Skip to content
Jughrafiameinamlikam-II-003


1

3   اعدادوشمار کی خاکائی نمائندگی

(Graphical Representation of Data)

آپ نے گراف،ڈائیگرام اورنقشوں کو مختلف قسم کے اعدادوشمار کو دکھاتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ مثال کے طورپ گیارھویں جماعت کی کتاب،جغرافیہ میں عملی کام–حصہ اول (این سی ای آرٹی،2006)کے پہلے بابگ میں موضوعی نقشوں کو دکھایاگیاہے جو مہاراشٹر میں ناگ پور ضلع کے زمینی خدوخال اورڈھلان،آب وہوائی حالات،چٹانوں اورمعدنیات،مٹی،آبادی،صفت کی تقسیم،زمین کا عام استعمال اورفصلوں کے طرز کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ نقشے کثیر تعداد میں متعلقہ اعدادوشمار اکٹھاکرکے،جمع کرکے اورترکیب دے کر بنائے جاتے ہیں۔کیاآپ نے کبھی سوچا کہ اگر ان معلومات کو جدول کی شکل میں یا بیانیہ تحریر میں پیش کیاجاتا ہے توکیا ہوتا؟شاید اس طرح کے ترسیلی ذرائع سے وہ نظری شبیہ نہیں بن پاتی جو ہم ان نقشوں سے حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں غیر خاکائی شکل میں پیش کردہ اعدادوشمار سے نتیجہ اخذ کرنے میں زیادہ وقت لگتا۔ اس طرح خاکے،ڈائیگرام اورنقشے نمائندہ مظاہر کے درمیان بامعنی موازنہ کرنے میں ہماری صلاحیتوں کو بڑھادیتے ہیں، ہمارے اوقات کی بچت کرتے ہیں اورپیش کردہ خصوصیات کا آسان منظر سامنے لاتے ہیں۔ موجودہ باب میں ہم مختلف قسم کے خاکوں،ڈائیگرام اورنقشوں کو بنانے کے طریقوں کا تذکرہ کریں گے۔

اعدادوشمار کی نمائندگی (Representation of Data)

اعدادوشمار ان مظاہر کی خصوصیات بیان کرتے ہیں جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔انھیں مختلف ذرائع سے اکٹھا کیاجاتا ہے (باب1)۔ان دنوں جغرافیہ داں،ماہرین معاشیات،وسائل سائنس داں اورفیصلہ کنندگان اعدادوشمار کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں۔جدولی شکل کے علاوہ اعدادوشمار کو کچھ خاکوں یا ڈائیگرام کی صورت میں بھی پیش کیاجاسکتا ہے۔ اعدادوشمار کوبصری طریقوں جیسے خاکے، ڈائیگرام،نقشے اورچارٹ کی صورت میں تبدیل کرنا ہی اعدادوشمار کی نمائندگی ہے۔ اعدادوشمار کو اس شکل میں پیش کرنے سے کسی جغرافیائی خطے کی آبادی کی نمو کا طرز،تقسیم اورکثافت،جنسی تناسب عمروجنس کی ساخت،پیشہ ورانہ ساخت وغیرہ کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ایک چینی مقولہ ہے کہ’’ایک تصویر ہزاروں الفاظ کے برابرہوتی ہے۔‘‘اس لیے اعدادوشمار کی نمائندگی کا خاکائی طریقہ ہماری سمجھ میں اضافہ کرتا ہے، موازنہ کرنے کو آسان بنا دیتا ہے۔اس کے علاوہ ان طریقوں سے ہمارے ذہن پر ایک لمبے عرصے کے لیے چھاپ پڑجاتی ہے۔

خاکے،ڈائیگرام اورنقشوں کو بنانے کا عام اصول (General Rules for Drawing Graphs, Diagrams and Maps )

ایک مناسب طریقے کا انتخاب (Selection of a Suitable Method)

اعدادوشمار مختلف موضوعات کی نمائندگی کرتے ہیں جیسے درجۂ حرارت،بارش،آبادی کی نمواورتقسیم،مختلف اشیا کی پیداوار تقسیم اورتجارت وغیرہ۔ اعدادوشمار کے ان صفات کو مناسب خاکائی طریقوں سے پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طورپ مختلف ممالک یا صوبوں کے لیے مختلف زمانوں کے درمیان درجۂ حرارت یا آبادی کی نمو خطی خاکہ کے ذریعہ بہتر طورپر پیش کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح بارڈائیگرام بارش یا اشیا کی پیداوار دکھانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ انسان یا جانوروں کی آبادی کی تقسیم یا فصل پیداکرنے والے علاقوں کی تقسیم نقطہ واری نقشوں اورآبادی کی کثافت کو ظلی نقشوں کے ذریعہ مناسب طورپر دکھایاجاسکتا ہے۔

مناسب پیمانے کا انتخاب (Selection of Suitable Scale)

پیمانے کا استعمال خاکوں اورنقشوں پر اعدادوشمار کی پیمائش کو دکھانے کے لیے کیاجاتا ہے۔ اس لیے دیے گئے اعدادوشمار کے مجموعہ کے لیے مناسب پیمانے کا انتخاب احتیاط سے کرنا چاہیے جس میں دکھائے جانے والے مکمل اعدادوشمار کا خیال رکھنا چاہیے۔ پیمانہ نہ تو بہت بڑا ہواورنہ ہی بہت چھوٹا۔

ڈیزائن (Design)

ہم جانتے ہیں کہ ڈیزائن نقشہ نویسی کا اہم کام ہے (حوالہ گیارھویں جماعت کی نصابی کتاب،جغرافیہ میں عملی کام حصہ اول،این سی ای آرٹی2006)کے پہلے باب میں مذکورنقشہ نویسی کے لوازمات)نقشہ نویسی سے متعلق ڈیزائن کے مندرجہ ذیل عناصر اہم ہیں۔ اس لیے انھیں تیار خاکوں/نقشوں پر احتیاط سے دکھاناچاہیے۔

عنوان (Title)

خاکہ/نقشہ کا عنوان،علاقے کا نام،مستعمل اعدادوشمار کا حوالا جاتی سال اورخاکے کا عنوان ظاہرکرتا ہے۔ان عناصر کی نمائندگی مختلف شکل اورموٹائی کے حروف اورعددوں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے مقام کی تعین بھی اہم ہے۔ عام طورپر عنوان، ذیلی عنوان اورمتعلقہ سال نقشے/خاکے پر سب سے اوپر وسط میں دکھائے جاتے ہیں۔

اشاریہ (Legend)

اشاریہ یا انڈیکس کسی بھی نقشے/خاکے کا اہم حصہ ہے۔ یہ نقشے اورخاکے میں مستعمل رنگ، شبیہ،علامات اورنشانات کی تشریح کرتا ہے۔ اسے بھی احتیاط سے بنانا چاہیے اورنقشوں/خاکوں کے مواد مطابق ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ اسے صحیح مقام پر رکھنا بھی ضروری ہے۔ عام طورپر اشاریہ کو نقشہ شیٹ پر نیچے بائیں جانب یا دا ہنی طرف دکھایاجاتا ہے۔

