اکائی IV
باب 10
نقل وحمل اور مواصلات

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں مختلف اشیا کا استعمال کرتے ہیں ۔ ٹوتھ پیسٹ سے لے کرصبح کی چائے ، دودھ، کپڑے، صابن اور غذائی اشیا وغیرہ کی ہمیں روزانہ ضرورت پڑتی ہے،ان سب اشیاکو ہم بازار سے خرید سکتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ان اشیا کوان مقامات سے جہاں ان کو تیار کیا جاتا ہے کس طرح لایا جاتا ہے، تمام تیار شدہ اشیااستعمال کے لیے ہوتی ہیں ۔ کھیتوں اور کارخانوں کی سبھی تیار اشیا کو ان مقامات پر لایا جاتا ہے جہاں سے صارف انھیں خرید سکے۔ یہ نقل و حمل کے وسائل ہی ہیں جو ان چیزوں کو تیارہونے والے مقامات سے بازار تک پہنچاتے ہیں جہاں یہ صارفین کو آسانی سے حاصل ہوجاتی ہیں۔
ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں پھل، ساگ سبزیاں ، کتابیں اور کپڑاوغیرہ جیسی ضروری اشیاہی استعمال میں نہیں لاتے بلکہ خیالات، نظریات اور خبروں سے بھی مستفید ہوتے ہیں ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ مختلف ذرائع سے ہم اپنے خیالات ، نظریات اور خبریں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک یا ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچاتے ہیں؟
نقل و حمل اور مواصلات کا استعمال ایک چیز کی موجودگی والے مقام سے اس کے استعما ل والے مقام پر لانے لے جا نے کی ہماری ضرورت پر منحصر ہوتا ہے۔ انسان مختلف اشیا پیداوار اور خیالات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جانے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کرتا ہے۔
نقل وحمل کے اہم ذرائع کو نیچے کے ڈائی گرام میں بہتر طریقے سے ظاہر کیا گیا ہے:

نقل و حمل کے ذرائع
فضائی ، آبی، خشکی
قومی، پائپ لائن، سڑکیں
بین الاقوامی، ریلوے
بحری اور سمندری راستے، اندرونی
زمینی نقل وحمل (Land Transport)
ہندوستان میں زمانہ قدیم سے ہی نقل و حمل کے لیے ، کچی سڑکوں کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ معاشی اور صنعتی ترقی کے ساتھ بڑی مقدار میں سامان اور لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جانے کے لیے سڑکوں اور ریلوے لائن کی تعمیر کی گئی۔ روپ وے (Rope Way)،کیبل وے(Cable Way)اور پائپ لائنوں وغیرہ کی شروعات مخصوص اشیاکی منتقلی اور مخصوص حالات میں آمدورفت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کی گئی۔

سری نگر میں صبح کی بارش کے بعد موسمی ہجرت کرنے والوں کا قافلہ۔ جموں وکشمیرکے اوپری علاقوں میں بھاری برف باری اور میدانی علاقوں میں بارش کی وجہ سے 300 کلومیٹر لمبے جموں سری نگر راستہ اور 434کلومیٹر لمبے سری نگر لیح قومی شاہراہ کو آمدورفت کے لیے بند کرنا پڑا۔

شکل 10.1 دہلی میں ٹریفک کا ایک نظارہ
شکل10.1
سڑکیں (Roads)
ہندوستان میں سڑکوں کادوسراسب سے بڑا جال ہے۔ ہندوستان میں سڑکوں کی کل لمبائی 54.8 لاکھ کلو میٹر ہے (اقتصادی سروے2016-17)۔ہر سال ان سڑکوں کے ذریعہ 85فی صد مسافرو ں اور 70فی صد مال کا نقل وحمل کیا جاتا ہے۔ کم مسافت کا سفر سڑک کے راستہ سے نسبتاً آسان ہے۔
دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہندوستان میں نقل و حمل کے جدید ذرائع کا استعمال کافی محدود تھا ۔ اس جانب پہلی سنجیدہ کوشش 1943میں ’’ناگپورپلان‘ ‘ کی شکل میں کی گئی ۔ لیکن مقامی حکمرانوں اور انگریزوں کے آپسی اختلاف کی وجہ سے یہ پلان پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا ۔ آزادی کے بعد سڑکوں کی حالت درست کرنے کے لیے ایک بیس سالہ پروگرام (1961 میں) شروع کیا گیا۔ حالانکہ زیادہ تر سڑکوں کا ارتکاز شہروں اوران کے نواحی علاقوں تک ہی محدود رہا۔ دور دراز کے دیہی علاقوں کا بذریعہ سڑک تعلق نہیں کے برابر رہا ۔
تعمیر اور مرمت کی غرض سے سڑکوں کو قومی شاہراہ (NH)،ریاستی شاہراہ (SH)،ضلعی سڑکیں اور دیہی سڑکوں میں تقسیم کیا گیا۔
کیا آپ جانتے ہیں ؟
