Skip to content
Awamaurmaishat-009

اکائیIII

باب 9

ہندوستان کے سیاق وسباق میں منصوبہ بندی اور قابل گزراں ترقی

1
لفظ منصوبہ بندی آپ کے لیے نیا نہیں ہے کیونکہ یہ ہماری روز مرہ زندگی میں شامل ہے۔آپ نے اس لفظ کا استعمال اپنے امتحانات یا کسی پہاڑی مقام پرجانے کے لیے کی گئی تیاری کے دوران ضرور کیا ہوگا۔ اس میں مسئلے پر غور و فکر کرنا ،پروگرام کا خاکہ تیار کرنا اور مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے کی جانے والی کاوشیں شامل ہے۔ اگرچہ یہ لفظ اپنے آپ میں کافی وسیع ہے لیکن اس باب میں اس کا استعمال معاشی ترقی کے تعلق سے کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ ان روایتی طور طریقوں سے مختلف ہے جن کا استعمال اصلاح اور تعمیر نو کے لیے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر منصوبہ بندی کے دوطریقۂ کار ہوتے ہیں: شعبہ جاتی منصوبہ بندی اور علاقائی منصوبہ بندی۔ شعبہ جاتی منصوبہ بندی معیشت کے مختلف شعبوں مثلاً زراعت، آب پاشی،اشیا سازی، توانائی ، تعمیر ، نقل و حمل ، رسل ورسائل ، سماجی ڈھانچہ اور بنیادی خدمات کی ترقی سے متعلق ہے۔
ترقی تمام علاقوں میں مساوی نہیں ہے۔ کچھ علاقے زیادہ ترقی یافتہ ہیں توکچھ پچھڑے ہوئے ہیں۔ ترقی کی عدم مساوی ترتیب واضح کرتی ہے کہ منصوبہ ساز ایک علاقائی نظریہ اختیار کریں اور ترقی میں علاقائی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے منصوبے تیار کریں۔ اس طرح کی منصوبہ بندی کو علاقائی منصوبہ بندی کہا جاتا ہے۔

آزادی کے بعد ہندوستان نے ایک مرکزی منصوبہ بندی کو اختیار کیا تھا لیکن بعد میں اس کو کثیرسطحی منصوبہ بندی کی شکل میں ترقی دی۔منصوبہ سازی کی ذمہ داری مرکز، ریاست اور ضلعوں کی سطحوں پر منصوبہ بندی کمیشن کی تھی۔ لیکن یکم جنوری 2015کو منصوبہ بندی کمیشن NITI آیوگ میں بدل دیاگیا۔
 NITI آیوگ کا قیام ہندوستان میں معاشی پالیسی میں ریاستوں کوشامل کرنے کے مقصد سے کیاگیا ہے تاکہ وہ مرکزاور ریاستی حکومتوں کوبنیادی اور تکنیکی مشورے دےسکیں۔

مخصوص علاقوں کی منصوبہ بندی  (Target Area Planning)

جو علاقے معاشی طور پر پچھڑے ہوئے ہیں ان علاقوں میں منصوبہ بندی کرتے وقت خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی علاقہ کی معاشی ترقی اس علاقہ کے وسائل پر منحصر ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھی وسائل سے مالا مال علاقے بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ معاشی ترقی کو وسائل کے ساتھ ساتھ تکنا لوجی اور سرمایہ بھی درکار ہوتا ہے۔ منصوبہ بندی کے 15سال کے تجربہ کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ معاشی ترقی کے معاملے میں علاقائی عدم توازن میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے علاقائی اور سماجی عدم توازن کو دور کرنے کے واسطے منصوبہ بندی کمیشن نے ’ مخصوص علاقے‘ اور’ ’مخصوص طبقہ‘ کے طریقہ ٔ کار پرزور دیاہے۔ نہروں کے زیر اثر علاقہ کی ترقی کی منصوبہ بندی کے پروگرام (Command Area Development Programme)، کوہستانی علاقوں کی ترقی کے پروگرام (Hill Area Development Programme)، ریگستان کی ترقی کے پروگرام(Desert Development Programme)،خشک سالی سے متاثرعلاقوں کی ترقی کے پروگرام (Drought Prone Area Development Programme) وغیرہ، مخصوص علاقہ کی منصوبہ بندی کی چند شاخیںہیں ۔ اس کے علاوہ چھوٹے کسا نوں کی ترقی کی ایجنسی (The Small Farmers Development Agency) SFDA) اور حاشیہ برادر کسانوں کی ترقی کی ایجنسی(Marginal Farmers Development Agencey, MFDA)مخصوص طبقہ کے پروگراموں کی مثال ہیں۔
آٹھویں پنج سالہ منصوبہ میں مخصوص علاقہ کی ترقی کے تحت پہاڑی علاقوں اور شمال مشرقی ریاستوں ، قبائلی اور پچھڑے علاقوں میں انفر اسٹرکچر فراہم کرنے کی غرض سے مخصوص پروگرام مرتب کیے گئے۔

