اکائیIII
باب 8
صنعتی کارخانے

ہم اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متعدد اقسام کی اشیا کا استعمال کرتے ہیں ۔زراعتی پیداوار مثلاً گیہوں، دھان، وغیرہ کو استعمال کرنے سے پہلے آٹا اور چاول میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ لیکن روٹی اور چاول کے علاوہ ہمیں کپڑوں ، کتابوں، پنکھوں، کاروں اور دواؤںوغیرہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔جن کو مختلف کارخانوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ دورجدید میں کارخانے معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ یہ کارخانے بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور ملک کی کل قومی آمدنی یااثاثہ میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
صنعتوں کی اقسام (Types of Industries)
صنعتوں کی درجہ بندی کئی طرح سے کی گئی ہے۔ وسعت ، سرمایہ کاری اور ملازموں کی تعداد کی بنیاد پر صنعتوں کو بڑے پیمانے کی صنعتیں، درمیانی پیمانے کی صنعتیں، اور چھوٹی یاگھریلو صنعتوں میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ ملکیت کے اعتبار سے صنعتوں کو (i)عوامی شعبہ،(ii)نجی شعبہ،(iii)مشترکہ اور کوآپریٹیو شعبہ صنعتوں یا کارپوریشن میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ عوامی شعبہ میں صنعت کی ملکیت اور انتظام حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔عوامی شعبہ میں خصوصاًدفاعی اور قومی اہمیت کی حامل صنعتیں شامل ہوئی ہیں۔صنعتوں کی درجہ بندی اُن کی پیداوار کے استعمال کی بنیاد پر بھی کی گئی ہے۔ مثلاً (i) بنیادی اساس کی صنعتیں ، (ii) اصل اساس کی صنعتیں،(iii)درمیانی اساس کی صنعتیں، (iv)اشیائے صرف کی صنعتیں۔
صنعتوں میں استعمال کیے جانے والے خام مال کی بنیاد پر بھی صنعتوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ خام مال کے مطابق کی گئی درجہ بندی اس طرح ہے۔(i)زراعت پر مبنی صنعتیں،(ii)جنگلات پر مبنی صنعتیں،(iii)معدنیات پر مبنی صنعتیں،(iv)کارخانوں میں تیار کردہ خام مال پرمبنی صنعتیں۔
صنعتوں کی درجہ بندی کا ایک اور طریقہ جو عام ہے وہ صنعتوں کی پیداوار ساخت کی بنا پرہے۔ اس بنا پر8قسم کی صنعتوں کی پہچان کی گئی ہے۔ (1)فلزاتی صنعتیں (2)میکانکی انجینئرنگ صنعتیں (3)کیمیائی ومتعلقہ صنعتیں (4)کپڑ ے کی صنعتیں(5)غذائی صنعتیں(6) بجلی کی صنعتیں(7)رسل ورسائل کی صنعتیں (8) الیکٹرانک صنعتیں۔آپ کبھی کبھی آزاد صنعتوں کے بارے میں بھی پڑھتے ہیں۔ یہ کیا ہوتی ہیں؟ کیا ان کا تعلق خام مال کے محل وقوع سے ہے یا نہیں؟
صنعتوں کے محل و قوع
(Location of Industries)
کیا آپ مشرقی اور جنوبی ہندوستان میں لوہے اور فولاد کی صنعت کوقائم کرنے کی وجوہات کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ اترپردیش، ہریانہ، پنجاب، راجستھان اور گجرات میں لوہے اور فولاد کے کارخانے کیوں نہیں ہیں؟
صنعتوں کے محل وقوع میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں جیسے خام مال کی فراہمی،توانائی، بازار، سرمایہ، مزدور اور نقل و حمل کے ذرائع وغیرہ۔ ان عوامل کی اہمیت وقت اور جگہ کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ خام مال اور صنعت کی نوعیت میں ایک گہرا تعلق ہے۔ معاشی نقطۂ نظرسے اشیا ساز صنعتیں اس مقام پر قائم کرنی چاہئیں جہاں اشیا سازی کی لاگت اور تیار مال کو خریداروں تک پہچانے کا خرچ کم از کم ہو۔ نقل و حمل کا خرچ بڑی حد تک خام مال اور تیار مال کی نو عیت پر منحصر ہوتا ہے۔ صنعتوں کے محل وقوع پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا مختصر جائزہ ذیل میں دیا گیا ہے۔
خام مال (Raw Materials)
وہ صنعتیں جوایسے خام مال کا استعمال کرتی ہیں جن کا وزن دوران اشیا سازی کم ہوجاتا ہے ایسے علاقوں میں قائم کی جاتی ہیں جہاں خام مال آسانی سے دستیاب ہو۔ ہندوستان میں چینی ملیں گنا پیدا کرنے والے علاقوں میں کیوں قائم کی جاتی ہیں؟اسی طرح لگدی(Pulp) کی صنعت، تانبا ،سودھنا اور خام لوہے کی صنعتیں ان علاقوں میں ہی قائم کی جاتی ہیں جہاں خام مال آسانی سے دستیاب ہو۔لوہے اورفولاد کی صنعت میں لوہا اور کوئلہ دونوں ہی بھاری اور وزن کھونے والے خام مال ہیں اسی و جہ سے لوہے اور فولاد کے کارخانے قائم کرنے کے لیے مناسب ترین جگہ ان وسائل کی جائے فراہمی کے آس پاس ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوہے اور فولاد کے کارخانے یا تو کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں (بوکارو، درگاپور وغیرہ) کے پاس قائم کیے گئے یا پھر خام لوہا پیدا کرنے والے علاقوں (بھدراوتی، بھلائی اور راؤرکیلا) کے پاس قائم کیے گئے۔
توانائی (Power)
مشینوں کو چلانے کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اسی وجہ سے کسی بھی صنعت کو شروع کرنے سے پہلے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ کچھ صنعتیں مثلاً المونیم اور مصنوعی نائٹروجن کی صنعت کو توانائی کے مرکز کے قریب ہی قائم کیا جاتا ہے کیونکہ یہ صنعتیں بہت زیادہ توانائی استعمال کرنے والی صنعتیں ہیں ۔ جنھیں بڑی مقدار میں بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
بازار(Market)
بازار تیار اشیا کے لیے ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان کو فروخت کیا جاتا ہے۔ بھاری مشین، اورمشینوں کے اوزار، بھاری کیمیائی صنعتیں ان علاقوں میں قائم کی جاتی ہیں جہاں ان کی مانگ زیادہ ہو کیونکہ یہ بازار پرمنحصر صنعتیں ہیں۔ سوتی کپڑے کی صنعتوں میں خالص ( جن میں وزن نہیں گھٹتا ہے) خام مال کا استعمال ہوتا ہے اور یہ عموماً بڑے شہروں میں قائم کی جاتی ہیں۔ مثلاً ممبئی، احمدآباد ،سورت وغیرہ۔ پیڑولیم صفائی کے کارخانوں (ریفائنری) کو بھی بازار کے قریب ہی قائم کیا جاتا ہے۔ کیونکہ خام تیل کانقل وحمل آسان ہوتا ہے اور ان سے حاصل کئی اشیا کا استعمال دوسری صنعتوں میں خام مال کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کویالی، متھرا اور برونی اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ تیل صاف کرنے والے کارخانوں کے محل وقوع میں بندرگاہ بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نقل و حمل(Transport)
کیا آپ نے کبھی ممبئی،چنئی،دہلی اور کولکاتہ میں یا ان کے اطراف میں صنعتوں کے ارتکاز کی وجوہات کو جاننے کی کوشش کی ہے؟ ایسا اس لیے ہوا کہ شروع میں ہی آمدورفت کے لیے راستوں کو جوڑنے والے مرکزبن گئے تھے۔ ریلوے لائن بچھانے کے بعد ہی صنعتوں کو اندرونی حصوں میں منتقل کیا گیا۔ سبھی بڑے کارخانے اہم ریلوے لائنوں کے کنارے قائم ہیں۔
مزدور(Labour)
کیاہم کا مگاروں کے بغیر صنعتوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ صنعتوں کو ہُنرمند کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مزدور نہایت حرکت پذیر ہیں اور آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔
