اکائی III
باب 7
معدنیات اورتوانائی کےوسائل

ہندوستان اپنی گوناگوں زمینی ساخت کی و جہ سے مختلف اقسام کے معدنی وسائل سے بھر پور ملک ہے۔ زیادہ تر بیش قیمتی وسائل ما قبل پیلیوزوئی دور (Pre-palaezoic ageکی دین ہیں (حوالہ: باب2،گیارھویںجماعت کی درسی کتاب ’’طبعی جغرافیہ کے بنیادی اصول‘‘) جو کہ جزیرہ نما ہندوستان کی آتشی اور بلوری چٹانوں میں پائے جاتے ہیں۔ شمالی ہندوستان کے عظیم سیلابی میدانی علاقے ان وسائل سے محروم ہیں۔ کسی بھی ملک کے معدنی وسائل اس کی صنعتی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس باب میں ہم ملک میں پائی جانے والی مختلف اقسام کی معدنیات اور توانائی کے وسائل کی دستیابی کے بارے میں تذکرہ کریں گے۔
معدنیات متعین کیمیائی ا ور مادی خصوصیات کے ساتھ ایک نامیاتی یا غیر نامیاتی قدرتی مرکب ہیں۔
معدنی وسائل کی اقسام
( Types of Mineral Resources)
کیمیائی اور مادی خصوصیات کی بنا پر معدنیات کو دو خاص اقسام فلزی یا دھاتی (Metallic)اور غیرفلزی غیر دھاتی(Non-Metallic)میں بانٹاجاسکتا ہے۔ تفصیل مندرجہ ذیل چارٹ کی شکل میں دی گئی ہے۔

شکل7.1:معدنیات کی درجہ بندی
معدنیات
غیر فلزی معدنیات
فلزی معدنیات
غیر فولادی مثلاً تانبہ، باکسائیٹ وغیرہ
فولادی مثلاً لوہا مینگنیز وغیرہ
دیگر فلزی معدنیات مثلاً ابرق، چونا پتھر، گریفائٹ وغیرہ
معدنی ایندھن مثلاً کوئلہ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس وغیرہ
جیسا کہ شکل 7.1 سے ظاہر ہے، فلزی معدنیات دھات کے ذرائع ہیں۔خام لوہا، تانبہ اور سونا چونکہ دھات پیدا کرتے ہیں اس لیے انھیں اس گروپ میں شمار کرتے ہیں۔ فلزی معدنیات کو مزیددو اقسام ، فولادی اور غیر فولادی میں بانٹا گیا ہے۔ فولاد جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ لوہاہے۔ وہ ساری معدنیات جن میں لوہے کے ذرات پائے جاتے ہیں فولادی ہوتے ہیں جیسا کہ خام لوہا اور جن میں لوہے کے ذرات نہیں ہوتے ہیں غیر فولادی کہے جاتے ہیں مثلاً تانبہ یا باکسائٹ وغیرہ۔
غیر فلزی معدنیات یا نامیاتی یا غیر نامیاتی ہوتے ہیں۔مثلاًرکازی ایندھن (معدنی ایندھن) جسے ہم نامیاتی ایندھن کہتے ہیں-جو مَدفون جانوروں اور نباتات جیسے کوئلہ اور پیٹرولیم سے حاصل ہوتا ہے۔ دیگر غیرفلزی معدنیات کاوجودغیرنامیاتی ہے مثلاًابرق، چونا پتھراور گریفائٹ وغیرہ۔
معدنیات کی کچھ اہم خصوصیات ہوتی ہیں۔ ان کی دنیا میں ان کی تقسیم غیر مساوی ہے۔ معدنیات کی ماہیت اور مقدار میں ایک معکوس تعلق ہے۔ یعنی اچھی ماہیت والی معدنیات کی مقدار خراب ماہیت والی معدنی مقدار کے مقابلے کم ہوتی ہے۔تیسری خاصیت یہ ہے کہ ساری معدنیات ناقابل تجدید ہیں۔ارضیات کے نقطہ نظرسے انھیں بننے کے لیے ایک لمبا عرصہ درکارہوتا ہے اور ضرورت کے وقت انھیں دوبارہ بھرا نہیں جاسکتا ہے لہذا ان کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور ان کا بے جااستعمال نہیں ہونا چاہیے۔ معدنیات کی کان کنی میں مصروف ایجنسیاں
ہندوستان میں معدنیات کی تقسیم
( Distribution of Minerals in India)
زیادہ تر فلزی معدنیات جزیرہ نما ہند کے بلوری چٹانی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ ملک کے 97فی صد سے زیادہ ذخائر دامودر، سون ، مہاندی اور گوداوری کی وادیوں میں پائے جاتے ہیں۔ پیٹرولیم کے ذخائر آسام، گجرات کے طاسوں اور ممبئی ہائی یعنی عرب کے نزد یکی ساحلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ نئے ذخائر کرشنا -گوداوری اور کاویری طاسوں میں پائے گئے معدنیات کے زیادہ تر ذخائر منگلور سے کانپور کو جوڑنے والی لائن (موہوم) کے مشرق میں پائے جاتے ہیں۔
