اکائی I
باب6
آبی وسائل

آپ کیا سوچتے ہیں کہ جوکچھ دور حاضرمیں ہے ایسا ہی رہے گا یا مستقبل میں کچھ الگ ہونے جارہا ہے؟کچھ یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ سماج آبادی تغیر،آبادی کی جغرافیائی نقل مکانی، تکنیکی ترقی، ماحول کی پست کاری اورپانی کی قلت کا سامنا کرے گا۔ ممکن ہے کہ پانی کی قلت اس کی بڑھتی ہوئی مانگ، غیرضروری استعمال اورآلودگی کی وجہ سے فراہمی کی قلت، آنے والے وقت میں ایک سنگین مسئلہ ہوگی۔پانی ایک دَوری (cyclic)وسیلہ ہے جوروئے زمین پرکثرت سے پایا جاتا ہے۔ زمین کا تقریباً 71فی صد حصہ پانی کا بہت چھوٹا سا حصہ ہی انسانوں کے استعمال کے لیے دست یاب ہے۔صاف پانی کی دست یابی محل وقوع کے مطابق الگ الگ ہے۔ اس کمیاب وسیلہ کی تقسیم اورکنٹرول پرکشیدگی اورلڑائی جھگڑے، عوام، علاقوں اورریاستوں کے مابین اختلاف کا موضوع بن گیا ہے۔ترقی کویقینی بنانے کے لیے پانی کاتجزیہ، اثرآفریں استعمال اورتحفظ ضروری ہوگیاہے۔ اس باب میں ہم ہندوستان کے آبی وسائل،اس کی جغرافیائی تقسیم، علاقائی استعمال اوراس کے تحفظ اوربندوبست کے بارے میں غورکریں گے۔
ہندوستان کے آبی وسائل
(Water Resources of India)
ہندوستان میں دنیا کے کل رقبہ کا تقریباً2.45فی صد، دنیا کے آبی وسائل کا 4فی صد اورآبادی کا تقریباً16فی صد حصہ پایا جاتاہے۔ ملک میں ایک سال بارندگی سے حاصل پانی کی کل مقدار تقریباً 4,000مکعب (cubic) کلومیٹر ہے۔سطحی اورزمین دوزذرائع سے 1,869مکعب کلومیٹر پانی حاصل ہوتاہے۔ اس میں سے صرف 60فی صد پانی کا بہترطورپراستعمال کیا جاسکتاہے۔ اس طرح ملک میں کل قابل استعمال آبی وسائل کی مقدار 1,122مکعب کلومیٹرہے۔
سطحی آبی وسائل(Surface Water Resources)
سطحی آبی وسائل کے چاراہم ذرائع ہیں۔ یہ ندیاں، جھیلیں، تالاب اور تلیا ہیں۔ ملک میں کل ندیاں اوران کی معاون ندیاں جن کی لمبائی1.6کلومیٹر سے زیادہ ہے،کوملا کر10,360ندیاں ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں سبھی دریائی طاسوں میں اوسط سالانہ بہاؤ کی مقدار 1,869مکعب کلومیٹر ہے۔ لیکن سطحی بناوٹ کی خصوصیات،آبیاتی اوردیگر مجبوریوں کی وجہ سے سطحی آبی وسائل کا صرف690مکعب کلومیٹر(32فی صد) پانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ندی میں پانی کا بہاؤ اس کے آب گیرہ یا دریا کے طاس کے رقبہ اورآب گیرہ میں بارش کی مقدارپرمنحصرہوتاہے۔آپ گیارھویں جماعت کی درسی کتاب’’ہندوستان:طبعی ماحول‘‘میں پڑھ چکے ہیں ہیں کہ ہندوستان میں بارندگی کی علاقائی ترتیب میں کافی تغیر پایا جاتا ہے۔اور اس کا ارتکازعام طورپر مانسون کے موسم میں ہے۔آپ یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ ہندوستان میں بعض ندیوں جیسے گنگا، برہم پترا اورسندھ کے آبگیرے کافی بڑے ہیں اوران میں بارش بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ملک کے ایک تہائی حصہ پر پھیلا ہے لیکن اس میں ملک کے کل سطحی آبی وسائل کا 60فی صد پایا جاتاہے۔ جنوبی ہندوستان کی ندیوں جیسے گوداوری، کرشنا اورکاویری میں سالانہ بہاؤ کا زیادہ ترحصہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن برہمپترا اورگنگا بیسن میں ابھی تک ایساممکن نہیں ہوسکا۔
جدول6.1:ہندوستان کے دریائی طاسوں میں زیر زمینآبی وسائل کی استعداد اور استعمال (مکعب کلو میٹر/سال)
| نمبر شمار | طاس کا نام زیر زمین آبی مسائل |
قابل تجدید پانی(فی صد) | زیر زمین پانی کی سطح |
| 1. 2. 3. 4. 5. 6. 7. 8. 9. 10. 11. 12. 13. 14. 15. 16. 17. 18. |
برہمانی معہ بیترنی برہمپترا چمبل کمپوزٹ کاویری گنگا گوداوری سندھ کرشنا کچھ اور سوراشٹرا معہ لونی ندی چنئی اور جنوبی تمل ناڈو مہا ندی میگھنا(براک اور دیگر) نرمدا شمال مشرقی کمپوزٹ پینار سبرن ریکھا تالی مغربی گھاٹ |
4.05 26.55 7.19 12.3 170.99 40.65 26.49 11.23 18.22 16.46 8.52 10.83 18.84 4.93 1.82 8.27 17.69 |
