
اکائی III
باب 5
زمین کے وسائل اور زراعت

زمین کے استعمال کی اقسام
(Land Use Categories)
شعبہ محصول کے دستاویزات کے مطابق زمین کے استعمال کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں :
(i) جنگل (Forest) : یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ جنگلات کے اصل رقبہ اور جنگلات سے ڈھکے علاقےدونوں کے معنی مختلف ہیں۔جنگلات سے ڈھکی زمین سرکارکی جانب سے حدبندی کیا گیاوہ علاقہ ہوتا ہے جہاں قدرتی طور پر یا شجر کاری کے ذریعہ جنگلات کی افزائش ہوسکے۔ اس تعریف سے محصول کی زمین کے دستاویز بھی متفق نظر آتے ہیں۔ پس جنگلات کے اصل رقبہ میں اضافہ تو ہوسکتا ہے لیکن جنگلات سے ڈھکے علاقے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی ہے
(ii) زمین کے غیر زرعی استعمال (Land put to Non-agricultural Uses) :
اس درجہ میں بستیاں (دیہی اور شہری) ابتدائی سہولیات انفراسٹرکچر، (سڑکیں اور نہریں وغیرہ)، اشیا ساز صنعتوں، دوکانوں وغیرہ کے لیے استعمال ہونے والی زمین شامل ہے۔ثانوی اور ثالثی سرگرمی میں اضافہ سے اس درجہ کی زمین کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے۔
(iii) بنجراور بے کاد زمین (Barren and Wastelands) :
وہ زمین جوحاصل شدہ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی زراعت کے قابل نہیں بنائی جاسکتی، جیسے بنجر، پہاڑی خطہ،ؔ ریگستان، بیہڑ وغیرہ۔
(iv) مستقل چراگاہیں اورگھاس کے میدان (Area under permanent Posture and Grazing lands):
اس طرح کی زیادہ تر زمین پرگرام پنچایت یا سرکار کا مالِکاتہ اختیار ہوتا ہے۔ اس زمین کا صرف ایک چھوٹا حصہ نجی ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ گرام پنچایت کے مالکانہ اختیار والی زمین کو مشترکہ ملکیت کے وسائل (Common Property Resources) کہتے ہیں۔
(v) متفرقہ شجری فصلوں اور باغوں کے زیرزمین کا رقبہ خالص بویا رقبہ شامل نہیں (Area under Miscellaneous Tree Crops and Groves (Not included is Net Sown Area) :
اس درجہ میں وہ زمینیں شامل رقبہ ہیں جن پر باغات اور پھل دار درخت لگے ہوں۔ اس طرح کی زیادہ تر زمین نجی مالکوں کے پاس ہیں۔
(vi) قابل زراعت بے کار زمین(Culturable Waste- Land) : اس درجہ میں وہ زمین آتی ہے جو پانچ سال سے زیادہ مدّت تک غیرمزروعہ رہی ہو اس طرح کی زمین کو تکنیکی مدد سے دوبارہ زراعت کے لائق بنایا جاسکتا ہے۔
(vii) موجودہ افتادہ (Current Fallow) : وہ زمین جو ایک یا اس سے کم زراعتی سال میں استعمال نہیں جاتی۔ یہ ایک روایتی طریقہ ہے جس کے ذریعہ زمین کوآرام دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے زمین اپنی کھوئی ہوئی طاقت قدرتی طور پر حاصل کر لیتی ہے۔
