
3 اعدادوشمار کی خاکائی نمائندگی
(Graphical Representation of Data)
اعدادوشمار کی نمائندگی (Representation of Data)
خاکے،ڈائیگرام اورنقشوں کو بنانے کا عام اصول (General Rules for Drawing Graphs, Diagrams and Maps )
1۔ ایک مناسب طریقے کا انتخاب (Selection of a Suitable Method)
2۔ مناسب پیمانے کا انتخاب (Selection of Suitable Scale)
3۔ ڈیزائن (Design)
عنوان (Title)
اشاریہ (Legend)
سمت (Direction)
خاکوں کی تشکیل (Construction of Diagrams)
اعدادوشمار میں قابل پیمائش خصوصیات جیسے لمبائی،چوڑائی اورضخامت ہوتی ہیں۔خاکے اورنقشے جوان خصوصیات سے متعلق اعدادوشمار کی نمائندگی کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، انھیں مندرجہ ذیل قسموں میں درجہ بند کیاگیا ہے۔
(i) ایک بعدی خاکے جیسے–خطی خاکہ،کثیرخطی خاکے،بارڈائیگرام،ہسٹو گرام،عمر،جنس اہرام وغیرہ۔
(ii) دوبعدی خاکے جیسے–پائی ڈائیگرام اورمستطیلی خاکے
(iii) سہ بعدی خاکے جیسے مکعب اورکرہ نما خاکے
ان مختلف قسم کے خاکوں اورنقشوں کے بنانے کے طریقوں پر وقت کی کمی کی وجہ سے بحث کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے ہم سب سے زیادہ رائج خاکوں اورنقشوں کا بیان کریں گے اوران کے بنانے کا طریقہ بتائیں گے۔ یہ اس طرح ہیں۔
• خطی خاکہ(Line graphs) • پائی ڈائیگرام(Bar diagrama)
• بارڈائیگرام (Pie diagram) • ونڈروزاوراسٹارڈائیگرام(Wind rose and star diagram)
• رواں چارٹ(Flow Graph)
خطی خاکہ (Line Graph)
خطی خاکہ عموماًدرجہ حرارت،بارش،آبادی کی نمو،شرح پیدائش اورشرح اموات سے متعلق وقتی سلسلوں کے اعدادوشمار کی نمائندگی کرنے کے لیے کھینچا جاتا ہے۔ جدول 3.1 میں شکل 3.2 کوبنانے کے لیے اعدادوشمار فراہم کیاگیا ہے۔
خطی خاکے کی تشکیل (Construction of a Line Graph)
(a) اعدادوشمار کو قریب تر عدد میں بدل کر اسے آسان بنالیتے ہیں جیساکہ جدول 3.1 میں 1961اور1981کے لیے دکھائی گئی آبادی کی نمو کو بالترتیب 2.0 اور 2.2 کے قریب تر عدد میں بدلا جاسکتا ہے۔
(b) xاورyکا محور کھینچئے۔ وقتی سلسلے کے متغیرات(سال/مہینہ)کو xمحور پر اوراعدادوشمار کی کمیت/قیمت (آبادی کی نمو کو فی صد یا درجۂ حرارت کو ڈگری سینٹی گریڈ میں) خاکہ کشی y محور پر کریں۔
(c) ایک مناسب پیمانے کاانتخاب کیجیے اورyمحور پر درج کردیجیے۔ اگر اعدادوشمار میں کوئی منفی قیمت ہے تومنتخب پیمانےکو اسے بھی دکھانا چاہیے جیساکہ شکل3.1 میں دکھایا گیاہے۔

شکل3.1 خطی خاکے کی تشکیل
جدول3.1: ہندوستان میں آبادی کی شرح نمو1901تا2001
| سال | شرح نمونی صد میں |
| 1901 1911 1921 1931 1941 1951 1961 1971 1981 1991 2001 2011 |
- 0.56- 0.30- 1.04 1.33 1.25 1.96 2.20 2.22 2.14 1.93 1.79 |


شکل 3.2: ہندوستان میں آبادی کی سالانہ نمو2001–1901
سرگرمی
کثیر خطی خاکہ(Polygraph)
مثال 3.3: جدول 3.2 میں دیے گئے مختلف صوبوں میں جنسی تناسب کے نموکا موازنہ کرنے کے لیے ایک کثیرخطی خاکہ کی تشکیل کیجیے۔
جدول 3.2: منتخب صوبوں کا جنسی تناسب(عورتیں فی ہزارمرد)1961-2001
| صوبے/مرکزی علاقے | 1961 | 1971 | 1981 | 1991 | 2001 | 2011 |
| دہلی ہریانہ اتر پردیش |
785 868 907 |
801 867 876 |
808 870 882 |
827 860 876 |
821 846 898 |
806 877 908 |


