Skip to content
Awamaurmaishat-005

اکائی III 

باب  5

زمین کے وسائل اور زراعت


2
آپ نے اپنے اطراف میں زمین کے کئی طرح کے استعمال دیکھے ہوں گے۔ زمین کے کچھ حصے پر ندیاں ہیں، کچھ پردرخت ہیں اور کچھ پر سڑکیں اور عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔زمین کی مختلف اقسام الگ الگ طرح کے استعمال کے لیے مناسب ہیں۔ اس طرح انسان زمین کو پیداوار، سکونت اور تفریح کے وسائل کے طور پراستعمال کرتا ہے۔ آپ کے اسکول کی عمارت، سڑکیں جن پرسفر کرتے ہیں، میدان جہاں آپ کھیلتے ہیں۔ کھیت جن پر فصلیں اگائی جاتی ہیں اور چراگاہیں جہاں جانور چرتے ہیں زمین کے مختلف استعمال کونمایاں کرتے ہیں۔

 زمین کے استعمال کی اقسام

(Land Use Categories) 

شعبۂ محصول زمین کے استعمال کا حساب رکھتا ہے۔  اگر سبھی طرح کے زمینی استعمال کی اقسام کو جمع کیا جائے تو وہ رپورٹنگ رقبہ کے برابر ہوتا ہے جو کہ جغرافیائی رقبہ سے الگ ہے۔ہندوستان کی انتظامی اکائیوں کے جغرافیائی رقبہ کی صحیح معلومات دینے کی ذمہ داری سروے آف انڈیا کی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سروے آف انڈیا کے تیار کردہ نقشوں کا استعمال کیا ہے؟مال گزاری (land revenue)کے نقشوں اور سروے آف انڈیا کے نقشوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلے معاملے میں رقبہ کاتخمینہ شعبہ محصول کرتا ہے جو کہ رپورٹنگ رقبہ کے مطابق کم و بیش ہوسکتا ہے۔جبکہ جغرافیائی رقبہ سروے آف انڈیا کے ذریعہ طے ہوتا ہے لہٰذا یہ اس میں تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ آپ زمین کے استعمال کی درجہ بندی کے بارے میں دسویں جماعت کی سماجی سائنس کی کتاب میں پڑھ چکے ہیں۔

شعبہ محصول کے دستاویزات کے مطابق زمین کے استعمال کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں  :

(i) جنگل  (Forest)   :   یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ جنگلات کے اصل رقبہ اور جنگلات سے ڈھکے علاقےدونوں کے معنی مختلف ہیں۔جنگلات سے ڈھکی زمین سرکارکی جانب سے حدبندی کیا گیاوہ علاقہ ہوتا ہے جہاں قدرتی طور پر یا شجر کاری کے ذریعہ جنگلات کی افزائش ہوسکے۔ اس تعریف سے محصول کی زمین کے دستاویز بھی متفق نظر آتے ہیں۔ پس جنگلات کے اصل رقبہ میں اضافہ تو ہوسکتا ہے لیکن جنگلات سے ڈھکے علاقے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی ہے

(ii) زمین کے غیر زرعی استعمال (Land  put  to Non-agricultural Uses) :

اس درجہ میں بستیاں (دیہی اور شہری) ابتدائی سہولیات انفراسٹرکچر، (سڑکیں اور نہریں وغیرہ)، اشیا ساز صنعتوں، دوکانوں وغیرہ کے لیے استعمال ہونے والی زمین شامل ہے۔ثانوی اور ثالثی سرگرمی میں اضافہ سے اس درجہ کی زمین کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

(iii) بنجراور بے کاد زمین (Barren and  Wastelands) :

 وہ زمین جوحاصل شدہ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی زراعت کے قابل نہیں بنائی جاسکتی، جیسے بنجر، پہاڑی خطہ،ؔ ریگستان، بیہڑ وغیرہ۔

 (iv) مستقل چراگاہیں اورگھاس کے میدان (Area under permanent Posture and Grazing lands):

 اس طرح کی زیادہ تر زمین پرگرام پنچایت یا سرکار کا مالِکاتہ اختیار ہوتا ہے۔ اس زمین کا صرف ایک چھوٹا حصہ نجی ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ گرام پنچایت کے مالکانہ اختیار والی زمین کو مشترکہ ملکیت کے وسائل (Common Property Resources) کہتے ہیں۔ 

(v) متفرقہ شجری فصلوں اور باغوں کے زیرزمین کا رقبہ خالص بویا رقبہ شامل نہیں (Area under Miscellaneous Tree Crops and Groves (Not included is Net Sown Area) : 

اس درجہ میں وہ زمینیں شامل رقبہ ہیں جن پر باغات اور پھل دار درخت لگے ہوں۔ اس طرح کی زیادہ تر زمین نجی مالکوں کے پاس ہیں۔

(vi) قابل زراعت بے کار زمین(Culturable Waste- Land)  : اس درجہ میں وہ زمین آتی ہے جو پانچ سال سے زیادہ مدّت تک غیرمزروعہ رہی ہو اس طرح کی زمین کو تکنیکی مدد سے دوبارہ زراعت کے لائق بنایا جاسکتا ہے۔

(vii) موجودہ افتادہ  (Current Fallow)  :  وہ زمین جو ایک یا اس سے کم زراعتی سال میں استعمال نہیں جاتی۔ یہ ایک روایتی طریقہ ہے جس کے ذریعہ زمین کوآرام دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے زمین اپنی کھوئی ہوئی طاقت قدرتی طور پر حاصل کر لیتی ہے۔

(viii) افتادہ موجودہ افتادہ کے علاوہ (Fallow other than  Current Fallow) : یہ زراعت کے لائق  زمین کا وہ حصہ ہے جس پر ایک سال سے زیادہ لیکن پانچ سال سے کم  مدّت تک کھیتی نہیں کی گئی ہو۔ اگرزمین کے کسی حصہ پر پانچ سال سے زیادہ وقت تک زراعت نہیں کی گئی ہو تو اسے قابل زراعت بے کارزمین کے درجہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔

(ix) خالص بویا گیا رقبہ (Net Area Sown): زمین کی اس طبعی وسعت کو کہتے ہیں جس پر فصلیں اگائی اور کاٹی جاتی ہیں۔

ہندوستان میں زمین کے استعمال میں تبدیلی   

(Land-use Changes in India)

کسی علاقے کا زمینی استعمال بہت حد تک، اس علاقہ کی معاشی سرگرمیوں پر منحصرہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوںمیں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لیکن زمین کے رقبہ میں کسی دیگر دوسرے قدرتی وسائل کی طرح کوئی تبدیلی نہیں آتی۔یہاں پر معیشت کی اُن تبدیلیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جن کا زمین کے استعمال پر اثر پڑتا ہے۔

(i) معیشت کا حجم(Size of the economy)  

(جومعیشت کے مال اور خدمات کی قیمت پر منحصرہوتاہے)۔ وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور جو بڑھتی آبادی ، آمدنی کے معیارمیں تبدیلی،حاصل ٹیکنالوجی اور ان سے وابستہ عوامل پر منحصر ہے۔نتیجتاً وقت کے ساتھ ساتھ زمین پر دبا ؤ بڑھتا ہے اور حاشیہ بردار زمین کا بھی استعمال شروع ہوجاتا ہے۔

(ii)  

(ii)  دوسرے یہ کہ وقت گذرنے   کے ساتھ معیشت کی ساخت  (Composition of the economy) : 

میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔بالفاظ دیگر ثانوی اور ثالثی شعبوں میں ابتدائی شعبوں اور خاص کر زراعتی شعبہ کے مقابلے زیادہ تیز اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح کی تبدیلی ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک  میں عام ہے۔ اس عمل کی وجہ سے زمین کا استعمال زراعت کے بجائے غیر زرعی کاموں میں ہونے لگتا ہے۔ آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ اس طرح کی تبدیلیاں بڑے شہروں کے اطراف میں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔جہاں اس عمل کی وجہ سے زرعی زمین کو تعمیری مقاصد کے لیےاستعمال کیاجاتا ہے۔

(iii)تیسرے اگر چہ وقت کے ساتھ ساتھ معیشت میں زراعت کا حصہ کم ہوتا جارہاہے لیکن زمین پر کھیتی کا دباؤ کم نہیں ہورہا ہے۔ کھیتی کی زمین پرمستقل بڑھتے دباؤ کی وجوہات ہیں۔  

(a)  ترقی پذیر ممالک میں زراعت پر منحصر آبادی کا تناسب

 آہستہ آہستہ گھٹتا ہے جبکہ کل گھر یلو پیداوار (GDP) میں کھیتی کی حصہ داری میں نسبتاً تیز گراوٹ آتی ہے۔

(b) آبادی میں اضافہ کی وجہ سے زراعتی شعبہ پر زیادہ لوگوں کو 

خوراک مہیاں کرانے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

   سرگرمی


ضمیمہ(vii) اور جدول1اور2 کی مدد سے 1960-61 اور 1999-2000کی کل گھر یلوپیداوار(GDP) میں ابتدائی ثانوی اورثالثی شعبوں کے بدلتے تناسب کا موازنہ 1960-61 اور 2008-09 میں آراضی کے استعمال میں بدلاؤ سے کیجیے۔ 