سمت (Direction)

سطح زمین کے ایک حصے کی نمائندگی کرنے کی و جہ سے نقشے پر سمت کو دکھانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے تیار نقشے پر سمت کی علامت یعنی شمال کو بھی صحیح مقام پر بنانا چاہیے۔



خاکوں کی تشکیل (Construction of Diagrams)

اعدادوشمار میں قابل پیمائش خصوصیات جیسے لمبائی،چوڑائی اورضخامت ہوتی ہیں۔خاکے اورنقشے جوان خصوصیات سے متعلق اعدادوشمار کی نمائندگی کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، انھیں مندرجہ ذیل قسموں میں درجہ بند کیاگیا ہے۔

(i) ایک بعدی خاکے جیسے–خطی خاکہ،کثیرخطی خاکے،بارڈائیگرام،ہسٹو گرام،عمر،جنس اہرام وغیرہ۔

(ii) دوبعدی خاکے جیسے–پائی ڈائیگرام اورمستطیلی خاکے

(iii) سہ بعدی خاکے جیسے مکعب اورکرہ نما خاکے

ان مختلف قسم کے خاکوں اورنقشوں کے بنانے کے طریقوں پر وقت کی کمی کی وجہ سے بحث کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے ہم سب سے زیادہ رائج خاکوں اورنقشوں کا بیان کریں گے اوران کے بنانے کا طریقہ بتائیں گے۔ یہ اس طرح ہیں۔

خطی خاکہ(Line graphs) پائی ڈائیگرام(Bar diagrama)

بارڈائیگرام (Pie diagram)   ونڈروزاوراسٹارڈائیگرام(Wind rose and star diagram)

رواں چارٹ(Flow Graph)

خطی خاکہ (Line Graph)

خطی خاکہ عموماًدرجہ حرارت،بارش،آبادی کی نمو،شرح پیدائش اورشرح اموات سے متعلق وقتی سلسلوں کے اعدادوشمار کی نمائندگی کرنے کے لیے کھینچا جاتا ہے۔ جدول 3.1 میں شکل 3.2 کوبنانے کے لیے اعدادوشمار فراہم کیاگیا ہے۔

خطی خاکے کی تشکیل (Construction of a Line Graph)

(a) اعدادوشمار کو قریب تر عدد میں بدل کر اسے آسان بنالیتے ہیں جیساکہ جدول 3.1 میں 1961اور1981کے لیے دکھائی گئی آبادی کی نمو کو بالترتیب 2.0 اور 2.2 کے قریب تر عدد میں بدلا جاسکتا ہے۔

(b) xاورyکا محور کھینچئے۔ وقتی سلسلے کے متغیرات(سال/مہینہ)کو xمحور پر اوراعدادوشمار کی کمیت/قیمت (آبادی کی نمو کو فی صد یا درجۂ حرارت کو ڈگری سینٹی گریڈ میں) خاکہ کشی y محور پر کریں۔

(c) ایک مناسب پیمانے کاانتخاب کیجیے اورyمحور پر درج کردیجیے۔ اگر اعدادوشمار میں کوئی منفی قیمت ہے تومنتخب پیمانےکو اسے بھی دکھانا چاہیے جیساکہ شکل3.1 میں دکھایا گیاہے۔

3

شکل3.1 خطی خاکے کی تشکیل


(d)
yمحور پرمنتخب پیمانے کے مطابق سالانہ/ماہ واری قیمتوں کو دکھانے کے لیے اعدادوشمار کی خاکہ کشی کیجیے اورنقطے کے ذریعہ خاکائی قیمتوں کا محل وقوع کا نشان لگائیے اوران نقطوں کوہاتھ سے خط کھینچ کر ملائیے۔
مثال 3.1: جدول3.1 میں دیے گئے اعدادوشمار کوپیش کرنے کے لیے ایک خطی خاکہ بنائیے۔

جدول3.1: ہندوستان میں آبادی کی شرح نمو1901تا2001



سال شرح نمونی صد میں 
1901
1911
1921
1931
1941
1951
1961
1971
1981
1991
2001
2011
-
0.56-
0.30-
1.04
1.33
1.25
1.96
2.20
2.22
2.14
1.93
1.79
4
5

شکل 3.2: ہندوستان میں آبادی کی سالانہ نمو2001–1901

سرگرمی


شکل 3.2 میں دیے گئے 1911اور1921کے دوران آبادی میں اچانک ہوئی تبدیلی کے وجوہات کاپتہ لگائیے۔

کثیر خطی خاکہ(Polygraph) 

کثیر خطی خاکہ یا پولی گرام ایک خطی خاکہ ہے جس میں دو یا دوسے زیادہ متغیرات کو فوری موازنے کے لیے خطوں کی مساوی تعداد سے دکھایا جاتا ہے جیسے فصلوں،چاول،گیہوں،دال کی شرح نمو یا شرح پیدائش،شرح اموات اورمتوقع طول حیات یا مختلف صوبوں یا ممالک میں جنسی تناسب۔ مختلف خطی طرز جیسے سیدھاخطی (—)،ٹوٹاخطہ(– – –)،نقطہ والا خط(......)یا نقطہ اورٹوٹاخطہ کا امتزاج(......)یا مختلف رنگوں کے خط کااستعمال مختلف متغیرات کی قیمت کو دکھانے کے لیے کیاجاسکتا ہے(شکل 3.3)

مثال 3.3: جدول 3.2 میں دیے گئے مختلف صوبوں میں جنسی تناسب کے نموکا موازنہ کرنے کے لیے ایک کثیرخطی خاکہ کی تشکیل کیجیے۔

جدول 3.2:  منتخب صوبوں کا جنسی تناسب(عورتیں فی ہزارمرد)1961-2001


صوبے/مرکزی علاقے 1961 1971 1981 1991 2001 2011
دہلی
ہریانہ
اتر پردیش
785
868
907
801
867
876
808
870
882
827
860
876
821
846
898
806
877
908

6

8

شکل 3.3: منتخب صوبوں کا جنسی تناسب2001–1961

بارڈائیگرام (Bar Diagram)

بارڈائیگرام برابرچوڑائی کے کالم کے ذریعہ کھینچاجاتا ہے۔ اسے مستوی ڈائیگرام بھی کہاجاتا ہے۔ بارڈائیگرام بناتے وقت مندرجہ ذیل اصولوں کو سامنے رکھاجاتا ہے۔
(a) سبھی بار یاکالم کی چوڑائی یکساں ہو۔
(b) سبھی باربرابر وقفے/دوری پر واقع ہوں۔
(c) بارکوایک دوسرے سے مختلف اوردل کش بنانے کے لیے رنگ یا طرز سے سایہ دار کیاجاسکتا ہے۔
اعدادوشمار کی خصوصیات کے مطابق سادہ مخلوط یا مرکب بار ڈائیگرام بنائے جاسکتے ہیں۔

سادہ ڈائیگرام (Simple Bar Diagram) 