پہاڑی علاقوں کی ترقی کا پروگرام

(Hill Area Development  Programme)

پہاڑی علاقوں کے لیے ترقیاتی پروگرام کی شروعات پانچویں پنج سالہ منصوبہ کے دوران کی گئی تھی۔ اس کے تحت اس وقت کے اترپردیش ( موجودہ اترانچل ریاست)کے تمام پہاڑی اضلاع، آسام میں مکر اور شمالی کچھارکی پہاڑیاں، مغربی بنگال کا دارجلنگ ضلع،اور تمل ناڈو کے نیل گری ضلع کو ملاکر کل 15اضلاع شامل ہیں۔ 1981میں پس ماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے بنی قومی کمیٹی نے ان سبھی اضلاع جن کی ا ونچائی سطح سمندر سے600میٹرسے زیادہ تھی اور جن میں قبائلی ذیلی پلان نافذ نہیں ہوا تھا ان کے لیے سفارشات کی تھیں کہ انھیں بھی پس ماندہ پہاڑی علاقے میں شامل کرلیا جائے۔
پہاڑی علاقوں کی سطحی بناوٹ ، ماحولیاتی ، سماجی اور معاشی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کے لیے تفصیلی ترقیاتی پروگرام وضع کیے گئے جن کا مقصد پہاڑی علاقوں کے وسائل کا بہترطور پر استعمال کرنا تھا۔ اس کے تحت باغبانی ، زرعی شجرکاری،مویشی پالن،پولٹری، شجرکاری اور چھوٹے پیمانے پر دیہی صنعتوں کو فروغ دیا گیا۔

خشک سالی سے متاثر ہ علاقوں کے پروگرام

(Drought Prone Area Programme)

