پہلی اکائی I
باب 3
انسانی ترقی

انسانی ترقی کیا ہے؟
انسانی ترقی ایک ایسا عمل ہے جس میں انسانوں کے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ،حفظان صحت ، آمدنی اور خود اقتداری کے پورے پورے مواقع حاصل ہو ں اور جنھیں حاصل کر نے کے لیے طبعی ماحول ، معاشی ، سماجی اور سیاسی آزادی کا بھرپوراستعمال کیا جا سکے۔
پس ہر لحاظ سے ترقی کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنااور ان مواقع کی فہرست کو طویل تر کرنا ہی انسانی ترقی کا اہم پہلو ہے۔ حالانکہ انسانی خواہش کی فہرست میں دیگر اور بھی پہلو شامل کیے جاسکتے ہیں تاہم ایک لمبی صحت مندزندگی ، بہتر تعلیم ، اونچے معیار زندگی کی خاطر وسائل تک رسائی، سیاسی آزادی ، حقوق انسان کی ضمانت، عزّت نفس وغیرہ انسانی ترقی کے ایسے پہلو ہیں جن پر کسی بحث کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔
| ممالک | ایچ ڈی آئی قدر | مقام |
| ناروے جرمنی یو ایس اے یو کے روس(وفاقی) ملیشیا شری لنکا برازیل چین مصر انڈونیشیا جنوبی افریقہ ہندوستان بنگلہ دیش پاکستان |
0.953 0.936 0.924 0.922 0.816 0.802 0.770 0.759 0.752 0.696 0.694 0.699 0.640 0.608 0.562 |
1 5 13 14 49 57 76 79 86 115 116 113 130 136 150 |

ہندوستان میں انسانی ترقی
( Human Development in India)
معاشی حصولیابیوں کے اشاریے
(Indicators of
Economic Attainments)
جدول 3.2 : ہندوستان میں غربت، 1999-2000
| ریاست | خطہ غربت سے نیچے آبادی کا فی صد |
| آندھرا پردیش اروناچل پردیش آسام بہار گووا گجرات ہریانہ ہماچل پردیش ہماچل پردیش مغربی بنگال انڈمان اور نکوبار جزائر چنڈی گڑھ جمو اور کشمیر کرناٹک کیرلا مدھیہ پردیش مہاراشٹرا منی پور میگھالیہ مزورم دادرا اور نگر حویلی دمن اور دیو دہلی ناگالینڈ اڑیسہ پنجاب راجستھان سکّم تمل ناڈو تری پورہ اتر پردیش الشدیپ پانڈیچیری ہندوستان |
15.77 33.47 36.09 42.60 4.40 14.07 8.47 7.63 7.63 27.02 20.99 5.75 3.48 20.04 12.72 37.43 25.02 28.54 33.87 19.47 17.14 4.44 8.23 32.67 47.15 6.16 15.28 36.55 21.12 34.44 31.15 15.60 21.67 26.10 |


سرگرمی
صحت مند زندگی کے اشارے
(Indicators of a Healthy Life)
بیماری اور تکلیف کے بغیرقدرِ طویل عمر صحت مند زندگی کا ایک اشارہ ہے۔بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد کی طبی سہولیات کی فراہمی بچوں کی شرح اموات اور ان کی ماؤں کی اموات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بزرگوں کو فراہم کردہ طبی سہولیات،مناسب تغذیہ اور انفرادی تحفظ وغیرہ دیگر ایسے اقدامات ہیں جو کہ ایک لمبی عمر کے لیے درکار ہیں۔صحت عامہ سے جڑے کچھ معاملات میں ہندوستان نے قابل تحسین کامیابی حاصل کی ہے۔مثلاً شرح اموات 1951 میں 25.1 فی ہزار تھی جو کہ 1999 میں گھٹ کر 8.1 فی ہزار رہ گئی، اوراسی دوران شیر خواروں کی شرح اموات148سے گھٹ کر صرف70 رہ گئ۔اسی طرح 1999-1951 کی مدت میں پیدائش کے وقت عمر کی توقع مردوں کے لیے 37.1 سے بڑھ کر 62.3 سال اور عورتوں کے لیے 36.2 سال سے بڑھ کر 65.3 سال کرنے میں کامیابی ملی۔اگرچہ یہ سبھی بڑی کامیابیاں ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اسی طرح اس مدت میں ہندوستان نے شرح پیدائش کو 40.8 فی ہزار سے کم کر کے26.1 فی ہزار تک لانے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں یہ شرح پیدائش ابھی بھی کافی زیادہ ہے۔