3

ہندوستان میں زمین کے استعمال کی اقسام کی درجہ بندی میں تبدیلی61-1960 اور 09-2008

as

               نوٹ:سیکشنI کی درجہ بندی (iv) اور(v) کو گراف میں ضم کر دیا گیا ہے۔ 

پچھلی چار یا پانچ دہائیوں میں ہندوستان کی معیشت ایک بڑے تغیر سے دوچار ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں زمین کے استعمال میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں جو 61-1960اور 09-2008کے مابین ظہور میں آئی ہیں، انھیں شکل 5.1میں دکھایا گیا ہے۔ اس شکل سے کچھ مطلب اخذ کرنے سے پہلے دونکتے قابل غور ہیں۔اوّل یہ کہ مختلف اقسام کے زمینی استعمال کا فی صدرپورٹنگ رقبہ کے تعلق سے ہے نہ کہ جغرافیائی رقبہ کے تعلق سے۔ دوئم یہ کہ رپورٹنگ رقبہ چونکہ ایک عرصہ سے یکساں رہا ہے چنانچہ زمین کے کسی ایک استعمال میں کمی زمین کے کسی دوسرے استعمال میں اضافہ کا باعث ہوگی۔ 

زمین کے چار طرح کے استعمال میں اضافہ اور چار میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ جنگلات، زراعت کے لیے غیردستیاب اور موجودہ غیر مزروعہ زمینوں اور کاشت کاری کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔اس اضافہ سے متعلق مشاہدے ذیل میں درج کیے گئے ہیں: 

(i) غیر زرعی سرگرمیوں میں زمین کے استعمال میں کا فی تیزی 

درج کی گئی ہے۔ اس کی وجہ ہندوستانی معیشت کی بدلتی ساخت ہے جو کہ کافی حد تک صنعتی اور خدماتی شعبوں پراور ان سے وابستہ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دیہی اور شہری بستیوں کے رقبہ میں اضافہ کی وجہ سے بھی اس مدّ کی زمین میں افزائش درج کی گئی ہے۔ غیرزرعئی زمین کے رقبہ میں اضافہ متروکہ اورزرعی زمین کے رقبہ میں گراوٹ کی قیمت پر ہوا ہے۔ 

(ii) جیسا کہ پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے کہ ملک میں جنگلات کے رقبہ 

میں اضافہ جنگل کی تعریف اور حدبندی کی وجہ سے ہوا ہے نہ کہ جنگلات سے ڈھکے علاقہ میں کسی اضافہ کی وجہ سے۔

(iii) موجودہ غیر مزروعہ کے رقبہ میں اضافہ کو صرف دونکات کی بنیاد پر 

بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ غیرمزروعہ رقبہ میں پچھلے چند سالوں میں کافی اُتار چڑھاؤ رہا ہے۔جس کا تعلق بارش کی غیریکسانیت اور فصلی دور (cropping cycle)سے ہے۔ 

(iv) کاشت کاری کے رقبہ میں اضافہ دورجدید کی دین ہے۔جس کا سبب قابل کاشت بنجر زمین کا رزاعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس سے پہلے اس زمرے میں سُست رفتاری سے کمی واقع رہی تھی۔ کاشت کاری کے رقبہ میں کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین کے غیرزراعتی استعمال کے رقبہ میں اضافہ ہوا ہے۔ (نوٹ:اپنے گاؤ ں اور شہر میں قابل زراعت زمین پر ہو رہی تعمیراتی سرگرمیوں پر غور کیجیے)۔

زمین کے استعما ل کی وہ چار اقسام جن کے رقبہ میں کمی آئی ہے۔ بنجر اور بے کارزمین، قابل زراعت بنجر،چراگاہوں اور درختی فصلوں کی زمین اور خالص بویا گیا رقبہ ہے۔

ذیل میں ان وجوہات کو بیان کیا گیا ہے جو اِن اقسام کے رقبہ میں گراوٹ کے لیے ذمہ دار ہیں۔

(i) وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے زرعی اور غیر زرعی زمینوں پر

آبادی کا دباؤ بڑھتا گیا ویسے ویسے ناقابل کاشت اور قابل کاشت زمینوں میں کمی کا رجحان درج کیا گیا ہے۔

(ii) چراگاہوں کے رقبہ میں کمی کو قابل کاشت زمین پربڑھتے دباؤ 

کے واسطے سے بیان کیا جاسکتاہے ۔مشترکہ چراگاہوں پر غیرقانونی طور پر قبضہ اس کی اہم وجہ ہے۔

سرگرمی


حقیقی اضافہ اور شرح اضافہ میں کیا فرق ہے؟ ضمیمہ(viii)اور جدول 1میں دیئے گئے اعدا د وشمار کی مدد سے 1960-61 اور 2008-09 کے مابین زمین کے استعمال کی سبھی اقسام کے لیے حقیقی اضافہ اور شرح اضافہ معلوم کیجیے اورنتائج کو بیان کیجیے۔


اساتذہ کے لیے نوٹ

حقیقی اضافہ معلوم کر نے لیے دو مدت کے درمیان ہوئے زمین کے حقیقی استعمال میں فرق معلوم کیجیے۔

شرح اضافہ معلوم کرنے کے لیے مفرد شرح افزائش یعنی کہ (دو سالوں کے اعدا د وشما ر کا فرق معلوم کریں بہ الفاظ دیگر آخری سال کے اعدادو شمار سے پہلے سال کے اعداد و شمار کو نفی کرکے اُ سے پہلے سال کے یعنی 61-1960کے اعداد و شمار سے تقسیم کریں۔ )کو استعمال کریں۔

2008-09  میں خالص بویا گیا رقبہ۔ 61-1960میں خالص بویا گیا 100

 1960-61میں خالص بویا گیا رقبہ


مشترکہ املاک کے وسائل

 (Common Property Resources)  

مالکانہ حقوق کی بنا پرزمین کو موٹے طو5ر پر دوحصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ذاتی ملکیت اور مشترکہ عوامی ملکیت کے وسائل (CPRs) ۔ پہلی قسم کی زمین کے مالکانہ حقوق کسی فرد ِ واحد یا چندافراد کے ایک گروہ کے پاس ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کی زمین کے مالکانہ حقوق حکومت کے پاس ہوتے ہیں اور عوام کو اس کے استعمال کی آزادی ہوتی ہے۔مشترکہ ملکیت سے جانوروں کے لیے چارہ، گھریلو استعمال کے لیے ایندھن اور ساتھ ہی مختلف اقسام کی اشیا جیسے پھل ، ریشے ،گٹھلیاں ، جڑی بوٹیاں وغیرہ حاصل ہوتی ہیں۔دیہی علاقوں میں زرعی مزدوروں، حاشیہ بردارکسانوں اور سماج کے دیگرکمزور طبقہ کے لوگوں کی زندگی میں مشترکہ املاک کے وسائل کی خاص اہمیت ہے کیونکہ زمین کے مالکانہ حقوق نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی کا دارومدار جانوروں سے ہونے والی آمدنی پر ہوتا ہے۔ یہ مشترکہ املاک کے وسائل خواتین کے لیے خاصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں چارہ اور ایندھن کی لکڑی کا انتظام کرنے کی ذمہ داری عورتوں کی ہی ہوتی ہے۔جوچارہ اور ایندھن کی تلاش میں مشترکہ املاک کے وسائل کے پست علاقوں میں گھنٹوں بھٹکتی رہتی ہیں۔

مشترکہ املاک کے وسائل کو عوامی قدرتی وسائل بھی کہا جا سکتا ہے۔ جہاں پر ہر فرد کو کچھ ذمہ داریوں کے ساتھ مالکانہ حقوق کے بغیر اس کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے۔عوامی جنگلات،چراگاہیں ، گاؤ ں کے آبی وسائل اور دوسرے عوامی مقامات وغیرہ مشترکہ عوامی وسائل کی ایسی مثال ہیں جن کا استعمال ایک خاندان سے زیادہ بڑے لوگوں کے ایک حلقہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اور ان ہی لوگوں پر ان کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

                                        جدول5.1:قابل کاشت زمین کی ساخت

زرعی زمین کا ستعمال
درجات
کل رپورٹنگ رقبہ(فی صد) بویا گیا کل رقبہ(فی صد)
1960-61 2008-09 1960-61 2008-09
قابل کاشت متروکہ 6.23 4.17 10.61 7.1
افتادہ موجودہ افتادہ کے علاوہ 3.5 3.37 5.96 5.75
موجودہ افتادہ 3.73 4.76 6.35 8.13
خالص بویا گیا رقبہ 45.26 46.24 77.08 78.98
کل قابل کاشت رقبہ 58.72 58.54 100.00 100.00

4

ہندوستان میں زرعی زمین کا استعمال

Agricultural Land use in India)

زمینی وسائل کی اہمیت اُن لوگوں کے لیے زیادہ ہے جن کی زندگی کا دارومدار کاشت کاری پر ہے۔

