Skip to content
Awamaurmaishat-012

اکائی V

باب12 

چنندہ مسائل اورمشکلات کا جغرافیائی پس منظر

1

ماحولیاتی کی آلودگی   (Environmental Pollution)

کارہائے انسانی سے پیدا ہونے والی حرارت اور مادّوں کے ماحول میں شامل ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ آلودگی کئی طرح کی ہوتی ہے۔ماحول کو آلودہ کرنے والے مادّوں کے منتقل ہونے اور ان کے پھیلنے کے طریقے کی بنیاد پر آلودگی کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ آلودگی کی درجہ بندی (i)ہوائی آلودگی(ii)آبی آلودگی(iii)زمین کی آلودگی (iv)شورکی آلودگی کے طور پر کی جا سکتی ہے ۔

آبی آلودگی   (Water Pollution)

بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعت کاری کی وسعت کی وجہ سے پانی کے لاشعوری استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پانی کی ماہیت میں تنزل واقع ہوا ہے۔ندیوں، جھیلوں اور نہروں وغیرہ سے حاصل شدہ پانی خالص نہیں رہ گیا ہے۔ اس میں کم مقدار میں معلق ذرّات، نامیاتی اورغیرنامیاتی شامل ہیں۔ جب کبھی ان مادّوں کی مقدار ایک حد سے تجاوز کرجاتی ہے تو پانی آلودہ ہو جاتا ہے اور ناقابل استعمال ہو جاتا ہے ۔ پانی میں قدرتی طور پر صفائی کی صلاحیت ہوتی ہے ایسی حالت میں پانی کی یہ صلاحیت بے اثر ہوجاتی ہے اور پانی صاف نہیں ہوپاتا ہے۔
2
شکل12.1:نئی دہلی کے بیرونی علاقہ میں جمنا ندی کی پر آلود پرت پر کشتی رانی

جدول12.1:آلودگی کی اقسام ذرائع

آلودگی کی اقسام آلودگی کے مادّے  آلودگی کا مخرج
ہوائی آلودگی سلفر ڈائی آکسائڈ(SO2,SO3)، نائٹروجن آکسائڈ، کاربن مونو آکسائڈ، ہائڈروکاربن،
امونیہ،سیسہ،ایلدڈی ہائیڈ ایسبیسٹاس اور بیری لیم
کوئلہ پیٹرول اور ڈیزل کے جلنے سے ، صنعتی عوامل،ٹھوس کچرا اور سیسہ وغیرہ
آبی آلودگی بو، گھلے اور تیرتے ہوئے ٹھوس مادّے امونیا، یوریا،نائٹریٹ اور نائٹرائٹس، کلورائڈ، کاربونیٹس،تیل اور چکنائی،جراثیم کش ادویہ ٹینین، کولی فارم،ایم پی ایم(جراثیم کی شمار) سلفیٹ،سلفائڈ اور بھاری مادّے،مثلاً سیسہ،آرسینک(سنکھیا)،پارہ،مینگنیز وغیرہ۔ ریڈیو ایکٹو( تابکار) مادّے گھریلو فضلہ اور گندے پانی کی نکاسی، شہروں سے خارج ہونے والا گندا پانی گھریلو فضلہ اور کارخانوں سے زہریلے پانی کا خروج اور اس زہریلے پانی کا کاشت کی زمین پر بہاؤ، ایٹمی توانائی پلانٹس۔
زمینی آلودگی انسانی اور حیوانی فضلہ،جراثیم، کوڑے کا ڈھیر اور ان میں پیدا ہونے والے کیڑے، جراثیم کش ادویہ اور کیمیائی کھاد کے اجزا، شورا،فلورائڈ،ریڈیو ایکٹیو( تابکار) مادّے غیر متناسب انسانی سر گرمیاں ،بغیر صاف کیا گیا آلودہ صنعتی پانی، جراثیم کش ادویہ اور کیمیائی کھاد
شور سے آلودگی برداشت کی سطح سےزیادہ شور و غل ہوائی جہاز، موٹر گاڑیاں،ریل گاڑیاں صنعتی عوامل اور اشتہاری ذرائع

3
اگرچہ پانی کو آلودہ کرنے والے مادّے قدرتی ذرائع (کٹاؤ، زمین کے کھلنے، نباتات اور جانوروں کے گلنے اور سٹرنے) سے وجود میں آتے ہیں لیکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی تشویش کی باعث ہے۔انسان پانی کو اپنی صنعتی ، زراعتی اور ثقافتی سرگرمیوں سے آلودہ کرتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں آلودگی کی سب سے اہم وجہ کار خانے ہیں۔
کارخانے کئی طرح کے ناپسندیدہ مادّے پیدا کرتے ہیں مثلاً صنعتی کچرا، آلودہ بے کار پانی ، زہریلی گیس ،کیمیائی باقی ماندہ مادّے کئی طرح کی بھاری دھاتیں، گرد، دوھواں وغیرہ۔ زیادہ تر صنعتی کچرے کو ندیوں اور جھیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کافی مقدار میں زہریلے مادّے، مصنوعی جھیلوں، دریاؤں اور دیگر آبی وسائل تک پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کاحیاتی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ پانی کی آلودگی کے لیے چمڑے، کاغذ اور کاغذ کی لگدی، کپڑے، اور کیمیکلس کی صنعتیں کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔
جدیدزراعت میں مختلف طرح کے کیمیائی اجزا مثلاً غیر نامیاتی کیمیائی کھاد، جراثیم کش ادویہ،خودرونباتات وغیرہ کا استعمال بھی باعث آلودگی ہے۔ ان کیمیکلس کو دریاؤں، جھیلوں اور تالابوں میں بہادیا جاتا ہے۔ یہ سارے کیمیائی اجزا مٹی میں جذب ہو جاتے ہیں اور زمین دوزپانی کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ کیمیائی کھادیں سطحی پانی میں نائٹریٹ کی مقدار میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ ہندوستان میں مذہبی سیاحت، مذہبی میلے وغیرہ جیسی ثقافتی سر گرمیاں بھی آبی آلودگی کی و جہ ہیں۔ ہندوستان میں سطحی پانی کے تقریباً تمام ذرائع آلودہ ہو چکے ہیں اور انسانی استعمال کے لائق نہیں رہے۔
                                        جدول12.2:گنگا اور جمنا ندیوں میں آلودگی کے زرائع