شیر شاہ سوری نے اپنے دور حکومت میں انتظامی معاملات کو مستحکم بنانے کی غرض سے سند ھ گھاٹی (پاکستان) سے بنگال کی سونار گھاٹی تک شاہی شاہراہ کی تعمیر کروائی ۔ کولکاتہ کو پشاور سے جوڑنے والی اس شاہراہ کو انگریزی حکومت نے گرانڈٹرنک (جی ۔ٹی ) روڈ کانام دیا۔موجودہ دور میں یہ امرتسر اور کولکاتہ کے درمیان واقع ہے۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قومی شاہراہ (1-NH)دہلی سے امرتسراور (ii)قومی شاہراہ 2-(NH)دہلی سے کولکاتہ تک۔
قومی شاہراہیں (National Highways)
وہ مخصوص سڑ کیں جن کی تعمیراور مرمت کی ذمہ داری مرکزی حکومت کی ہوتی ہے، قومی شاہراہیں کہلاتی ہیں ۔ ان سڑکوں کا استعمال ریاستوں کے مابین نقل و حمل ،دفاعی سامان اور فوجیوں کی نقل وحمل کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ قومی شاہراہیں ریاستوں کے صدر مقام ، خاص شہروں ، ہوائی اڈوں اور ریلوے جنکشن کو جوڑتی ہیں ۔1951میں قومی شا ہر اہوں کی کل لمبائی 19,700کلو میٹر تھی جوکہ 2015-016میں بڑھ کر100475کلو میٹرہوگئی۔ اگر چہ قومی شاہراہوں کی لمبائی ملک کی کل سڑکوں کی لمبائی کا تقریباً2فی صد ہے۔ لیکن بذریعہ سڑک آمدورفت میں اس کی حصہ داری تقریباً 40فی صد ہے۔
جدول 10.1: 2008-09 میں ہندوستان میں سڑکوں کا جال
| سلسلہ نمبر | سڑک کی قسم | لمبائی کلو میٹر میں |
| 1 2 3 4 |
قومی شاہراہیں ریاستی شایراہیں ضلعی سڑکیں دیہی سڑکیں |
101011 176166 561940 3935337 |
| کل | 47,74,454 |
ماخذ: وزاراتِ برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور ھائی ویز کی سالانہ رپورٹ،18-2017تازہ اعداد و شمار کے لیے دیکھیے ویب سائٹnorth.nic.in

ہندوستان میں قومی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری 1995میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI)کو دی گئی۔ یہ وزارت سطحی آمدورفت(Surface Transportation)کے تحت ایک خود مختار محکمہ ہے۔ قومی شاہراہوں کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اسی محکمہ کی ہے۔ اس کے علاوہ ان سڑکوں کی کوالٹی اور ڈیژائن کے معیار کوقائم رکھنے اور بہتر کرنے کی ذمہ داری بھی اسی محکمہ کی ہے۔
قومی شاہراہوں کے ترقیاتی پروجیکٹ
NHAIنے قومی شاہراہوں سے متعلق کچھ خاص پروجیکٹوں کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔
گولڈن کواڈری لیٹرل(Golden Quardrilateral) پروجیکٹ:
اس پروجیکٹ کے تحت ملک میں تقریباً 5,846کلو میٹر لمبی 4سے 6لین والی عمدہ قسم کی سڑکوں کی تعمیرکی جائے گی جوکہ ملک کے چار بڑے شہروں دہلی، ممبئی، چنئی اور کولکاتہ کو جوڑیں گی۔اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد ان چار بڑے شہروں کے درمیان آمدورفت میں لگنے والے وقت ، دوری اور خرچ میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔
شمال۔ جنوب اور مشرق ۔مغرب گلیارا:
شمال۔ جنوب گلیارا کا مقصد ریاست جموں وکشمیر کے سری نگر کو تمل ناڈو میں کنیا کماری کو براستہ کوچی -سیلم جوڑنا ہے۔ اس گلیارے کی کل لمبائی تقریباً 4,076کلو میٹر ہے۔ مشرق مغرب گلیارے کا مقصد آسام میں سلچر کو بندر گاہ کے شہر پور بندر سے جوڑنا ہے۔ اس کی مجوزہ لمبائی 3,640کلومیٹر ہے۔

شکل10.2:پردھان منتری سڑک یوجنا کے تحت سڑک کی تعمیر
ریاستی شاہراہیں (State Highways)
ان کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔ یہ شاہراہیں ریاستی راجدھانی کو اضلاع کے صدر مقام اور دیگر اہم شہروں سے جوڑتی ہیں ۔ یہ سڑکیں قومی شاہراہوں سے مل جاتی ہیں ۔ ملک میں سڑکوں کی کل لمبائی میں ان کی حصہ داری4فی صد ہے۔
ضلعی سڑکیں (District Roads)
یہ سڑکیں ضلع کے صدر مقام کو ضلع کے شہروں قصبوں اور اہم مقامات کو جوڑتی ہیں ۔ ملک میں سڑکوں کی کل لمبائی میں ان کی حصہ داری 14 فی صد ہے۔
دیہی سڑکیں(Rural Roads)
یہ سڑکیں دیہی علاقوں کو آپس میں جوڑنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہندوستان میں سڑکوں کی کل لمبائی کا تقریباً 80 فی صد دیہی سڑکوں کا ہے۔ چونکہ دیہی سڑکیں علاقے کی ارضیاتی ساخت سے متاثر ہوتی ہیں اس وجہ سے دیہی سڑکوں کی کثافت میں علاقائی تغیر پایا جاتاہے۔