8.45 3.37 40.09 55.33 33.52 19.53 77.71 30.39 51.14 57.68 6.95 3.94 21.74 17.2 36.6 9.57 33.05 22,88 |
| کل | 431.4 | 31.97 |


شکل6.1:ہندوستان۔دریائی طاس
زیرزمین آبی وسائل(Groundwater Resources)
ملک میں قابل تجدید زیرزمین آبی وسائل کی مقدارتقریباً 432مکعب کلومیٹر ہے۔جدول6.1سے ظاہرہے کہ دوبارہ لائق استعمال زیرزمین آبی وسائل کا تقریباً 46فی صد گنگا اوربرہمپترا طاسوں میں پایا جاتاہے۔شمال مغربی علاقوں اورجنوبی ہندوستان کے کچھ حصوں کے دریائی طاسوں میں زیرزمین آبی وسائل کا استعمال نسبتاً زیادہ ہے۔
پنجاب، ہریانہ، راجستھان اورتمل ناڈو میں زیرزمین آبی وسائل کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ لیکن کچھ ریاستیں جیسے چھتیس گڑھ، اڑیسہ، کیرالہ وغیرہ اپنے زیرزمین آبی وسائل کا بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ گجرات، اترپردیش، بہار،تری پورہ اور مہاراشٹرا میں زیرزمین آبی وسائل کے استعمال کی شرح درمیانی درجہ کی ہے۔ اگرموجودہ رجحان جاری رہتا ہے توپانی کی سپلائی کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایسے حالات سے ترقی کے لیے مشکلات پیداہوں گی اورسماج میں بکھراؤ بھی ممکن ہے۔
بحری جھیل اوربندپانی (Lagoons and Backwaters)
ہندوستان کا ساحلی علاقہ بہت لمبا ہے اورکچھ ریاستوں میں ساحل بہت کٹا پھٹا ہے، اس وجہ سے بہت سی جھیلیں اورساحلی جھیلیں بن گئی ہیں۔ کیرالہ اڈیشہ اورمغربی بنگال میں ان ساحلی جھیلوں میں سطحی آبی وسائل کے بڑے ذخائر موجودہیں۔ ان ساحلی جھیلوں کاپانی کھاراہے۔ لہٰذا اس کا استعمال مچھلی پالن اورچاول کی کچھ مخصوص اقسام اورناریل وغیرہ کی سینچائی میں کیا جاتا ہے۔
پانی کی مانگ اوراستعمال
(Water Demand and Utilisation)
روایتی طورپر ہندوستان کی معیشت کا انحصار زراعت پرہے اوراس کی کل آبادی کا تقریباً دوتہائی حصہ زراعت پرمنحصرہے۔ اس لیے پانچ سالہ منصوبہ بندی پروگراموں میں زراعتی پیداوارکوبڑھانے کے لیے سینچائی کی سہولیات مہیا کرانے کو خاص اہمیت دی گئی اور کثیرالمقاصد (Multi Purpose)sندی گھاٹی منصوبے جیسے بھاکڑانانگل، ہیراکنڈ، دامودرگھاٹی، نگارجن ساگر، اندرا گاندھی نہروغیرہ شروع کیے گئے۔ درحقیقت موجودہ دورمیں ہندوستان میں پانی کی زیادہ مانگ سینچائی کی ضرورت کے لیے ہے۔
جیسا کہ شکل6.2اور 6.3میں دکھایاگیا ہے کہ سطحی اورزیرزمین پانی کا سب سے زیادہ استعمال زراعت میں ہوتاہے۔ اس میں سے سطحی آبی وسائل کا 89فی صد اور زیر زمین کا 92فی صد زراعت میں استعمال کیا جاتا ہے جب کہ صنعتی شعبہ میں سطحی پانی کا صرف2فی صد اورزیرزمین پانی کا 5فی صد ہی استعمال کیا جاتا ہے،گھریلو شعبہ میں سطحی پانی کا استعمال زیرزمین پانی کے مقابلے میں زیادہ (9فی صد) کیا جاتاہے۔ اگرچہ دورحاضرمیں آبی وسائل کا استعمال زراعتی شعبہ میں سب سے زیادہ ہے لیکن مستقبل میں ترقی کے ساتھ ملک میں صنعتی اورگھریلو شعبہ میں پانی کی مانگ بڑھنے کی امیدہے۔
جدول 6.1پرمبنی مشق:
.1 کس دریائی طاس میں قابل تجدید زیرزمین پانی کی مقدار سب سے زیادہ ہے؟
.2 کس دریائی طاس میں زیرزمین پانی کا استعمال سب سے زیادہ ہے؟
.3 کس دریائی طاس میں کل قابل تجدیدزیرزمین پانی سب سے کم ہے؟
.4کس دریائی طاس میں زیرزمین پانی کا استعمال سب سے کم ہے؟
.5 دس اہم دریائی طاسوں میں کل قابلِ تجدید زیرزمین آبی وسائل کو دکھانے کے لیے ایک بارگراف(Bar graph) بنائیے۔
.6 جن دس دریائی طاسوں کے لیے آپ نے بارگراف بنایا ہے انہیں طاسوں کے لیے زیرزمین پانی کے لیے استعمال کی مقدار کودکھانے کے لیے ایک دوسرا بارگراف بنائیے۔

شکل6.2:سطحی پانی کا شعبہ جاتی استعمال شکل6.3:زیر زمین پانی کاشعبہ جاتی استعمال
آب پاشی کے لیے پانی کی مانگ
(Demand of Water for Irrigation)
