Skip to content
Jughrafiameinamlikam-II-002

1

2        اعدادوشمار کی عملی ترکیب (Data Processing)

گذشتہ باب میں آپ نے پڑھا کہ اعدادوشمار کا نظم ونسق اورپیش کش انھیں قابل فہم بناتا ہے۔اس سے اعدادوشمار کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔اعدادوشمار کا تجزیہ کرنے کے لیے کئی شماریاتی تکنیکوں کا استعمال کیاجاتا ہے۔اس باب میں آپ مندرجہ ذیل تکنیک کی آموزش کریں گے۔

مرکزی رجحان کی پیمائش

انتشار کی پیمائش

رابطہ وتعلق کی پیمائش

مرکزی رجحان کی پیمائش جہاں مشاہدات کی ایک جماعت کی مثالی نمائندگی کرنے والا مقدارفراہم کرتی ہے وہیں انتشار کی پیمائش اعدادوشمار کے اندرونی تغیرات کا پتہ دیتی ہے،جو اکثر مرکزی رجحان کی پیمائش کے قریب ہوتے ہیں۔دوسری طرف رابطے کی پیمائش دویا دوسے زائدمتعلق مظاہر جیسے بارش اورسیلاب کا واقعہ یا کھاد کا استعمال اورفصلوں کی پیداوارکے درمیان باہمی تعلق کے درجہ کوپیش کرتی ہے۔

مرکزی رجحان کی پیمائش:(Measures of Central Tendency)

قابل پیمائش صفات جیسے بارش،بلندی،آبادی کی کثافت، تعلیمی حصولیابی کی سطح یا عمر کی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں۔اگر ہم ان کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیاکرنا ہوگا؟اس کے لیے شاید ہمیں ایک ایسی قیمت یا مقدار کی ضرورت ہوگی جو تمام مشاہدات کی بہتر نمائندہ ہو۔ یہ ایک تنہا قیمت یا مقدار عموماًتقسیم کے کسی کنارے پر ہونے کے بجائے اس کے مرکز کے نزدیک واقع ہوتی ہے۔تقسیم کا مرکز معلوم کرنے والی شماریاتی تکنیکوں کو مرکزی رجحان کی پیمائش کے نام سے جانا جاتا ہے۔مرکزی رجحان کو ظاہر کرنے والا عدد اعدادوشمار کی تمام جماعت کا نمائندہ عدد ہوتا ہے 

کیونکہ یہ ایسا نقطہ ہے جس کے اردگردمدوں کے انتشار کا رجحان ہوتا ہے۔

مرکزی رجحان کی پیمائش کو شماریاتی اوسط کے نام سے بھی جاناجاتا ہے۔ اس کی کئی پیمائشیں ہیں جیسے درمیانہ (Mean)وسطی (Median)اورتکثیری طرز(Mode)

درمیانہ (Mean)

درمیانہ وہ قیمت ہے جو سبھی قیمتوں کے مجموعہ کو کل مشاہدات کی عدد سے تقسیم دینے پر حاصل ہوتی ہے۔

وسطی (Median)

وسطی مرتبہ کی وہ مقدار ہے جو مرتب سلسلہ کو دوبرابر اعدادمیں تقسیم کرتی ہے۔ یہ مقدار اصل مقداروں سے آزاد ہوتی ہے اعدادوشمار کو کم یا اضافہ شدہ ترتیب میں منظم کرنا اوردرمیانی عدد کا پتہ لگانا وسطانیہ کی تحسیب میں سب سے اہم کام ہے۔جفت عدد ہونے کی صورت میں دودرمیانی مرتبت مقداروں کا اوسط وسطی ہوگا۔

 طرز تکثیر (Mode)

کسی نقطے یا مقدار کی کثرت وقوع یا تواتر تکثیری طرز ہوتا ہے۔ آپ نے غور کیاہوگا کہ مختلف قسم کے اعدادوشمار کے مجموعہ کے لحاظ سے ایک واحد نمائندہ عدد متعین کرنے کے لیے ان پیمائشوں میں سے ہر ایک کا طریقہ الگ الگ ہے۔

درمیانہ (Mean)

کسی متغیرکی مختلف قدروںکا آسان حسابی اوسط درمیانہ کہلاتا ہے۔غیردرجہ بند اوردرجہ بند اعدادوشمار کے لیے درمیانہ کو معلوم کرنے کا طریقہ الگ الگ ہے۔ درجہ بند اورغیر درجہ بند دونوں قسم کے اعدادوشمار کے لیے درمیانہ، بلاواسطہ اوربالواسطہ طریقوں سے نکالاجاتا ہے۔

غیردرجہ بند اعدادوشمار سے درمیانہ کی تحسیب (Computing Mean from Ungrouped Data)

بلاواسطہ طریقہ (Direct Method)

غیردرجہ بند اعدادوشمار سے بلاواسطہ طریقے کے ذریعہ درمیانہ کی تحسیب کرنے کے لیے مشاہدہ کی سبھی قدروں کو جوڑ کر مشاہدات کی کل تعداد سے تقسیم کرتے ہیں۔ درمیانہ کی تحسیب مندرجہ ذیل فارمولہ کااستعمال کرکے کی جاتی ہے۔

Capture13

جہاں

Capture14=درمیانہ

∑=سلسلۂ پیمائش کا مجموعہ

 x=پیمائش کے سلسلے میں خام شمار

X∑=پیمائشوں کے سبھی قدروں کا مجموعہ

N=پیمائشوں کی تعداد

مثال2.1: مدھیہ پردیش میں مالواپٹھار کے مختلف اضلاع کی جدول2.1 میں دی گئی بارش کی بنیادپر اس علاقے کی درمیانہ بارش کی تحسیب کیجیے۔


مالوہ پٹھار کے اضلاع عام بارش (ملی میٹر میں) بالواسطہ طریقہ
بلا واسطہ طریقہ x *800-d=x
اندور
دیواس
دھار
رتلام
اجین
منڈسور
شاجاپور
979
1083
833
896
891
825
977
179
283
33
96
91
25
177
x∑اورd∑ 6484 884
m 926.29 126.29