سادہ بارڈائیگرام فوری موازنے کے لیے بنایاجاتا ہے۔ دیے گئے اعدادوشمار کو بڑھتی یا گھٹتی ترتیب میں منظم کرنا اوراسی کے حساب سے متغیرات کی خاکہ کشی کرنا زیادہ مناسب ہے۔ حالاںکہ سلسلہ وقت کے اعدادوشمار کو زمانی وقفوں کے تواتر کے مطابق پیش کیاجاتا ہے۔

مثال 3.3: جدول3.3 میں دیے گئے تیرواننت پورم کی بارش کے اعدادوشمار کو پیش کرنے کے لیے ایک سادہ بارڈائیگرام بنائیے۔

جدول 3.3:  تیرواننت پورم کی اوسط ماہانہ بارش


ماہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر
بارش(سینٹی میٹر) 2.3 2.1 3.7 10.6 20.8 35.6 22.3 14.6 13.8 27.3 20.6 7.5
9

تشکیل (Construction)

ایک گراف پیپرپرx اورyمحور کھینچئے۔ 5سینٹی میٹر کاوقفہ لیجیے اوراسےyمحورپر سینٹی میٹر میں بارش کے اعدادوشمار دکھانے کے لیے خاکہ کشی کیجیے۔ 12مہینوں کو دکھانے کے لیےxمحور کو12برابر حصوں میں تقسیم کیجیے۔ ہر مہینے کے لیے حقیقی بارش کے مقدار کو شکل 3.4 میں منتخب پیمانے کے مطابق دکھایاجائے گا۔

10

شکل 3.4 تیروا  ننت پورم کی اوسط ماہانہ بارش

خطی  اوربار گراف (خاکہ) (Line and Bar Graph)

خطی خاکے اوربارڈائیگرام جو الگ الگ بنائے جاتے ہیں انھیں دیک دوسرے کی نزدیکی خصوصیات جیسے اوسط ماہانہ درجہ حرارت اوربارش کے آب وہوائی اعدادوشمار کو پیش کرنے کے لیے ایک ساتھ ملا کر بھی بنایاجاسکتا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ایک واحد خاکہ کافی ہے جس میں مہینے کو xمحورپر اوردرجہ حرارت وبارش کو Yمحور پرخاکے کے دونوں طرف دکھائے جاتے ہیں۔

مثال 3.4: جدول 3.4 میں دیے گئے دہلی کی اوسط ماہانہ بارش اور  درجۂ حرارت کودکھانے کے لیے ایک خطی خاکہ اوربارڈائیگرام بنائیے۔

تشکیل (Construction)

(a)  ایک مناسب لمبائی کاx اور Y محور کھینچتے اورxمحور کو ایک سال کے مہینوں کو دکھانے کے  لیے 12 حصوں میں تقسیم کیجیے۔
(b) Y محور پر درجۂ حرارت کودکھانے کے لیے 5سینٹی گریڈ یا 10 سینٹی گریڈ کے مساوی وقفہ کے ساتھ ایک مناسب پیمانے کا انتخاب کیجیے اوراس کا خاکہ دائیں طرف بنائیے۔
(c) اس طرح yمحورپر بارش کے اعدادوشمار کو دکھانے کے لیے 5سینٹی گریڈ کا10سینٹی گریڈ کے مساوی وقفہ کے ساتھ ایک مناسب پیمانے کا انتخاب کیجیے اور اس کا خاکہ بائیں طرف بنائیے۔
(d) درجہ حرارت کے اعدادوشمار کی خاکہ کشی خطی خاکے سے کھینچیے اوربارش کے لیے ستونی ڈائیگرام کی خاکہ کشی کیجیے جیساکہ شکل 3.5 میں دکھایاگیاہے۔

                                    جدول3.5:دہلی میں اوسط ماہانہ درجہ ٔ حرارت اور بارش

ماہ درجہ ٔ حرارت ڈگری سینٹی گریڈ میں  بارش(سینٹی میٹر میں)
جنوری 
فروی
مارچ
اپریل
مئی
جون
جولائی
اگست
ستمبر
اکتوبر
نومبر
دسمبر
14.4
16.7
23.30
30.0
33.3
33.3
30.0
29.4
28.9
25.6
19.4
15.6
2.5
1.5
1.3
1.0
1.8
7.4
19.3
17.8
11.9
1.3
0.2
1.0

11

13

شکل 3.5: دہلی میں درجہ حرارت اوربارش

کثیری بارڈائیگرام (Multiple Bar Diagram)

موزناتی مقصد کوپورا کرنے کے لیے دویا دوسے زیادہ متغیرات کو پیش کرنے کے لیے کثیری بارڈائیگرام بنایاجاتا ہے۔مثال کے طورپر کل،دیہی اورشہری آبادی میں مرد اورعورت کے تناسب کو دکھانے یا مختلف صوبوں میں کل سینچائی والے علاقوں میں نہر،ٹیوب ویل اورکنوئیں کا حصہ دکھانے کے لیے کثیری بارڈائیگرام بنایاجاسکتا ہے۔
مثال 3.5: جدول 3.5 میں دیے گئے1951سے 2001 کے دوران ہندوستان میں عشرسالوں کی شرح خواندگی دکھانے کے لیے ایک کثیری بارڈائیگرام بنائیے۔

تشکیل (Construction) 

(a)    مذکورہ اعدادوشمار کی نمائندگی کے لیے کثیری بارڈائیگرام کا انتخاب کیاجاسکتا ہے۔
(b)  منتخب پیمانے کے حساب سے سلسلہ وقت کے اعدادوشمار کو xمحور پر اورشرح خواندگی کوyمحور پر نشان لگائیے۔

جدول 3.5: ہندوستان میں شرح خواندگی1951–2001(فی صدمیں)


سال شرح خواندگی
کل آبادی مرد عورت
1951
1961
1971
1981
1991
2001
2011
18.33
28.3
34.45
43.57
52.21
64.84
73.0


27.16
40.4
45.96
56.38
64.13
75.85
80.9
8.86
15.35
21.97
29.76
39.29
54.16
64.6

14
(c)  کل آبادی،مرد اورعورت کی فی صد کی خاکہ کشی نزدیکی ستونوں میں  کیجیے جیساکہ شکل 3.6 میں د کھایاگیا ہے۔

15

شکل 6۔3:  شرح خواندگی 2011۔1951

مرکب بارڈائیگرام (Compound Bar Diagram)

جب مختلف عناصر کو متغیر کے ایک مجموعہ میں جمع کردیاجائے یا ایک عنصر کے مختلف متغیرات ایک ساٹھ ہوں توان کی نمائندگی مرکب بارڈائیگرام کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ اس طریقے میں مختلف متغیرات کو ایک بارمیں مختلف مستطیلوں سے دکھایاجاتا ہے۔
مثال 3.6: جدول 3.6 میں د یے گئے اعدادوشمار کو پیش کرنے کے لیے مرکب بارڈائیگرام بنائیے۔

جدول 3.6: ہندوستان میں بجلی کی مجموعی پیداوار(بلین کلوواٹ میں)


سال حرارتی آبی نیوکلائی کل
2008-09
2009-10
2010-11
616.2
677.1
704.3
110.1
104.1
114.2
14.9
18.6
26.3
741.2
799.8
844.8
16