تاریخی عوامل(Historical Factors)
کیا آپ نے کبھی ممبئی، کولکاتہ ، اور چنئی کے صنعتی مراکز کے طور پر ابھرنے کی وجوہات کے بارے میں غور کیا ہے؟ یہ تمام مراکز نوآبادکاری کے ماضی سے کافی حد تک متاثر تھے۔ انگریزی حکومت کے ابتدائی دور میں تعمیری عوامل کو یوروپ کے تاجروں نے ایک نیا جذبہ اور حوصلہ فراہم کیا۔ مرشد آباد، ڈھاکہ ، بھدوہی ، سورت، وڈوڈرا ، کوزی کوڈ، کوئمبٹور ، میسور وغیرہ نہایت اہم اشیا ساز مراکز کے طور پر ابھرے۔ انگریزی دورحکومت میں بعد کے صنعتی مرحلہ میں انگلینڈ میں تیار اشیاسے مقابلہ اور انگریزی حکومت کی تفریق کی پالیسی کی وجہ سے ان مراکز نے تیزی سے ترقی کے مراحل طے کیے۔
انگریزی حکومت کی نوآبادکاری کے آخری دور میں انگریزوں نے کچھ چنندہ علاقوں میں کچھ صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کی وجہ سے مختلف طرح کی صنعتوں کا بڑے پیمانے پرملک کے طول وعرض میں پھیلاؤ ہوا۔
صنعتی پالیسی (Industrial Policy)
ایک جمہوری ملک ہونے کے ناطے ہندوستان کی پالیسی کا مقصد معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی ترقی میں ایک توازن قائم کرنابھی ہے۔
بھلائی اور راورکیلا میں لوہے اور فولاد کی صنعتوں کا قیام ملک کے پچھڑے قبا ئلی علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی مثال ہے۔ موجودہ دور میں حکومت ہند پچھڑے علاقوں میں کارخانے لگانے کے لیے کئی طرح سے مراعات دیتی ہے اور حوصلہ فزائی کرتی ہے۔
اہم صنعتیں (Major Industries)
کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی کے لیے لوہے اور فولاد کی صنعت بنیادی صنعت ہے۔ سوتی کپڑے کی صنعت ہماری روایتی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ شکر کی صنعت مقامی خام مال پرانحصار کرتی ہے۔ جو کہ انگریزی حکومت کے دور میں خوب پروان چڑھی۔ان کے علاوہ اس باب میں قدرجدید پٹروکیمیکل کی صنعت اور انفارمیشن ٹکنالوجی (IT) کا بھی تجزیہ کیا جائے گا۔
لوہے اور فولاد کی صنعت
(The Iron and Steel Industry)
لوہے اور فولاد کی صنعت کی ترقی نے ہندوستان میں تیزرفتار صنعتی ترقی کے دروازے کھول دئیے۔ ہندوستانی صنعت کے تقریباً سبھی شعبے اپنی بنیادی ضروریات کے لیے خاص طور پر اسی صنعت پر منحصر ہیں۔ کیا ہم لوہے کے بغیر زراعت میں استعمال ہونے والے اوزار بنا سکتے ہیں؟
لوہے اور فولاد کی صنعت کے لیے خام لوہے اور کو کنگ کوئلہ کے علاوہ چونا پتھر، ڈولومائٹ، مینگنیز اور چینی مٹی وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ سبھی خام مال بھاری ہوتے ہیں اورسودھنے کے عمل کے دوران ان کا وزن کافی کم ہوجاتا ہے اسی وجہ سے لوہے اور فولاد کی صنعت کا محل وقوع عموماً خام مال کے مخزن کے پاس بہتر تصورکیا جاتاہے۔ ہندوستان میں چھتیس گڑھ ، شمالی اڑیسہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے مغربی حصوں کو شامل کرتے ہوئے ایک نیم دائرہ کی شکل میں پھیلا ہوا ایک ایسا علاقہ ہے جوعمدہ قسم کے خام کوئلہ، کوکنگ لوہے اور دیگر ضروری ضمنی وسائل سے خوش حال ہے۔
ہندوستان میں لوہے اور فولاد کی صنعت کے تحت خوردوکلاں مضموم شدہ فولاد کارخانے اور چھوٹے فولاد کارخانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے درجہ کی صنعت بھی اس زمرے میں شامل ہیں۔
مضموم شدہ فولاد کے کارخانے
(Integrated Steel Plants)
ٹاٹا آئرن اور اسٹیل کمپنی(TISCO)
ٹاٹا کا لوہااور فولاد کارخانہ ممبئی، کولکاتہ ریلوے لائن کے قریب کولکاتہ سے تقریباً 240 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جویہاں کے فولاد کی برآمد کے لیے سب سے نزدیکی بندرگاہ ہے۔اس کارخانے کو پانی سبرناریکھا اور کھارکائی دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے۔ لوہا نوامنڈی اور بادام پہاڑسے اور کوئلہ اڑیسہ کی جوڈا کانوں سے، کوکنگ کوئلہ جھریا اور مغربی بوکارو کی کانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔
انڈین آئرن اینڈاسٹیل کمپنی (IISCO)
انڈین آئرن اینڈاسٹیل کمپنی نے اپنا پہلا کارخانہ ہیراپور میں اور دوسرا کلٹی میں قائم کیا۔1937میں IISCOکے تعاون سے اسٹیل کارپوریشن آف بنگال کی شروعات کی گئی اوربرن پور ( مغربی بنگال) میں لوہے اور فولاد تیار کرنے کی دوسری اکائی قائم کی گئی۔انڈین آئرن اور اسٹیل کمپنی (IISCO) کے دائرۂ اختیار میں آنے والے تینوں کارخانے دامودر گھاٹی کے کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں (رانی گنج، جھریا، اور رام گڑھ) کے بہت قریب واقع ہیں۔اور کولکاتہ سے آسن سول جانے والی ریلوے لائن کے کنارے قائم کیے گئے ہیں۔خام لوہا جھارکھنڈسے آتا ہے۔ پانی دامودر ندی کی معاون ندی باراک سے حاصل کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ رہی ہے کہ1972-73 میں انڈین آئرن اسٹیل کمپنی کے کارخانوں میں فولاد کی پیداوار بہت کم ہوگئی جس کہ وجہ سے حکومت ہندنے ان کارخانوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
وسوسوریا آئرن اینڈ اسٹیل ورکس لمیٹیڈ
(Visvesvaraiya Iron and Steel Works Ltd.) (VISL)
ہندوستان کا تیسرامضموم شدہ فولادکارخانہ وسوسوریا آئرن اینڈ اسٹیل ورکس جو کہ شروع میں میسور آئرن اینڈ اسٹیل ورکس کے نام سے جانا جاتا تھا، بابابودن کی پہاڑیوں میں کمان گنڈی کے خام لوہے پیدا کرنے والے علاقوں کے نزدیک قائم ہے۔ چونا پتھر اور مینگنیز بھی مقامی طور پر دستیاب ہیں لیکن اس علاقے میں کوئلہ نہیں ملتا ہے۔ شروعاتی دور میں پاس کے جنگلات سے حاصل کی گئی لکڑی کو جلاکر بنائے گئے چارکول کو 1951تک ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد میں بجلی سے چلنے والی بھٹیاں لگائی گئیں جن میں جو گ آبشار برقاب منصوبہ سے حاصل کئی گئی پن بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔ کارخانے کو پانی بھدراوتی ندی سے حاصل ہوتاہے۔ یہ کارخانہ خاص طرح کی اسیٹل اورمختلف دھاتو کا مرکب یا الائے (alloy)تیار کرتا ہے۔
آزادی کے بعد، دوسرے پانچ سالہ منصوبے (1956-61)کے دوران بیرونی تعاون سے تین نئے مضموم شدہ فولاد کے کارخانے راؤرکیلا (اُڑیسہ) بھلائی (چھتیس گڑھ) اور درگاپور (مغربی بنگال) میں قائم کیے گئے۔ یہ سبھی کارخانے ہندوستان اسیٹل لمیٹیڈ (HSL)کے کنٹرول میں تھے۔ 1973میں ان کارخانوں کے انتظامات کے لیے اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا (SAIL)کا قیام ہوا۔
راؤرکیلا اسٹیل کارخانہ (Rourkela Steel Plant)