ہندوستان میں معدنی وسائل خصو صاًتین خِطوں میں محدود ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کچھ دوسرے علاقوں میں بھی بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ خطے اس طرح ہیں:
شمال مشرقی پٹھاری خطہ (The North-Eastern Plateau Region)
اس خطے میں چھوٹا ناگپور(جھارکھنڈ) ،اڑیسہ کے پٹھار، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ کے کچھ حصے شامل ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ لوہے اور اسٹیل کے بڑے کارخانے اس خطے میں کیوں قائم کیے گئے ہیں؟ کیونکہ اس علاقے میں مختلف اقسام کی معدنیات دستیاب ہیں۔ مثلاً خام لوہا، کوئلہ، میگینز،باکسائیٹ، ابرق وغیرہ۔
ان مخصوص علاقوں کو معلوم کیجیے جہاں ان معدنیات کی کان کنی ہوتی ہے۔
جنوب مغربی پٹھاری خطہ
Western (The SouthPlateau Region)
اس علاقہ میں کرناٹک، گوا، تمل ناڈو کا کچھ حصہ اور کیرلہ کے اُونچائی والے حصے شامل ہیں۔ اس خطہ میں فولادی معدنیات اور باکسائیٹ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر بہترین قسم کا خام لوہا ،مینگنیز اور چونے کے پتھر بھی دستیاب ہیں۔نیویلی لگنائٹ کو چھوڑکر اس خطے میں کوئلے کے ذخائرکی کمی ہے۔
اس خطے کے معدنی وسائل کے ذخائرمیں شمال مشرقی خطے کے مقابلے میں تنوع کم ہے۔ کیرالہ میں مونا زائیٹ، تھوریم اور باکسائٹ مٹی کے ذخائر ہیں لیکن گووامیں خام لوہا دستیاب ہے۔
شمال مغربی خطہ (The North-Western Region)
یہ پٹی راجستھان میں اراولی اور گجرات کے کچھ حصوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان علاقوں میں معدنیات دھارواڈ سلسلے کی چٹانوں میں پائی جاتی ہیں۔ تانبہ اور زنک وغیرہ اہم معدنیات ہیں۔ راجستھان میں ریتیلے پتھر، گرینائٹ، سنگِ مرمر ،جپسم اور عمارتی پتھر افراط میں پائے جاتے ہیں۔ ڈولومائٹ اور چونے کے پتھر، سیمنٹ کی صنعت کو خام مال فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ یہاں ملتا نی مٹی بھی کافی مقدار میں پائی جاتی ہے ۔ گجرات اپنے پیڑولیم ذخائر کے لیے جانا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ گجرات اور راجستھان دونوں ہی ریاستوں میں نمک کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
مہاتما گاندھی نے ڈانڈی مارچ کب اور کیوں کیا تھا؟
ہمالیائی پٹی دوسری ایسی پٹی ہے جہاں تانبہ ،جستہ، کو بالٹ اور ٹنگسٹن پائے جاتے ہیں۔ یہ ہمالیہ کے مشرقی اور مغربی دونوں حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ آسام گھاٹی میں معدنی تیل کے ذخیرے موجود ہیں۔اس کے علاوہ معدنی تیل کے وسائل ممبئی کے قریب ممبئی ہائی میں بھی پائے جاتے ہیں۔
آگے کے صفحات میں آپ کچھ معدنیات کی مکانی ترتیب کے بارے میں پڑھیں گے۔
فیرس معدنیات (Ferrous Mineral)
خام لوہا،مینگنیز اور کرومائٹ وغیرہ آہنی معدنیات پر منحصر صنعتوں کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ فیرس معدنیات کے ذخائر اور پیدا وار کے معاملے میں ہمارے ملک کی حالت بہتر ہے۔
خام لوہا (Iron Ore)
ہندوستان میں خام لوہے کے خاصے ذخائر موجود ہیں ۔یہ ایشیاکے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ ہمارے ملک میں خام لوہے کی دو اقسام اہم ہیں: ہیماٹائٹ اورمیگنے ٹائٹ۔ ان کی عمدہ قسم کی وجہ سے تمام دنیا میں اس کی کافی مانگ ہے۔ خام لوہا کی کانیں ملک کے شمال مشرقی پٹھاری خطہ میں کوئلہ کی کانوں کے قریب موجود ہیں جو کہ اس کے لیے فائدہ مند ہے۔


شکل7.2:ہندوستان۔فلزی معدنیات(فولادی)
