Skip to content
Awamaurmaishat-011

اکائی  IV 

باب 11 

بین الاقوامی تجارت

(INTERNATIONAL TRADE)

1
آپ بین الاقوامی تجارت کے مختلف پہلووں کے بارے میں اپنی کتاب  ’’ انسانی جغرافیہ کے مبادیات ‘‘ میں پڑھ چکے ہوں گے۔ بین الاقوامی تجارت تمام ممالک کے لیے باہمی طورپر فائدہ مند ہے کیونکہ کوئی بھی ملک خود کفیل نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان کی بین الا قوامی تجارت کی مقدار ،ساخت اور سمت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اگرچہ مقدار کے لحاظ سے بین الا قوامی تجارت میں ہندوستان کا حصہ ایک فی صد سے بھی کم ہے پھر بھی عالمی معیشت میں ہندوستان کا اہم مقام ہے۔
آئیے ہندوستان کی بین الا قوامی تجارت کی بدلتی ترتیب کا  جائزہ لیں۔1950-51میں ہندوستان کی بیرونی تجارت کی کل مالیت 1,214کروڑروپیہ تھی جو کہ سال 2009-10میں بڑھ کر2209270 کروڑ روپیہ ہوگئی ۔کیا آپ1950-51سے 2009-10تک کی فی صدافزائش کا اندازہ کر سکتے ہیں؟ بیرونی تجارت میں افزائش کی کئی وجوہات ہیں مثلاً اشیا ساز سیکڑ میں تند رفتاری، حکومت کی نرم کاری کی پالیسی اور بازاروں کا تنوع وغیرہ۔
 وقت کے ساتھ ہندوستان کی بیرونی تجارت کی شکل میں تبدیلی آئی  ہے( جدول 11.1) ۔ اگر چہ درآمدات اور برآمدات کی کل مقدار میں اضافہ ہوا ہے لیکن درآمدات کی مقدار بر آمدات کی مقدار سے زیادہ ہی رہی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں تجارتی نقصان میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ تجارتی نقصان کے لیے خام تیل کو کافی حد تک ذمہ دار مانا جاسکتا ہے جو کہ ہندوستان کی درآمدات میں سر فہرست ہے۔

ہندوستانی برآمدات کی ساخت کی ترتیب میں تبدیلی  

2



سال برآمدات درآمدت تجارتی نقصان
2004-05
2009-10
2013-14
2016-17
3,75,340
8,45,534
19,05,011
18,52,340
5,01,065
13,63,736
27,15,434
25,77,422
1,25,725-
5,18,202-
8,10,423-
7,25,082-

                                 جدول11.1:ہندوستان کی غیر ملکی تجارت(کروڑ روپیے میں )

3

sargarmi سر گرمی


جدول میں دی گئی سبھی قسم کی اشیا کی برآمدات کو ایک بار ڈائی گرام کے ذریعہ دکھائیے ۔ اس کے لیے مختلف رنگوں کے قلم یا پینسل کا استعمال کیجیے۔