زراعت میں پانی کا استعمال آب پاشی کے لیے ہوتاہے۔ ملک میں بارش کے مکانی اورزمانی تغیرکی وجہ سے آب پاشی کی ضرورت پڑتی ہے۔ملک کا ایک بڑاحصہ بارش کی کمی اورخشک سالی سے متاثرہے۔ شمال مغربی ہندوستان اوردکن کے پٹھار اس طرح کے حالات سے دوچارہیں۔ ملک کے بڑے حصے میں موسم سرما اورگرما خشک رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان خشک موسموں میں آب پاشی کے بغیر زراعت کرنا مشکل ہوتاہے۔ مناسب مقدار میں بارش والے علاقوں مثلاً مغربی بنگال اوربہار میں بھی مانسون کے موسم میں رکاوٹ یا اس کی ناکامی کی وجہ سے خشک سالی جیسے حالات پیداہوجاتے ہیں جو کہ زراعت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ کچھ فصلوں کے لیے بارش کی کمی آب پاشی کوضروری بناتی ہے۔ مثال کے طورپر چاول، گنا، جوٹ وغیرہ کے لیے بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ صرف آب پاشی کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
آب پاشی کی سہولت، کثیرفصل خیزی کوممکن بناتی ہے۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں آب پاشی کی سہولیات دستیاب ہیں فصل کی پیداواریت ان علاقوں کے مقابلے زیادہ ہے جہاں آب پاشی کی سہولیات کم یا نہیں ہیں۔ دوسرایہ کہ زیادہ پیداواردینے والے بیجوں(HYVs)کے لیے رطوبت کی مسلسل سپلائی بنائے رکھنا ضروری ہے جو کہ آب پاشی کے بہترنظام کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ بہترآب پاشی نظام کی وجہ سے ملک میں زراعتی ترقی کے لیے سبزانقلاب کی حکمت عملی پنجاب، ہریانہ اور مغربی اترپردیش میں زیادہ کامیاب ہوئی۔
پنجاب،ہریانہ اور مغربی اترپردیش میں خالص بوئے گئے رقبہ کے 85فی صد حصہ پر سینچائی کی سہولیات دستیاب ہیں۔ ان ریاستوں میں گیہوں اور چاول خاص طورپرآب پاشی کی مدد سے پیداکیے جاتے ہیں۔ کنویں اورٹیوب ویل آب پاشی کے اہم ذرائع ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ میں خالص زیر آب پاشی رقبے کا 76.1فی صد اور 51.3فی صد رقبہ پر انھیں ذرائع سے آب پاشی کی جاتی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ ریاستیں اپنے زیرزمین وسائل کے ایک بڑے حصہ کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں زیرزمین پانی کی مقدارمیں کمی آئی ہے۔ جدول6.2میں دی گئی ریاستوں میں بھی کنویں اورٹیوب ویل کے ذریعہ سینچائی والا رقبہ کافی ہے۔

شکل6.4:گنگا اور اس کی معاون ندیاں اور ان کے کنارے آباد شہر
| ریاست | فی صد |
| گجرات راجستھان مدھیہ پردیش مہاراشٹرا اتر پردیش مغربی بنگال تمل ناڈو |
86.6 77.2 66.5 65 58.21 57.6 54.7 |
جدول6.2:کنویں اور ٹیوب ویل کے ذریعہ سینچے گئےخالص رقبے کا فی صد

دی گئی جدول 6.2میں کنویں اور ٹیوب ویل کے ذریعہ سینچائی کی ترتیب کیسی ہے؟
راجستھان،گجرات،مہاراشٹرااورتمل ناڈو کے خشک سالی والے علاقوں میں زیرزمین پانی کے استعمال سے علاقے میں کیا اثرات مرتب ہوئے؟
ان ریاستوں میں زیرزمین پانی کے بے جا استعمال کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں کافی گراوٹ ہوگئی ہے۔ درحقیقت کچھ ریاستوں، جیسے راجستھان اورمہاراشٹرا میں زیادہ پانی نکالنے کی وجہ سے زیرزمین پانی میں فلورائڈکی مقدار بڑھ گئی جب کہ مغربی بنگال اوربہار کے کچھ حصوں میں سنکھیا(arsenic)کی مقدار میں اضافہ ہوگیا۔
سرگرمی
پنجاب، ہریانہ اورمغربی اترپردیش میں زیادہ سینچائی کی وجہ سے مٹی کا کھارا پن بڑھ رہا ہے اور زیرزمین پانی سے سینچائی کے رقبہ میں کمی آرہی ہے۔ زراعت پراس کے ممکنہ اثرات پربحث کیجیے۔
پانی کی ابھرتی مشکلات(Emerging Water Problems)
آبادی میں اضافہ کی وجہ سے پانی کی مقدار کی فی کس دستیابی دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے۔ دستیاب آبی وسائل صنعتی، زراعتی اورگھریلو کچرے کی وجہ سے آلودہ ہوتے جارہے ہیں اوراس وجہ سے قابل استعمال آبی وسائل کی محدود فراہمی میں بھی کمی آتی جارہی ہے۔
پانی کی ماہیت میں گراوٹ
(Deterioration of Water Quality)