(viii) افتادہ موجودہ افتادہ کے علاوہ (Fallow other than Current Fallow) : یہ زراعت کے لائق زمین کا وہ حصہ ہے جس پر ایک سال سے زیادہ لیکن پانچ سال سے کم مدّت تک کھیتی نہیں کی گئی ہو۔ اگرزمین کے کسی حصہ پر پانچ سال سے زیادہ وقت تک زراعت نہیں کی گئی ہو تو اسے قابل زراعت بے کارزمین کے درجہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔
(ix) خالص بویا گیا رقبہ (Net Area Sown): زمین کی اس طبعی وسعت کو کہتے ہیں جس پر فصلیں اگائی اور کاٹی جاتی ہیں۔
ہندوستان میں زمین کے استعمال میں تبدیلی
(Land-use Changes in India)
کسی علاقے کا زمینی استعمال بہت حد تک، اس علاقہ کی معاشی سرگرمیوں پر منحصرہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوںمیں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لیکن زمین کے رقبہ میں کسی دیگر دوسرے قدرتی وسائل کی طرح کوئی تبدیلی نہیں آتی۔یہاں پر معیشت کی اُن تبدیلیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جن کا زمین کے استعمال پر اثر پڑتا ہے۔
(i) معیشت کا حجم(Size of the economy)
(جومعیشت کے مال اور خدمات کی قیمت پر منحصرہوتاہے)۔ وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور جو بڑھتی آبادی ، آمدنی کے معیارمیں تبدیلی،حاصل ٹیکنالوجی اور ان سے وابستہ عوامل پر منحصر ہے۔نتیجتاً وقت کے ساتھ ساتھ زمین پر دبا ؤ بڑھتا ہے اور حاشیہ بردار زمین کا بھی استعمال شروع ہوجاتا ہے۔
(ii)
(ii) دوسرے یہ کہ وقت گذرنے کے ساتھ معیشت کی ساخت (Composition of the economy) :
میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔بالفاظ دیگر ثانوی اور ثالثی شعبوں میں ابتدائی شعبوں اور خاص کر زراعتی شعبہ کے مقابلے زیادہ تیز اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح کی تبدیلی ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں عام ہے۔ اس عمل کی وجہ سے زمین کا استعمال زراعت کے بجائے غیر زرعی کاموں میں ہونے لگتا ہے۔ آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ اس طرح کی تبدیلیاں بڑے شہروں کے اطراف میں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔جہاں اس عمل کی وجہ سے زرعی زمین کو تعمیری مقاصد کے لیےاستعمال کیاجاتا ہے۔
(iii)تیسرے اگر چہ وقت کے ساتھ ساتھ معیشت میں زراعت کا حصہ کم ہوتا جارہاہے لیکن زمین پر کھیتی کا دباؤ کم نہیں ہورہا ہے۔ کھیتی کی زمین پرمستقل بڑھتے دباؤ کی وجوہات ہیں۔
(a) ترقی پذیر ممالک میں زراعت پر منحصر آبادی کا تناسب
آہستہ آہستہ گھٹتا ہے جبکہ کل گھر یلو پیداوار (GDP) میں کھیتی کی حصہ داری میں نسبتاً تیز گراوٹ آتی ہے۔
(b) آبادی میں اضافہ کی وجہ سے زراعتی شعبہ پر زیادہ لوگوں کو
خوراک مہیاں کرانے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔
سرگرمی
ضمیمہ(vii) اور جدول1اور2 کی مدد سے 1960-61 اور 1999-2000کی کل گھر یلوپیداوار(GDP) میں ابتدائی ثانوی اورثالثی شعبوں کے بدلتے تناسب کا موازنہ 1960-61 اور 2008-09 میں آراضی کے استعمال میں بدلاؤ سے کیجیے۔