راؤرکیلا اسٹیل کارخانے کو جرمنی کے تعاون سے1959میں اُڑیسہ کے سندرگڑھ ضلع میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کارخانے کو خام مال کی نزدیکی کی بنا پر اس لیے قائم کیا گیا تھا کیونکہ لوہے کی کچ دھات سے فولاد بنانے کے عمل میں لوہے کی کچ دھات کے وزن میں خاطر خواہ کمی واقع ہوجاتی ہے اس طرح وزن میں کمی کے باعث بارمسافت میں اچھی خاصی کمی ہوجاتی ہے۔ اس کارخانے کو مخصوص محل وقوع کی مراعات بھی حاصل ہیں کیونکہ اسے جھریا (جھارکھنڈ) سے کوئلہ اور سندر گڑھ اور کنجھور سے خام لوہا آسانی سے مل جاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی بھٹیوں کے لیے بجلی ہیراکنڈ پروجیکٹ سے اور پانی کوئل اور شنکھ ندیوں سے حاصل ہوتا ہے۔

شکل8.1:ہندوستان ۔ لوہا اور فولاد کے کارخانے

بھلائی اسٹیل کارخانہ (Bhilai Steel Plant)
بھلائی اسٹیل کارخانے کا قیام روس کے تعاون سے چھتیس گڑھ کے درگ ضلع میں کیا گیا تھا۔ اس کارخانے نے 1959میں کام شروع کر دیا۔ یہاں خام لوہا ڈلی راجہرا کی کانوں سے (شکل8.6) اور کوئلہ کو ربا اور کرگالی کانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ پانی کی فراہمی تنڈولا باندھ سے اور توانائی کو ربا بجلی گھرسے حاصل ہوتی ہے۔ یہ پلانٹ کولکاتہ ممبئی ریلوے لائن پر واقع ہے۔ یہاں سے تیار شدہ اسٹیل کا بڑا حصہ وشاکھاپٹنم میں قائم ہندوستان شپ یارڈ کو سپلائی ہوتا ہے۔
درگاپور اسٹیل کارخانہ (Durgapur Steel Plants)
درگاپور اسٹیل کارخانہ حکومت برطانیہ کے تعاون سے مغربی بنگال میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کارخانے نے 1962میں پیدا وار شروع کر دی تھی۔یہ پلانٹ رانی گنج اور جھریا کوئلہ پٹی میں قائم ہے اور خام لوہا نومنڈی سے حاصل کرتا ہے (شکل 8.7)۔ درگاپور خاص کولکاتہ دہلی ریلوے لائن پر آباد ہے ۔اسے پن بجلی اور پانی دامودرگھاٹی کارپوریشن (DVC) سے حاصل ہوتا ہے۔
بوکارو اسٹیل کارخانہ (Bokaro Steel Plant)
یہ کارخانہ روس کے تعاون سے1964میں بوکارو میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کارخانے کا قیام نقل و حمل میں کم تر لاگت کے اصول پر کیا گیا تھا۔ جس کے مطابق بوکارو اور راؤرکیلا مشتر کہ طور پر راؤرکیلا سے خام لوہا حاصل کرتے ہیں اور واپسی میں مال گاڑی کے خالی ڈبے راؤرکیلا سے کوئلہ لے جاتے ہیں۔ دیگر خام اشیا اس کارخانہ کو تقریباً 350کلو میٹر کے دائرے میں مل جاتے ہیں۔ پانی اور پن بجلی کی فراہمی دامودر گھاٹی کارپوریشن سے کی جاتی ہے۔
دیگر اسٹیل کا رخانے (Other Steel Plants)
چوتھے پا نچ سالہ منصوبے کے دوران قائم کیے گئے تین نئے کارخانے خام مال کے ذرائع سے دور قائم کیے گئے ۔ یہ تینوں کارخانے جنوبی ہندوستان میں مقیم ہیں۔ وشاکھا پٹنم (آندھرا پردیش) میں قائم وزاگ فولاد کارخانہ پہلا کارخانہ ہے جو کسی بندرگاہ پر قا ئم کیا گیا ہے۔ اس کارخانہ نے1992 میں کام کرنا شروع کردیا تھا۔ بندرگاہ کی وجہ سے اسے کئی فائدے ہیں۔
وجے نگراسٹیل کارخانہ ہوسپیٹ (کرناٹک) میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں گھریلو تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کارخانہ مقامی علاقوں سے خام لوہا اور چونا پتھر حاصل کرتا ہے۔ سیلم ( تمل ناڈو) اسٹیل پلانٹ کی شروعات 1982 میں ہوئی تھی۔

شکل8.9:تیار شدہ فولاد کی پیدا وار
ان بڑے کارخانوں کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں 206سے بھی زیادہ اکائیاں قائم کی گئی ہیں ۔ ان میں زیادہ تر چھوٹے کارخانے لوہے کی چھیلن یاکباڑکو خام مال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسے بجلی کی بھٹیوں میں پکاکرفولاد تیار کرتے ہیں۔
سوتی کپڑ ے کی صنعت (The Cotton Textile Industry)
سوتی کپڑے کی صنعت ہندوستان کی روایتی صنعتوں میں سے ایک ہے۔دور قدیم ا ور دور وسطیٰ میں یہ صرف ایک گھریلو صنعت کی شکل میں تھی۔ ہندوستان دنیا بھر میں بہترین قسم کی ململ کیلیکوز (Calicos)اور چنٹز(Chintz) اور دوسری طرح کے نفیس سوتی کپڑوں کے لیے مشہور تھا۔ ہندوستان میں اس صنعت کی ترقی کی کئی وجوہات تھیں۔ او ّل، ہندوستان ایک گرم مرطوب ملک ہے اور سوتی کپڑا گرم اور مرطوب آب وہوا کے لیے زیادہ آرام دہ ہوتاہے۔دوم،ہندوستان میں کپاس کی کافی پیداوار ہوتی ہے۔ ملک میں اس صنعت کے لیے ضروری ہُنر مند مزدور بڑی تعداد میں دستیاب تھے۔ درحقیقت کچھ علاقوں میں لوگ سوتی کپڑے کی بُنائی کئی نسلوں سے کررہے تھے اور اپنی لیاقت اور ہنر کو نسل درنسل منتقل کرتے رہے تھے اور اس طرح ان کاہنرپائے تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔
شروعاتی دور میں انگریزوں نے دیسی سوتی کپڑے کی صنعت کو کوئی تحفظ نہیں دیا۔ بلکہ خام کپاس کو مانچسٹر اور لیورپول میں تنصیب ملوں کو درآمد کرتے تھے اور وہاں کے تیار مال کو فروخت کرنے کے لیے ہندوستان لاتے تھے۔ یہ کپڑا سستا ہوتا تھا کیونکہ ہندوستان کی گھریلو صنعتوں کے مقابلہ میں برطانیہ کی ملوں میں اس کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہوتی تھی۔

شکل8.10:سوتی کپڑے کی پیداوار
1854میں پہلی جدید سوتی کپڑے کی مل ممبئی میں قائم کی گئی۔ اس شہر کوسوتی کپڑے کی صنعت کے مرکز کے طور پر کئی مراعات حاصل تھیں۔یہ گجرات اور مہاراشٹرا کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں کے بہت قریب تھا۔ خام کپاس انگلینڈ کو برآمد کرنے کے لیے ممبئی بندرگاہ تک لائی جاتی تھی۔جس کہ وجہ سے خود ممبئی شہر میں کپاس آسانی سے دستیاب تھی۔ اس کے علاوہ ممبئی اس وقت بھی معاشی مرکز تھا اس لیے صنعت کو شروع کرنے کے لیے ضروری رقم بھی دستیاب تھی۔ روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے والا ایک بڑا شہر ہونے کی وجہ سے یہ مز دوروں کی توجہ کامر کز تھا۔ اسی وجہ سے بڑی تعداد میں سستے مزدور بھی آسانی سے مل جاتے تھے۔سوتی کپڑے کی ملوں کے لیے ضروری مشینوں کو برطانیہ سے درآمد کیا جا سکتا تھا۔ بعد میں دواور ملیں۔ شاہ پور مل اور کیلیکومل۔ احمدآباد میں قائم کی گئیں۔ 1947تک ہندوستان میں ملوں کی تعداد 423 تک پہنچ گئی تھی ۔ لیکن ملک کے بٹوارے کے بعد تصویر بدل گئی اور اس صنعت کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی عمدہ قسم کی کپاس پیدا کرنے والے زیادہ تر علاقے مغربی پاکستان کا حصہ بن گئے تھے اور ہندوستان میں صرف 409 ملیں اور29فی صد کپاس پیدا کرنے والا علاقہ ہی باقی بچا ۔

ہینڈ لوم سوتی کپڑے کی صنعت پاور لوم پر دھاگا کاتتے ہوئے

شکل8.11:ہندوستان۔ سوتی کپڑے کی ملیں
آزادی کے بعد اس صنعت نے آہستہ آہستہ ترقی کی اور دوبارہ اپنا مقام حاصل کر لیا۔
ہندوستان میں سوتی کپڑے کی صنعت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ منظم شعبہ اور غیر منظم شعبہ۔ غیر منظم شعبہ کے تحت ہتھ کر گھا (مع کھادی) اور پاور کرگھا سے تیار شدہ کپڑے شامل ہیں۔ منظم شعبہ کی پیداوار میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے اور یہ بیسویں صدی عیسوی کے درمیان 81فی صد سے گھٹ کر 2000میں صرف 6فی صد رہ گئی۔ آج منظم شعبہ میں ہینڈ لوم سیکٹر سے زیادہ پاور لوم میں پیداوار ہوتی ہے۔
