اکائی II
باب چار 4
انسانی بستیاں

انسانی بستی سے مراد کسی بھی قسم اور شکل کے گھروں کا جھرمٹ ہے جس میں انسان رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے لوگ مکانوں اور دوسری عمارتوں کی تعمیر کرتے ہیں اوراپنی مالی حیثیت کے مطابق زمین کے کچھ حصہ پر مالکانہ اختیار رکھتے ہیں۔ لہٰذا بستی بننے کے عمل میں بنیادی طور پر لوگوں کی اجتماعیت اوراُن کے وسائل کی بناپر علاقوں کی تقسیم شامل ہیں۔
بستیاں رقبہ اور شکل میں الگ الگ ہوتی ہیں ان کی وسعت ایک جھوپڑی سے لے کر ایک بڑے شہر تک ہوتی ہے۔ رقبہ کے اعتبار سے بستیوں کی معاشی حیثیت اور سماجی ڈھانچہ تو بدلتا ہی ہے ساتھ ہی ماحول اور تکنیکی ڈھانچہ بھی بدلتا ہے۔بستیاں چھوٹی اور بڑی شکل سے لے کر بڑی اور گھنی ہوسکتی ہیں۔ چھوٹی بستیاں جو الگ الگ اور دور دور بسی ہو تی ہیں اور جو کھیتی یا کسی دوسری ابتدائی سرگرمی میں مہارت حاصل کر لیتی ہیں، گاؤں کہلاتی ہیں۔ دوسری طرف کم ،لیکن بڑی بستیاں جو ثانوی اورثالثی سرگرمیوں میں مہارت رکھتی ہیں انھیں شہر یا شہری بستیاں کہا جاتا ہے۔ دیہی اور شہری بستیوں میں مندرجہ ذیل بنیادی فرق ہیں۔
• دیہی بستیاں اپنی گزراوقات یا روز مرہ کی بنیادی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زمین سے منسوب ابتدائی معاشی سرگرمیوں پر منحصر رہتی ہیں۔ جب کہ شہری بستیوں کی معاشی حالت یاتو کچے مال کی صفائی اور بڑے پیمانے پر تیار شدہ مال بنانے اور مختلف قسم کی خدمات پر منحصر ہوتی ہے۔
• شہر معاشی افزائش کے مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف شہری آبادی کو بلکہ اپنے اطراف کی دیہی بستیوں کو بھی خوراک اورخام مال کے بدلے تیار شدہ مال اور دیگر خدمات مہیا کراتے ہیں ۔ شہری اور دیہی بستیوں کے درمیان عملی رشتہ آمدورفت کے ذرائع اور رسل ورسائل کے تانے بانے کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔
• دیہی اور شہری بستیوں میں سماجی رشتوں، رکھ رکھاؤ اور نظریات کے اعتبار سے تفریق پائی جاتی ہے۔ گاؤں کے لوگوں میں نقل مکانی کم ہوتی ہے۔ اسی لیے ان میں آپسی تعلق گہرا ہوتا ہے ۔ دوسری طرف شہروں میں زندگی کافی الجھی ہوئی اور تیز ہوتی ہے جس کی وجہ سے سماجی رشتے رسمی ہوتے ہیں۔
دیہی بستیوں کی اقسام
(Types of Rural Settlements)
دیہی بستیوں کی اقسام تعمیر شدہ رقبہ کے پھیلا ؤ اورمکانوں کے مابین دوری کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ ہندوستان میں خاص کر شمالی میدانوں میں کئی سومتصل مکانوں پر مشتمل دیہی بستیاں عام ہیں۔ پھر بھی کئی ایسے علاقے ہیں جہاں دوسری قسم کی دیہی بستیاں پائی جاتی ہیں۔ہندوستان میں دیہی بستیوں کی مختلف اقسام کے لیے کئی طرح کے حالات ذمہ دار ہیں۔ ان میں (i)طبعی خدوخال: زمین کی بناوٹ،سطح سمندرسے اونچائی، آب وہوا اور پانی کی موجودگی (ii)ثقافتی اور سماجی وجوہات : سماجی ڈھانچہ، ذات، اور مذہب (iii)حفاظتی وجوہات : چوری اور ڈکیتی سے حفاظت وغیرہ شامل ہیں۔ ہندوستان کی دیہی بستیوں کو وسیع طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
