Skip to content

This page contains the following errors:

error on line 458 at column 6: Opening and ending tag mismatch.

Below is a rendering of the page up to the first error.


Jughrafiameinamlikam-II-001


1


اعدادوشمار۔  اس کے ماخذاور ترتیب (Data - Its source and Compilation)

آپ نے اعداد و شمار کی مختلف شکلوں کو ضرور دیکھا اور استعمال کیا ہوگا۔مثال کے طور پر ٹیلی ویژن پرتقریباً ہر نیوز بلیٹن کے آخر میں اس دن کے لیے اہم شہروں کے درجۂ حرارت کو دکھایا جاتا ہے۔اسی طرح ہندوستان پرجغرافیہ کی کتابیں آبادی کی نمو اور تقسیم سے متعلق اعداد و شمار اور مختلف فصلوںکی پیداوار، تقسیم اور تجارت، معدنیات اور صنعتی پیداوار کو جدول کی شکل میں دکھاتی ہیں۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟یہ اعداد وشمار کہاں سے حاصل کیے جاتے ہیں؟انھیں کس طرح جدول کی شکل میں رکھا جاتا ہے اور ترتیب دی جاتی ہے کہ ان سے بامعنی معلومات حاصل کی جا سکیں؟ اس باب میں ہم اعداد وشمار کے ان ہی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے اور ان جیسے کئی سوالات کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

اعداد و شمار کیا ہیں؟ (What is Data)

اعداد و شمار(data) کی تعریف ان عددوں کی حیثیت سے کی جاتی ہے جو اصل دنیا سے پیمائش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ڈیٹم (Datum) ایک تنہا پیمائش ہے۔ہم اکثر خبروں میں پڑھتے ہیں کہ بارمیر میں 20 سینٹی میٹر بارش ہوئی یا 24 گھنٹوں میں بانس واڑا میں 35 سینٹی میٹرمسلسل بارش ہوئی یا ٹرین سے کوٹہ۔بڑودہ کے راستے دہلی سے ممبئی کی دوری 1385 کلومیٹر ہے اور اٹارسی۔ منماڈ سے ہو کر 1542 کلومیٹر ہے۔اس عددی معلومات کو اعداد و شمار کہا جاتا ہے۔یہ بات آسانی سے سمجھی  جا سکتی ہے کہ آج دنیا میں بہت سے اعداد وشمار موجود ہیں۔پھر بھی، کبھی کبھی ان اعدادوشمار سے منطقی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اگر یہ خام شکل میں ہیں۔اس لیے اس بات کو یقینی بنانا اہم ہے کہ پیمائش شدہ معلومات کثیر اعدادوشمار سے حسابی طور پر ماخوذ ہیں، یا معقولی طورپر نکالے گئے ہیں یا شماریاتی حیثیت سے شمارہ کیاگیا ہے۔معلومات کی تعریف یا توکسی سوال کے بامعنی جواب کے طور پر کی جاتی ہے یا بامعنی محرک کے طور پر جو مزید سوالات کی جھڑی لگا دے۔

(Need of Data)اعدادوشمار کی ضرورت 

جغرافیہ کے مطالعے میں نقشے ایک اہم آلہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اعدادوشمار کے ذریعہ مظاہر کی تقسیم اور نمو کی تشریح جدول کی شکل میں کی جاتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ سطح زمین پر کئی مظاہر کے درمیان باہمی تعلق (interelationship) ہوتا ہے۔یہ باہمی تفاعلات کئی متغیرات سے متاثرہوتے ہیں جن کی تشریح بہتر طور پر کمیاتی اصطلاح میں کی جاسکتی ہے۔ ان متغیرات کا شماریاتی تجزیہ آج کی ضرورت بن چکاہے۔مثال کے طور پر کسی علاقے کی فصلوں کے طرز(cropping pattern) کا مطالعہ کرنے کے لیے،فصل کا رقبہ،حاصل فصل (yield)اور پیداوار،سینچائی کا رقبہ، بارش کی مقدار اور کھاد،جراثیم کش اور وبائی امراض کی ادویات وغیرہ جیسے مادخل کے بارے میں شماریاتی معلومات کا ہونا ضروری ہے۔اسی طرح شہر کی نشو و نما کا مطالعہ کرنے کے لیے کل آبادی،کثافت،مہاجرین کی تعداد،لوگوں کا پیشہ،ان کی تنخواہوں،صنعتوں، نقل و حمل اور مواصلات کے وسائل سے متعلق اعدادوشمار کی ضرورت پڑتی ہے۔اس طرح جغرافیائی تجزیہ میں اعدادوشمار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 (Presentation of the Data) اعدادو شمار کی پیش کش