پہاڑی ،پٹھاری اور جنگلی علاقوں میں دیہی سڑکوں کی کثافت بہت کم کیوں ہے؟شہری مراکز سے دوری بڑھنے کے ساتھ دیہی سڑکوں کی کوالٹی میں گراوٹ کیوں ہونے لگتی ہے؟
دیگر سڑکیں (Other Roads)
دیگر سڑکوں میں سرحدی سڑکیں اور بین الاقوامی سڑکیں شامل ہیں ۔ ملک کے شمالی اورشمال مشرق سرحدی علاقوں میں معاشی ترقی لانے اوردفاعی نظام کومضبوط کرنے کے مقصد سے 1960میں بارڈر روڈ آرگنائزیشن (BRO) وجود میں آیا۔ یہ ایک کثیر المقاصد تعمیراتی ایجنسی ہے۔ اس تنظیم نے ملک کے پہاڑی اور ناہموار علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کی ہے۔پہاڑی علاقوں کو چنڈی گڑھ اور منالی (ہماچل پردیش) اورلیہہ (لداخ)کو جوڑنے والی سڑک کی تعمیر کی گئی۔یہ سڑک سطح سمندر سے تقریباً 4,270میٹر کی اونچائی پر بنائی گئی ہے۔
دفاعی اہمیت کے حامل اور حساس علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کے علاوہ BROاونچائی والے علاقوں میں برف کی صفائی کے کام کو بھی انجام دیتا ہے۔ بین الاقوامی شاہراہوں کا مقصد پڑوسی ممالک سے باہمی تعلق کو مضبوط کرنابھی ہے (شکل 10.5اور 10.6)-

شکل10.4:جموں اور کشمیر میں کھرڈنگ لا پاس
ملک میں سڑکوں کی تقسیم غیر مساوی ہے۔سڑکوں کی کثافت (فی100مربع کلو میٹر رقبہ میں سڑکوں کی کل لمبائی ) میں کافی تغیر پایا جاتا ہے۔ اگر چہ ملک میں کثافت کا اوسط 142.68کلو میٹر ہے لیکن 2011میںجموںوکشمیر میں صرف 12.14کلو میٹر اور کیرالا میں 517.77کلو میٹر ہے۔ زیادہ تر شمالی ریاستوں اور کچھ جنوبی ریاستوں میں سڑکوں کی کثافت زیادہ ہے۔ جبکہ ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں شمال مشرقی علاقوں، مدھیہ پردیش اورراجستھان میں سڑکوں کی کثافت کافی کم ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کسی علاقے کی ارضیاتی ساخت اور معاشی ترقی اس علاقے میں سڑکوں کی کثافت کا تعین کرتے ہیں ۔ میدانی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر آسان اورسستی جبکہ پہاڑی اور پٹھاری علاقوں میں دشوار اور مہنگی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے میدانی علاقوں میں نہ کہ صرف سڑکوں کی کثافت بلکہ کوالٹی بھی پہاڑی، برساتی اور جنگلی علاقوں کے مقابلے بہتر ہوتی ہے۔

سر گرمی
قومی شاہراہ 1-(NH)اور قومی شاہراہ2-(NH)پر واقع 10اہم شہروں کے ناموں کی ایک فہرست تیارکیجیے۔
ہندوستان کی سب سے لمبی قومی شاہراہ کا نام بتائیے۔
جنوبی ہندوستان میں بنگلورواور حیدرآباداور شمالی ہندوستان میں دہلی، کانپور اور پٹنہ اہم مراکز کے طور پرکیوں اُبھرے؟
کیا آپ جانتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں
بھارت مالا درج ذیل کے لیے ایک مجوزہ وسیع اسکیم ہے:
(i) ساحلی علاقوں /سرحدی علاقوں سمیت ریاستی سڑکوں کی ترقی جس میں غیراہم بندرگاہوں سے رابطہ بھی شامل ہے؛ (ii) پچھڑے مذہبی سیاحت کے مقامات سے رابطہ پروگرام ؛ (iii)سیتوبھارتم پری یوجنا جس کوتقریباً 1500بڑے پل اور 200ریل اوربرج/ریل انڈربرج بنانے ہیں؛ (iv) تقریباً 9000کلومیٹر کی نئی شاہراہوں کی ترقی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر رابطہ اسکیم ۔
اس پروگرام کی تکمیل کا نشانہ 2022تک ہے۔
ماخذ: اقتصادی سروے،2015-16صفحہ146
ریلوے(Rail Transport)
ہندوستان کا ریلوے جال دنیا کے سب سے لمبے ریل جالوں میں سے ایک ہے۔ یہ مال کی ڈھلائی اور مسافروں کو آمدورفت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ملک کی معاشی ترقی میں ایک اہم کردار اداکرتی ہے۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا ’’ہندوستانی ریلوے نے مختلف تہذیب کے لوگوں کو ایک ساتھ لاکر ہندوستان کی جنگ آزادی میں اپنا کردار بخوبی ادا کیا ‘‘-
ہندوستان میں ریلوے کاآغاز 1853میں ہوا تھا جب بمبئی سے تھانے کے درمیان 34کلو میٹر لمبی ریلوے لائن کی تعمیر کی گئی۔