کپاس ایک خالص خام مال ہے۔ لہٰذا کپڑا تیار ہونے پر اس کے وزن میں خاص کمی نہیں ہوتی، اسی وجہ سے دوسرے عوامل جیسے کرگھوں کو چلانے کے لیے بجلی کی فراہمی ، مزدور ،سرمایہ اور بازار وغیرہ اس صنعت کے محل وقوع کی مرکزیت کو طے کرتے ہیں۔ حال میں اس صنعت کو بازار میں یا بازار کے قریب قائم کرنے کا رجحان بڑھاہے کیونکہ بازار ہی یہ طے کرتاہے کہ کس طرح کے کپڑوں کو تیار کیا جائے۔ تیارشدہ مال کے بازار میں بھی بہت زیادہ تغیر ہے۔ لہٰذا تیار مال کو فروخت کرنے کے لیے ملوں کو بازار کے قریب قائم کرنا اہمیت کا حامل ہے۔
ممبئی اور احمد آباد میں پہلے دور کے کارخانوں کے قائم ہونے کے بعد 19ویں صدی کے اواخر میں سوتی کپڑے کی صنعت اور وسعت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ملوں کی تعدادمیں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا۔ سودیشی تحریک نے اس صنعت کی خاص طورپر حوصلہ افزائی کی کیونکہ برطانیہ کے بنے سامانوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہندوستانی سامانوں کے استعمال کرنے پر زور دیا گیاتھا۔ 1921کے بعد ریلوے کی ترقی کے ساتھ ہی سوتی کپڑے کے دوسرے مراکز کا قیام تیزی سے عمل میں آیا۔ جنوبی ہندوستان میں کوئمبٹور، مدورائی ا ور بنگلور میں ملیں قائم ہوئیں۔ وسطی ہندوستان میں ناگپور ، اندور کے علاوہ شولاپور اور وڈوڈرا سوتی کپڑے کے مرکز بن گئے۔ کانپور میں مقامی سرمایہ کاری کی بنیاد پر سوتی کپڑے کی ملیں قائم ہوئیں۔ بندرگاہ کی آسانیوں کی وجہ سے کولکاتہ میں بھی ملیں قائم ہوئیں۔ پن بجلی کی ترقی سے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں سے دور اس صنعت کو قائم کرنے میں آسانی ہوئی۔ تمل ناڈو میں اس صنعت کی ترقی کا راز کپڑا ملوں کو ملنے والی افراط پن بجلی ہے۔ اُجین ، بھروچ، آگرہ، ہاتھرس،کوئمبٹور اور ترونیلویلی وغیرہ جیسے مراکز پر مزدوری کی کم اجرت کی وجہ سے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں سے دور ہوتے ہوئے بھی سوتی کپڑے کی صنعت کو قائم کیا گیا۔
اس طرح ہندوستان کی تقریباً ہر ریاست میں جہاں ایک یا ایک سے زیادہ موافق عوامل دستیاب تھے، کپڑے کی صنعت کو قائم کیا گیا۔خام مال کی دستیابی کی اہمیت کو سستے مزدور، بازار، اور پن بجلی کی دستیابی نے پس پشت ڈال دیا۔
موجودہ وقت میں احمدآباد، بھیونڈی، شولاپور، کولہاپور، ناگپور، اندور، اور اُ جین سوتی کپڑے کی صنعت کے اہم مراکز ہیں۔ سبھی مراکز روایتی ہیں اور کپاس پیدا کرنے والے علاقوں کے پاس مقیم ہیں۔ مہاراشٹرا، گجرات اور تمل ناڈو کپاس پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں۔ مغربی بنگال ، اترپردیش، کرناٹک اور پنجاب سوتی کپڑا تیار کرنے والی دوسری اہم ریاستیں ہیں(شکل8.11)۔
ریاست تمل ناڈو میں سب سے زیادہ ملیں ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کپڑے کے بجائے سوت تیار کرتی ہیں۔ کوئمبٹور جہاں تمل ناڈو کی تقریباً 50 فی صد سے زیادہ ملیں قائم ہیں، ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔چنئی، مدورئی، ترونلویلی،توتی کورِن،تنجاور، رام ناتھ پورم اور سیلم دیگر اہم مراکز ہیں۔ کرناٹک میں سوتی کپڑے کی صنعت کی ترقی ریاست کے شمال مشرقی حصیّ میں کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں ہوئی جہاں دیونگری، ہبلی، بیلاری، میسور اور بنگلور وغیرہ اہم مراکز ہیں۔ آندھرا پردیش میں سوتی کپڑے کی صنعت کپاس پیدا کرنے والے علاقے تلنگانہ میں مقیم ہے۔ وہاں زیادہ ترکتائی ملیں ہیں جو کہ سوت تیار کرتی ہیں۔ حیدر آباد ، سکندرآباد، وارنگل اورگُنٹور وغیرہ اہم مراکز ہیں۔
اترپردیش میں کانپور سب سے بڑا مرکز ہے۔ مودی نگر، ہاتھرس، سہارنپور، آگرہ اور لکھنؤ کچھ دیگر اہم مراکز ہیں۔مغربی بنگال میں سوتی کپڑے کی ملیں ہُگلی میں قائم ہیں۔ ہاوڑہ، سیرام پور ، کولکاتہ ، اور شیام نگر اہم مراکز ہیں۔
آزادی کے بعد سے سوتی کپڑے کی پیداوار میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ سوتی کپڑے کو مصنوعی (Synthetic) کپڑوں سے سخت مقابلہ کرنا پڑرہا ہے۔ ہندوستان میں سوتی کپڑے کی صنعت کی اور کون سی مشکلات ہیں؟
شکر(چینی) کی صنعت (Sugar Industry)
شکر کی صنعت زراعت پر مبنی ملک کی دوسری اہم ترین صنعت ہے۔ گنّا اورگنّے کی شکر دونوں کو پیدا کرنے میں ہندوستان کو دنیا میں پہلا مقام حاصل ہے۔ دنیا کی کل شکر کی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ تقریباً 8 فی صد ہے۔ اس کے علاوہ گنے سے کھانڈساری اور گڑ بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ صنعت چار لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بالواسطہ طور پر اور ایک بڑی تعداد میں کسانوں کوبلاواسطہ طور پر روزگار مہیّا کرتی ہے۔ خام مال کے موسمی ہونے کی وجہ سے شکر کی صنعت ایک موسمی صنعت ہے۔
جدید طور پر اس صنعت کی ترقی کا دور 1903میں شروع ہوا جب بہار میں ایک شکر مل قائم کی گئی۔ اس کے بعد بہار اور اترپردیش کے دوسرے علاقوں میں شکر ملیں قائم کی گئیں۔ 1950-51میں شکر ملوں کی کل تعداد139تھی ۔2011میں انکی تعداد بڑھ کر 662ہوگئی۔
شکرچینی کی صنعت کا محل و وقوع
(Location of the Sugar Industry)
گنّا ایک ایسی فصل ہے جس کا وزن شکر بننے کے عمل میں بہت کم ہوجاتا ہے۔ شکر کا تناسب9 اور 12فی صد کے درمیان ہوتا ہے۔ جو کہ گنیّ کی قسم پر منحصر ہوتا ہے ۔کٹائی کے بعد کھیتوں میں اکھٹا کرنے سے لے کر ڈھلائی تک اس میں سوکھنے کی وجہ سے شکر کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔ گناّکٹنے کے 24گھنٹوں کے اندر رس نکالنے سے شکر کی زیادہ مقدار حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے زیادہ تر شکر ملیں گنا پیدا کرنے والے علاقوں کے قریب ہی قائم کی گئی ہیں۔
شکر پیدا کرنے والی ریاستوں میں مہاراشٹرا کو اوّل مقام حاصل ہے جو ملک میں شکر کی کل پیداوار کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ پیدا کرتا ہے۔ ریاست میں 119شکر کی ملیں ہیں جو کہ ایک تنگ پٹی کی شکل میں شمال میں منماد سے جنوب میں کولہاپور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے87ملیں امداد باہمی شعبہ میں ہیں۔
شکر کی پیداوار میں اترپردیش کا دوسرا مقام ہے ۔شکر کی ملیں دوخطّوں میں گنگاجمنا دوآب اور ترائی علاقوں میں مرکوز ہیں۔ گنگا جمنا دو آب میں سہارنپور ، مظفر نگر، غازی آباد ، باغپت، اور بلند شہر شکر پیدا کرنے والے اہم اضلاع ہیں جب کہ ترائی کے علاقوں میں شکر پیدا کرنے والے خاص اضلاع لکھیم پور کھیری، بستی، گونڈا، گورکھپور اور بہرائچ ہیں۔
تمل ناڈومیں شکرملیں کوئمبٹور، ویلّور ، تروانمالائی، ویلّوپورم، تروچرا پلّی اضلاع میں قائم کی گئیں۔ کرناٹک میں بیلگام ، بیلّاری ، مانڈیا ،شموگا، بیجاپور اور چتردرگ شکرپیدا کرنے والے خاص اضلاع ہیں۔ شکر کی صنعت سا حلی علاقوں میں مشرقی گوداوری مغربی گوداوری، وشاکھاپٹنم کے اضلاع اور تلنگانہ میں نظام آباد اور میدک کے اضلاع اور رائل سیما کے چتو ڑ اضلاع میں پھیلی ہوئی ہیں۔