اس پروگرام کی شروعات چوتھے پنج سالہ منصوبہ کے دوران کی گئی تھی۔ اس کا مقصد خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو روزگار مہیا کرانا اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پیداوار کے ذرائع کو مستحکم کرنا تھا۔ شروع میں یہ پروگرام خاص طور پر زیادہ مزدوروں پر مبنی تعمیراتی کاموں کو ترجیح دینے کے لیے وضع کیا گیا تھا لیکن پانچویں پنج سالہ منصوبہ میں اس کے دائرۂ عمل کو وسیع کردیا گیااوراس میں آب پاشی کے منصوبوں،زمین سے جڑے ترقیاتی پروگرام شجر کاری ، افزائش، چراگاہ، بنیادی دیہی انفرااسٹرکچر کی فراہمی جیسے بجلی، سڑکیں، بازار، قرض اور دیگرخدمات کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔
پچھڑے علاقوں کی ترقی کے لیے بنائی گئی قومی کمیٹی نے اس پروگرام کے پیش رفت کی نظر ثانی کی اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ پروگرام صرف زراعت اور متعلقہ شعبوںکی ترقی اور ماحولیاتی نظام کے توازن کو برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔ چونکہ آبادی کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے حاشیہ کی زمین کا بھی استعمال ہونے لگاہے جس کی وجہ سے ماحولیات میں پست کاری شروع ہوگئی۔ ماحولیات کی اس پست کاری کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ خشک سالی سے متاثرعلاقوں میں روز گار کے متبادل مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان علاقوںکی ترقی کے لیے دوسری حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ مسلمہ طور پر پن دھارا ترقی پر عمل کیا جائے۔ خشک سالی سے متاثر علاقوں کی ترقی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ ماحولیاتی نظام، پانی، نباتات ،انسانوں اور جانوروں کے درمیان کے توازن کوبرقرار رکھا جائے۔
ہندوستان کے منصوبہ بندی کمیشن(1967)نے ملک میں 67 اضلاع (مکمل یا جزوی طور پر) کی نشاند ہی کی جوکہ خشک سالی سے متاثر ہیں۔ آب پاشی کمیشن (1972)نے30فی صد زیر آب پاشی علاقوں کی بنیاد پر خشک سالی سے متاثر علاقوں کی حد بندی کی۔ ہندوستان میں خشک سالی سے متاثرزیادہ تر علاقے راجستھان، گجرات ،مغربی مدھیہ پردیش، مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقہ میں، آندھرا پردیش کے رائل سیما، اور تیلنگانہ پٹھاروں میں کرناٹک پٹھار ا ور تمل ناڈو کے دور دراز اونچائی والے علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ پنجاب، ہریانہ اور شمالی راجستھان کے خشک سالی والے علاقے آب پاشی کی سہولیات کی وجہ سے خشک سالی سے محفوظ ہیں۔

یہ علاقہ ’320 11شمال سے’32o 41شمال عرض البلد اور’ 76o 22 مشرق سے’76o 53مشرق طول البلد کے درمیان واقع ہے۔ یہ علاقہ تقریباً 1,818مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ سطح سمندرسے 1,500میٹر سے3,700میٹر کی اونچائی کے درمیان واقع  ہے۔ گدّیوں کا مسکن کہا جانے والا یہ علاقہ چاروں طرف سے بلندپہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کے شمالی میں پیر پنجال اور جنوب میں دھولادھار پہاڑی سلسلے ہیں ۔ مشرق میں دھولادھار سلسلہ روہتانگ درّے کے پاس’ پیر پنجال‘ پہاڑی سلسلہ سے ملتا ہے۔ اس علاقہ میں راوی اور اس کی معاون ندیاں بدھیل اور تُندھین عمیق اور تنگ وادیوں (Gorges)میں بہتی ہیں۔یہ ندیاں اس علاقہ ’’ کو چار طبعی خطّوں  ہولی، کھانی،کگٹی اور تندھا میں تقسیم کرتی ہیں۔ موسم سرمامیں بھار مور میں شدت کی ٹھنڈ پڑتی ہے اور برف باری ہوتی ہے۔ جنوری میں یہاں پر ماہانہ اوسط درجہ حرارت 4oCسینٹی گریڈاور جولائی میں26oCسینٹی گریڈرہتا ہے۔

کیس اسٹڈی– بھارمورمیں مسلّمہ قبائلی ترقیاتی منصوبہ

)Case Study–Integrated Tribal Development Project in Bharmaur* Region 

بھار مور قبائلی علاقہ میں ہماچل پردیش کے چمبا ضلع کی دو تحصیلیں بھارمور اور ہولی شامل ہیں۔ یہ 21نومبر1975سے درجہ جات قبائلی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ ’گدّ ی‘ قبائل کا مسکن ہے جن کی ہمالیائی علاقہ میں اپنی ایک پہچان ہے،کیونکہ یہ لوگ موسمی نقلِ مکانی کرتے ہیں اور ’’گدیالی‘‘ بولی بولتے  ہیں۔

*بھار مور سنسکرت کے لفظ براہمور سے نکلا ہے۔ اس کتاب میں اس لفظ کا استعمال علاقائی اثر کو رکھنے کے لیے ہوا ہے۔