٭جس میں 800 تصوراتی درمیانہ ہے۔
dتصوراتی درمیانہ سے انحراف ہے۔

جدول2.1 میں دیے گئے اعدادوشمار کی تحسیب اس طرح کی جائے گی۔

3
درمیانہ کی تحسیب سے یہ سمجھاجاسکتا ہے کہ بارش کے خام اعدادکو بلاواسطہ طریقہ پر جوڑلیاگیا ہے اوراس کے جمع کو مشاہدات کی تعداد (اضلاع کی تعداد)سے تقسیم کردیاگیا ہے اس لیے اسے بلاواسطہ طریقہ (Direct Method)کہتے ہیں۔
بالواسطہ طریقہ (Indirect Method)
مشاہدات کی تعداد جہاں بہت زیادہ ہوتی ہے وہاں درمیانہ کی تحسیب کے لیے عموماًبالواسطہ طریقے کا استعمال کیاجاتا ہے۔اس طریقے میں ایک عدد مستقل کوسبھی  قدروں سے کم کرنے پر مشاہدات کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔مثال کے طورپر جدول2.1 میں دکھایاگیا ہے کہ بارش کی مقدار 800سے1100ملی میٹر  اس کے درمیان ہے۔ہم ایک ’’تصوراتی درمیانہ‘‘مان کر ان مقداروں کی وسعت کو کم کرسکتے ہیں۔اس مثال میں ہم نے 800 کو تصوراتی درمیانہ لے لیا ہے۔ اس طرح کے عمل کو کوڈنگ طریقہ (Coding)کہتے ہیں۔ اس کے بعد کم کی ہوئی قدروں کی بنیادپر درمیانہ کی تحسیب کرلی جاتی ہے(جدول2.1 میں کالم3–)
بالواسطہ طریقہ سے درمیانہ کی تحسیب درج ذیل فارمولے سے کی جاتی ہے:
Capture18
جہاں
A= کم ہونے والاعدد مستقل
d∑= عدد مستقل سے انحرافی مقدار
N= مذکورہ سلسلے میں انفرادی مشاہدات کی تعداد
جدول2.1 میں دیے گئے اعدادوشمار کے لیے بالواسطہ طریقے سے درمیانہ کی تحسیب اس طرح کی جاتی ہے:
Capture19
x=926.29 ملی میٹر
یہاں غورکرنے کی بات یہ ہے کہ خواہ جس طریقے سے بھی درمیانہ کی تحسیب کی گئی ہو اس کی مقدار یکساں ہوگی۔

درجہ بندی اعدادوشمار سے درمیانہ کی تحسیب (Computing Mean from Grouped Data)

درجہ بند اعدادوشمار سے بھی بلاواسطہ اوربالواسطہ طریقے سے درمیانہ کی تحسیب کی جاتی ہے۔

بلاواسطہ طریقہ (Direct Method)

جب تواتر کی تقسیم کی صورت میں اعدادوشمار درجہ بند ہوں تو انفرادی قدروں کی پہچان نہیں رہتی۔ان تمام قدروں کی نمائندگی درجے کے وقفہ کے وسطی نقاط سے ہوجاتی ہے جس میں وہ واقع ہیں۔درجہ بند اعدادوشمار کے لیے بلاواسطہ طریقہ سے درمیانہ کی تحسیب کرتے وقت ہردرجے کے وسطی نقطہ سے اس میں واقع تواتر(f)سے ضرب دیاجاتا ہے۔fx(اس میںxوسطی نقطہ ہے)کی تمام قدروں کو جوڑ کرfx∑حاصل کیاجاتا ہے جسے مشاہدات کی کل تعداد سے تقسیم کیاجاتا ہے۔ اس طرح درمیانہ کی تحسیب مندرجہ ذیل طریقہ سے کی جاتی ہے:
sy
جس میں
x=درمیانہ
      f=تواتر
x=درجاتی وقفے کا وسطی نقطہ 
N=مشاہدات کی تعداد(اس کوf∑بھی کہاجاتا ہے)
مثال:2.2 جدول2.2 میں دیے گئے اعدادوشمار کا استعمال کرکے فیکٹری میں کام کرنے والوں کی درمیانہ مزدوری شرح کا حساب لگائیں:

جدول:2.2 فیکٹری مزدوروں کی مزدوری کی شرح


مزدوری کی شرح(روپیے/یومیہ) مزدوروں کی تعداد(f)
درجات f
50-70
70-90
90-110
110-130
130-150
10
20
25
35
9

5

جدول:2.3 درمیانہ کی تحسیب



درجات تواتر(f) وسطی نقطہ(x) fx d=x-100 fd 20/(u=(x-100 fu
50-70
70-90
90-110
110-130
130-150
10
20
25
35
9
60
80
100
120
140
600
1,600
2,500
4,200
1,260
40-
20-
0
20
40
400-
400-
0
700
360
2-
1-
0
1
2
20-
20-
0
35
18
fx∑اورfx∑ 99=f∑ =fx∑
10.160


=fd∑
260
13=fu∑
جس میں 99= n

6
جدول2.3 میں درجہ بنداعدادوشمار کے لیے درمیانہ کی تحسیب کرنے کا طریقہ بتایاگیا ہے۔دیے گئے تواتر کی تقسیم میں 99 مزدوروں کو مزدوری شرح کے پانچ درجوں میں درجہ بند کیاگیا ہے۔ان درجوں کے وسطی نقاط کی فہرست تیسرے کالم میں دی گئی ہے۔درمیانہ معلوم کرنے کے لیے ہروسطی نقطے (x) کو اس سے متعلقہ تواتر (f) سے ضرب دیاگیا ہے اوران کے مجموعہ(fx∑) کوNسے تقسیم کیاگیا ہے۔
اس طرح مندرجہ ذیل طریقہ کا استعمال کرکے درمیانہ کی تحسیب کی جاسکتی ہے۔
8
              = 102.6 

بالواسطہ طریقہ (Indirect Method)

درجہ بند اعدادوشمار سے بالواسطہ طریقہ سے درمیانہ معلوم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ کا استعمال کیاجاسکتا ہے۔ اس طریقہ کے اصول غیر درجہ بند اعدادوشمار کے لیے بلاواسطہ طریقہ کے مشابہ ہیں۔
7
جس میں
       = Aتصوراتی درمیانہ والی جماعت کا وسطی نقطہ
(جدول2.3میں90 –100تصوراتی درمیانہ والا درجہ مان لیاگیا ہے جس کا وسط100ہے)
= fتواتر
=dتصوراتی درمیانہ والے درجہ(A)سے انحراف
= Nتمام مدوں کا مجموعہ یا  f∑
i=  وقفہ کی وسعت(اس حالت میں20ہے)
جدول2.3 سے بالواسطہ طریقے سے درمیانہ کی تحسیب کرنے سے متعلق مندرجہ ذیل اقدام کیے جاتے ہیں:
(i) درمیانہ کو90–110 والے درجے میں مان لیاگیا ہے،جہاں تک ممکن ہوتصوراتی درمیانہ کو سلسلہ کے وسط سے قریب ترہونا چاہیے۔ اس عمل سے تحسیب کی ضخامت کم ہوجاتی ہے۔ جدول 2.3 میںA (تصوراتی درمیانہ) 100ہے جو 90–110  والے درجے کا وسطی نقطہ ہے۔
(ii) پانچویں کالم (u)میں ہرجماعت کے وسطی نقطے کا تصوراتی درمیانہ والے (90–110) کے وسط نقطہ سے انحراف دکھایاگیا ہے۔
(iii) چھٹے کالم میںfdحاصل کرنے کے لیے ہر تواتر (f) کو اس سے متعلقہ dکی قیمت سے ضرب دیاگیا ہے۔اس کے بعدfdکے منفی اورمثبت اعدادکو الگ الگ جوڑ کر ان کا مطلق فرق(fd∑)حاصل کیاگیا ہے۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ fd∑سے متعلق نشان Aکے بعد طریقے میں دیے گئے+کے نشان سے بدل جاتا ہے۔
بالواسطہ طریقے کا استعمال کرکے درمیانہ کا حساب اس طرح کیاجاتا ہے۔
9
نوٹ: بالواسطہ طریقہ مساوی اورغیر مساوی دونوں ہی درجوں کے وقفہ والی تقسیم کے لیے کارآمد ہے۔



