii مندرجہ ذیل میں سے کس ریاست میں سب سے زیادہ مہاجر آتے ہیں ؟

(a)  اُترپردیش (b)  دہلی

  (c)  مہاراشٹرا (d)  بہار

(iii) ہندوستان میں مندجہ ذیل میں سے نقل مکانی کس طرح کے مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے؟

(a)  گاؤں سے  گاؤں   (b)  گاؤں سے شہر 

 (c)  شہرسے گاؤں   (d)  شہرسے شہر

(iv)  مندجہ ذیل میں کس شہر ی گچھے میں نقل مکانی کرنے والی آبادی کا حصہ سب سے زیادہ ہے؟

(a)  ممبئی گچھا    (b)  دہلی گچھا

   (c)   بنگالورو گچھا   (d)   چنئی گچھا 

مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً 30الفاظ میں دیجیے۔ 

(i)   تاحیات مہاجروں اور پچھلی جائے سکونت کے اعتبار سے مہاجروں میں فرق بتائے۔

(ii)  عورتوں اور مردوں کی ہجرت کی خصوصی وجوہات کی پہچان کریں۔

(iii)  گاؤں سے شہرکی نقل مکانی کا مقام آغازاور منزل مقصود کے عمروجنسی ڈھانچہ پر کیا اثر پڑتا ہے؟

مندرجہ ذیل سوالات کے جواب 150الفاظ میں دیجیے۔  

(i)  ہندوستان میں بین الاقوامی ہجرت کے نتائج کا تجزیہ کریں ؟

 (ii)   نقل مکانی کے سماجی اور آبادیاتی نتائج کیا ہیں؟