شکل 3.3: منتخب صوبوں کا جنسی تناسب2001–1961
بارڈائیگرام (Bar Diagram)
سادہ ڈائیگرام (Simple Bar Diagram)
مثال 3.3: جدول3.3 میں دیے گئے تیرواننت پورم کی بارش کے اعدادوشمار کو پیش کرنے کے لیے ایک سادہ بارڈائیگرام بنائیے۔
جدول 3.3: تیرواننت پورم کی اوسط ماہانہ بارش
| ماہ | جنوری | فروری | مارچ | اپریل | مئی | جون | جولائی | اگست | ستمبر | اکتوبر | نومبر | دسمبر |
| بارش(سینٹی میٹر) | 2.3 | 2.1 | 3.7 | 10.6 | 20.8 | 35.6 | 22.3 | 14.6 | 13.8 | 27.3 | 20.6 | 7.5 |

تشکیل (Construction)

شکل 3.4 تیروا ننت پورم کی اوسط ماہانہ بارش
خطی اوربار گراف (خاکہ) (Line and Bar Graph)
تشکیل (Construction)
| ماہ | درجہ ٔ حرارت ڈگری سینٹی گریڈ میں | بارش(سینٹی میٹر میں) |
| جنوری فروی مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر |
14.4 16.7 23.30 30.0 33.3 33.3 30.0 29.4 28.9 25.6 19.4 15.6 |
2.5 1.5 1.3 1.0 1.8 7.4 19.3 17.8 11.9 1.3 0.2 1.0 |


شکل 3.5: دہلی میں درجہ حرارت اوربارش
کثیری بارڈائیگرام (Multiple Bar Diagram)
تشکیل (Construction)
جدول 3.5: ہندوستان میں شرح خواندگی1951–2001(فی صدمیں)
| سال | شرح خواندگی | ||
| کل آبادی | مرد | عورت | |
| 1951 1961 1971 1981 1991 2001 2011 |
18.33 28.3 34.45 43.57 52.21 64.84 73.0 |
27.16 40.4 45.96 56.38 64.13 75.85 80.9 |
8.86 15.35 21.97 29.76 39.29 54.16 64.6 |


شکل 6۔3: شرح خواندگی 2011۔1951
مرکب بارڈائیگرام (Compound Bar Diagram)
جدول 3.6: ہندوستان میں بجلی کی مجموعی پیداوار(بلین کلوواٹ میں)
| سال | حرارتی | آبی | نیوکلائی | کل |
| 2008-09 2009-10 2010-11 |
616.2 677.1 704.3 |
110.1 104.1 114.2 |
14.9 18.6 26.3 |
741.2 799.8 844.8 |

تشکیل (Construction)
پائی ڈائیگرام (Pie Diagram)

شکل3.7 ہندوستان میں بجلی کی مجموعی پیداوار
دیے گئے صوبہ/علاقہ کی قیمت 360 ×
زاویوں کی تحسیب (Calculation of Angles)
تشکیل (Construction)
جدول3.7: (a) 11-2010 میں دنیا کے اہم علاقوں کی طرف ہندوستان کے برآمدات
| اکائی/علاقہ | ہندوستانی برآمدات کی فی صد |
| یوروپ افریقہ امریکہ ایشیا اورASEAN دیگر |
20.2 6.5 14.8 56.2 2.3 |
| کل | 100 |
جدول3.7 (b) 2010-11 میں دنیاکے اہم علاقوں/ممالک کی طرح ہندوستان کی برآمدات
| ممالک | فی صد | تحسیب | ڈگری |
| یورپ افریقہ امریکہ ایشیا اور ASEAN دیگر |
20.2 6.5 14.8 56.2 2.3 |
20.2x3.6=72.72 6.5x3.6=23.4 14.8x3.6=53.28 56.2x3.6=202.32 2.3x3.6=8.28 |
730 230 530 2030 80 |
| کل | 100 | 3600 |

احتیاط (Precautions)

