Skip to content
Awamaurmaishat-003

پہلی اکائی  I

باب  3

انسانی ترقی

3.2
ساٹھ سال قبل ریکھا کی پیدائش اتراکھنڈ کے ایک چھوٹے سے کسان کے گھر ہوئی تھی۔جب اُس کے بھائی اسکول جاتے تھے تو وہ گھر کے کام کاج میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی تھی۔اُس نے کسی طرح کی تعلیم نہیں حاصل کی تھی۔شادی کے فوراً بعد جب وہ بیوہ ہوگئی تو پوری طرح سسرال پر منحصر ہوگئی، وہ معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہوپائی اور اُسے لوگوں کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بھائی نے اس کی دہلی آنے میں مدد کی۔
اسے پہلی بار بس اور ریل گاڑی میں سفر کرنے اور دہلی جیسے بڑے شہر کو دیکھنے کا موقع ملا۔لیکن کچھ ہی دِنوں میں اس شہر نے جس نے اپنی اونچی عمارتوں ، سڑکوں، ترقی کے مواقع اور بہترین سہولیات کے ذریعہ اُسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا اس کے سارے خواب چکنا چور کردئیے۔
شہرکو اچھی طرح دیکھنے اور سمجھنے کے بعد وہ متفادات کو سمجھنے لگی۔جھگی اورگندی بستیوں کے جھنڈ، ٹریفک کا اژدحام، بھیڑ، جرائم، غربت، چھوٹے چھوٹے بچوں کاچوراہوں پر بھیک مانگنا، فٹ پاتھ پر لوگوں کا سونا، آلودہ پانی اور ہوا ،ترقی کا دوسرا ہی چہرہ اُجاگر کرتے تھے۔وہ سوچا کرتی تھی کہ کیا ترقی اورپس ماندگی ایک ساتھ ممکن ہے؟ کیا ترقی آبادی کے ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ کے مقابلہ میں زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے؟ کیا ترقی امیر اور غریب کے درمیان فاصلے پیدا کرتی ہے؟ آئیے ان عقدوں کا جائزہ لیں اور حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اس کہانی کے سبھی مذکورہ مسائل میں ترقی سب سے اہم ہے۔کم مدت میں کچھ علاقوں اور کچھ لوگوں کی بڑے پیمانے پر ترقی ماحول کی پست کاری کے ساتھ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے غربت اور ناقص تغذیہ کے لیے ذمہ دار ہے۔کیا ترقی کسی خاص طبقہ کے لیے ہی محدود ہے؟
بظاہر ایسا مانا جاتا ہے کہ’’ترقی آزادی ہے‘‘ جس کا تعلق جدیدیت عیش،سہولت اور دولت کی فراوانی سے ہے موجودہ حوالہ کمپیوٹرائزیشن ، صنعت کاری،بہتر، پر اثرذرائع آمدورفت اوررسل ورسائل ، بہتر اوروسیع تعلیمی نظام ،طبی سہولیات،لوگوں کی فلاح اور حفاظت وغیرہ کو ترقی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ہر فرد، طبقہ، اور سرکار ترقی کو ان ہی سہولیات کی فراہمی اور پہنچ کے تعلق سے ناپتے ہیں۔لیکن یہ ترقی کا جزوی اور یک طرفہ نظارہ ہوسکتا ہے۔ اِسے عام طور پر ترقی کا مغربی یا یوروپی نظریہ کہتے ہیں۔سامراجیت سے متاثر ہندوستان جیسے ملک میں غلامی ، حاشیہ برداری ،پسماندگی سماجی بھید بھاؤ اور علاقائی غیر مساوی ترقی کا دوسرا رخ دکھاتے ہیں۔
اس طرح ہندوستان کے لیے ترقی کے معنی خوشحالی، بے اعتنائی اور محرومی کا ایک ملاجلا احساس ہے۔ہندوستان میں جہاں ایک طرف کچھ علاقے مثلاًمیٹروپولیٹن مراکزاور دوسرے ترقی یافتہ انکلیو ہیں جن میں آبادی کے چھوٹے سے حصے کو تمام جدید سہولیات دستیاب ہیںوہیں دوسری طرف وسیع دیہی علاقہ اورشہری گندی بستیاں ہیں جہاں آبادی کا بیشتر حصہ سکونت پزیر ہے وہاں پینے کا پانی، تعلیم اور صحت عامہ جیسی بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔اگر سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان ترقی کے مواقع کی تقسیم پر غور کیا جائے تو صورت حال کافی سنگین نظر آتی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ درج فہرست ذاتیں، درج فہرست قبائل، بے زمین زرعی مزدوروں، غریب کاشت کاروں اور گندی بستیوں میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد حاشیہ پر ہے۔ان سب میں عورتوں کی حالت زار نمایاں ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگرچہ ملک میں ترقی ہورہی ہے لیکن مذکورہ بالا طبقات کی حالت وقت کے ساتھ ساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا ایک بڑا حصہ انتہائی غربت اور غیرانسانی حالات میں زندگی گزارنے کے لیے مجبور ہے۔
ترقی کا ایک پہلو اور بھی ہے جس کا لوگوں کی خستہ حالی سے سیدھا تعلق ہے۔یہ پہلوماحول کی آلودگی کا ہے جس کی وجہ سے ماحولیاتی بحران پیدا ہوا ہے۔ ہوا، مٹی، پانی اور شور کی آلودگی کی بنا پر نہ صرف ہماری مشترکہ وراثت کو خطرہ لاحق ہے بلکہ یہ ہمارے سماجی وجود کے لیے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔اس کا مطلب مفلسی میں اضافہ کے لیے تین عوامل ہیں۔ (i)سماجی صلاحیتیں: نقل مکانی اور سماجی رشتوں میں کمزوری کی وجہ سے(سماجی اثاثہ)  (ii)ماحول کی صلاحتیں: آلودگی کی وجہ سے اور (iii) ذاتی صلاحیتیں۔ بیماریوں اور حادثات میں اضافہ کی وجہ سے۔ یہ تمام عوامل طرز زندگی اور انسانی ترقی پر ایک منفی اثر ڈالتے ہیں۔
مذکورہ بالاتجربات کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ ترقی سماجی عدم انصافی ، علاقائی عدم مساوات  اور ماحول کی پست کاری جیسے معاملات کو حل کرنے سے نہ کہ صرف قاصر ہے بلکہ اس کے برخلاف موجودہ ترقی کو سماج میں غیر مساوی تقسیم، معیار زندگی اور انسانی ترقی میں گراوٹ، ماحولیاتی بحران اور سماج میں بے چینی کے لیے کافی حد تک ذمہ دار مانا جارہا ہے۔کیا ترقی ان مسائل کو پیدا کرکے انھیں پختگی اور دائمیت عطاکرتی ہے۔لہٰذا یہ سوچا گیا کہ ہندوستان میں انسانی ترقی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مغربی ماڈل پر انحصار کرنے کے بجائے دوسرے اقدامات کیے جائیں۔ مغربی ماڈل کے تحت ترقی کو انسانی ترقی، علاقائی عدم مساوات اورماحولیا تی بحران جیسی تمام خرابیوں کا مداوا سمجھاجاتا ہے۔