ملک میں ہندوستانی ریلوے، مرکزی حکومت کا سب سے بڑاادارہ ہے۔31 مارچ 2015 تک ریلو ے لائنوں کی کل لمبائی 66030 کلومیٹر تھی۔ ہندوستانی ریلوے کی وسعت اور مرکزیت کی وجہ سے اس کے نظام پر کافی دباؤہے۔ہندوستانی ریلوے کو بہتر طورپر چلانے کے لیے اسے 16خطوں (Zone) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جدول 10.3ہندوستانی ریلوے کے زون کی کارگزاری کو ظاہر کرتا ہے۔
جدول10.2ہندوستانی ریلوے کے ذریعہ مال کی ڈھلائی(ملین ٹن میں ) اور مسافروں کی تعداد(10لاکھ میں ) کا اشاریہ
| اشیا | 2014-15 | 2014-15 (عارضی) |
| کوئلہ خام مال فولاد کے کارخانے کے لیے خام لوہا اور تیار فولاد خام لوہا سیمنٹ غذائی اشیا کیمیائی کھاد پیٹرولیم دیگر اشیا |
47.9 16.1 6.2 9.8 11 15.1 4.7 8.9 48.2 |
545.8 18.3 42.8 112.8 109.8 55.5 47.4 41.1 121.8 |
| کل ٹریفک | 167.9 | 1095.2 |
| مسافر | 2431 | 8224 |
| ریلوے زون | ہیڈ کوارٹرس |
| سینٹرل ایسٹرن ایسٹ سینٹرل ایسٹ کوسٹ ناردن نارتھ سینٹرل نارتھ ایسٹرن نارتھ ایسٹ فرنٹیئر نارتھ ویسٹرن سدرن ساؤتھ سینٹرل ساؤتھ ایسٹرن ساؤتھ ایسٹ سینٹرل ساؤتھ ویسٹرن ویسٹرن ویسٹ سینٹرل |
ممبئی سی ایس ٹی کولکاتہ حاجی پور بھو نیشور نئی دہلی الہ آباد گورکھ پور مالگاؤں(گوہاٹی) جے پور چنئی سکندر آباد کولکاتہ بلاسپور ہبلی ممبئی(چرچ گیٹ) جبل پور |
جدول10.3:ہندوستانی ریل
ریلوے زون اور ہیڈ کوارٹرس
کیا آپ جانتے ہیں ؟
ریلوے لائن کی چوڑائی کی بنیاد پر ہندوستانی ریلوے کو تین درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔
بڑی لائن: (Broad Gauge)
بڑی لائن میں پٹریوں کے بیچ کی دوری 1.676میٹر ہوتی ہے۔ بڑی لائن کی کل لمبائی مارچ 2016 میں60510 کلو میٹر تھی ۔
چھوٹی لا ئن :(Meter Gauge)
اس میں ریل پٹریوں کے بیچ کی دوری ایک میٹر ہوتی ہے۔ مارچ 2016میں اس کی کل لمبائی 3880کلو میٹر تھی۔
تنگ لائن: (Narrow Gauge)
اس میں ریل پٹریوں کے درمیان کی دوری 0.762میٹر یا 0.610میٹر ہو تی ہے۔ مارچ 2016میں اس کی کل لمبائی 2297کلو میٹر ہے۔ اس طرح کی لائن عموماًپہاڑی علاقوں تک محدود ہے ۔
ہندوستانی ریلوے نے چھوٹی لائن اور تنگ لائن کو بڑی لائن میں تبدیل کرنے کا پروگرام وسیع پیمانے پر شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھاپ سے چلنے والے انجنوں کی جگہ پر ڈیزل اور بجلی کے انجنوں کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ کے اس فیصلے سے رفتار میں اضافہ کے ساتھ ہی مال کی ڈھلائی کی صلاحیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
کوئلے سے چلنے والے انجنوں کے ہٹنے کے بعد ریلوے اسٹیشنوں کے ماحول میں بھی بہتری ہوئی۔
میٹرو ریل نے کولکاتہ اور دہلی میں شہری نقل و حمل میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ ڈیزل سے چلنے والی بسوں کے بجائے سی۔این۔ جی ، سے چلنے والی موٹرگاڑیوں کے ساتھ ساتھ میٹروریل نے شہروںمیں ہوائی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں کافی مد دکی ہے۔
انگریزوں کے دور حکومت میں ہی شہری علاقے، خام مال ، اشیا پیدا کرنے والے علاقے ، باغات، پہاڑی آرام گاہیں ، فوجی چھاونیاں وغیرہ ریل راستوں سے اچھی طرح جڑے ہوئے تھے۔ ان ریل راستوں کی تعمیر مقامی وسائل کے بہتراستعمال کے لیے کی گئی تھی۔ ملک کی آزادی کے بعد ان راستوں کی توسیع ملک کے دیگر علاقوں میں بھی کی گئی۔ان میں کونکن ریلوے کی تعمیر قابل ذکر ہے۔ کونکن ریلوے ہندوستان کے مغربی ساحل پر ممبئی اور منگلور کے درمیان آمدورفت کا بہترین ذریعہ ہے۔
آمدورفت کے لیے آج بھی ریلوں کو دوسرے ذرائع کے مقابلے میں فوقیت ہے۔ملک کے پہاڑی علاقوں، شمال مشرقی ریاستوں، وسطی ہندوستان اور راجستھان میں ریلوے لائنوں کی کثافت نسبتاً کم ہے۔
کونکن ریلوے (Konkan Railway)
1998میں کونکن ریلوے کی تعمیر ہندوستان کی ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ760کلو میٹر ریلوے لائن مہاراشٹر امیں روہاکوکرناٹک کے منگلور سے جوڑتی ہے۔ اِسے انجینئرنگ کی مثال مانا جاتا ہے۔ یہ ریلوے لائن 146ندیوں 2000پلوں اور 91 سرنگوں کو پار کرتی ہے۔ اس کے راستے میں ایشیا کی سب سے لمبی سرنگ جس کی لمبائی 6.5کلو میٹر ہے آتی ہے۔ اس پروجیکٹ میں کرناٹک، گوا اور مہاراشٹرا کی حکومتوں کی حصہ داری ہے۔