تشکیل (Construction) 

(a) اعدادوشمار کو بڑھتی یا گھٹتی ترتیب میں مرتب کیجیے۔
(b) دیے گئے سال میں بجلی کی مجموعی پیداوار کو ایک تنہابارپیش کرسکتا ہے اورحرارتی،آبی،نیوکلیائی بجلی کی پیداوار کے بارمیں منقسم کرکے دکھایاجاسکتا ہے جیساکہ شکل3.7 میں دکھایاگیا ہے۔ بجلی بلین کلوواٹ میں

پائی ڈائیگرام (Pie Diagram)

اعدادوشمار کی نمائندگی کے لیے پائی ڈائیگرام ایک دوسرا خاکائی طریقہ ہے۔ اسے ایک دائرے کااستعمال کرکے دی گئی خصوصیت کی کل قیمتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کھینچاجاتا ہے۔ دائرے کو زاویوں کے موافق ڈگریوں میں تقسیم کرکے اعدادوشمار کے ذیلی مجموعے کی نمائندگی کی جاتی ہے۔ اس لیے اس کو منقسم دائرہ ڈائیگرام بھی کہاجاتا ہے۔
17

شکل3.7 ہندوستان میں بجلی کی مجموعی پیداوار

مندرجہ ذیل طریقہ کا استعمال کرکے ہر متغیر کے زاویے کی تحسیب کی جاتی ہے۔

دیے گئے صوبہ/علاقہ کی قیمت 360 ×

———————————
تمام صوبوں/علاقوں کی کل قیمت
اگراعدادوشمارفی صدمیں دیے گئے ہوں تو زاویے کا حساب مندرجہ ذیل طریقہ کااستعمال کرکے لگایاجاتا ہے۔
xکا فی صد  360 ×
——————
      100
مثال کے طورپر ہندوستان کی کل آبادی کو دیہی شہری آبادی کے تناسب کے ساتھ دکھانے کے لیے پائی ڈائیگرام بنایاجاسکتا ہے۔ اس صورت میں کل آبادی کی نمائندگی کے لیے ایک مناسب نصف قطر کا دائرہ کھینچاجاتا ہے اورآبادی کی ذیلی تقسیم دیہی اورشہری آبادی کو ان کے مطابق زاویوں سے دکھایاجاتا ہے۔
مثال3.7: جدول 3.7 (a) میں دیے گئے اعدادوشمار کی نمائندگی ایک مناسب خاکے کے ذریعہ کیجیے۔

زاویوں کی تحسیب (Calculation of Angles)

(a)   ہندوستان برآمدات کی فی صد سے متعلق اعدادوشمار کو بڑھتی ترتیب میں مرتب کریں۔
(b)    دنیاکے اہم علاقوں/ممالک کی طرف ہندوستانی برآمدات کی دی گئی قیمت کا زاویے حساب ڈگری میں مطالعے جیساکہ جدول3.7 (b)میں دیاگیا ہے۔ اسے فی صد کو ایک مستقل عدد 3.6 سے ضرب دے کر نکالاجاسکتا ہے۔ یہ استقلال دائرے کے کل ڈگریوں360کو100سے تقسیم دے کر نکالاگیا ہے یعنی360/100=–
(c)   ہندوستان کے درآمدات کو مختلف علاقوں/ ممالک کی طرف دکھانے کے لیے دائرہ کو مطلوبہ حصوں کی تعداد میں تقسیم کرکے اعدادوشمار کی خاکہ کشی کیجیے۔

 تشکیل (Construction)

(a)  کھینچے جانے والے دائرہ کے لیے ایک مناسب نصف قطر کا انتخاب کیجیے۔دییے گئے اعدادوشمار کے مجموعہ کے لیے3،4یا5سینٹی میٹرکے نصف قطر کا انتخاب کیاجاسکتا ہے۔
(b)   دائرہ کے مرکز سے قوس تک نصف قطر کی حیثیت سے ایک خط کھینچتے۔
(c)  چھوٹے زاویے سے شروع کرکے بڑھتی ترتیب میں گھڑی کی سمت کے موافق دائرہ کے قوس سے متغیرات کی ہر قسم کے لیے زاویہ کی پیمائش کیجیے۔
(d) عنوان،ذیلی عنوان اوراشاریہ کا اضافہ کرکے خاکے کو مکمل کیجیے۔ ہر متغیر/قسم کے لیے امتیازی سایہ/رنگ کا انتخاب کرکے اشاریہ کا نشان لگائیے۔

جدول3.7: (a) 11-2010  میں دنیا کے اہم علاقوں کی طرف ہندوستان کے برآمدات


اکائی/علاقہ ہندوستانی برآمدات کی فی صد
یوروپ
افریقہ
امریکہ
ایشیا اورASEAN
دیگر
20.2
6.5
14.8
56.2
2.3
کل 100
ماخذ: اکنامکس سروے 12-2011


جدول3.7 (b) 2010-11 میں دنیاکے اہم علاقوں/ممالک کی طرح ہندوستان کی برآمدات


ممالک فی صد تحسیب ڈگری
یورپ
افریقہ
امریکہ
ایشیا اور ASEAN
دیگر
20.2
6.5
14.8
56.2
2.3
20.2x3.6=72.72
6.5x3.6=23.4
14.8x3.6=53.28
56.2x3.6=202.32
2.3x3.6=8.28
730
230
530
2030
80

کل 100 3600
19

احتیاط (Precautions)

(a) دائرہ نہ تو اتنا بڑا ہوکہ دی گئی جگہ میں فٹ نہ ہوسکے اورنہ اتناچھوٹا کہ پڑھانہ جاسکے۔
(b) بڑے زاویہ سے شروع کرنے پر غلطیاں اتنی جمع ہوجاتی ہیں کہ چھوٹے زاویے کی خاکہ کشی مشکل ہوجاتی ہے۔
20

شکل 3.8: ہندوستانی برآمدات کی سمت 11-2010

رواں نقشے/چارٹ (Flow Maps/Chart)

رواں چارٹ, خاکہ اورنقشے کا تال میل ہے۔ اسے جائے مقام منزل مقصودکے درمیان اشیااورلوگوں کی روانی دکھانے کے لیے کھینچاجاتا ہے۔ اسے حرکی نقشہ بھی کہاجاتا ہے۔نقل وحمل کا نقشہ جس میں مسافروں،گاڑیوںوغیرہ کی تعداددکھائی جاتی ہے،رواں چارٹ کی بہترین مثال ہے۔ان چارٹوں کو متناسب چوڑائی کے خطوط کا استعمال کرکے بنایاجاتا ہے۔بہت سی سرکاری ایجنسیاں مختلف راستوں پر نقل وحمل کے ذرائع کی کثافت دکھانے کے لیے رواں نقشے تیار کرتی ہیں۔رواںنقشوں/چارٹوںکوعام طورسے مندرجہ ذیل دوقسم کی اعدادوشمارکی نمائندگی کے لیے کھینچاجاتا ہے۔
ان کی سمت اورحرکت کے اعتبارسے سواری گاڑیوں کی تعداداورتواتر 
2۔  نقل وحمل والے مسافروں کی تعداد/اشیاکی کمیت