دریا اور ریاست آلودہ حصہ آلودگی کی فطرت آلودگی کے مخصوص مراکز
گنگا 
(اتر پردیش بہار اور مغربی بنگال)
(i)کانپور کے بعد
(ii) وارانسی کے بعد
(iii) فرکا باندھ کے بعد
(i)کانپور شہر کے کارخانوں سے 
(ii) شہروں کا گھریلو کچرا
(iii) لاشوں کا پانی میں بہانا
کانپور، الہ آباد، وارانسی، پٹنہ اور کولکاتہ وغیرہ سے گھریلو کچرے کوندی میں ڈالنے کی وجہ
جمنا
(دہلی اور اتر پردیش)
(i) دہلی سے چنبل ندی سے ملنے تک
(ii)متھرا اور آگرہ
(i)اتر پردیش اور ہریانہ میں سینچائی کے لیے پانی 
حاصل کرنا
(ii) زراعتی سرگرمیوں کی وجہ سے جمنا کے پانی میں مقصورہ مادّوں کا بہاؤ 
(iii)دہلی کا گھریلو اور صنعتی کچرے کا ندی میں ڈالنا
دہلی کا اپنے کچرے کو ندی میں ڈالنا 
4
آبی آلودگی متعدد طرح کی آب برداشتہ بیماریوں کے لیے ذمہ دار ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال سے عموماً حیضہ، آنتوں کی سوزش اور یرقان جیسی بیماریاں ہوجاتی ہیں۔عالمی تنظیم برائے صحت(WHO)کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ایک چوتھائی انتقال پذیر(communicable) بیماریاں آلودہ پانی کی دین ہیں۔
اگرچہ دریائی آلودگی تمام دریاؤں میں مشترک ہے لیکن دریائے گنگا کی آلودگی جو ہندوستان کے زیادہ آبادی والے علاقوں سے گذرتا ہے سبھی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ گنگا کی آلودگی کوکم کرنے کے لیے نیشنل مشن برائے صاف گنگا شروع کیاگیا ۔فی الحال اس کے لیے نیشنل گنگا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔


نمامی گنگا پروگرام

ایک دریا کی حیثیت سے گنگا قومی اہمیت کی حامل ہے لیکن اس دریا کے کورس کوصفائی کی ضرورت ہے۔ یہ کام اس کے پانی کی کثافت کومؤثر طورپر کنٹرول کرکے انجام دیا جاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت نے نمامی گنگاپروگرام شروع کیا ہے۔اس کے مقاصد حسب ذیل ہیں:
شہروں میں سیویج کی تدبیر کے نظاموں کوفروغ دینا
صنعتی کچرے کی نگرانی
دریا کی پیشانی کی ترقی
حیاتیاتی تنوع بڑھانے کے لیے کناروں پر شجرکاری
دریائی سطح کی صفائی
اتراکھنڈ، یوپی،بہار، جھارکھنڈ اورمغربی بنگال میں گنگا گراموں کی ترقی
دریائے گنگا میں آلودگی آمیز چیزوں کے اضافے سے بچنے کے لیے عوامی بیداری پیداکرنا چاہے یہ چیزیں مذہبی رسوم سے ہی متعلق ہوں۔


5

فضائی آلودگی   (Air Pollution)

فضائی آلودگی سے مراد ہوامیں دھول، گرد، دھواں، گیس ، کہرا، بدبویا بھاپ وغیرہ کی مقدار کسی خاص مدت میں ایک حد سے زیادہ ہوجانے سے ہے اور نتیجتاً انسانوں، جانوروں، نباتات اورملکیت کو نقصان ہو۔ توانائی حاصل کرنے کے لیے کئی طرح کے ایندھن کے استعمال کی وجہ سے کرہ باد میں زہریلی گیسوں کے خروج میں خاطرخواہ اضافہ ہورہا ہے اور ہوا آلودہ ہورہی ہے،نامیاتی ایندھن کے جلنے ، کان کنی، اور کارخانے ہوائی آلودگی کے لیے خاص طور پر ذمہ دار ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے کافی مقدار میں زہریلے مادّے اورگیس مثلاً سلفر آکسائڈ، نائٹروجن آکسائڈ،ازبیسٹاس ہائڈروکاربن، 

کاربن ڈائی اکسائڈ ، کاربن مونوآکسائڈ، سیسیہ اورازبیٹس وغیرہ خارج ہوتے ہیں جس سے ہواکی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
فضائی آلودگی سے نظام تنفس کے ساتھ ساتھ اعصابی نظام اور دوران خون سے متعلق کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
شہروں پر طاری دخانی کہرا(smog)ہوائی آلودگی کا نتیجہ ہے۔یہ  انسانی صحت کے لیے کافی مضر ہے۔ہوائی آلودگی کی وجہ سے تیزابی بارش بھی ہوسکتی ہے شہروں میں موسم گرما کے بعد ہونے والی پہلی بارش سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں pHکی مقدار بعد کی بارش کے مقابلے نسبتاً کم ہوتی ہے۔

شورکی آلودگی   (Noise Pollution)