ہندوستان میں زمین کے استعمال کی اقسام کی درجہ بندی میں تبدیلی61-1960 اور 09-2008

نوٹ:سیکشنI کی درجہ بندی (iv) اور(v) کو گراف میں ضم کر دیا گیا ہے۔
پچھلی چار یا پانچ دہائیوں میں ہندوستان کی معیشت ایک بڑے تغیر سے دوچار ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں زمین کے استعمال میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں جو 61-1960اور 09-2008کے مابین ظہور میں آئی ہیں، انھیں شکل 5.1میں دکھایا گیا ہے۔ اس شکل سے کچھ مطلب اخذ کرنے سے پہلے دونکتے قابل غور ہیں۔اوّل یہ کہ مختلف اقسام کے زمینی استعمال کا فی صدرپورٹنگ رقبہ کے تعلق سے ہے نہ کہ جغرافیائی رقبہ کے تعلق سے۔ دوئم یہ کہ رپورٹنگ رقبہ چونکہ ایک عرصہ سے یکساں رہا ہے چنانچہ زمین کے کسی ایک استعمال میں کمی زمین کے کسی دوسرے استعمال میں اضافہ کا باعث ہوگی۔
زمین کے چار طرح کے استعمال میں اضافہ اور چار میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ جنگلات، زراعت کے لیے غیردستیاب اور موجودہ غیر مزروعہ زمینوں اور کاشت کاری کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔اس اضافہ سے متعلق مشاہدے ذیل میں درج کیے گئے ہیں:
(i) غیر زرعی سرگرمیوں میں زمین کے استعمال میں کا فی تیزی
درج کی گئی ہے۔ اس کی وجہ ہندوستانی معیشت کی بدلتی ساخت ہے جو کہ کافی حد تک صنعتی اور خدماتی شعبوں پراور ان سے وابستہ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دیہی اور شہری بستیوں کے رقبہ میں اضافہ کی وجہ سے بھی اس مدّ کی زمین میں افزائش درج کی گئی ہے۔ غیرزرعئی زمین کے رقبہ میں اضافہ متروکہ اورزرعی زمین کے رقبہ میں گراوٹ کی قیمت پر ہوا ہے۔
(ii) جیسا کہ پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے کہ ملک میں جنگلات کے رقبہ
میں اضافہ جنگل کی تعریف اور حدبندی کی وجہ سے ہوا ہے نہ کہ جنگلات سے ڈھکے علاقہ میں کسی اضافہ کی وجہ سے۔
(iii) موجودہ غیر مزروعہ کے رقبہ میں اضافہ کو صرف دونکات کی بنیاد پر
بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ غیرمزروعہ رقبہ میں پچھلے چند سالوں میں کافی اُتار چڑھاؤ رہا ہے۔جس کا تعلق بارش کی غیریکسانیت اور فصلی دور (cropping cycle)سے ہے۔
(iv) کاشت کاری کے رقبہ میں اضافہ دورجدید کی دین ہے۔جس کا سبب قابل کاشت بنجر زمین کا رزاعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس سے پہلے اس زمرے میں سُست رفتاری سے کمی واقع رہی تھی۔ کاشت کاری کے رقبہ میں کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین کے غیرزراعتی استعمال کے رقبہ میں اضافہ ہوا ہے۔ (نوٹ:اپنے گاؤ ں اور شہر میں قابل زراعت زمین پر ہو رہی تعمیراتی سرگرمیوں پر غور کیجیے)۔
زمین کے استعما ل کی وہ چار اقسام جن کے رقبہ میں کمی آئی ہے۔ بنجر اور بے کارزمین، قابل زراعت بنجر،چراگاہوں اور درختی فصلوں کی زمین اور خالص بویا گیا رقبہ ہے۔
ذیل میں ان وجوہات کو بیان کیا گیا ہے جو اِن اقسام کے رقبہ میں گراوٹ کے لیے ذمہ دار ہیں۔
(i) وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے زرعی اور غیر زرعی زمینوں پر
آبادی کا دباؤ بڑھتا گیا ویسے ویسے ناقابل کاشت اور قابل کاشت زمینوں میں کمی کا رجحان درج کیا گیا ہے۔
(ii) چراگاہوں کے رقبہ میں کمی کو قابل کاشت زمین پربڑھتے دباؤ