آپ نے اس آدمی کی کہانی تو سنی ہوگی جو اپنی بیوی اور ایک پانچ سال کے بچے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔راستے میں اسے ایک ندی پار کرنی تھی۔ سب سے پہلے اس نے چار جگہوں پر ندی کی گہرائی کی پیمائش کی جو 0.6 ، 0.8 ، 0.9 اور 1.5 میٹر تھی۔ اس نے حساب لگایا کہ ندی کی اوسط گہرائی 0.95 میٹر ہے ۔اس کے بچے کا قد ایک میٹر تھااس لیے اس نے سب کو ندی پار کرنے کے لیے کہہ دیااور اس کا بچہ ندی میں ڈوب گیا۔ ندی کے دوسرے کنارے پر وہ بیٹھ کر سوچنے لگا ’’ لیکھا جوکھا تھاہے ، تو بچہ ڈوبا کاہے؟‘‘ (جب اوسط گہرائی ہر ایک کے لیے پایاب تھی تو بچہ کیوں ڈوب گیا؟)۔ اس کو شماریاتی غلطی کہا جاتا ہے جو آپ کو صحیح صورت حال سے منحرف کر سکتی ہے۔اس لیے حقائق اور صورت شکل جاننے کے لیے اعدادو شمار کا اکٹھا کرنا بہت اہم ہے۔ لیکن اتنا ہی اہم اعدادوشمار کی پیش کش بھی ہے۔آج کل تجزیہ، پیش کش اور نتائج کو اخذ کرنے میں شماریاتی طریقوں کا استعمال تقریباً تمام مضامین میں بشمول جغرافیہ اہم کردار نبھا رہا ہے۔اس لیے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مظاہر کا ارتکاز جیسے آبادی، جنگل یا نقل و حمل اور مواصلات کا جال نہ صرف زمان و مکان پر بدلتا ہے بلکہ اعدادوشمار کا استعمال کرکے ان کی آسان تشریح بھی کی جا سکتی ہے۔اسے آپ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ متغیرات کے درمیان تعلقات کی تشریح میں کیفیاتی بیان(qualitative description) سے کمیاتی تجزیہ (quantitative analysis) کی طرف تبدیلی ہو رہی ہے۔اس لیے آج کل مطالعے کو زیادہ معقولی بنانے اور صحیح نتیجہ اخذ کرنے کے لیے تجزیاتی آلے اور تکنیک زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔بالکل صحیح کمیاتی تکنیکوں کا استعمال اعداد دشمار کو اکٹھا کرنے اور جمع کرنے سے لے کر اس کی فہرست بنانے، منظم کرنے، ترتیب دینے اور نتیجہ اخذ کرنے تک کیا جاتا ہے۔

 (Sources of Data)اعدادوشمار کے ذرائع

اعدادوشمار مندرجہ ذیل طریقوں سے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔وہ 1۔ابتدائی ذرائع(primary sources) اور2۔ثانوی ذرائع (secondary sources ) ہیں۔جو اعدادوشمار کسی فرد یا افراد کی جماعت،ادارہ یاتنظیم کے ذریعے پہلی باراکٹھا کیے گئے ہوں ان کو اعداد و شمار کے ابتدائی ذرائع(primary sources of data) کہا جاتا ہے۔دوسری طرف جو اعدادوشمار کسی مطبوعہ یا غیرمطبوعہ ذرائع سے اکٹھا کیے جائیں ان کو ثانوی ذرائع (secondary sources) کہتے ہیں۔ 

  (Sources of Primary Data) اعدادوشمار کے ابتدائی ذرائع 

1- ذاتی مشاہدات (Personal Observations)

یعنی کسی شخص یا افراد کی جماعت کے ذریعے فیلڈ میں راست مشاہدہ کرکے معلومات کا اکٹھا کرنا۔فیلڈ سروے کے ذریعہ زمینی خدوخال، ندیوں کے طرز،مٹی کے اقسام اور قدرتی نباتات،اسی طرح آبادی کی ساخت،جنسی تناسب، خواندگی،نقل و حمل اور مواصلات کے ذرائع، شہری اور دیہی بستیوں وغیرہ کے بارے میں معلومات جمع کی جاتی ہیں۔ بہر کیف،ذاتی مشاہدات کے لیے مضمون کا نظری علم اور بے تعصب اندازئہ قدر کے لیے سائنسی اندازفکر کا ہونا ضروری ہے۔