بہار ، پنجاب، ہریانہ ، مدھیہ پردیش اور گجرات شکر پیدا کرنے والی دیگر ریاستیں ہیں۔ بہار میں سارن، چمپارن، مظفرپور، سیوان، دربھنگہ اور گیا گنّا پیدا کرنے والے اہم اضلاع ہیں۔ اگر چہ پنجاب کی اہمیت نسبتاً کم ہوگئی ہے لیکن گرداس پور، جالندھر، سنگرور، پٹیالہ اور امرتسر ابھی بھی شکرپیدا کرنے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ہریانہ میں شکر ملیں جمنا نگر، روہتک ،حصار اور فریدآباد اضلاع میں قائم کی گئی ہیں۔ گجرات میں شکر کی صنعت نسبتاً نئی ہے ۔ یہاں شکر ملیں سورت،جونا گڑھ، راجکوٹ ، امریلی ،والسد، اور بھاؤنگر اـضلاع میں گنا پیدا کرنے والے علاقوں میں قائم ہیں۔

پٹر وکیمیکل کی صنعتیں (Petrochemical Industries)
ہندوستان میں اس قسم کی صنعتوں کی ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ اس قسم کی صنعتوں کے تحت مختلف اقسام کی پیداوار شامل ہیں۔1960میں نامیاتی کیمیکلس کی مانگ میں تیز اضافہ ہوا جسے پورا کرنا مشکل ہوگیا۔اس دوران تیل صاف کرنے کی صنعت نے تیزی سے ترقی کی۔ خام تیل سے کئی چیزیں حاصل ہوتی ہیں جو کہ مختلف صنعتوں کے لیے خام مال فراہم کرتی ہیں، انھیں مجموعی طور پرپٹرو کیمیکل کے کارخانوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس طرح کی اجتماعی صنعت کو چار ذیلی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ (i)پالیمرس (polymers) (ii) مصنوعی ریشے (Synthetic Fibres) (iii) ایلاسٹومرس (Elastomers) اور (iv)سرفیس انٹر میڈیٹ(surfactant intermediats)۔ ممبئی پٹرو کیمیکل صنعتوں کا مدار ہے۔ پٹاخے بنانے والی اکائیاں اوریا (اترپرد یش) جام نگر، گاندھی نگر ، اور ہزیرا (گجرات)، ناگو تھنے، رتناگری (مہاراشٹرا) ، ہلدیا ( مغربی بنگال) اور وشاکھا پٹنم (آندھرا پردیش) میں بھی قائم ہیں۔
محکمہ کیمکلس اور پٹروکیمیائی کے تحت تین تنظیمیں کام کرتی ہیں۔ پہلی ،انڈین پیڑوکیمیکل کارپوریشن لمیٹیڈ(IPCL)عوامی شعبہ میں آتی ہے۔ یہ مختلف اقسام کے پٹروکیمکلس مثلاً پالیمرس (polymers)،ریشے اور ریشے سے بنے سامان تیار کرتی ہے اور ان کی تقسیم بھی کرتی ہے۔ دوسری، پٹروفلس کو آپریٹولمیٹیڈ (PCL)ہے جو سرکار اور بنکروں کی امداد باہمی تنظیموں کی مشترکہ کوشش ہے۔ یہ گجرات میں واقع وڈوڈرا اور نل دھاری اکائیوں میں پالیسٹر کے دھاگے اور نائلون کے چپس تیار کرتی ہے ۔ تیسری، سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پلاسٹک انجینرنگ اینڈٹکنالوجی(CIPET)ہے جو پٹرو کیمیکل صنعت سے متعلق تربیت دینے کا کام انجام دیتی ہے۔
پالیمرس ایتھیلین(ethylene)اور پروپائلین(propylene) سے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ اشیا خام تیل کی صفائی کے دوران حاصل ہوتی ہیں۔ پالیمرس کو پلاسٹک کی صنعت میں خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پالیمرس میں پالی تھلین (polyethylene)کا سب سے زیادہ استعمال تھرموپلاسٹک میں کیا جاتا ہے۔ پلاسٹک کو پہلے شیٹ، پاؤڈر، ریزن اوردانوں میں تبدیل کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پلاسٹک سے بنی اشیا تیار کی جاتی ہیں۔ پلاسٹک سے بنی اشیا کو ان کی مضبوطی،لچک اورپانی و کیمیکلس سے بے اثر اور کم قیمت کی وجہ سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں پلاسٹک پالیمرس کی پیداوار پچاس کی دہائی کے آخر میں اور ساٹھ کی دہائی کے شروع میں دیگر نامیاتی کیمیکلس کے استعمال سے شروع ہوئی۔ نجی شعبہ میں 1961میں قائم کی گئی ’’ دی نیشنل آرگینک کیمیکلز انڈسڑیز لمیٹیڈ(NOCIL)نے نیفتھا (naphta) پر مبنی پہلی کیمیائی کمپنی کی شروعات ممبئی میں کی۔ اس کے بعد کئی اور کمپنیوں کو قائم کیا گیا۔ ممبئی، برونی، میٹور ، پمپری اور رشرا پلاسٹک سے بنی اشیا پیدا کرنے والے اہم مراکز ہیں۔
اِن میں تقریباً 75 فی صداکائیاں چھوٹے پیمانہ کی ہیں۔ یہ صنعت دوبارہ استعمال کیے جانے والے (recycled)پلاسٹک کا بھی استعمال کرتی ہیں جو کہ کل پیداوار کا تقریباً 30 فی صد ہے۔
مصنوعی دھاگہ کی مضبوطی، پائداری، دھلنے کی آسانی اورسکڑنے سے بچاؤ جیسی خصوصیات کی وجہ اس کی مانگ زیادہ ہے۔ نائلون اور پالیسٹرکے دھاگے بنانے کے پلانٹس کوٹا، پمپری، ممبئی ،مودی نگر، پونے، اُجین،ناگپور اور اُدھنا میں لگائے گئے ہیں۔ ایکریلک(acrylic) کے دھاگے کوٹا اور وڈوڈرا میں تیار کیے جاتے ہیں۔
اگرچہ پلاسٹک ہمارے روزمرہ کے استعمال کے لیے ایک غیر منفک (inseprable) شے بن چکی ہے اور اس نے ہمارے طرز زندگی کو کافی حد تک متاثر کیا ہے لیکن عدم حیاتیاتی شکست (non–biodegradable) ہونے کی وجہ سے یہ ہمارے ماحول کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان کی کئی ریاستوں میں اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پلاسٹک کس طرح ہمارے ماحول کو نقصان پہچاتی ہے؟
علم پر مبنی صنعتیں
(Knowledge based Industries)
انفارمیشن ٹکنالوجی(IT)کے فر وغ نے ملک کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے ۔ آئی۔ٹی(IT)کے انقلاب نے معاشی اور سماجی تبدیلی کے لیے نئے ایام فراہم کردئیے ہیں۔ آئی۔ٹی اور آئی۔ٹی پرمبنی بزنیس پروسس آؤٹ سورسنگ (ITESBPO) ۔تندرفتاری سے پائدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہندوستانی سافٹ وئیرکی صنعت یہاں کی معیشت میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبہ میں سے ایک ہے۔سافٹ وئیر کی صنعت ہارڈ وئیر صنعت سے آگے نکل گئی۔ حکومت ہند نے ملک میں کئی سافٹ وئیر پارک بنائے ہیں۔
ہندوستان کی کل گھریلو پیداوار(GDP)میں ITسافٹ وئیر اور خدماتی صنعتوں کا حصہ تقریبا 2 فی صد ہے۔ ہندوستان کی سافٹ وئیر صنعت کو بہترین خدمات اورمعیار کی وجہ سے ایک امتیازی مقام حاصل ہوچکا ہے۔ بڑی تعداد میں ہندوستانی سافٹ وئیر کمپنیاں عالمی معیارکی سندحاصل کرچکی ہیں۔آئی۔ٹی سے جڑی زیادہ تر کثیرالاقوامی کمپنیوں کے یا تو سافٹ وئیر ڈیولپمنٹ کے مراکز یا ریسرچ ڈیولپمنٹ کے مراکز ہندوستان میں موجود ہیں۔تاہم ہارڈوئیر کے شعبہ میں ابھی ہندوستان کوقابل ستائش کامیابی حاصل کرنی ہے۔
اس ترقی کا سیدھا اثر روزگار کے بہترین مواقع کی فراہمی کے شکل میں ظاہرہواجو کہ ہرسال دوگنا ہورہا ہے۔
ہندوستان میں نرم کاری، نجی کاری، عالم کاری (LPG) اور صنعتی ترقی
(Liberalisation, Privatisation
Globalisation (LPG) and Industrial Development in India)
نئی صنعتی پالیسی کا اعلان 1991میں کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے اہم مقاصد تھے: اب تک حاصل کیے گئے فائدے کو فروغ دینا، آئی ہوئی خرابیوں یا کمزوریوں کو دور کرنا، پیداواریت اور روزگار کے مواقع کی پائیدار افزائش کو قائم رکھنا اور عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار رہنا۔