انسانی ترقی کیا ہے؟


 انسانی ترقی ایک ایسا عمل ہے جس میں انسانوں کے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ،حفظان صحت ، آمدنی اور خود اقتداری کے پورے پورے مواقع حاصل ہو ں اور جنھیں حاصل کر نے کے لیے طبعی ماحول ، معاشی ، سماجی اور سیاسی آزادی کا بھرپوراستعمال کیا جا سکے۔
پس ہر لحاظ سے ترقی کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنااور ان مواقع کی فہرست کو طویل تر کرنا ہی انسانی ترقی کا اہم پہلو ہے۔ حالانکہ انسانی خواہش کی فہرست میں دیگر اور بھی پہلو شامل کیے جاسکتے ہیں تاہم ایک لمبی صحت مندزندگی ، بہتر تعلیم ، اونچے معیار زندگی کی خاطر وسائل تک رسائی، سیاسی آزادی ، حقوق انسان کی ضمانت، عزّت نفس وغیرہ انسانی ترقی کے ایسے پہلو ہیں جن پر کسی بحث کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔


ماضی میں کئی بار ترقی کا تنقیدی نظریہ سے مشاہدہ کیا جاچکا ہے۔لیکن اس سلسلے میں مثبت کوشش 1990 میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی انسانی ترقی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد ہوئی۔اس وقت سے یہ ادارہ ہر سال انسانی ترقی کی رپورٹ شائع کرتا آرہا ہے۔یہ رپورٹ نہ کہ صرف انسانی ترقی کی تعریف بیان کرتی ہے بلکہ انسانی ترقی کے اشاریہ میں ترمیم کرتی ہے اور دنیا کے تمام ممالک کوان کے حاصل کیے اِسکور کی بنیاد پردرجہ بندی بھی کرتی ہے۔1993 کی انسانی ترقی رپورٹ کے مطابق ’’جمہوریت کی ترقی اور عوام کی خودمختاری انسانی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ رپورٹ میں اس بات کا بھی تذکرہ ہے کہ ’’ترقی کا تانا بانالوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ لوگ ترقی کے لیے ہوں ‘‘ جیسا کہ پہلے ہوتا تھا۔
آپ اپنی نصابی کتاب ’’انسانی جغرافیہ کے بنیادی اصول‘‘ میں انسانی ترقی کے تصورات، اشاریوں، اور نظریات کے بارے میں اور اس اشاریہ کو حل کرنے کے طریقوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔آئیے اس سبق میں ہم ہندوستان کے حوالہ سے ان اشاریوں اور تصورات کے اطلاق کا جائزہ لیں۔