وسطی (Median)

وسطی مقامی اوسط ہے۔اس کی تعریف، تقسیم میں ایک ایسے نقطے کی حیثیت سے کی جاسکتی ہے جس کے دونوں طرف قدروں کی مساوی تعداد ہو۔وسطیٰ کی تعبیرMسے کی جاتی ہے۔
غیر درجہ بند اعدادوشمار کے لیے وسطی کی تحسیب (Computing Median for Ungrouped Data)
جب اعدادوشمار غیر درجہ بند ہوں تو انھیں بڑھتی یا گھٹتی ترتیب میں منظم کیاجاتا ہے۔اس مرتب سلسلے میں مرکزی مشاہدے یا قیمت کا جائے وقوع معلوم کرکے وسطی کی تحسیب کی جاتی ہے۔بڑھتی یا گھٹتی ترتیب میں مرتب سلسلے کے کسی بھی سرے سے مرکزی قیمت کا مقام معلوم کیاجاسکتا ہے۔وسطی کی تحسیب کے لیے مندرجہ ذیل طریقے کا استعمال کیاجاتا ہے:
11والے مد کی قیمت
مثال2.3: مندرجہ ذیل بلندیوں کا استعمال کرکے ہمالیہ کی پہاڑی چوٹیوں کی وسطی بلندی کی تحسیب کریں:
8,126میٹر،،8,611میٹر 7,817میٹر،8,172میٹر،8,076میٹر،8,848میٹر،8,598میٹر
تحسیب: وسطی(M)کی تحسیب مندرجہ ذیل اقدام پر مبنی ہوگی۔
(i) دیے گئے اعدادوشمار کو بڑھتی یاگھٹتی ترتیب میں منظم کیجیے۔
(ii) سلسلے میںمرکزی قیمت معلوم کرنے کے لیے طریقے کا استعمال کیجیے۔اس طرح:
12  والے مد کی قیمت
13  والے مد کی قیمت
14    والے مد کی قیمت

یعنی منظم سلسلے میں چوتھے مد کی قیمت وسطی ہوگی۔

بڑھتی ترتیب میں اعدادوشمار کا نظم—
7,817; 8,076; 8,126; 8,172; 8,598; 8,611; 8,848
                        چوتھے مد کی قیمت
اس لیے
    8,172  میٹرM=
درجہ بنداعدادوشمار سے وسطی کی تحسیب (Computing Median for Grouped Data)
اگر اعدادوشمار درجہ بند ہیں توہمیں اس نقطے کی قیمت معلوم کرنی پڑتی ہے جہاں کوئی فرد یا مشاہدہ کسی درجے کے وسط میں واقع ہو۔اس کی تحسیب مندرجہ ذیل طریقہ سے کی جاتی ہے:
15
یا
جس میں
M= درجہ بند اعدادوشمار کا وسطی
1=وسطی درجہ بند کی کمتر حد
i=وقفہ

f=وسطی درجہ کا تواتر
N=تواتر کی کل تعداد یا مشاہدات کی تعداد
C=درجہ وسطی سے قبل درجے کا مجموعی تواتر

مثال2.4: درج ذیل تقسیم کے لیے وسطی کی تحسیب کیجیے۔


درجہ 50-60 60-70 70-80 80-90 100-90 100-110
f 3 7 11 16 8 5
 

17

جدول:2.4 وسطی کی تحسیب


درجات تواتر(f) مجموعی تواتر(f) وسطی درجے کی تحسیب
50-60
60-70
70-80
80-90(وسوطی درجہ)
90-100
100-110
3
7
11
16f
8
5

3
10
21c
37
45
50



mn
f∑یا
N=50
25=
18
وسطی کی تحسیب مندرجہ ذیل اقدام کے مطابق کی جاتی ہے۔
(i)  جدول 2.4 کی طرح تواتر کا جدول بنایاجاتا ہے۔
(ii) جدول 2.4 کے کالم3کے مطابق ہر درجے کے اگلے تواترکوجوڑ کر مجموعی تواتر (F) حاصل کیاجاتا ہے۔
(iii) 19   کے ذریعہ عددوسطی حاصل کیاجاتا ہے جو اس مثال میں20ہے جیساکہ جدول2.4کے کالم 4میں دکھایاگیا ہے۔

(iv)19سے زیادہ قیمت حاصل ہونے تک مجموعی تواتر (F) کی تقسیم میں اوپر سے نیچے کی طرف گنتی کیجیے۔ اس مثال میںN2=25ہے جو40–44والے درجے میں شامل ہے اس لیے اسے درجہ وسطی کہیں گے۔ اس درجے کا مجموعی تواتر 37 ہے،اس سے پہلے درجے کا مجموعی تواتر 21 ہے جب کہ درجہ وسطی کا اصلی تواتر 16 ہے۔
(v) چوتھے قدم پر حاصل تمام مقررہ قیمتوں کو سامنے رکھ کر وسطی کی تحسیب مندرجہ ذیل مساوات سے کی جاتی ہے:
21

طرزتکثیر (Mode)

کسی تقسیم میں جو مقدار کثرت سے باربار واقع ہوتی ہے اسے طرز کہاجاتا ہے۔ اس کانشان Z یا Mo ہے۔طرزتکثیر ایک ایسی پیمائش ہے جس کا استعمال درمیانہ اوروسطی کے مقابلے میں کم کیاجاتا ہے۔کسی اعدادی مجموعہ میں ایک سے زیادہ طرز بھی ہوسکتے ہیں۔
غیر درجہ بند اعدادوشمار کے لیے طرزتکثیر کی تحسیب (Computing Mode for Ungrouped Data)
دیے گئے اعدادوشمار کے مجموعہ سے طرزتکثیر کی تحسیب کرنے کے لیے سب سے پہلے سبھی مدوں کو بڑھتی یا گھٹتی ترتیب میں منظم کرلیاجاتا ہے۔اس سے سب سے زیادہ واقع ہونے والے تواتر کی پہچان کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔

مثال 2.5: مندرجہ ذیل دس طلبا کے جغرافیہ کی جانچ میں حاصل نمبرات کے لیے طرزتکثیر کی تحسیب کیجیے:

61,10,88,37,61,72,55,61,46,22

تحسیب: طرزتکثیر معلوم کرنے کے لیے درج ذیل طریقہ کے مطابق تمام نمبرات کو بڑھتی ترتیب میں منظم کرلیاجاتا ہے:

10,22,37,46,55,61,61,61,72,88
دیے گئے اعدادوشمار کے مجموعہ میں تین بارواقع ہونے والا 61 کا عدد سلسلے کا طرزتکثیر ہے۔ چونکہ اس سلسلے میں کوئی دوسرا عدد ایسی صفت والا نہیں ہے،اس لیے یہ سلسلہ وحدانی طرزتکثیر ہے۔

مثال 2.6: ایک دوسرے نمونے میں دس طلبا کے حاصل کردہ مندرجہ ذیل نمبرات کی بنیاد پر طرزتکثیر کی تحسیب کیجیے:

82,11,57,82,08,11,82,95,41,11

تحسیب: مندرجہ ذیل کے مطابق دیے گئے تمام حاصل کردہ نمبرات کو بڑھتی ترتیب میں سجائیے:

08,11,11,11,41,57,82,82,82,95 
اب آسانی سے مشاہدہ کیاجاسکتا ہے کہ 11اور82کے اعداد تقسیم میں تین بارواقع ہوئے ہیں۔اس لیے اعدادوشمار کا یہ مجموعہ دورخی طرزتکثیر والا ہے۔اگر کسی سلسلے میں تین اعدادکی مساوی اورسب سے زیادہ قیمت ہے تو اس سلسلے کو سہ رخی طرزتکثیر کہتے ہیں۔ ایسے ہی کسی سلسلے میں کئی اعدادکے باربار واقع ہونے کو کثیر رخی طرزتکثیر کہاجاتا ہے۔ پھر بھی اگر کسی سلسلے میں کوئی بھی عدد باربارواقع نہیں ہورہا ہے تو اسے بلاطرزتکثیر کہیں گے۔

درمیانہ،وسطی اورطرزتکثیر کا موازنہ (Comparison of Mean, Median and Mode)

نارمل تقسیمی خم کی مدد سے مرکزی رجحان کی تینوں پیمائشوں کا موازنہ آسانی سے کیاجاسکتا ہے۔نارمل خم تواتر کی ایسی تقسیم ہوتی ہے جس میں نمبرات کی ترسیم کو اکثر گھنٹہ نما خم کہاجاتا ہے۔بہت سے انسانی اوصاف جیسے ذہانت،شخصیت کے نشانات اورطلبا کے تحصیلی نمبرات کی نارمل تقسیم ہوتی ہے۔نارمل تقسیمی خم کی شکل گھنٹہ نماہوتی ہے کیونکہ یہ خم متشاکل ہوتا ہے۔دسرے لفظوں میں زیادہ تر مشاہدات سلسلے کے وسطی مقدار یا اس کے آس پاس مرکوز ہوتے ہیں۔یہ جیسے جیسے انتہائی قدروں کی طرف جاتے ہیں مشاہدات کی تعداد متشاکل طورپر گھٹتی جاتی ہے۔ نارمل خم میں اعدادوشمار کا تغیر کم یازیادہ ہوسکتا ہے۔اس کی ایک مثال شکل 2.3 میں دی گئی ہے۔
نارمل تقسیم کی ایک اہم خصوصیت ہوتی ہے۔جس میں درمیانہ،وسطی اورطرزتکثیر کی قدریں یکساںہوتی ہیں۔ (شکل2.3 میں یہ قدر100ہے) کیونکہ نارمل تقسیم متشاکل ہوتی ہے۔سب سے زیادہ تواتر کی مقدار تقسیم کے وسط میں ہوتی ہے اوراس وسط سے نصف اکائیاں اوپر اورنصف نیچے ہوتی ہے۔ زیادہ تر اکائیاں تقسیم کے وسط میں یا درمیانہ کے نزدیک ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ اورسب سے کم حاصل نمبرات کا تواتر زیادہ نہیں ہوتا، اس لیے انھیں کمتر ہی مانا جاتا ہے۔
اگر اعدادوشمار کسی طرح کج یامنحنی ہوجائیں تو درمیانہ،وسطی اورطرزتکثیر یکساں نہیں ہوں گے اورایسی صورت میں کج اعدادوشمار کے اثرات پر غورکرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔(شکل2.4 اور2.5)
23
شکل:2.3 نارمل تقسیم کا خم
24

شکل 2.4: مثبت کج

شکل 2.5: منفی کج

انتشار کی پیمائش (Measures of Dispersion)

صرف مرکزی رجحان کی پیمائش مناسب طورپر تقسیم کا بیان نہیں کرتی کیونکہ یہ محض تقسیم کاجائے وقوع بتاتی ہیں اوران سے یہ معلوم نہیں ہوتاکہ مختلف اقدار یا پیمائش مرکز کے تعلق سے کس طرح منتشر ہیں۔ مرکزی رجحان کی پیمائش کی اس کمی کو سمجھنے کے لیے ہم جدول 2.5 اور 2.6 میں دیے گئے اعدادوشمار کا استعمال کرتے ہیں۔

جدول: 2.5 افراد کے حاصل کردہ نمبرات جدول: 2.6 افراد کے حاصل کردہ                                  

   جدول2.5:افراد کے حاصل کردہ ببرات
افراد نمبرات
X1
X2
X3
X4
X5
52
55
50
48
45

جدول2.6:افراد کے حاصل کردہ نمبرات     

افراد نمبرات
X1
X2
X3
X4
X5
28
00
98
55
69
              
25
دونوں ہی تقسیم میں 50ہے
یہ دیکھاجاسکتا ہے کہ دونوں اعدادوشمار کے مجموعے (جدول2.5اور2.6) سے نکالاگیا درمیانہ ایک ہی ہے یعنی 50 ۔ جدول 2.5 میں دکھائے گئے سب سے زیادہ اور سب سے کم حاصل کردہ نمبرات بالترتیب 55 اور45 ہیں۔ جدول 2.6 میں دی گئی تقسیم کا سب سے زیادہ نمبر 98 اورسب سے کم نمبر صفرہے۔ پہلی تقسیم کی وسعت 10 اور دوسری تقسیم کی وسعت 98 ہے۔ حالانکہ دونوں گروپ کا درمیانہ یکساں ہے۔ اس دوسری تقسیم میں جو زیادہ غیر مستقل یا غیر یکساں ہے کی بہ نسبت پہلی تقسیم زیادہ مستقل اوریکساں ہے۔ اس سے یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا درمیانہ تقسیم کی تمام خصوصیات کا مناسب اشاریہ ہے۔ اس مثال سے صاف ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے تقسیم کی بہتر تصویر حاصل کرنے کے لیے ہمیں مرکزی رجحان کی پیمائش اورانتشار یا تغیر کی پیمائش کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ 
انتشار کا مطلب مرکزی رجحان کی پیمائش کے اردگرد اکائیوں کے بکھرنے سے سمجھاجاسکتا ہے۔اس کا استعمال اس حد کی پیمائش کرنے کے لیے کیاجاتا ہے جہاںتک انفرادی مدیں یا ہندسی اعداد وشمار ایک اوسط قیمت کے اردگرد بکھر سکتی ہیں یا پھیل سکتی ہیں۔ا س طرح انتشار مرکزی قیمت سے پیمائشوں کے تغیر،بکھراو یا وسعت کا درجہ ہے۔