رواں نقشہ بنانے کے لیے لوازمات (Requirements for the Preparation of a Flow Map)

(a) اسٹیشنوں کے ساتھ نقل وحمل کے مطلوبہ راستوں کودکھانے والا راستے کا نقشہ
(b) آمدورفت کے جائے مقام اورمنزل مقصود کے ساتھ اشیا،خدمات،گاڑیوں کی تعداد وغیرہ کی روانی سے متعلق اعدادوشمار
(c) ایک پیمانے کا انتخاب جس کے ذریعہ مسافروں اوراشیا کی مقدار یا گاڑیوں کی تعداد سے متعلق اعدادوشمار کی نمائندگی کی جاسکے۔

تشکیل (Construction)

(a)   دہلی اوراس کے اطراف کا ایک خاکائی نقشہ لیجیے جس میں ریلوے لائن اورنوڈل اسٹیشن دکھائے گئے ہوں(شکل 3.9)
(b)  ریل گاڑیوں کی تعداد کو دکھانے کے لیے ایک پیمانے کا انتخاب کیجیے۔ یہاں پر سب سے زیادہ تعداد50ہے اورسب سے کم 6ہے۔ اگر ہم ایک سینٹی میٹر50  = ریل گاڑیوں کا پیمانہ چن لیں تو سب سے زیادہ اورسب سے کم تعداد10ملی میٹر کی پٹی 1.2ملی میٹر کی موٹی لکیر سے نقشے پردکھاسکتے ہیں۔
(c)   دیے گئے ریل راستوں کے درمیان راستے کی ہرپٹی کی موٹائی کی خاکہ کشی کیجیے (شکل 3.10)
(d)  ایک سیڑھی نماپیمانہ اشاریہ کی طرح کھینچئے اورپٹی پرنوڈل اسٹیشن کو دکھانے کے لیے امتیازی نشانات یا علامات کا انتخاب کیجیے۔

مثال 3.8: جدول 3.8 : دی گئی دہلی اوراس کے اطراف میں چلنے والی ریل گاڑیوں کی تعدادکو دکھانے کے لیے ایک رواں نقشہ بنائیے 

جدول 3.8:دہلی اور اس کے اطراف کے چنندہ راستوں پر ریل گاڑیوں کی تعداد 


سلسلہ وار نمبر ریل راستے ریل گاڑی کی تعداد
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
پرانی۔ نئی دہلی
نئی دہلی۔ نظام الدین
نظام الدین۔ بدرپور
نظام الدین۔سروجنی نگر
سروجنی نگر۔ پوسا روڈ
پرانی دہلی۔ صدر بازار
ادھیوگ نگر۔ٹکری کلاں
پوسا روڈ۔پرہلاد پور
صاحب آباد۔موہن نگر
پرانی دہلی۔ سیلم پور
سلیم پور۔نند نگری
سیلم۔موہن نگر
پرانی دہلی۔شالی مار باغ
صدر بازار۔ ادھیوگ نگر
پرانی دہلی۔پوساروڈ
پرہلاد پور۔ پالم وہار
50
40
30
12
8
32
6
15
18
33
12
21
16
18
22
12

21

22

شکل3.9:دہلی کا نقشہ

23

دہلی کا نقل و حمل (ریل کا راستہ) رواں نقشہ

مثال 3.10: گنگا کا جس میں پانی کی روانی کا نقشہ بنائیے جیساکہ شکل3.11میں دکھایا گیا ہے۔
24
شکل3.11 گنگاطاس

تشکیل (Construction)

(a) ایک پیمانہ لیجیے جیسے ایک سینٹی میٹر چوڑائی کی پٹی50,000 =مکعب فٹ فی سیکنڈپانی
(b) ایک خاکہ بنائیے جیساکہ شکل 3.12میں دکھایاگیا ہے۔
25

شکل 3.12: رواں نقشے کی تشکیل

موضوعی نقشے (Thematic Maps)

 مختلف خصوصیات کی نمائندگی کرنے والے اعدادوشمار میں اندرونی تغیر کے درمیان موازنہ فراہم کرنے میں خاکے اورڈائیگرام مفید مقصد انجام دیتے ہیں۔ پھر بھی کئی بار خاکوں اورڈائیگرام کا استعمال علاقائی پہلو کو پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس مختلف قسم کے نقشے بنائے جائیں تاکہ علاقائی تقسیم کے طرزکو سمجھاجاسکے یامقامات پر تنوع کی خصوصیات کو دیکھاجاسکے۔ ان نقشوں کو تقسیمی نقشہ کے نام سے بھی جاناجاتا ہے۔

موضوعی نقشوں کی تشکیل کے لیے لوازمات (Requirements for Making a Thematic Map) (a)

(a) منتخب موضوع سے متعلق صوبائی/ضلعی سطح کے اعدادوشمار

 (b) مطالعاتی علاقے کا انتظامی حدودوالاخاکائی نقشہ

 (c) علاقے کاطبعی نقشہ:مثال کے طورپرآبادی کو دکھانے کے لیے ارضیاتی نقشہ اورنقل وحمل کا نقشہ بنانے کے لیے زمینی خدوخال اورپن نکاس کا نقشہ۔

 موضوعی نقشوں کو بنانے کے لیے اصول (Rules for Making Thematic Maps))

 (i)موضوعی نقشوں کی تشکیل کا منصوبہ احتیاط سے کرنا چاہیے۔ تیار نقشے میں مندرجہ ذیل عناصر کا انعکاس مناسب طورپر ہونا چاہیے۔

(a) علاقے کانام

b موضوع کا عنوان
c اعدادوشمار کے ذرائع اورسال
d علامات،نشانات،رنگ اورسایوں وغیرہ کے اشاریے

e پیمانہ

(ii) موضوعی نقشہ بنانے کے لیے مناسب طریقے کا انتخاب

تشکیلی طریقے کی بنیادپر موضوعی نقشوں کی درجہ بندی (Classification of Thematic Maps based on Method of Construction)

موضوعی نقشوں کو عام طورپر کمیتی اورغیرکمیتی نقشوں میں درجہ بندکیاجاتا ہے۔کمیتی نقشے اعدادوشمار میں تغیر دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔مثال کے طورپر 200سینٹی میٹر سے زیادہ،100سینٹی میٹرسے200سینٹی میٹر،50سے100سینٹی میٹر اور50سینٹی میٹر سے کم بارش کے علاقوں کو دکھانے والے نقشوں کو کمیتی نقشہ کہاجاتا ہے۔ ان نقشوں کو شماریاتی نقشہ بھی کہاجاتا ہے۔ دوسری طرف غیرکمیتی نقشے دی گئی معلومات کی تقسیم میں غیر پیمائشی خصوصیات کو دکھاتے ہیں جیسے سب سے زیادہ یاسب سے کم بارش والے علاقوں کو دکھانے والانقشہ ان نقشوں کو کیفیتی نقشہ بھی کہاجاتا ہے۔ وقت کی کمی کی وجہ ان مختلف قسم کے موضوعی نقشوں کے تشکیلی طریقوں کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ہم مندرجہ ذیل قسم کے کمیتی نقشوں کی تشکیل کے طریقوں تک محدودرہیں گے۔