شورکی آلودگی سے مراد مختلف ذرائع سے ہونے والے اس شور شرابے سے ہے جو آرام میں مخل ہو اورقابل برداشت حدود سے تجاوز کرجائے۔ تکنیکی ترقی کی مختلف اقسام کی وجہ سے حالیہ برسوں میں شور ایک سنجیدہ مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ 
کارخانے، عمارتوں کی تعمیر، تخریب، موٹر گاڑیاں اور ہوائی جہاز وغیرہ شورسے ہونے والی آلودگی کے اہم ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً تہواروں اور دیگر مواقع پر استعمال ہونے والے سائرن اور لاؤڈاسپیکر سے بھی شورمیں اضافہ ہوتا ہے۔شور کی شدت کے معیارکو ڈیسی بیلس (ڈی۔بی) میں ناپا جاتا ہے۔
شور شرابے کی ان سبھی وجوہات میں بڑا حصہ ٹریفک کا ہے۔ جو اس کی قسم اور معیار پر زیادہ منحصر کرہوتی ہے جیسے ہوائی جہاز، موٹرگاڑیاں ، ریل گاڑیاں اور سڑکوں وغیرہ کی بناوٹ اور موجودہ حالت۔اس کی وجہ سے شور کی سطح میں فرق پڑتا ہے۔ سمندری آمدورفت میں ہونے والا شور گودیوں، ساحلی اور بندرگاہوں تک ہی محددود رہتا ہے اور جس کی خاص وجہ سامان کا اتارنا اور چڑھانا ہے۔ کارخانوں سے بھی کافی شور ہوتا ہے لیکن اسی کی شدت کارخانے کی قسم اور ساخت پر منحصر ہوتی ہے۔
شور زدہ آلودگی کا دائرہ اثر مقامی ہوتا ہے اور جس کی شدت میں مخرج سے دروی بڑھنے کے ساتھ ساتھ کمی آتی جاتی ہے۔ مثلاً صنعتی علاقے، آمدورفت کی شاہ راہیں ، ہوائی اڈے وغیرہ۔ شورزکی آلودگی کئی عروس البلاد اور دیگر بڑے شہروں میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔
6


کیا آپ جانتے ہیں؟

پچھلے 40سالوں میں سمندری شور میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ اسکرپس انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کے ایک جائزہ کے مطابق  سمندر کے شور میں1960کی دہائی سے اب تک دس گنا کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اسکرپس سے ماہر بحریات سین ویگنز، جون ہلڈی برانڈاور وہیل اے کاسٹک، کولوریڈو کے ماہر مارک میک ڈونالڈ ، امریکی بحریہ کے درجہ دستاویزات کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ عالمی جہازرانی سمندرکے شور میں اضافہ کا باعث ہے، ان کے مطابق حالیہ دہائیوں دنیا کی آبادی میں تیز اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے سمندر کے اندرونی حصوں میں شورکی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور سمندری زندگی پر ان کے اثرات کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ معلومات سے یہ بات ـضرور ثابت ہوگئی کی 1960کی دہائی سے اب تک سمندر کے شور میں دس گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ان کے مطابق 04-2003میں شورکی سطح میں 66-1964کے مقابلے12-10ڈیسی بل کا اضافہ ہو چکا ہے۔ سمندری تجارت اور جہازوں کی تعداد اوران کی رفتار میں اضافہ اس کی اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔

شہری کچرے کو ٹھکانے لگانا

(Urban Waste Disposal)

بھیڑبھاڑ، بڑھتی آبادی اور اس کے لیے مناسب سہولیات، خستہ حال رہائشی نظام اور آلودہ ہوا شہری علاقوں کی پہچان بن گئے ہیں۔ مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار میں بے تحاشا اضافہ اور اس سے ماحول کی آلودگی کی وجہ سے اسے کافی اہمیت دی جارہی ہے۔ کچرے سے مراد ہے بوسیدہ اور استعمال شدہ نئی اور پرانی اشیا مثال کے طور پردھاتوں کے داغدار چھوٹے چھوٹے ٹکڑے، کانچ کے ٹوٹے ہوئے برتن، پلاسٹک کے ڈبیّ، پالیتھین کے تھیلے، راکھ، فلاپیز، سی۔ڈیز (CDs) وغیرہ کے ڈھیر جو مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں۔ ان بے کاراشیا کو فضلا، کوڑا کرکٹ اور کباڑہ بھی کہتے ہیں۔ مخرج کی بنیاد پر ان تمام  اقسام کے کچروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (i)گھریلو(ii)صنعتی یا تجارتی۔ گھریلو کچرے کو یا تو سرکاری زمینوں پر اکٹھا کیا جاتا یا تو پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے متعین مقامات پر جب کہ کارخانوں کے کچرے کو اکٹھا کرنے اور صاف صفائی کرنے کے لیے نگر پالیکا کے ذریعہ متعین کردہ نشیبی زمینوں یا لینڈفل مقامات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کارخانوں، کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں اور عمارتوں کی تعمیر،توڑپھوڑ سے بڑی مقدار میں راکھ اورملبہ پیدا ہوتا ہے جو آج ایک سنگین مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔ ٹھوس کچرے کی وجہ سے بدبو، مکھیوں اور کیڑے مکوڑوںکی افزائش ہوتی ہے جس کی وجہ سے صحت کو خطرہ لائق ہوگیا ہے اور معیادی بخار، کالی کھانسی، دست، ہیضہ، ملیریا، وغیرہ جیسی جان لیوابیماریاں عام ہوگئی ہیں۔ اس کچرے کو مناسب طریقہ سے اگر ٹھکانے نہیں لگایا جائے تو یہ ہوا اور بارش سے اپنے اطراف میں پھیل جاتے ہیں اور مشکلات پیدا کر تے ہیں۔
شہری علاقوں کے اطراف میں صنعتی کارخانوں کے ارتکاذکی وجہ سے صنعتی کچرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ صنعتی کچرے کو ندیوں میں ڈالنے کی وجہ سے ندیاں آلودہ ہورہی ہیں۔شہری صنعتوں اوررودغلاضت کو بنا صاف کیے ندیوں میں ڈالنے کی وجہ سے ندیوں کا پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔جس کا سیدھا اثر ان ندیوں کے کنارے آباد لوگوں کی صحت پر پڑتا ہے۔
ہندوستان میں شہری کچرے کو ٹھکانے لگانا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ میٹروپولیٹن شہروں جیسے ممبئی ،کولکاتہ ،چنئی ، بنگلور وغیرہ میں تقریباً90 فی صد کچرے کو اکٹھا کرکے ٹھکانے لگایاجاتا ہے۔لیکن ملک کے زیادہ تر دوسرے شہروں اور قصبوں میں 30-50 فی صدکچرے کو اکٹھا ہی نہیں کیا جاتا ہے اور اسے شہروں کی گلیوں، مکانوں کے درمیان خالی جگہوںاور بے کار پڑی زمین پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جس کا سیدھا اثر اطراف میں بسنے والے لوگوں کی صحت پر پڑتا ہے۔ کچرے کے ان ڈھیروں کو ایک وسیلہ مانتے ہوئے ان کا استعمال توانائی حاصل کرنے کے لیے اور کمپوسٹ(Compost) کے لیے کیا جانا چاہیے۔کچرے کو یوں ہی پڑے رہنے پرکچرا آہستہ آہستہ سڑتا گلتا ہے اور اس سے زہریلی گیس جیسے میتھین نکلتی ہے جو کہ ماحول میں شامل ہوکراسے آلودہ کردیتی ہے۔
7
میں پہلی منزل سے دوسری منزل پر اس لیے منتقل ہوا تھا کہ سمندر کا نظارہ کرسکوں، جو اب وہاں پر کچرے کی وجہ سے ممکن نہیں رہ گیا تھا۔