اس پالیسی کے تحت کیے گئے اقدامات ہیں: (i)صنعتی لائسینس کے نظام کا خاتمہ (ii) غیر ملکی ٹیکنالوجی کے آزادانہ داخلہ کی اجازت (iii)غیرملکی سرمایہ کاری کی اجازت (iv) سرمایہ بازار میں رسائی (v)کھلی تجارت (vi)اشیا سازی کا اختتام،(vii) صنعتوں کے وقوع کے لیے نرم پروگرام۔ اس پالیسی کے تین خاص پہلو ہیں: نرم کاری، نجی کاری اور عالم کاری ۔
دفاع،جنگ اور ماحولیات سے جڑی صرف چھ صنعتوں کو چھوڑ کر باقی سبھی صنعتوں کے لیے لائسینسی نظام ختم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی1956سے عوامی شعبہ کے لیے مخصوص صنعتوں کی تعداد17سے کم کرکے صرف 4کردی ہے۔ ایٹمی توانائی سے متعلق صنعتیں ،محکمۂ ایٹمی توانائی کی فہرست میں درج اشیا اور ریلوے ہنوز عوامی شعبے میں ہی ہیں۔ حکومت نے سرکاری کارخانوں میں عوام اور کام گاروں کو کچھ حصہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اساسوں کی حدِبالاکو ختم کردیا گیا اور بغیر لائسینس مبرّہ شعبہ کی کسی بھی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے اجازت کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔ انھیں صرف جاری کردہ زائچہ ٔیادداشت میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
نئی صنعتی پالیسی میں معاشی ترقی کی تیزرفتاری برقرار رکھنے کے لیے سیدھے طور پر غیر ملکی بالواسطہ سرمایہ کاری (ForeignDirect Investment-FDI)کو گھریلو سرمایہ کاری کے تکملہ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔FDI گھریلو صنعت اور خریداروں کو تکنیکی سدھار، عالمی معیار کی انتظامی مہارت و عمل ، قدرتی اور انسانی وسائل کے بہترین استعمال سے روشناس کراتا ہے جس سے گھریلو صنعت اور خریدار دونوں ہی مستفید ہوتے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ملکی بالواسطہ سرمایہ کاری کو راحت دی گئی ہے اور حکومت نے غیر ملکی بالواسطہ سرمایہ کاری کو خودکار طورپر اپنا کام کرنے کی اجازت دی۔ سرکار نے صنعتوں کے محل وقوع سے متعلق پالیسی میں تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ ماحول کو آلودگی سے بچائے رکھنے کی غرض سے بڑے شہروں میں یا ان کے مضافات میں صنعتوں کو قائم کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
صنعتی پالیسی میں نرم کاری کا مقصد کثیراقوامی اور گھریلو دونوں طرح کے نجی سرمایہ کاروں کو دعوت دیناتھا۔ نئے شعبوں مثلاً کان کنی، مواصلات، قومی شاہرا ہوں کی تعمیر وانتظام وغیرہ کو نجی کمپنیوں کے لیے کھول دیا گیا۔ ان سبھی سہولیات اور آسانیوں کے باوجود FDIامید کے مطابق نہیں ہے۔ اگر چہ غیر ملکی تعاون بڑھ رہا ہے لیکن منظور شدہ اورحقیقی FDIمیں ابھی کافی فرق ہے ۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ گھریلو سازوسامان، مالیات، خدمات، الیکٹرونکس اور بجلی کے سازوسامان خوردنی اشیا اور دودھ کی مصنوعات پر صرف ہواہے۔
عالم کاری سے مراد ملک کی معیشت کو عالمی معیشت سے ہمکنار کرناہے۔ اس عمل کے تحت سامان اور خدمات مع سرمایہ مزدور اور وسائل کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں آسانی سے تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔عالم کاری کا مدعا گھریلو اور بیرونی مقابلہ کے لیے بازار کا بڑے پیمانے پر استعمال، غیرملکی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے مابین کارگر تعلق قائم کرنا ہے۔ ہندوستان کے حوالہ سے عالم کاری کا مطلب ہے : (1)ہندوستان میں مختلف معاشی معاملات میں، غیرملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی سہولیات فراہم کراکر، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے لیے معیشت کو کھولنا (2) ہندوستان میں کثیراقوامی کمپنیوں کے داخلے پر عائد پابندیوں اور دشواریوں کو ختم کرنا۔ (3) ہندوستان کی کمپنیوں کو ملک کے اندر غیر ملکی کمپنیوں کے تعاون سے کارخانے لگانے کی اجازت دینا اور بیرون ممالک میں مشترکہ طورپر صنعتیں قائم کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا۔ (4) بڑے پیمانے پر درآمد میں نرم کاری کو فروغ دینے کے لیے پہلے مرحلہ میں مقداری پابندیوں کو ختم کرکے اور بعد میں درآمدی واجبات کو خاطرخواہ طورپر کم کرنا۔(5)برآمد کو بڑھاوا دینے کے لیے چند مراعات فراہم کرنے کے بجائے برآمد کے لیے شرح زرمبادلہ کے نظام کو اختیار کرنا۔
بیرونی اشتراکیت کے مختلف پہلوؤں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ اولین اہمیت کے حامل شعبوں میں چلا گیاجب کہ انفراسڑکچر اس سے مبرہ رہا۔ اس کے علاوہ ترقی یا فتہ اور ترقی پذیر ریاستوں کے درمیان فرق بھی بڑھ گیا۔ گھریلو سرمایہ کاری اور بیرونی سرمایہ کاری (FDI) کا ایک بڑا حصہ ترقی یافتہ ریاستوں کو چلاگیا، مثال کے طور پر، 1991-2000میں صنعتی سرمایہ کاروں کے ذریعہ کل ممکنہ سرمایہ کاری کا تقریباً ایک چوتھائی (%23)حصّہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ریاست مہاراشٹرا کے لیے17فی صد، گجرات کے لیے،7فی صد آندھراپردیش کے لیے، اور تقریباً 6فی صد تمل ناڈو کے لیے تھا۔ جب کہ سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش کے لیے صرف8 فی صد تھا۔چندمراعات کے باوجودساتوں شمال مشرقی ریاستوں کو کل پیش بندسرمایہ کاری کا 1فی صد سے بھی کم حصہ حاصل ہوسکا۔ درحقیقت معاشی طور پر کمزور ریاستیں کھلے بازار میں صنعتی سرمایہ کاری کے معاملہ میں ترقی یا فتہ ریاستوں سے مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں نتیجتاً انھیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

شکل8.12:ہندوستان ۔سافٹ ویر ٹکنا لوجی پارک
ہندوستان کے صنعتی علاقے
(Industrial Regions in India)
ملک میں صنعتوں کی تقسیم مساوی نہیں ہے صنعتیں کچھ موافق عوامل کی وجہ سے کچھ مخصوص مقامات پر ہی مرکوز ہوجاتی ہیں۔
صنعتوں کے اجماع کو معلوم کرنے کے لیے کچھ اشاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جن میں اہم ہیں:
(i)صنعتی اکائیوں کی تعداد،(ii)صنعتی کام گاروں کی تعداد، (iii)صنعت کاری میں استعمال کی جانے والی توانائی کی مقدار،(iv)کل صنعتی پیداوار، (v)اشیا سازی کے ذریعہ وصفی میں اضافہ
ملک کے اہم صنعتی خطوں کاتفصیلی تذکرہ ذیل میں تحریر ہے (شکل8.13) ۔
صنعتی علاقے اور اضلاع
اہم صنعتی علاقے(8)
(1)ممبئی پونے کا علاقہ ،(2) ہُگلی کا علاقہ،(3) بنگلور- تمل ناڈو کا علاقہ،(4)گجرات کا علاقہ،(5) چھوٹے ناگپور کاعلاقہ،(6) وشاکھا پٹنم- گنٹور کا علاقہ،(7)گروگرام-دہلی میرٹھ کا علاقہ، اور (8)کوٰلم- تروننت پورم کا علاقہ
چھوٹے صنعتی علاقے(13)