(i) ثانوی اور ثالثی معاشی سرگرمیوں کے مقابلے زراعت پوری طرح زمین پرمنحصرہے۔ بالفاظ دیگر زراعت میں زمین کی اہمیت دوسرے شعبوں سے زیادہ ہے۔ لہٰذا دیہی علاقوں میں غربت کا سیدھا تعلق زمین کے مالکانہ حقوق سے ہے۔ جن لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے وہ عموماً غریب ہوتے ہیں ۔ 

(ii) زمین کی زرخیزی زراعت کی پیداواریت کو اثر انداز کرتی ہے۔ جو کہ دوسری معاشی سرگرمیوں میں نہیں ہے۔

(iii) دیہی سماج میں زمین کی ملکیت کی معاشی اہمیت کے علاوہ سماجی اہمیت بھی ہے۔ یہ قدرتی آفات اور انفرادی مشکلات میں حفاظتی غلاف کے طور پر کام کرتی ہے اور ساتھ ہی سماجی حیثیت بڑھاتی ہے ۔ 

کل زرعی زمین کے وسائل کا تخمینہ، خالص مزروعہ رقبہ اور سبھی طرح کی مزروعہ زمین کا رقبہ اور قابل زراعت بنجر زمین کے رقبہ کے جمع سے لگایا جاسکتا ہے۔ جدول 5.1کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پچھلے سالوں میں کل مرقوم (reporting) رقبہ میں زرعی زمین کا فی صد قدرکم ہوا ہے۔ قابل کاشت بے کارزمین کے رقبہ میں کمی کے باوجودخالص مزروعہ زمین میں کافی کمی ہوئی ہے۔

مندرجہ بالا بحث سے یہ ظا ہر ہے کہ ہندوستان میں خالص مزروعہ رقبہ میں افزائش کی گنجائش محدود ہے۔ زمین کی حفاطت کے لیے ایسی تکنیکی ایجادات کی ضرورت ہے جو ز مین کو بچانے میں مددگار ثابت ہوسکیں ۔اس طرح کی تکنیک کو دومدّوںمیں رکھا جا سکتا ہے۔ پہلی وہ جو فی مربع ہیکٹر میں کسی مخصوص فصل کی پیداوار بڑھائیں اور دوسری وہ تکنیک جو ایک زرعی سال میں زمین کے استعما ل کی شدت میں اضافہ کرتے ہوئے تمام فصلوں کی مجموعی پیداوار میں اضافہ کریں ۔ اس دوسری تکنیک کا فائدہ یہ ہے کہ محدود زمین سے بھی کل پیداوار میں اِضافہ ہونے کے ساتھ مزدوروں کی مانگ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں زمین کی کمی ہے اور مزدوروں کی افراط ہے زمین کے استعمال کی شدت میں اضافہ محض پیداوار بڑھانے کے لیے ہی نہیں بلکہ دیہی معیشت میں بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ 

فصلی شدّت (Cropping intensity)کو مندرجہ ذیل طریقہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ 

Capture22


ہندوستان کے فصلی موسم

(Cropping Seasons in India)

ہمارے ملک کے شمالی اور اندرونی حصوں میں تین اہم فصلی موسم ہیں جو خریف، ربیع اور زائد کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ خریف کی فصلیں زیادہ تر جنوب ، مغربی مانسون کے ساتھ بوئی جاتی ہیں جس میں ٹراپیکی فصلیں جیسے چاول ، کپاس ، جوٹ ، جوار ، باجرا اور تور وغیرہ شامل ہیں ۔ ربیع کا موسم اکتوبر، نومبر میں ، موسم سرما سے شروع ہوکر مارچ، اپریل میں ختم ہوجاتاہے۔اس موسم میں کم درجہ حرارت کی وجہ سے نیم، ٹراپیکی (sub-tropical) اور معتدل (temperate) خطوں کی فصلوں جیسے گیہوں ۔ چنا، سرسوں وغیرہ کی کاشت میں مددملتی ہے۔ ’’زائد‘‘ ایک کم مدتی موسم گرماکا فصلی موسم ہے جو ربیع کی فصلوں کی کٹائی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس موسم میں آب پاشی کی مدد سے تربوز ، کھیرا،ککڑی ، سبزیا ں اور چارہ کی کاشت کی جا تی ہے۔ موسم کی ایسی تفریق ملک کے جنوبی حصوں میں نہیں پائی جاتی ہے۔ ملک کے جنوبی حصہ میں پورے سال اونچے درجہ حرارت کی وجہ سے ٹراپیکی فصلوں کی کاشت کے لیے مناسب ہیں۔ بشر طیکہ مٹی میں رطوبت موجود ہو۔ اسی وجہ سے ملک کے اس حصہ میں جہاں بھی سینچائی کی سہولیات میسّر ہیں ایک زرعی سال میں ایک ہی فصل تین مرتبہ اُگائی جاسکتی ہے۔ 

زراعت کی اقسام       (Types of Farming)

رطوبت کی دستیابی کی بناپر زراعت کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔  آبیاری (Irrigated) بارش پر منحصر(بارانی)(rainfed)  زراعت ۔ آبیاری زراعت میں بھی آب پاشی کے مقصد کی بنا پرفرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرتحفظی یا حاصل خیز۔تحفظی آب پاشی کا مقصدمٹی میں رطوبت کی کمی کی وجہ سے فصلوں کو برباد ہونے سے بچانا جب کہ حاصل خیز آب پاشی کا مقصد عام طور پر بارش کے علاوہ آب پاشی سے پانی کی ضمنی فراہمی ہوتی اور فصلوں کو اُن کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرکے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہے۔ اس طرح کی سینچائی میں پانی کی کھپت مزروعہ زمین کے فی مربع رقبہ میں پہلی قسم کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ بارانی کھیتی کو بھی رطوبت کی فراہمی کی بنا پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ خشک کھیتی (Dry Land Farming) اورمرطوب کھیتی (Wet Land Farming) ہندوستان میں خشک کھیتی خصوصی طور پر اُن ریاستوں تک محدود ہے جہا ں بارش کا سالانہ اوسط75سینٹی میٹر سے کم ہے۔ اِن علاقوں میں ایسی فصلیں اُگائی جاتی ہیں جو پا نی کی کمی کو برداشت کر سکتی ہیں جیسے۔،راگی ، باجرا ، مونگ، چنا اور جوار (چارہ کی فصل ) وغیرہ ۔اس کے علاوہ ان علا قوں میں رطوبت کے تحفظ ا ور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ مرطوب کھیتی والے علاقوں میں موسم باراں میں مٹی کی رطوبت پودوں کی ضرورت سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے علاقے سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ جیسی دشواریوں کا سامناکرتے ہیں ۔ ان علاقوں میں وہ فصلیں اگائی جاتی ہیں جنھیں زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے چاول، جوٹ ، گنّا وغیرہ۔ اس کے علاوہ تازہ آب گاہوں میں آبگیر زراعت (aquaculture) بھی کی جاتی ہے۔

                                        جدول5.2:ہندوستان کے فصلی موسم

فصلی موسم اہم فصلیں
شمالی ریاستیں جنوبی ریاستیں
حریف چاول،کپاس،باجرز چاول،مکئی،راگی
جون تا ستمبر جوار،تور،مکئی جوار،مونگ پھلی
ربیع گیہوں،چنا،سرسوں چاول،مکئی،راگی
اکتوبر تا مارچ اور جو مونگ پھلی، جوار
زائد سبزیاں چاول سبزیاں
اپریل تا جون پھل اور چارہ اور چارہ

5

غذائی فصلیں   (Food   grains) 

ہندوستان کی زرعی معیشت میں غذائی فصلوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کاشت ملک کے کل مزروعہ رقبہ کے تقریباً دو تہائی حصہ پرکی جاتی ہے ۔ غذائی فصلوں کی پیداوار ملک کے ہر حصہ میں اہمیت کی حامل ہے۔ چاہے وہ گزرانی زرعی معیشت ہو یا نقدی زرعی معیشت ہو۔ دانوں کی ساخت کی بنا پرغذائی فصلوں کودو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اناج اور دالیں ۔

 اناج     (Cereals) 

 ہندوستان کے کل بوئے گئے رقبہ کے 54فی صد ی حصہ میں اناج پید اکیا جاتا ہے۔ ہندوستان دنیا کا تقریباً 11فی صدی اناج پید اکرتا ہے چین اور امریکہ کے بعد اس کا تیسرا مقام ہے۔ ہندوستان میں مختلف اقسام کے اناج پیدا کیے جا تے ہیں جو کہ باریک اناج ( چاول اور گیہوں ) اور موٹے اناج (جوار، باجرا، مکّا اور راگی) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباسات میں کچھ مخصوص اناجوں کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے۔ 

چاول   (Rice)