• گھنی، اجتماعی یاوحدانی بستیاں
• نیم گھنی یا شکستہ بستیاں
• جھوپڑی نما بستیاں
• منتشر / بکھری ہوئی بستیاں
گھنی بستیاں
(Clustered Settlements)
گھنی دیہی بستیاں مکانوں کا ایک جھرمٹ ہوتی ہیں جن کی آپسی دوری بہت کم ہوتی ہے۔ اس طرح کے گاؤں میں آبادی کا علاقہ چاروں طرف پھیلے ہوئے کھیتوں ، کھلیانوں اور چرا گاہوں سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ قریب قریب بنے ہوئے مکان اور ان کے درمیان تنگ راستہ کچھ جانی پہچانی اقلید سی اشکال (Geometric shape)ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے مستطیل، شعاعی یا خطی وغیرہ۔ ایسی بستیاں عموماً زرخیز سیلابی میدانوں اور شمال مشرقی ریاستوں میں پائی جاتی ہیں۔ کئی بار لوگ حفاظت یا مدافعت کی وجہ سے بھی گنجان گاؤں میں رہتے ہیں، جیسے کہ وسطی ہندوستان میں بندیل کھنڈ کا خطہ اور ناگالینڈ۔راجستھان میں پانی کی کمی کی وجہ سے پانی کے ذرائع کے آس پاس گھنی بستیاں پائی جاتی ہیں۔

نیم گھنی بستیاں (Semi-clustered settlements)
نیم گھنی بستیاں منتشر بستیوں کے محدود علاقوں میں یک جائی کے رجحان کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ ایسی بستیاں زیادہ تر بڑے گنجان گاؤں کے الگ ہونے یابکھرنے کی وجہ سے بھی وجود میں آسکتی ہیں۔ ایسے حالات میں دیہی سماج کا ایک یا ایک سے زیادہ حصہ اپنی مرضی سے یا خلاف مرضی خاص آبادی یا گاؤں سے تھوڑی دوری پر رہنے لگتا ہے ۔ایسے حالات میں عام طور پر زمیندار اور اونچی برادری کے لوگ گاؤں کے مرکزی حصہ پر قبضہ کر لیتے ہیں جب کہ سماج کے نچلے طبقے کے لوگ اور چھوٹے کام کرنے والے لوگ گاؤں کے باہری حصوں میں بس جاتے ہیں۔ ایسی بستیاں گجرات کے میدان اور راجستھان کے کچھ حصوں میں دور دور تک پائی جاتی ہیں۔

شکل 4.2 : ناگالینڈ میں بکھری بستیاں
شکل4.2:ناگالینڈ میں بکھری بستیاں
جھوپڑی نما بستیاں (Hamleted Settlements)
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بستیاںکئی ٹکڑوں میں منقسم ہوجا تی ہیں اور ایک دوسرے سے طبعی طور پرالگ کئی اکائیوں میں بٹ جاتی ہیں ۔لیکن ان سب کا نام ایک ہی رہتا ہے۔گاؤں کی ان اکائیوں کو ملک کے مختلف حصوں میں مقامی زبان میں الگ الگ نام سے جانا جاتا ہے، جیسے پنام،پارا ، پلیّ، نگلا،دھانڑی وغیرہ۔ کسی بڑے گاؤں کا ایساپھیلاؤعموماً سماجی اور نسلی عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسے گاؤں گنگا کے وسطی اور نچلے میدانوں ، چھتیس گڑھ اور ہمالیہ کی نچلی گھاٹیوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
منتشر یا بکھری ہوئی بستیاں
(Dispersed settlements)
ہندوستان میں منتشریا بکھری ہوئی بستیاں دور دراز کے جنگلوں میں یا چھوٹی پہاڑیوں کے ڈھالوں پر کھیتوں یا چراہ گاہوں میں الگ الگ جھوپڑیوں کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ ان بستیوں کا انتہائی بکھراؤ اکثر زمین اور قابل سکونت علاقوںکا قدرتی طور پر بہت زیادہ ٹکڑوں میں بٹے ہونے کی وجہ سے ہوتاہے۔ اس طرح کی بستیاں عام طور پر میگھالیہ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور کیرالہ کے کئی حصوں میں پائی جاتی ہیں۔