کیس اسٹڈی  :  دورالامیں ماحولیات بحالی اورانسانی حفظانِ صحت کی ایک مثال

 ہمہ گیر قانون ’’ آلودہ کرنے والا ادا کرے‘‘  (Polluter pays)کے تحت میرٹھ کے نزدیک دور الا کے لوگوں نے آپسی تعاون سے ماحولیات کی بحالی اور انسانی صحت کے لیے حفاظتی اقدام کو پختہ کرنے کی غرض سے ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ میرٹھ کے ایک غیر سرکاری ادارے (NGO)کے ذریعہ ماحولیات کی بحالی کے لیے تیار کیے گئے ایک ماڈل کو عمل میں لانے کے تین سال بعد اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ دورالامل کے ذمہ دار ان کے غیر سرکاری تنظیموں(NGO)، سرکاری افسران واثاثہ بردار لوگوں کی ایک میٹنگ میرٹھ میں ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد بعض نتیجے سامنے آئے۔ عوام کی طاقتورمنطق اور قابل ستائش حقیقی معلومات نے اس گاؤں کے تقریباً12ہزار لوگوں کو نئی زندگی دے دی۔ یہ 2003کی بات ہے جب دورالا کے باشندوں کی خستہ حالی نے سماج کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ 12,000کی آبادی والے اس گاؤں میں بھاری دھاتوں کی وجہ سے زیرزمین پانی آلودہ ہو چکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دورالا انڈسٹریز کا آلودہ پانی رساؤ کے ذریعہ زمین دوز پانی میں شامل ہورہا تھا۔ غیرسرکاری تنظیم نے گھرگھر جاکر لوگوں کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ایک رپورٹ تیار کی۔اس تظیم کے کارکنان ، گاؤں کے لوگ اور عوام کے نمائندوں نے صحت سے متعلق مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا اور ایک دیر پاحل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ صنعت کاروں نے ماحولیات کی پست کاری کو قابو میں رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں خاص دلچسپی دکھائی۔ گاؤں کی پانی کی ٹنکی کی وسعت میں اضافہ کیا گیا اور پانی کی سپلائی کو بہتر بنانے کی غرض سے 900میٹر لمبی نئی پائپ لائن ڈالی گئی۔ گاؤں کے تالاب کو صاف کیا گیا اور صاف پانی سے بھر دیا گیا۔ تالاب سے بڑی مقدار میں گاد کے نکالنے کے بعد تالاب میں صاف پانی بھر جانے اور ریچارج کے ذریعہ گہرائی میں آبگیروں تک صاف پانی کی رسائی کی وجہ سے زمین دوز پانی کی سطح اور ماہیت پر خاطرخواہ اثر ہوا۔گاؤں کے مختلف مقامات پر بارش کے پانی کو اکٹھا کرنے کے لیے بنائے گئے رسوبی گڈھوں نے زیر زمین آلودہ پانی میں آلودگی کی مقدار کو کافی کم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ماحول کو بہتر بنانے کی غرض سے تقریباً 1,000پودے لگائے گئے۔

sargarmiسر گرمی


ہم کیا پھینکتے ہیں اور کیوں؟
شہری کچرے کہاں اختتام پذیر ہوتا ہے؟
ردی اکٹھا کرنے والے کچرے کے ڈھیر میں کیا تلاش کرتے ہیں؟ کیا ان سے حاصل شدہ اشیا کی کوئی اہمیت ہوتی ہے؟
کیا ہمارے شہری کچرے کسی کام کے ہیں؟

8

             شکل12.3:ممبئی کے ماہم علاقے میں شہری کچرے کا ایک منظر

دیہی–شہری نقل مکانی (Rural-Urban Migration)

دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے کی کئی وجوہات ہیں جیسے کہ شہری علاقوں میں مزدوروں کی زیادہ مانگ، دیہی علاقوں میں روزگار کی کمی اور شہری دیہی علاقوں کے درمیان ترقی کی غیر مساوی شکل وغیرہ۔ ہندوستان میں شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ چونکہ چھوٹے اور درمیانی درجہ کے شہروں میں روزگار کے موافق کم ہیں۔ جس کی  وجہ سے کمزور اور غریب طبقہ کے لوگ عموماً روز گار کی تلاش میں بڑے شہروںکی طرف نقل مکانی کرتے ہیں۔
اس مضمون کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ایک نذیری مطالعہ ذیل میں دیا جارہا ہے۔ اسے غور سے پڑھیے اور دیہی – شہری نقل مکانی کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کرئیے۔

کیس اسٹڈی   (A Case Study)

رمیش پچھلے دوسالوں سے (اڑیسہ کے ساحلی علاقہ) تلچر کی ایک تعمیراتی کمپنی میں بطور ویلڈر کام کررہا ہے ۔ وہ اپنے ٹھیکیدار کے ساتھ ملک کے مختلف شہروں جیسے کہ سورت، ممبئی، گاندھی نگر ،بھروچ، جام نگر جاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے آبائی گاؤں میں رہ رہے اپنے والد کو سالانہ 20,000روپیے بھیجتا ہے۔ اس روپیے کا بڑا حصہ روزانہ کی ـضروریات کو پورا کرنے، صحت، بچوں کی تعلیم ، وغیرہ پر صرف ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ روپیے زراعت، زمین خریدنے اور مکان بنانے پر خرچ ہوتا ہے۔ رمیش کے اہل خانہ کے معیار زندگی میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
15سال پہلے حالات ایسے نہ تھے۔ رمیش کا کنبہ بہت مشکل دور سے گزر ہا تھا۔ اس کے تین بھائی اور ان کے اہل خانہ صرف تین ایکٹر زمین پر منحصر تھے۔ خاندان بری طری سے قرض میں ڈوبا ہوا تھا۔ مجبوراً رمیش کو اپنی تعلیم نویںجماعت کے بعد چھوڑ دینی پڑی۔ شادی کے بعد اس کی مشکلات اور بھی بڑھ گئیں۔
اس دوران رمیش اپنے علاقے سے لدھیانہ نقل مکانی کرنے والے کچھ لوگوں کی کامیابی سے کافی متاثر ہوا۔ اس نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے لاحقین کو روپیے کے علاوہ روزمرہ کے استعمال کی اشیا بھی بھیج کر پرورش کررہے ہیں۔ اس طرح خاندان کی انتہائی غربت سے تنگ آکر اور لدھیانہ میں روزگار کابھروسہ پاکر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پنجاب چلا گیا ۔ 

کیا آپ جانتے ہیں؟

موجودہ دور میں دنیا کی 6ارب آبادی میں تقریباً47فی صدآبادی شہروں میں رہتی ہے اور مستقبل میں اس آبادی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ یہ تناسب 2008تک50فی صدہوجانے کا اندازہ ہے۔ اس کی وجہ سے شہروں میں بہتر معیار کے لیے حکومتوں پر ایک دباؤ رہے گا۔

ایک اندازے کے مطابق2050تک دنیا کی تقریباً دوتہائی آبادی شہروں میں آباد ہوجائے گی نتیجہ یہ ہوگا کہ شہری زمینوں، انفراسٹرکچر اور وسائل پر دباؤ اور بڑھے گا۔ جس کے اثرات صفائی، صحت، جرائم اور غربت کی شکل میں ظاہر ہوں گے۔

شہری آبادی،قدرتی اضافہ (جب شرح پیدائش شرح اموات سے زیادہ ہو) اور(net immigration)خالص دخول مکانی ( آ نے والوں کی تعداد باہر جانے والوں سے زیادہ ہو) کی وجہ سے بڑھتی ہے۔ کبھی کبھی شہری علاقوں کی دوبارہ حد بندی جس کی وجہ سے آس پاس کی دیہی آبادیوں کو بھی شہروں میں شمار کرلیا جاتا ہے کی وجہ سے بھی شہری آبادی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان میں1961کے بعد شہری آبادی میں 60فی صد کا اضافہ اہوا ہے جس میں29فی صد دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے ہوا ہے۔

 1998میں اس نے لدھیانہ کی ایک اون کی فیکٹری میں روزانہ 20 روپیے کی مزدوری پر 6ماہ تک کام کیا۔ اتنی کم آمدنی سے اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ نئے ماحول میں خود کو یگانہ بنانے میں اسے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد اس نے اپنے دوست کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے لدھیانہ سے سورت جانے کا فیصلہ کیا۔ سورت میں اس نے ویلڈنگ کا ہنر سیکھا اور اس کے بعد اسی ٹھیکیدار کے ساتھ الگ الگ مقامات پر جاتا رہتا ہے۔ حالانکہ رمیش کے گاؤں میں اس کے گھروالوں کی معاشی حالت میں کافی سدھار ہوا ہے لیکن وہ اپنوں سے دور رہنے کا درد برداشت کررہاہے۔ وہ انھیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ہے کیونکہ اس کی نوکری عارضی اور انتفال پذیر ہے۔

تبصرے  (Comments)

ترقی پذیر ممالک میں رمیش کی طرح نیم خواندہ اور غیرتکنیکی لوگ گاؤں سے شہروں کی طرف اکثر نقل مکانی کرتے ہیں اور کم اجرت پر ذیلی اقسام کے کاموں سے ہی وابستہ رہ جاتے ہیں۔ چونکہ ان کی مزدوری اہل خانہ کا بار اٹھانے کے لیے نا کافی ہوتی ہے اس لیے بیوی ،بچوں کو بزرگوں کی خدمت کے نام پر گاؤں میں ہی چھوڑدیا جاتا ہے۔ نتیجتاً گاؤں سے شہروں کو نقل مکانی کرنے والوں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