                              جدول3.1: ہندوستان اور کچھ دیگر ممالک کا انسانی ترقی کا اشاریہ

ممالک ایچ ڈی آئی قدر مقام
ناروے
جرمنی 
یو ایس اے
یو کے 
روس(وفاقی)
ملیشیا
شری لنکا
برازیل
چین
مصر
انڈونیشیا
جنوبی افریقہ
ہندوستان
بنگلہ دیش 
پاکستان
0.953
0.936
0.924
0.922
0.816
0.802
0.770
0.759
0.752
0.696
0.694
0.699
0.640
0.608
0.562
1
5
13
14
49
57
76
79
86
115
116
113
130
136
150
ماخذ : یو این ڈی پی انسانی ترقی  رپورٹ 2018 ۔

3.3

ہندوستان میں انسانی ترقی

( Human Development in India)

120کروڑ سے بھی زیادہ آبادی کے ساتھ ہندوستان اِنسانی ترقی کے اشاریہ کی رو سے دنیا کے 172 ممالک میں سے134ویں مقام پر ہے۔ Human Development Index (HDI) کے مرکب پیمانہ پر ہندوستان کا اسکور 0.547ہے جو کہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہندوستان ایسے ممالک کے ساتھ ہے جہاں انسانی ترقی کا معیار درمیانی درجہ کا ہے(UNDP 2011)۔
انسانی ترقی کے اشاریہ کی فہرست میں اندراجات کا کم ہونا باعث تشویش ہے لیکن اسے حاصل کرنے کے طریقہ اور اشاروں کے انتخاب اور مملکتوں کی درجہ بندی کے بارے میں کچھ اعتراضات بھی ہیں۔
انسانی ترقی اشاریہ کا تعین کرتے وقت غلامی، سامراجیت، اور نوسامراجیت جیسے تاریخی عوامل ،سماجی اور ثقافتی عوامل مثلاً انسانی حقوق کی خلاف ورزی، نسلی امتیاز جو مذہب، صنف، اور ذات کی بنا پرہو، سماجی مسائل جیسے جرائم، دہشت گردی اور جنگ اور سیاسی عوامل مثلاً طرزحکومت (جمہوریت یا تاناشاہی) اور سطح خودمختاری وغیرہ جیسے اہم عوامل کو اہمیت دینی چاہیے۔ہندوستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک میں ان عوامل کی خاص اہمیت ہے۔
UNDP کے طے شدہ اشاریوں کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے منصوبہ بندی کمیشن نے بھی ہندوستان کے لیے انسانی ترقی سے متعلق ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ کمیشن نے انسانی ترقی کے جائزے کے لیے ریاستوں اور مرکزی ریاستوں کو ایک اکائی کے طور پر استعمال کیا ہے۔بعدازاں، اضلاع کو ایک اکائی مانتے ہوئے ریاستی حکومتوں نے بھی انسانی ترقی رپورٹ تیار کرنا شروع کردی ہے ۔اگرچہ ہندوستان کے منصوبہ بندی کمیشن نےHDI کا اسکور معلوم کرنے کے لیے ان ہی تین عوامل کا استعمال کیا تھا جن کا تذکرہ ’’انسانی جغرافیہ کے بنیادی اصول‘‘ کتاب میں کیا جاچکا ہے۔تاہم اس رپورٹ میں معاشی کامیابی، سماجی خودمختاری، انصاف کی روسے سماجی برابری، رسائی، حفظان صحت، اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ نافذ کیے گئے فلاح وبہبود کے متعدد اقدامات کو بھی خاطر میں لایا گیا ہے۔کچھ خاص اشارات کے بارے میں ذیل کے صفحات پر ایک جائزہ دیا جارہا ہے۔

معاشی حصولیابیوں کے اشاریے        

  (Indicators of

Economic Attainments)