شکل 4.3 : نیم گھنی بستیاں
شکل4.3:نیم گھنی بستیاں
شہری بستیاں(Urban settlements)
دیہی بستیوں کے برخلاف شہری بستیاں عام طور پر گھنی اور بڑی ہوتی ہیں ۔ یہ بستیاںمختلف اقسام کے غیر زرعی کاموں جیسے مالیاتی اور انتظامی امور میں مصروف ہیں۔ جیسا کہ پہلے تذکرہ کیا جاچکا ہے کہ شہر اپنے اطراف کے دیہی علاقوں سے تفاعلی طور پر جڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے سامان اور خدمات کی لین دین عموماً سیدھے طور پراور کئی بار منڈیوں ،قصبوں اور شہروں کے ایک سلسلے کے ذریعہ مکمل ہوتی ہے۔ اس طرح شہر دیہاتوں سے سیدھے طور پر یا بلاواسطہ طورپر جڑے ہوتے ہیں۔ وہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ آپ ـــ’’ـــ انسانی جغرافیہ کے بنیادی اصول‘‘ کے باب 10میں شہروں کی تعریف کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
ہندوستان میں شہروں کا ارتقا
(Evolution of Towns in India)
ہندوستان میں شہروں کے نشوونما کی تاریخ زمانہ قدیم سے موجودہے۔دریائے سندھ کی تہذیب کے دور میں ہڑپا اور موہن جو داڑو جیسے شہر موجود تھے۔ اس کے بعد کا دور شہروں کے اِرتقا کا گواہ ہے۔ شہروں کے اِرتقا کا یہ دور زمانے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ یوروپیوں کے ہندوستان آنے تک جاری رہا۔ مختلف دور میں ارتقا کی بنیاد پر ہندوستان کے شہروں کوتین دھڑوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
• قدیمی شہر، • عہدو سطی کے شہر اور • جدید شہر
قدیمی شہر (Ancient Towns)
ہندوستان کے کئی شہر ایسے ہیں جن کی تاریخ 2000سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا وجود ایک مذہبی یا ثقافتی مرکز کے طور پر ہوا۔ وارانسی ان میں سے سب سے اہم شہر ہے۔ پر یاگ (الہ آباد) پاٹلی پتر (پٹنہ)مدورائی وغیرہ ملک کے قدیمی شہروں کی دیگر مثال ہیں۔
عہد وسطی کے شہر (Medieval Towns)
موجودہ دور کے تقریباً100شہروں کے ارتقا کی بنیادیں عہد وسطی سے جڑی ہیں ان میں سے زیادہ تر کا وجود رجواڑوں اور ریاستوں کے صدرمقام کے طور پر ہوا۔ یہ قلعہ بند شہر ہیں جن کی تعمیر قدیمی شہروں کے کھنڈروں پر ہوئی ہے۔ ایسے شہروں میں دلی، حیدرآباد ،جے پور، لکھنؤ، آگرہ، اور ناگپور، وغیرہ ہیں۔
جدید شہر (Modern Towns)
انگریزوں اور دوسرے یوروپیوں نے ہندوستان میں کئی شہر قائم کیے۔ ساحلی علاقوں میں اپنے پیر جماتے ہوئے انھوں نے سب سے پہلے سورت ،دمن، گوا، پانڈییچیری وغیرہ جیسی تجارتی بندرگاہیں قائم کیں۔ انگریزوں نے بعد میں تین اہم مراکز ، ممبئی(بمبئی) چینئ (مدراس) اور کولکاتہ (کلکتہ) پر اپنی پکڑ مضبوط کی اور ان کی انگریزی طرز پر تعمیر کی۔انگریزوں نے اپنی سلطنت کی بلاواسطہ طور پر یا رجواڑے اور نوابی ریاستوں کے ذریعہ توسیع کی۔ انہوں نے انتظامی مراکز اور پہاڑی علاقوں میں موسم گرما کے لیے تفریح گاہ (Summer Resorts) قائم کیے اور ان میں نئے شہری انتظامی اور فوجی علاقوں کوبھی شامل کیے ۔ 1850کے بعد جدید صنعتوں پر مشتمل شہروں کا وجود عمل میں آیا ۔ جمشیدپور اس کی ایک مثال ہے۔