آبی نقل وحمل (Water Transport)
ہندوستان میں آبی راستے مسافروں کی آمدورفت اور مال کی ڈھلائی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ آمدورفت کا سب سے سستا اور بھاری سامان کی ڈھلائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں ایندھن کا استعمال بہتر طور پر ہونے کے علاوہ ماحول کو کم نقصان پہنچاتا ہے۔ آبی نقل و حمل دو طرح کے ہوتے ہیں : (a) اندرون ملک آبی راستے (b) بحری راستے
اندرون ملک آبی راستے(Inland Waterways)
ریلوے کی آمد سے پہلے آبی راستے آمدورفت کا اہم ذریعہ تھے حالانکہ اِسے ریل اور سڑک راستوں سے سخت مقابلہ کرناپڑتا تھا۔ اس کے علاوہ دریاؤں کے پانی کو آب پاشی کے لیے استعمال کرنے کی وجہ سے آبی راستوں کا ایک بڑاحصہ کشتی رانی /جہاز رانی کے لیے لائق نہیں رہ گیا ہے۔ہندوستان کے اندرون ملک آبی راستوں میں سے تقریباً14,500کلو میٹر آبی راستہ ہی جہاز رانی کے قابل ہے۔ ان راستوں کے ذریعہ ملک کا ایک فی صد سے کم نقل وحمل ہوتا ہے۔ ان راستوں میں ندیاں، نہریں، بندپانی وغیرہ شامل ہیں ۔ موجودہ وقت میں اہم ندیوں کا تقریباً5,685کلو میٹر حصّہ ہی جہازرانی کے قابل ہے جس میں موٹر بوٹ کا استعمال کیاجاسکتاہے۔

شکل10.7:شمال۔مشرق میں کشتی رانی
ملک کے آبی راستوں کی ترقی ودیکھ بھال اور نظم کے واسطے 1986 میں ان لینڈ واٹروے اتھارٹی(Inland Waterways Authority)کاقیام ہوا۔اس اتھارٹی نے تین اندرون ملک آبی راستوں کو قومی آبی شاہراہوں کے طور پر تسلیم کیا جیسا کہ جدول 10.4سے ظاہر ہے۔
اندرون ملک آبی راستہ اتھارٹی (Inland Waterways Authority) نے 10دیگرایسے آبی راستوں کی نشاندہی کی ہے جنھیں بہتر بنایا جاسکتا ہے۔کیرالہ کے بند پانی (کدال) کا اندرون ملک آبی راستوں میں اپنا ایک مقام ہے۔یہ آمدرورفت کا سستا ذریعہ ہونے کے ساتھ۔ساتھ کیرالہ میں بڑی تعداد میں سیاحوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔یہاں کی مشہور نہرو کشتی رانی ٹرافی (ولآم کالی) بھی اسی بند پانی میں منعقد کی جاتی ہے۔
بحری راستے (Oceanic Routes)
ہندوستان کا سمندری ساحل مع جزائر کے تقریباً 7,517 کلومیٹر لمبا ہے۔12 بڑی اور 185 چھوٹی بندرگاہیں ہیں جو سمندری راستوں کو انفراسٹرکچرل سہولیات مہیا کراتی ہیں۔بحری راستے ہندوستان کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ہندوستان کی بین الاقوامی تجارت کا بڑا حصہ (95 فی صد وزن اور 70 فی صد قیمت کے اعتبار سے) انھیں بحری راستوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ساتھ ان آبی راستوں کا استعمال ملک کے اندرونی خطوں اور جزائر کے درمیان آمدورفت کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

شکل10.8:قومی آبی راستہ نمبر3
جدول10.4:ہندوستان کی قومی آبی راہیں
| آبی شاہراہیں | وسعت | وضاحت |
| قومی آبی شاہراہ۔ 1 | الہ آباد۔ ہلدیہ (1620 کلو میٹر) |
یہ ہنودتان کے اہم ترین آبی راستوں میں سے ایک ہے جو کہ موٹر۔ بوٹ کے ذریعہ پٹنہ تک اور عام کشتیوں کے ذریعہ ہری دوار تک کشتی رانی کے لائق ہے ۔ یہ آبی راستہ ترقیاتی مقاصد کے تحت تین حصوں کی تقسیم کیا گیا ہے۔ (i) ہلدیہ ۔ فرکّا (560 کلو میٹر)(ii) فرکا۔ پٹنہ(460کلو میٹر) (iii) پٹنہ۔ الہ آباد (600کلو میٹر) |
| قومی آبی شاہراہ۔2 (NW2) |
سادیا۔ دھبری (891 کلو میٹر) |
برہم پترا ندی بذریعہ اسٹیمر ڈبرو گڑھ تک کشتی رانی کے قابل ہے ۔ جس کا استعمال ہندوستان اور بنگلہ دیش مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ |
| قومی آبی شاہراہ۔3 (NW3) |
کوٹا پرم۔ کولم (205کلو میٹر) |
اس کے تحت مغربی ساحل نہر (168کلو میٹر) کے ساتھ چمپا کارا (14کلو میٹر) اور اڈگ منڈل (23کلو میٹر) نہریں آتی ہیں۔ |
| قومی آبی شاہراہ۔4 (NW4) |