سوچھ بھارت مشن(SBM)
صنعتوں،شہرسیوریج اورکھلے میں رفع حاجت وغیرہ سے زہریلے اورحیاتیاتی طورپر غیرقابل تجدید کچرے کے اخراج سے تندرستی کے لیے بہت سے موانع پیداہوتے ہیں۔حکومت ہند نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بہت سے قدم اٹھائے ہیں۔ سوچھ بھارت مشن بھی انہی میں سے ایک ہے۔
صحت منددماغ صحت مندجسم میں ہی ہوتا ہے۔ ایک تندرست جسم کے لیے صاف ستھرا ماحول اور خاص طورپر صاف پانی، صاف ہوا، شوروشغب سے پاک اورحفظان صحت کے لحاظ سے اچھا ماحول اس کی بنیادی شرائط ہیں۔
شہری کچرا، صنعتی کچرا اور ذرائع نقل وحمل سے پیداہونے والی آلودگی، شہری ہندوستان میں آلودگی کے ذرائع ہیں۔شہروں کے جھگی جھوپڑی نیزدیہی علاقوں میں کھلے میں رفع حاجت آلودگی کا بڑاذریعہ ہیں۔ہندوستانی حکومت آلودگی سے پاک سوچھ بھارت مشن کے نظریہ کی پابندہے۔ اس اہم پروگرام کے مقاصد ہیں:
• ہندوستان کوکھلے میں رفع حاجت سے پاک کرنا اورشہری ٹھوس کچرے کا سوفی صد سائنٹیفک انتظام وانصرام کرنا،ہرخاندان کے لیے بیت الخلا تیارکرنا، کمیونٹی ٹوائلٹ سیٹیں اور پبلک ٹوائلٹ سیٹیں میں لگوانا۔
• گھریلو آلودگی دورکرنے کے لیے دیہی علاقوں میں تمام گھروں میں صاف توانائی کا ایندھن LPGمہیا کرانا۔
• پانی میں پیداہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ہرگھرمیں پینے کا صاف پانی مہیا کرانا۔
• پون اورشمسی توانائی جیسے غیرروایتی ذرائع توانائی کے استعمال کوفروغ دینا۔
صنف خاص، دیہی اورشہری علاقوں میں فراہم کردہ ان تمام سہولیات کااگر ایک جائزہ لیا جائے توپتہ چلے گاکہ صورت حال تشویش کن ہے۔ ہندوستان میں عورتوں کا صنفی تناسب کم ہورہا ہے۔ہندوستان کی مردم شماری (2001) کے نتائج خصوصاً 0-6 سال کی عمر کے بچوں میں صنفی تناسب بہت ہی تشویش ناک ہے۔اس رپورٹ کے دیگر اہم پہلویہ ہیں کہ کیرالا کے علاوہ دیگرتمام ریاستوں میں بچوں کے صنفی تناسب میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔پنجاب اور ہریانہ جیسی ترقی یافتہ ریاستوں میں یہ تناسب سب سے زیادہ باعث تشویش ہے جہاں یہ فی ہزار لڑکوں پر 800 لڑکیوں سے بھی کم ہے۔اس کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں؟سماجی نظریہ ذمہ دار ہے یا پھر سائنسی ایجادات جن کی مددسے مادرِشکم میں ہی بچوں کی صنف کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے؟
سماجی خودمختاری کے اِشارے
(Indicators of Social Empowerment)
’ترقی آزادی ہے‘۔ بھوک، غربت، غلامی، بے روزگاری، ناواقفی، ناخواندگی، اور دیگر مسائل سے آزادی انسانی ترقی کا راز ہے۔ صحیح معنوں میں آزادی اسی وقت ممکن ہے جب لوگ سماج میں اپنی لیاقت کا استعمال کرنے کے معاملے میں خودمختار ہوں۔سماج اور ماحول سے متعلق معلومات تک رسائی ہی آزادی کی بنیاد ہے۔علم اور آزادی کا راستہ خواندگی سے ہوکر گزرتا ہے۔
جدول3.3: ہندوستان میں شرح خواندگی 2011
| ریاست | کل خواندگی | خواندگی نسواں |
| انڈیا جموں کشمیر ہماچل پردیش پیجاب چنڈی گڑھ اتراکھنڈ ہریانہ دہلی این سی آر راجستھان اتر پردیش بہار سکّم اروناچل پردیش ناگا لینڈ منی پور میزورم تری پورہ میگھالیہ آسام مغربی بنگال جھارکھنڈ اڑیسہ چھتیس گڑھ مدھیہ پردیش گجرات آندھرا پردیش دمن اور دیو دادر اور نگر حویلی مہاراشٹرا آندھرا پر دیش کر ناٹک گووا لکشدیپ کیرلہ تمل ناڈو پانڈیچیری انڈمان اور نکوبار جزائر |