شکل 4.4 جدیدشہرکاایک منظر
شکل4.4: جدید شہر کا ایک منظر
آزادی کے بعد کئی انتظامی صدر مراکز جیسے چنڈی گڑھ، بھونیشور، گاندھی نگر، دیس پور وغیرہ اور کئی صنعتی شہر جیسے درگاپور، بھلائی، سندری، برونی ، وغیرہ وجود میں آئے۔ کچھ پرانے شہروں کے اطراف میں ذیلی شہر کے طور پر ابھرے مثال کے طور پر دلّی کے اطراف میں غازی آباد، روہتک اور گڑگاؤں۔ دیہی علاقوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی بنیاد پر پورے ملک میں کثیر تعداد میں چھوٹے بڑے شہروں کی نشونما ہوئی ۔
ہندوستان میں شہر کاری (Urbanisation in India)
شہر کاری کی سطح کا تعین کرنے کا پیمانہ کل آبادی میں شہری آبادی کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ 2011 میں ہندوستان کی سطح مدنیت کاری 31.16فی صد تھی جو کہ ترقی یا فتہ ممالک کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ بیسوی صدی عیسوی کے دوران شہری آبادی میں11گنا اضافہ ہوا ہے۔شہروں کی توسیع نواورنئے شہروں کے بننے سے ملک کی شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے جس نے شہرکاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔(جدول 4.1) ،لیکن پچھلی دو دہائیوں میں شہر کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان میں کمی آئی ہے۔

شکل4.5:ہندوستان۔میٹروپولیٹن شہر،2001
جدول4.1:ہندوستان۔مدنیت کاری کا رجحان2011-1901
| سال | شہروں/کی تعداد UAs |
شہری آبادی (ہزار میں) |
کل آبادی کا فی صد |
دس سالہ اضافہ(فی صد) |
| 1901 1911 1921 1931 1941 1951 1961 1971 1981 1991 2001 *2011 |
1,827 1,815 1,949 2,072 2,250 2,843 2,365 2,590 3,378 4,689 5,161 7,935 |
25,851.9 25,941.6 28,086.2 33,456.0 44,153.3 62,443.7 78,936.6 1,09,114 1,59,463 2,17.611 2,8,.355 3,77,00 |
10.84 10.29 11.18 11.99 13.86 17.29 17.97 19.91 23.34 25.71 27.78 31.16 |
--- 0.35 8.27 19.12 31.97 41.42 26.41 38.23 46.14 36.47 31.13 31.8 |
آبادی کے اعتبارسے شہروں کی تقسیم
(Classification of Towns on the basis of Population Size)
ہندوستانی مردم شماری شہروں کی چھ اقسام میںدرجہ بندی کرتی ہے۔ جیسا کہ جدول4.2میں دکھایا گیا ہے۔
ایک لاکھ سے زائد شہری آبادی والے مراکز کو شہر یا درجہ اوّل کا قصبہ کہا جاتا ہے۔10لاکھ سے 50لاکھ کی آبادی والے شہروں کو میٹروپولیٹن شہر اور 50لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کوشہرستان (Mega Cities) کہتے ہیں۔ بیشتر شہرستان اور بلدِ اعظم شہر ی گُچھّے (Urban Agglomeration) ہوتے ہیں۔ ایک شہری گچھے میں مندرجہ ذیل تین میں سے کوئی ایک ترکیب ہوتی ہے۔ (i)ایک قصبہ اور اس سے متصل شہری پھیلاؤ (ii) دو یا دو سے زیادہ متصل قصبہ معہ شہری پھیلاؤ یا اس کے بغیر (iii) ایک شہر اور اس سے متصّل ایک یا زیادہ قصبے معہ پھیلاؤ کے جو ایک متواتر وسعت بناتے ہوں۔