چاول ہندوستان کی بڑی آبادی کی مرغوب غذا ہے۔ اگر چہ چاول مرطوب منطقہ چارہ کی فصل سمجھی جاتی ہے۔تاہم اس کی 3000اقسام مختلف زرعی آب و ہوائی خطوںAgro-climatic regions ) ( میں اُگائی جاتی ہیں یہ سطح سمندر سے لے کر 2000میٹر کی اُنچائی تک والے علاقوں اور مشرقی ہندوستان کے مرطوب علاقوں سے لے کر پنجاب ، ہریانہ ، مغربی اترپردیش ، اورشمالی راجستھان کے خشک لیکن آب پاشی والے علاقوں میں کامیابی سے اُگایا جاتا ہے، جنوبی ریاستوں اور مغربی بنگال کی آب و ہوا میں ایک زرعی سال میں چاول کی دو یاتین فصلیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مغربی بنگا ل میں کسان ایک سال میں چاول کی تین فصلیں حاصل کرتا ہے۔ جنھیں  ’اس‘ (aus)  ’امن‘(aman) اور ’بورو‘ (boro) کہتے ہیں ۔ لیکن ہمالیہ اور ملک کے شمال مغربی حصوں میں چاول خریف کی فصل جوکہ مغربی ما نسون کے موسم میں اُگائی جاتی ہے۔

2008-09 میں چاول کی بین الاقوامی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ 21.6فی صد ی تھا اور چین کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔ ملک کے کل مزروعہ رقبہ کے تقریباً ایک چوتھا ئی حصہ پر چاول کی کھیتی ہوتی ہے ۔ملک میں 16-2015میں چا ول پیدا کرنے والی اہم ریاستیں مغربی بنگال، پنجاب ، اُترپردیش تھیں ۔ چا ول کی فی ہیکٹر پیداوار پنجاب ، تمل ناڈو، ہریانہ ، آندھراپردیش، مغربی بنگال اور کیرالہ میں زیادہ ہے۔ان میں سے پہلی چار ریاستوں میں چاول کی کاشت آب پاشی کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔ پنجاب اور ہریانہ چاول کی کاشت کے روایتی علاقے نہیں ہیں۔ سبز انقلاب کے بعد ہریانہ اور پنجاب کے آب پاشی والے علاقوں میں 1970کی دہائی سے چاول کی کاشت شروع ہوئی تھی۔بہتر قسم کے بیج، کیمیائی کھا د کانسبتاً زیادہ استعمال، کیڑے ماردوا، اورخشک آب و ہوا میں کیڑوں کی کم افزائش ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ان علاقوں میں چاول کی فی ہیکٹر پیداوار زیادہ ہے۔ اس کے برخلاف مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اوراُڈیشہ وغیرہ جو بارش پر منحصر ہیں ، وہا ں چاول کی فی ہیکٹر پیداوار بہت کم ہے۔

6

شکل 5.2  :ہندوستان کی جنوبی ریاستوں میں دھان کی روپائی

گیہوں   (Wheat)

 ہندوستان میں چاول کے بعد گیہوں دوسرا اہم ترین اناج ہے۔ 2017میں ہندوستان نے دنیا کا 12.8 فی صدی گیہوں پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک معتدل خطہ کی فصل ہے ۔ اس لیے ہندوستان میں اِسے موسم سرما یعنی ربیع کے موسم میں بویا جاتا ہے۔ اس فصل کا 85فی صدرقبہ ملک کے شمالی اور وسطی حصہ ، یعنی گنگا کے میدان، مالوا کے پٹھا ر‘ اور ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں سطح سمندرسے 2700 میٹر کی اُنچائی تک پایا جاتا ہے ۔ ربیع فصل ہونے کی وجہ سے اس کی کھیتی اُن علاقوں میں ہی کی جاتی ہے جہاں سینچائی کی سہولیات دستیاب ہیں ۔ لیکن ہمالیہ کے کوہستان میں اور مالوا پٹھار کے کچھ حصوں میں یہ بارانی فصل ہے۔ 
ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کے تقریباً 14فی صدی حصے پر گیہوں کی کھیتی کی جا تی ہے۔ گیہوں پیدا کرنے والی پانچ اہم ریاستیں ، اُترپردیش ، پنجاب، ہریانہ ، راجستھان اور مدھیہ پردیش ہیں ۔ پنجاب اور ہریانہ میں فی ہیکٹر گیہوں کی پیدا وار (4,000 کلوگرام) خاصی زیادہ ہے۔ جبکہ اترپردیش، راجستھان اور بہار میں فی ہیکڑ پیداوار اوسط درجہ کی ہے۔مدھیہ پردیش ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں گیہوں کی کاشت بارانی ہونے کی وجہ سے فی ہیکڑ پیداوار بھی کم ہے۔ 
ass
                             شکل5.3:ہندوستان۔چاول کی تقسیم

جوار  (Jowar)

  ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کے تقریباً16.50 حصے پر موٹے اناج پیدا کیے جاتے ہیں ۔ ان میں جواراہم ہے۔ اسے کل بوئے گئے رقبہ کے 5.3 فی صد حصہ پر اُگایا جاتا ہے۔ یہ جنوبی اور وسطی ہندوستان کے نیم خشک علاقوں کی اہم غذائی فصل ہے۔ مہاراشٹر ااکیلے ہی ملک کی کل پیدا وار کا آدھے سے زیادہ جوار پیدا کرتا ہے۔ جوار پیدا کرنے والی دیگرریاستوں میں کرناٹک ،مدھیہ پردیش ، اور آندھراپردیش اہم ہیں۔ جنوبی ریاستوں میں اسے ربیع اور خریف دونو ں موسموں میں بویا جاتا ہے لیکن شمالی ہندوستان میں یہ خریف کی فصل ہے۔اسے خاص طور پر چارے کی فصل کے طور پر پیدا کیا جاتاہے۔ وندھیاچل کے جنوب میں یہ بارانی فصل ہے۔یہاں اس کی فی ہیکٹر پیداوار بھی بہت کم ہے۔ 

باجرا   (Bajra)

 ہندوستان کے مغربی اور شمال مغربی خطّوں کی گرم اور خشک آب وہوامیں کاشت کیا جاتا ہے۔یہ ایک سخت مزاج فصل ہے جو ان علاقوں میں اکثر ہونے والے خشک موسم، قحط اور خشک سالی سے مقابلہ کرنے کی اہل ہے ۔ یہ اکیلے یا کسی اور فصل کے ساتھ مخلوط حالت میں کاشت کی جاتی ہے۔ یہ فصل ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کے تقریباً 5.2 فیصد ی حصہ پر بوئی جاتی ہے۔مہاراشٹر، گجرات، اترپردیش ، راجستھا ن اور ہریانہ باجر اپید اکرنے والی اہم ریاستیں ہیں ۔بارانی فصل ہونے کی وجہ سے راجستھان میں اس کی فی ہیکٹر پیدا وار کم ہے اورجس میں سالانہ تغیر پایا جاتا ہے۔قحط جیسے حالات برداشت کرنے والے بیجوں کی اقسام کی فراہمی اور سینچائی کی بہتر سہولیات کی وجہ سے حال کے سالوں میں ہریانہ اور گجرات میں باجرے کی فی ہیکٹرپیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

مکئی   (Maize)

مکئی بطورغذا ور چارہ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ یہ نیم خشک آب وہوا اور زرخیز مٹی میں پیدا کی جاتی ہے۔ یہ فصل ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کے صرف 3.6 فی صد حصّے میں پیدا کی جاتی ہے۔ اس کی کھیتی کسی مخصوص علاقہ تک محدود نہیں ہے۔ یہ مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان کے علاوہ ملک کے سبھی خطوں میں بوئی جاتی ہے۔ مکئی پیدا کرنے والی اہم ریاستوں میں مدھیہ پردیش، آندھراپردیش ،کرناٹک ، راجستھان، اور اُترپردیش اہم ہیں۔دوسرے موٹے اناجوں کے مقابلے اس کی فی ہیکٹرپیداوار زیادہ ہے۔اس کی پیداوار جنوبی ریاستوں میں زیادہ اور ملک کے وسطی حصوں میں کم درج کی جاتی ہے۔

دلہن یا دالیں   (Pulses)

پروٹین سے بھر پور ہونے کی وجہ سے دالیں سبزی خوروں کی خوراک کا ایک اہم حصہ ہیں ۔ یہ پھلی دار فصلیں ہیں جو نائٹروجن کی تثبیت (Fixation) کے ذریعہ مٹی کی قدرتی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہیں۔ ہندوستان دالیں پیدا کرنے والا ایک اہم ملک ہے۔ دالوں کی کل عالمی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ تقریباً 20فی صدی ہے ۔ ملک میں دالو ں کی کھیتی زیادہ تر دکن کے خشک حصوں، وسطی پٹھاری علاقوں اور شمال مغرب کے خشک حصّوں میں کی جاتی ہے۔ ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کے تقریباً11فی صدی حصّے پر دالوں کی کھیتی کی جاتی ہے۔ خشک علاقوں میں بارانی فصل ہونے کی وجہ سے دالوں کی فی ہیکٹیر پیداوار کم ہے۔ اور اس میں سالانہ تغیر پایا جاتا ہے۔ چنا اور ارہر ہندوستان کی اہم دالیں ہیں ۔ 

چنا   (Gram)