74.04% 68.74 83.78 76.68 86.43 79.63 76.64 86.34 67.06 69.72 63.82 82.20 66.95 80.11 79.85 91.58 87.75 75.48 73.18 77.08 67.63 73.45 71.04 70.63 79.31 47.53 87.07 77.65 82.91 67.66 75.60 87.40 92.28 93.91 80.33 86.55 86.27 |
65.46% 58.01 76.60 71.34 81.38 70.70 66.77 80.93 52.66 59.26 53.33 76.43 59.57 76.69 73.17 89.40 83.15 73.78 67.27 71.16 56.21 64.36 60.59 60.02 70.73 33.57 79.59 65.93 75.48 59.74 68.13 81.84 88.25 91.98 73.86 81.22 81.84 |
ماخذ: ہندوستان کی مردم شماری 2001، آبادی کی ابتدائی جدول سلسلہ 1-، 142 p۰


سرگرمی
قومی اوسط سے زیادہ شرح خواندگی والی ریاستوں کوتنزلی کی طرف مائل
درجہ بند ترتیب دیجیے اور انھیں بارگراف کی مدد سے دکھائیے۔
کیرالہ، میزورم، لکشدیپ اور گوا میں شرح خواندگی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہے؟
کیا شرح خواندگی انسانی ترقی کا مظہرہے؟ بحث کیجیے۔
جدول 3.3 میں فی صد خواندگی کچھ اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
• ہندوستان میں مجموعی خواندگی تقریباً 74.04 فی صدہے جبکہ خواتین میں خواندگی محض 65.46فی صد ہے۔
• زیادہ تر جنوبی ریاستوں میں مجموعی خواندگی اور نسواں خواندگی قومی اوسط سے زیادہ ہے۔
• گووا،سکّم،پانڈی چیری اور شمالی مشرق کی بہت سی چھوٹی ریاستوں میں اورخواتین کی شرح خواندگی قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ یوپی، مدھیہ پردیش،راجستھان اوربہارجیسی بڑی ریاستوں کی کل اور خواتین کی شرح خواندگی کم ہے۔
ہندوستان کی ریاستوں کے مابین شرح خواندگی میں عدم مساوات پائی جاتی ہے۔یہاں ایک طرف بہار جیسی ریاستیں ہیں جہاں شرح خواندگی بہت کم (63.82 فی صدی) ہے اور دوسری طرف کیرالہ اور میزورم جیسی ریاستیں ہیں جہاں شرح خواندگی بالترتیب93.91 فیصد اور 91.58 فی صد ہے۔
مقامی عدم مساوات کے علاوہ دیہی علاقوں اورمعاشرہ کے حاشیہ بردارطبقات جیسے عورتوں، درج فہرست ذاتیں، درج فہرست قبائل، زرعی مزدوروں وغیرہ میں شرح خواندگی بہت کم ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگرچہ حاشیہ بردار لوگوں کی سطح خواندگی میں بہتری ہوئی ہے لیکن وقت کے ساتھ دولت مند اور حاشیہ بردارلوگوں کے بیچ فاصلے میں اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستان میں انسانی ترقی کا اشاریہ(Human Development Index in India)
مذکورہ بالاخاص اشاروں کے پس منظر میں منصوبہ بندی کمیشن نے ریاستوں اور مرکزی ریاستوں کواکائی مانتے ہوئے انسانی ترقی کااشاریہ معلوم کیاہے۔
انسانی ترقی اشاریہ کے حوالہ سے ہندوستان کو درمیانی درجہ کے ممالک کے ساتھ رکھا گیا ہے۔دنیا کے 172 ممالک میں ہندوستان کو کون سامقام حاصل ہے؟ جدول 3.4 سے ظاہر ہے کہ مرکب اشاریہ 0.790 کی درجہ بندی کے ساتھ کیرالہ اول درجہ پر ہے اس کے بعددہلی، ہماچل پردیش، گوا اور پنجاب کا مقام ہے۔امید کے مطابق بہار اڈیشہ اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستیں ہندوستان کی 23 بڑی ریاستوں میں سب سے نچلے پائدان پر ہیں۔