جدول11.2:ہندوستان کی بر آمدات کی ساخت2017-2009
(بر آمدات میں فی صد حصہ) 
اشیا 2009-10 2010-11 2015-16 2016-17
زراعتی اور متعلقہ مصنوعات
خام معدنیات
صنعتی اشیا
خام تیل اور پٹرولیم
دیگر مصنوعات
10.0
4.9
67.4
16.2
1.5
9.9
4.0
68.0
16.8
1.2
12.6
1.6
72.9
11.9
1.1
12.3
1.9
73.6
11.7
0.5
4
جیسا کہ پہلے تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ ہندوستان کی بین الاقوامی تجارت میں وقت گزرنے کے ساتھ اشیا کی اقسام میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ بین الاقوامی تجارت میں زراعت اور متعلقہ مصنوعات کا حصہ کم ہوا ہے جبکہ پیڑولیم اور خام اشیا اور دیگرمصنوعات کے حصہ میں اضافہ ہوا ہے۔ خام معدنیات اور مصنوعات کے حصے میں2009-10سے 2010-11 اور2015-16سے2016-17کے درمیان ایک ٹھہراؤ رہا۔
روایتی اشیا کی تجارت میں گراوٹ کی وجہ خصوصاً سخت بین الا قوامی مقابلہ ہے۔ زرعی پیداوار کے تحت کافی وغیرہ جیسی روایتی اشیا کی برآمد میں خاصی کمی آئی ہے جبکہ پھولوں ، تازہ پھلوں، سمندری اشیا اور چینی وغیرہ کی تجارت میں اضافہ درج ہوا ہے۔
سال2016-17کے دوران ہندوستان کی مجموعی برآمدات میں صنعتی شعبہ کا حصہ 73.16فی صد رہا۔ حکومت کے مثبتاقدام کے باوجود کپڑے کی صنعت میں کچھ زیادہ اضافہ نہ ہوسکا۔چین اور مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک ہمارے تجارتی حریف ہیں۔ جواہرات اور زیورات ہندوستان کی غیر ملکی تجارت کا ایک اہم حصہ ہیں۔

sargarmiسر گرمی


جدول11.3 کا مطالعہ کیجیے اور 2016-17 میں برآمد کی گئی اہم اشیاکو ایک بار ڈائی گرام کے ذریعہ دکھائیے۔

ہندوستان کی درآمدات کی ساخت میں تبدیلی

Changing Patterns of the Composition of India’s Import

 ہندوستان میں 1950اور1960کی دہائی میں خوراک کی سخت قلت تھی۔اس وقت درآمدات کی فہرست میں خوردنی اناج،اصل اشیا (capital goods)، مشینیں اور اوزار شامل تھے۔ اس دوران توازن ادائیگی کی حالت ابتر تھی کیونکہ تمام کوششوں کے باوجود درآمدت برآمدات کی نسبت زیادہ تھی۔1970میں سبز انقلاب کی کامیابی کی وجہ سے خوردنی اناج کی درآمد کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ لیکن 1973کے بعد توانائی کے بحران کی وجہ سے پیڑولیم کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ نے درآمد کے بجٹ کو بڑھا دیا۔خوردنی اناج کی درآمد کی جگہ کیمیائی کھاد اور پیڑولیم نے لے لی۔ مشین اور کل پرزے، خاص نوعیت کی اسٹیل ، کھانے کا تیل اورکیمیکلس درآمدات کی فہرست میں شامل اہم اشیا ہیں۔ جدول11.4کا مطالعہ کیجیے اور درآمدات کی ساخت میں تبدیلی کا تجزیہ کیجیے۔

                                                    جدول11.3:بر آمد کی جانے والی اہم اشیا

اشیا 2016-17
(کروڑ روپیے)
زرعی اور متعلقہ مصنوعات
خام دھاتیں اور معدنیات
مصنوعاتی اشیا
معدنی ایندھن اور مدہن اشیا
22,8001
35,947
13,63232
216280