بھار مور قبائلی علاقہ کی آب و ہواسخت ہے بنیادی وسائل کی کمی اورماحول لطیف اورکمزور ہے۔ ان عوامل نے اس علاقہ کی معیشت اور سماج کو متاثر کیا ہے۔2011کی مردم شماری کے مطابق بھار مور ذیلی ڈویزن کی مجموعی آبادی 39,113تھی یعنی 21افراد فی مربع کلو میٹر ۔ یہ ہماچل پردیش کے سب سے پس ماندہ (معاشی اور سماجی اعتبار سے)علاقوں میں سے ایک ہے۔ تاریخی طور پر گدی قبائلیوں نے جغرافیائی ،معاشی علا حدگی کا تجربہ کیا اور سماجی ومعاشی ترقی سے محروم رہے۔ ان کی معیشت بنیادی طور پر زراعت اور اس سے متعلق سرگرمیوں مثلاً بھیڑاور بکری پالن پر مبنی ہے۔ 
بھارمور قبائلی علاقہ میں ترقی کا دور 1970کی دہائی میں شروع ہوا جب ’’ گدی‘‘ لوگوں کو درجہ فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کیا گیا ۔ 1974میں پانچویں پنج سالہ منصوبہ کے تحت قبائلی ذیلی منصوبہ کی شروعات کی گئی اورمسلمہ قبائلی ترقی پروجیکٹ کے تحت ہماچل پردیش کے جن پانچ قبائلی گروہوں کو درج فہرست قبائل  میں شامل کیا گیا ہے ان میں سے ایک گدی ہے، اور اس پروگرام کا مقصد گدیوں کی زندگی میں سدھار لانا اوربھارمور اور ہماچل پردیش کے دوسرے حصوں کے درمیان ترقی کے فرق کو کم کرنا تھا ۔ اس پلان کے تحت نقل و حمل، رسل ورسائل ، زراعت اور اس سے متعلق سرگرمیوں اور سماجی اور عوامی خدمات کو ترجیح دی گئی۔
بھار مورمیں ذیلی قبائلی پلان کی خاص بات انفراسٹرکچر مثلاً اسکول، صحت،پینے کا پانی و سڑکیں، رسل و رسائل اور بجلی کی فراہمی ہے۔ لیکن ہولی اور کھانی علاقوں میں راوی ندی کے ساتھ بسے گاؤں انفراسٹرکچر کی ترقی سے سب سے زیادہ مستفیدہوئے ہیں۔ تنداہ اور کگٹی علاقوں کے دورافتادہ گاؤں ابھی بھی مناسب انفرااسٹرکچرکی ترقی کا انتظار کر رہے ہیں۔
آئی ٹی ڈی پی(ITDP)کے عمل میں آنے کے بعد کئی سماجی فائدے ہوئے جن میں خواندگی میں پرزور اضافہ و صنفی تناسب میں سدھاراورکم سنی کی شادیوں میں کمی شامل ہیں۔ اس علاقہ میں خواندگی نسواں کی شرح1971میں 1.88فی صد سے بڑھ کر 2011 میں 65فی صد ہوگئی۔ عورتوں اور مردوں کی شرح خواندگی میں فرق یعنی خواندگی کی صنفی تفریق میں بھی کمی آئی ہے۔ روایتی طور پر گدیوں کی معیشت کا انحصار خود کفیل زرعی و چرواہاگیری معیشت پر تھا جس میں خوردنی اناج اور مویشیوں کی پیداوار پر زور دیا جاتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں کے دوران بھارمور میں دالوں اور دیگر نقدی فصلوں کے رقبہ میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہاں ابھی بھی کاشت روایتی حرفیات سے کی جاتی ہے۔ اس علاقے کی معیشت میں خانہ بدوش چرواہا گیر معیشت کی کم ہوتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ دور میں کل خاندانوں میں سے صرف10فی صد خاندان ہی موسمی چرواہا گیری عمل میں لاتے ہیں ۔ لیکن گدی قبائل آج بھی بہت متحرک ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد موسم سرما میں کانگڑہ اور آس پاس کے علاقوں میں مزدوری کی غرض سے نقل مکانی کرتی ہے۔