  اعدادوشمار اکٹھا کرنے کے طریقے

3
شکل  1.1  :  اعدادوشمار اکٹھا کرنے کے طریقے

ابتدائی اعداد شمار ؛ ذاتی مشاہدہ  انٹرویو سوال نامہ / شیڈول دوسرے طریقے

ثانوی اعدادا و شمار: مطبوعہ ذرائع  غیر مطبوعہ ذرائع

مطبوعہ ذرائع: سرکاری  نیم سرکاری بین الاقوامی  نجی مطبوعات اخبارات

غیر مطبوعہ ذرائع:سرکاری نیم سرکاری بین الاقوامی نجی دستاویزات دیگر دستاویزات

   2۔انٹرویو ( Interview)
اس طریقے میں محقق، لوگوں سے گفتگو اور بات چیت کرکے راست معلومات حاصل کرتا ہے۔پھربھی کسی علاقے کے لوگوں سے انٹرویو لینے کے لیے انٹرویو لینے والے کو درج ذیل احتیاط برتنی چاہیے۔
(i)انٹرویودینے والے شخص سے جن چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنی ہے ان کی پوری فہرست تیار کر لینی چاہیے۔
(ii)  ا نٹرویو میں شامل فرد یا افراد پر  سروے کا مقصد واضح ہونا چاہیے۔
(iii) کسی بھی حساس سوال کو کرنے سے پہلے جواب دینے والے کو اعتماد میں لینا ضروری ہے اور اسے یقین دلایا جائے کہ یہ باتیںصیغہ راز میں رہیں گی۔ 
(iv) ایک برادرانہ ماحول پیدا کیا جائے تا کہ جواب دینے والا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حقائق کی تشریح کر سکے۔
(v) سوال کی زبان آسان اور شائستہ ہو تاکہ جواب دینے والے کو ترغیب ہو اور وہ مطلوبہ معلومات دینے کے لیے تیار ہو جائے۔
(vi) ایسے سوالوں سے بچنا چاہیے جس سے جواب دینے والے کی عزت نفس یا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔
(vii)     انٹرویو کے اختتام پرجواب دینے والے سے پوچھیں کہ اس جواب کے علاوہ اور کیا اضافی معلومات فراہم کر سکتے ہیں؟
(viii)  آپ ان کا اپنا قیمتی وقت دینے کے لیے شکریہ ادا کریں اور اپنی احسان مندی ظاہر کریں۔

3۔سوالنامے؍شیڈیول(Questionnaire/Schedule)

اس طریقے میں آسان سوالات اور ان کے ممکنہ جوابات ایک کاغذ پر لکھ دیے جاتے ہیں اور جواب دینے والا دیے گئے متبادل میں سے ممکنہ جواب پر صحیح کا نشان لگادیتا ہے۔کبھی ساختی سوالات کا ایک سیٹ لکھ دیا جاتا ہے اور سوالنامے میں کافی جگہ چھوڑ دی جاتی ہے جہاں جواب دینے والا اپنے خیالات کو لکھتا ہے۔سوالنامے میں سروے کے مقاصد کو صاف طور پر واضح کردینا چاہیے۔یہ طریقہ بڑے علاقے میں سروے کرنے کے لیے مفید ہے۔حتیٰ کہ سوالنامے کو دوردراز کے علاقے میں بھی ڈاک سے بھیجا جا سکتا ہے۔اس طریقے کی خامی یہ ہے کہ مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے لیے صرف خواندہ اور تعلیم یافتہ لوگوں تک ہی رسائی کی جا سکتی ہے۔ سوالنامے ہی کی طرح شیڈیول ہے جس میں تفتیش سے متعلق سوالات ہوتے ہیں۔سوالنامے اور شیڈیول میں فرق صرف اتنا ہے کہ سوالنامے کو جواب دینے والا بھرتا ہے جب کہ شیڈیول کو تربیت یافتہ شمار کرنے والاجواب دہندگان سے سوال کرکے خود بھرتا ہے۔سوالنامے کی بہ نسبت شیڈیول کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ خواندہ اور ناخواندہ دونوں طرح کے جواب دہندگان سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔

4۔ دوسرے طریقے (Other Methods) 

مٹی اور پانی کی خصوصیات کے بارے میں اعدادوشمار، مٹی کا آلاتی تھیلا(soil kit) اورکیفیت آب کا آلاتی تھیلا(water quality kit) کا استعمال کرکے ان کی صفات کی پیمائش کر کے براہ راست فیلڈ سے اعداد و شمار حاصل کیا جاتا ہے۔اسی طرح فیلڈ میں کام کرنے والے سائنس داں ٹرانسڈیوسر(transducer) کا استعمال کرکے فصل اور نباتات کی صحت سے متعلق اعدادوشمار جمع کرتے ہیں(شکل  1.2 )۔

4
شکل   1.2  :  فصلوں کی صحت کا جانچ کرتا ہوا فیلڈ سائنس داں

اعداد وشمار کے ثانوی ذرائع (Secondary Sources of Data)

اعدادو شمار کے ثانوی ذرائع مطبوعہ اور غیر مطبوعہ دستاویزات پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں سرکاری مطبوعات، دستاویزات اور رپورٹ شامل ہوتے ہیں۔

 (Published Sources)مطبوعہ ذرائع

1۔ سرکاری مطبوعات(Government publications)حکومت ہند اور صوبائی حکومتوں کے مختلف وزارتوں اور شعبوں کے مطبوعات اور ضلعی بلیٹن اور سرکاری اعلانات ثانوی معلومات کے سب سے اہم ذرائع ہیں۔ ان میں ہندوستان کے رجسٹرار جنرل کے دفتر سے شائع ہندوستان کی مردم شماری،نیشنل سیمپل سروے رپورٹ،ہندوستانی شعبہ موسمیات کی موسمی رپورٹ، صوبائی حکومتوں کے ذریعہ شائع شدہ شماریاتی تلخیص(Statistical Abstracts) اور مختلف کمیشنوں کے ذریعہ شائع میعادی رپورٹ شامل ہیں۔کچھ سرکاری مطبوعات کو شکل 1.3 میں دکھایا گیا ہے۔

2۔ نیم سرکاری مطبوعات (Semi/Quasi-government Publications)

اس زمرے میں مختلف شہروں اور قصبات ،ضلع پریشد کے شہری ترقیاتی اتھارٹیزاور میونسپل کارپوریشن کی مطبوعات اور رپورٹ شامل ہوتی ہیں۔

3۔ بین الاقوامی مطبوعات (International Publications)