ہمارے ملک میں 2004-05میں خام لوہا کے ذخائر کی مقدار تقریباً200کروڑٹن تھی۔ خام لوہے کے کل ذخائر کا تقریبا95فی صد حصہ اڑیسہ ،جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ ،کرناٹک ،گوا،تلنگانہ،آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں پایا جاتا ہے۔ اڑیسہ میں خام لوہا سندرگڑھ، میور بھنج اور جھار کھنڈکے پہاڑی علاقوںمیں موجود ہے۔ گرو مہیسنی ،سُلیپت،بادام پہاڑ (میوربھنج) کِروبرو (کنجھور) اور بونائی (سندرگڑھ) وغیرہ اہم کانیں ہیں۔ جھارکھنڈ کی پہاڑیوں میں خام لوہے کی کچھ سب سے پرانی کانیں ہیں۔ زیادہ تر لوہا اور فولاد کے کارخانے ان کے آس پاس ہی قائم ہوئے۔ نوا منڈی اورگو ا (Gua)جیسی زیادہ ترکانیں پوربی اور پچھمی سنگھ بھومی اضلاع میں موجود ہیں۔یہ پٹی آگے درگ، دانتے واڑہ اور بیلاڈیلا تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ڈلی اور درگ میں راجہراکی کانیں ملک میں خام لوہے کی اہم کانیں ہیں۔ کرناٹک میں خام لوہے کے ذخائر بلاری ضلع کے سندور ۔ ہوسپٹ خطے میں، چکمگلورضلع کی بابا بودن کی پہاڑیوں میں، شموگا ضلع کی کدیرمکھ کی پہاڑیوں میں اور تمکور ضلع کے کچھ حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ مہاراشٹرا کے چندر پور، بھنڈارا اور رتنا گری اضلاع، تلنگانہ کے کریم نگر، وارنگل ، کرنول ، کڈّیہ اور اننت پور اضلاع اور تمل ناڈو کے سیلم اور نیل گری اضلاع خام لوہے کی کان کنی کی دیگر ریاستیں ہیں۔ گوا بھی خام لوہے کی ایک اہم ریاست کے طور پر ابھرا ہے۔
مینگینز (Manganese)
خام لوہے کو پگھلانے کے لیے مینگینزایک اہم خام مال ہے اور اس کا استعمال فولاد کی معدنی آمیزش میں کیا جاتا ہے۔اگرچہ مینگینز دھارواڑ سلسلہ سے متعلق ہے۔ مگر اس کے ذخائر تقریباً سبھی طرح کی ارضیاتی ساخت میں پائے جاتے ہیں۔
اڑیسہ مینگینزپیدا کرنے والی ایک اہم ریاست ہے۔ اڑیسہ کی کانیں ہندوستان کی خام لوہے کی پٹی کے وسطی حصوں میں خاص کر بونائی، کیندوجھار ، سُندرگڑھ ، گنگپور، کوراپٹ ، کالا ہانڈی اور بولن گیر میں پائی جاتی ہیں۔
کرناٹک بھی مینگینزپیدا کرنے والی ایک اہم ریاست ہے۔ یہاں کی کانیں دھار واڑ، بلاری،بیلگام ، شمالی کنارا، چکمگلور، شموگا،چترارگ ، اورتمُکور میں موجود ہیں۔ مہاراشٹرا بھی مینگینز پیدا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں اس کی کان کنی ناگپور،بھنڈارا اور رتناگری اضلاع میں ہوتی ہے۔ ان کانوں کی کمزوری یہ ہے کہ اسپات کارخانوں سے کافی دور ہیں۔ مدھیہ پردیش میں مینگینزبالا گھاٹ، چھندواڑہ، نمار، مانڈلہ پٹی اور چھبوُا اضلاع میں پھیلی ہوئی ہیں۔
تلنگانہ ،گووا اور جھارکھنڈ مینگینزپیدا کرنے والی دیگرلیکن غیر اہم ریاستیں ہیں۔
غیر فولادی معدنیات (Non-Ferrous Minerals)
ہندوستان میں باکسائٹ کے علاوہ دیگر سبھی غیر فولادی معدنیات کی کمی ہے۔
باکسائٹ (Bauxite)
باکسائٹ ایک کچ دھات ہے جس کا استعمال ایلمونیم تیار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ زیادہ ترٹیرشیری دور لیٹیرائٹ (Laterite)چٹانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ نما ہندوستان کے پٹھاری یا پہاڑی علاقوں کے ساتھ ساتھ دکن کے ساحلی علاقوں میں دستیاب ہے۔
باکسائٹ کی پیداوارمیں اڑیسہ کوپہلا مقام حاصل ہے۔کالا ہانڈی اور سنبھل پور اہم علاقے ہیں۔ اس کے علاوہ بولن گیر اور کوراپٹ بھی اپنی پیداوار بڑ ھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جھار کھنڈ میں لوہا رڈاگاضلع میں اس کے ذخائر موجود ہیں ۔گجرات،چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا دیگر اہم ریاستیں ہیں۔ گجرات کے بھاؤ نگر اور جام نگر میں، چھتیس گڑھ میں امرکنٹک کے پٹھار اور مدھیہ پردیش میں کٹنی، جبل پور اور بالاگھاٹ میں باکسائٹ کے بڑے ذخائر موجود ہیں ۔ مہاراشٹرا میں کولابار،تھانے ، رتناگری، ستارا ،پونا اور کولہا پور باکسائٹ پیدا کرنے والے علاقے ہیں۔
کرناٹک ،تمل نا ڈو اور گووا باکسائٹ پیدا کرنے والی غیراہم ریاستیں ہیں۔

شکل7.3:ہندوستان۔معدنیات( غیر فولادی)
سنگرینی میں کان کنوں کے بچاؤ کے واسطے چڑیا