 چنا، نیم ٹراپیکی حصّوں میں اُگایا جاتا ہے۔ یہ بارانی فصل ہے جو کہ ملک کے وسطی، مغربی اور شمال مغربی حصوں میں ربیع کے موسم میںکاشت کی جاتی ہے۔ اس فصل کو کامیابی کے ساتھ اُگانے کے لیے بارش کی ایک یا دو ہلکی بوچھاروں یا ایک یا دو بار ہلکی سینچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہریانہ پنجاب اور شمالی راجستھان میں سبز انقلاب کی وجہ سے چنے کے رقبہ میں کمی آئی ہے اور اس کی جگہ گیہوں کی فصل نے لے لی ہے۔ اب ملک کے مجموعی مزروعہ رقبہ کے صرف 2.8فی صدی حصے پر ہی چنے کی کاشت ہوتی ہے۔ مدھیہ پردیش ، اُترپردیش ، مہاراشٹرا ، آندھراپردیش اور راجستھان چنا پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں ۔ اس کی فی ہیکٹیر پیداوار کم ہے اور سینچائی والے علاقوں میں بھی پیداوار میں سالانہ تغیرپایا جاتا ہے.
ge
شکل5.4:ہندوستان۔ گیہوں کی اقسام


تور( ارہر) (Tur (Arhar 

یہ ملک کی دوسری اہم دال ہے۔اسے لال چنا یا پیجین پی (Pigeon pea) بھی کہتے ہیں ۔ یہ ملک کےوسطی اور جنوبی ریاستوں کے خشک علاقوں میں بارش کی مدد سے حاشیہ کی زمین پر اگائی جاتی ہے ۔ ہندوستان کے کل مزروعہ رقبہ کے تقریباً 2 فی صد حصہ میں اس کی کھیتی کی جاتی ہے۔ ملک کی کل پیداوار کا تقریباً ایک تہائی حصہ اکیلے مہاراشٹرا سے حاصل ہوتا ہے ۔ اتر پردیش ،کرناٹک ،گجرات،، مدھیہ پردیش ارہر پیدا کرنےوالی دیگر اہم ریاستیں ہیں۔اس فصل کی فی ہیکٹر پیدا وار بہت کم اور تغیر پزیر ہے ۔ 


سرگرمی


مختلف غذائی فصلوں کے فرق کو ظاہر کریئے۔ مختلف غذائی فصلوں کو ملائیں اور ان میں سے اناجوں اور دالوں کو الگ کریں۔ اس کے علاوہ موٹے اناجوں کو باریک  اناجوں سے بھی الگ کریے۔

تلہن  (Oilseeds)

خوردنی تیل کے لیے تلہن کی کاشت کی جاتی ہے۔ مالوا کے پٹھارکی خشک زمین ، مراٹھواڑا ، گجرات ، راجستھان، آندھراپردیش کے تلنگانہ اور رائل سیما کے علاقہ اور کرناٹک کے پٹھاری علاقہ، ہندوستان میں تلہن پیدا کرنے والے اہم علاقے ہیں ۔ ملک کے کل مزروعہ رقبہ کے تقریباً 14فی صدی پر تلہن کی کاشت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تلہن فصلوں میں مونگ پھلی ،لہا، سرسوں ، سویابین اور سورج مکھی خاص ہیں۔

مونگ پھلی   (Groundnut)

مونگ پھلی کی عالمی پیداوار(2017)میں ہندوستان کا حصہ تقریباً 19.5فیصدی ہے۔ یہ خصوصاً خشک علاقہ کی بارانی فصل ہے جسے خریف میں کاشت کیا جاتا ہے۔ لیکن جنوبی ہندوستان میں یہ ربیع کے موسم میں کاشت کی جاتی ہے۔یہ ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کے 3.6فی صد حصہ پرکاشت کی جاتی ہے ۔ گجرات، تمل ناڈو، تلنگانہ ،آندھراپردیش ، کرناٹک اور مہاراشٹرا مونگ پھلی پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں ۔ تمل ناڈو میں جہاں بھی اس فصل کو جزوی طور پرآب پاشی کی سہولیت مہیا ہے وہا ں اس کی فی ہیکٹر پیداوار نسبتاً زیادہ ہے۔ لیکن تلنگانہ ، آندھراپردیش اور کرناٹک میں اس کی پیداوار کم ہے۔ 

لائی اور سرسوں   (Rapeseed and Mustard)

لائی اور سرسوں میں بہت سے تلہن شامل ہیں جیسے رائی ،سرسوں، توریا اور ترامیرا وغیرہ ۔ یہ بھی نیم منطقہ حارّہ کی فصلیں ہیں جن کوربیع کے موسم میں ہندوستان کے شمال مغربی اور وسطی خطّوں میں کاشت کیا جاتا ہے ۔ یہ فصلیں پالا برداشت نہیں کرسکتی ہیں۔ اور ان کی فی ہیکٹر پیداوار میں سالانہ طور پر اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتاہے۔ لیکن آب پاشی کی بہتر سہولیات اور بہتر بیج اورتکنیک سے پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ ا ن فصلوں کے تحت تقریباً دوتہائی حصہ پر آب پاشی کی سہولیات میسر ہیں ۔ ملک کے کل بوئے گئے رقبے کے صرف 2.5 فی صدی حصیّ پر تلہن کی کھیتی ہوتی ہے۔ اس کی پیداوار کا تقریباًایک تہائی حصہ راجستھان سے آتا ہے۔ جب کہ اُترپردیش ، ہریانہ ، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش دیگر اہم ریاستیں ہیں۔ اِ ن فصلوں کی فی ہیکٹر پیداوار ہریانہ اور پنجاب میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
                         
شکل5.5:امراوتی،مہاراشٹرا میں کسان سویابین کی بوائی کرتے ہوئے

9

دیگر تلہن  (Other Oilseeds)

سویابین اور سورج مکھی ہندوستان کے دیگر اہم تلہن ہیں ۔ سویابین زیادہ تر مدھیہ پردیش اورمہاراشٹرا میں بویا جاتا ہے۔ یہ دونوں ریاستیں مل کر ملک کا 90فی صد سویا بین پیدا کرتی ہیں ۔ سورج مکھی کی کاشت کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور اِن سے لگے ہوئے مہاراشٹرا کے کچھ حصّوں میں مرکوز ہے۔ ملک کے شمالی خطوں میں آب پاشی کی بہتر سہولیات کی وجہ سے اگر چہ فی ہیکٹر پیداوار زیادہ ہے لیکن اِ س کا رقبہ بہت کم ہے۔

ریشے دار فصلیں   (Fibre Crops)

یہ فصلیں ہمیں کپڑا ، چھوٹے بڑے تھیلے اور دیگر بے شمار اشیا بنانے کے لیے  ریشوں کی شکل میں خام مال فراہم کرتی ہیں ۔ کپاس اور جوٹ ہندوستان کی دواہم ریشے دار فصلیں ہیں ۔

          Capture.png 1

شکل5.6:ہندوستان -کپاس اور جوٹ کی تقسیم


کپاس (Cotton) 

کپاس ایک گرم خطہ (Tropical) کی فصل ہے جو ملک کے نیم خشک علاقوں میں خریف کے موسم میں کاشت کی جاتی ہیں۔ ملک کے بٹوارہ کے وقت ہندوستان میں کپاس پیداکرنے والا ایک بڑا حصہ پاکستان کے حصہ میں چلاگیا تھا ۔ لیکن پچھلے 50سالوں میں اِس کے رقبہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان چھوٹے ریشے والی (انڈین ) اور لمبے ریشے والی (امریکن) دونوں طرح کی کپاس پیدا کرتا ہے۔ امریکن کپاس کوملک کے شمال مغربی حصوں میں ’’نرما‘‘کہتے ہیں۔ کپاس کے موسم گل میں آسمان صاف اور کھلی ہوئی دھوپ درکار ہوتی ہے۔ 

                       Capture.png2
                                             شکل5.7:کپاس کی کاشت 


کپاس کی پیداوار کے معاملے میں چین، امریکہ اور پاکستان کے بعدہندوستان چوتھے پائیدان پرہے۔ہندوستان کل عالمی پیداوار کا 8.3 فی صدی کپاس پیدا کرتا ہے ۔ملک میں کپاس کی کھیتی کل بوئے گئے رقبہ کے 4.7 فیصدی حصہ پر ہوتی ہے۔ کپاس پیدا کرنے والے تین خطے خاصی اہمیت رکھتے ہیں ۔(i) شمال مغربی ہندوستان میں پنجاب ، ہریانہ اور شمالی راجستھان  (ii) مغربی حصہ میں گجرات اور مہاراشٹراور (iii) جنوب میں آندھرا پردیش کے پٹھار، کرناٹک اور تمل ناڈو۔ اس فصل کی پیدا وار کے حوالہ سے مہاراشٹرا، گجرات، آندھرا پردیش پنجاب اور ہریانہ سر فہرست ہیں۔ ملک کے شمال مغربی حصوں میں جہاں سینچائی کی سہولیات دستیاب ہیں کپاس کی فی ہیکڑ پیداوارزیادہ ہے جبکہ مہاراشٹر کے بارانی علاقوں میں اِ س کی پیداوار بہت کم ہے۔

جوٹ   (Jute)