بین الاقوامی مطبوعات ،اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں جیسے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم) یونیسکو (UNESCO  ،اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام  (UNDP)، عالمی صحت تنظیم(WHO) ،خوراک اور زراعتی تنظیم  (FAO)وغیرہ کے ذریعے شائع کردہ سالناموں،رپورٹ اور رسالوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ کی کچھ اہم مطبوعات جو میعادی طور پر شائع ہوتی ہیں ، وہ ہیں آبادی کا سالنامہ (Demographic Year Book) ، شماریاتی سالنامہ(Statistical Year Book)  اور انسانی ترقی رپورٹ  (Human Development Report)  (شکل  1.4 )۔

4۔ نجی مطبوعات(Private Publication)

اخبارات اور نجی تنظیموں کے ذریعہ شائع کردہ سالنامے،سروے،تحقیقی رپورٹ اور رسالے اس زمرے میں شامل ہیں۔ 

5۔اخبارات اور رسائل (Newspapers and Magazines)

روزانہ کے اخبارات اور ہفتہ واری،پندرہ روزہ اور ماہانہ رسائل، ثانوی اعدادوشمار تک رسائی کے آسان ذرائع ہیں۔

6۔ الیکٹرونک میڈیا (Electronic Media)

موجودہ دورمیں الیکٹرونک ذرائع ابلاغ عامہ خاص طور پر انٹرنیٹ ثانوی اعدادوشمار کے ایک اہم ذریعہ کی حیثیت سے منظر عام پر آیا ہے۔ 

غیر مطبوعہ ذرائع (Unpublished Sources)

1۔سرکاری دستاویزات (Government Documents)

غیر مطبوعہ رپورٹ، رسالے اور دستاویزات بھی ثانوی اعدادوشمار کے دوسرے ذرائع ہیں۔ ان دستاویزات کو حکومت  مختلف سطحوں پر تیار کرواتی ہے اور انھیں غیر مطبوعہ ریکارڈ کی حیثیت سے رکھا جاتا ہے۔مثال کے طور پر،ہر گاؤں کے پٹواری کے پاس رکھا ہو امال گذاری کا ریکارڈگاؤں کی سطح پر معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

2۔ نیم سرکاری ریکارڈ(Quasi-government Records)

مختلف میونسپل کارپوریشن،ضلعی کونسل اور ملکی خدمات کے شعبوں کے ذریعے تیار کردہ اور رکھا ہوا میعادی رپورٹ اور ترقیاتی منصوبے  نیم سرکاری ریکارڈ میں شامل ہوتے ہیں۔

3۔نجی دستاویزات (Private Documents)

ان میں غیرمطبوعہ رپورٹ ،  کمپنیوں،ٹریڈ یونینوں،مختلف سیاسی یا غیر سیاسی تنظیموںاور رہائشی فلاح و بہبود کے انجمنوں کے ریکارڈ شامل ہوتے ہیں۔

5
شکل   1.3  :  کچھ سرکاری مطبوعات
6
شکل   1.4  :  اقوام متحدہ کے کچھ مطبوعات

اعدادوشمار کی جدول کاری اوردرجہ بندی  (Tabulation and Classification of Dat

ابتدائی اور ثانوی ذرائع سے یکجا کیے گئے اعدادوشمار شروع میں معلومات کے ایک بڑے مخلوط کی طرح نظر آتے ہیں جن کا سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔اسے خام اعدادوشمار(raw data) کہا جاتا ہے۔انھیں قابل استعمال بنانے اور بامعنی نتائج اخذ کرنے کے لیے خام اعداد وشمار کی جدول بندی اور درجہ بندی کی جاتی ہے۔
اعدادوشمار اختصار کے ساتھ پیش کرنے کا ایک سب سے آسان طریقہ شماریاتی جدول(Statistical Table) ہے۔یہ اعدادوشمار کا کالم اور صفوں میں رکھنے کا اصولی بندوبست ہے۔یہ جدول قاری کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ مطلوبہ معلومات کی پہچان جلدازجلد کر لے۔ اس طرح ایک تجزیہ نگار جدول کے ذریعہ کثیر تعداد میں اعدادوشمار کوکم سے کم جگہ میں منظم طور پر پیش کر سکتا ہے۔

اعدادوشمار کی جمع بندی اور پیش کش) (Data Compilation and Presentatio

اعدادوشمار کو جمع کیا جاتا ہے، اس کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور اسے جدول کی شکل میں مطلق عدد، فی صد یا اشاریات کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔

مطلق اعدادوشمار(Absolute Data)

جب اعدادوشمار کو ان کی اصلی شکل میں عددی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے تو اسے مطلق اعدادوشمار یا خام اعداد وشمار کہا جاتا ہے۔مثال کے طور پر کسی ملک یا صوبے کی کل آبادی ، کسی فصل یا کارخانہ صنعت کی کل پیداوار وغیرہ۔جدول 1.1میں ہندوستان اور کچھ منتخب صوبوں کی آبادی کا مطلق اعدادوشمار دکھایا گیا ہے۔

