
4 ۔اعدادوشمار کے عمل اورنقشہ نویسی میں کمپیوٹر کا استعمال
(Use of Computer in Data Processing and Mapping)
گذشتہ باب میں آپ نے اعدادوشمار کا عمل اوران کی نمائندگی کے مختلف طریقوں کو سیکھاجن کا استعمال آپ جغرافیائی مظاہر کا تجزیہ کرنے میں کرسکتے ہیں۔آپ نے دیکھاکہ یہ طریقے وقت زیادہ لیتے ہیں اورتھکادیتی ہیں۔ کیا کبھی آپ نے اعدادوشمار کے عمل اوران کی خاکائی نمائندگی کے کسی ایسے طریقے کے بارے میں سوچاہے جو وقت کی بچت کے ساتھ کارکردگی میں اضافہ کا سبب بھی بنے؟اگر آپ نے الفاظ لکھنے کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کیاہے تویہ بھی غورکیاہوگا کہ کمپیوٹر زیادہ ہمہ گیر ہے کیونکہ یہ اسکرین پر ہی متن کی ادارت،نقل اورایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے یا یہاں تک کہ غیر مطلوبہ متن کو حذف کرنے کی سہولت مہیاکرتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کا استعمال اعدادوشمار کو قابل عمل بنانے،خاکوں،ڈائیگراموں کو بنانے اورنقشہ نویسی میں بھی کیاجاسکتا ہے بشرطیکہ آپ کی رسائی استعمال کیے جانے والے متعلقہ سافٹ ویئر تک ہو۔ دوسرے لفظوں میں کمپیوٹر کا استعمال مختلف قسم کے کاموں میں کیاجاسکتا ہے۔پھر بھی یہ صاف طورپر سمجھ لینا چاہیے کہ کمپیوٹر استعمال کنندگان کے ذریعہ حاصل ہدایات پر ہی کام کرتا ہے۔ اس طرح یہ خود کسی کام کو اپنے طورپر نہیں انجام دیتا۔موجودہ باب میں ہم اعدادوشمار کے عمل اورنقشہ نویسی میں کمپیوٹر کے استعمال کا تذکرہ کریں گے۔
کمپیوٹر کیا کرسکتا ہے؟ (What can a Computer do?)
کمپیوٹر ایک الیکٹرانک آلہ ہے۔جس میں کئی ذیلی نظام ہوتے ہیں جیسے یادداشت (memory)،خورد عامل(micro–processor) مادخل نظام(input system)اورماحصل نظام(out put system)۔ یہ سبھی ذیلی نظام ایک ساتھ کام کرکے اسے کلّی نظام بنادیتے ہیں۔یہ ایک انتہائی طاقتور آلہ ہے جو اعدادوشمار کے عمل،نقشہ نویسی اورتجزیہ کے نظاموں پراثرڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپیوٹر ایک تیز رفتار اورہمہ گیر مشین ہے جو جمع،تفریق،ضرب اورتقسیم جیسے حسابی عمل کرسکتا ہے اورریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کو بھی حل کرسکتا مختصراًکمپیوٹر اعدادوشمار کا ایک عامل ہے جو چلنے کے دوران چلانے والے انسان کی دخل اندازی کے بغیر کئی ریاضی یامنطقی اعمال کے ساتھ بڑی بڑی تحسیب کاکام کرسکتا ہے۔
اگر آپ کے سامنے بنیادی تصور واضح ہے،توآپ نقشوں اورخاکوں کے ذریعہ اعدادوشمار کی نمائندگی کمپیوٹر کے ذریعہ کافی مؤثر انداز میں کرسکتے ہیں۔یہ آپ کا کام تیز رفتاری سے کردیتا ہے۔کمپیوٹر کے مندرجہ ذیل فوائداسے دستی طریقوں سے ممتاز کرتے ہیں۔