ککنڈراپڈیچیری نہروں کی وسعت کے ساتھ گوداوری اور کرشنا ندیوں کی مخصوص وسعت۔ | |
| قومی آبی شاہراہ۔5 (NW5) |
متائی ندی کے ساتھ برہمی ندی، مہا ندی اور برہمی ندیوں کے ڈیلٹا چینلز اور مشرقی ساحلی نہروں کے مخصوص وسعت والے علاقے(588کلو میٹر) |

فضائی نقل وحمل (Air Transportation)
فضائی نقل وحمل آمدورفت کا سب سے تیز ذریعہ ہے۔اس نے مسافت کے وقت کو کافی کم کردیا۔یہ ہندوستان جیسے ملک کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ یہاں دوریا ں بہت زیادہ ہیں اور ارضیات اورا ٓب وہوا میں کافی تنوع ہے۔
ہندوستان میں فضائی نقل وحمل کی شروعات 1911میں ہوئی جب الہ آباد سے نینی تک کی 10کلو میٹرکی دوری کے لیے ہوائی ڈاک کی خدمات مہیا کی گئیں ۔لیکن صحیح معنوں میں اس کی ترقی آزادی کے بعد ہوئی۔ہندوستان کے فضائی علاقے میں محفوظ، اثر آفریں اور فضائی مواصلات کی خدمات مہیا کرانے کی ذمّہ داری ایرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کی ہے۔یہ اتھارٹی 125 ہوائی اڈّوں کا انتظام سنبھالتی ہے۔
ہندوستان میں ہوائی نقل وحمل دو اداروں کے ذمّہ ہے۔ائیرانڈیا اور انڈین ایئرلائنس۔اب کئی پرائیویٹ کمپنیاں بھی اپنی خدمات مہیاکر رہی ہیں۔
ائیرانڈیا(Air India)
ائیرانڈیامسافروں کی آمدورفت اورمال برادری کے لیے بین الاقوامی خدمات مہیاکراتا ہے۔یہ اپنی خدمات کے ذریعہ دنیا کے سبھی براعظموں کو جوڑتا ہے۔کچھ نجی کمپنیوں نے بھی غیر ملکوں کے لیے اپنی اپنی خدمات شروع کی ہیں۔
ملک کی سب سے بڑی گھریلو سرکاری ہوائی کمپنی انڈین ائرلائنس نے اپنے نام سے لفظ ائیرلائنس ہٹادیا اور 8 دسمبر2005 سے ’’انڈین‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔یہ نیا نام ’’انڈین‘‘ ہوائی جہاز کے دونوں طرف لکھا ہوا ہے۔ ہوائی جہاز کی نارنگی رنگ کی پونچھ پر بنا (1A) کا نشان بھی بدل دیا گیا۔اب اس کی جگہ پرنیا نشان بنا دیا گیا ہے، جو کہ جزوی مرئی نیلے دائرے کی شکل میں ہے اور جس پر کونارک (اُڈیشہ) کا سورج مندر نقش ہے۔یہ نشان وقت کے ساتھ حرکت، میلان اور اختلاف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ نشان مضبوطی کے ساتھ ساتھ وقت پر کھرا اترنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
انڈین ائیرلائنس کی تاریخ(History of Indian Airlines)
1911 --ہندوستان میں ہوائی نقل وحمل کی شروعات الہ آباد اور نینی کے درمیان ہوئی۔
1947 --ہوائی خدمات خصوصاً 4کمپنیاں ۔انڈین نیشنل ائیرویز، ٹاٹا سنس لمیٹیڈائیرسروسیزآف انڈیا اور دکن ائیرویز مہیا کراتی تھیں۔
1951 --چار اور کمپنیاں، بھارت ایرویز، ہمالین ایویشن لمیٹیڈ، ایرویزانڈیا، اور کلنگا ایرلائنس اس زمرہ میں شامل ہوگئیں۔
1953 --نقل وحمل کو قومی ملکیت میں شامل کرکے دواِداروں ائیرانڈیاانٹرنیشنل اور انڈین ائیرلائنس کی تشکیل کی گئی۔ اب انڈین ایئرلائنس کو ’انڈین ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

2010 میں گھریلو نقل وحمل کے تحت520.21لاکھ مسافر اور تقریباً23لاکھ ٹن مال شامل تھا۔
پون ہنس ایک ہیلی کاپٹر سروس ہے جو کہ پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات مہیا کرتی ہے۔شمال مشرقی خطہ میں سیاح اس کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ پون ہنس لمیٹیڈپٹرولیم اور سیاحت کے شعبہ کو بھی خصوصی خدمات مہیا کرتا ہے۔
کھلی فضا پالیسی
(Open Sky Policy)
ہندوستانی برآمدکنندگان کی مددکرنے اور ان کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت ہند نے اپریل 1992میں (cargo) مال کی ڈھلائی کے لیے ایک کھلی آسمان پالیسی کی شروعات کی۔اس پالیسی کے تحت غیرملکی ایئرلائنس یا درآمد کنندگان کی تنظیم کا کوئی بھی مال بردار جہازملک میں لاسکتا ہے۔
تیل اور گیس پائپ لائن
(Oil and Gas Pipelines)