جدول 1۔1 ؛ ہندستان اور منتخب صوبوں  مرکز کے تحت علاقوں کی آبادی   2011


        صوبوں/ مرکز کے تحت      ہندوستان /صوبے /مرکز                         کل آبادی
علاقوں کا کوڈ کے                 تحت علاقے 
عورتیں مرد افراد
4 3 2
58,74,47,730 62,31,21,843 1,21,05,69,573 ہندوستان  1
59,00,640 66,40,662 1,25,41,302 جموں اور کشمیر  2 1
33,82,729 34,81,873 68,64,602 ہماچل پردیش 2
1,31,03,873 1,46,39,465 2,77,43,338 پنجاب 3
4,74,787 5,80,663 10,55,450 چنڈی گڑھ  3 4
49,48,519 51,37,773 1,00,86,292 اتراکھنڈ 5
1,18,56,728 1,34,94,734 2,53,51,462 ہریانہ 6
78,00,615
89,87,326
1,67,87,941 دہلی کا قومی راجدھانی خطہ 7
3,29,97,440
3,55,50,997
6,85,48,437 راجستھان 8
9,53,31,831
10,44,80,510
19,98,12,341 اترپردیش 9
4,98,21,295
5,42,78,157
10,40,99,452 بہار 10
    1  ہندوستان کی کل علاقائی سرحدوں کو شامل کرتے ہوئے
    2    پاکستان کے مقبوضہ علاقوں کو چھوڑ کر 

فی صد/تناسب (Percentage/Ratio) 

کبھی کبھی اعدادو شمار کی فہرست تناسب یافی صد کی شکل میں کی جاتی ہے جس کی تحسیب ایک عام مقیاس(parameter) پر کی جاتی ہے جیسے شرح خواندگی یا آبادی کی شرح نمو، زراعتی یا صنعتی پیداوار کا فی صدوغیرہ۔جدول 1.2 میں ہندوستان کی شرح خواندگی کودہائیوں میں فی صدکی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ شرح خواندگی کا حساب اس طرح کیا جاتاہے۔
Capture7

جدول  1.2 :  شرح خواندگی *  :  1951 - 2001 


عورت مرد افراد سال
8.86
15.35
21.97
29.76
39.29
54.16
64.6
27.16
40.4
45.96
56.38
64.13
75.85
80.9
18.33
28.3
34.45
43.57
52.21
64.84
7.30
1951
1961
1971
1981
1991
2001
2011

    * کل کے فی صد کی شکل میں
   ماخذ :  ہندوستان کی مردم شماری  2011 

علامتی عدد(Index Number) 

علامتی عدد ایک شماریاتی پیمائش ہے جسے متغیر یا وقت، جغرافیائی محل وقوع یا دوسری خصوصیات سے متعلق متغیرات کے گروپ میں تبدیلیوں کو دکھانے کے لیے وضع کیا جاتا ہے۔یہاں توجہ دینے کی بات یہ ہے کہ علامتی عدد نہ صرف وقت کے ساتھ ہوئی تبدیلیوں کی پیمائش کرتے ہیں بلکہ مختلف مقامات، صنعتوں، شہروں اور ممالک کے معاشی حالات کا موازنہ بھی کرتے ہیں۔علامتی عدد کا استعمال علم معاشیات اور کاروبار میں لاگت اور کمیت میں تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے۔علامتی عدد کا حساب لگانے کے لیے بہت سے طریقے ہیں۔پھر بھی عام طور پر آسان مجموعی طریقہ (simple aggregate method )کا استعمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔اسے مندرجہ ذیل طریقہ کو استعمال کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔
       Capture8               
  Capture9    =  موجودہ سال کی پیداوار کا مجموعہ
 Capture10  =  بنیادی سال کی پیداوار کامجموعہ
عام طور پر بنیادی سال کی قیمت کو 100 مان کر اسی کی بنیاد پر علامتی عدد کی تحسیب کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر جدول 1.3 ہندوستان میں خام لوہے کی پیداوار اور 1970 - 71  کو بنیادی سال مانتے ہوئے1970-71 سے 2000-01 تک کے علامتی عدد میں تبدیلی کو دکھاتا ہے۔

��جدول 1.3 : ہندوستان میں خام لوہے کی پیداوار

پیداوار (ملین ٹن میں) تحسیب
علامتی عدد
1970-71 32.5 32.5/32.5×100 100
1980-81 42.2 32.5/32.5×100 130
1990-91 53.7 32.5/32.5×100 165
2000-01 67.4 32.5/32.5×100 207
ماخذ ۔ انڈیا: اکنامک ایر بک، 2005

 (Processing of Data) اعداد و شمارکی عملی ترکیب 

خام اعدادو شمار کو عمل میںلانے کے لیے چنندہ جماعتوں میںان کی جدول بند ی اورجماعت بندی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔مثال کے طور پر جدول 1.4 میں دیے گئے اعداد و شمار کا استعمال یہ سمجھانے کے لیے کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح ان کی عملی ترکیب کی گئی ہے؟ 
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دیی گے اعدادوشمار غیر جمع بند ہیں۔اس لیے ان کی ضخامت کو کم کرنے اور انھیں آسانی سے سمجھنے کے لیے پہلا قدم ان کی جمع بندی کرنا ہے۔

جدول 1.4 : جغرافیہ کے پرچے میں 60 طلبا کے حاصل کردہ نمبرا

47
89
32
18
56
64
02
96
22
51
58
37
39
74
53
36
43
17
64
06
62
58
74
31
22
26
73
28
64
41
46
15
57
65
12
71
28
92
37
63
35
56
02
84
44
59
42
83
09
84
67
75
68
59
10
90
50
70
80
90