کے واسطے سے بیان کیا جاسکتاہے ۔مشترکہ چراگاہوں پر غیرقانونی طور پر قبضہ اس کی اہم وجہ ہے۔
سرگرمی
حقیقی اضافہ اور شرح اضافہ میں کیا فرق ہے؟ ضمیمہ(viii)اور جدول 1میں دیئے گئے اعدا د وشمار کی مدد سے 1960-61 اور 2008-09 کے مابین زمین کے استعمال کی سبھی اقسام کے لیے حقیقی اضافہ اور شرح اضافہ معلوم کیجیے اورنتائج کو بیان کیجیے۔
اساتذہ کے لیے نوٹ
حقیقی اضافہ معلوم کر نے لیے دو مدت کے درمیان ہوئے زمین کے حقیقی استعمال میں فرق معلوم کیجیے۔
شرح اضافہ معلوم کرنے کے لیے مفرد شرح افزائش یعنی کہ (دو سالوں کے اعدا د وشما ر کا فرق معلوم کریں بہ الفاظ دیگر آخری سال کے اعدادو شمار سے پہلے سال کے اعداد و شمار کو نفی کرکے اُ سے پہلے سال کے یعنی 61-1960کے اعداد و شمار سے تقسیم کریں۔ )کو استعمال کریں۔
2008-09 میں خالص بویا گیا رقبہ۔ 61-1960میں خالص بویا گیا 100
1960-61میں خالص بویا گیا رقبہ
مشترکہ املاک کے وسائل
(Common Property Resources)
مالکانہ حقوق کی بنا پرزمین کو موٹے طو5ر پر دوحصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ذاتی ملکیت اور مشترکہ عوامی ملکیت کے وسائل (CPRs) ۔ پہلی قسم کی زمین کے مالکانہ حقوق کسی فرد ِ واحد یا چندافراد کے ایک گروہ کے پاس ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کی زمین کے مالکانہ حقوق حکومت کے پاس ہوتے ہیں اور عوام کو اس کے استعمال کی آزادی ہوتی ہے۔مشترکہ ملکیت سے جانوروں کے لیے چارہ، گھریلو استعمال کے لیے ایندھن اور ساتھ ہی مختلف اقسام کی اشیا جیسے پھل ، ریشے ،گٹھلیاں ، جڑی بوٹیاں وغیرہ حاصل ہوتی ہیں۔دیہی علاقوں میں زرعی مزدوروں، حاشیہ بردارکسانوں اور سماج کے دیگرکمزور طبقہ کے لوگوں کی زندگی میں مشترکہ املاک کے وسائل کی خاص اہمیت ہے کیونکہ زمین کے مالکانہ حقوق نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی کا دارومدار جانوروں سے ہونے والی آمدنی پر ہوتا ہے۔ یہ مشترکہ املاک کے وسائل خواتین کے لیے خاصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں چارہ اور ایندھن کی لکڑی کا انتظام کرنے کی ذمہ داری عورتوں کی ہی ہوتی ہے۔جوچارہ اور ایندھن کی تلاش میں مشترکہ املاک کے وسائل کے پست علاقوں میں گھنٹوں بھٹکتی رہتی ہیں۔
مشترکہ املاک کے وسائل کو عوامی قدرتی وسائل بھی کہا جا سکتا ہے۔ جہاں پر ہر فرد کو کچھ ذمہ داریوں کے ساتھ مالکانہ حقوق کے بغیر اس کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے۔عوامی جنگلات،چراگاہیں ، گاؤ ں کے آبی وسائل اور دوسرے عوامی مقامات وغیرہ مشترکہ عوامی وسائل کی ایسی مثال ہیں جن کا استعمال ایک خاندان سے زیادہ بڑے لوگوں کے ایک حلقہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اور ان ہی لوگوں پر ان کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
جدول5.1:قابل کاشت زمین کی ساخت
| زرعی زمین کا ستعمال درجات |
کل رپورٹنگ رقبہ(فی صد) | بویا گیا کل رقبہ(فی صد) | ||
|---|---|---|---|---|
| 1960-61 | 2008-09 | 1960-61 | 2008-09 | |
| قابل کاشت متروکہ | 6.23 | 4.17 | 10.61 | 7.1 |
| افتادہ موجودہ افتادہ کے علاوہ | 3.5 | 3.37 | 5.96 | 5.75 |
| موجودہ افتادہ | 3.73 | 4.76 | 6.35 | 8.13 |
| خالص بویا گیا رقبہ | 45.26 | 46.24 | 77.08 | 78.98 |
| کل قابل کاشت رقبہ | 58.72 | 58.54 | 100.00 | 100.00 |