شکل 3.8: ہندوستانی برآمدات کی سمت 11-2010
رواں نقشے/چارٹ (Flow Maps/Chart)
رواں نقشہ بنانے کے لیے لوازمات (Requirements for the Preparation of a Flow Map)
تشکیل (Construction)
مثال 3.8: جدول 3.8 : دی گئی دہلی اوراس کے اطراف میں چلنے والی ریل گاڑیوں کی تعدادکو دکھانے کے لیے ایک رواں نقشہ بنائیے
جدول 3.8:دہلی اور اس کے اطراف کے چنندہ راستوں پر ریل گاڑیوں کی تعداد
| سلسلہ وار نمبر | ریل راستے | ریل گاڑی کی تعداد |
| 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 |
پرانی۔ نئی دہلی نئی دہلی۔ نظام الدین نظام الدین۔ بدرپور نظام الدین۔سروجنی نگر سروجنی نگر۔ پوسا روڈ پرانی دہلی۔ صدر بازار ادھیوگ نگر۔ٹکری کلاں پوسا روڈ۔پرہلاد پور صاحب آباد۔موہن نگر پرانی دہلی۔ سیلم پور سلیم پور۔نند نگری سیلم۔موہن نگر پرانی دہلی۔شالی مار باغ صدر بازار۔ ادھیوگ نگر پرانی دہلی۔پوساروڈ پرہلاد پور۔ پالم وہار |
50 40 30 12 8 32 6 15 18 33 12 21 16 18 22 12 |
شکل3.9:دہلی کا نقشہ

دہلی کا نقل و حمل (ریل کا راستہ) رواں نقشہ

تشکیل (Construction)

شکل 3.12: رواں نقشے کی تشکیل
موضوعی نقشے (Thematic Maps)
مختلف خصوصیات کی نمائندگی کرنے والے اعدادوشمار میں اندرونی تغیر کے درمیان موازنہ فراہم کرنے میں خاکے اورڈائیگرام مفید مقصد انجام دیتے ہیں۔ پھر بھی کئی بار خاکوں اورڈائیگرام کا استعمال علاقائی پہلو کو پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس مختلف قسم کے نقشے بنائے جائیں تاکہ علاقائی تقسیم کے طرزکو سمجھاجاسکے یامقامات پر تنوع کی خصوصیات کو دیکھاجاسکے۔ ان نقشوں کو تقسیمی نقشہ کے نام سے بھی جاناجاتا ہے۔
موضوعی نقشوں کی تشکیل کے لیے لوازمات (Requirements for Making a Thematic Map) (a)
(a) منتخب موضوع سے متعلق صوبائی/ضلعی سطح کے اعدادوشمار
(b) مطالعاتی علاقے کا انتظامی حدودوالاخاکائی نقشہ
(c) علاقے کاطبعی نقشہ:مثال کے طورپرآبادی کو دکھانے کے لیے ارضیاتی نقشہ اورنقل وحمل کا نقشہ بنانے کے لیے زمینی خدوخال اورپن نکاس کا نقشہ۔
موضوعی نقشوں کو بنانے کے لیے اصول (Rules for Making Thematic Maps))
(i)موضوعی نقشوں کی تشکیل کا منصوبہ احتیاط سے کرنا چاہیے۔ تیار نقشے میں مندرجہ ذیل عناصر کا انعکاس مناسب طورپر ہونا چاہیے۔
(a) علاقے کانام
e پیمانہ
تشکیلی طریقے کی بنیادپر موضوعی نقشوں کی درجہ بندی (Classification of Thematic Maps based on Method of Construction)
موضوعی نقشوں کو عام طورپر کمیتی اورغیرکمیتی نقشوں میں درجہ بندکیاجاتا ہے۔کمیتی نقشے اعدادوشمار میں تغیر دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔مثال کے طورپر 200سینٹی میٹر سے زیادہ،100سینٹی میٹرسے200سینٹی میٹر،50سے100سینٹی میٹر اور50سینٹی میٹر سے کم بارش کے علاقوں کو دکھانے والے نقشوں کو کمیتی نقشہ کہاجاتا ہے۔ ان نقشوں کو شماریاتی نقشہ بھی کہاجاتا ہے۔ دوسری طرف غیرکمیتی نقشے دی گئی معلومات کی تقسیم میں غیر پیمائشی خصوصیات کو دکھاتے ہیں جیسے سب سے زیادہ یاسب سے کم بارش والے علاقوں کو دکھانے والانقشہ ان نقشوں کو کیفیتی نقشہ بھی کہاجاتا ہے۔ وقت کی کمی کی وجہ ان مختلف قسم کے موضوعی نقشوں کے تشکیلی طریقوں کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ہم مندرجہ ذیل قسم کے کمیتی نقشوں کی تشکیل کے طریقوں تک محدودرہیں گے۔
(a) نقطہ جاتی نقشے
(b) ظلی نقشے
(c) ہم باری/ہم خطی نقشے
نقطہ جاتی نقشے (Dot Maps)
نقطہ جاتی نقشے آبادی،جانور،فصل کی قسموں وغیرہ کی تقسیم کو دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔تقسیم کے طرزکو دکھانے کے لیے منتخب پیمانے ایک ہی سائز کے نقاط دی گئی انتظامی اکائیوں پر نشان زدکیے جاتے ہیں۔
لوازمات (Requirement)
(a) دیے گئے علاقے کا انتظامی نقشہ جس میں صوبہ/ضلع/بلاک کے حدود دکھائے گئے ہوں۔
(b) منتخب انتظامی اکائی کے لیے منتخب موضوع جیسے کل آبادی مویشی وغیرہ پر شماریاتی اعدادوشمار
(c) ایک نقطے کی قیمت مقرر کرنے کے لیے پیمانے کا انتخاب
جدول3.9: ہندوستان کی آبادی2001
| 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 |
جموں و کشمیر ہماچل پردیش پنجاب اتراکھنڈ ہریانہ دہلی راجستھان اتر پردیش بہار سکم اروناچل پردیش ناگالینڈ منی پور میزورم پری پورا میگھالیہ آسام مغربی بنگال جھارکھنڈ اڑیسہ چھتیس گڑھ مدھیہ پردیش گجرات مہاراشٹرا آندھرا پردیش کرناٹک گووا کیرلہ تامل ناڈو |
10,069,917 6,077,248 24,289,296 8,479,562 21,082,989 13,782,976 56,473,122 166,052,859 82,878,796 540,493 1,091,117 1,988,636 2,388,634 891,058 3,191,168 2,306,069 26,638,407 80,221,171 26,909,428 36,706,920 20,795,956 60,385,118 50,596,992 96,752,247 75,727,541 52,733,958 1,343,998 31,838,619 62,110,839 |
100 60 243 85 211 138 565 1,660 829 5 11 20 24 89 32 23 266 802 269 367 208 604 506 968 757 527 13 318 621 |