جوٹ کا استعمال موٹے کپڑے ، تھیلے ، بورے اور دوسرے سجاوٹی سامان بنانے کے لیے کیا جاتاہے۔ یہ مغربی بنگال اور اس سے لگے ہوئے حصوں کی ایک تجارتی فصل ہے۔ ملک کے بٹوارے کے دوران جوٹ پیدا کرنے والا بڑا علاقہ اس وقت کے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں چلا گیا ۔ آج ہندوستان دنیا کا 60فی صد جوٹ پیدا کرتا ہے۔ملک میں مغربی بنگال اس کی پیداوار کا تین چوتھا ئی حصہ پیدا کرتا ہے۔ بہار اور آسام جوٹ پیدا کرنے والے دوسرے علاقے ہیں ۔ چونکہ اس کی کاشت چند ریاستوں تک ہی محدود ہے اس لیے جوٹ کے تحت مزروعہ زمین ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کاصرف 0.5فی صدہی ہے۔ 

دیگر فصلیں    (Other Crops)

گنّا ، چائے اور کافی، ہندوستان کی دیگر اہم فصلیں ہیں ۔

گنا  (Sugarcane) 

گنّاایک گرم خطہ (Tropical) فصل ہے۔ بارانی علاقوں میںاِس کی کھیتی مرطوب اور نیم مرطوب آب وہوا میں کی جاتی ہے۔لیکن ہندوستان میں اس کی کھیتی آب پاشی والے علاقوں میں کی جاتی ہے۔ گنگا سند ھ کے میدا ن میں اس کا اِرتکاز اترپردیش تک محدود ہے۔ ہندوستان کے مغربی حصے میں اس کی کھیتی مہاراشٹرا اور گجرات میں کی جاتی ہے۔ جنوبی ہندوستان میں گنّے کی کھیتی کرناٹک ، تمل ناڈو اور آندھراپردیش کے اُن حصوں میں کی جاتی ہے جہاں آب پاشی کی سہولیات دستیاب ہیں ۔ 
                        Capture.png3
                                             شکل5.8:گنے کی کاشت

2017میں برازیل کے بعد ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا گنا پیدا کرنے والا ملک تھا۔ دینا  میں گنیّ کی کل پیداوار کا 19 فی صد ہندوستان میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ ملک کے کل بوئے گئے رقبہ کے صرف 2.4فی صد حصے پرہی اس کی کھیتی ہوتی ہے۔ اُترپردیش ملک کاتقریباً 40فی صد گنّا پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گنّا پید اکرنے والی دیگر اہم ریاستیں مہاراشٹر ، کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش ہیں جہا ں گنّے کی فی ہیکٹر پیداوار بہتر ہے۔ شمالی ہندوستان میں اس کی پیداوار کم ہے۔ 
           
          h

                        شکل5.9:ہندوستان گنے کی تقسیم

چائے   (Tea)

چائے ایک شجر کاری والی فصل ہے جو ایک مشروب کے طور پرنوش کی جاتی ہے۔ کالی چائے کی پتیوّں کا خمیر(Fermentation)اٹھاتے ہیں۔ جبکہ ہری پتیاں بنا خمیرکے ہوتی ہیں ۔چائے کی پتیوں میں کیفین اورٹینین بھرپور مقدار میں پائی جاتی ہیں ۔ یہ شمالی چین کے پہاڑی علاقو ں کی فصل ہے۔ اس کی شجر کاری ، مرطوب اور نیم مرطوب گرم خطّے اور نیم گرم خطّے آب وہوا والے علاقوں میں ناہموار پہاڑی ڈھلانو ں پر پانی کی اچھے نکاس والی مٹی پر کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں چائے کی شجر کاری 1840کی دہائی میں آسام کی برہم پترا گھاٹی میں شروع کی گئی جو آج بھی ملک میں چائے پید اکرنے والا ایک اہم علاقہ ہے۔ بعد میں اس کی شجر کاری مغربی بنگا ل کے ذیلی ہمالیہ کے علاقہ (دارجلنگ ، جلپائے گڑی ، اور کوچ بہار )میں شروع کی گئی ۔ جنوبی ہندوستان میں چائے کی کھیتی مغربی گھا ٹ کی نیلگری اور اِلائچی کی پہاڑیوں (Cardamom Hills) کی نچلے ڈھلانوں پر کی جاتی ہے۔
                             ch 
                                                 شکل5.9:چائے کی شجر کاری
 
ہندوستان چائے پیدا کرنے والا ایک اہم ملک ہے۔ اور عالمی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 28 فیصدی ہے۔ عالمی بازار میں ہندوستان کا حصہ حقیقتاً کم ہواہے۔ چائے برآمد کرنے والے ممالک میں اب چین اور سری لنکا کے بعد ہندوستان کا تیسرا مقام ہے ہندوستان میں چائے کے تحت مزروعہ زمین کا 53.2فی صد  آسام میں واقع ہے اور ملک کی آدھی سے زیادہ چائے آسام میں ہی پیدا ہوتی ہے۔ مغربی بنگال اور تمل ناڈو چائے پیدا کرنے والی دیگر اہم ریاستیں ہیں ۔

کافی  (Coffee)

 کافی منطقہ حارّہ کی ایک شجر کاری والی فصل ہے۔ اِس کے بیچ کو بھون کر پیساجاتا ہے۔ اور ایک مشروب کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ کافی کی تین قسمیں ہیں ۔ ارِبیکا ، روبسٹا، اورلِبریکا ۔ ہندوستان زیادہ تر بہترین قسم کی ارِبیکا کافی پیدا کرتا ہے جس کی عالمی بازار میں بہت مانگ ہے۔ لیکن کافی کی کل عالمی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ صرف  3.7فی صد ہے۔ 2017میں برازیل، ویتنام، کولمبیا ، انڈونیشیا،ایتھوپیا، اور میکسیکوکے بعد ہندوستان کاساتواں مقام تھا۔ کرناٹک، کیرالہ اور تمل ناڈو میں مغربی گھاٹ کی بلندیوں پر اس کی کھیتی کی جاتی ہے۔ ملک میں کافی کی کل پیداوار کا دوتہائی سے زیادہ حصہ کرناٹک سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

ہندوستان میں زرعی ترقی    (Agricultural Development in India)

زراعت ہندوستانی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ سال 2001میں ملک کی تقریباً 53 فی صدی آبادی زراعت پر منحصر تھی۔ ہندوستان میں زراعت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ ملک کے 57فی صدی حصے پر کاشت کاری ہوتی ہے۔ جبکہ دنیا میں صرف 12فی صد حصہ پرہی کھیتی کی جاتی ہے۔اس کے باوجود ہندوستان میں زرعی زمین پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ حقیقت اس بات سے آشکارہ ہے کہ یہاں فی کس زرعی زمین کا تناسب صرف 0.31 ہیکٹرہے جو عالمی اوسط (0.59 ہیکٹر فی کس) کا تقریباً آدھا ہے۔ ہندوستان نے آزادی کے بعد مختلف دشواریوں کے باوجود زراعت میں کافی ترقی کی ہے۔ 

ترقی کا لائحہ عمل  (Strategy of Development)

آزادی سے پہلے ہندوستانی زرعی معیشت محض گزر اوقات تھی ۔ بیسوی صدی کے وسط تک ہندوستانی زراعت خستہ حال تھی۔ یہ دور خشک سالی اور قحط کا گواہ رہاہے۔ ملک کے بٹوارہ کے دوران تقریباً ایک تہائی زیر آب پاشی علاقہ پاکستان میں چلا گیا۔ نتیجتاً آزاد ہندوستان میں زیرآب پاشی رقبہ کافی کم ہوگیا۔ آزادی کے بعد سرکار کا فوری مقصد غذائی فصلوں کی پیداوار بڑھانا تھا  جس کے لیے جو طریقے اپنائے گئے وہ: (i) تجارتی فصلوں کی جگہ غذائی فصلوں کو اُگایا جانا (ii) فصلی شدت میں اضافہ کرنا (iii) قابل زراعت بنجر اور غیر مزروعہ زمین پر کھیتی کرنا۔ شروعاتی دور میں اِن اقدام سے غذائی فصلو ں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔لیکن 1950کی دہائی کے اختتام تک پیداوار میں ایک ٹھہراؤ آگیا۔ اس مسئلے سے اُبھرنے کے لیے انٹنسو ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ پروگرام (IADP) اور انٹنسوایگریکلچرایریا پروگرام (IAAP) کی شروعات کی گئی۔ 1960کی دہائی کے وسط میں لگاتار دو قحط سے ملک میں غذا کی شدید قلّت ہو گئی۔ جس کی وجہ سے دوسرے ممالک سے اناج کو درآمد کرنا پڑا۔
 1960کی دہائی کے وسط میں گیہوں (میکسیکو) اور چاول (فلپائن) کی نئی قسمیں، جن کی پیداواریت زیادہ تھی، متعارف ہوئیں۔ ہندوستان نے اس کا فائدہ اُٹھایا اور تکنیکی پیکج کی شکل میں پنجاب، ہریانہ، مغربی اترپردیش، آندھراپردیش اور گجرات کے سینچائی والے علاقوں میں کیمیائی کھاد کے ساتھ زیادہ پیداواریت والے بیج کی قسموں (HYVs)کو اپنایا۔ نئی زرعی تکنیک کی کامیابی کے لیے پانی کی یقینی فراہمی ضروری تھی۔زرعی ترقی کی اس پالیسی سے غذائی فصلوں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ یہ تکنیکی پالیسی ’’سبزانقلاب‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ سبز انقلاب نے زراعت میں استعمال ہونے والی اشیا جیسے کیمیائی کھاد ، کیڑے مار دوائیں اور کھیتی میں استعمال ہونے والے اوزار وغیرہ کی مانگ میں زبردست اضافہ کیا ۔ ساتھ ہی زراعت پر منحصر صنعت اور چھوٹے پیمانے کی صنعت کو بھی فروغ دیا۔ زراعتی ترقی کی اس پالیسی سے ملک اناج کی پیداوار کے معاملے میں خود کفیل ہوا۔ لیکن شروعاتی دور میں ’’سبز انقلاب ‘‘ صرف انھیں علاقوں تک محدود رہا جہاں آب پاشی کی سہولیات دستیاب تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زراعتی ترقی میں علاقائی عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔ یہ صورت حال 1970کی دہائی کے اختتام تک رہی۔ اُس کے بعد یہ تکنیک ملک کے مشرقی اور وسطی خطوں میں پھیلی۔ 
           ck
                             شکل5.11:ہندوستان چائے اور کافی کی تقسیم 