(a) نقطہ جاتی نقشے

(b) ظلی نقشے

(c) ہم باری/ہم خطی نقشے

نقطہ جاتی نقشے (Dot Maps)

نقطہ جاتی نقشے آبادی،جانور،فصل کی قسموں وغیرہ کی تقسیم کو دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔تقسیم کے طرزکو دکھانے کے لیے منتخب پیمانے ایک ہی سائز کے نقاط دی گئی انتظامی اکائیوں پر نشان زدکیے جاتے ہیں۔

لوازمات (Requirement)

(a) دیے گئے علاقے کا انتظامی نقشہ جس میں صوبہ/ضلع/بلاک کے حدود دکھائے گئے ہوں۔

(b) منتخب انتظامی اکائی کے لیے منتخب موضوع جیسے کل آبادی مویشی وغیرہ پر شماریاتی اعدادوشمار

(c) ایک نقطے کی قیمت مقرر کرنے کے لیے پیمانے کا انتخاب

(d) علاقے کا طبعی نقشہ خاص کر زمینی خدوخال اورپن نکاس کا نقشہ
احتیاط (Precaution)
(a) مختلف انتظامی اکائیوں کے حدود کو مقرر کرنے والے خطوط زیادہ کثیف اورموٹی نہ ہوں۔
(b) ہر ایک نقطہ ایک ہی سائز کاہونا چاہیے۔
مثال 3.12: جدول3.9 میں دی گئی2001کی آبادی کے اعدادوشمار کو پیش کرنے کے لیے ایک نقطہ جاتی نقشہ بنائیے۔

جدول3.9: ہندوستان کی آبادی2001



1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
جموں و کشمیر
ہماچل پردیش
پنجاب 
اتراکھنڈ
ہریانہ
دہلی
راجستھان
اتر پردیش
بہار
سکم
اروناچل پردیش
ناگالینڈ
منی پور
میزورم
پری پورا
میگھالیہ
آسام
مغربی بنگال
جھارکھنڈ
اڑیسہ
چھتیس گڑھ
مدھیہ پردیش
گجرات
مہاراشٹرا
آندھرا پردیش
کرناٹک
گووا
کیرلہ
تامل ناڈو
10,069,917
6,077,248
24,289,296
8,479,562
21,082,989
13,782,976
56,473,122
166,052,859
82,878,796
540,493
1,091,117
1,988,636
2,388,634
891,058
3,191,168
2,306,069
26,638,407
80,221,171
26,909,428
36,706,920
20,795,956
60,385,118
50,596,992
96,752,247
75,727,541
52,733,958
1,343,998
31,838,619
62,110,839
100
60
243
85
211
138
565
1,660
829
5
11
20
24
89
32
23
266
802
269
367
208
604
506
968
757
527
13
318
621
26

27

شکل 3.13ہندوستان کی آبادی2001

 تشکیل (Construction)

(a) ایک نقطہ کا سائز اورقیمت کا انتخاب کیجیے۔
(b) دیے گئے پیمانے کے استعمال سے ہر ایک صوبے میں نقطوں کی تعداد مقرر کیجیے۔ مثال کے طورپر ایک نقطہ ایک لاکھ آبادی کے برابر ہے تو مہاراشٹر میں نقطوں کی تعداد9,67,52,247/100,000=967.52ہوگی۔ اسے آپ968میں بد ل سکتے ہیں کیوںکہ اس کاکسر0.5 سے زیادہ ہے۔
(c) تمام صوبوں میں نقطوں کی جو تعداد مقرر کی گئی ہے اسے ہر صوبے میں دکھائیے۔
(d) پہاڑ،ریگستان اوربرف سے ڈھکے علاقوں کی پہچان کے لیے ہندوستان کا طبعی/ارضیاتی نقشہ دیکھئے اوران علاقوں میں نقطوں کی تعداد کم دکھائیے۔

  ظلی نقشہ(Choropleth Map) 

ظلی نقشے بھی انتظامی اکائیوں سے متعلق اعدادوشمارکی خصوصیات دکھانے کے لیے کھینچے جاتے ہیں۔ یہ نقشے آبادی کی کثافت، شرح خواندگی کی نمو،جنسی تناسب وغیرہ کو دکھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ظلی نقشوں کی تشکیل کے لوازمات (Requirement for drawing Choropleth Map)
(a) مختلف انتظامی اکائیوں کا علاقہ دکھانے والا نقشہ
(b) انتظامی اکائیوں کے مطابق مناسب شماریاتی اعدادوشمار

تشکیل کے اقدام (Steps to be followed)

(a) اعدادوشمار کو بڑھتی  یا تنزلی ترتیب میں منظم کریں۔
(b) بہت زیادہ،زیادہ،میانہ،کم اوربہت کم ارتکاز کو دکھانے کے لیے اعدادوشمار کو5زمروں میں درجہ بندکریں۔
(c) درجوں کے درمیان وقفہ کو مندرجہ ذیل فارمولے سے مقرر کریں یعنی وسعت 5اوروسعت=بیشتر قیمت  –کمتر قیمت
(d) مختلف زمروں کو دکھانے کے لیے استعمال کیے جانے والے طرزوں، سایوں اوررنگوں کا نشان بڑھتی یاگھٹتی ترتیب میں کیجیے۔
مثال 3.13: جدول 3.10 میں دی گئی ہندوستان کی  2001کی شرح خواندگی کو دکھانے کے لیے ایک ظلی نقشہ بنائیے۔

تشکیل (Construction)

(a)      اعدادوشمار کوبڑھتی ترتیب میں منظم کیجیے جیساکہ اوپر دکھایا گیا ہے۔
(b)      اعدادوشمار کے اندروسعت کی پہچان کیجیے۔ موجودہ مثال میں سب سے کم اورسب سے زیادہ شرح خواندگی میں بالترتیب صوبے بہار(%47)اورکیرالا(%90.9)ہیں۔ اس لیے وسعت44 = 91–47 ہوگی۔
(c) بہت کم سے بہت زیادہ زمروں کو حاصل کرنے کے لیے وسعت کو5سے تقسیم کیجیے44.0/5 = 8.80ہم اس مقدار کو قریب ترعددیعنی9.0وغیرہ میں بدل سکتے ہیں۔
28

شرح خواندگی شرح،2001

(d) ہرزمرے کی وسعت کے ساتھ زمروں کی تعداد متعین کیجیے سب سے کم قیمت47میں9کوجوڑکرزمرہ بنالیجیے۔اس طرح ہمیں مندرجہ ذیل زمرے ملیں گے۔
47–56بہت کم(بہار،جھارکھنڈ،اروناچل پردیش،جموںاورکشمیر)
56–65کم(اترپردیش،راجستھان،آندھراپردیش،میگھالیہ،اڑیسہ،آسام،مدھیہ پردیش،چھتیس گڈھ)
65–74میانہ (ناگالینڈ،کرناٹک،ہریانہ،مغربی بنگال،سکم،گجرات،پنجاب،منی پور،اترانچل،تری پورہ،تامل ناڈ)
74–83زیادہ(ہماچل پردیش،مہاراشٹر،دہلی،گوا)
83–92بہت زیادہ (میزورم،کیرالا)
(e)کم سے زیادہ تک ہرزمرے کے لیے رنگ/طرزکو مقررکیجیے۔
(f)نقشے کو تیارکیجیے جیساکہ شکل 3.14 میں دکھایاگیا ہے۔
(g)نقشے کی ڈیزائن کی صفات کے مطابق نقشے کو مکمل کیجیے۔