انتشار مندرجہ ذیل دو بنیادی مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔

(i) اس سے ہمیں تقسیم یا سلسلے کی ساخت کی فطرت کا پتہ چلتا ہے ۔
(ii) اس سے دی گئی تقسیم کا موازنہ استقلال اوریکسانیت کی صورت میں کیاجاسکتا ہے۔

انتشار کی پیمائش کے طریقے (Methods of Measuring Dispersion)

انتشار کی پیمائش کے مندرجہ ذیل طریقے ہیں۔
1۔وسعت
2۔چوتھائی انحراف
3۔درمیانہ انحراف
4۔معیاری انحراف اورتغیرکا ضریب (C.V.)
5۔لارنز خمیدگی
ان طریقوں میں سے ہر ایک کی اپنی افادیت اورکمیاں ہیں۔اس لیے ان میں سے ہر ایک کا استعمال احتیاط سے کرنا ضروری ہے۔ وسعت کے ساتھ ساتھ مطلق پیمائش کی شکل میں معیاری انحراف (s) اور اضافی پیمائش کی صورت میں تغیر کا ضریب (C.V.)
انتشار کی سب سے زیادہ مستعمل پیمائشیں ہیں۔ ہم ان میں سے ہر ایک پیمائش کی تحسیب کا طریقہ بیان کریں گے۔

وسعت (Range)

کسی تقسیمی سلسلے میں بیشتر اورکمتر کے درمیان فرق کو وسعت (R) کہتے ہیں۔ اس طرح یہ کسی سلسلے میں سب سے چھوٹی سے لے کر سب سے بڑی پیمائش کی دوری ہے۔ اس کی تعریف سب سے بلندمقدار میں سب سے نچلی مقدار کو کم کرنے کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔
غیر درجہ بند اعدادوشمار کے لیے وسعت کی تحسیب (Range for Ungrouped Data)

مثال 2.7: روزانہ مزدوری کی مندرجہ ذیل تقسیم کے لیے وسعت کا حساب لگائیے:
100,60,58,55,52,50,48,45,42,40روپیے
وسعت کی تحسیب (Computation of Range)
R کی تحسیب مندرجہ ذیل طریقہ کی مدد سے کی جاسکتی ہے:

R=L- S
جس میں
’R‘وسعت ہے۔
L اور S بالترتیب بیشتر اورکمتر اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس لیے
27
اگر ہم مذکورہ تقسیم سے دسویں قیمت کو ہٹادیں تو R کی قیمت 20 (60–40) رہ جائے گی۔ سلسلے میں سے صرف ایک قدر کو ہٹا دینے پر R کی قیمت کم ہوکر ایک تہائی رہ گئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ تغیر کی پیمائش کے طورپر  R کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ اس کی قیمت مکمل طورپر دوانتہائی قیمتوں پر مبنی ہوتی ہے۔ اس طرح انتشار کی پیمائش کی صورت میں R کا عمل ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح مرکزی رجحان کی پیمائش میں طرزتکثیر کا ہے۔ دونوں ہی پیمائش بہت غیر مستقل ہیں۔
معیاری انحراف (Standard Deviation)
انتشار کی پیمائش کے لیے معیاری انحراف سب سے زیادہ مستعمل پیمائش ہے۔ اس کی تعریف انحرافوں کے مربع کے اوسط جذر کی شکل میں کی جاتی ہے۔اس کا حساب ہمیشہ درمیانہ سے لگایاجاتا ہے۔ معیاری انحراف تغیر کی سب سے زیادہ مستقل پیمائش ہے جس کا استعمال کئی دیگر شماریاتی عمل میں کیاجاتا ہے۔ یونانی حرف σاس کا اشاریاتی حرف ہے۔
معیاری انحراف SD حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے کسی سلسلے کے درمیانہ (x) سے ہر ایک قیمت کے انحراف کا مربع کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس اقدام سے x2نحراف کے سبھی منفی اقدار مثبت ہوجاتے ہیں۔ یہ عمل معیاری انحراف کوا وسط انحراف کی ایک بڑی تنقید سے جو مقدار قوت x کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے بعد تمام مربع انحرافوں کو جوڑلیاجاتا ہے(x2)ہاں اس میں یہ احتیاط رکھنی پڑتی ہے کہ انحرافوں کو پہلے جوڑ کر مربع نہیں کیاجاتا)۔ مربع انحرافوں کے مجموعہ کو مدوں کی تعداد سے تقسیم کرکے اس کا جذر نکالاجاتا ہے۔ اس لیے معیاری انحراف کی تعریف درمیانہ مربع انحراف کے جذر کی شکل میں کی جاتی ہے۔ دیے گئے اعدادوشمار کے کسی بھی مجموعہ کے لیے اس کی تحسیب مندرجہ ذیل طریقہ سے کی جاتی ہے۔

kk
ان اقدام کے دوران مربع نکالنے سے پہلے ایک اصطلاح آتی ہے۔جسیایک خصوصی نام دیاجاتا ہے، تغیر۔تغیر کا استعمال اعلیٰ شماریاتی اعمال میں سب سے زیادہ کیاجاتا ہے۔ اس کا جذر معیاری مربع ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کا برعکس بھی صحیح ہے یعنی معیاری انحراف (SD) کا مربع تغیر ہے۔
غیر درجہ بند اعدادوشمار کے لیے معیاری انحراف (Standard Deviation  for Ungrouped Data)
مثال 2.8: مندرجہ ذیل قیمتوں کے لیے معیاری انحراف معلوم کیجیے:
09,07,05,03,01             
29