ریلوے کالونی، یونیورسٹی کیمپس ، بندرگاہ کا علاقہ، فوجی چھاؤنی وغیرہ جو کہ ایک یا ایک سے زیادہ گاؤں کے داخلی حدود میں واقع ہوں، شہری پھیلاؤکی ایک مثال ہیں۔
شکل 4.6 ہندوستان: شہری آبادی کی درجہ بند تقسیم( فی صد میں)،2011

| مدارج | آبادی | تعداد | آبادی(ملین میں) | کل شہری آبادی کا فی صد |
| I II III IV V VI |
1,00,000 اور زیادہ 50,000-99,9990 20,000-49,999 10,000-19,999 5,000-9,999 5000سے کم |
468 474 1,373 1,683 1,749 224 |
2,27,899 41,328 58,174 31,866 15,883 1,956 |
60.45 10.96 15.43 8.45 4.21 0.51 |
جدول4.2:ہندوستان۔مدارج کے اعتبار سے شہروں اور قصبوں کی تعداد اور ان کی آبادی،2011

جدول 4.2 سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی 60 فی صدسے زیادہ آبادی در جہ اوّل کے شہروںمیں رہتی ہے۔ کل468 شہروںمیں سے 53 شہرعروس البلاد یا شہرستان ہیں۔(شکل4.6) ان میں سے 6بلدعظمیٰ ہیں جن میں سے ہر ایک کی آبادی50لاکھ سے زیادہ ہے۔ کل شہری آبادی کاپانچواں حصہ (21فی صد) ان ہی بلدعظمیٰ شہروں میں رہتی ہے۔ ان میں سے 1کروڑ 64 لاکھ لوگوں کے ساتھ گریٹر ممبئی سب سے بڑا بلدعظمیٰ ہے ، کولکاتہ ، دلّی، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد ملک کے دوسرے بلدعظمیٰ ہیں۔
شہروں کی تفاعلی درجہ بندی
(Functional Classification of Towns)
اپنی مرکزی حیثیت اورکردار کے علاوہ کئی شہر مخصوص خدمات کی فراہمی میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ کچھ شہر یا قصبے مخصوص کاموں میں مہارت رکھتے ہیں اور یہ خاص افعال، تیار شدہ مال اور خدمات کے لیے جانے جاتے ہیں۔حالانکہ ہر شہر مختلف طرح کے کام انجام دیتاہے۔ پھر بھی نمایاں اور امتیازی افعال کی بنیاد پر ہندوستانی شہروں اور قصبوں کو موٹے طور پر مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
انتظامی شہر اور قصبہ (Administrative towns and cities)
وہ شہر جہاں پر اعلیٰ سرکاری دفاتر موجود ہیں انھیں انتظامی شہر کہا جاتا ہے جیسے کہ چنڈی گڑھ، نئی دہلی، بھوپال، شیلانگ، گوہاٹی،اِمپھال ، سری نگر، گاندھی نگر، جے پور، اور چنئی وغیرہ۔
صنعتی شہر (Industrial towns)
ممبئی، سیلم، کوئمبٹور، مودی نگر، جمشیدپور، ہگلی، بھلائی وغیرہ کی ترقی میں کارخانوں نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
نقل وحمل والے شہر (Transport Cities)
یہ وہ شہر ہیں جہاں بندرگاہ ہیں اور جو درآمد اور برآمد کے کاموں میں لگے رہتے ہیں جیسے کانڈلہ، کوچّی،کالی کٹ،وشاکھا پٹنم وغیرہ یا اندرونِ ملک نقل وحمل کے لیے جیسے آگرہ ، دھولیہ، مغل سرائے، اٹارسی، کٹنی وغیرہ۔ اسی زمرہ کے شہر ہیں۔
تجارتی شہر (Commercial towns)
تجارت میں اہمیت کے حامل شہروں کو اس درجہ میں رکھا گیا ہے۔ کولکاتہ، سہارنپور ، ستنا وغیرہ اس کی کچھ مثالیں ہیں۔
کان کنی والے شہر (Mining towns)