5

جدول11.4سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیڑولیم اور اس کی مصنوعات کی درآمدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کا استعمال نہ صرف ایندھن کے طور پر ہوتا ہے بلکہ صنعتی خام مال کے طور بھی ہوتاہے۔ یہ صنعتی ترقی اور بہتر معیار زندگی کی طرف اشارہ کرتاہے ۔ بین الا قوامی منڈی میں گرانی اس امر کی دوسری اہم وجہ ہے۔برآمدت سے متعلق صنعتوں اور گھریلو شعبہ کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے اصل سرمایہ کی درآمد میں اضافہ کی یکساں رفتار برقرار رہی ہے۔ غیر برقی انجینرٔنگ مشینری، نقل وحمل کے ساز سامان ،مشینی اوزار واشیا اور مشینوں کے پرزے وغیرہ اہم اصل سرمایہ ہیں ۔ کھانے کے تیل کی درآمد میں کمی کی وجہ سے غذائی اور متعلقہ اشیا کی کل درآمد میں بھی کمی آئی۔ ہندوستان کی دیگر درآمدات میں موتی، نیم قیمتی پتھر،سونا،چاندی، خام دھات ، ناکارہ دھات ،غیر آہنی دھات اور الیکڑانک سامان وغیرہ شامل ہیں ۔2016-17میں ہندوستان کی اہم درآمدات کو جدول 11.5 میں دیاگیا ہے۔
جدول  11.5 کی بنیاد پر بعض سرگرمیاں انجام دی جاسکتی ہیں:
 سبھی اشیا کو بڑھتی یا گھٹتی ترقیب میں ترتیب دیجیے اور 2016-17 میں ہندوستان میں درآمد کی گئی پہلی پانچ اہم اشیا کے نام لکھیے۔
زرعی اعتبار سے ہندوستان ایک خوشحال ملک ہے۔ پھر بھی خوردنی  تیل درآمد کیوں کرتا ہے؟
پانچ اہم ترین اور پانچ غیر اہم اشیا کا انتخاب کیجیے ۔ اور ان کو بار ڈائیگرام کے ذریعہ دکھائیے۔
کیا آپ درآمدات کی فہرست میں کچھ ایسی اشیا کی نشان دہی کرسکتے ہیں جن کے متبادل ہندوستان میں تیارکیے جاسکتے ہیں؟

                                                جدول11.4:ہندوستان کی درآمدات کی ساخت 17-2009
                                                                                                                      (فی صد)
اشیا کا گروپ 2009-10 2010-11 2015-16 2016-17
خوراک اور متعلقہ اشیا
ایندھن( کوئلہ،پٹرولیم)
کیمیائی کھاد
گتّا اور اخباری کاغذ 
اصل اساس
ان کے علاوہ دیگر
3.7
33.2
2.3
0.5
15.0
42.6
2.9
31.3
1.9
0.6
13.1
47.7
5.1
25.4
2.1
0.8
13.0
38.1
5.6
26.7
1.3
0.9
13.6
37.0

6

                        جدول 11.5   :  درآمد کی جانے اہم والی اشیا 

اشیا 2016-17
کیمیائی کھاد اور اس کی مینو فیکچرنگ خوردنی تیل لگدی اور ردّی کاغذ غیر آہنی دھاتیں لوہا اور اسٹیل مصنوعات اور مدہن اشیا موتی، قیمتی اور نیم قیمتی پتھر ادویہ اور متعلقہ اشیا کیمیائی مصنوعات 33726 73048 6537 262961 55278 582762 159464 33504 147350

تجارت کی سمت (Direction of Trade) 

دنیا کے زیادہ تر ممالک اور تجارتی تنظیموں سے ہندوستان کے تجارتی مراسم ہیں۔
سال 17-2016کے دوران علاقائی اور ذیلی علاقائی تجارت کو جدول  11.6میں دکھا یا گیا ہے۔

                                          جدول11.6:ہندوستان کی در آمدی تجارت کی سمت
                                                                                                                (کروڑ روپیے میں)
علاقہ درآمدات


یورپ
افریقہ
شمالی امریکہ
لاطینی امریکہ
ایشیا اور Asean

2010-11

323857
118612
100602
64576
1029881

2016-17

403972
193327
195332
115762
1544520

8
ہندوستان کی کوشش اگلے پانچ سال میں بین الا قوامی تجارت میں اپنی حصہ داری دوگنی کرنے کی ہے۔ ہندوستان نے اس سمت میں متعدد اقدامات مثلاً درآمدات میں نرم کاری، درآمدی ٹیکس میں رعایت، لائسنس سے آزادی اور پیٹنٹ قانون میں تبدیلی پر عمل وغیرہ شروع کر دیا ہے۔ 

sargarmi سر گرمی


خاص تجارتی ساجھے داروں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک کثیربار ڈائیگرام (Multiple Bar Diagram) تیارکیجیے۔