ہندوستان میں زرعی زمین کا استعمال
Agricultural Land use in India)
زمینی وسائل کی اہمیت اُن لوگوں کے لیے زیادہ ہے جن کی زندگی کا دارومدار کاشت کاری پر ہے۔
(i) ثانوی اور ثالثی معاشی سرگرمیوں کے مقابلے زراعت پوری طرح زمین پرمنحصرہے۔ بالفاظ دیگر زراعت میں زمین کی اہمیت دوسرے شعبوں سے زیادہ ہے۔ لہٰذا دیہی علاقوں میں غربت کا سیدھا تعلق زمین کے مالکانہ حقوق سے ہے۔ جن لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے وہ عموماً غریب ہوتے ہیں ۔
(ii) زمین کی زرخیزی زراعت کی پیداواریت کو اثر انداز کرتی ہے۔ جو کہ دوسری معاشی سرگرمیوں میں نہیں ہے۔
(iii) دیہی سماج میں زمین کی ملکیت کی معاشی اہمیت کے علاوہ سماجی اہمیت بھی ہے۔ یہ قدرتی آفات اور انفرادی مشکلات میں حفاظتی غلاف کے طور پر کام کرتی ہے اور ساتھ ہی سماجی حیثیت بڑھاتی ہے ۔
کل زرعی زمین کے وسائل کا تخمینہ، خالص مزروعہ رقبہ اور سبھی طرح کی مزروعہ زمین کا رقبہ اور قابل زراعت بنجر زمین کے رقبہ کے جمع سے لگایا جاسکتا ہے۔ جدول 5.1کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پچھلے سالوں میں کل مرقوم (reporting) رقبہ میں زرعی زمین کا فی صد قدرکم ہوا ہے۔ قابل کاشت بے کارزمین کے رقبہ میں کمی کے باوجودخالص مزروعہ زمین میں کافی کمی ہوئی ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے یہ ظا ہر ہے کہ ہندوستان میں خالص مزروعہ رقبہ میں افزائش کی گنجائش محدود ہے۔ زمین کی حفاطت کے لیے ایسی تکنیکی ایجادات کی ضرورت ہے جو ز مین کو بچانے میں مددگار ثابت ہوسکیں ۔اس طرح کی تکنیک کو دومدّوںمیں رکھا جا سکتا ہے۔ پہلی وہ جو فی مربع ہیکٹر میں کسی مخصوص فصل کی پیداوار بڑھائیں اور دوسری وہ تکنیک جو ایک زرعی سال میں زمین کے استعما ل کی شدت میں اضافہ کرتے ہوئے تمام فصلوں کی مجموعی پیداوار میں اضافہ کریں ۔ اس دوسری تکنیک کا فائدہ یہ ہے کہ محدود زمین سے بھی کل پیداوار میں اِضافہ ہونے کے ساتھ مزدوروں کی مانگ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں زمین کی کمی ہے اور مزدوروں کی افراط ہے زمین کے استعمال کی شدت میں اضافہ محض پیداوار بڑھانے کے لیے ہی نہیں بلکہ دیہی معیشت میں بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
فصلی شدّت (Cropping intensity)کو مندرجہ ذیل طریقہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
ہندوستان کے فصلی موسم
(Cropping Seasons in India)
ہمارے ملک کے شمالی اور اندرونی حصوں میں تین اہم فصلی موسم ہیں جو خریف، ربیع اور زائد کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ خریف کی فصلیں زیادہ تر جنوب ، مغربی مانسون کے ساتھ بوئی جاتی ہیں جس میں ٹراپیکی فصلیں جیسے چاول ، کپاس ، جوٹ ، جوار ، باجرا اور تور وغیرہ شامل ہیں ۔ ربیع کا موسم اکتوبر، نومبر میں ، موسم سرما سے شروع ہوکر مارچ، اپریل میں ختم ہوجاتاہے۔اس موسم میں کم درجہ حرارت کی وجہ سے نیم، ٹراپیکی (sub-tropical) اور معتدل (temperate) خطوں کی فصلوں جیسے گیہوں ۔ چنا، سرسوں وغیرہ کی کاشت میں مددملتی ہے۔ ’’زائد‘‘ ایک کم مدتی موسم گرماکا فصلی موسم ہے جو ربیع کی فصلوں کی کٹائی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس موسم میں آب پاشی کی مدد سے تربوز ، کھیرا،ککڑی ، سبزیا ں اور چارہ کی کاشت کی جا تی ہے۔ موسم کی ایسی تفریق ملک کے جنوبی حصوں میں نہیں پائی جاتی ہے۔ ملک کے جنوبی حصہ میں پورے سال اونچے درجہ حرارت کی وجہ سے ٹراپیکی فصلوں کی کاشت کے لیے مناسب ہیں۔ بشر طیکہ مٹی میں رطوبت موجود ہو۔ اسی وجہ سے ملک کے اس حصہ میں جہاں بھی سینچائی کی سہولیات میسّر ہیں ایک زرعی سال میں ایک ہی فصل تین مرتبہ اُگائی جاسکتی ہے۔
زراعت کی اقسام (Types of Farming)
رطوبت کی دستیابی کی بناپر زراعت کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آبیاری (Irrigated) بارش پر منحصر(بارانی)(rainfed) زراعت ۔ آبیاری زراعت میں بھی آب پاشی کے مقصد کی بنا پرفرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرتحفظی یا حاصل خیز۔تحفظی آب پاشی کا مقصدمٹی میں رطوبت کی کمی کی وجہ سے فصلوں کو برباد ہونے سے بچانا جب کہ حاصل خیز آب پاشی کا مقصد عام طور پر بارش کے علاوہ آب پاشی سے پانی کی ضمنی فراہمی ہوتی اور فصلوں کو اُن کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرکے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہے۔ اس طرح کی سینچائی میں پانی کی کھپت مزروعہ زمین کے فی مربع رقبہ میں پہلی قسم کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ بارانی کھیتی کو بھی رطوبت کی فراہمی کی بنا پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ خشک کھیتی (Dry Land Farming) اورمرطوب کھیتی (Wet Land Farming) ہندوستان میں خشک کھیتی خصوصی طور پر اُن ریاستوں تک محدود ہے جہا ں بارش کا سالانہ اوسط75سینٹی میٹر سے کم ہے۔ اِن علاقوں میں ایسی فصلیں اُگائی جاتی ہیں جو پا نی کی کمی کو برداشت کر سکتی ہیں جیسے۔،راگی ، باجرا ، مونگ، چنا اور جوار (چارہ کی فصل ) وغیرہ ۔اس کے علاوہ ان علا قوں میں رطوبت کے تحفظ ا ور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ مرطوب کھیتی والے علاقوں میں موسم باراں میں مٹی کی رطوبت پودوں کی ضرورت سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے علاقے سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ جیسی دشواریوں کا سامناکرتے ہیں ۔ ان علاقوں میں وہ فصلیں اگائی جاتی ہیں جنھیں زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے چاول، جوٹ ، گنّا وغیرہ۔ اس کے علاوہ تازہ آب گاہوں میں آبگیر زراعت (aquaculture) بھی کی جاتی ہے۔
جدول5.2:ہندوستان کے فصلی موسم
| فصلی موسم | اہم فصلیں | |
|---|---|---|
| شمالی ریاستیں | جنوبی ریاستیں | |
| حریف | چاول،کپاس،باجرز | چاول،مکئی،راگی |
| جون تا ستمبر | جوار،تور،مکئی | جوار،مونگ پھلی |
| ربیع | گیہوں،چنا،سرسوں | چاول،مکئی،راگی |
| اکتوبر تا مارچ | اور جو | مونگ پھلی، جوار |
| زائد | سبزیاں | چاول سبزیاں |
| اپریل تا جون | پھل اور چارہ | اور چارہ |