وسائل کی فراوانی اور ان تک تمام لوگوں، خصوصاً غربا، پسماندہ اور حاشیہ بردارلوگوں کی رسائی، پیداواریت وغیرہ فلاح اور انسانی ترقی کی کنجی ہے۔کل گھریلو پیداوار (GDP) اور اس کی فی کس دستیابی کو کسی ملک کی خوشحالی/جبلی صلاحیتوں کا پیمانہ تصوّر کیا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہندوستان کی کل گھریلو پیداوار (موجودہ قیمت پر) 3200 ہزار کروڑ روپیے تھی یعنی فی کس آمدنی تقریباً 20,813روپیے ہے۔بظاہر یہ اعداد وشمار ایک بہترین کارکردگی کا مظہر ہیں لیکن غربت، محرومی، ناقص تغذیہ، ناخواندگی، مفاد پرستی اوران سب سے اوپر غیرمنصفانہ سماجی تقسیم اور بڑے پیمانے پر علاقائی عدم مساوات ان تمام کامیابیوں کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔
مہاراشٹرا، پنجاب، ہریانہ،گجرات اوردہلی جیسی کچھ ترقی یافتہ ریاستیں ہیں جن کی فی کس سالانہ آمدنی4000 روپیے (1980-81 کی قیمتوں پر مبنی)ہے۔ جبکہ اترپردیش، بہار، اُڈیشہ، مدھیہ پردیش، آسام، جموں وکشمیر، وغیرہ جیسی غریب ریاستیں بھی ہیں جن کی فی کس سالانہ آمدنی 2000روپیے سے بھی کم ہے۔ا ن حالات سے موافقت رکھتے ہوئے ترقی یافتہ ریاستوں میں فی کس تصرف بھی غریب ریاستوں کے مقابلہ زیادہ ہے۔پنجاب، ہریانہ، کیرالا، مہاراشٹرا، اور گجرات جیسی ریاستوں میں فی کس تصرف کااوسط 690 روپیے ماہانہ سے زیادہ اور اُترپردیش، بہار اُڈیشہ اور مدھیہ پردیش وغیرہ میں520 روپیے ماہانہ سے کم ہے۔یہ تغیرغریبی، بے روزگاری، اور ناقص روزگاری سے جڑی اہم معاشی مشکلات کی طرف اشارہ کرتی ہیں جن کی جڑیں کافی گہری ہوچکی ہیں۔
ریاستوں کی غربت کے غیر مجموعی اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اڑیسہ، اور بہار جیسی ریاستوں میں 40 فی صد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے رہ رہی ہے۔مدھیہ پردیش، سکم ، آسام، تریپورہ، اروناچل پردیش، میگھالیہ، ناگالینڈ، جیسی ریاستوں میں 30 فی صدی سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے ہیں۔غربت محرومی کی ایک حالت ہے یہ ایک انسان کی بے چارگی کا مظہر ہے جہاں وہ اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کر نے سے قاصر ہے۔تعلیم یافتہ نوجوانوں میں شرح روزگار25فی صد ہے۔بغیرروزگار کے معاشی ترقی اور بے قابو بے روزگاری ہندوستان میں غربت کی اہم وجوہات میں شمار کیے جاتے ہیں ۔

جدول 3.2  :  ہندوستان میں غربت، 1999-2000

                                      جدول3.2:ہندوستان میں غربت،2000-1999

ریاست خطہ غربت سے نیچے آبادی کا فی صد
آندھرا پردیش 
اروناچل پردیش
آسام
بہار
گووا
گجرات
ہریانہ
ہماچل پردیش
ہماچل پردیش
مغربی بنگال
انڈمان اور نکوبار جزائر
چنڈی گڑھ
جمو اور کشمیر
کرناٹک
کیرلا
مدھیہ پردیش 
مہاراشٹرا
منی پور 
میگھالیہ
مزورم
دادرا اور نگر حویلی
دمن اور دیو
دہلی 
ناگالینڈ
اڑیسہ
پنجاب 
راجستھان
سکّم
تمل ناڈو
تری پورہ
اتر پردیش
الشدیپ
پانڈیچیری

ہندوستان
15.77
33.47
36.09
42.60
4.40
14.07
8.47
7.63
7.63
27.02
20.99
5.75
3.48
20.04
12.72
37.43
25.02
28.54
33.87
19.47
17.14
4.44
8.23
32.67
47.15
6.16
15.28
36.55
21.12
34.44
31.15
15.60
21.67

26.10

ماخذ:  ہندوستان کا پلاننگ کمیشن (2001)  ہندوستان۔قومی انسانی ترقی رپورٹ، صفہ 166

3.11
3.5

   سرگرمی


ہندوستان کی کس ریاست میں سب سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے ہیں؟
خط غربت کے نیچے بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیاد پر ریاستوں کو ترتیب میں لکھیے۔
 ان دس ریاستوں کا انتخاب کرئیے جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ خط غربت سے نیچے ہے۔ان اعدادوشمارکے لیے ایک بار گراف بھی بنائیے۔

صحت مند زندگی کے اشارے 

(Indicators of a  Healthy Life)

بیماری اور تکلیف کے بغیرقدرِ طویل عمر صحت مند زندگی کا ایک اشارہ  ہے۔بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد کی طبی سہولیات کی فراہمی بچوں کی شرح اموات اور ان کی ماؤں کی اموات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بزرگوں کو فراہم کردہ طبی سہولیات،مناسب تغذیہ اور انفرادی تحفظ وغیرہ دیگر ایسے اقدامات ہیں جو کہ ایک لمبی عمر کے لیے درکار ہیں۔صحت عامہ سے جڑے کچھ معاملات میں ہندوستان نے قابل تحسین کامیابی حاصل کی ہے۔مثلاً شرح اموات 1951 میں 25.1 فی ہزار تھی جو کہ 1999 میں گھٹ کر 8.1 فی ہزار رہ گئی، اوراسی دوران شیر خواروں کی شرح اموات148سے گھٹ کر صرف70 رہ گئ۔اسی طرح 1999-1951 کی مدت میں پیدائش کے وقت عمر کی توقع مردوں کے لیے 37.1 سے بڑھ کر 62.3 سال اور عورتوں کے لیے 36.2 سال سے بڑھ کر 65.3 سال کرنے میں کامیابی ملی۔اگرچہ یہ سبھی بڑی کامیابیاں ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اسی طرح اس مدت میں ہندوستان نے شرح پیدائش کو 40.8 فی ہزار سے کم کر کے26.1 فی ہزار تک لانے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں یہ شرح پیدائش ابھی بھی کافی زیادہ ہے۔