ان حالات کے لیے کچھ سماجی و سیاسی ، معاشی و تاریخی عوامل ذمہ دار ہیں ۔کیرالہ کاانسانی ترقی اشاریہ کا معیار سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ میں یہاں کی خواندگی کا معیار تقریباً سو فی صد درج ہوا ہے۔ دوسری ریاستوں جیسے بہار، مدھیہ پردیش ، اڈیشہ ، آسام اور اُتر پردیش کا منظر مختلف ہے۔جہاں شرح خواندگی کم تر درجہ کی ہے۔ مجموعی طور پر زیادہ خواندگی والی ریاستوں میں عورتوں اور مردوں کی شرح خواندگی میں فرق بھی کم پایا جاتا ہے۔
جدول3.4:ہندوستانی۔انسانی ترقی اشاریہ
| ریاست | انسانیترقی قدر | مقام |
| کیرلہ دہلی ہماچل پردیش گووا پنجاب شمال مشرق(ماسواآسام) مہاراشٹرا تمل ناڈو ہریانہ جموں و کشمیر گجرات کرناٹک مغربی بنغال اتراکھنڈ آندھرا پردیش آسام راجستھان اتر پردیش جھارکھنڈ مدھیہ پردیش بہار اڑیسہ چھتیس گڑھ |
0.790 0.750 0.652 0.617 0.605 0.573 0.572 0.570 0.552 0.529 0.527 0.519 0.492 0.490 0.473 0.444 0.434 0.380 0.376 0.375 0.367 0.362 0.358 |
1 2 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 |
ماخذ: ہندوستان کا پلاننگ کمیشن : ہندوستان کی قومی انسانی ترقی رپورٹ 2011


خواندگی کے علاوہ HDI پر معاشی ترقی کا بھی اثر صاف ظاہر ہوتاہے۔معاشی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں جیسے مہاراشٹرا، تمل ناڈو، پنجاب اورہریانہ میں HDI کا معیار چھتیس گڑھ، بہار اور مدھیہ پردیش وغیرہ جیسی ریاستوں کے مقابل زیادہ ہے۔
نوآبادیاتی دور میں پیدا ہوئی علاقائی اور سماجی خرابیوں اور عدم مساوات کے اثرات آج بھی ہندوستان کی معیشت، سیاست اور سماج کو متاثر کررہے ہیں۔سماجی انصاف کی پالیسی کومدنظررکھتے ہوئے حکومت ہند نے ترقی میں ایک طرح کا توازن قائم کرنے کے لیے منصوبہ بند ترقی کے ذریعہ ایک سنجیدہ کوشش کی ہے۔گوکہ اس پالیسی کو نافذ کرنے کے بعد کئی معاملات میں نمایاں کامیابی ملی ہے لیکن ابھی منزل دور ہے۔

آبادی، ماحول اور ترقی
(Population, Environment and Development)
ترقی اور خاص کر انسانی ترقی سماجی سائنس کا ایک پیچیدہ نظریہ ہے۔یہ نظریہ پیچیدہ اس لیے ہے کیونکہ ابھی تک یہی مانا جارہا تھا کہ ترقی اپنے آپ میں ایک مکمل نظریہ ہے اور اگر ایک باراِسے حاصل کرلیا گیا توتمام سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی دشواریوں سے نجات مل جائے گی۔اگرچہ ترقی کی وجہ سے انسان کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور سماجی عدم مساوات، محرومی، بھیدبھاؤ،انسانی حقوق اور انسانی قدروں کی پامالی اور ماحول کی پست کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ان مسائل کی اہمیت اورشدت کو اقوام متحدہ نے محسوس کیا اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(UNDP) نے 1993 کی انسانی ترقی سے متعلق رپورٹ میں ترقی کے اس نظریہ میں شامل بالا خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔لوگوں کی حصہ داری اور ان کا تحفظ 1993 کی انسانی ترقیاتی رپورٹ کے اہم نکات تھے۔رپورٹ میں اس بات پر زور دیاگیا کہ انسانی ترقی کے لیے کم از کم جمہوریت کی مضبوطی اور لوگوں کی خودمختاری اشد ضروری ہے۔ رپورٹ نے امن وسکون اور انسانی ترقی کے لیے سماجی تنظیموں کے مثبت کردارکا اقرار کیا ہے۔ سول سوسائٹیزکو ترقی یافتہ ممالک کے دفاعی اخراجات میں کمی، افواج کی نقل وحرکت کو ختم کرنے، دفاعی سازو سامان کے بجائے بنیادی اشیا اور خدمات کو پیدا کرنے اور خاص طور پرایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کرنے یا انھیں تباہ کرنے کے لیے عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کرناچاہیے۔اس جوہری دورمیں امن وسکون اور فلاح وبہبودکے لیے ایک عالمی فکر لاحق ہے۔