گیس اور سیّال مادوں کو لمبی دوری تک پہنچانے کے لیے پائپ لائن نہایت موزوں اور اثرآفرین ذریعہ ہیں۔یہاں تک کہ ٹھوس مادّوں کو رقیق میں تبدیل کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔وزارت تیل اور گیس کے زیرکنٹرول آئل انڈیا لمیٹیڈ (او۔آئی۔ایل) خام تیل اور قدرتی گیس کی تلاش وپیداوار اور نقل و حمل میں مصروف ہے۔اسے 1959 میں ایک کمپنی کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ ایشیاکی پہلی 1157 کلومیٹر لمبی پائپ لائن (آسام کے نہرکٹیاکے تیل پیدا کرنے والے علاقے سے بہار میں برونی تیل صاف کرنے والے کارخانے تک) کی تعمیر او۔آئی۔ایل نے کی تھی۔اس پائپ لائن کی 1966 میں کانپور تک توسیع کردی گئی۔ہندوستان کے مغربی علاقے میں پائپ لائنوں کی وسیع پیمانے پر تعمیر کی گئی۔اس سلسلے میں انکلیشور۔کویالی، ممبئی ہائی، کویالی، اور ہیزا۔ وجے پور، جگدیش پور (ایچ۔وی۔جے) پائپ لائن اہم ہیں۔حال ہی میں سلایا (گجرات) کو متھرا (اترپردیش) سے جوڑنے والی ایک 1256 کلومیٹر لمبی پائپ لائن کی تعمیر کی گئی۔ یہ پائپ لائن گجرات سے پنجاب (جالندھر) براستہ متھرا خام تیل سپلائی کرتی ہے۔ او۔آئی۔ایل ، نمالی گڑھ سے سلی گڑی تک660 کلو میٹر لمبی پائپ لائن کی تعمیر میں مصروف ہے۔
مواصلاتی نظام(Communication Networks)
انسان نے رسل وسائل کے مختلف طریقے ایجاد کیے ہیں۔شروعاتی دور میں ڈھول پاپیڑ کے کھوکھلے تنے کو بجاکر ، آگ یا دھوئیں کے اشارے سے، یاتیز دوڑنے والوں کی مدد سے پیغام پہنچائے جاتے تھے۔اس دور میں گھوڑے، اونٹ، کتے، چڑیاں اوردیگر جانوروں کو بھی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔شروع میں رسل ورسائل کے ذرائع ہی آمدورفت کے ذرائع بھی ہوتے تھے۔ڈاک خانوں، ٹیلی گرام، چھپائی کے کارخانوں، ٹیلیفون، اور مصنوعی سیاروں کی ایجاد نے مواصلات کو تیزاور آسان بنا دیا۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی نے مواصلاتی نظام کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
پیغام رسانی کے لیے لوگ مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مرتبہ اور معیارکی بنیاد پر مواصلاتی طریقہ کار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
مواصلاتی ذرائع
عوامی ریڈیو، ٹیلی ویژن، سینما،مصنوعی سیارے، اخبار ومیگزین اور کتابیں ، عوامی جلسے، سیمینار اور کانفرنس وغیرہ
نجی؍ ذاتی خط وکتابت ،ٹیلیفون
ٹیلی گر ام، فیکس، ای۔میل، انٹرنیٹ وغیرہ

نجی مواصلاتی نظام
(Personal Communication System)
تمام نجی مواصلاتی ذرائع میں انٹرنیٹ جدید تیرین اور سب سے زیادہ با اثر ہے۔ شہری علاقوں میں یہ بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔یہ ای۔میل کے ذریعہ اطلاعات اور معلومات کی رسائی میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ای۔کامرس اورمالی لین دین میں اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ انٹرنیٹ مختلف معاملات پر تفصیلی معلومات فراہم کرنے میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔انٹرنیٹ اور ای۔میل نسبتاً کم لاگت پر ایک پراثر اطلاعاتی نظام فراہم کرتے ہیں۔ اس نظام نے ہمیں سیدھے طورپر مواصلات کی سہولیات مہیا کی ہے۔آپ نے اپنے شہری علاقوں میں سائبرکیفے کے بڑھتے رجحان کو دیکھا ہی ہوگا۔
عوامی مواصلاتی نظام:
(Mass Communication System)
ریڈیو(Radio)
ہندوستان میں ریڈیو کی شروعات 1923 میں ریڈیو کلب آف انڈیا نے کی تھی۔اس وقت اس نے غیرمعمولی شہرت حاصل کی اور لوگوں کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں آئی نمایاں تبدیلی کے لیے ذمہ دار ہے۔بہت کم عرصہ میں اس نے ملک کے تقریباً ہر گھر میں اپنی جگہ بنالی تھی۔حکومت نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور 1930 میں انڈین براڈکا سٹنگ سسٹم کے تحت اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔1936 میں اسے آل انڈیا ریڈیو اور 1957 میں آکاش واڑی میں تبدیل کردیا گیا۔
آل انڈیا ریڈیو ،معلومات، تعلیم اور تفریح سے متعلق متعدد پروگرام نشرکرتا ہے۔اس کے علاوہ مخصوص مواقع جیسے پارلیمنٹ اور ریاستی وِدھان سبھاؤں کے اجلاس کے دوران خاص خبرنامہ نشرکرتا ہے۔
ٹیلی ویژنTelevision (T.V.)