ہندوستان کی زیادہ تر غیر ملکی تجارت آبی اور ہوائی راستوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔ تاہم اس کا ایک چھوٹا حصہ پڑوسی ممالک جیسے نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے خشکی کے راستے ہوتا ہے۔

بندرگاہ:  بین الاقوامی تجارت کی گذرگاہیں

(Sea Ports as Gateways of International Trade)

 ہندوستان تین طرف سے سمندر سے گھرا ہوا ہے اور قدرت نے ہمیں ایک لمبا ساحل عطاکیا ہے۔ آبی راستے آمدورفت کاسستا اور آسان ذریعہ ہیں بشرطیکہ سمندر میں طغیانی نہ ہو۔ ہندوستان میں آبی راستوں کے استعمال کی ایک تاریخ ہے۔ اس کا اندازہ اس بات
 سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی جگہوں کے نام کے ساتھ ’’پٹن‘‘ لفظ جڑا ہوا ہے جس کے معنی بندرگاہ کے ہیں ۔ ہندوستان میں بندرگاہوں سے متعلق ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مغربی ساحل پر سمندری بندرگاہوں کی تعداد مشرقی ساحل کے مقابلے زیادہ ہے۔
کیا آپ ان دونوں ساحلوں پر بندرگاہ کی تعداد کے فرق کی وجوہات معلوم کر سکتے ہیں؟
9
                                               شکل11.3:بندرگاہ پر سامان اتارتے ہوئے