اس نقطہ فکر کے دوسرے سرے پر نیو مالتھوزین، ماہرین ماحولیات اور بنیادی ماہرین ماحولیات شامل ہیں۔ان کا یقین ہے کہ ایک خوشحال اور پرسکون سماجی زندگی کے لیے آبادی اور وسائل کے درمیان مناسب توازن ضروری ہے۔ان مفکروں کے مطابق 18 ویں صدی کے بعد آبادی اور وسائل کے درمیان کا فرق کافی بڑھ گیا ہے۔پچھلے تین سو سال میں عالمی وسائل میں معمولی اضافہ ہوا ہے جب کہ انسانی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ترقی نے صرف دنیا کے محدود وسائل کے کثیراستعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کی وجہ سے ان وسائل کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔لہٰذا کسی بھی ترقیاتی سرگرمی کے لیے آبادی اور وسائل کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سررابرٹ مالتھوس پہلے ایسے دانشور تھے جنھوں نے انسانی آبادی کے مقابلے میں وسائل کی کمی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔بظاہر یہ مباحثہ منطقی اور قابل یقین لگتا ہے لیکن اگر تنقیدی نظریہ سے دیکھا جائے تو اس میں کئی بنیادی خامیاں ہیں مثلاًوسائل ایک غیرجانبدار شے نہیں ہیں۔ وسائل کی دستیابی اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی کہ اس کی سماجی تقسیم۔وسائل کی تقسیم ہر ملک میں غیرمساوی ہے۔خوشحال ممالک اور لوگوں کی دسترس وسائل کے ذخائرتک آسان ہے جبکہ غریب ممالک اور لوگوں کے وسائل کم ہوتے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ، طاقتور لوگوں کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ وسائل پر اختیار حاصل کرنے کے لیے نہ ختم والی جدو جہد اور اپنی طاقت کے اظہار کے لیے ان کا استعمال ہی ٹکراؤ اور آبادی، وسائل اور ترقی میں بظاہر تضاد کی خاص وجوہات ہیں۔
ہندوستانی سماج اور تہذیب ایک لمبے عرصے سے آبادی،وسائل اور ترقی جیسے مسائل کے بارے میں کافی حساس رہا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قدیم الہامی کتابوں میں قدرتی عناصر کے درمیان توازن اور مطابقت کو کافی اہمیت دی گئی ہے۔مہاتماگاندھی نے ان دونوں کے درمیان توازن اور مطابقت کو دوبارہ قائم کرنے کی وکالت کی تھی۔ وہ موجودہ ترقی خصوصاًجدید طرزِصنعت کاری کی وجہ سے ہونے والی روحانی،اخلاقی، خودکفیلی ، عدم تشدد، باہمی رابطہ اور ماحول کی پست کاری سے کافی فکر مند تھے۔ان کا ماننا تھا کہ سادگی، سماجی قدروں کا تحفظ اورعدم تشدد فرد واحد اور ملک کی ترقی کا راز ہیں۔ان کے خیالات کی گونج، ’کلب آف روم‘‘ کی رپورٹ ’’لیمس ٹو گروتھ‘‘ (1972)، شُماکرکی کتاب ’’اسمال اِز بیوٹی فل‘‘ (1974) ، برن لینڈکمیشن (Brundtland Commision)کی رپورٹ ’’آورکامن فیوچر‘‘ (1987) اورآخر میں ریو اوڈی جانیرومیں منعقدکانفرنس (1993) 'Rio- Conference کے ایجنڈا۔21 میں دوبارہ سنی گئی ہے۔

مشقیں
.1 نیچے دیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) انسانی ترقی اشاریہ (2005) کے مطابق ہندوستان کا مقام کون سا تھا؟
a) 126 (b) 127
c) 128 (d) 129