سنگرینی کولیریز ملک میں کوئلہ پیدا کرنے والی ایک اہم کمپنی ہے جو آج بھی زیرزمین کانوں میں جان لیوا کاربن مونو آکسائڈ گیسوں کا پتہ لگانے کے لیے چڑیوں کا استعمال کرتی ہے۔اگر کوئلہ کی کانوں میں زہریلی کاربن مونو آکسائڈ کی تھوڑی سی مقدار بھی ہے تو کان کن بے ہوش ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات مربھی سکتے ہیں۔ اگرچہ کان کن ان چڑیوں کے بارے میں پیارسے بات کرتے ہیں لیکن اس ننھی چڑیا کے لیے زمین کے نیچے کا تجربہ خوشگوار نہیں ہوتا۔ جب اس چڑیا کو کاربن ڈائی آکسائڈ سے بھری ہوئی کانوں میں اتاراجاتاہے تو وہ بے چینی کے اثرات ظاہر کرنے لگتی ہے جیسے کہ پنکھوں کو پھڑپھڑانا، شور مچانا، اور زندگی کا خاتمہ۔ یہ اثرات اس وقت بھی ظاہر ہوتے ہیں جب کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار 0.15فی صد ہوتی ہے۔ اگر ہوا میں یہ مقدار 0.3 فی صد ہوجاتی ہے تو چڑیافوراً ہی اس کے اثرات ظاہر کرتی ہے۔ اور دو یا تین منٹ میں ہی اپنے ٹھکانے سے گر جاتی ہے۔ ایک کان کن کے مطابق ان چڑیوں کا ایک پنجرا کاربن ڈائی آکسائڈ کی 0.15فی صد یااس سے زیادہ مقدار کے لیے ایک اچھا اشارہ ہوتا ہے۔
اگرچہ ایک کمپنی نے ایسی تکنیک ایجاد کی ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائڈ کی ہوا میں کم سے کم 10ppmاور زیادہ سے زیادہ 1,000ppmکی موجودگی کااندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے لیکن، کان کن چڑیوں پر، جنھوں نے پہلے بھی سیکڑوں کان کنوں کی جان بچائی ہے ، زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔
ماخذ:دکن کرانکل ،26.08.2006

شکل7.4:نویلی کول فیلڈ
تانبا (Copper)
بجلی کی موٹریں، ٹرانسفارمر ،جنر یٹر بنانے اور بجلی کے دیگر سامان بنانے میں تانبے کا استعمال ناگریز ہے ۔یہ مخلوط دھاتیں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ زیورات کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے اسے سونے کے ساتھ بھی ملایا جاتا ہے۔
تانبے کیذخائر خصوصاً جھارکھنڈ ریاست کے سنگھ بھوم ضلع میں، مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ اور راجستھان کے جھنجھنو اور الور اضلاع میں پائے جاتے ہیں
اس کے علاوہ آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کے اگنی گنڈلا،کرناٹک کے چترا درگ اور ہاسن اضلاع اور تمل ناڈ و کے ارکوٹ ضلع میں بھی تانبہ کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔
غیر فلزی معدنیات (Non-metallic Minerals)
ہندوستان میں ملنے والی غیر فلزی معدنیات میں ابرق اہم ترین ہے۔ مقامی استعمال کے لیے دیگر ،معدنیات مثلاً چونا پتھر ، ڈولوما ئٹ اورفاسفیٹ وغیرہ کی بھی کان کنی کی جارہی ہے۔
ابرق (Mica)
ابرق کا استعمال عموماً بجلی اور الیکٹرونکس کی صنعت میں کیا جاتا ہے ۔اسے پتلی چادر کی شکل میں تبدیل کیاجا سکتا ہے جو کافی سخت اورپھیلی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں ابر ق خصوصاً جھارکھنڈ ، آندھرا پردیش اور راجستھان میں پایا جاتا ہے۔ ان کے بعد تمل نا ڈو، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش کا مقام ہے۔ جھارکھنڈ میں بہترین قسم کی ابرق ہزاری باغ کے نچلے پٹھاری علاقے میں 150کلومیٹر لمبی اور22کلومیٹر چوڑی پٹی میں پائی جاتی ہے۔ آندھرا پردیش کے نیلور ضلع میں سب سے اچھی قسم کی ابرق پیدا کی جاتی ہے۔ راجستھان میں ابرق کی پٹی تقریباً320کلومیٹر کی لمبائی میں جے پور سے بھلواڑہ اور اُدے پور کے آس پاس پھیلی ہوئی ہے۔ کرناٹک کے میسور اور ہاسن اضلاع، تمل ناڈو کے کوئمبٹور ، تروچراپلی، مدورائی اور کنیاکماری اضلاع، کیرالہ کے ایلّپی ضلع ،مہاراشٹرا کے رتنا گری اور مغربی بنگال کے پرولیا اور بنکورا اضلاع میں بھی ابرق کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔
توانائی کے وسائل (Energy Resources)
زراعت، صنعت، نقل وحمل اور معیشت کے دوسرے شعبوں کے لیے معدنی ایندھن ضروری شے ہے۔ کوئلہ، پٹرولیم اور قدرتی گیس جیسے معدنی ایندھن (قدرتی ایندھن)، اور نیوکلیئر توانائی میں استعمال ہونے والی معدنیات وغیرہ توانائی کے روایتی وسائل ہیں۔ یہ روایتی وسائل ناقابل تجدید ہیں۔
کوئلہ (Coal)
کوئلہ ایک اہم معدنی وسیلہ ہے جس کا استعمال بجلی پیدا کرنے اور خام لوہے کو پگھلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔کوئلہ عام طور پردو طرح کی ارضیاتی دور کی چٹانوں میں پایاجاتا ہے جن کے نام ہیں ۔ گونڈوانا اور ٹریشری۔
ہندوستان میں کوئلہ کے ذخائر کا تقریباً 80 فی صد حصہ بیٹومائنس (Bituminous) قسم کا ہے اور نان کوکنگ (Non-Coking) درجہ میں آتا ہے ۔گونڈوانہ کوئلے کے اہم ذخائر دامودر گھاٹی میں پائے جاتے ہیں۔اس کی کانیں جھارکھنڈاور بنگال کوئلہ پٹی میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس پٹّی میں کوئلے کی کانیں رانی گنج، جھریا،بوکا رو،گری ڈیھا، کرن پورہ میں پائی جاتی ہیں۔
کوئلے کی پیداوار میں جھریا کا پہلا مقام ہے جبکہ رانی گج دوسرے مقام پر آتا ہے۔کوئلے سے متعلق دوسری ندی گھاٹیاں گوداوری ، مہاندی اور سون ہیں۔کوئلے کی کان کنی کے لحاظ سے مدھیہ پردیش کی سنگرولی (سنگرولی کا کچھ حصہ اترپردیش میں بھی شامل ہے)چھتیس گڑھ میں کوربا، اڑیسہ میں تلچر اور رام پور ،مہاراشٹرا میں چاندہ- وردھا، کامپٹی اور باندیر اورآندھرا پردیش میںسنگرینی اور پنڈور وغیرہ کافی اہم ہیں۔
ٹر یشری(Tertiary) کوئلہ ،آسام، ارو ناچل پردیش ،میگھالیہ اور ناگالینڈ میں پایا جاتا ہے۔ یہ دران گری، چیرا پونجی، میولانگ اورلینگرین (میگھالیہ)؛ اوپری آسام میں ماکم، جے پور اور نذیر ا، اروناچل پردیش میں نامچک اور نامفک اور کالاکوٹ (جموں وکشمیر ) میں نکالا جاتا ہے۔
ان کے علاوہ بھُورا کوئلہ یا لگنائٹ (Lignite) تمل ناڈو کے ساحلی علاقوں، پانڈیچیری، گجرات اور جموں و کشمیر میں بھی پایا جاتا ہے۔

شکل7.5:توانائی کے روایتی وسائل
پیٹرولیم (Petroleum)
خام پٹرولیم میں ہائڈروکاربن رقیق اور گیس کی شکل شامل ہیں۔ ہائڈرو کاربن کی کیمیائی ساخت، رنگ اور ثقلِ اضافی میں تغیر پایا جاتا ہے۔یہ موٹرگاڑیوں، ریلوں اور ہوائی جہازوں کے لیے توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اس سے ملنے والی کئی طرح کی جزوی اشیا سے کیمیائی کھاد،مصنوعی ربر،مصنوعی ریشم، دوائیاں، ویسلین، مشین کا تیل، موم، صابن اور دیگر سنگار کے سامان بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
کیمیائی اور مختلف استعمال کی وجہ سے پٹرولیم کو رقیق سونا بھی کہا جاتا ہے۔
خام پٹرولیم ٹریشری دور کی رسوبی چٹانوں میں پایا جاتا ہے ۔ ہندوستان میں صحیح معنوں میں تیل کی تلاش اور پیداوار 1956 میں، تیل اور قدرتی گیس کمیشن(ONGC)کے قیام کے بعد شروع ہوئی۔ اس وقت تک آسام میں محض ڈگبوئی میں ہی تیل کی پیداوار ہوتی تھی لیکن 1956 کے بعد منظربدل گیا۔حالیہ سالوں میں ملک کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر تیل کے نئے ذخائر کا پتہ لگایا گیا۔آسام میں ڈگبوئی، نہارکٹیا اور موران تیل پیداکرنے والے خاص علاقے ہیں۔گجرات میں تیل کے علاقے انکلیشور، کلول، مہسانہ، نواگام، کوسمبا، اور لونیز ہیں۔ ممبئی ہائی، جو کہ ممبئی کے ساحل سے 160کلومیٹر دور بحرعرب میں واقع ہے، میں 1973 میں تیل کے ذخائر دریافت ہوئے تھے لیکن پیداوار 1976 میں شروع ہوئی ۔تیل اور قدرتی گیس کمیشن کو مشرقی ساحل پر کرشنا، گوداوری اور کاویری کے طاسوں میں بھی تیل کے ذخائر ملے ہیں۔