شکل 3.13ہندوستان کی آبادی2001
تشکیل (Construction)
ظلی نقشہ(Choropleth Map)
تشکیل کے اقدام (Steps to be followed)
تشکیل (Construction)

شرح خواندگی شرح،2001
جدول 3.10: ہندوستان میں شرح خواندگی2001
| ہندوستان میں خواندگی کے حقیقی اعداد و شمار | ||
| نمبر شمار | صوبے/مرکزی علاقے | شرح خواندگی |
| 1- 2- 3- 4- 5- 6- 7- 8- 9- 10- 11- 12- 13- 14- 15- 16- 17- 18- 19- 20- 21- 22- 23- 24- 25- 26- 27- 28- 29- 30- 31- 32- 33- 34- 35- |
جموں و کشمیر ہماچل پردیش پنجاب چنڈی گڑھ اترا کھنڈ ہریانہ دہلی راجستھان اتر پردیش بہار سکم ارونا چل پردیش ناگالینڈ منی پور میزورم تری پورہ میگھالیہ آسام مغربی بنگال جھارکھنڈ اڑیسہ چھتیس گڑھ مدھیہ پردیش گجرات دمن دیو دادر اور ناگر ہویلی مہاراشٹرا آندھرا پردیش کرناٹک گووا لکش دیپ کیرلہ تمل ناڈو پانڈیچری انڈمان و نکوبار |
55.5 76.5 69.7 81.9 71.6 67.9 81.7 60.4 56.3 47.0 68.8 54.3 66.6 70.5 88.8 73.2 62.6 63.3 68.6 53.6 63.1 64.7 63.7 69.1 78.2 57.6 76.9 60.5 66.6 82.0 86.7 90.9 73.5 81.2 81.3 |
| بڑھتی ترتیب میں منظم ہندوستان میں شرح خواندگی کے اعداد و شمار | ||
| نمبر شمار | صوبے/مرکزی علاقے | شرح خواندگی |
| 10- 20- 12- 01- 9- 26- 08- 28- 17- 21- 18- 23- 22- 13- 29- 06- 19- 11- 24- 03- 14- 05- 16- 33- 02- 27- 25- 34- 35- 07- 04- 30- 31- 15- 32- |
بہار جھارکھنڈ اروناچل پردیش جموں کشمیر اتر پردیش دادر اور ناگر ہویلی راجستھان آندھرا پردیش میگھالیہ اڑیسہ آسام مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ ناگالینڈ کرناٹک ہریانہ مغربی بنگال سکم گجرات پنجاب منی پور اتراکھنڈ تری پورہ تمل ناڈو ہماچل پردیش مہاراشٹرا دمن اور دیو پانڈیچری انڈومانو نکوبار دہلی چنڈی گڑھ گووا لکش دیپ میزورم کیرلہ |
47.0 53.6 54.3 55.5 56.3 57.6 60.4 60.5 62.6 63.1 63.3 63.7 64.7 66.6 66.6 67.9 68.6 68.8 69.1 69.7 70.5 71.6 73.2 73.5 76.5 76.9 78.2 81.2 81.3 81.7 81.9 82.0 86.7 88.8 90.9 |
ہم خطی نقشہ (Isopleth Map)
لوازمات (Requirement)
قابل توجہ اصول (Rules to be observed)
تداخل (Interpolation)
ہم خطی خطوط کو کھنچنے کا صحیح نقطہ معلوم کرنے کے لیے درج ذیل فارمولے کا استعمال کیاجاتا ہے۔