سوچھ بھارت مشن(SBM)

صنعتوں،شہرسیوریج اورکھلے میں رفع حاجت وغیرہ سے زہریلے اورحیاتیاتی طورپر غیرقابل تجدید کچرے کے اخراج سے تندرستی کے لیے بہت سے موانع پیداہوتے ہیں۔حکومت ہند نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بہت سے قدم اٹھائے ہیں۔ سوچھ بھارت مشن بھی انہی میں سے ایک ہے۔

صحت منددماغ صحت مندجسم میں ہی ہوتا ہے۔ ایک تندرست جسم کے لیے صاف ستھرا ماحول اور خاص طورپر صاف پانی، صاف ہوا، شوروشغب سے پاک اورحفظان صحت کے لحاظ سے اچھا ماحول اس کی بنیادی شرائط ہیں۔

شہری کچرا، صنعتی کچرا اور ذرائع نقل وحمل سے پیداہونے والی آلودگی، شہری ہندوستان میں آلودگی کے ذرائع ہیں۔شہروں کے جھگی جھوپڑی نیزدیہی علاقوں میں کھلے میں رفع حاجت آلودگی کا بڑاذریعہ ہیں۔ہندوستانی حکومت آلودگی سے پاک سوچھ بھارت مشن کے نظریہ کی پابندہے۔ اس اہم پروگرام کے مقاصد ہیں:

ہندوستان کوکھلے میں رفع حاجت سے پاک کرنا اورشہری ٹھوس کچرے کا سوفی صد سائنٹیفک انتظام وانصرام کرنا،ہرخاندان کے لیے بیت الخلا تیارکرنا، کمیونٹی ٹوائلٹ سیٹیں اور پبلک ٹوائلٹ سیٹیں میں لگوانا۔

گھریلو آلودگی دورکرنے کے لیے دیہی علاقوں میں تمام گھروں میں صاف توانائی کا ایندھن LPGمہیا کرانا۔

پانی میں پیداہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ہرگھرمیں پینے کا صاف پانی مہیا کرانا۔

پون اورشمسی توانائی جیسے غیرروایتی ذرائع توانائی کے استعمال کوفروغ دینا۔ 


صنف خاص، دیہی اورشہری علاقوں میں فراہم کردہ ان تمام سہولیات کااگر ایک جائزہ لیا جائے توپتہ چلے گاکہ صورت حال تشویش کن ہے۔ ہندوستان میں عورتوں کا صنفی تناسب کم ہورہا ہے۔ہندوستان کی مردم شماری (2001) کے نتائج خصوصاً 0-6 سال کی عمر کے بچوں میں صنفی تناسب بہت ہی تشویش ناک ہے۔اس رپورٹ کے دیگر اہم پہلویہ ہیں کہ کیرالا کے علاوہ دیگرتمام ریاستوں میں بچوں کے صنفی تناسب میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔پنجاب اور ہریانہ جیسی ترقی یافتہ ریاستوں میں یہ تناسب سب سے زیادہ باعث تشویش ہے جہاں یہ فی ہزار لڑکوں پر 800 لڑکیوں سے بھی کم ہے۔اس کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں؟سماجی نظریہ ذمہ دار ہے یا پھر سائنسی ایجادات جن کی مددسے مادرِشکم میں ہی بچوں کی صنف کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے؟

سماجی خودمختاری کے اِشارے  

 (Indicators of Social Empowerment)

’ترقی آزادی ہے‘۔ بھوک، غربت، غلامی، بے روزگاری، ناواقفی، ناخواندگی، اور دیگر مسائل سے آزادی انسانی ترقی کا راز ہے۔ صحیح معنوں میں آزادی اسی وقت ممکن ہے جب لوگ سماج میں اپنی لیاقت کا استعمال کرنے کے معاملے میں خودمختار ہوں۔سماج اور ماحول سے متعلق معلومات  تک رسائی ہی آزادی کی بنیاد ہے۔علم اور آزادی کا راستہ خواندگی سے ہوکر گزرتا ہے۔