(1)امبالہ۔ امرتسر, (2) سہارپنور۔ مظفر نگر۔ بجنور،(3) انددر۔دیواس۔اجین،(4)جے پور۔ اجمیر،(5)کولہاپور۔ جنوبی کنٹر،(6)شمالی مالابار،(7)وسطی مالابار،(8)عادل آباد۔ نظام آباد،(9)ا لہ آباد۔ وارانسی۔ مرزاپور،(10)بھوجپور۔منگیر،(11)درگ۔رائے پور،(12) بلاس پور۔ کوربا ،اور(13)برہم پترا گھاٹی
صنعتی اضلاع (15)
(1)کانپور،(2)حیدرآباد،(3)آگرہ،(4)ناگپور، (5)گوالیار،(6)بھوپال،(7)لکھنو،(8)جلپائی گڑی، (9)کٹک ،(10)گورکھپور، (11)علی گڑھ، (12)کوٹا، (13)پورنیا،(14)جبل پور اور (15)بریلی-

شکل8.13:بڑے کارخانی خطے
ملک کے اہم صنعتی خطوں کا تفصیلی تذکرہ ذیل میں تحریر ہے( شکل8.13)
ممبئی۔ پونے کا صنعتی علاقہ (Mumbai-Pune Industrial Region)
یہ ممبئی – تھانے سے پونے- ناسک اور شولا پور اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کولابا، احمد نگر، ستارہ،سانگلی اور جلگاؤں اضلاع میں صنعتی ترقی تیز ہوئی۔ اس علاقے کی ترقی کا دور ممبئی میں سوتی کپڑے کی صنعت کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا۔ ممبئی کے داخلی علاقوںمیں کپاس اور نم آب وہوا کی وجہ سے سوتی کپڑے کی صنعت کی ترقی ہوئی۔1869میں سوئزنہرکے کھلنے کی وجہ سے ممبئی بندرگاہ کی ترقی میں ایک نئے دور کی شروعات ہوئی۔ اس بندرگاہ سے مشینوں کودرآمد کیا جاتا تھا۔اس علاقے کی صنعت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مغربی گھاٹ میں برقی سہولیات کو فروغ دیاگیا۔
سوتی کپڑے کی صنعت کی ترقی کے ساتھ کیمیائی صنعت کو بھی فروغ ملا۔ ممبئی ہائی میں پیٹرولیم کا ذخیرہ اور نیوکلیر توانائی پلانٹس کی تنصیب نے اس علاقے کوتقویت دی۔
اس کے علاوہ انجینئرنگ اشیا۔پیٹرولیم کی صفائی کے کارخانے وپیٹروکیمیکلس ،چمٹرا، مصنوعی اشیا اور پلاسٹک کے سامان ، دوائیں ،کیمیائی کھاد، بجلی کے سامان،بحری جہازوں کی تعمیر،الیکٹرانک اشیا ،سافٹ وئیر، نقل وحمل کے سازو سامان ، اور خوردنی اشیاسے متعلق صنعت میں اضافہ ہوا۔ ممبئی، کولابا، کلیان،تھانے، ٹرامبے،پونے۔پمپری،ناسک،منماڈ، شولاپور،کولہا پور، احمد نگر، ستارہ، اور سانگلی وغیرہ اہم صنعتی مراکز ہیں۔
ہگلی کاصنعتی علاقہ (Hugli Industrial Region)
ہگلی ندی کے کنارے آباد،یہ علاقہ شمال میں بانسبریاسے جنوب میں برلانگر میں تقریباً100کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ صنعتی ترقی مغرب میں میدنی پور میں بھی ہوئی ہے۔ کولکاتہ ۔ہاوڑہ اس صنعتی علاقے کامرکز ہے۔ اس کی ترقی میں تاریخی ، جغرافیائی، معاشی اور سیاسی عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس علاقہ کی ترقی کا دور ہگلی ندی پر بندرگاہ بننے سے شروع ہوا۔ ملک میں کولکاتہ ایک اہم صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا۔ اس کے بعد کولکاتہ کو اندرونی حصوں سے ریل اور سڑک کے ذریعہ جوڑ دیا گیا۔ آسام اور مغربی بنگال کی شمالی پہاڑیوں میں چائے کی شجرکاری ، پہلے تیل اور بعد میں جوٹ کی صنعت اور بعد میں دامودر گھاٹی میں کوئلے کی کان کنی ،اور چھوٹا ناگپور پٹھاروں میں لوہے کے ذخائر نے اس علاقے کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہار، مشرقی اترپردیش اور اڑیسہ کے گنجان آبادی والے علاقوں سے ملنے والے سستے مزدوروں نے بھی اس علاقے کی صنعتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ کولکاتہ برطانوی ہندوستان کی دارالسلطنت(1773-1911) ہونے کی وجہ سے برطانوی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا۔ 1855میں رِشرا میں پہلی جو ٹ مل کے قیام سے اس علاقے میں جدید صنعتی اجماع کے دور کی شروعات ہوئی۔
جوٹ کی صنعت کا اجماع ہاوڑا اور بھٹپارہ میں ہے۔1947میں ملک کے بٹوارے سے اس صنعتی علاقے کو کافی نقصان ہوا۔جوٹ کی صنعت کے ساتھ ساتھ سوتی کپڑے کی صنعت کو بھی فروغ ملا۔اِس کے علاوہ کاغذ انجینئرنگ ، کپڑا بننے کی مشینیں، بجلی ، کیمیکلس ،دواسازی، کیمیائی کھاد اور پیٹروکیمیکل کی صنعتوں کی بھی ترقی ہوئی۔کوناگر میں ہندوستان موٹرس لمیٹیڈ کا کارخانہ اور چترنجن میں ڈیزل انجن کا کارخانہ اس علاقے کی پہچان ہیں۔ ہلدیا میں تیل صاف کرنے کے کارخانے نے اس علاقے میں دیگر انواع واقسام کی صنعتوںکو فروغ دیا ہے۔اس علاقے کے اہم صنعتی مراکز کولکاتہ، ہاوڑہ، ہلدیا، سیرم پور، ریشرا، شب پور،نیہٹی کاکی ناڑہ، شام نگر، ٹیٹاگڑھ، سوڈیپور، بج بج، برلانگر ، بانس بیریا، بیل گڑیا، تروینی، ہگلی، اوربیلور وغیرہ ہیں۔ پھر بھی اس علاقے کی صنعتی ترقی میں دوسرے علاقوں کے مقابلے کمی آئی ہے۔ جوٹ کی صنعت کی تنزلی اس کی اہم وجہ ہے۔
بنگلور۔ چنئی کا صنعتی علاقہ (Bangalore-Chennai Industrial Region)
یہ علاقہ آزادی کے بعد تیزرفتار صنعتی ترقی کا گواہ ہے۔1960تک کارخانے صرف بنگلور ،سیلم ،اور مدورائی اضلاع تک محدود تھے لیکن اب یہ تمل ناڈو کے ویلوپورم کے علاوہ سبھی اضلاع میں پھیل چکے ہیں۔ کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں سے دور ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کی ترقی کا دارومدار1932میں تعمیر شدہ پائکارا پن بجلی پلانٹ پر منحصر ہے۔ کپاس پیدا کرنے والا علاقہ ہونے کی وجہ سے سوتی کپڑے کی صنعت نے سب سے پہلے اس علاقہ میں اپنے پیر جمائے تھے۔سوتی ملوں کے ساتھ ہی کرگھاصنعت نے تیزی سے ترقی کی۔ بنگلوربھاری مشینوں کی صنعت کا مرکز بن گیا۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ(HAL) مشین ٹولس ٹیلیفون(HTL)اور بھارت الیکٹرونکس اس علاقے کی پہچان ہیں۔ سوتی کپڑے کی صنعت، ریل کے ڈبے، ڈیزل انجن،ہلکے انجینئرنگ کے سامان، ربر کے سامان ،شیشہ، ریڈیو، ادویات ، المونیم،شکر، سیمنٹ، کاغذ، کیمیکلس، فلم، سگریٹ ، ماچس، چمڑے کے سامان وغیرہ اس علاقے کی اہم صنعتیں ہیں۔ چنئی میں تیل صاف کرنے کاکارخانہ، سیلم میں لوہے اورفولادکا کارخانہ اور کیمیائی کھاد کا کارخانہ نئے اضافے ہیں۔
گجرات کا صنعتی علاقہ (Gujarat Industrial Region)
اس صنعتی علاقے کا مرکز احمد آباد اور وڈوڈرا کے درمیان ہے لیکن یہ جنوب میں والسڈ اور سورت تک اور مغرب میں جام نگر تک پھیلا ہواہے۔ اس علاقے کی ترقی1860کی دہائی میں سوتی کپڑے کی صنعت سے جڑی ہوئی ہے۔ ممبئی میں سوتی کپڑے کی صنعت کے زوال کے بعد اس علاقے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ کپاس پیدا کرنے والے علاقے میں ہونے کی وجہ سے اسے خام مال اور سستے مزدور آسانی سے دستیاب ہیں۔ ہگلی اس علاقے کے کارخانوں کے لیے ایک اچھا بازار فراہم کرتا ہے۔ بھاری انجینٔرنگ، ریل کے انجن، مشین کے اوزار ،کیمیائی کھاد، سیمنٹ، کاغذ، بھاری بجلی کے سامان وغیرہ اس کومال اور بازار دونوں کی نزدیکی سہولیات حاصل ہیں۔پٹرولیم ذخائر ملنے کی وہ سے انکیشور، وڈوڈرا اور جامع نگر کے مقامات میں پٹروکیمیکل سے متعلق صنعتیں قائم ہوگئیں۔کاندھلہ بندرگاہ سے اس علاقہ کی ترقی کو کافی مدد ملی۔ کویالی کے تیل صاف کرنے والے کارخانے سے اس علاقے کی پیڑوکیمیکل صنعتوں کو خام مال کی فراہمی آسان ہوگئی۔اب اس علاقے کے صنعتی ڈھانچے میں نمایا ں تنوع پایا جاتاہے۔ کپڑے (سوتی، ریشمی اور مصنوعی کپڑے) اور پیڑوکیمیکل کے علاوہ دوسری صنعتیں مثلاً بھاری اور بنیادی کیمیائی صنعتیں، موٹر، ٹریکٹر، ڈیزل انجن، کپڑا بنانے کی مشینیں، انجینرنگ، دواسازی، رنگ روغن ، کیڑے مارنے کی دوائیں، شکر ،ڈیری اور غذا سے متعلق صنعتیں قائم ہوئی ہیں۔ حال میں ملک کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے کا کارخانہ جام نگر میں قائم کیا گیا ہے۔ اس علاقے کے اہم صنعتی مراکز میں احمدآباد ، وڈوڈرا، بھرونچ، کویالی، آنند، کھیڑا، سریندرنگر، راجکوٹ، سورت، والسد، اور جام نگر شامل ہیں۔