پانی کی ماہیت سے مراد پانی کا خالص پن یا غیرضروری باہری مادوں سے پاک پانی سے ہے۔ پانی کی آلودگی کے لیے جراثیم ،کیمیائی، صنعتی اوردیگر مادّے ذمہ دار ہیں۔ اس طرح کے مادّے پانی کی ماہیت میں کمی لاتے ہیں اوراسے انسانی استعمال کے لائق نہیں رہنے دیتے۔جب زہریلے مادّے جھیلوں، تالابوں، دریاؤں،سمندروں اوردیگرآبی وسائل میں شامل ہوتے ہیں تو یا تووہ پانی میں گھل جاتے ہیں یا تیرتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پانی آلودہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی ماہیت میں گراوٹ آتی ہے اورآبی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ آلودہ مادّے رساؤ کے ذریعہ زمین کے اندرپہنچ کرزیرزمین پانی کوبھی آلودہ کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں گنگا اور جمنا دوسب سے زیادہ آلودہ ندیاں ہیں۔
سرگرمی
گنگا اوراس کی معاون ندیوں کے کنارے آباد قصبوں/شہروں کی نشاندہی کیجیے اور ان کے کنارے واقع بڑی صنعتوں کے بارے میں معلوم کیجیے۔
پانی کا تحفظ اور انتظام
(Water Conservation and Management)
صاف پانی کی کم ہوتی سپلائی اوربڑھتی مانگ سے تحفظ پسندانہ ترقی کے لیے اس بیش قیمتی وسیلے کے تحفظ اور انتظام کی اشد ضرورت ہے۔ سمندر کے کھارے پانی کوصاف کرکے استعمال کے لائق بنانے میں زیادہ لاگت آنے کی وجہ سے اس کی فراہمی نہیں کے برابرہے،لہٰذا ہندوستان کوپانی کے تحفظ اور انتظام کے لیے فوری طورپر پُراثرپالیسیاں اورقوانین نافذکرنے کی ضرورت ہے۔ پانی کے بچت کی تکنیک اورطریقوں کورائج کرنے کے علاوہ پانی کوآلودگی سے بچانے کی بھی سخت ضرورت ہے۔پن دھارا ترقی (Watershed development)،بارش کاپانی جمع کرنا، پانی کے دوبارہ استعمال کرنے اورپانی کے ذرائع کے اجتماعی استعمال کوفروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ لمبے عرصے تک پانی کی فراہمی کویقینی بنایاجاسکے۔
پانی کا آلودگی سے بچاؤ
(Prevention of Water Pollution)
موجودہ آبی وسائل کی آلودگی کی وجہ سے ان کی ماہیت میںتیزی سے گراوٹ آرہی ہے۔ ملک کی اہم ندیوں سے پہاڑی علاقوں کے کم آبادی والے علاقوں میں پانی کی ماہیت بہترہے۔ میدانی علاقوں میں ندی کے پانی کا استعمال آب پاشی، پینے،گھریلو اورصنعتی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ زراعت میں استعمال ہونے والی کیمیائی کھاد، جراثیم کش ادویہ کے اجزا اور کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مادّے کے اجزا، نالوں کے ذریعہ ندیوں تک پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے ندیوں میں آلودگی بڑھتی ہے۔ موسم گرما میں جب ندیوں میں پانی کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے، آلودگی کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
سینٹرپولیوشن کنٹرول بورڈ(CPCB)،اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈوں کے اشتراک سے ملک میں 507مقامات پر ملکی آبی وسائل کی ماہیت پرنگاہ رکھے ہوئے ہے۔ ان مقامات سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ندیوں میں آلودگی کی اہم وجہ مسخر جراثیم ہیں۔دہلی اوراٹاوہ کے درمیان جمناندی کی سب سے زیادہ آلودہ ندی ہے۔ دیگرآلودہ ندیوں میں احمد آباد کی سابرمتی، لکھنومیں گومتی، مدورئی میں کالی، ادیار، کوام اورویگئی ،حیدرآباد میں موسی اورکانپور وارانسی میں گنگا ندیاں شامل ہیں۔ زیرزمین پانی ملک کے مختلف حصوں میں بھاری اور زہریلے مادّوں، فلورائڈ اورنائٹریٹ کے جماؤ کی وجہ سے آلودہ ہوتا ہے۔

پانی کے تحفظ اور انتظام سے متعلق قانون مثلاً 1974کا(پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پولیوشن)ایکٹ اور1986کا(اِنوائرمنٹ پروٹیکشن) ایکٹ پوری طرح سے نافذنہ کیے جاسکے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1997میں ندیوں اورجھیلوں کے کنارے 251ایسے کارخانے قائم ہوچکے تھے جو ان ندیوں اور جھیلوں کوآلودہ کررہے تھے۔ واٹرسیس ایکٹ 1977،جس کا مقصد آلودگی کوکم کرنا تھا، کے اثرات بھی محدود رہے۔ پانی کی اہمیت اور آلودگی سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں عوام میں بیداری پیداکرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عوامی بیداری اوران کے حصے داری سے زراعتی، گھریلو اور صنعتی آلودگی میں خاطرخواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔
پانی کی بازتشکیل اوردوبارہ استعمال
(Recycle and Reuse of Water)
پانی کی بازتشکیل اور دوبارہ استعمال میں لانا یا دوبارہ استعمال کے لائق بنانا ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی کوبڑھایاجاسکتا ہے۔ کم ماہیت والے پانی کا استعمال کارخانوں کوٹھنڈارکھنے اورآگ بجھانے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے سے صاف پانی کے استعمال میں کمی آئے گی اسی طرح سے شہری علاقوں میں نہانے اوربرتن صاف کرنے والے پانی کا استعمال باغیچوں کی سینچائی کے لیے کیا جاسکتا ہے۔اس سے اچھی ماہیت والے پانی کوپینے کے لیے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔اگرچہ ابھی پانی کا دوبارہ استعمال بہت چھوٹے پیمانہ پرہورہا ہے پھربھی امید کی جارہی ہے کہ آنے والے وقت میں اس طریقۂ کار سے پانی کے تحفظ پرمثبت اثرپڑے گا۔
سرگرمی
اپنے گھرمیں مختلف کاموں کے لیے استعمال کیے گئے پانی کی مقدارپرغورکیجیے اور وہ طریقے بتائیے جن سے پانی کودوبارہ استعمال کے لائق بنایاجاسکے یا دوبارہ استعمال کیا جاسکے۔
اساتذہ کوپانی کے recycleاورreuseکے طریقوں اور اہمیت پر ایک مباحثے کا انعقاد کرنا چاہیے۔
رالے گان سدھی، احمدنگر،مہاراشٹرمیں پن دھارا ترقی: ایک تفصیلی جائزہ
مہاراشٹر کے احمدنگرضلع میں ایک چھوٹا ساگاؤں رالے گان سدھی ہے۔ یہ ملک میں پن دھارا ترقی کی ایک مثال ہے۔
1975میں یہ گاؤں غربت اورشراب کی غیرقانونی تجارت کے جال میں جکڑاہواتھا۔ گاؤں کی حالت میں تبدیلی کا دورتب شروع ہواجب ایک فوجی ریٹائرمنٹ کے بعد اس گاؤں میں آباد ہوگیا اورپن دھاراترقی کی شروعا کی۔ اس نے گاؤں والوں کوخاندانی منصوبہ بندی ورصا کارانہ کام،چراگاہوں کے تحفظ، درختوں کی کٹائی روکنے اورشراب بندی کے لیے راضی کیا۔
سرکاری امداد پر کم سے کم انحصار کرنے کے لیے ضروری تھا کہ رضاکارانہ کام کوبرھاوا دیاجائے۔ اس فوجی کے الفاظ میں اس نے پروجیکٹ کے خرچ کواشتراکی بنادیا۔جولوگ گاؤں سے باہرکام کررہے تھے انھوں نے بھی ہرسال ایک ماہ کی تنخواہ گاؤں کی ترقی کے لیے دے دیا۔
کام کی شروعات ایک ترسیبی تالاب کی کھدائی سے ہوئی۔ 1975میں تالاب میں پانی نہیں رکا،تالاب کی دیواروں سے پانی کارساؤہورہا تھا۔ اس کی مرمت کرنے کے لیے لوگوں کی رضا کارانہ خدمات حاصل کی گئیں۔ لوگوں کی یاداشت میں یہ پہلا موقع تھا۔ جب گرمی کے موسم میں سات کنوؤں میں پانی بھرگیا۔عوام نے اپنے اس مسیحا کے خیالات اور عمل میں پورایقین ظاہرکیا۔
نوجوانوں کا ایک گروہ بنایاگیا جسے ترون منڈل کہاگیا۔ گروہ نے جہیزکی لعنت اورچھوت جیسی سماجی برائیوں پر پابندی لگانے کاکام کیا۔ شراب کی بھٹیاں بندکردی گئیں اور شراب نوشی پرپابندی لگادی گئی۔ مویشیوں کی کھلی چرائی پرپوری طرح پابندی لگانے کے ساتھ مویشیوں کوان کی جگہوں پر ہی چارہ مہیا کرانے کے انتظام کیے گئے۔ پانی کی زیادہ مانگ کرنے والی فصلوں مثلاً گنے کی کھیتی پر پابندی لگادی گئی اور ساتھ ہی ایسی فصلوں کوترجیح دی گئی جن کی کھیتی میں پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے مثلاً دالیں، تلہن اورکچھ نقدی فصلیں۔

مقامی اداروں کے مختلف انتخابات اتفاق رائے سے پورے کرائے گئے اس نے سماج کے قائدین کومکمل طورپر سماج کا نمائندہ بنادیا۔ نیائے پنچایت کانظام شروع کیا گیا اس کے بعد کوئی بھی پولیس کے پاس نہیں جاتا۔