2
شکل9.1
ابتدائی گرمیوں میں مصروف لوگ
گیہوں صاف کرنے کا روایتی طریقہ
سیڑھی نما کھیتی
روایتی لباس
بھارمور میں بستیوں کا ایک منظر

3
4

                                                 شکل9.3

پائیدار ترقی

(Sustainable Development)

عام طور پر ترقی سے مراد سماج کی حالت اور تاریخ انسانی کے لمبے عرصہ میں معاشرہ میں تبدیلیوں کی روش سے ہے جس کا انحصار زیادہ تر حیاتیاتی اور طبعی ماحول اور انسانی معاشروں کے مابین باہمی عمل (عمل کاری) پر ہے۔ انسان اور ماحول کا تعامل اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ سماج نے کس نوعیت کی تکنیکی ترقی کی ہے اورکس طرح کے اداروںکی پرورش کی ہے۔اگرچہ ٹیکنالوجی اوراداروں نے انسان اور ماحول کے تعامل کو ایک رفتار فراہم کی ہے۔ جس کی وجہ سے ٹیکنا لوجی کا معیار بلند ہوا ہے اور کئی طرح کے ادارے یا تو وجود میں آئے یا ان کی وضع میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ترقی ایک کثیر ابعاد نظریہ ہے جو معیشت، معاشرہ اور ماحول میں مثبت اور پائیدار تبدیلی کا مظہر ہے۔
ترقی کا نظریہ مثبت تبدیلیوں کی مسلسل رونمائی سے ہے ۔اور اس کی ابتدا بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے اواخر میں ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد ، ترقی کا تصور معاشی ترقی کے مترادف تھا۔ جسے کل قومی پیداوار (GNP)اور فی کس آمدنی یا فی کس تصرف کے ز مانی اضافہ کے طور پر دیکھا گیا۔ لیکن تیز رفتار معاشی ترقی کے منازل طے کرنے والے ممالک میں بھی ترقی کی رفتار ہمہ گیر نہیں تھی بلکہ غیر مساوی تھی جس کی وجہ سے ان ممالک میں بھی غربت میں اضافہ ہوا۔ اس لیے 1970کی دہائی میں ترقی کے ساتھ دوبارہ تقسیم اور افزائش اور مساوات جیسے محاوروں کو بھی ترقی کی تعریف میں شامل کر لیا گیا۔ دوبارہ تقسیم اور افزائش و مساوات کے سوالوں پر غور کرتے وقت اس بات کا احساس ہوا کہ ترقی کے تصور کو صرف معاشیات تک محدود نہیں رکھا جا سکتاہے۔اس میں لوگوں کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی، صحت عامہ، تعلیم، بہتر مساوی مواقع اور سیاسی و سماجی اختیارات سے متعلق مسئلے بھی شامل ہیں۔ 1980کی دہائی میں ترقی کا تصور کافی وسیع ہوگیا جس میں سماج کے سبھی طبقوں کی سماجی اور ثقافتی فلاح کا پورا خیال رکھا گیا۔
1960کی دہائی کے آخرمیں مغربی دنیا میں ماحولیات سے متعلق مسائل پر بڑھتی عوامی بیداری سے پائدار ترقی کانظریہ وجود میں آیا۔ اس سے ماحول پر صنعتی ترقی کے غیر ضروری منفی اثرات کے بارے عوام کی فکر ظاہر ہوتی ہے۔1968میں اہرلچ کی کتاب ’’دی پاپولیشن بمب‘‘ اور 1972میں میڈوس ودیگر کی کتاب ’’ دی لمٹس ٹوگروتھ‘‘ کے شائع ہونے کے بعد لوگوں کی اور خاص کر ماہرین ماحولیات کی فکرمیں اضافہ ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ ترقی کا ایک نیانظریہ وجود میں آیا جسے’ قابل گزراں ترقی‘یا پائیدار ترقی کے نام سے جانا گیا۔
ماحول کے مسئلے پر عالمی برادری کی بڑھتی فکر کو مد نظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ  نے ’’ عالمی کمیشن برائے ماحول اور ترقی ‘‘ (World Commission on Environment and Development, WCED)کو قائم کیاجس کی صدارت کا ذمّہ ناروے کی وزیراعظم گرو ہارلیم برنٹ لینڈ (Gro Harlem Brundtland)کو سونپا گیا۔ کمیشن کی رپورٹ جسے برنٹ لینڈ رپورٹ بھی کہتے ہیں’آور کامن فیوچر‘ (Our Commom Future) کے نام سے 1987میں پیش کی گئی ۔ اس رپورٹ میں قابل گزراں ترقی کی تعریف اس طرح کی گئی ہے۔’’ ایک ایسی ترقی جس میں آنے والی نسلوں کی ضروریات کو متاثر کیے بغیر موجودہ نسلوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے‘‘
پائیدار ترقی موجودہ دور میں ترقی کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کے تحفظ کی وکالت کرتا ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ان وسائل کا بخوبی استعمال کرسکیں۔پائیدار ترقی نسل انسانی کی ترقی جس کا ایک مشترکہ مستقبل ہو اسے خاطر میں لاتی ہے۔
5