جدول 2.7: معیاری انحراف کی تحسیب



pp
xx
ks
1
3
5
7
9
x=25∑
N=5
5=∴
4-
6-/2-
2
Apr-6
16
4
0
4
16
30
آئیے اب ہم اس تحسیب میں مستعمل اقدام کا خلاصہ دیکھیں:
(i) تمام اقدار کو  X کے ذریعے نشان زد کالم میں رکھاگیا ہے۔
(ii) خام اقدار کو جوڑ کر N سے تقسیم کرنے پر درمیانہ معلوم کیاگیا۔
(iii) ہر قدر کے انحراف(x)کو اصل قدرسے درمیانہ کو کم کرکے حاصل کیاگیا ہے۔اس کے صحیح ہونے کی جانچ انحرافوں کے مجموعہ سے کی جاسکتی ہے جو ہمیشہ صفر ہوتا ہے۔اس مشق میںیہ عمل بھی صحیح ہے۔
(iv) انحرافوں xکا مربع کرکے اسے جمع کردیاگیا ہے۔
(v) مربع جاتی انحرافوں کے مجموعہ x2sکو Nیعنی مدوں کی تعداد سے تقسیم کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے تغیر معلوم ہوجاتا ہے۔
(vi) اس کا جذر نکالنے سے معیاری انحراف حاصل ہوتا ہے۔

درجہ بند اعدادوشمار کے لیے معیاری انحراف کی تحسیب

    مثال: اعدادوشمار کی مندرجہ ذیل تقسیم کے لیے معیاری انحراف کی تحسیب کیجیے:
      
درجات 120-130 130-140 140-150 150-160 160-170 170-180
f 2 4 6 12 10 6

           31
مندرجہ ذیل جدول میں درجہ بند اعدادوشمار کے لیے معیاری انحراف معلوم کرنے کا طریقہ سمجھایاگیا ہے۔ اس جدول میں پہلے چارکالموں کے اقدام وہی ہیں جو ہم نے درجہ بند اعدادوشمار کے لیے درمیانہ کی تحسیب میں کیاتھا۔ ہم تحسیب کا آغاز وقفہ جاتی درجہ 150–160میں درمیانہ کے تصور سے کرتے ہیں۔ اس لیے اس درجے کے سامنے صفر کا عدد دیاگیا ہے۔ اسی طرح دوسرے انحرافات کا تعیین کیا جاتا ہے۔ کالم 4 (fx´) کی قدریں پہلے کی دوقدروں کو ضرب دے کر حاصل کی جاتی ہیں۔ پانچویں کالم (fx2)کی قدریں تیسرے اورچوتھے کالموں کی قدروں کو ضرب دے کر حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کے بعدتمام کالموں کی قدروں کو جوڑ کر جمع کرلیاجاتاہے۔

(1)
درجہ
(2)
f
(3)
x
(4)
fx
(5)
fx2
120-130
130-140
140-150
150-160
160-170
170-180
2
4
6
12
10
6
3-
2-
1-
0
1
2
6-
8-
20/-6
0
10
12/22
18
16
6
0
10
24
N=40 2=fx∑ fx2=74∑
معیاری انحراف کی تحسیب میں مندرجہ ذیل طریقہ کا استعمال کیا جاتا ہے:
sd

تغیرکا ضریب (Coefficient of Variation (CV

جب مختلف مقامات یا اوقات کے لیے مشاہدات پیمائش کی مختلف اکائیوں میں ہوں اوران کا موازنہ کرنا ہو تو تغیر کا ضریب کافی مفید ثابت ہوتا ہے۔ تغیر کا ضریب معیاری انحراف کو درمیانہ کے فی صد کی شکل میںظاہر کرتا ہے۔اس کا تعین مندرجہ ذیل طریقے کا استعمال کرکے کیاجاتا ہے:
34

جدول 2.7 میں دیے گئے شماری مجموعہ کے لیےCV مندرجہ ذیل ہوگا:

35

درجہ بند اعدادوشمار کے لیے تغیر کا ضریب اس طریقہ سے بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔

مرتبہ جاتی باہمی ربط (Rank Correlation)

ابھی تک جتنے شماریاتی طریقوں کاذکر کیاگیا ان سب کا تعلق ایک ہی متغیر سے تھا۔ اب ہم دو متغیروں کے درمیان باہمی ربط دریافت کرنے کے طریقوں کو بیان کریں گے اوراس باہمی ربط کے عددی تعبیر پر غورکریں گے۔ جب دو یادو سے زیادہ شماریاتی مجموعے کا ذکر ہوتا ہے تو یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا کسی ایک متغیر میں تبدیلی کا اثر دوسرے متغیر کی تبدیلی پر پڑتا ہے۔
بسااوقات ہماری دلچسپی دویادوسے زیادہ متغیرات کے درمیان باہمی ربط یا باہمی انحصار کی فطرت جاننے میں ہوتی ہے۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ باہمی ربط اس مقصد کو پورا کرنے میں مفید ہے۔یہ بنیادی طورپر دویادوسے زیادہ اعدادوشمارکے مجموعے کے درمیان باہمی ربط کی پیمائش ہے۔ چونکہ ہم اس کے تحت یہ مطالعہ کرتے ہیں کہ یہ کس طرح بدلتے ہیں اس لیے ہم ان واقعات کو ’’متغیرہ‘‘کہتےہیں۔ اس طرح باہمی ربط کی اصطلاح مطابقت یا دو متغیرات کے درمیان تعلق کی فطرت اورشدت بتاتی ہے۔ اس تعریف میں شامل اصطلاحات فطرت اورشدت کا مطلب متغیرات کے سمت اوراس کے درجے سے ہیں جس کے مطابق وہ باہم دگر منحرف ہوتے ہیں۔
باہمی ربط کاسمت (Direction of Correlation)
یہ ہمارا عام تجربہ ہے کہ کچھ ماحصل حاصل کرنے کے لیے مادخل لگانا پڑتا ہے۔اس میں تین امکان ہیں۔
مادخل کو بڑھانے سے ماحصل بڑھتا ہے۔
مادخل کو بڑھانے سے ماحصل کم ہوتا ہے۔
مادخل میں تبدیلی سے ماحصل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
پہلی صورت میں مادخل اورماحصل میں باہمی ربط کی سمت ایک ہی ہے۔ اسے یوں کہاجاسکتا ہے کہ دونوں کے درمیان مثبت باہمی ربط ہے۔