22لاکھ روپیے کی لاگت سے ایک اسکول کی عمارت کی تعمیر کی گئی جس میں صرف گاؤں کے وسائل کا استعمال کیاگیا۔ اس کے لیے کسی سے کوئی چندہ نہیں لیاگیا۔ ضرورت پڑنے پر وقتی طورپر قرض لے لیا گیا اوربعد میں واپس کردیاگیا۔ گاؤں والوں کو اپنی خود کفالت پرفخرہے۔ اس نظام پر لوگوں کو نہ صرف فخر ہے بلکہ اس سے آپس میں رضاکارانہ طورپر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ لوگ زراعتی کاموں میں رضاکارانہ طورپرایک دوسرے کی مدد کرنے لگے جن کے پاس کھیتی کے لیے زمین نہیں تھی اور مزدوری پرمنحصر تھے انھیں روزگار مل گیا۔ گاؤں کے لوگ ان بے روزگاروں کے لیے پڑوس کے گاؤں میں زمین خریدنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔

آج کل گاؤں میں پانی کی افراط ہے ،کھیتی لہلہارہی ہے۔ لیکن کیمیائی کھاداورجراثیم کش ادویہ کا استعمال بڑے پیمانے پرہورہا ہے۔ گاؤں کی اس خوشحالی سے ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا قائد کے بعد گاؤں کی نوجوان نسل اس ذمہ داری کونبھانے کے لیے تیار ہے؟ نوجوان نسل اس کا جواب کچھ اس طرح دیتی ہے۔’’رالے گان کی ترقی کا سلسلہ اس کے مثالی گاؤں بننے سے نہیں رکے گا۔بدلتے وقت کے ساتھ لوگ نئے راستے تلاش کریں گے جومستقبل میں رالے گان کوملک کا الگ قسم کا نمونہ پیش کرسکتا ہے‘‘
تحفظی اقدامات سے کیا حاصل ہوسکتا ہے؟کامیابی کی ایک مثال

شکل6.5:بارش کے پانی کو اکٹھا کرنے کے مختلف طریقے
جھیلوں میں پانی اکٹھا کرنا
پن دھارا انتظام کے ذریعے پانی اکٹھا کرنا
ریجارج کنوؤں کے ذریعے پانی اکٹھا کرنا
عام کنوؤں کے ذریعے پانی اکٹھا کرنا
پن دھارا کاانتظام
(Watershed Management)
پن دھارا کے انتظام سے مراد سطحی اورزیرزمین آبی وسائل کے اثرآفریں انتظام سے ہے۔اس انتظام کے تحت بہتے پانی کوروکنا اورزیرزمین آبی وسائل کو دوبارہ بھرنے کے لیے تالاب اورکنووں کی تعمیرکرنا شامل ہے۔ حالانکہ موٹے طورپر پن دھارا انتظام سے مراد ہے تمام قدرتی وسائل (زمین ، پانی،نباتات اورجانوروں)اور انسانی وسائل کا تحفظ اور مدبرانہ استعمال۔پن دھاراانتظام کا مقصد قدرتی وسائل اورسماج کے درمیان ایک توازن پیداکرنا ہے۔ پن دھارا انتظام کی کامیابی عوام کی حصہ داری پرمنحصرہے۔
مرکزی اورریاستی حکومتوں نے ملک میں پن دھاروں کی ترقی اور انتظام کے کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔ان میں سے کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں۔ ’’ہریالی‘‘مرکزی حکومت کی کفالت سے چلنے والا ایک پن دھارا ترقیاتی پروگرام ہے جس کا مقصد دیہی آبادی کو پینے، سینچائی، مچھلی پالن اورجنگل بانی کے لیے پانی کے معاملے میں خود کفیل بنانا ہے۔ یہ پروگرام عوام کی مدد سے گرام پنچایتوں کے ذریعہ عمل میں لایاجارہا ہے۔
’’نیرو-میرو‘(پانی اورآپ) پروگرام(آندھراپردیش میں) اور ’ارواری پانی سنسد‘(الور، راجستھان میں) کے تحت عوام کے تعاون سے پانی اکٹھا کرنے کے مختلف طرح کے ڈھانچے تیار کیے۔ ان میں ترسیبی گڈھے بنانا، تالابوں کی کھدائی کرانا(جوہڑ) رکاوٹ کے باندھوں کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔ تمل ناڈو میں ایسی کسی عمارت کا نقشہ منظور نہیں کیا جاتا جس میں بارش کے پانی کوزیرزمین اکٹھا کرنے کے لیے مناسب ڈھانچہ کے تعمیر کی گنجائش نہ ہو۔
کچھ علاقوں میں پن دھارا کے ترقیاتی پروگرام کے نافذکرنے کے بعد ماحول اور معیشت میں نمایاں تبدیلی آئی۔ لیکن کامیابی سے جڑی کچھ ہی کہانیاں ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں پن دھارا پروگرام ابھی شروعاتی دور میں ہی ہیں۔ ملک میں پن دھارا ترقی اور انتظام کے مثبت پہلوؤں کوعوامی بیداری اور حصہ داری کے ذریعہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔ آبی وسائل کے انتظامی طریقہ کارپرعمل کرتے ہوئے پانی کی فراہمی کولمبے عرصے کے لیے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی
(Rainwater Harvesting)