                                      شکل9.4:اندرا گاندھی نہر

کیس اسٹڈی   (Case Study)

اندرگاندھی نہر کا کمان علاقہ 

اندرگاندھی نہر ، جو پہلے راجستھان نہر کے نام سے جانی جاتی تھی، ہندوستان کے سب سے بڑے نہر سلسلے میں سے ایک ہے۔1948میں کنورسین نے اس کا ذہنی خاکہ تیار کیا اور 31مارچ1958کو اس منصوبہ کی شروعات ہوئی۔ یہ نہرپنجاب کے ہریکے باندھ سے نکالی گئی ہے اور پاکستان کی سرحد سے 40کلو میٹر کی دوری پر راجستھان کے تھار ریگستان سے گزرتی ہے۔ اس نہر کی کل مجوزہ لمبائی9,060کلو میٹر ہے اور یہ تقریباً19.63لاکھ ہیکٹر مزروعہ رقبہ پر آب پاشی کی سہولیات فراہم کرسکتی ہے۔ کل کمان رقبہ کے تقریباً70فی صد حصے پرآب پاشی سیدھے طور پرجب کہ بقیہ 30فی صد علاقے پر لفٹ نظام کے ذریعہ پانی مہیا کرایا جائے گا۔ نہرکی تعمیر کو دو مرحلوںمیں مکمل کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلہ کے کمان علاقہ میں گنگانگر، ہنومان گڑھ اوربیکانیراضلاع کا شمالی حصہ شامل ہے۔ ان علاقوں کی زمین قدرنا ہموار ہے اور اس کا قابل کاشت کمان رقبہ 5.53لاکھ ہیکڑ ہے۔ دوسرے مرحلہ کا کمان علاقہ بیکانیر،جیسلمیر، باڑمیر، جودھپور، ناگور، اورچرواضلاع میں 14.10لاکھ ہیکٹرقابل زراعت رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقہ میں ریگستان اور منتقل ہونے والے تودۂ ریگ بکھرے ہوئے ہیں اور جہاں درجہ حرارت 500Cتک پہنچ جاتا ہے۔ لفٹ نہرمیں زمینی ڈھلان کے مخالف پانی کا بہاؤ برقرار رکھنے کے لیے پانی کوپمپوں کی مدد سے اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ اندر گاندھی نہری سلسلے کی سبھی لفٹ نہر یں اس کے بائیں کنارے سے نکلتی ہیں جب کہ اس کے داہنے کنارے  پر سبھی رودرواں ہیں۔
پہلے مرحلہ کے کمان علاقہ میں آب پاشی کی شروعات 1960کی دہائی کے اوائل میں ہوئی تھی جب کہ دوسرے مرحلہ کے کمان علاقہ میں آب پاشی کی شروعات1980کی دہائی کے وسط میں ہوئی تھی۔ آب پاشی کی سہولیت کی فراہمی سے اس خشک علاقے کے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں کے ماحول پرمثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات رونما ہوئے ہیں۔ لمبے عرصہ تک مٹی میں رطوبت کی فراہمی اور کمان علاقہ ترقی(CAD)پروگرام کے تحت شروع کی گئی شجر کاری اور چراگاہوں کی تجدید سے اس علاقہ کی ہریالی میں اضافہ ہوا۔ اس سے ہواکے ذریعے ہونے والے مٹی کے کٹاؤ میں خاطر خواہ کمی آئی اور ساتھ ہی نہرمیں ریگ کے جماؤ کی رفتار بھی کم ہوگئی ہے۔ لیکن گھنی آب پاشی اور پانی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے سیم زدگی اور مٹی میں اضافی کھارے پن جیسے مسائل پیدا ہوگئے۔
6
                                           شکل9.5:اندرا گاندھی نہر اور مضافاتی علاقے