جدول3.3: ہندوستان میں شرح خواندگی 2011

ریاست کل خواندگی خواندگی نسواں
انڈیا
جموں کشمیر
ہماچل پردیش
پیجاب
چنڈی گڑھ
اتراکھنڈ
ہریانہ 
دہلی این سی آر
راجستھان 
اتر پردیش
بہار
سکّم
اروناچل پردیش
ناگا لینڈ
منی پور
میزورم
تری پورہ
میگھالیہ
آسام
مغربی بنگال
جھارکھنڈ
اڑیسہ
چھتیس گڑھ
مدھیہ پردیش
گجرات
آندھرا پردیش
دمن اور دیو
دادر اور نگر حویلی
مہاراشٹرا 
آندھرا پر دیش
کر ناٹک 
گووا
لکشدیپ
کیرلہ
تمل ناڈو
پانڈیچیری
انڈمان اور نکوبار جزائر
74.04%
68.74
83.78
76.68
86.43
79.63
76.64
86.34
67.06
69.72
63.82
82.20
66.95
80.11
79.85
91.58
87.75
75.48
73.18
77.08
67.63
73.45
71.04
70.63
79.31
47.53
87.07
77.65
82.91
67.66
75.60
87.40
92.28
93.91
80.33
86.55
86.27

65.46%
58.01
76.60
71.34
81.38
70.70
66.77
80.93
52.66
59.26
53.33
76.43
59.57
76.69
73.17
89.40
83.15
73.78
67.27
71.16
56.21
64.36
60.59
60.02
70.73
33.57
79.59
65.93
75.48
59.74
68.13
81.84
88.25
91.98
73.86
81.22
81.84

ماخذ: ہندوستان کی مردم شماری 2001، آبادی کی ابتدائی جدول سلسلہ 1-، 142 p۰

3.6

3.7

سرگرمی


قومی اوسط سے زیادہ شرح خواندگی والی ریاستوں کوتنزلی کی طرف مائل 

درجہ بند ترتیب دیجیے اور انھیں بارگراف کی مدد سے دکھائیے۔

کیرالہ، میزورم، لکشدیپ اور گوا میں شرح خواندگی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہے؟

کیا شرح خواندگی انسانی ترقی کا مظہرہے؟ بحث کیجیے۔


جدول 3.3 میں فی صد خواندگی کچھ اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ہندوستان میں مجموعی خواندگی تقریباً 74.04 فی صدہے جبکہ خواتین میں خواندگی محض 65.46فی صد ہے۔

زیادہ تر جنوبی ریاستوں میں مجموعی خواندگی اور نسواں خواندگی قومی اوسط سے زیادہ ہے۔

گووا،سکّم،پانڈی چیری اور شمالی مشرق کی بہت سی چھوٹی ریاستوں میں اورخواتین کی شرح خواندگی قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ یوپی، مدھیہ پردیش،راجستھان اوربہارجیسی بڑی ریاستوں کی کل اور خواتین کی شرح خواندگی کم ہے۔

ہندوستان کی ریاستوں کے مابین شرح خواندگی میں عدم مساوات پائی جاتی ہے۔یہاں ایک طرف بہار جیسی ریاستیں ہیں جہاں شرح خواندگی بہت کم (63.82 فی صدی) ہے اور دوسری طرف کیرالہ اور میزورم جیسی ریاستیں ہیں جہاں شرح خواندگی بالترتیب93.91 فیصد اور 91.58 فی صد ہے۔

مقامی عدم مساوات کے علاوہ دیہی علاقوں اورمعاشرہ کے حاشیہ بردارطبقات جیسے عورتوں، درج فہرست ذاتیں، درج فہرست قبائل، زرعی مزدوروں وغیرہ میں شرح خواندگی بہت کم ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگرچہ حاشیہ بردار لوگوں کی سطح خواندگی میں بہتری ہوئی ہے لیکن وقت کے ساتھ دولت مند اور حاشیہ بردارلوگوں کے بیچ فاصلے میں اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان میں انسانی ترقی کا اشاریہ(Human Development Index  in India)

مذکورہ بالاخاص اشاروں کے پس منظر میں منصوبہ بندی کمیشن نے ریاستوں اور مرکزی ریاستوں کواکائی مانتے ہوئے انسانی ترقی کااشاریہ معلوم کیاہے۔

انسانی ترقی اشاریہ کے حوالہ سے ہندوستان کو درمیانی درجہ کے ممالک کے ساتھ رکھا گیا ہے۔دنیا کے 172 ممالک میں ہندوستان کو کون سامقام حاصل ہے؟ جدول 3.4 سے ظاہر ہے کہ مرکب اشاریہ 0.790 کی درجہ بندی کے ساتھ کیرالہ اول درجہ پر ہے اس کے بعددہلی، ہماچل پردیش، گوا اور پنجاب کا مقام ہے۔امید کے مطابق بہار اڈیشہ اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستیں ہندوستان کی 23 بڑی ریاستوں میں سب سے نچلے پائدان پر ہیں۔

 ان حالات کے لیے کچھ سماجی و سیاسی ، معاشی و تاریخی عوامل ذمہ دار ہیں ۔کیرالہ کاانسانی ترقی اشاریہ کا معیار سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ میں یہاں کی خواندگی کا معیار تقریباً سو فی صد درج ہوا ہے۔ دوسری ریاستوں جیسے بہار، مدھیہ پردیش ، اڈیشہ ، آسام اور اُتر پردیش کا منظر مختلف ہے۔جہاں شرح خواندگی کم تر درجہ کی ہے۔ مجموعی طور پر زیادہ خواندگی والی ریاستوں میں عورتوں اور مردوں کی شرح خواندگی میں فرق بھی کم پایا جاتا ہے۔