دوسری صورت میں مادخل اورماحصل کے درمیان تبدیلی کی  سمت ایک دوسرے کے مخالف ہے۔ اسے یوں بھی  کہہ سکتے ہیں کہ دونوں کے درمیان منفی باہمی ربط ہے۔
تیسری صورت میں مادخل میں تبدیلی کا ماحصل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے اسے یوں کہاجاسکتا ہے کہ ان دونوں میں شماریاتی طورپر کوئی اہم باہمی ربط نہیں ہے۔
آئیے اب ہم شکل 2.7 کو دیکھیں جو شکل 2.6 کے برعکس ہے۔ اس میں درج قدروں کی سمت اوپر بائیں سے نیچے دا ہنی طرف ہے۔ یہ بھی دیکھیے کہ x محورپر ہر ایک اکائی اضافے کے ساتھ y محور پر دواکائیوں کی کمی ہوجاتی ہے۔ یہ منفی باہمی ربط کی مثال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں متغیرات میں ایک دوسرے کے برخلاف حرکت کا رجحان ہے یعنی ایک متغیرہ میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسرے میں کمی ہوتی ہے اوراس کے برعکس بھی۔ ہم اس طرح کا باہمی ربط متغیرات کے کئی جغرافیائی جوڑوں کے درمیان دیکھ سکتے ہیں۔سطح سمندر سے اونچائی اورہوا کا دباو،درجۂ حرارت اورہوا کا دباو وغیرہ کچھ ایسی ہی مثالیں ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ باہمی ربط کی شکل حاصل کرنے سے پہلے علم الحساب کے نشانات(+یا–)کا ہونا ضروری ہے خاص کر اس وقت جب باہمی ربط منفی ہو۔
37 
               شکل2.6:مکمل منفی باہمی ربط                             شکل2.7:مکمل مثبت باہمی ربط                             

باہمی ربط کا درجہ (Degree of Correlation)

جب باہمی ربط کی سمت منفی یامثبت کے بارے میں حوالہ دیاجاتا ہے تو فطری طورپر یہ جاننے کی ضرورت پڑتی ہے کہ دونوںمتغیرات میں مطابقت یا باہم ربط کا درجہ کیا ہے۔ علم الحساب کی اصطلاح میں اس مطابقت یا ربط کا سب سے زیادہ درجہ1 (ایک) ہوتا ہے۔ اس درجے میں باہمی ربط کی سمت کا عنصرجوڑ نے پر اس کی وسعت–1سے صفر ہوتے ہوئے +1 تک ہوتا ہے۔ یہ کبھی ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ اس وسعت کی خاکائی تعبیر کو شکل 2.8 میں بھی دکھایا جا سکتا ہے۔ باہمی ربط1ہونے پر (خواہ مثبت ہویا منفی) اسے مکمل باہمی ربط کہتے ہیں۔اس طرح مکمل باہمی ربط کے دومخالف سروں کے بالکل وسط میں صفر (0) باہمی ربط ہوتا ہے یعنی ایک ایسا نقطہ جہاں متغیرات کے درمیان باہمی ربط معدوم ہوتا ہے یا  نہیں  ہوتا ہے۔


38
شکل 2.8: باہمی ربط کی سمت اوردرجے کی وسعت 
مکمل باہمی ربط (Perfect Correlations)
شکل 2.6 اور 2.7 کو دومتغیرات کے درمیان مثالی تعلق دکھانے کے لیے بنایاگیا ہے،غورکریں کہ یہ گراف x اور y قدروں کے بکھراو یا انتشار کو دکھاتے ہیں۔ اس لیے ایسے گراف کو انتشاری خاکہ کہتے ہیں۔شکل 2.6 سے واضح ہے کہ جب اس قسم کے قدروں کا خاکہ بنایاجاتا ہے تو تمام نقاط ایک خط مستقیم (سیدھی لکیر)  پر واقع ہوتے ہیں اور جب یہ خط مستقیم انتشاری خاکے کے نچلی بائیں طرف سے اوپر ی دائیں طرف چلتا ہے تو یہ مکمل مثبت باہمی ربط (1;00) کی مثال بن جاتی ہے۔شکل 2.7 اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس میں بھی تمام نقاط ایک خط مستقیم پر واقع ہیں جو اَب انتشاری خاکے کے اوپری بائیں حصے سے اس کے نچلے دائیں حصے کی طرف چلتا ہے۔ یہ مکمل منفی باہمی ربط (جس کی قیمت1.00۔ ہے) کی ایک مثال ہے معدوم باہمی ربط (یا صفر باہمی ربط) ہے جواس وقت ہوتا ہے جب جوڑے کاکوئی بھی متغیر ایک دوسرے کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس صورت میں دونوں متغیرات کے درمیان کوئی ربط نہیں ہوتا۔ اس لیے اس حالت کو معدوم باہمی ربط یا صفر باہمی ربط کہتے ہیں۔ اسے شکل 2.9 میں دکھایا گیا ہے۔ -x متغیر میں تبدیلی کا +y متغیر میں کوئی اثر نہیں ہونے کو انتشاری خاکہA–کے ذریعہ دکھایاگیا ہے۔ اسی طرح انتشاری خاکہB–میں بھی صفر باہمی ربط کی حالت ہے جو کہY متغیر میں تبدیلی ہونے پرX متغیر پر کوئی اثر نہیں پڑ تا۔ 
39

شکل 2.9: معدوم باہمی ربط دکھانے والا انتشاری خاکہ

دیگر باہمی رابطے (Other Correlations)

مکمل باہمی ربط (±1) اورصفر باہمی ربط کے درمیان میں باہمی ربط کے عام حالات ہوتے ہیں جنھیں کمزور، میانہ یا معتدل اورشدید باہمی ربط کے نام سے جاناجاتا ہے۔ ان تینوں حالتوں کو بالترتیب شکل 2.10،2.11 اور 2.12 میں واضح طورپر دکھایاگیا ہے۔خاکائی نقاط کی وسعت یا انتشار اورانھیں دی گئی اصطلاحات کمزور،میانہ اورشدید پر غورکیجیے(یہ عمومی اصطلاحات ہیں جن کی کوئی خصوصی حد نہیں ہے)۔ انتشار جتنا زیادہ ہوگا، باہمی ربط اتناہی کمزور ہوگا اورانتشار جتنا کم ہوگا، باہمی ربط اتنا ہی شدید ہوگا اورجب خاکائی نقاط ایک خط مستقیم پر واقع ہوں گے تو مکمل باہمی ربط ہوگا (شکل2.6 اور 2.7)
40

      شکل 2.10 کمزورمنفی باہمی ربط شکل 2.11 میانہ معتدل مثبت باہمی ربطشکل

2.12 شدید مثبت باہمی ربط


باہمی ربط کی تحسیب کے طریقے (Methods of Calculating Correlation)

باہمی ربط کی تحسیب کے کئی طریقے ہیں لیکن وقت اورجگہ کی کمی کی وجہ سے ہم صرف اسپیرمین کے مرتبہ جاتی باہمی ربط کا ہی تذکرہ کریں گے۔

اسپیرمین کا مرتبہ جاتی باہمی ربط (Spearman’s Rank Correlation)