نہری آب پاشی کی سہولیت سے اس علاقہ کی زر عی معیشت میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔ اس خطے میں فصلیں اگانے میں مٹی کی محدود رطوبت ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ نہری آب پاشی کی وجہ سے نہ کہ صرف زر عی رقبہ میں اضافہ ہوا بلکہ کاشتکاری کے گھنے پن میں بھی اضافہ ہوا۔ یہاں کی روایتی فصلوں مثلاً چنا، باجرا اور جوار کی جگہ گیہوں، کپاس، مونگ پھلی اور چاول نے لے لی۔ یہ گھنی آب پاشی کا ہی نتیجہ ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدائی طور پر گھنی آب پاشی سے زراعتی اور مویشی پیداوار میں خاطر خوہ اضافہ ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پانی کے اکٹھا ہونے اور مٹی کے اضافی کھارے پن جیسے مسائل بھی پیدا ہوگئے جس کی وجہ سے آنے والے وقت میں زراعت کی قابل گزراں ترقی میں رکاوٹ آسکتی ہے۔

پائیدار ترقی کو فروغ دینے والے عوامل

(Measures  for  Promotion of Sustainable Development)

بہت سے ماہرین نے اندر گاندھی نہر منصوبہ کی ماحولیاتی پائیداری پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ پچھلی چار دہائیوں میں جس طرح طبعی ماحول کی پست کاری ہوئی ہے اس سے ماہرین کے اس نقطہ نظر کو کافی تقویت ملی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قابل گزراں ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کمان علاقہ میں ماحولیاتی پائیداری کو اہمیت دی جائے۔اسی لیے اس کمان علاقہ میں قابل گزراں ترقی کو حاصل کرنے کے لیے جوسات اقدامات تجویز کیے گئے ہیں ان میں سے پانچ تجاویز اس علاقہ میں ماحولیاتی توازن کو قائم رکھنے سے متعلق ہیں۔
(i) پہلی اوراہم ترین ضرورت اس بات کی ہے کہ پانی کے بندوبست سے متعلق پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے۔مذکورہ نہری منصوبہ کے پہلے مرحلہ کا مقصد فصلوں کے تحفظ کے لیے سینچائی کی سہولیات فراہم کرانا تھا جبکہ دوسرے مرحلہ میں زراعت اور چراگاہوں کووسیع پیمانے پر آب پاشی کے لیے پانی مہیاکرانا تھا۔
(ii) عام طور پر ایسی فصلیں اگانی چاہئیں جنھیں زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں کو شجرکاری خصوصاً ترنجی پھلوں کی کاشت کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
(iii) کمان علاقہ ترقیاتی پروگرام(CAD)مثلاً نالیوں کے جال کو بچھانا، زمین کو ہموار کرنا، اور’’ ورابندی‘‘ نظام (کمان علاقہ میں نہر کے پانی کی مساوی تقسیم) کو مؤثر طورپر نافذ کرنا تاکہ بہاؤ کے دوران ہونے والے پانی کے نقصان کو کم کیا جاسکے۔
(iv) پانی بھراؤ اور کھارے پن سے متاثر علاقوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانا-
(v) ماحولیاتی ترقی کے لیے جنگل بانی، حفاظتی پٹی کی شجرکاری اور چراگاہوں کا فروغ کچھ ضروری اقدامات ہیں۔ ان اقدامات کی دوسرے مرحلہ کے نازک ماحول میں سخت ضرورت ہے۔
(vi) اس علاقے میں پائیدار سماجی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب معاشی طورپر  کمزور طبقہ کے لوگوں کو زراعت کے لیے مناسب معاشی امداد فراہم کی جائے۔
(vii) اس علاقہ میں پائیدار معاشی ترقی صرف زراعتی ترقی اور مویشی پالن کے ذریعہ حاصل نہیں کی جاسکتی۔ زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کو معیشت کے دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ فروغ دینا ہوگا۔ اس طریقہ کار پر عمل کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ معیشت میں تنوع پیداہوگا اور گاؤں، زراعت سے متعلق خدماتی مراکز اور بازار کے مابین ایک کاروباری تعلق قائم ہوگا۔
Mashq