ایسے شہر ان علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں معدنیات بڑی مقدار میں پائی جاتی ہیں جیسے رانی گنج، جھریا، ڈگبوئی، انکلیشور، سنگرولی وغیرہ۔
چھاؤنی شہر (Garrisson Cantonment towns)ان شہروں کا وجود چھاؤنی کے طور پر ہوا جیسے امبالہ ، جالندھر، مہو، ببینا، اودھم پور وغیرہ۔
جدول4.3:ہندوستان۔ایک ملین سے زیادہکی آبادی والے شہر/شہری مجموعے
| درجہ | شہر/شہری گچھے کا نام | آبادی(کروڑ میں) |
| 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 1 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 |
سری نگر یو اے لدھیانہ امرت سر یو اے چنڈی گڑھ یو اے فرید آبادی دہلی یو اے جے پور جودھ پور یو اے کوٹہ کانپور یو اے لکھنئو یو اے غازی آباد یو اے آگرہ یو اے وارانسی یو اے میرٹھ یو اے الہ آباد یو اے پٹنہ یو اے کولکاتہ یو اے آسنسول یو اے جمشید پور یو اے دھنباد یو اے رانچی یو اے رائے پور یو اے درگ۔بھلائی نگر یو اے اندور یو اے بھوپال یو اے جبل پور یو اے گرالیر یو اے احمد آباد یو اے سورت یو اے وڈودرا یو اے راج کوٹ یو اے گریٹر ممبئی یو اے پونے یو اے ناگپور یو اے ناسک یو اے وسل و ہارسٹی اورنگ آباد یو اے حیدرآباد یو اے جی وی ایم سی(ایم سی) وجے واڑہ یو اے بنگلور یو اے کوچّی یو اے کوجھی کوڈ یو اے تھری سور یو اے ملاپورم یو اے تری آنند پورم یو اے کنّور یو اے کولم یو اے چنّئی یو اے کوئمبٹور یو اے مدوورائے یو اے تروچیراپالی |
1,273,312 1,613,878 1,183,705 1,025,682 1,404,653 16,314,838 3,07,350 1,137,815 1,001,365 2,920,067 2,901,474 2,358,525 1,746,467 1,435,113 1,424,908 1,216,719 2,046,652 14,112,536 1,243,008 1,337,131 1,195,298 1,126,741 1,122,555 1,064,007 2,167,447 1,883,381 1,267,564 1,101,981 6,352,254 4,585,367 1,817,191 1,390,933 18,414,288 5,049,968 2,497,777 1,562,769 1,221,233 1,189,376 7,749,334 1,730,320 1,491,202 8,499,399 2,117,990 2,030,519 1,854,783 1,698,645 1,687,406 1,642,892 1,110,005 8,696,010 2,151,466 1,462,420 1,021,717 |


اسمارٹ شہرمشن
اسمارٹ شہرمشن کا مقصد ایسے شہروں کافروغ ہے جن میں بنیادی ڈھانچے، صاف اور پائدار ماحول ہو اورشہریوں کواعلیٰ معیار کی زندگی میسرہو۔اسمارٹ شہرمشن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان شہروں کو بہتر بنانے کے لیے ڈھانچہ اورخدمات سے متعلق اسمارٹ طورطریقے ہی اپنائے جاتے ہیں۔مثال کے طورپر آفات سے حفاظت کے لیے، کم سے کم وسائل کا استعمال اورسستی خدمات کی فراہمی۔ سارازورپائدار اوراشتمالی ترقی پررہتا ہے اورنظریہ ہے کہ چھوٹے پیمانے پر جامع علاقوں کونظرمیں رکھ کرقابل تجدید نمونہ کی تخلیق کی جائے جس کی حیثیت دیگرشہروں کے ایک روشن مینار کی ہو، جن کو اسمارٹ شہربنناہے۔
صوبوں کے اعتبار سے شہری مجموعوں کی ایک فہرست تیار کیجیے، ان شہروں کے مدارج کے اعتبار سے صوبوں کی وار آبادی معلوم کیجیے ۔
تعلیمی شہر (Educational towns)