اطلاعات کی نشرواشاعت اور عام لوگوں کو معلومات فراہم کرنے میں ٹیلی ویژن ایک جدید اور بااثر ذریعہ کے طور پر ابھرا ہے۔شروعاتی دور میں ٹیلی ویژن کی خدمات صرف قومی راجدھانی تک ہی محدود تھیں جہاں اسے 1959 میں شروع کیا گیا تھا۔1972 کے بعد کئی اور مراکز شروع کیے گئے۔1976 میں ٹی۔وی کو آل انڈیا ریڈیو(اے۔آئی۔آر) سے الگ کردیا گیا اور اسے دوردرشن (ڈی ۔ڈی) کے طور پر نئی پہچان دی گئی۔انسٹI ۔اے (INSAT-IA) کو خلا میں بھیجنے کے بعد (قومی ٹیلی ویژن ڈی۔ڈی۔I) کی شروعات ہوگئی۔ تمام مراکز کے لیے مشترکہ قومی
پروگراموں (کامن نیشنل پروگرام، سی۔این۔پی) کی شروعات کی گئی اور اس کی ملک کے پچھڑے اور دودراز علاقوں تک توسیع کی گئی۔
مواصلاتی سیارے (Satellite Communication)
مصنوعی سیارے اپنے آپ میں مواصلات کا ایک ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے مواصلاتی ذرائع کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔مصنوعی سیاروں کے استعمال سے زمین کے ایک بڑے حصے کا اجمالی خاکہ مسلسل طور پر ملتا رہتا ہے جو کہ ملک کے معاشی اور دفاعی نظام کے لیے اشد ضروری ہے۔مصنوعی سیاروں سے حاصل تصویروں کااستعمال موسمی پیشن گوئی ، قدرتی آفات اور سرحدی علاقوں کی نگرانی وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔
مصنوعی سیاروں کی تکنیکی اورمقصد کی بنیاد پر ہندوستانی مصنوعی سیاروں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: (i)انڈین نیشنل سٹیلائٹ سسٹم (INSAT) اور (ii) انڈین رِیموٹ سنسنگ سیٹیلائٹ سسٹم (IRS)۔
INSAT ایک کثیرالمقاصد مصنوعی سیارہ ہے جسے 1983میں خلا میں قائم کیا گیا تھا۔اس کا استعمال ٹیلی مواصلات، موسمیات کا مشاہدہ کرنے اور متعدد دیگر اعداد وشمار اکٹھاکرنے اور پروگراموں کے لیے کیا جاتا ہے۔
IRS مصنوعی سیارہ نظام کی ابتدا مارچ 1988 میں ہوئی جب روس کے بیکانور سے IRS-IA کو خلا میں بھیجا گیا۔ہندوستان نے بھی اپنی خود کا لانچ وہیکل، پولرسیٹیلائٹ لا نچ ویہیکل (پی۔ایس۔ایل۔وی) تیار کر لیا ہے۔یہ مصنوعی سیاّرے مختلف اسپکٹرل بنڈ میں معلومات اکٹھا کرتے ہیں۔ حیدرآباد میں مقیم نیشنل ریموٹ سنسنگ ایجنسی (NRSA) مصنوعی سیاروں کے ذریعے بھیجی گئی معلومات کو حاصل کرتی ہے۔مصنوعی سیارے قدرتی وسائل کے تحفظ اور نظام کے لیے بہت ہی فائدے مند ثابت ہوئے ہیں۔

مشقیں
1 . نیچے دئیے گئے چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) ہندوستانی ریلوے کو کتنے خطوں(زون) میں تقسیم کیا گیا ہے؟
(a) 9 (b) 16
(c) 12 (d) 14
(ii) ذیل میں سے ہندوستان کی سب سے لمبی شاہراہ کون سی ہے؟
(a) این ۔ایچ1- (b) این۔ ایچ7-
(c) این۔ ایچ 6- (d) این۔ ایچ 8-
(iii) قومی آبی شاہراہ نمبر1کس ندی پر اور کن دو مقامات کے درمیان ہے؟
(a) برہمپترا، سادیہ دُھبری (b) مغربی ساحلی نہر، کوٹا پورم سے کوالم
(c) گنگا، ہلدیا سے الہ آباد
(iv) پہلا ریڈیو پروگرام کب نشر ہوا؟
(a) 1911 (b) 1927
(c) 1936 (d) 1923
.2 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً 30الفاظ میں لکھیے۔
(i) نقل وحمل کس طرح کی سرگرمیوں کو ظاہر کرتاہے؟ نقل و حمل کے تین اہم ذرائع کون سے ہیں؟
(ii) پائپ لائنوں کے ذریعہ نقل وحمل سے ہونے والے فائدے اور نقصانات کا تذکرہ کیجیے۔
(iii) مواصلات سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(iv) ہندوستان کے فضائی نقل وحمل میں ’’ایرانڈیا‘‘ اور ’’انڈین‘‘ کی اہمیت پر بحث کیجیے۔