جدول3.4:ہندوستانی۔انسانی ترقی اشاریہ

ریاست انسانیترقی قدر مقام
کیرلہ
دہلی 
ہماچل پردیش
گووا
پنجاب
شمال مشرق(ماسواآسام)
مہاراشٹرا
تمل ناڈو
ہریانہ
جموں و کشمیر
گجرات
کرناٹک
مغربی بنغال
اتراکھنڈ
آندھرا پردیش
آسام
راجستھان
اتر پردیش
جھارکھنڈ
مدھیہ پردیش
بہار
اڑیسہ
چھتیس گڑھ
0.790
0.750
0.652
0.617
0.605
0.573
0.572
0.570
0.552
0.529
0.527
0.519
0.492
0.490
0.473
0.444
0.434
0.380
0.376
0.375
0.367
0.362
0.358
1
2

4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23

ماخذ: ہندوستان کا پلاننگ کمیشن : ہندوستان کی قومی انسانی ترقی رپورٹ  2011

3.8


3.9

خواندگی کے علاوہ HDI پر معاشی ترقی کا بھی اثر صاف ظاہر ہوتاہے۔معاشی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں جیسے مہاراشٹرا، تمل ناڈو، پنجاب اورہریانہ میں HDI کا معیار چھتیس گڑھ، بہار اور مدھیہ پردیش وغیرہ جیسی ریاستوں کے مقابل زیادہ ہے۔

نوآبادیاتی دور میں پیدا ہوئی علاقائی اور سماجی خرابیوں اور عدم مساوات کے اثرات آج بھی ہندوستان کی معیشت، سیاست اور سماج کو متاثر کررہے ہیں۔سماجی انصاف کی پالیسی کومدنظررکھتے ہوئے حکومت ہند نے ترقی میں ایک طرح کا توازن قائم کرنے کے لیے منصوبہ بند ترقی کے ذریعہ ایک سنجیدہ کوشش کی ہے۔گوکہ اس پالیسی کو نافذ کرنے کے بعد کئی معاملات میں نمایاں کامیابی ملی ہے لیکن ابھی منزل دور ہے۔

3.10

آبادی، ماحول اور ترقی      

 (Population, Environment and Development)

ترقی اور خاص کر انسانی ترقی سماجی سائنس کا ایک پیچیدہ نظریہ ہے۔یہ نظریہ پیچیدہ اس لیے ہے کیونکہ ابھی تک یہی مانا جارہا تھا کہ ترقی اپنے آپ میں ایک مکمل نظریہ ہے اور اگر ایک باراِسے حاصل کرلیا گیا توتمام سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی دشواریوں سے نجات مل جائے گی۔اگرچہ ترقی کی وجہ سے انسان کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور سماجی عدم مساوات، محرومی، بھیدبھاؤ،انسانی حقوق اور انسانی قدروں کی پامالی اور ماحول کی پست کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ان مسائل کی اہمیت اورشدت کو اقوام متحدہ نے محسوس کیا اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(UNDP) نے 1993 کی انسانی ترقی سے متعلق رپورٹ میں ترقی کے اس نظریہ میں شامل بالا خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔لوگوں کی حصہ داری اور ان کا تحفظ 1993 کی انسانی ترقیاتی رپورٹ کے اہم نکات تھے۔رپورٹ میں اس بات پر زور  دیاگیا کہ انسانی ترقی کے لیے کم از کم جمہوریت کی مضبوطی اور لوگوں کی خودمختاری اشد ضروری ہے۔ رپورٹ نے امن وسکون اور انسانی ترقی کے لیے سماجی تنظیموں کے مثبت کردارکا اقرار کیا ہے۔ سول سوسائٹیزکو ترقی یافتہ ممالک کے دفاعی اخراجات میں کمی، افواج کی نقل وحرکت کو ختم کرنے، دفاعی سازو سامان کے بجائے بنیادی اشیا اور خدمات کو پیدا کرنے اور خاص طور پرایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کرنے یا انھیں تباہ کرنے کے لیے عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کرناچاہیے۔اس جوہری دورمیں امن وسکون اور فلاح وبہبودکے لیے ایک عالمی فکر لاحق ہے۔

اس نقطہ فکر کے دوسرے سرے پر نیو مالتھوزین، ماہرین ماحولیات اور بنیادی ماہرین ماحولیات شامل ہیں۔ان کا یقین ہے کہ ایک خوشحال اور پرسکون سماجی زندگی کے لیے آبادی اور وسائل کے درمیان مناسب توازن ضروری ہے۔ان مفکروں کے مطابق 18 ویں صدی کے بعد آبادی اور وسائل کے درمیان کا فرق کافی بڑھ گیا ہے۔پچھلے تین سو سال میں عالمی وسائل میں معمولی اضافہ ہوا ہے جب کہ انسانی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ترقی نے صرف دنیا کے محدود وسائل کے کثیراستعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کی وجہ سے ان وسائل کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔لہٰذا کسی بھی ترقیاتی سرگرمی کے لیے آبادی اور وسائل کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