کچھ شہرتعلیمی مراکزکی حیثیت سے وجود میں آئے اور آج بڑے تعلیمی اداروں کے لیے جانے جاتے ہیں جیسے رُڑکی، وارانسی، علی گڑھ، پلانی، اِلہ آباد وغیرہ۔
مذہبی اورثقافتی شہر
(Religious and cultural towns)
وارانسی، متھرا، امرتسر، مدورائی، پُری، اجمیر، پشکر، تروپتی، کروکشیترا، ہری دوار ، اُجین، اپنی مذہبی اور ثقافتی اہمیت کی بنا پر جانے جاتے ہیں ۔
سیّاحی شہر (Tourist towns)
نینی تال، مسوری، شملہ، پنج مڑھی، جودھپور، جبل پور، اوڈاگامنڈلم، (اوٗٹی) ماؤنٹ ابو وغیرہ سیاحی شہرکے درجہ میں آتے ہیں۔
شہروں کا تفاعلی کردار ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ ان کے افعال ان کی محرک فطرت کی بنا پر بدلتے رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ مخصوص شہر جب وہ شہرستانوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں تو وہ کثیر العمل شہر بن جاتے ہیں ۔جن میں صنعت ، تجارت، انتظامیہ، نقل و حمل وغیرہ بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اور اِن سبھی افعال کا تانابانا اتنا مضبوط ہوجاتا ہے کہ کسی شہر کو کسی خاص عمل کی بنیاد پر پہچان نہیں دی جا سکتی۔

مشقیں
.1 نیچے دیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) مندرجہ ذیل میں سے کون سا شہر کسی ندی کے کنارے نہیں آباد ہے؟
(a) آگرہ (b) بھوپال
(c) پٹنہ (d) کولکاتہ
(ii) ہندوستان کے دفتر مردم شماری کے مطابق مندرجہ ذیل میں سے کون سی ایک صفت شہر کی تعریف کا حصہ
نہیں ہے؟
(a) آبادی کی کثافت 400 لوگ فی مربع کلومیٹر
(b) نگرپالیکا، کارپوریشن وغیرہ کا وجود
(c) 75فی صد سے زیادہ آبادی ابتدائی شعبہ سے جڑی ہوئی ہو۔
(d) آبادی کا حجم 5,000 لوگوں سے زیادہ ہو
(iii) مندرجہ ذیل میں سے کس ماحول میں بکھری ہوئی دیہی بستیاں پائے جانے کی امید نہیں رکھنا چاہیے؟
(a) گنگا کا سیلابی میدان
(b) راجستھان کے خشک میدان اور نیم خشک علاقے
(c) ہمالیہ کی نچلی گھاٹیاں
(d) شمال مشرق کے جنگلات اور پہاڑیاں
(iv) مندرجہ ذیل میں سے شہروں کا کون سلسلہ اپنی امتیازی حیثیت کے مطابق قلم بند کیا گیا ہے؟
(a) گریٹرممبئی ، بنگلورو،کولکاتہ، چنئی
(b) دہلی، گریٹرممبئی ، چنئی، کولکاتہ
(c) کولکاتہ ، گریٹرممبئی، چنئی، کولکاتہ
(d) گریٹرممبئی، کولکاتہ، دلّی، چنئی
.2 ذیل کے سوالات کا جواب 30الفاظ میں دیجیے۔
(i) چھاؤنی شہر کیا ہوتے ہے؟ ان کے تفا عل کیا ہیں؟
(ii) شہری گچھےکی پہچان کس طرح کی جاسکتی ہے؟
(iii) ریگستانی علاقوں میں گاؤں کے وقوع پزیر ہونے کی اہم وجوہات کیا ہیں؟
(iv) عروس البلد یا شہرستان کسے کہتے ہیں؟ یہ شہری گچھو سے کس طرح الگ ہوتے ہیں؟
.3 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب 150الفاظ میں دیجیے۔
(i) مختلف اقسام کی دیہی بستیوں کی نمایاں خصوصیات کا تجزیہ کرتے ہوئے۔مختلف طبعی ماحول میں بستیوں کے مختلف اشکال کے لیے ذمہ دار عوامل کو بیان کیجیے۔
(ii) کیا آپ ایک ہی تفاعل والے شہرکے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ شہر کثیرتفاعل کیوں ہوجاتے ہیں؟