گندی بستیوں کے مسائل   (Problems of Slums)

9

10
11

دھراوی-- ایشیا کی سب سے بڑی گندی بستی 
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بسیں صرف بستی کے باہر سے گزرتی ہیں۔آٹو رکشا اس کے اندر نہیں جاسکتے ہیں۔ دھراوی مرکزی ممبئی کا ایک حصہ ہے جہاں تھری وہیلر گاڑیوں کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔
اس گندی بستی سے صرف ایک سڑک گزرتی ہے جسے نوے فٹ چوڑی سڑک ’’نائنٹی فٹ روڈ ‘‘    کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سڑک کی چوڑائی آدھی (45فٹ) سے بھی کم رہ گئی ہے۔ کچھ گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ ایک سائیکل کا بھی گزرنا مشکل ہے۔ ساری بستی میں عارضـی عمارتیں ہیں جو کہ دویا تین منزلہ ہیں ۔ان میں زنگ آلود لوہے کے زینہ ہیں جو اوپری منزل تک جاتے ہیں جہاں ایک کمرہ کرایہ پر اٹھادیا جاتا ہے۔ کرائے کے اس کمرے ہیں ایک پورا خاندان رہتا ہے۔ اکثر یہاں ایک کمرے میں 12-10لوگ رہتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے وکٹوریہ کے لندن کی ایسٹ اینڈ کی صنعتی بستی کا ایک ٹراپیکلی نمونہ ہے ۔
 مایوس کن حالات کے باوجود دھراوی نے ممبئی کی دولت اور معیشت میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ کھلے آسمان کے نیچے سورج کی پتتی دھوپ، کچرے کے ڈھیر، گندے اورغلیظ پانی سے لبریز گڈھے اور جہاں انسانوں کے علاوہ مخلوق کے نام پر کائیں کائیں کرتے ہوئے کالے کوّئے اور بڑے بڑے چوھوں کی افراط ہو وہاں ہندوستان کی کچھ بہت ہی خوبصورت بیش قیمتی اور ضرورت کی اشیا تیار کی جاتی ہیں۔ دھراوی سے چینی مٹی کے نفیس برتن ،عمدہ قسم کی کشیدہ کاری اور زری کا کام، نفیس سامان، چمڑے کا سامان، جدید طرز کے کپڑے، دھات کا کام ، نفیس قسم کے جڑاؤ زیورات، لکڑی کی پچکاری اور فرنیچر وغیرہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا بھر کے امیرلوگوں کے گھروں تک جاتے ہیں۔
دھراوی درحقیقت سمندر کا ایک حصہ تھا جو کہ اس علاقے میں آکر بسنے والے غریب شیڈول کا سٹ اور مسلمانوں کے ذریعہ پیدا کیے گئے کچرے سے بھر گیا ہے۔ یہاں ڈھلی ہوئی نالی دار سیمنٹ کی چادروں سے بنی 20میٹر اونچی عمارتوں میں چمڑے کی صفائی کی جاتی ہے۔ اگرچہ دھراوی میں کچھ دلکش حصے بھی ہیں لیکن سڑتا ہوا کچرا ہر طرف پایا جاتا ہے.........                (سی بروک،1996،صفحہ52-51, 50 )

’’شہر یا شہری مراکز ‘‘ کے نظریہ کو آبادیاتی جغرافیہ میں ’’دیہی‘‘ سے جدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ جس کے بارے میں آپ اس کتاب کے پہلے کے اسباق میں پڑھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اپنی نصابی کتاب ’’اِنسانی جغرافیہ کے مبادیات ‘‘ میں پڑھ چکے ہیں کہ اس نظریہ کی تعریف مختلف ممالک میں جداگانہ ہے۔
دونوں بستیاں شہری اور دیہی بستیاں اپنے سرگرمیوں میں الگ ہونے کے باوجود متعدد مواقع پر ایک دوسرے کی معاون ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ شہری اور دیہی بستیاں دو مختلف ثقافتی، سماجی، سیاسی، معاشی اور تکنیکی  طور پر ہوتی ہیں۔
ہندوستان جہاں دیہی آبادی کی اکثریت ہے (2011کی مرد م شماری کے مطابق تقریباً69 فی صد) اور جنھیں مہاتماگاندھی نے ایک مثالی جمہوریت قرار دیا تھا، آج بھی غریب اور پسماندہ ہیں اور ابتدائی سرگرمیوں میں ہی مصروف ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر دیہاتوں کا وجود ایک ضمیمہ کے طور پر ہے جو کہ شہری مراکز کے داخلی علاقوں کے طور پر موجود ہیں۔
اس سے ایسا لگتا ہے کہ شہری مراکز دیہی علاقوں کے برخلاف ایک متجانس(Homogenous)اکائی ہیں۔اس کے برخلاف ہندوستان کے شہری مراکز سماجی، معاشی ، ثقافتی اور سیاسی ودیگر اشاریوں کی بنا پر باہمی اختلافات سے دوچار ہیں اوردوسرے علاقوں سے جداگانہ ہیں۔ فارم ہاوس اورکثیرآمدنی والوںکی بستیاں سر فہرست ہیں جہاں چوڑی سڑکیں، 
اسڑیٹ لائٹ، پانی اور صفائی کی سہولیات،پارکوں اور ہری پٹی، کھیل کے میدان، شخصی حفاظت کے پختہ انتظام اورحقوق رازداری کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف گندی بستیاں جھونپڑیاں اور سڑکوں کے کنارے بنے بوسیدہ ڈھانچے ہیں۔ان میں وہ لوگ رہتے ہیں جن لوگوں کو روزگار کی تلاش میں گاؤں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑاا ور جو زیادہ کرایہ دینے یا شہر کی مہنگی زمین خریدنے سے قاصر ہیں۔ یہ لوگ پست ماحولیاتی علاقوں میں اپناٹھکا نہ بنالیتے ہیں۔
گندی بستیاں انسان کی مجبوری اور بے بسی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں خستہ حال مکان، حفظان صحت کی خستہ حالت، کھلی ہوا کا فقدان، بنیادی سہولیات مثلاً پینے کے پانی، بجلی وغیرہ کی کمی پائی جاتی ہے۔کھلے میں رفع حاجت، بے ضابطہ نکاس کا نظام اور بھیڑ والی تنگ سڑکیں صحت ، سماج اور ماحولیات کے لیے خطرات ہیں۔ سوچھ بھارت مشن شہری تجدیدی مشن کا حصہ ہے جسے حکومت ہند نے شہری گندی بستیوں میں زندگی کے معیار کوبہتربنانے کے لیے شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان بستیوں میں رہنے والی آبادی کا ایک بڑا حصہ کم اجرت پر خطرات سے بھرپورشہری معیشت کے غیر منظم دھڑے میں کام کرنے پر مجبورہوتا۔نتیجتاً یہ لوگ بھوک اور مختلف اقسام کی بیماریوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور اپنے بچوں کو مناسب تعلیم مہیا نہیں کرا سکتی ہیں۔ غربت کی وجہ سے یہ لوگ نشیلی دواؤں کی عادت ،شراب نوشی، جرائم، غنڈہ گردی اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور بالآخرسماج سے قطع تعلق ہوجاتے ہیں۔