اسپیر مین نے مرتبے کی مدد سے باہمی ربط کی تحسیب کرنے کا طریقہ فروغ دیاہے۔عرف عام میں اسے اسپیر مین کا مرتبہ جاتی باہمی ربط کہاجاتا ہے جس کا شماریاتی اشارہσیونانی حرف تہجیrho رھو)ہے۔ آسان ہونے کی وجہ سے اسپیرمین کا مرتبہ جاتی باہمی ربط وسیع پیمانے پر استعمال کیاجاتا ہے۔اس کی تحسیب مندرجہ ذیل اقدام پر کی جاتی ہے:
(i) مشق میں دیے گئے متغیرات x – yسے متعلق اعدادوشمار کو نقل کرکے جدول کے پہلے اوردوسرے کالم میں رکھ دیجیے۔
(ii) دونوں متغیرات کا مرتبہ الگ الگ مقرر کیجیے۔ x متغیر کے مرتبوں کو کالم 3 میں XR (X کا مرتبہ)عنوان کے تحت رکھیے اسی طرح y متغیر کے مرتبوں (YR)  چوتھے کالم میں درج کیجیے اعدادوشمار میں سب سے اونچی قیمت کو ایک کا درجہ دیاگیا ہے دوسری سب سے اونچی قیمت کودوکا اوراسی طرح دوسرے مرتبوں کا درجہ مقرر کیا گیا ہے۔ مان لیجیے کہ x متغیر کے اعدادوشمار0,3,7,9,1,10,2,8,4 اور 5 ہوں گے۔ 5,3,8,1,9۔6XRاور 2,4,7,10 ہوں گے۔غورکیجیے کہ آخری مرتبہ (اس مثال میں10)مشاہدات کی تعداد کے مساوی ہوتا ہے۔ YR کے مرتبوں کی تعیین بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔
(iii) XRاورYRکے مراتب کا تعیین کرنے کے بعددونوں مراتب کافرق معلوم کیجیے(اس میں مثبت اورمنفی نشانات کا لحاظ نہیں رکھتے) اوراسے پانچویں کالم میں درج کرلیجیے۔ چونکہ  اگلے عمل میں اس فرقکامربع نکالا جاتا ہے،اس لیے مثبت اورمنفی نشانات کا لحاظ نہیں کیاجاتا۔
   (iv) ان میں سے ہر فرق کا مربع نکال کر،انھیں جوڑکر جمع کرلیاجاتا ہے، ان قیمتوں کو چھٹے کالم میں رکھاجاتا ہے۔
(v) اس کے بعد باہمی ربط کی تحسیب مندرجہ ذیل طریقہ سے کی جاتی ہے:
                                              42
جس میں
P  =مرتبہ جاتی باہمی ربط ہے۔ 
43
X-Y=N جوڑوں کی تعداد

مثال 2.9: مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی بنیادپر اسپیرمین کے مرتبہ جاتی باہمی ربط کی تحسیب کیجیے:



معاشیات میں حاصل نمبرات(X): 10,09,18,06,16,12,20,00,08,02
جغرافیہ میں حاصل نمبرات(Y): 10,09,20,08,18,16,24,06,12,04

44

جدول 2.8 اسپیرمین کے مرتبہ جاتی باہمی ربط کی تحسیب:


(1)
X
2
(Y)
(3)
XR
(4)
YR
(5)
D
(6)
D2
2
8
0
20
12
16
6
18
9
10
4
12
6
24
16
18
8
20
9
10
9
7
10
1
4
3
8
2
6
5
10
5
9
1
4
3
8
2
7
6
1
2
1
0
0
0
0
0
1
1
1
4
1
0
0
0
0
0
1
1
N=10 D2=8

45

تحسیب: (Calculation)

جب ρ مرتبہ جاتی باہمی ربط:D دونوںمتغیر x اور y کے مرتبے کا فرق اورN،x–y کے مدوں کی تعداد ہوتو،
   46
جب مدوں کی تعداد کم ہوتو دیگر قسم کی باہمی ربطوں کے بالمقابل’’رہو‘‘سب سے اچھا متبادل ہے۔ جب اکائیوں کے نمبر چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں N کی تعداد زیادہ ہونے پر یہ بے فائدہ ہوجاتا ہے کیونکہ جب تک ہم تمام اکائیوں کو مرتبہ دیں گے تب تک دوسرے طریقہ سے باہمی ربط کی تحسیب  کر لیں گے ۔

مشق

مندرجہ ذیل چارمتبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے:

(i) مرکزی رجحان کی پیمائش جوانتہائی قیمتوں سے متاثر نہیں ہوتا:

(a)  درمیانہ (b)   درمیانہ اورطرزتکثیر
(c)   طرزتکثیر (d)   وسطی

(ii) مرکزی رجحان کی وہ پیمائش جو کسی تقسیم کے کوہان سے ہمیشہ مطابقت رکھتی ہو:

(a)   وسطی (b)   درمیانہ اورطرز تکثیر
(c)   درمیانہ (d)    طرزتکثیر

(iii) منفی باہمی ربط کے خاکائی انتشار میں مندرج قیمتوں کی سمت ہوگی:

(a)  اوپر بائیں سے نیچے دائیں کی طرف (b)   نیچے بائیں سے اوپر دائیں کی طرف
(c)  بائیں سے دائیں طرف (d)  اوپر دائیں سے نیچے بائیں کی طرف

مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے:

(i) درمیانہ کی تعریف کیجیے۔
(ii) طرزتکثیر کے استعمال کے کیا فوائد ہیں؟
(iii) انتشار کسے کہتے ہیں؟
(iv) باہمی ربط کی تعریف کیجیے۔
(v) مکمل باہمی ربط کیا ہے؟
(vi) باہمی ربط کی آخری حد کیا ہے؟

مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تقریبا 125الفاظ میں دیجیے:

(i) خاکوں کی مدد سے ایک نارمل تقسیم اورعوضی تقسیم میں درمیانہ،وسطی اورطرزتکثیر کی اضافی حیثیت کی وضاحت کیجیے۔
(ii) درمیانہ،وسطی اورطرزتکثیرکے استعمال پر تبصرہ کیجیے۔ (اشارہ:ان کی خوبیوں اورخرابیوں کی حیثیت سے)
(iii) ایک تصوراتی مثال کی مدد سے معیاری انحراف کی تحسیب کا عمل سمجھائیے۔
(iv)   انتشار کی کون سی پیمائش سب سے زیادہ غیرمستقل ہے اورکیوں؟
(v)   باہمی ربط کی شدت پر ایک تفصیلی نوٹ لکھیے۔
(vi) مرتبہ جاتی باہمی ربط کی تحسیب کے مختلف اقدام کیاہیں؟

سرگرمی

جغرافیائی تجزیہ پر مشتمل ایک تصوراتی مثال لے کر غیردرجہ بند اعدادوشمار کی تحسیب کرنے کے لیے بلاواسطہ اوربالواسطہ طریقوں کی وضاحت کیجیے۔
مختلف قسم کے مکمل باہمی ربط کے لیے خاکائی انتشار بنائیے۔