خام تیل گندا ہوتا ہے ، لہٰذا یہ صفائی کے بغیر استعمال کے لائق نہیں ہوتا ہے۔، ہندوستان میں تیل صاف کرنے والے کارخانے دو طرح کے ہیں۔(i) علاقائیت پر مبنی (ii) بازار پر مبنی۔، ڈگبوئی تیل ریفائنری علاقائیت پر مبنی ہے جبکہ برونی بازار پرمبنی ریفائنری کی مثال ہے۔
جون 2011 میں ہندوستان میں کل21ریفائنریاں ہیں۔(شکل 7.6) ان ریاستوں کی پہچان کرئیے جہاں یہ ریفائنریاں قائم ہیں۔
قدرتی گیس (Natural Gas)
گیس اتھارٹی آف انڈیا لمیٹیڈ (GAIL)کا قیام 1984 میں ایک عوامی شعبہ کے طور پر قدرتی گیس کے نقل وحمل اورتقسیم کے لیے کیا گیا تھا۔عموماً قدرتی گیس اور تیل ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں لیکن تمل ناڈو کے مشرقی ساحل، اڑیسہ، آندھراپردیش، تری پورہ، راجستھان ، گجرات اور مہاراشٹرا کے ساحلی علاقوں میں صرف قدرتی گیس کے ذخائر ملے ہیں۔
رامَاناتھا پورم (تمل ناڈو) میں گیس کے بڑے ذخائر کے اشارات
’دی ہندو‘ اخبار میں 05.09.2006 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق راماناتھا پورم ضلع میں تیل اور قدرتی گیس کمیشن نے قدرتی گیس کے ذخائر کے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کی ہے۔یہ سروے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔گیس کی صحیح مقدار کا اندازہ سروے مکمل ہونے کے بعد ہی ہوپائے گا۔لیکن ابھی تک کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔

شکل7.6:ہندوستان تیل صاف کرنے کے کارخانے

توانائی کے غیرروایتی ذرائع
(Non-Conventional Energy Sources)
توانائی کے روایتی وسائل جیسے پٹرولیم، قدرتی گیس اور نیوکلیائی توانائی وغیرہ ناقابل تجدید وسائل ہیں جبکہ قابل گزراں توانائی وسائل جیسے شمسی توانائی، بادی، مدوجزر (tidal) حیاتی فضلہ (Biomass) وغیرہ قابل تجدید وسائل ہیں۔توانائی کے ان غیرروایتی وسائل کی تقسیم مساوی ہونے کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک اور قدرتی ماحول کے موافق ہوتی ہے۔توانائی کے یہ غیرروایتی وسائل اگرچہ شروعات میں مہنگے پڑتے ہیں لیکن بعد میں ان کی لاگت کافی کم ہوجاتی ہے- ۔ اس کے علاوہ یہ وسائل ماحولیات کے موافق ہوتے ہیں اور لمبے عرصہ تک قابل استعمال رہتے ہیں۔
نیوکلیائی توانائی کے وسائل
(Nuclear Energy Resources)
حالیہ سالوں میں نیوکلیائی توانائی ایک اہم وسیلہ کے طور پر ابھری ہے۔ نیوکلیائی توانائی کو پیدا کرنے میں استعمال ہونے والی معدنیات یورینیم اور تھوریم ہیں۔ یورینیم کے ذخائر دھاروار سلسلے کی چٹانوں میں پائے جاتے ہیں۔جغرافیائی اعتبار سے خام یورینیم کے ذخائر، سنگھ بھومی تانبہ پٹی میں کئی مقامات میں ملے ہیں۔یورینیم راجستھان کے اودے پور، الور، جھنجھنو اضلاع، مدھیہ پردیش کے دُرگ ضلع، مہاراشٹرا کے بھنڈارا ضلع اور ہماچل پردیش کے کُلوّضلع میں پایا جاتا ہے۔ تھوریم خصوصاً تمل ناڈو اور کیرالہ کے ساحلی علاقوں میں پپُلن بیچ کی ریت میں مونازائٹ اورا لمینائٹ سے حاصل ہوتا ہے۔ دنیا کاسب سے بہتر مونا زائٹ ذخیرہ کیرالا کے پلکڈ اور کولام اضلاع، آندھراپردیش کے وِشاکھاپٹنم اور اُڈیشہ میں مہاندی کے ڈیلٹا میں پایا جاتا ہے۔
نیوکلیائی توانائی کمیشن (Atomic Energy Commission) کا قیام 1948 میں کیا گیا تھا۔1954 میں ٹرامبے نیوکلیائی توانائی انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی جسے بعد میں بھابھااٹامک ریسرچ سینٹر کا نام دیا گیا۔ہندوستان میں خاص نیوکلیائی پروجیکٹ: تاراپور(مہارا شڑا)راوت بھاٹاکوٹہ کے پاس(راجستھان) کلپکم(تمل ناڈو)، نرورا (اترپردیش) کیگا (کرناٹک) اور کاکرا پاڑا (گجرات) میں ہیں۔
شمسی توانائی(Solar Energy)