غذائی فصلیں (Food grains)
ہندوستان کی زرعی معیشت میں غذائی فصلوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کاشت ملک کے کل مزروعہ رقبہ کے تقریباً دو تہائی حصہ پرکی جاتی ہے ۔ غذائی فصلوں کی پیداوار ملک کے ہر حصہ میں اہمیت کی حامل ہے۔ چاہے وہ گزرانی زرعی معیشت ہو یا نقدی زرعی معیشت ہو۔ دانوں کی ساخت کی بنا پرغذائی فصلوں کودو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اناج اور دالیں ۔
اناج (Cereals)
ہندوستان کے کل بوئے گئے رقبہ کے 54فی صد ی حصہ میں اناج پید اکیا جاتا ہے۔ ہندوستان دنیا کا تقریباً 11فی صدی اناج پید اکرتا ہے چین اور امریکہ کے بعد اس کا تیسرا مقام ہے۔ ہندوستان میں مختلف اقسام کے اناج پیدا کیے جا تے ہیں جو کہ باریک اناج ( چاول اور گیہوں ) اور موٹے اناج (جوار، باجرا، مکّا اور راگی) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اقتباسات میں کچھ مخصوص اناجوں کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے۔
چاول (Rice)
چاول ہندوستان کی بڑی آبادی کی مرغوب غذا ہے۔ اگر چہ چاول مرطوب منطقہ چارہ کی فصل سمجھی جاتی ہے۔تاہم اس کی 3000اقسام مختلف زرعی آب و ہوائی خطوںAgro-climatic regions ) ( میں اُگائی جاتی ہیں یہ سطح سمندر سے لے کر 2000میٹر کی اُنچائی تک والے علاقوں اور مشرقی ہندوستان کے مرطوب علاقوں سے لے کر پنجاب ، ہریانہ ، مغربی اترپردیش ، اورشمالی راجستھان کے خشک لیکن آب پاشی والے علاقوں میں کامیابی سے اُگایا جاتا ہے، جنوبی ریاستوں اور مغربی بنگال کی آب و ہوا میں ایک زرعی سال میں چاول کی دو یاتین فصلیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مغربی بنگا ل میں کسان ایک سال میں چاول کی تین فصلیں حاصل کرتا ہے۔ جنھیں ’اس‘ (aus) ’امن‘(aman) اور ’بورو‘ (boro) کہتے ہیں ۔ لیکن ہمالیہ اور ملک کے شمال مغربی حصوں میں چاول خریف کی فصل جوکہ مغربی ما نسون کے موسم میں اُگائی جاتی ہے۔
2008-09 میں چاول کی بین الاقوامی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ 21.6فی صد ی تھا اور چین کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔ ملک کے کل مزروعہ رقبہ کے تقریباً ایک چوتھا ئی حصہ پر چاول کی کھیتی ہوتی ہے ۔ملک میں 16-2015میں چا ول پیدا کرنے والی اہم ریاستیں مغربی بنگال، پنجاب ، اُترپردیش تھیں ۔ چا ول کی فی ہیکٹر پیداوار پنجاب ، تمل ناڈو، ہریانہ ، آندھراپردیش، مغربی بنگال اور کیرالہ میں زیادہ ہے۔ان میں سے پہلی چار ریاستوں میں چاول کی کاشت آب پاشی کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔ پنجاب اور ہریانہ چاول کی کاشت کے روایتی علاقے نہیں ہیں۔ سبز انقلاب کے بعد ہریانہ اور پنجاب کے آب پاشی والے علاقوں میں 1970کی دہائی سے چاول کی کاشت شروع ہوئی تھی۔بہتر قسم کے بیج، کیمیائی کھا د کانسبتاً زیادہ استعمال، کیڑے ماردوا، اورخشک آب و ہوا میں کیڑوں کی کم افزائش ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ان علاقوں میں چاول کی فی ہیکٹر پیداوار زیادہ ہے۔ اس کے برخلاف مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اوراُڈیشہ وغیرہ جو بارش پر منحصر ہیں ، وہا ں چاول کی فی ہیکٹر پیداوار بہت کم ہے۔