چھوٹا ناگپور کا علاقہ (Chotanagpur Region)
یہ علاقہ جھارکھنڈ، شمالی اڑیسہ، اور مغربی بنگال کے مغربی حصہ پر پھیلا ہوا ہے اور بھاری فلزیاتی صنعتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ اپنی ترقی کے لیے دامودرگھاٹی میں کوئلہ، جھارکھنڈ اور شمالی اڑیسہ میں فلزی اور غیرفلزی معدنیات کی دریافت کامرہون منت ہے۔ کوئلہ ، خام لوہا اور دیگر معدنیات کی دستیابی نے اس علاقے میں بھاری صنعتوں کے ارتکاز میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اس علاقے میں چھ بڑے مضموم شدہ لوہے اور فولاد کے کارخانے جمشیدپور، برنپور، کلٹی، درگاپور، بوکارو اور راؤرکیلا میں قائم ہیں۔ توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دامودرگھاٹی میں (thermal) حارّی اور پن بجلی پلانٹوں کو قائم کیا گیا ہے۔ اس علاقے کے اطراف میں گھنی آبادی ہونے کی وجہ سے یہاں کی صنعتیں ہلکی اور بازار سے جڑی ہوئی ہیں۔االکٹرونکس، ہلکی انجینئرنگ اور بجلی کے سامان کی صنعتیں اس علاقے کی خاصیت ہیں۔اس کے علاوہ سوتی، گرم اور مصنوعی کپڑے، ہوزری کے سامان، شکر، سیمنٹ، مشینیں علاقہ کی دوسری اہم صنعتیں ہیں۔ رانچی، دھنباد، چیباسہ،سندری، ہزاری باغ، جمشید پور ،بوکارو، راؤرکیلا، درگاپور، آسنسول اور ڈالمیانگر اہم مراکز ہیں۔
وشاکھا پٹنم۔ گنٹور کا علاقہ
(Vishakhapatnam-Guntur Region)
یہ صنعتی علاقہ وشاکھا پٹنم ضلع کے جنوب میں کڑنول اور پرکاسم اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقے کی صنعتی ترقی کا دارومدار وشاکھاپٹنم اور مچھلی پٹنم بندرگاہوں اور ان کے داخلی علاقوںمیں ترقی یافتہ زراعت اور معدنی ذخائر پر ہے۔ گوداوری کی کوئلہ کی کانیں توانائی فراہم کرتی ہیں۔جہازسازی کی صنعت کی ابتدا1941میں وشاکھاپٹنم میں ہوئی تھی۔درآمدی پیٹرولیم پر مبنی پیٹرولیم ریفائنری کے قیام سے مختلف پیڑوکیمیکل صنعتوں کی افزائش میں مدد ملی ہے۔ شکر، کپڑے، جوٹ، کاغذ،کیمیائی کھاد، سیمنٹ، ایلمونیم اورانجینرٔنگ کے ہلکے سامان اس علاقے کی خاص صنعتیں ہیں۔ گنٹور ضلع میں ایک سیسہ، جستہ پگھلانے کی بھٹی کام کر رہی ہے۔ وشاکھاپٹنم میں واقع لوہے اور فولاد کا کارخانہ بیلا ڈیلا کا خام لوہے استعمال کرتا ہے۔ وشاکھاپٹنم، وجے واڑہ، وجے نگر، راجامندری، گٹنور ،ایلورو اور کرنول اہم صنعتی مراکز ہیں۔
گروگرام ۔ دہلی ۔ میرٹھ کا علاقہ
(Gurgaon-Delhi-Meerut Region)
اس علاقہ میں مقیم صنعتوں نے ماضی قریب میں کافی تیزی سے ترقی کے منازل طے کیے ہیں۔ یہ صنعتی علاقہ معدنی اور توانائی وسائل سے کافی دوری پر ہے اسی وجہ سے یہاں کی صنعتیں ہلکی اور بازار سے جڑی ہوئی ہیں۔ الکڑونکس، ہلکی انجینٔرنگ اور بجلی کے سامان کی صنعتیں اس علاقے کی خاصیت ہیں۔ اس کے علاوہ سوتی، گرم اور مصنوعی کپڑے ،ہوزری کے سامان، شکر، سیمنٹ، مشینوں کے اوزار، ٹریکڑ، سائیکل ، زراعتی اوزار، کیمیکل اور وناسپتی کی صنعتوں کا بڑے پیمانے پر فروغ ہوا ہے۔اس فہرست میں سافٹ وئیر کی صنعت ایک جدیدصنعت ہے۔ اس علاقے کے جنوب میں آگرہ۔ متھرا صنعتی علاقہ ہے جو کہ شیشے اور چمڑے کے سامان میں خصوصیت رکھتا ہے۔ متھراایک پیٹرو کیمیکل
کامپلیکس ہے۔ جس میں ایک ریفائنری شامل ہے۔گروگرام ، دہلی، شاہدرا، فریدآباد، میرٹھ، مودی نگر، غازی آباد ، امبالہ، آگرہ اور متھرا اس علاقے کے اہم صنعتی مراکز ہیں۔
کولم۔ تروننت پورم کا علاقہ
(Kollam-Tiruvanantapuram Region)
یہ صنعتی خطہ ترواننتاپورم، کولم، الوائے، ارناکولم، اور عالیٰ پوزہ اضلاع میں پھیلا ہوا ہے۔زرعی ٔ شجرکاری اور پن بجلی اس علاقے کی صنعت کو ایک مضبوط بنیاد مہیا کراتے ہیں۔ ملک کے معدنی وسائل سے دور ہونے کی وجہ سے زراعت پر مبنی صنعتیں اور بازار سے جڑی ہلکی صنعتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سوتی کپڑے کی صنعت ، شکر، ربڑ، ماچس ،شیشہ، کیمیائی کھاد، اور مچھلی پر مبنی صنعتیں اہم ہیں ۔کاغذ، ناریل کے ریشے، تیارشدہ مال، ایلمونیم اور سیمنٹ کی صنعتیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ کوچی میں تیل صاف کرنے کے کارخانے کے قیام سے اس علاقے کو کافی تقویت ملی اور نئی صنعتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ کولم، ترواننتاپورم، الووا، کوچی، الا پزہ اور پنالور اس علاقے کے اہم صنعتی مراکز ہیں۔

مشقیں
.1 نیچے دیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
(i)۔ ذیلی عوامل میں کون سا عمل صنعتی محل وقوع سے متعلق نہیں ہے؟
(a) بازار (b) آبادی کی کثافت
(c) سرمایہ (d) توانائی
(ii)۔ ہندوستان کی پہلی آئرن اور اسٹیل کمپنی کون سی ہے؟
(a) IISCO (b)وشوویش وریا آئرن اور اسٹیل ورکس
(c) TISCO (d) میسور آئرن اینڈ اسٹیل ورکس
(iii)۔ سوتی کپڑے کی پہلی جدیدمل ممبئی میں قائم کی گئی کیوں کہ:
(a) ممبئی ایک بندرگاہ ہے۔ (b) ممبئی ایک مالیاتی مرکز ہے۔
(c) یہ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں کے قریب واقع ہے۔ (d) مندرجہ بالا سبھی
(iv)۔ ہگلی صنعتی گچھے کا مرکز ہے:
(a) کولکاتہ۔ ہاوڑا (b) کولکاتہ۔ مدنی پور
(c) کولکاتہ۔ رشرا (d) کولکاتہ۔ کوناگر
(v)۔ مندرجہ ذیل میں شکر پیدا کرنے میں کسے دوسرا مقام حاصل ہے؟
(a) مہا راشٹرا (b) پنجاب
(c) اترپردیش (d) تمل ناڈو
.2 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً30الفاظ میں دیجیے۔
(i) آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ لوہے اور فولاد کی صنعت کسی ملک کی صنعتی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
(ii) سوتی کپڑے کی گھریلو صنعت سے متعلق دوشعبوں کے نام بتائیے۔ یہ ایک دوسرے سے کس طرح الگ ہیں۔
(iii) شکر کی صنعت ایک موسمی صنعت کیوں ہے؟
(iv) پیٹروکیمیکل کی صنعت کے لیے بنیادی خام مال کیا ہے۔ اس صنعت کی کچھ مصنوعات کے نام بتائیے۔
(v) ہندوستان میں انفارمیشن ٹکنالوجی(IT)انقلاب کے خاص اثرات کیا ہیں؟
.3 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب 150لفظوں میں دیں۔
(i) ’’ سودیشی تحریک ‘‘نے کس طرح سوتی کپڑے کی صنعت میں نئی روح ڈال دی تھی۔
(ii) آپ نرم کاری، نج کاری اور عالم کاری سے کیا سمجھتے ہیں؟ انھوں نے ہندوستان کی صنعتی ترقی میں کس طرح سے مدد کی ہے؟