گندی بستیوں میں رہنے والے بچے اسکولی تعلیم سے بے بہرہ کیوں رہ جاتے ہیں۔

زمین کی پست کاری  (Land Degradation)

زرعی زمین پر دباؤ کی وجہ صرف اس کی محدود حصول یابی ہی نہیں بلکہ اس کی ماہیت میں کمی بھی ہے۔ مٹی کا کٹاؤ،سیم زدگی، کھاراپن اورشور بھی پست کاری کی وجوہات ہیں۔ بے جا اور مسلسل استعمال کرنے سے زمین کی زرخیزی پر کیا اثر پڑتاہے؟ زمین کی پست کاری میں اضافہ اور پیداواریت میں گراوٹ درج ہوتی ہے۔ زمین کی پست کاری سے مراد زمین کی پیداواری صلاحیت میں عارضی یا مستقل طور پر گراوٹ ہے۔
اگرچہ ساری پست زمین بنجر نہیں ہوتی ہے لیکن اگر پست کاری کے عمل کو قابو میں رکھنے کے طریقے اختیار نہیں کیے جاتے ہیں تو یقینا ایسی زمین بنجر ہوجاتی ہے۔
زمین کی پست کاری کے لیے دوطرح کے عوامل ذمہ دار ہیں۔ یہ قدرتی اور انسانی عوامل ہیں ۔ نیشنل ریموٹ سنسنگ سینٹر(NRSC)نے ریموٹ سنسنگ تکنیک کی مدد سے ہندوستان کے کارفرما عوامل کی بنیاد پر بے کار زمین کی درجہ بندی کی ہے۔کچھ اہم اقسام اس طرح ہیں بیہٹرزدہ، ریگستانی یاساحلی ریت، سنگلاخ چٹانی علاقے، تیزڈھال والے علاقے اور گلشیرکے علاقے جو کہ قدرتی عوامل کا نتیجہ ہیں۔پست کاری کی دوسری قسموں میں سیم زدگی ، آبی گرفتگی، کھاراپن اور شورسے متاثر علاقے اور جھاڑی دار یاغیرجھاڑی دار علاقے آتے ہیں جو قدرتی اور انسانی دونوں عوامل کا نتیجہ ہیں۔ ان کے علاوہ بنجرزمین کی دوسری اقسام بھی ہیں مثلاً انتقالی زراعت سے پست علاقے، فصلی شجرکاری سے پست علاقے اور پست شدہ جنگلات، پست شدہ چراگاہیں اور کان کنی وصنعت کاری کی وجہ سے پیداشدہ پست زمین وغیرہ، انسانی عوامل کا نتیجہ ہیں۔ جدول12.3 سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی عوامل کی وجہ سے متاثر زمین قدرتی عوامل کی وجہ سے پست زمین کے مقابلے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

 sargarmi  سر گرمی


جدول12.3میں دی گئی اطلاعات کی مدد سے مختلف عوامل سے وجود میں آئے قابل زراعت بے کار زمین کو ایک پائی چارٹ (pie-chart) کی مددسے دکھائیے۔

جدول12.3:ہندوستان میں عوامل کی بنا پر پست 
زمین کی درجہ بندی
  
درجہ بندی جغرافیائی رقبہ کا فی صد
کل بنجر زمین
بنجر اور ناقابل کاشت زمین
قدرتی طور پر پست آراضیCWL
قدرتی اور انسانی عوامل سے پست آراضیCWL
انسانی عوامل سے پیدا شدہ پست زمینCWL
کل پست آراضی
17.98
2.18
2.4
7.51
5.88
15.8
ماخذ:NRSAکے ویسٹ لینڈ اٹلس کی بنیاد پر ،2000
12

کیس اسٹڈی    (A Case Study)