شکل 3.15 ہم خطوں کا کھینچنا
مشق
1۔ مندرجہ ذیل چارمتبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔
(i) آبادی کی تقسیم رکھائی جاتی ہے۔
(ii) آبادی کی عشری نمو کو دکھانے کا سب سے اچھا طریقہ
(iii) کثیرخطی خاکہ کی تشکیل کس کی نمائندگی کے لیے کی جاتی ہے؟
(iv) مندرجہ ذیل میںسے کون سانقشہ’’حرکی نقشہ‘‘کہاجاتا ہے۔
2۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔
(i) موضوعی نقشہ کیا ہے۔
سرگرمی
ہندوستان: شہرکاری کا رجحان1901–2001
| سال | دہائی نمو (%) |
| 1911 1921 1931 1941 1951 1961 1971 1981 1991 2001 |
0.35 8.27 19.12 31.97 41.42 26.41 38.23 46.14 36.47 31.13 |

مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی نمائندگی مناسب ڈائیگرام کی مدد سے کیجیے۔
| سال | شرح خواندگی | شرح اندراج ابتدائی | شرح اندراج اعلی ابتدائی | ||||||
| افراد | مرد | عورت | لڑکے | لڑکیاں | کل | لڑکے | لڑکیاں | کل | |
| 1950-51 1999-2000 |
18.3 65.4 |
27.2 75.8 |
8.86 54.2 |
60.6 104 |
25 85 |
42.6 94.9 |
20.6 67.2 |
4.6 50 |
12.7 58.8 |

3۔ مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی نمائندگی پائی ڈائیگرام سے کیجیے۔
ہندوستان: زمین کا استعمال2001–1951
| 1950-51 | 1998-2001 | |
| کلی بویا گیا علاقہ جنگلات کاشت کاری کے لیے غیر دستیاب خالی زمین چراگاہ اور درختوں کے تحت قابل کاشت خالی زمین |
42 14 17 10 9 8 |
46 22 14 8 5 5 |

4۔ مندرجہ ذیل جدول کا مطالعہ کیجیے اورپوچھے گئے خاکوں/نقشوں کو بنائیے۔
بڑے صوبوں میں چاول کا علاقہ اورپیداوار
| صوبے | علاقہ 000, ہیکٹیر میں |
کل علاقہ کا % | پیداوار 000ٹن میں | کل پیداوار کا % |
| مغربی بنگال اتر پردیش آندھرا پردیش پنجاب تامل ناڈو بہار |
5.435 5,839 4,028 2,611 2,113 3,671 |
12.3 13.2 9.1 5.9 4.8 8.3 |
12,428 11,540 12,428 9,154 7,218 5,417 |
14.6 13.6 13.5 10.8 8.5 6.4 |
| ماہ | درجۂ حرارت سینٹی گریڈ میں | بارش سینٹی میٹڑ میں |
| جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر |
19.6 22.0 27.1 30.1 30.4 29.9 28.9 28.7 28.9 27.6 23.4 19.7 |
1.2 2.8 3.4 5.1 13.4 29.0 33.1 33.4 25.3 12.7 2.7 0.4 |