بارش کا پانی جمع کرنے سے مراد بارش کے پانی کوروک کراوراکٹھا کرکے متعدد کاموں میں استعمال کرنا۔اس کا استعمال زیرزمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سستا اورماحول کے موافق طریقہ ہے جس کے ذریعہ پانی کی ہرایک بوند کوترسیبی گڈھوں کے ذریعہ ٹیوب ویلوں ا ورکنووں میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔اس طریقے کواپنانے سے پانی کی فراہمی میں اضافہ ہوتاہے۔ زیرزمین پانی کی سطح میں گراوٹ کوقابو میں رکھا جاسکتا ہے، فلورائڈ اورنائٹریٹ جیسے زہریلے مادّوں کی مقدارکوکم کرکے پانی کی ماہیت میں اضافہ ہوتا ہے،مٹی کے کٹاؤ اور سیلاب کوروکتا ہے اوراگراسے دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو ساحلی علاقوں میں کھارے پانی کومیٹھے پانی میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔
ملک میں مختلف طبقہ کے لوگ لمبے عرصے سے بارش کے پانی کو اکٹھا کرتے آرہے ہیں۔دیہی علاقوں میں روایتی طورپر بارش کا پانی جھیلوں، بڑے اور چھوٹے تالابوں میں اکٹھا کیا جاتارہا ہے۔ راجستھان میں بارش کے پانی کواکٹھا کرنے کے لیے گھرکے اندر یا باہر یا گاؤں میں کنڈ، یا ٹنکا(ایک ڈھکی ہوئی زیرزمین ٹنکی)کی تعمیرعام ہے۔ (بارش کا پانی اکٹھا کرنے کے مختلف طریقوں کوسمجھنے کے لیے شکل 6.5کوغورسے دیکھیے)۔
بیش قیمتی آبی وسائل کے تحفظ کے لیے بارش کے پانی کواکٹھا کرنے کی تکنیک کا استعمال کرنے کی کافی گنجائش ہے۔ اسے گھر کی چھتوں اور کھلی جگہوں پرآسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ بارش کا پانی اکٹھا کرنے سے گھریلو استعمال کے لیے زیرزمین پانی پردباؤ کم ہوگا۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی کے دوبارہ استعمال کے لائق ہونے کی وجہ سے اس کی سطح میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا اورپانی نکالنے کے لیے بجلی کاخرچ بھی کم ہوگا۔ آج کل ملک کی کئی ریاستوں میں بارش کے پانی کو اکٹھا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چلائی جارہی ہے بارش کے پانی کواکٹھا کرنے کی تکنیک سے شہری علاقوں کو خاص طورپر فائدہ ہورہا ہے کیوں کہ زیادہ ترشہروں میں پانی کی مانگ کافی بڑھ چکی ہے۔
درج بالا عوامل کے علاوہ خاص کرساحلی علاقوں میں سمندری پانی اورخشک علاقوں میں کھارے پانی کی صفائی، ندیوں کوآپس میں جوڑکر زیادہ پانی والے علاقوں سے کم پانی والے علاقوں میں پانی کی منتقلی سے بھی پانی کے مسئلے کوسلجھانے میں کافی مدد ملے گی۔ پھربھی انفرادی ،عوامی اورگھریلو استعمال کے نقطۂ نظرسے سب سے بڑامسئلہ پانی کی قیمت ہے۔
جل کرانتی ابھیان(2015-16)
ہندوستان کی قومی آبی پالیسی 2002کے کچھ اہم نکات
قومی آبی پالیسی 2002میں پانی کی اولیت کی ترتیب مندرجہ ذیل طریقہ سے کی گئی ہے پینے کا پانی ،آب پاشی، پن بجلی، جہازرانی، صنعتی اور دیگراستعمال ۔اس پالیسی میں پانی کے انتظام کے لیے ترقی پسند معیارطے کیے گئے اس کی کچھ خصوصیات اس طرح ہیں:
• ان علاقوں میں جہاں پینے کے پانی کی قلت ہے،آب پاشی اورکثیرالمقاصد پروجیکٹ سے پینے کے پانی کا انتظام کرنا ضروری ہے۔
• تمام انسانوں اورجانوروں کوپینے کا پانی مہیا کرانا پہلی اولیت ہونی چاہیے۔
• زیرزمین پانی کے بے جا استعمال پرقابوکرنا۔
• سطحی اور زیرزمین پانی کی ماہیت کی پابندی سے جانچ ہونی چاہیے۔ پانی کی ماہیت میں بہتری لانے کے لیے مناسب اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔
• سبھی طرح کے کاموں میں پانی کے استعمال کے طورطریقوں میں سدھارلانے کی ضرورت ہے۔
• پانی کی اہمیت سمجھانے کے لیے عوامی بیداری کی ضرورت ہے۔
• تعلیم، قانون،جذبہ اورلگن سے پانی کے تحفظ کے لیے عوامی بیداری پیداکرنے کی ضرورت ہے۔
ماخذ: گورنمنٹ آف انڈیا(2002), India;s Reform Initiatives in Water Sectorوزارتِ برائے دہلی ترقی، نئی دہلی
سرگرمی
ویب سائٹ:(www.wrmin.nic.in)سے قومی آبی پالیسی 2012، گنگا کی تجدید کاری اور جل کرانتی ابھیان سے متعلق معلومات جمع کریں اور کلاس روم میں بحث کریں۔
جل کرانتی ابھیان(2015-16)