(Grouping of Data)اعدادوشمار کی جمع بندی 

خام اعداد وشمار کی جمع بندی کے لیے درجوں کی تعداد کو متعین کرنا پڑتا ہے جس میں خام اعداد وشمار کو وقفہ(interval) کے ساتھ درجہ بند کیا جاتا ہے۔درجاتی وقفے (class interval) اوردرجوںکاانتخاب خام اعدادوشمار کی حد(range) پر منحصرہوتا ہے۔جدول 1.4 میں دیے گئے اعدادوشمار کا حد02 سے96 تک ہے۔آسانی کے لیے ہم اعدادوشمار کو ہر درجے میں 10 اکائیوں کے وقفے کے ساتھ10 جماعتوں میں رکھ سکتے ہیں۔مثلاً  0-10 ،10-20 ،  20-30 وغیرہ (جدول  1.5 )۔

جدول 1.5 :  تواتر(frequency) نکالنے کے لیے ملانا

افراد کی تعداد ملانے کا نشان خام اعدادوشمار جماعت
4 / / / / 02, 02, 09, 06 0 - 10
5 / / / / 10, 15, 18, 12, 17 10 - 20
5  / / / / 22, 28, 26, 22, 28 20 - 30
7 / / / / / / 39, 32, 37, 36, 35, 37, 31 30 - 40
6 / / / /  / 47, 46, 44, 43, 42, 41 40 - 50
10 / / / / / / / / 53, 57, 50, 51, 58,
59, 56, 58, 56, 59
50 - 60
8 / / / / / / / 64, 62, 67, 65
63, 64, 68, 64
60 - 70
6 / / / / / /
74, 73, 75, 70, 74, 71
70 - 80
5 / / / / / / / 89, 84, 84, 80, 83
80 - 90
4

/ / / / / / / 96, 92, 90, 90
90 - 100
∑f=N=60


(Process of Classification)درجہ بندی کا عمل 

جب ایک بار درجوں کی تعداد اور ہر جماعت کے درجاتی وقفے کی تعین ہو جاتی ہے،تب خام اعدادوشمار کی درجہ بندی کی جاتی ہے جیسا کہ جدول 1.5 میں دکھایا گیا ہے۔اسے اس طریقے سے کیا جاتا ہے جسے عام طور پر فور اور کراس طریقہ (Four and Cross Method) یا ٹیلی مارک کہا جاتا ہے۔
سب سے پہلے درجے کی ہر اکائی کے لیے جس میں وہ آتا ہے ایک ٹیلی نشان مقرر کر لیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر خام اعدادو شمار کا پہلا عدد 47 ہے ۔چونکہ یہ 40-50 کی جماعت میں آتا ہے ،جدول 1.5 کے تیسرے کالم میں ایک ٹیلی نشان درج کر دیا جاتا ہے۔

تواتر کی تقسیم (Frequency Distribution)

جدول 1.5 میں ہم نے کمیتی متغیر کے خام اعدادوشمار کو درجہ بند کر لیا ہے اور ان کی درجہ وار جماعت بندی کر لی ہے۔افراد کی تعداد(جدول 1.5 کے چوتھے کالم میں دی گئی جگہ )کو تواتر کہا جاتا ہے اور کالم تواتر کی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔یہ واضح کرتا ہے کہ ایک متغیرکی مختلف قدروں کو کس طرح مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔تواتر کو سادہ یا معمولی (simple)اور مجموعی (cumulative)      د رجات میں منقسم کیا جاتا ہے۔

 (Simple Frequencies) معمولی تواتر

 کے ذریعے دکھایا جانے والا معمولی تواتر ہر جماعت کے افراد کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے(جدول 1.6 )۔ تمام جماعتوں میں درج تواتر کا جمع،دئے گئےسلسلے میں انفرادی مشاہدات کی کل تعداد کی نما ئندگی کرتا ہے۔علم شماریات میں اسے  N کی علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے جو f∑کے برابر ہوتا ہے ۔ ا سے 60=N=f∑
جدول1.5 اور1.6 )کی صورت میں ظاہر کیا گیا ہے۔

 جدول 1.6   :   تواتر کی تقسیم

Cf f جماعت
4
9
14
21
27
37
45
51
56
60
4
5
5
7
6
10
8
6
5
4
 60=f=N∑

00-10
10-20
20-30
30-40
40-50
50-60
60-70
70-80
80-90
90-100

 (Cumulative frequencies)مجموعی تواتر

مجموعی تواتر کو  'Cf' کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جسے ہر درجے میں دی گئی یکے بعد دیگرے معمولی تواتر کو پہلے مجموعے کے ساتھ جوڑ کر حاصل کیا جا سکتا ہے،جیسا کہ جدول 1.6 کے کالم 3 میں دکھایا گیا ہے۔مثال کے طور پر جدول 1.6 میں 
پہلا معمولی تواتر 4 ہے۔دوسرا تواتر 5 کو 4 میں جوڑا گیا ہے جس کا جمع 9 ہے جو اگلا مجموعی تواتر ہے۔اسی طرح ہر ایک عدد کو جوڑتے جائیں تو آخری مجموعی تواتر 60 حاصل ہوگا۔غور کریں کہ یہ N یاکے برابر ہے۔
  کے برابر ہے۔مجموعی تواترکا فائدہ یہ ہے کہ ایک آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ 27 افراد ایسے ہیں جن کے حاصل کردہ نمبرات 50 سے کم ہیں یا 60 طلبا میں سے 45 کے نمبرات 70 سے نیچے ہیں۔ ∑f  یا N
ہر معمولی تواتر اپنی جماعت یا درجے سے منسلک ہوتا ہے۔جماعت یا درجوں کو تیار کرنے کے لیے استثنائی(exclusive) یاشاملاتی(inclusive)طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