1۔ یہ تحسیب اوراعدادوشمار کے عمل کی رفتار کافی تیز کردیتا ہے۔
2۔ یہ اعدادوشمار کی بڑی ضخامت کاکام کردیتا ہے جو عام طورپر ہاتھوں سے ممکن نہیں ہوپاتی۔
3۔ یہ اعدادوشمار کی نقل،ادارت،حفاظت اوردوبارہ حصولیابی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
4۔ یہ آسانی سے اعدادوشمار کے جواز،جانچ اوردرستگی کے قابل بناتا ہے۔
5۔ اعدادوشمار کی جمع بندی اورتجزیہ بے حد آسان ہوجاتا ہے۔کمپیوٹر موازناتی تجزیوں کو نقشہ نویسی یاخاکہ نگاری کے ذریعہ کافی آسان بنادیتا ہے۔
6۔ خاکہ یا نقشے کی قسم(جیسے بارڈائیگرام)/پائی ڈائیگرام یا سایوں کی قسمیں)،عنوان، علامتی اشاریہ اوردیگر شکلوں کو آسانی سے بدلاجاسکتا ہے۔
کمپیوٹر کے دیگر بہت سے فوائد ہیں جن کا آپ خود مشاہدہ کرسکتے ہیں جب آپ کمپیوٹر کا استعمال کرکے عملی کام کریں گے۔
ہارڈویئر کے ترکیبی اجزااورسافٹ ویئر لوازمات (Hardware Configuration and Software Requirements)
اعدادوشمار کا عمل کرنے اورنقشہ نویسی میں معاون ہونے کی حیثیت سے ایک کمپیوٹر ہارڈ ویئر اورسافٹ ویئر پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہارڈویئر میں ذخیرہ اندوزی،نمائش اورمادخل وماحصل کے ذیلی نظام کے اجزائے ترکیبی شامل ہوتے ہیں،جب کہ سافٹ ویئر الیکٹرانک کوڈ سے بنے ہوئے پروگرام ہوتے ہیں۔اس لیے کمپیوٹر کی مدد سے اعدادوشمار کا عمل کرنے اورنقشہ نویسی میں ہارڈویئر کے عناصر اورمتعلقہ مستعمل سافٹ ویئر دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہارڈویئر (Hardware)
کمپیوٹر کے ہارڈویئر کے اجزائے ترکیبی میں مندرجہ ذیل شامل ہوتے ہیں؛
(a) ایک مرکزی عمل کی اکائی (CPU) اورذخیرہ کا نظام
(b) خاکہ نمائش کا ذیلی نظام
(c) مادخل آلات
(d) ماحصل آ لات
مرکزی عمل کی اکائی اورذخیرہ اندوزی کا نظام (A Central Processing Unit and Storage System)
جدید کمپیوٹر کے قلب میں ایک مرکزی عمل کی اکائی ہوتی ہے جو اعدادوشمار کو عمل میں لانے کے لیے اوربیرونی آلات کو مجوزہ پروگرام کے تحت چلانے کی سہولت بہم پہنچاتی ہے۔ چلانے والے اکائی(Disk Storage unit) میں جمع ہوتے ہیں، جوکارکن یادداشت(میموری) کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
کل ذخیرہ کاری کی صلاحیت کام کی اس قسم پر منحصرہوتی ہے جس کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کیاجاتا ہے۔ اعدادوشمار کے عمل اورنقشہ نویسی کے لیے ہارڈویئر کی ذخیرہ کاری صلاحیت 1گیگہ بائٹ(GB) سے4گیگہ بائٹ(GB) یا اس سے زیادہ رینڈم ایکسیس میموری(RAM)کی صلاحیت 32میگا بائٹ یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔ ڈسک ذخیرہ کاری کے علاوہ فعال طورپر کام نہ آنے والے اعدادوشمار کی ضخیم مقدار کو مستقل طورپر ذخیرہ اندوزی کے لیے فلاپی ڈسک،سی ڈی،پین ڈرائیو اورمقناطیسی ٹیپ جیسے دیگر ذخیرہ کاروں کا بھی استعمال کیاجاتا ہے۔