جدول 3.10: ہندوستان میں شرح خواندگی2001


ہندوستان میں خواندگی کے حقیقی اعداد و شمار
نمبر شمار صوبے/مرکزی علاقے شرح خواندگی
1-
2-
3-
4-
5-
6-
7-
8-
9-
10-
11-
12-
13-
14-
15-
16-
17-
18-
19-
20-
21-
22-
23-
24-
25-
26-
27-
28-
29-
30-
31-
32-
33-
34-
35-
جموں و کشمیر
ہماچل پردیش
پنجاب 
چنڈی گڑھ
اترا کھنڈ
ہریانہ
دہلی 
راجستھان
اتر پردیش
بہار
سکم
ارونا چل پردیش
ناگالینڈ
منی پور
میزورم
تری پورہ
میگھالیہ
آسام
مغربی بنگال
جھارکھنڈ
اڑیسہ
چھتیس گڑھ
مدھیہ پردیش
گجرات
دمن دیو
دادر اور ناگر ہویلی
مہاراشٹرا
آندھرا پردیش
کرناٹک
گووا
لکش دیپ
کیرلہ
تمل ناڈو
پانڈیچری
انڈمان و نکوبار
55.5
76.5
69.7
81.9
71.6
67.9
81.7
60.4
56.3
47.0
68.8
54.3
66.6
70.5
88.8
73.2
62.6
63.3
68.6
53.6
63.1
64.7
63.7
69.1
78.2
57.6
76.9
60.5
66.6
82.0
86.7
90.9
73.5
81.2
81.3




بڑھتی ترتیب میں منظم ہندوستان میں شرح خواندگی کے اعداد و شمار
نمبر شمار صوبے/مرکزی علاقے شرح خواندگی
10-
20-
12-
01-
9-
26-
08-
28-
17-
21-
18-
23-
22-
13-
29-
06-
19-
11-
24-
03-
14-
05-
16-
33-
02-
27-
25-
34-
35-
07-
04-
30-
31-
15-
32-
بہار 
جھارکھنڈ
اروناچل پردیش
جموں کشمیر
اتر پردیش
دادر اور ناگر ہویلی
راجستھان
آندھرا پردیش
میگھالیہ
اڑیسہ
آسام
مدھیہ پردیش
چھتیس گڑھ
ناگالینڈ
کرناٹک
ہریانہ
مغربی بنگال
سکم
گجرات
پنجاب
منی پور
اتراکھنڈ
تری پورہ
تمل ناڈو
ہماچل پردیش
مہاراشٹرا
دمن اور دیو
پانڈیچری
انڈومانو نکوبار
دہلی
چنڈی گڑھ
گووا
لکش دیپ
میزورم 
کیرلہ
47.0
53.6
54.3
55.5
56.3
57.6
60.4
60.5
62.6
63.1
63.3
63.7
64.7
66.6
66.6
67.9
68.6
68.8
69.1
69.7
70.5
71.6
73.2
73.5
76.5
76.9
78.2
81.2
81.3
81.7
81.9
82.0
86.7
88.8
90.9

ہم خطی نقشہ (Isopleth Map)

ہم دیکھ چکے ہیں کہ انتظامی اکائیوں سے متعلق اعدادوشمار کو نمائندگی ظلی نقشے کا استعمال کرکے کی جاتی ہے۔ پھر بھی بہت سی حالتوں میں اعدادوشمار کے تغیر کو قدرتی حدود کی بنیاد پر دیکھاجاسکتا ہے۔مثال کے طورپر ڈھلان کی ڈگری،درجہ حرارت،بارش وغیرہ میں تغیر اعدادوشمارمیں تسلسل کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان جغرافیائی حقائق کی نمائندگی نقشے پر مساوی قدروں کے خطوط کھینچ کر کی جاسکتی ہے۔ ایسے تمام نقشوں کو ہم خطی نقشہ  (ISOpleth Map)کہتے ہیں۔ ISO p lethکا نقطہ آئی سو(ISO)بمعنی برابر اورپلیتھ(pleth)بمعنی خطہ سے ماخوذ ہے۔اس طرح کوئی بھی تصوراتی خطہ جو برابر قدروقیمت کو مقامات کو جوڑتا ہے اسے ہم خطی کہاجاتا ہے۔اکثر کھینچے گئے مساوی خطوط کے تحت مساوی انحرارۃ(ISO therm)،(مساوی حرارت والے خطوط)،مساوی ابعاد(ISO bar)کرہ ہوا کے مساوی دباو والے خطوط،مساوی الباراں(ISO hyte)مساوی بارش کے خطوط،مساوی بادل(ISO nephs)مساوی بادل والے خطوط،آئسوہیل(ISO hels)مساوی دھوپ والے خطوط،ارتفاعی خطوط مساوی بلندی والے خطوط،مساوی عمق(ISO bath)مساوی گہرائی والے خطوط آئسوہیلائن(ISO heline)مساوی نمکینی یت والے خطوط وغیرہ آتے ہیں۔

لوازمات (Requirement)

(a) مختلف مقامات کا محل وقوع دکھانے والا بنیادی خاکائی نقشہ
(b) مقررہ اوقات کے مطابق درجہ حرارت،ہواکادباو،بارش وغیرہ کے مناسب اعدادوشمار
(c) ڈرائنگ کے آلات خاص کر فرنچ قوس وغیرہ

قابل توجہ اصول (Rules to be observed)

(a) قیمتوں کا مساوی وقفہ منتخب کیاجائے۔
(b)
  5 ،10یا20کا وقفہ منتخب کرنا مثالی ہوتا ہے۔
(c)  ہم خطی خطوط کی قیمت خط کے دونوں طرف یا خط کو توڑ کر درمیان میں لکھنا چاہیے۔

تداخل (Interpolation)

تداخل کا استعمال دومقامات/محل وقوع مشاہد قیمتوں کے درمیان میانہ قیمت کو ھاصل کرنے کے لیے کیاجاتا ہے جیسے چنئی اورحیدرآباد میں درج کیاگیا درجہ حرارت یا دونقطوں کی بلندیاں عام طورپرہم خطی قدروں کو جوڑنے والے مساوی الخطوط کو تداخل کہاجاتا ہے۔
تداخل کا طریقہ (Method of Interpolation)
تداخل کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کو اپنائیں۔
(a) سب سے پہلے نقشے پر دیے گئے کمتر اوربیشتر قیمتوں کا تعین کرلیجیے۔
(b) قیمتوں کی وسعت کی تحسیب کیجیے یعنی وسعت=بیشتر قیمت–کمتر قیمت
(c) وسعت کی بنیاد پر ایک مکمل عدد جیسے5،10،15وغیرہ میں وقفہ کا تعین کیجیے۔