اگرچہ ہندوستان میں بندرگاہوں کا استعمال دور قدیم سے ہی ہو رہا ہے لیکن ان بندرگاہوں کی بین الا قوامی تجارت کی گذرگاہ کے طور پر زیادہ پہچان یوروپی تاجروں اور انگریزوں کے ملک پر تسلط کے بعد ہوئی۔ انہی اسباب کی بنا پر ملک کی بندرگاہوں کے معیار اورحجم میں تبدیلیاں آئیں۔ کچھ بندرگاہیں ایسی ہیں جن کا دائرہ اثر بہت وسیع ہے اور کچھ ایسی ہیں جن کا دائرہ اثرمحدودہے۔موجودہ دورمیں ہندوستان میں12بڑی اور200 چھوٹی یا درمیانی درجے کی بندرگاہیں ہیں۔بڑی بندرگاہوں سے متعلق مرکزی حکومت پالیسیاں تیار کرتی ہے اور ان کو نافذکرتی ہے۔ جبکہ چھوٹی بندرگاہوں سے متعلق پالیساں تیار کرنے اور انہیں نافذ کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔
انگریزوں نے بندرگاہوں کا استعمال ملک کے اندورونی خطوں کے قدرتی وسائل کا استحصال کرنے کے لیے کیا تھا۔ اندرونی حصوں میں ریلوے کی توسیع نے مقامی بازاروں کو علاقائی بازاروں اورعلاقائی بازاروں کو ملکی بازاروں اور ملکی بازاروں کو عالمی بازاروں تک رسائی کی سہولت مہیاکرادی۔ یہ رجحان1947تک قائم رہا۔ امید یہ تھی کی آزادی کے بعد اس رجحان میں تبدیلی آئے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا کیونکہ دو خاص بندرگاہیں ملک سے الگ ہو گئیں۔ کراچی بندرگاہ پاکستان کو چلی گئی جبکہ چٹاگاؤں بندرگاہ اس وقت کے مشرقی پاکستان، جو کہ اب بنگلہ دیش ہے، میں شامل ہوگئی۔ اس نقصان کی بھر پائی کے لیے کئی دوسری بندرگاہوں مثلاً مغرب میں کاندلا اور مشرق میں ہُگلی ندی پر کولکاتہ کے پاس ڈائمنڈ ہار بر کی تعمیر کی گئی۔
اس نقصان کے باوجود آزادی کے بعد بھی ہندوستان میں بندرگاہوں کی ترقی کا سلسلہ قائم رہا۔ آج ہندوستانی بندرگاہ بڑی مقدار میں گھریلو اور غیرملکی تجارت کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ زیادہ تر بندرگاہیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ پہلے بندرگاہوں کی جدید کاری کی ذمہ داری سرکاری ایجنسیوں کی تھی لیکن کام کا دباؤ اور ان بندرگاہوں کو بین الا قوامی سطح کا بنانے کی ضرورت نے بندرگاہوں کی جدید کاری کے لیے نجی کمپنیوں کو مدعوکیا ہے۔
 ہندوستانی بندرگاہوں کی صلاحیت جو کہ 1951میں صرف 20 ملین ٹن تھی 17-2016میں  بڑھ کر837ملین ٹن سے زیادہ ہوگئی ہے۔
ہندوستان کی کچھ اہم بندرگاہیں اپنے داخلی علاقے (hinter land)کے ساتھ مندرجہ ذیل ہیں :
کچھ کی خلیج میں مقیم کاندلا بندرگاہ(Kandla Port)  کو ملک کی مغربی اور شمال مغربی حصوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور ممبئی بندرگاہ پر دباؤ کو کم کرنے کی غرض سے ایک اہم بندرگاہ کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ اس بندرگاہ کو زیادہ مقدار میں پیڑولیم ، پیڑولیم کی مصنوعات اور کیمیائی کھادکی تجارت کو فروغ دینے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔ وادی نار میں ایک بڑے ساحلی ٹرمنل کی تعمیرکی گئی ہے۔ تاکہ کاندلا بندرگاہ پر دباؤ کم کیا جاسکے۔
داخلی علاقہ کی حدود کاتعین کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ مستقل نہیں ہوتی ہیں۔زیادہ تر معاملات میں ایک بندرگاہ کا داخلی علاقہ دوسری بندرگاہ کے داخلی علاقہ میں مدغم ہوسکتا ہے۔
ممبئی(Mumbai) ایک قدرتی بندرگاہ ہے اور ملک کا سب سے بڑا بندرگاہ ہے۔یہ بندرگاہ مشرق وسطیٰ، بحرروم کے ممالک ،شمالی افریقہ ، شمالی امریکہ اوریوروپ کے قریب واقع ہے۔ہندوستان کی غیر ملکی تجارت کا بڑا حصہ اسی بندرگاہ سے ہوتا ہے۔ یہ بندرگاہ 20 کلومیٹر لمبا اور 6-10کلو میٹر چوڑا ہے اور اس میں54گودیاں ہیں۔ یہ ملک کا سب سے بڑایتیل ٹرمنل ہے۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، گجرات، اترپردیش اورراجستھان کے حصے ممبئی بندرگاہ کے داخلی علاقہ میں شامل ہیں۔
جواہرلال نہرو بندرگاہ (Jawaharlal Nehru Port) کونواشیوا میں ممبئی بندرگاہ پردباؤ کو کم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ملک کاسب بڑا کنٹیز بندرگاہ ہے۔
مارماگاو بندرگاہ (Marmagao Port) زُواری ندی کے دہانے پر قائم ہے۔ یہ گووا کی قدرتی بندرگاہ ہے۔ جاپان کو خام لوہا کی درآمدگی کے لیے1961میں اس کی تجدید کے بعد اس کی اہمیت بڑھ گئی۔ کونکن ریلوے کی تعمیرسے اس بندرگاہ کے داخلی علاقہ میں کافی توسیع ہوئی ہے۔ کرناٹک ،گوا اور جنوبی مہاراشٹر اس بندرگاہ کے داخلی علاقہ میں شامل ہیں۔
نیو منگلور بندرگاہ (New Mangalore Port) کرناٹک میں قائم ہے۔ اس سے خام لوہے اور آئرن کنسٹریٹ کی برآمدگی کو فروغ ملا۔ یہ بندرگاہ کیمیائی کھاد ، پیڑولیم سے بنی اشیا، کھانے کے تیل، کافی، چائے، لگدی، سوت، گرینائٹ پتھر وغیرہ کے لیے استعمال ہوتاہے۔ کرناٹک اس بندرگاہ کاخاص داخلی علاقہ ہے۔
کوچی بندرگاہ (Kochchi Port) ویمبا ناد کیال کے دہانے پر قائم ہے۔ عام طورپر یہ بندرگاہ ’’ بحر عرب کی رانی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ بھی ایک قدرتی بندرگاہ ہے۔ اس بندرگاہ کو سوئز کولمبو بحری  راستے کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ بندرگاہ کیرالہ، جنوبی کرناٹک اور جنوب مغربی تامل ناڈو کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
کولکاتہ بندرگاہ(Kolkata Port)  ہُگلی ندی پر خلیج بنگال سے128کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ ممبئی بندرگاہ کی طرح یہ بندرگاہ بھی انگریزوں نے ہی قائم کیا تھا۔ انگریزی حکومت کے شروعاتی دور میں کولکاتہ کو ہندوستان کا دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے فوقیت حاصل تھی۔ وشاکھاپٹنم ، پارادیپ اور ہلدیا بندرگاہوں سے برآمدات کے شروع ہونے کی وجہ سے کولکاتہ بندرگاہ کی اہمیت کافی کم ہوگئی ہے۔
ہگلی ندی میں گادکے مسلسل جماؤ کی وجہ سے اس بندرگاہ کو دشواریوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس کے داخلی علاقہ میں اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ ، مغربی بنگال، سکم، اورشمال مشرقی ریاستیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بندرگاہ ہمارے ان پڑوسی ممالک کو جن کے پاس بندرگاہ کی سہولیات نہیں ہیں مثلاً نیپال، اور بھوٹان کوبھی بندرگاہ کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
10
                                        شکل11.4:ہندوستان۔بڑی بندرگاہ اور بحری راستے
 