فوٹوولٹائک Photovoltaicٹکنالوجی سورج کی روشنی کو قیدکرکے بجلی میں تبدیل کردیتی ہے اسے شمسی توانائی کہا جاتا ہے۔شمسی توانائی کو کام میں لانے کے لیے جن دوعوامل کو نہایت اہم مانا جاتا ہے وہ ہیں فوٹو ولٹائک اور شمسی حرارت ٹکنالوجی (solar thermal technology)۔شمسی حرارت ٹکنالوجی دوسرے غیرروایتی توانائی کے وسائل کے مقابلے میں زیادہ فائدے مند ہے۔یہ ٹکنالوجی نسبتاً سستی‘ ماحولیات کے موافق اور بنانے میں آسان ہے۔شمسی توانائی، کوئلہ یا تیل استعمال کرنے والی مشینوں کے مقابلے 7 فی صد اور نیوکلیائی توانائی سے 10 فی صد زیادہ بااثر ہے۔یہ عام طور پر کھا نا پکانے‘ پانی گرم کرنے،فصلوں کو سکھانے اور سڑکوں پر روشنی کرنے میں استعمال کی جاتی ہے۔ہندوستان کے مغربی حصے میں خاص کر گجرات اور راجستھان میں شمسی توانائی کی ترقی کے کافی مواقع ہے۔
بادی توانائی(Wind Energy)
بادی توانائی مکمل طور پر آلودگی سے پرے اور قابل تجدید وسیلہ ہے۔ہوا کو توانائی میں تبدیل کرنے کی تکنیک کافی آسان ہے۔ہوا کی توانائی (kinetic energy) کوٹربائن کے ذریعہ برقی توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ پچھوا ہوائیں، اور موسمی ہوائیں جیسے مانسون وغیرہ کو توانائی کے وسیلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ان کے علاوہ مقامی ہوائوں، اور نسیم برّی اور نسیم بحری کو بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ہندوستان نے بادی توانائی کی پیداوار شروع کردی ہے۔اس کے پاس بادی توانائی کے لیے ایک حوصلہ افزا پروگرام ہے، جس کے تحت ملک میں 250 بادی ٹربائین (Turbines)قائم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے نافذہونے پر 45 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔یہ ٹربائین ملک میں 12 مناسب مقامات پر خاص کر ساحلی علاقوں میں لگائی جائیں گی۔وزارت غیرروایتی توانائی وسائل ملک میں تیل کی برآمدگی سے خرچ میں کمی لانے کی غرض سے بادی توانائی کی ترقی کے لیے کوشاں ہے۔ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان میں بادی توانائی کی ممکنہ گنجائش 50,000 میگاواٹ ہے جس میں سے ایک چوتھائی کو آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ راجستھان، گجرات، مہاراشٹرا اور کرناٹک میں بادی توانائی کے لیے حالات کافی سازگار ہیں۔
مدوجزر اور موجی توانائی
(Tidal and Wave Energy)
سمندری لہریں توانائی کی لامحدود وسیلہ ہیں۔ سترھویں اور اٹھارھویں صدی کی شروعات سے ہی کبھی نہ ختم ہونے والی سمندری لہروں،دھاراؤں اور مدوجزر سے توانائی حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
ہندوستان کے مغربی ساحل پر مدوجزر لہریں پیدا ہوتی ہیں۔اگرچہ ہندوستان کے ان ساحلی علاقوں میں توانائی کے اس وسیلہ کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی پوری گنجائش ہے لیکن ابھی تک اس کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
ارضی حرارتی توانائی (Geothermal Energy)
جب زمین کے اندرونی حصے سے میگما (Magma)نکلتا ہے تو کافی مقدار میں حرارت نکلتی ہے۔اس حرارت کو توانائی میں تبدیل کر کے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ گرم پانی کے چشموں سے نکلنے والی حرارت کو بھی بجلی میں تبدیل کیا جاسکتا ۔اس طرح سے حاصل کی گئی توانائی کو ارضی حرارتی توانائی کہتے ہیں۔اس طرح کی توانائی کو اب ایک اہم توانائی وسیلہ مانا جارہا ہے۔جسے ایک اختیاری وسیلے کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔عہدوسطیٰ سے ہی گرم پانی کے جھرنوں سے حاصل توانائی کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ہندوستان میں ارضی حرارتی توانائی کا پلانٹ ہماچل پردیش کے منی کرن میں شروع ہوگیا ہے۔