 (Exclusive Method)استثنائی طریقہ

جیسا کہ جدول 1.6کے پہلے کالم میں دو عدد دکھائے گئے ہیں۔غور کریں کہ ایک جماعت کی اوپری حد اگلی جماعت کی نچلی حد کی طرح ہے۔مثال کے طور پرایک جماعت (20-30)کی اونچی حد 30 ہے جو اگلی جماعت(30-40)کی نچلی حد ہے۔30 دونوں جماعتوں میں ہے لیکن کوئی بھی مشاہدہ جس کا مقدار 30 ہے اس جماعت میں رکھا جائے گا جس میں یہ نچلی حد پر ہے اور اس جماعت سے مستثنیٰ ہوگا جس میں یہ نچلی حد ہے۔ اس لیے اسے استثنائی طریقہ کہتے ہیں۔اب آپ پتہ لگا سکتے ہیں کہ جدول 1.4 کے سبھی حاشیائی قیمتوں کی جگہ کہاں ہوگی۔
جدول 1.6 میں جماعتوں کی تصریح اس طرح کی گئی ہے۔
0 اور 10 سے نیچے 10 اور 20 سے نیچے
20 اور 30 سے نیچے 30 اور 40 سے نیچے
40 اور 50 سے نیچے 50 اور 60 سے نیچے
60 اور70 سے نیچے 70 اور 80 سے نیچے
80 اور 90 سے نیچے 90 اور 100سے نیچے

جدول  1.7  :  تواتر کی تقسیم


cf f جماعت
4
9
14
21
27
37
45
51
56
60
4
5
5
7
6
10
8
6
5
4
 60=f=N∑
0-9
10-19
20-29
30-39
40-49
50-59
60-69
70-79
80-89
90-99

اس طرح کی جماعت بندی میں درجے کی وسعت 10 اکائیوں تک ہوتی ہے۔مثال کے طور پر 20 ،21 ، 22 ،23، 24،25،26،27،28 اور29 تک کے اعداد تیسری جماعت میں شامل ہوں گے۔

(Inclusive Method)شاملاتی طریقہ 

اس طریقے میں ایک مقدار جو جماعت میں اونچی حد کی قیمت کے برابر ہوتی ہے ،اسی جماعت میں رکھا جاتا ہے۔اسی لیے اس طریقے کو شاملاتی طریقہ کہا جاتا ہے۔اس طریقے میں درجوں کو ایک الگ شکل میں دکھایا جاتا ہے جیسا کہ جدول 1.7 کے پہلے کالم میں دکھایا گیا ہے۔عموماً ایک جماعت کی اونچی حد اور دوسری جماعت کی نچلی حد میں ایک کا فرق ہوتا ہے۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس طریقہ میں بھی ہرجماعت کی وسعت 10 اکائیوں تک ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر 59–50کی جماعت میں دس مقدار شامل ہیں یعنی 50 ، 51 ،52 ،  53 ،54 ، 55 ،56 ،57 ،58 اور59 (جدول1.7)۔اس طریقے میں تواتر کی تقسیم کا پتہ لگانے کے لیے اونچی اور نچلی دونوں حدیں شامل کی جاتی ہیں۔

(Frequency Polygon) تواتر کثیرالزوایہ

 تواتر کی تقسیم کا گراف تواتر کثیر الزوایہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ دو یا دو سے زیادہ تواتر کی تقسیم کا موازنہ کرنے میں مددگار ہے (شکل1.5 )۔دو تواتر کو بالترتیب ڈنڈاخاکہ اور خطی گراف سے دکھایا گیا ہے۔

اوجائیو (Ogive) —نوک دار محراب

جب تواتر کو جوڑ دیا جاتا ہے ،تو اسے مجموعی تواتر کہا جاتا ہے اور جس جدول میں ان کی فہرست بنائی جاتی ہے اسے مجموعی تواترکا جدول (cumulative frequency table) کہا جاتا ہے۔ مجموعی تواتر کی خاکہ کشی کے ذریعہ حاصل خمیدگی(curve) کو محراب اوجائیو(Ogive)کہا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر یا تو ’’کمتر طریقہ‘‘(less than method) یا ’’بیشترطریقہ‘‘(more than method)کے ذریعہ کی جاتی ہے۔
کمتر طریقہ میں ہم درجے کی اونچی حد سے آغاز کرتے ہیں اور ہر درجے کی تواتر کو جوڑتے جاتے ہیں۔ جب ان تواتر کی   خاکہ کشی کی جاتی ہے تو ہمیں ایک اوپر اٹھتی ہوئی خمیدگی حاصل ہوتی ہے جسے جدول 1.8 اور شکل1.6 میں دکھایا گیا ہے۔
بیشترطریقہ میں ہم درجے کی نچلی حد سے شروع کرتے ہیں اور مجموعی تواتر سے ہر ایک درجے کے تواتر کو گھٹاتے جاتے ہیں۔جب ان تواتر کی خاکہ کشی کی جاتی ہے تو ہمیں ایک نیچے کی طرف جاتی ہوئی خمیدگی حاصل ہوتی ہے جسے جدول 1.9 اور شکل1.7 میں دکھایا گیا ہے۔
کمتراوجائیواور بیشتر اوجائیو کا موازنہ کرنے کے لیے مذکورہ دونوں شکلوں1.5 اور1.6 کو جمع کیا جا سکتا ہے جیسا کہ جدول 1.10 اور شکل1.7 میں دکھایا گیا ہے۔ 