چلانے والا نظام یا آپریٹنگ سسٹم ایک بنیادی پروگرام ہے جو کمپیوٹر میں اعدادوشمار کے اندرونی عمل کا نظم ونسق کرتا ہے۔ ایم ایس ڈاس،ونڈوزاوریونکس جیسے آپریٹنگ سسٹم کا استعمال عام ہے۔ان میں ونڈوز کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
خاکائی نمائشی نظام یا مانیٹر (A Graphic Display System or Monitor)
تمام کمپیوٹروں میں خاکائی نمائش کا نظام یا مانیٹر استعمال کنندہ کے لیے بصری ترسیلی ذریعہ کی خدمت انجام دیتا ہے۔ عام طورپر خاکائی اورنقشہ نگاری کے لیے رنگوں کی نمائش کی ممکنہ بڑی وسعت اوررنگوں کے طرزمیں تیزرفتار تبدیلی لانے کے لیے’’لاک اپٹیبل‘‘(LUT)کے ساتھ ایک اونچے تحلیلی نمائشی نظام(resolution display system)کو ترجیح دیاجاتا ہے۔
مادخل آلہ (Input Devices)
کمپیوٹر کے کی بورڈ کا استعمال کرکے شماریاتی اعدادوشمار اورہدایات کو کمپیوٹر میں بھیجاجاتا ہے۔ ’’کی بورڈ ‘‘ایک ایسا اہم مادخل کا ذریعہ ہے جو ٹائپ رائیٹر کی طرح نظرآتا ہے۔اس میں مختلف مقاصد کے لیے کئی کنجیاں ہوتی ہیں۔ اپنے ذاتی کمپیوٹر پر کام کرتے وقت آپ اسکرین پر ایک چمکتا نقطہ دیکھیں گے جو سبک اشاریہ (cursor)کہلاتا ہے۔جب آپ کی بورڈ پر کسی بٹن(کی) کو دباتے ہیں تو جہاں سبک اشاریہ چمکتا ہے وہاں ایک امتیازی نشان ظاہرہوتا ہے اورسبک اشاریہ اس جگہ سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مکانی اعدادوشمار ڈالنے کے لیے مختلف قامت اورصلاحیت والے ا سکینراورڈیجیٹائزر کااستعمال کیاجاتا ہے۔
ماحصل آلہ (Output Devices)
ماحصل آلات میں چھاپنے والوں کی کئی قسمیں جیسے انک جیٹ پرنٹر،لیزراوررنگین لیزرپرنٹر،اورA3سےA0تک مختلف قامتوں میں دستیاب خاکہ کش(Plotters)شامل ہیں۔
کمپیوٹر سافٹ ویئر (Computer Software)
کمپیوٹر سافٹ ویئر ایک تحریری پروگرام ہے جو یادداشت میںذخیرہ اندوزرہتا ہے۔استعمال کنندہ کے ذریعہ دی گئی ہدایات کے مطابق یہ خصوصی کام انجام دیتا ہے۔ اعدادوشمار کے عمل اورنقشہ نویسی کے لیے سافٹ ویئر کو مندرجہ ذیل نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
• اعدادوشمار کادخول اورادارتی ماڈیول
• ہم رتبہ تبدیلی صورت اورکارپردازی ماڈیول
• اعدادوشماری نمائش اورماحصل ماڈیول
اعدادوشمار کا دخول اورادارتی ماڈلس (The Data Entry and Editing Modules)