ہلد یا بندرگاہ (Haldia Port) کولکاتہ سے150کلومیٹر کی دوری پرزیردریاقائم ہے۔ اس کی تعمیر کولکاتہ بندرگاہ پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے کی گئی۔ یہ بندرگاہ بھاری سامان جیسے خام لوہا ، کوئلہ، پیڑولیم ، پیڑولیم  کی مصنوعات اور کیمیائی کھاد، جوٹ،جوٹ کی مصنوعات ، کپاس اور سوت وغیرہ برآمدکرتا ہے۔
پارادیپ بندرگاہ (Paradwip Port)کٹک سے تقریباً 100کلو میٹر کی دوری پر مہاندی ڈیلٹا میں واقع ہے۔ یہ ہندوستان کا سب سے گہرابندرگاہ ہے اسی لیے بڑے جہازوں کی آمددرفت کے لیے مناسب ہے اس کی تعمیر بڑے پیمانے پر خام لوہا کی برآمد کے لیے کی گئی تھی۔اُڑیسہ ، چھتیس گڑہ اور جھارکھنڈ اس کے داخلی علاقہ کا حصہ ہیں۔
آندھرا پردیش میں وشاکھاپٹنم بندرگاہ (Visakhapatnam Port) خشکی سے گھرا ہوا بندرگاہ ہے۔ اس بندرگاہ کی تعمیر سخت چٹان اور ریت کو کاٹ کرکی گئی ہے اور اسے ایک نہر کے ذریعہ سمندر سے جوڑا گیا ہے۔ خام لوہا، پیڑولیم اودیگر اشیا کو برآمد کرنے کے لیے ایک باہری بندرگاہ کی تعمیر کی گئی ہے۔ آندھراپردیش اس بندرگاہ کا اہم ترین داخلی علاقہ ہے۔
چنئی بندرگاہ (Chennai Port)مشرقی ساحل پر مقیم سب سے پرانی بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک مصنوعی بندرگاہ ہے جو تعمیر 1859میں کی گئی تھی۔ ساحل کے قریب گہرائی کم ہونے کی وجہ سے یہ بڑے جہازوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ تامل ناڈو اور پانڈیچیری اس کے اہم داخلی علاقے ہیں۔
چنئی بندرگاہ پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے چنئی سے 25کلومیٹر شمال میں انّور(Ennore)میں ایک نئے بندرگاہ کی تعمیر کی گئی۔
توتی کورن (Tuticorin Port) بندرگاہ کی تعمیر بندرگاہ پر دباؤکو کم کرنے کے لیے کی گئی تھی۔یہ بندرگاہ مختلف طرح کے سامان جس میں کوئلہ، نمک، خوردنی اشیا، کھانے کا تیل ، شکر، کیمیکلس اور پیڑولیم کی مصنوعات کی برآمد کرتا ہے۔