طلبا کی تعداد

17
حاصل نمبرات

شکل 1.5 : تواتر کثیر الزاویہ کی تقسیم

جدول  1.8  :  تواتر کی تقسیم  کمتر طریقہ


cf کمتر طریقہ
4
9
14
21
27
37
45
51
56
69
10 سے کم
20سے کم
30سے کم
40سے کم
50سے کم
60سے کم
70سے کم
80سے کم
90سے کم
100سے کم


جدول  1.9  :  تواتر کی تقسیم  بیشتر طریقہ

cf کمتر طریقہ
60
56
51
44
38
28
20
14
9
4
 0 سے زیادہ
10 سے زیادہ
20 سے زیادہ
30 سے زیادہ
40 سے زیادہ
 50سے زیادہ
60 سے زیادہ
70 سے زیادہ
80 سے زیادہ
90سے زیادہ


جدول  1.10  :  کمتراور  بیشتراوجائیو

بیشتر کمتر حاصل نمبرات
60
56
51
44
38
28
20
14
9
4
4
9
14
21
27
37
45
51
56
60
0-10
10-20
20-30
30-40
40-50
50-60
60-70
70-80
80-90
90-100


طلبا کی تعداد

21

شکل 1.6   :  کمتر اوجائیو

22

شکل 1.7   :  بیشتر اوجائیو

picture 1

شکل 1.8   :  کمتر اور بیشتر اوجائیو


مشق

1 ۔   ذیل میں دیے گئے چار متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے:

(i) ایک عدد یا صفت جو پیمائش کی نمائندگی کرتا ہے،کہتے ہیں
(a)    ہندسہ (b)   اعدادوشمار (c)     عدد (d)    صفت
(ii)  ڈیٹم ایک تنہا پیمائش ہے
(a)   جدول کی (b)   تواتر کی (c)   اصل دنیا کی (d)    معلومات کی

(iii) ایک ملانے کے نشان میں چار کی جمع بندی پر پانچویں کے ذریعے کاٹنے کو کہتے ہیں 

(a)    فور اینڈ کراس طریقہ (b)   ملان یا ٹیلی نشان طریقہ
(c)   تواتر خاکہ کشی طریقہ (d)   شاملاتی طریقہ
  (iv) اوجائیو ایک طریقہ ہے جس میں
(a)   معمولی تواتر کی پیمائش کی جاتی ہے (b)   مجموعی تواتر کی پیمائش کی جاتی ہے
(c)   معمولی تواتر کی خاکہ کشی کی جاتی ہے (d)   مجموعی تواتر کی خاکہ کشی کی جاتی ہے

(v)  اگر جماعت کی دونوں حدیں تواتر کی جماعت بندی میں کی  گئی ہوں تو اسے کہتے ہیں

(a)   استثنائی طریقہ (b)   شاملاتی طریقہ
(c)   نشان لگانے کا طریقہ (d)   شماریاتی طریقہ

2 ۔   مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے:

(i)  اعدادوشمار اور معلومات میں فرق واضح کیجیے۔
(ii)  اعدادوشمار کی عملی ترکیب سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(iii)  کسی جدول میں حاشیہ لکھنے سے کیا فائدہ ہے؟
(iv)  اعدادوشمار کے ابتدائی وسائل سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(v)  ثانوی اعدادوشمار کے پانچ ذرائع  بتائیے۔

3 ۔   مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 125 الفاظ میں دیں:

(i) قومی اور بین الاقوامی ایجنسیوں کا تذکرہ کیجیے جہاں سے ثانوی اعدادوشماراکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔
(ii)  عدد اشاریہ کی اہمیت کیا ہے؟علامتی عدد کی عملی تحسیب بتانے کے لیے ایک مثال لے کر تبدیلیوں کو دکھائیے۔

سرگرمی

1 ۔ جغرافیہ کے 35 طلبا کی ایک جماعت میں ایک اکائی جانچ کے 10 نمبرات میں سے مندرجہ ذیل نمبرات حاصل ہوئے۔ ,4,5,4,9,7,9,8,7,3,4,5,6,7,2,3,6,3,5,4,8,5,2,0,4,3,2,7,6,5,4,3,2,0,-1   3۔اعدادوشمار کو درجہ بند تواتر کی تقسیم کی شکل میں دکھائیے۔
2 ۔ اپنی جماعت میں جغرافیہ میں آخری جانچ کے نتیجے کو حاصل کیجیے اور نمبرات کو جمع بند تواتر کی تقسیم کی شکل میں ظاہر کیجیے۔

�����