مشقیں

.1     نیچے دئیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i)  علاقائی منصوبہ بندی کا تعلق :
(a) معیشت کے مختلف شعبوںکی ترقی سے ہے۔
(b) مخصوص علاقے کی ترقی کے نظریے سے ہے۔
(c) نقل و حمل کی سہولیات میں علاقائی فرق سے ہے۔
(d) دیہی علاقوں کی ترقی سے ہے۔
(ii)   ITDP) سے مراد 
(a) مجموعی ٹورسٹ ترقیاتی پروگرام ہے۔
(b) مجموعی ٹریول ترقیاتی پروگرام ہے۔
(c) مجموعی قبائلی ترقیاتی پروگرام ہے۔
(d) نقل وحمل ترقیاتی پروگرام ہے۔
(iii)   مندرجہ ذیل میں سے اندرگاندھی کمان علاقہ میں قابل گزراں ترقی کے لیے کون سا عمل سب سے اہم ہے؟
(a) زراعتی ترقی              (b)    ماحولیاتی ترقی
(c)   نقل وحمل کی ترقی         (d)   زمین کی نوآبادکاری
.2 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً 30الفاظ میں دیجیے۔
(i) بھارمور قبائلی علاقہ میں ITDPکے سماجی فائدے کیا ہیں؟
(ii) قابل گزراں ترقی کے نظریہ کی تعریف کیجیے۔
(iii) اندراگاندھی نہر کمان علاقہ میں آب پاشی کے کیا مثبت اثرات پڑے؟
.3 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً150الفاظ میں دیجیے۔ 
(i)قحط والے علاقوں اور زرعی آب و ہوا ئی منصوبہ بندی پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔اس نوعیت کے پروگرام ہندوستان میں خشک زراعت کی ترقی میں کس طرح مدگار ہیں۔
(ii) اندراگاندھی نہر کمان علاقہ میں قابل گزراں ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے کچھ اقدام تجویز کیجیے۔

پروجیکٹ

(i) اپنے علاقے میں چلائے جا رہے علاقائی ترقیاتی پروگراموں کے بارے معلوم کیجیے ۔ ان پروگراموں نے آپ کےعلاقہ میں سماج اور معیشت پر جو اثر ڈالا اس کا جائزہ لیجیے۔
(ii) آپ اپنے علاقے یا کسی ایسے علاقے کی نشاندہی کریں جہاں ماحول، سماج اور معیشت سے جڑے سنگین مسائل 
ہوں۔ اس علاقے کے وسائل کا تجزیہ کیجیے او ران کی ایک فہرست مرتب کیجیے اور اس علاقے کی قابل گزراں ترقی 
کے لیے مناسب اقدامات تجویز کیجیے۔ جیسا کہ اندراگاندھی نہر کمان علاقے کے لیے کیا گیا ہے۔