پانی ایک ایسا وسیلہ ہے جسے باربار استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی فراہمی محدود ہے۔ اس کی مانگ اور رسد کے درمیان خلاوقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ عالمی پیمانے پر آب وہوا کی تبدیلی دنیا کے بہت سے حصوں میں آبی دباؤ کے حالات پیداکرسکتی ہے۔پانی کی اونچی مانگ کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں آبادی کی نمو اور اقتصادی ترقی کی منفرد صورت حال ہے۔ حکومت ہند نے 2015-16میں جل کرانتی ابھیان اس مقصد سے شروع کیا تھا کہ ملک میں پانی کی فی کس فراہمی کے ذریعہ آبی تحفظ کویقینی بنایا جاسکے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں لوگ پانی کے تحفظ اور اس کے انصرام واہتمام کی معلومات کے مطابق عمل کرتے ہیں اور پانی کی فراہمی کویقینی بناتے ہیں۔
جل کرانتی ابھیان کا مقصد مقامی اداروں،غیرسرکاری تنظیموں اور تمام شہریوں کواس ابھیان میں شامل کرکے اپنے مقاصد کے بارے میں بیداری پیداکرنا ہے۔ جل کرانتی ابھیان کے تحت مندرجہ ذیل سرگرمیاں تجویزکی گئی ہیں:
1۔ ملک کے تمام 672ضلعوں میں’ جل گرام ‘بنانے کے لیے پانی کی قلت والے گاؤں کا انتخاب کرنا۔
2۔ یوپی،ہریانہ(شمال)،کرناٹک، تلنگانہ،تامل ناڈو(جنوب)،راجستھان،گجرات (مغرب) اڈیشہ(مشرق)اورمیگھالیہ(شمال مشرق)جیسے ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 1000مثالی علاقوں کی نشان دہی۔
3۔ آلودگی کا خاتمہ۔
• آبی تحفظ اورمصنوعی ریچارج۔
• زیرزمینی پانی کی آلودگی کوختم کرنا۔
• ملک کے منتخب علاقوں میں آرسینک سے محفوظ کنوؤں کی تعمیر۔
4۔ سوشل میڈیا،ریڈیو،ٹی وی، اخبارات،پوسٹر مسابقوں اوراسکول میں ہلکے پھلکے تحریری مقابلوں کے ذریعے عوامی بیداری کوعام کیا جائے۔
جل کرانتی ابھیان آبی تحفظ کے ذریعے معاش اورغذائی تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
مشقیں
-1 نیچے دیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) مندرجہ ذیل وسائل میں سے کون سی قسم پانی کوایک وسیلہ ظاہرکرتی ہے؟
(a) نامیاتی جاندار وسائل (b) ناقابل تجدید وسائل
(c) حیاتی وسائل (d) غیردوری وسائل(Cyclic)
-ii مندرجہ ذیل دریاؤں میں سے کس دریا میں سب سے زیادہ قابل تجدید زیرزمین آبی وسائل موجود ہیں؟
(a) سندھ (b) برہمپترا
(c) گنگا (d) گوداوری
(iii) مندجہ ذیل میں ہندوستان کی سالانہ بارش کی مقدارکو مکعب کلومیٹر میں دیاگیا ہے۔ صحیح مقدار پرنشان لگائیے۔
(a) 2,000 (b) 3,000
(c) 4,000 (d) 5,000
(iv) کس ریاست میں زیرزمین آبی وسائل کا استعمال(فی صدمیں)اس کے کل زیرزمین آبی وسائل کی استعداد سے زیادہ ہے۔
(a) تمل ناڈو (b) کرناٹک
(c) آندھرا پردیش (d) کیرالہ
(v) ملک میں استعمال کیے گئے
پانی کی کل مقدارکاسب سے بڑاحصہ کس شعبہ میں استعمال ہوتا ہے۔
(a) سینچائی (b) صنعت (c) گھریلو استعمال (d) ان میں سے کوئی نہیں
2۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب 30الفاظ میں دیجیے۔
(i) کہاجاتا ہے کہ ہندوستان کے آبی وساسئل میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ آبی وسائل کی کمی کے لیے ذمہ دار عوامل کا تجزیہ کیجیے۔
(ii) پنجاب، ہریانہ اور تمل ناڈو میں زیرزمین آبی وسائل کی ترقی کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں؟
(iii) ملک میں کل استعمال کیے گئے پانی کی مقدار کا حصہ زراعت سیکٹر میں کم ہونے کی امید کیوں ہے؟
(iv) لوگوں پرآلودہ پانی/گندے پانی استعمال کرنے کے کیا اثرات رونما ہوسکتے ہیں؟
3۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب 150الفاظ میں دیجیے۔
(i) ملک میں آبی وسائل کی دستیابی کا تجزیہ کیجیے اور اس کی مکانی تقسیم کوطے کرنے والے عوامل کو بیان کیجیے۔
(ii) آبی وسائل کی کم ہوتی ہوئی مقدار کی وجہ سے آپسی تصادم اوراختلافات ہوسکتے ہیں۔ اسے مناسب مثال دے کرسمجھائیے۔
(iii) پن دھارا انتظام سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ انتظام ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے؟