شکل 5.2 :ہندوستان کی جنوبی ریاستوں میں دھان کی روپائی
گیہوں (Wheat)

جوار (Jowar)
باجرا (Bajra)
مکئی (Maize)
دلہن یا دالیں (Pulses)
چنا (Gram)

تور( ارہر) (Tur (Arhar
سرگرمی
تلہن (Oilseeds)
مونگ پھلی (Groundnut)
لائی اور سرسوں (Rapeseed and Mustard)

دیگر تلہن (Other Oilseeds)
ریشے دار فصلیں (Fibre Crops)

کپاس (Cotton)

جوٹ (Jute)
دیگر فصلیں (Other Crops)
گنا (Sugarcane)


شکل5.9:ہندوستان گنے کی تقسیم
چائے (Tea)
کافی (Coffee)
ہندوستان میں زرعی ترقی (Agricultural Development in India)
ترقی کا لائحہ عمل (Strategy of Development)

زراعتی پیداوار کی افزائش اورٹیکنالوجی
(Growth of Agricultural Output and Technology)
پچھلے 50سالوں میں زراعتی پیداوار اور ٹیکنک میں معنی خیز ترقی ہوئی ہے۔
• بہت سی فصلوں مثلاً چاول اور گیہوں کی کل پیداوار اور پیداواریت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری فصلوں خاص کر گنّا، تلہن اور کپاس کی پیداوار میں قابل ستائش اضافہ ہوا ہے۔2011 میں ہندوستان کو دالوں،اور، جوٹ پیدا کرنے میں پہلا مقام حاصل تھا۔ ہندوستان چاول، گیہوں ، مونگ پھلی اور سبزیوں کی پیداوارمیں دنیا میں دوسرے مقام پر ہے۔
• آب پاشی کی سہولیات نے ملک کی زراعتی پیداوار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے جدید زراعتی تکنیک مثلاً اچھیّ قسم کے بیج،کھاد ، کیڑے مار دوائیں اور مشینوں کے استعمال کے لیے ایک بنیاد فراہم کی ۔ 51-1950سے01-2000کے درمیان زِیر آب پاشی رقبہ 208.5 لاکھ ہیکٹرسے بڑھ کر546.6 لاکھ ہیکٹر ہو گیا۔ ان 50 سالوں میں ایک زرعی سال میں ایک سے زیادہ بارزیر آب پاشی کا رقبہ 17.1لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 204.6لاکھ ہیکٹر ہو گیا۔
• ملک کے مختلف علاقوں میں جدید زراعتی تکنیک کاپھیلاؤبہت تیزی سے ہوا۔ پچھلے چالیس سالوں میں کیمیائی کھا د کی کھپت میں بھی پندرہ گنا اضافہ ہوا۔ ہندوستان میں 02-2001 میں کیمیائی کھا د کی اوسط کھپت91کلو گرام فی ہیکٹرتھی۔ جو دنیا کی اوسط کھپت(90کلوگرام) کے برابر تھی ۔ لیکن پنجاب اور ہریانہ کے سینچائی والے علاقوں میں اس کی کھپت ملک کے اوسط سے چار گنا زیادہ ہے۔ چونکہ نئی قسم کے بیجوں میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کم ہے۔ اس لیے1960کی دہائی سے کیڑے مار دواؤں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہواہے۔

شکل5.12:روٹو ٹل ڈرل۔ ایک جدید زراعتی مشین
پائیدار زراعت کے لیے قومی مشن(National mission for sustainable agriculture) NMSA
ہندوستانی زراعت کے مسائل
(Problems of Indian Agriculture)
متلو ّن مزاج مانسون پر انحصار
(Dependence on Erratic Monsoon)
کم پیداواریت (Low productivity)
خشک علاقوں میں پیداواریت کیوں کم ہے؟
مالیاتی وسائل کی مشکلات اور قرض داری
(Constraints of Financial Resources and Indebtedness)
زیادہ قرض لینے کے کیا نتائج ہیں ۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مختلف ریاستوں میں کسانوں کی خودکشی قرض کی دین ہیں ؟
زمینی اصلاح کی کمی (Lack of Land Reforms)
چھوٹے کھیت اور بکھری جوت
(Small Farm Size and Fragmentation of Landholdings)

تجارتی طریق کی کمی (Lack of Commercialisation)
قلتِ روزگار (Vast Under-employment)
قابل زراعت زمین کی پست کاری
(Degradation of Cultivable Land)
سرگرمی