جھالواضلع مدھیہ پردیش کے انتہائی مغربی، زرعتی آب و ہوائی (agro climatic)خطہ میں ہے -یہ ہندوستان کے پانچ سب سے پچھڑے اضلاع میں سے ایک ہے۔ اس ضلع میں گھنی قبائلی آبادی (خصوصاً بھیل) پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ غربت کا شکار ہیں۔ مقامی وسائل خصوصاً زمین اور جنگل کی  پست کاری نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے حکومت ہند کی دزارت دیہی ترقی اور وزرات زراعت نے پن دھارا ترقیاتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مالی امداد فراہم کیں جس کا اثر یہ ہوا کہ جھالوامیں نہ صرف زمین کی پست کاری میں کمی آئی بلکہ مٹی کے وصفی معیار میں بھی بہتری آئی ہے۔ پن دھارا ترقیاتی پروگرام زمین ، پانی اور نبا تات کے آپسی تعلق کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مقامی لوگوں کی حصہ داری اور قدرتی و سائل کے بہتر طور پر استعمال سے لوگوں کو ذریعہ معاش مہیا کراتا ہے۔گذشتہ پانچ سالوں میں وزارت دیہی ترقی کی مالی امداد سے(راجیوگاندھی مشن برائے پن دھارا ترقیاتی نظام) کے ذریعہ عمل میں لایا گیا )جھالواضلع کے تقریباً 20فی صد رقبے کا سدھار کیا گیاہے۔
جھالوا ضلع کا پیٹل واڈ بلاک ضلع کے انتہائی شمالی حصہ میں ہے- یہ بلاک پن دھارا ترقیاتی پروگرام میں حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں اور عوامی حصے داری (Community Participation) کی ایک کامیاب مثال ہے۔ پیٹل واڑ بلاک کے بھیلوں (مثلاًکراوت گاؤں کی ست رُندی بستی) نے اپنی محنت اور لگن سے مشترکہ ملکیت کے وسائل (Common Property Resources) کے بڑے حصہ کو ایک جلا بخشی ہے۔ ہرخاندان نے کامن پراپرٹی میں ایک پودھا لگایا اور اس کی دیکھ بھال کی۔ اس کے علاوہ ہر خاندان نے چراگاہ کی زمین پر چارہ گھاس بھی لگائی اور کم ازکم دوسال تک اس کے استعمال پر سماجی پابندی بھی عائد کردی۔ ان لوگوں نے یہ بھی طے کیا کہ اس کے بعد بھی اس میں جانوروں کو چرنے کی آزادی نہیں ہوگی بلکہ اس چراگاہ کی گھاس کو جانوروں کے چارہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس پالیسی کو نافذ کرنے سے گاؤں والوں کو یقین ہے کہ مستقبل میں ان کے جانوروں کو اِن چراگاہوں سے چارہ ملتا رہے گا۔
اس تجربہ کا مزے دار پہلو یہ ہے کہ گاؤں کی اس مشترکہ ملکیت پر جہاں چراگاہ تیار کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا اس حصے پر پڑوسی گاؤں کے ایک شخص نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ گاؤں والوں نے تحصیلدارکی مدد سے مشترکہ ملکیت کی نشاندہی اور حد بندی کرائی۔ گاؤں والوں نے آپسی ٹکراؤ سے بچنے کا حل یہ نکالا کہ اس شخص کو جو زمین پر قابض تھا اسے بھی اپنے اورمشترکہ ملکیت اور چراگاہ کے فائدے میں حصے داری بھی دی۔(کامن پراپرٹی وسائل کی تفصیل باب ’’زمینی وسائل اور زراعت‘‘ میں دیکھیں)۔

13
شکل 12.4:جھالوا کے مشترکہ ملکیت کے وسائل پر شجر کاری
شکل  12.4    :  جھالوا کے مشترکہ ملکیت کے وسائل پر شجرکاری
14
                    شکل12.5:جھالوا میں مشترکہ ملکیت کے وسائل کی زمین کو ہموار کرنے میں عوامی حصہ داری 
                                                        (ASA 2004)
شکل  12.5   :  جھالوا میں مشترکہ ملکیت کے وسائل کی زمین کو ہموار کرنے میں عوامی   حصہ داری (ASA 2004) 
ماخذ  :  تجزیاتی رپورٹ، راجیوگاندھی مشن برائے پن دھارا ترقی پروگرام کی رپورٹ، حکومت مدھیہ پردیش، 2002
Mashq

مشقیں

.1 نیچے دیے گئے جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i)  مندرجہ ذیل دریاؤں میں سب سے زیادہ آلودہ دریا کون سا ہے؟
(a) برہم پترا (b) ستلج
  (c) جمنا (d) گوداوری
(ii)پانی کی آلودگی کس بیماری کے لیے ذمہ دار ہے؟
(a) کنجنکٹی وائٹس (b) ڈائریا
(c) سانس کی تکلیف (d) دما
(iii)  مندرجہ ذیل میں سے کون سا عمل تیزابی بارش کی ایک وجہ ہے؟
(a) آبی آلودگی (b) زمین کی آلودگی
(c) شورکی آلودگی (d) ہوائی آلودگی
(iv) عوامل کشش (Pull Factors) اورعوامل فشار(Push Factors) ذمہ دار ہیں:
(a) نقل مکانی کے لیے (b) زمین کی پست کاری کے لیے
(c)  گندی بستیوں کے وجود کے لیے (d) ہوائی آلودگی کے لیے
.2 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً30الفاظ میں دیجیے۔
(i)آلودگی اورمادۂ آلودگی میں کیا فرق ہے؟
(ii)ہوائی آلودگی کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں؟
(iii)ہندوستان میں شہری ٹھوس کچرے کو ٹھکانے لگانے سے جڑی مشکلات کا تذکرہ کیجیے۔
(iv)انسانی صحت پر ہوائی آلودگی سے ہونے والے اثرات کا تجزیہ کرئیے۔
.3 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً 150الفاظ میں دیجیے۔
(i)ہندوستان میں آبی آلودگی کی فطرت کو بیان کیجیے۔
(ii)ہندوستان میں گندی بستیوں کی مشکلات کو بیان کیجیے۔
(iii)زمین کی پست کاری کو کم کرنے کے لیے کچھ مشورے دیجیے۔