ہم خطی خطوط کو کھنچنے کا صحیح نقطہ معلوم کرنے کے لیے درج ذیل فارمولے کا استعمال کیاجاتا ہے۔

ہم خطی نقطہ=دونقطوں کے درمیان کی دوری سینٹی میٹر میں  متناظرنقطوں کی دوقیمتوں کے درمیان فرقxوقفہ
             

وقفہ نقشے پر اصل قیمت اورتداخلی قیمت کے درمیان کافرق ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر دومقامات کے مساوی الحرارت نقشے میں31اوردکھاتے ہیں اورآپ 30oCمساوی الحرارت کا خط کھینچناچاہتے ہیں تو نقطوں کے درمیان دوری کی پیمائش کیجیے۔ مان لیجیے کہ دوری1سینٹی میٹر یا 10ملی میٹر ہے اور28اور33میں5کافرق ہے جب کہ30،28سے دونقطے دوراور33سے3نقطے پیچھے ہے۔اس طرح 30کاصحیح نقطہ ہوگا۔
اس طرح ہم خطی نقطہ 32  33 4ملی لیٹر28 سے آگے 33 کی طرف یا 6 ملی لیٹر 33 سے پیچھے 28 کی طرف کھیچا جا ئے گا 
(d) سب سے کم قیمت والی ہم خطی کو سب سے پہلے کھینچتے اوردیگر ہم خطوں کو اسی ترتیب میں کھینچتے۔
34

شکل 3.15 ہم خطوں کا کھینچنا

مشق

مندرجہ ذیل چارمتبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔

(i) آبادی کی تقسیم رکھائی جاتی ہے۔

(a)   ظلی نقشوں کے ذریعہ (b)  ہم خطی نقشوں کے ذریعہ
(c)   نقطہ جاتی نقشوں کے ذریعہ (d)   مندرجہ بالامیں سے کوئی نہیں

(ii) آبادی کی عشری نمو کو دکھانے کا سب سے اچھا طریقہ

(a)  خطی خاکہ (b)   بارڈائیگرام
(c)   پائی ڈائیگرام (d)  مندرجہ بالامیں سے کوئی نہیں

(iii) کثیرخطی خاکہ کی تشکیل کس کی نمائندگی کے لیے کی جاتی ہے؟

(a)   صرف ایک متغیر کے لیے (b)   صرف دومتغیر کے لیے
(c)   دوسے زیادہ متغیرات کے لیے (d)   مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں

(iv) مندرجہ ذیل میںسے کون سانقشہ’’حرکی نقشہ‘‘کہاجاتا ہے۔

(a)   نقطہ جاتی نقشہ (b)   ظلی نقشہ
(c)   ہم خطی نقشہ (d)   رواں نقشہ

مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے۔

(i) موضوعی نقشہ کیا ہے۔

(ii) کثیر رخی بارڈائیگرام اورمرکب بارڈائیگرام میں فرق واضح کیجیے۔
   (iii) نقطہ جاتی نقشہ بنانے کے کیا لوازمات ہیں؟
(iv) گاڑیوں کا رواں نقشہ بنانے کا طریقہ بیان کیجیے۔
(v) ہم خطی نقشہ کیا ہے؟ تداکل کیسے بنایاجاتا ہے؟
(vi) ظلی نقشہ تیار کرنے کے لیے اٹھائے گئے اہم اقدامات کا تذکرہ خاکوں کے ساتھ کیجیے۔
(vii) اعدادوشامر کی نمائندگی پائی ڈائیگرام سے کرنے کے لیے اہم اقدامات کا تذکرہ کیجیے۔

سرگرمی

مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی نمائندگی مناسب ڈائیگرام کی مدد سے کیجیے۔

ہندوستان: شہرکاری کا رجحان1901–2001


سال دہائی نمو (%)
1911
1921
1931
1941
1951
1961
1971
1981
1991
2001
0.35
8.27
19.12
31.97
41.42
26.41
38.23
46.14
36.47
31.13

35

مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی نمائندگی مناسب ڈائیگرام کی مدد سے کیجیے۔

ہندوستان: شرح خواندگی اور پرائمری اور اپر پرائمری اسکولوں میں اندراج کا تناسب

سال شرح خواندگی شرح اندراج ابتدائی شرح اندراج اعلی ابتدائی
افراد مرد عورت لڑکے لڑکیاں کل لڑکے لڑکیاں  کل
1950-51
1999-2000
18.3
65.4
27.2
75.8
8.86
54.2
60.6
104
25
85
42.6
94.9
20.6
67.2
4.6
50
12.7
58.8

36

مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی نمائندگی پائی ڈائیگرام سے کیجیے۔

ہندوستان: زمین کا استعمال2001–1951


1950-51 1998-2001
کلی بویا گیا علاقہ
جنگلات
کاشت کاری کے لیے غیر دستیاب
خالی زمین
چراگاہ اور درختوں کے تحت
قابل کاشت خالی زمین
42
14
17
10
9
8
46
22
14
8
5
5

37

مندرجہ ذیل جدول کا مطالعہ کیجیے اورپوچھے گئے خاکوں/نقشوں کو بنائیے۔

                  بڑے صوبوں میں چاول کا علاقہ اورپیداوار


صوبے علاقہ 000,
ہیکٹیر میں 
کل علاقہ کا % پیداوار 000ٹن میں کل پیداوار کا %
مغربی بنگال
اتر پردیش
آندھرا پردیش
پنجاب
تامل ناڈو
بہار
5.435
5,839
4,028
2,611
2,113
3,671
12.3
13.2
9.1
5.9
4.8
8.3
12,428
11,540
12,428
9,154
7,218
5,417
14.6
13.6
13.5
10.8
8.5
6.4


(a) ہرصوبے میں چاول کے علاقے کو دکھانے کے لیے ایک کثیری بارڈائیگرام بنائیے۔
(b) ہرصوبے میں چاول کے تحت علاقے کے فی صد کو دکھانے کے لیے ایک پائی ڈائیگرام کی تشکیل کیجیے۔
(c) ہرصوبے میں چاول کی پیداوار دکھانے کے لیے ایک نقطہ جاتی نقشہ بنائیے۔
(d) صوبوں میں چاول کی پیداوار کافی صد دکھانے کے لیے ایک ظلی نقشہ بنائیے۔
کولکاتہ کے درجۂ حرارت اوربارش کے مندرجہ ذیل اعدادوشمار کو ایک مناسب خاکے کے ذریعہ دکھائیے۔

ماہ درجۂ حرارت سینٹی گریڈ میں بارش سینٹی میٹڑ میں
جنوری
فروری
مارچ
اپریل
مئی
جون
جولائی
اگست
ستمبر
اکتوبر
نومبر
دسمبر
19.6
22.0
27.1
30.1
30.4
29.9
28.9
28.7
28.9
27.6
23.4
19.7
1.2
2.8
3.4
5.1
13.4
29.0
33.1
33.4
25.3
12.7
2.7
0.4

39