اعدادوشمار کے عمل اورنقشہ نویسی کے یہ اندرونی طورپر بنے ہوئے سافٹ ویئرماڈیول اعدادوشمار کے دخولی نظام مواجہت،معلوماتی بنیاد کی تخلیق،غلطی ختم کرنا، پیمانہ اوراظلالی کارپردازی،ان کا نظم ونسق اوراعدادوشمار کے تحفظ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی دیگراعدادوشمار کا دخول،اشاعت اورنظم ونسق سے متعلق صلاحیتوں کی تکمیل اسکرین پر ظاہر فہرست اور شبیہہ یاآئیکن کا استعمال کرکے کی جاسکتی ہے۔آج کل کے ایم ایس ایکسل اسپریڈشیٹ،لوٹس1–2–3 اورڈی بیس جیسے تجارتی پیکیج اعدادوشمار کے عمل اورخاکوں کی تخلیق کے لیے امکانیات فراہم کرتے ہیں۔ دوسری طرف آرک ویو/آرک جی آرایس،جیومیڈیا میں نقشہ نگاری اورتجزیہ کے لیے ماڈیول ہوتے ہیں۔
ہم رتبہ تبدیلی صورت اورکارپردازی ماڈیول (Coordinate Transformation and Manipulation Modules)
آج کل کے سافٹ ویئر صلاحیتیں ایک وسیع میدان فراہم کرتے ہیں جن کا استعمال مکانی اعدادوشمار کی سطحوں کو بنانے،ہم رتبہ صورت میں تبدیل کرنے،اشاعت اورمکانی اعدادوشمار کے مجموعوں کوان کی غیرمکانی صفات کے ساتھ جوڑنے میں کیاجاتا ہے۔
اعدادوشمار کی نمائش اورماحصل ماڈیول (Data Display and Output Modules)
اعدادوشمار کی نمائش اورماحصل کے عمل میں کارکردگی کا وسیع تنوع پایاجاتا ہے اوریہ کمپیوٹر گرافکس کے میدان میں ترقی یافتہ مہارتوں پر مبنی ہیں۔ موجودہ دورکے سافٹ ویئر میں وجود کچھ عام صلاحیتیں درج ذیل ہیں۔
• منتخب علاقوں اورپیمانے کی تبدیلی کی نمائش کے لیے زومنگ/ونڈوئنگ(زوم نفی چھوٹابڑاکرنا،راؤنڈنگ یعنی الگ جھروکے بنانا)
• رنگوں کا تعیین/عمل میں تبدیلی
• سہ بعدی منظر یاظاہر تناسب کی نمائش
• مختلف موضوعات کی چنندہ نمائش
• کثیرالزاویہ شکل کی سایہ داری،خطوطی طرزاورنقطہ نشان کنندہ کی نمائش، خاکہ کش آلات/پرنٹرکے ساتھ مواجہت کے لیے مواجہتی ہدایات کے ماحصل آلات
• آسان مواجہت کے لیے خاکہ استعمال کنندہ مواجہت(GUI)پر مبنی فہرست کا نظم ونسق
آپ کے استعمال کے لیے کمپیوٹر سافٹ ویر (Computer Software for Your Use)
قبل کے پیراگراف میں کئی سافٹ ویئر کا حوالہ دیاگیا ہے لیکن وقت اورجگہ کی تنگی کی و جہ سے ہر سافٹ ویئر کی صلاحیتوں اورکاموں کا تذکرہ کرنا مشکل ہے۔اس لیے ہم ایم ایس ایکسل یا اسپریڈشیٹ پروگرام کو استعمال کرکے خاکے اورڈائیگرام بناتے وقت اپنائے گئے اقدامات و اعمال کا تذکرہ کریں گے۔ اسپریڈشیٹ میں ہمیں اعدادوشمار کی خانہ پرُی،مختلف شماریات کی تحسیب اورخام اعدادوشمار کی نمائندگی یا خاکائی طریقوں سے شماریات کو ظاہر کرنے کے قابل بناتی ہے۔
ایم ایس ایکسل یا اسپریڈشیٹ (MS Excel or Spreadsheet)