ارضی حرارتی توانائی کے استعمال کا پہلا کامیاب تجربہ 1890 میں امریکہ کی اڈاہوریاست کے بوئزے شہر میں کیا گیا جہاں آس پاس گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گرم پانی کی پائپ لائن کا ایک جال بچھایا گیا تھا۔یہ پلانٹ ابھی بھی کام کررہا ہے۔
حیاتی توانائی(Bio-Energy)
حیاتی توانائی حیاتی اشیا سے حاصل کی جاتی ہے اس میں کھیتی سے حاصل فضلہ، نگرپالیکا اور صنعتوں سے حاصل حیاتی فضلہ شامل ہیں۔حیاتی توانائی کو بجلی اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کرنے کی کافی گنجائش ہے۔اس طریقۂ کار سے نہ کی صرف کوڑے کچرے کو صاف کرنے میں مدد ملے گی بلکہ توانائی سے مقامی ضرورت کو کچھ حد تک پورا کیا جاسکتا ہے۔یہ ترقی پذیر ممالک کے دیہی علاقوں کی معاشی حالت کو بہتر بنائے گا اور ماحول کی آلودگی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ خود کفالتی کو بڑھاوا دے گا۔
معدنی وسائل کا تحفظ
(Conservation of Mineral Resources)
پا ئدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ معاشی ترقی اور بہتر ماحولیاتی نظام کے مابین ایک تعلق قائم رہے۔وسائل کو روایتی انداز میں استعمال کرنے کی وجہ سے کافی مقدار میں کچرا پیداہوتا ہے اور دیگر ماحولیاتی دشواریاں پیدا ہوتی ہیں۔لہٰذا پا ئدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مستقبل کی نسلوں کے لیے وسائل کا تحفظ کیا جائے۔ وسائل کے تحفظ کی فوری طورپر اشد ضرورت ہے۔توانائی کے متبادل ذرائع مثلاً شمسی، بادی، موجی، حرارت ارضی وغیرہ توانائی کے متبادل کبھی نہ ختم ہونے والے وسائل ہیں جنھیں فروغ دیا جانا چاہیے۔ توانائی اور ناقابل تجدید وسائل کی جگہ ان کے استعمال کو فوقیت دی جائے۔ فلزی معدنیات کے استعمال کی جگہ اگر دھاتوں کی چھیلن اور پرانے ٹکڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے تو بہتر ہوگا۔اس طرح کا عمل تانبہ، شیشہ اور جستہ جیسی دھاتوں کے معاملہ میں زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ہندوستان میں یہ ذخائر کمیاب ہیں۔دوبارہ قابل استعمال بنانے کے علاوہ اگر ان کم یاب دھاتوں کی جگہ ان کی متبادل دھاتوں کو استعمال کیا جائے تو ان کم یاب دھاتوں کے استعمال کے دبائو میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔ان دھاتوں کی بیرونی تجارت پر بھی پابندی لگنی چاہیے جس سے کہ ان دھاتوں کے موجودہ ذخائر کو طویل عرصہ تک استعمال کیا جاسکے۔

مشقیں
.1 مندرجہ ذیل الفاظ سے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
(i) درج ذیل ریاستوں میں سے کون سی ریاست سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والی ریاست ہے؟
(a) آسام (b) راجستھان
(c) بہار (d) تمل ناڈو
(ii) مندرجہ ذیل میں سے کس مقام پر ہندوستان کے پہلے نیوکلیائی توانائی اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا تھا؟
(a) کلّپکم (b) رانا پرتاپ ساگر
(c) نرورا (d) تاراپور
(iii) مندرجہ ذیل معدنیات میں سے کسے براؤن ڈائمنڈکہتے ہیں؟
(a) لوہا (b) مینگنیز
(c) لگنائٹ (d) ابرق
(iv) مندرجہ ذیل میں سے کون ساناقابل تجدید توانائی وسیلہ ہے؟
(a) پن بجلی (b) حرارتی (c)شمسی (c)
Solar (d بادی توانائی(Wind)
.2 مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات تقریباً تیس الفاظ میں دیجیے۔
(i) ہندوستان میں ابرق کی تقسیم کا جائزہ لیجیے۔
(ii) نیوکلیائی توانائی کسے کہتے ہیں؟ ہندوستان کے خاص نیوکلیائی توانائی کے مقامات کے نام بتائیے۔
(iii) غیرفولادی دھاتوں کے نام لکھیے۔ان کی علاقائی تقسیم پر تبصرہ کیجیے۔
(iv) توانائی کے غیرروایتی مخرج کون سے ہیں؟
.3 مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات تقریباً 150الفاظ میں دیجیے۔
(i) ہندوستان کے خام تیل کے وسائل پر ایک تفصیلی نوٹ لکھیے۔
(ii) ہندوستان کی پن بجلی پر ایک مضمون لکھیے۔