ہوائی اڈے(Airports) 

بین الا قوامی تجارت میں ہوائی اڈے ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا استعمال قلیل وقت میں زیادہ دوری تک قیمتی سامان یا جلد خراب ہونے والے سامانوں کو پہچانے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ یہ بھاری اورحجم سامان کے لیے غیرمناسب اور کافی مہنگا ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے بین الا قوامی تجارت میں آبی راستوں کے مقابلے اس کی حصہ داری کم ہے۔
ہندوستان میں کل 25بین الاقوامی ہوائی اڈے کام کررہے ہیں (سالانہ رپورٹ17-2016)۔ان میں احمدآباد،بنگلورو ، چنئی، دہلی، گوا، گوہاٹی، حیدرآباد، کولکاتہ، ممبئی اور ترواننت پورم ،سری نگر، جے پور، کالی کٹ،ناگ پور،کوئمبٹور،کوچی،لکھنؤ،پونے،چنڈی گڑھ، منگلورو، وشاکھاپٹنم،اندور،پٹنہ،بھوبنیشور اور کنّور شامل ہیں۔
آپ اس سے پہلے کے باب میں ہوائی آمدورفت کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ آپ اس باب پر غور کیجیے اور ہندوستان کے ہوائی راستوں کی خصوصیات معلوم کیجیے۔

sargarmiسرگرمی


اپنے قریبی گھریلو اور بین الا قوامی ہوائی اڈوں کے نام لکھیے۔ سب سے زیادہ گھریلو ہوائی اڈے والی ریاست کی پہچان کیجیے۔
ان چار شہروں کی نشاند ہی کیجیے جہاں سب سے زیادہ ہوائی راستے آپس میں ملتے ہیں اس کی وجوہات بھی بیان کیجیے۔

11

Mashq

مشقیں

مندرجہ ذیل چار جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) دو ممالک کے مابین تجارت کو کہتے ہیں:
(a) گھریلو تجارت (b) بیرونی تجارت
(c) بین الاقوامی تجارت (d) مقامی تجارت
(ii) ذیل میں سے کون سا ایسا بندرگاہ ہے جوخشکی سے گھرا ہوا ہے؟
(a) وشاکھا پٹنم (b) ممبئی
(c) انّور (d) ہلدیا
(iii) ہندوستان کی زیادہ تجارت ہوتی ہے :
(a) خشکی اوربحری راستو ں کے ذریعہ (b) خشکی اورفضائی راستوں کے ذریعہ
(c) بحری اور فضائی راستوں کے ذریعہ (d) بحری راستوں کے ذریعہ
2 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب 30الفاظ میں لکھیے۔
(i) ہندوستان کی بین الاقوامی تجارت کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔
(ii) بندرگاہ اور گودی میں فرق بیان کیجیے۔
(iii) داخلی علاقہ سے کیا مراد ہے؟
(iv) ہندوستان کی اہم درآمدات کی ایک فہرست مرتب کیجیے۔
(v) مشرقی ساحل پر قائم اہم بندرگاہوں کے نام بتائیے۔

3-مندرجہذیل سوالات کے جواب 150الفاظ میں دیجیے۔
(i) ہندوستان کی بر آمدی اور درآمدی تجارت کی ساخت بیان کیجیے۔
(ii) ہندوستان کی بین الاقوامی تجارت کی بدلتی تصویر پر ایک نوٹ لکھیے۔