1980کی دہائی میں ہندوستان کے منصوبہ بندی کمیشن نے ان علاقوں کی زراعتی مشکلات کی طرف دھیان مرکوز کیا جہاں زراعت بارش پر منحصر ہوتی ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن نے علاقائی مساوات کو فروغ دینے کی غرض سے1988کی دہائی میں ایگرو کلائمیٹک(Agro-Climatic) منصوبے کی شروعات کی اور کوشش کی کہ ملک میں متوازن زرعی ترقی ہو۔ اس نے زراعت کی چو طرفہ افزائش کے لیے ڈیری فارمنگ، مرغی پالن، باغبانی، مویشی پالن ، اور مچھلی پالن پر زور دیا۔
 1990کی دہائی میں شروع کی گئی نرم کاری کی پالیسی اور کھلے بازاری معاشی نظام نے ہندوستانی زراعت کی ترقی پر بھی اثر ڈالا۔ 

ہندوستان کے کسانوں کا پورٹل(Farmer's Portal of India):
کسانوں کا پورٹل (The farmers Portal) ایک ایسا پلیٹ فارم ہےجہاں کسان زراعت سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔اس پورٹل پر کسانوں کا بیمہ ، زرعی ذخیرہ، فصلوں، توسیعی سرگرمیوں ، بیجوں ، کیڑے مار دواؤں ، زراعت کے لیے مشینوں وغیرہ کے بارے میں معلومات دستیاب کرائی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ بازار، کھاد کی قیمتوں ،پیکیج اور طریقوں ، پروگراموں فلاحی اسکیموں کی بابت معلومات بھی مہیا کرائی گئ ہیں۔ بلاک کی سطح مئی کی زرخیزی ،ذخیرہ اندوزی اور بیمے نیز تربیت سازی وغیرہ سے متعلق متعامل نقشہ بھی دستیاب ہے ۔ استعمال کنندہ زراعت سے متعلق دستی کتاب، اسکیم کے رہنما خطوط وغیرہ بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ 
ماخذ: department_agriculture_and_corpe.atiohttp://www.india.gov.in/trrves_portal_india

زراعتی پیداوار کی افزائش اورٹیکنالوجی    

    (Growth of Agricultural Output and Technology)

پچھلے 50سالوں میں زراعتی پیداوار اور ٹیکنک میں معنی خیز ترقی ہوئی ہے۔ 

بہت سی فصلوں مثلاً چاول اور گیہوں کی کل پیداوار اور پیداواریت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری فصلوں خاص کر گنّا، تلہن اور کپاس کی پیداوار میں قابل ستائش اضافہ ہوا ہے۔2011 میں ہندوستان کو دالوں،اور، جوٹ پیدا کرنے میں پہلا مقام حاصل تھا۔ ہندوستان چاول، گیہوں ، مونگ پھلی اور سبزیوں کی پیداوارمیں دنیا میں دوسرے مقام پر ہے۔

آب پاشی کی سہولیات نے ملک کی زراعتی پیداوار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے جدید زراعتی تکنیک مثلاً اچھیّ قسم کے بیج،کھاد ، کیڑے مار دوائیں اور مشینوں کے استعمال کے لیے ایک بنیاد فراہم کی ۔ 51-1950سے01-2000کے درمیان زِیر آب پاشی رقبہ 208.5 لاکھ ہیکٹرسے بڑھ کر546.6 لاکھ ہیکٹر ہو گیا۔ ان 50 سالوں میں ایک زرعی سال میں ایک سے زیادہ بارزیر آب پاشی کا رقبہ 17.1لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 204.6لاکھ ہیکٹر ہو گیا۔ 

ملک کے مختلف علاقوں میں جدید زراعتی تکنیک کاپھیلاؤبہت تیزی سے ہوا۔ پچھلے چالیس سالوں میں کیمیائی کھا د کی کھپت میں بھی پندرہ گنا اضافہ ہوا۔ ہندوستان میں 02-2001 میں کیمیائی کھا د کی اوسط کھپت91کلو گرام فی ہیکٹرتھی۔ جو دنیا کی اوسط کھپت(90کلوگرام) کے برابر تھی ۔ لیکن پنجاب اور ہریانہ کے سینچائی والے علاقوں میں اس کی کھپت ملک کے اوسط سے چار گنا زیادہ ہے۔ چونکہ نئی قسم کے بیجوں میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کم ہے۔ اس لیے1960کی دہائی سے کیڑے مار دواؤں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ 

                             d

                                   شکل5.12:روٹو ٹل ڈرل۔ ایک جدید زراعتی مشین

پائیدار زراعت کے لیے قومی مشن(National mission for sustainable agriculture) NMSA

پائیدار زراعت کے لیے قومی مشن زراعت کو زیادہ پیداواری، پائیدار، معاوضہ اور آب و ہوا سے لچکدار بنانے اور مناسب مٹی اور نمی کے تحفظ ذریعے قدرتی وسائل کا تحفظ کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ حکومت پر مپراگت کرشی  وکاس یوجنا (PKVY)اور راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا(PKVY)جیسی سکیموں کے ذریعے ملک میں نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دے رہی ہے ۔ 

ہندوستانی زراعت کے مسائل

(Problems of Indian Agriculture) 

زرعی ماحولیاتی نظام اور مختلف خطّوں کے تاریخی تجربات کے مطابق ہندوستانی زراعت کے مسائل بھی الگ ہیں ۔ لہٰذا ملک کے زیادہ تر زراعتی مسائل بھی علاقائی ہیں۔ لیکن کچھ مسائل عام ہیں ۔ ان میں طبعی دشواریوں سے لے کر اداری رکاوٹیں تک شامل ہیں ۔ ذیل میں سارے مسائل کا ایک تفصیلی جائزہ دیا جارہاہے۔ 

متلو ّن مزاج مانسون پر انحصار    

  (Dependence on Erratic Monsoon)

ہندوستان میں زراعتی رقبہ کے صرف ایک تہائی حصّہ کو ہی آب پاشی کی سہولیات دستیاب ہیں، باقی میں پیداوار کا دارومدار سیدھے طور پر بارش پر ہے۔ جنوب مغربی مانسون کی متلو ّن مزاجی سینچائی کے لیے بنائی گئی نہروں میں بھی پانی کی سپلائی پر اثر ڈالتی ہے۔ دوسری طرف راجستھان اور دوسرے علاقوں میں بارش کی مقدار بہت کم ہے اور ساتھ ہی غیر یقینی بھی ۔ زیادہ بارش والے علاقوں میں بھی بارش کی مقدار اور وقفہ میں کافی اُتار چڑھاؤپایا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خشک سالی اور سیلاب دونوں متوقع ہیں ۔ کم بارش والے علاقوں میں خشک سالی ایک عام بات ہے۔ لیکن یہاں کبھی کبھی سیلاب بھی آجاتے ہیں۔2006میں مہاراشٹرا، گجرات اور راجستھان کے خشک علاقوں میں اچانک آیا سیلاب اس کی مثال ہے۔ خشک سالی اور سیلاب ہندوستانی زراعت کے لیے دہرا خطرہ ہیں۔ 

کم پیداواریت    (Low productivity)        

عالمی پیداوار کے مقابلے میں ہندوستان کی زراعتی پیداوریت کم ہے۔ ہندوستان میں زیادہ تر فصلیں مثلاً، چاول، گیہوں ، کپاس و تلہن کی فی ہیکٹر پیداوار امریکہ ، روس اور جاپان سے کافی کم ہے ۔ زمینی وسائل پر زیادہ دباؤ کی وجہ سے فی مزدور پیداوار بھی کم ہے۔ ملک کے اُن حصوں میں جہاں زراعت کا انحصار بارش پر ہے۔ (خاص کر خشک علاقوں میں ) زیادہ تر موٹے اناج، دالیں اور تلہن کی کھیتی کی جاتی ہے۔ وہاں ان کی پیداوار بہت کم ہے۔ 
خشک علاقوں میں پیداواریت کیوں کم ہے؟