سررابرٹ مالتھوس پہلے ایسے دانشور تھے جنھوں نے انسانی آبادی کے مقابلے میں وسائل کی کمی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔بظاہر یہ مباحثہ منطقی اور قابل یقین لگتا ہے لیکن اگر تنقیدی نظریہ سے دیکھا جائے تو اس میں کئی بنیادی خامیاں ہیں مثلاًوسائل ایک غیرجانبدار شے نہیں ہیں۔ وسائل کی دستیابی اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی کہ اس کی سماجی تقسیم۔وسائل کی تقسیم ہر ملک میں غیرمساوی ہے۔خوشحال ممالک اور لوگوں کی دسترس وسائل کے ذخائرتک آسان ہے جبکہ غریب ممالک اور لوگوں کے وسائل کم ہوتے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ، طاقتور لوگوں کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ وسائل پر اختیار حاصل کرنے کے لیے نہ ختم والی جدو جہد اور اپنی طاقت کے اظہار کے لیے ان کا استعمال ہی ٹکراؤ اور آبادی، وسائل اور ترقی میں بظاہر تضاد کی خاص وجوہات ہیں۔

ہندوستانی سماج اور تہذیب ایک لمبے عرصے سے آبادی،وسائل اور ترقی جیسے مسائل کے بارے میں کافی حساس رہا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قدیم الہامی کتابوں میں قدرتی عناصر کے درمیان توازن اور مطابقت کو کافی اہمیت دی گئی ہے۔مہاتماگاندھی نے ان دونوں کے درمیان توازن اور مطابقت کو دوبارہ قائم کرنے کی وکالت کی تھی۔ وہ موجودہ ترقی خصوصاًجدید طرزِصنعت کاری کی وجہ سے ہونے والی روحانی،اخلاقی، خودکفیلی ، عدم تشدد، باہمی رابطہ اور ماحول کی پست کاری سے کافی فکر مند تھے۔ان کا ماننا تھا کہ سادگی، سماجی قدروں کا تحفظ اورعدم تشدد فرد واحد اور ملک کی ترقی کا راز ہیں۔ان کے خیالات کی گونج، ’کلب آف روم‘‘ کی رپورٹ ’’لیمس ٹو گروتھ‘‘ (1972)، شُماکرکی کتاب ’’اسمال اِز بیوٹی فل‘‘ (1974) ، برن لینڈکمیشن (Brundtland Commision)کی رپورٹ ’’آورکامن فیوچر‘‘ (1987) اورآخر میں ریو اوڈی جانیرومیں منعقدکانفرنس (1993) 'Rio- Conference کے ایجنڈا۔21 میں دوبارہ سنی گئی ہے۔

Mashq

مشقیں

.1 نیچے دیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔

(i) انسانی ترقی اشاریہ (2005) کے مطابق ہندوستان کا مقام کون سا تھا؟

a) 126 (b) 127

c) 128 (d) 129

(ii) مندرجہ ذیل ہندوستانی ریاستوں میں سے کس ریاست کو انسانی ترقی اشاریہ میں پہلا مقام حاصل ہے؟
(a) تمل ناڈو (b) پنجاب
(c) کیرالہ (d) ہریانہ
(iii) مندرجہ ذیل ریاستوں میں کم تر نسواں خواندگی کس ریاست میں ہے؟
(a) جموں اورکشمیر (b) اروناچل پردیش
(c) جھارکھنڈ (d) بہار
(iv) ہندوستان کی کس ریاست میں 0-6 سال کی عمر کی بچیوںکا صنفی تناسب سب سے کم ہے؟
(a) گجرات (b) ہریانہ
(c) پنجاب (d) ہماچل پردیش
(v) ہندوستان کی کس مرکزی ریاست میں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے؟
(a) لکشدیپ (b) چنڈی گڑھ
(c) دمن اور دیو (d) انڈمان اور نکوبارجزائر
 .2 مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔
(i) انسانی ترقی کی تعریف کیجیے۔
(ii) شمالی ہند کی ریاستوں میں انسانی ترقی کے کم معیار کی دو وجوہات بتائیے۔
(iii) ہندوستان میں بچوں کے صنفی تناسب میں گراوٹ کی دو وجوہات بتائیے۔
.3 مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تقریباً 150الفاظ میں دیجیے۔
(i) ہندوستان میں 2001 میں نسواں خواندگی کی مکانی ترتیب پر بحث کیجیے اور اس کے لیے ذمہ دار عوامل کا تذکرہ کیجیے۔
(ii) ہندوستان کی 15 بڑی ریاستوں میں انسانی ترقی کے مکانی تغیرکو پیدا کرنے والے عوامل کون سے ہیں؟