 مالیاتی وسائل کی مشکلات اور قرض داری

(Constraints    of Financial Resources and  Indebtedness)

عصر حاضر کی زراعت میںکافی خرچ ہوتا ہے۔ چھوٹے کسانوں کی بچت یاتو کم ہے یا تو نہیں کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے جدید تکنیک کا بڑے پیمانے پر استعمال ان کی دسترس سے باہر ہوچکا ہے۔ اس کا سیدھا اثر پیداوار پر پڑتا ہے۔ ان مسائل سے ابھرنے کے لیے زیادہ تر ایسے کسان سرکاری اداروں اور مقامی ساہوکاروں سے قرض لیتے ہیں ۔ فصل کی ناکامی اور کم زرعی منافع کی وجہ سے کسان قرض کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔
زیادہ قرض لینے کے کیا نتائج ہیں ۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مختلف ریاستوں میں کسانوں کی خودکشی قرض کی دین ہیں ؟

زمینی اصلاح کی کمی       (Lack of Land Reforms) 

زمین کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے ہندوستانی کسان لمبے عرصے تک ظلم کا شکار رہا۔ انگریزی دور میں تین مالیاتی نظام رائج تھے۔ (i) محل واڑی (ii) رعیت واڑی اور (iii)زمین داری۔ اِن میں سے زمین داری نظام کسانوں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ آزادی کے بعد زمین کے نظام میں اصلاح کو فوقیت دی گئی۔ لیکن یہ اصلاح کمزور سیاسی نظام کی وجہ سے پوری طرح سے عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔ زیادہ تر ریاستی سرکاروں نے سیاسی طور پر مضبوط زمین داروں کے خلاف سخت کاروائی سے گریز کیا ۔ اِ ن سدھاروں کو عملی جامہ نہ پہنانے کی وجہ سے قابل زراعت زمین کی غیر مساوی تقسیم بدستور جا ری رہی۔ جس کا سیدھا اثر زرعی ترقی پر پڑا۔ 

چھوٹے کھیت اور بکھری جوت  

 (Small Farm Size and  Fragmentation of Landholdings)

ہندوستان میں چھوٹے اور حاشیہ کے کسانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ 60 فی صد سے زائد کسانوں کے پاس ایک ہیکٹرسے چھوٹے کھیت ہیں ۔ اور تقریباً40 فیصدی کسانوں کے کھیت کا سائز 0.5ہیکٹر سے بھی کم ہے۔ بڑھتی آبادی کی وجہ سے ان کھیتوں کا اوسط سائزاور بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ   ہندوستان میں زیادہ ترکھیت بکھرے ہوئے ہیں ۔ کچھ ریاستیں تو ایسی ہیں کہ جہاں ایک باربھی چک بندی نہیں ہوئی ہے۔ وہ ریاستیں جہاں ایک بار چک بندی ہوچکی ہے وہاں اب چک بندی کی سخت ضرورت ہے۔ اگلی نسل میں تقسیم کی وجہ سے زمین دوبارہ تقسیم ہوگئی۔ چھوٹے اور بکھرے ہوئے کھیت مالیاتی نقطہ نظر سے غیرسود مند ہوتے ہیں ۔ 
              
17

تجارتی طریق کی کمی  (Lack of Commercialisation)

کسانو ں کی بڑی تعداد اپنی ضرورت اور ذاتی استعمال کے لیے فصلیں اگاتی ہے ۔ ا ن کسانوں کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ پیدا کرنے کے لیے ضروری زمینی وسائل کی کمی ہے۔ بیش تر چھوٹے اورحاشیہ بردار کسان غذائی فصلوں کی کھیتی کرتے ہیں ۔جو ان کے کنبہ کی ضروریات کو پورا کرتی ہے ۔ ان علاقوں میں جہاں آب پاشی کی سہولیات دستیاب ہیں جدید اور تجارتی طریق پر زراعت کی جا رہی ہے۔ 

قلتِ روزگار   (Vast Under-employment) 

ہندوستانی زراعت میں خاص کر غیر آب پاشی والے علاقوں میں بڑے پیمانے پرروزگار کی قلت ہے۔ ان علاقوں میں موسمی بے روزگاری ہے۔ جو4سے 8ماہ تک رہتی ہے۔ فصلی موسم میں بھی پورے سال کام نہیں ملتا۔ چونکہ دورحاضر میں زرعی کام میں زیادہ مزدوروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس لیے زراعت میں لگے لوگوں کو پورے سال کام کے مواقع نہیں ملتے۔ 

قابل زراعت زمین کی پست کاری    

  (Degradation of Cultivable Land)

زمینی وسائل کی پست کاری، آب پاشی اور زرعی ترقی کی خام پالیسی کا نتیجہ ہے جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ سنگین مسئلہ اس لیے ہے کہ اس سے مٹی کی زرخیزی کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ مسئلہ ان علاقوں میں زیادہ سنگین ہے جہاں آبپاشی کی سہولیات بڑے پیمانے پر مہیّا کرائی گئی ہیں ۔ زرعی زمین کا ایک بڑا خطّہ سیم زدگی، کھارہ پن اور شورہ کی وجہ سے بنجر ہوچکا ہے۔ مٹی کے کھارے پن اور شورہ (Alkaline) کی وجہ سے اب تک تقریباً 80لاکھ ہیکٹر زمین ناقابلِ کاشت ہوچکی ہے۔ ملک کی دوسری 70لاکھ ہیکٹر زمین سیم زدگی کی وجہ سے اپنی  (Leguminious  crops ) کی کھیتی ناپید ہو گئی ہے۔ اور کثیرفصل کی وجہ سے غیرمزروعہ زمین کے وقفے میں بھی کمی آئی ہے۔ اس زمین کو قدرتی طور پر اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کرنے مثلاًنائٹروجن کے جمود میں رکاوٹ پیش آئی۔ گرم علاقوں میں مرطوب اور نیم خشک علاقے بھی کئی طرح سے زمین کی پست کاری سے متاثر ہوئے مثلاً پانی اور ہوا کے ذریعہ مٹی کا کٹاؤ جو عموماً انسانی فعل کا نتیجہ ہے۔

 سرگرمی


اپنی ریاست کے زرعی مسائل کی ایک فہرست مرتب کیجیے۔ کیا آ کے علاقے کے مسائل اِس سبق میں بیان کیے گئے مسائل سے ملتے جلتے ہیں ؟یا مختلف ہیں؟ بیان کیجیے ۔ 


Mashq

مشق

1 .  نیچے دیئے گئے جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) ذیل میں کون زمینی استعمال کی قسم نہیں ہے؟
(a) غیر مزروعہ زمین (b) حاشیہ کی زمین 
(c) خالص بویا گیا رقبہ (d) قابل زراعت متروکہ زمین
(ii) پچھلے چالیس سالوں میں جنگلات کا رقبہ بڑھنے کی کیاوجہ رہی؟
(a) جنگل بانی کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش
(b) کمیونٹی (سماجی) جنگلات کے رقبہ میں اضافہ
(c) جنگلات کی افزائش کے لیے نوٹیفائیڈ علاقہ میں اضافہ
(d)   جنگلات کے بندوبست میں عوام کی زیادہ حصہ داری
(iii) ذیل میں کون زیر آب پاشی علاقوں میں زمین کی تنزلی کی ایک شکل ہے۔ 
(a) نالی نما کٹاؤ (gully erosion) (b) ہوا کے ذریعہ کٹاؤ 
(c) مٹی کا کھارا پن (d) زمین پر گاد(silt) کا جماؤ
(iv) خشک کھیتی کے تحت کون سی فصل نہیں بوئی جاتی؟
(a) راگی (b) جوار
(c) مونگ پھلی (d) گنّا
(v) درج ذیل میں کن ممالک میں چاول اور گیہوں کی زیادہ پیداواریت کی قسمیں تیار کی گئی تھیں؟
(a) جاپان اور آسٹریلیا (b) ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور جاپان
(c) میکسیکو اور فلپائن (d) میکسیکو اور سنگاپور
2 ۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات 30الفاظ میں دیجیے۔
(i) بنجر اور بے کار زمین اور قابل کاشت متروکہ زمین میں فرق بیان کیجیے؟
(ii) خالص بویا گیا رقبہ اور کل بویا گیا رقبہ، میں فرق بیان کیجیے؟
(iii) فصلی شدت  (cropping intensity) میں اضافہ کی پالیسی ہندوستان جیسے ملک کے لیے کیوں ضروری ہے۔
(iv) کل مزروعہ زمین کو کس طرح معلوم کریں گے۔
(v) خشک اور نم کاشت کاری میں کیا فرق ہے؟
3 ۔ مندجہ ذیل سوالات کے جوابات 150الفاظ میں دیں ۔
(i) ہندوستان میں زمینی وسائل سے متعلق مختلف ماحولیاتی دشواریاں کون سی ہیں ؟
(ii) ہندوستان میں آزادی کے بعد زرعی ترقی کے لیے اختیار کی گئی اہم پالیسیاں کیا ہیں؟