جیساکہ پہلے تذکرہ کیاجا چکا ہے ، ایم ایس ایکسل،لوٹس1–2–3اور ڈی بیس (dbase) اعدادوشمار کے عمل،خاکوں اورڈائیگرام کی تشکیل میں مستعمل چنداہم سافٹ ویئر ہیں۔ وسیع پیمانے پر استعمال میں لائے جانے اورملک کے تمام حصوں میں آسانی سے دستیاب سافٹ ویئر پروگرام ہونے کی و جہ سے دیگر سافٹ ویر میں سے ایم ایس ایکسل کا انتخاب اعدادوشمار کے عمل کے لیے کیاگیا ہے۔اس کے علاوہ یہ نقشہ نویسی کے سافٹ ویر سے بھی ہم آہنگ ہے کیوںکہ ایم ایس ایکسل میں آسانی سے اعدادوشمار کو ڈالاجاسکتا ہے اورنقشہ بنانے کے لیے نقشہ نویسی کے سافٹ ویئر سے جوڑا جاسکتا ہے۔
ایم ایس ایکسل کو اسپریڈ شیٹ پروگرام بھی کہاجاتا ہے۔اسپریڈ شیٹ ایک مستطیلی جدول(جال)ہے جس میں معلومات کا ذخیرہ کیا جاتاہے۔ اسپریڈ شیٹ ورک بک یا ایکسل فائلوں میں واقع ہوتی ہے۔
ایم ایس ایکسل اسکرین کا زیادہ ترحصہ ورک شیٹ کی نمائش میں صرف رہتا ہے جو سطح اورکالم پر مشتمل ہوتا ہے۔ سطروںاورکالموں کے ایک دوسرے کو کاٹنے سے ایک مستطیل علاقہ بن جاتا ہے جسے سیل(cell)کہاجاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں ورک شیٹ سیلوں سے بنتا ہے۔ایک سیل میں عددی مقدار،فارمولہ(جو تحسیب کے بعد عددی مقداردیتا ہو)یا متن شامل ہوسکتا ہے۔عام طورپر متن کااستعمال سیلوں میں داخل اعداد کے نام دینے کے لیے کیاجاتا ہے۔ ایک مقدار یا مدکا داخلہ یا توعدد(جیسے براہ راست داخل کیاگیا ہو)یا کسی فارمولے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔جب فارمولے کے اجزائے ترکیبی(دلائل)بدلتے ہیں توفارمولے کی قیمت بھی بدل جاتی ہے۔
ایک ایکسل ورک شیٹ میں16,384سطریں ہوتی ہیں جن پر ایک سے16,384تک عدد یا نمبر لگائے جاتے ہیں اور 256 کالم ہوتے ہیں جنھیں حروفAسےZ،AAسےAZ،BAسےBZسے لے کر1Aسے 1Zکے ذریعہ بالترتیب بائی ڈیفالٹ دکھایاجاتا ہے۔بائی ڈیفالٹ، ایک ایکسل ورک بک میں تین ورک شیٹ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو ضرورت ہوتو اس میں 256 ورک شیٹوں تک داخل کرسکتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی فائل یا ورک بک میں کثیر تعداد میں اعدادوشمار اورخاکوں کا ذخیرہ کرسکتے ہیں۔شکل 4.1 دکھاتی ہے کہ ایک ایکسل ورک بک کس طرح نظرآتی ہے۔
ایکسل میں اعدادوشمار کا دخول اورذخیرہ اندوزی کا عمل
(Data Entry and Storing Procedures in Excel)
ایکسل میں اعدادوشمارکا دخول اوران کے ذخیرہ کاعمل کافی آسان ہے۔آپ اعدادوشمار کو داخل کرسکتے ہیں،ان کو نقل کرسکتے ہیں اورانھیں ایک سے دوسرے سیل میں لے جاسکتے ہیں اورانھیں محفوظ کرسکتے ہیں۔آپ غلط، غیر مطلوبہ اعدادوشمار کے دخول یاایک پوری فائل کوحذف کرسکتے ہیں، اگرمزید استعمال کے لیے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ایکسل کے ابتدائی اعمال جن کی ضرورت آپ کو اعدادوشمار کی خانہ پُری اورانھیں ذخیرہ کرنے میں پڑے گی،جدول4.1 میں بیان کیے گئے ہیں۔آپ خود سے دوسرے مینوز(فہرست) اورمتبادل

شکل4.1: ایم ایس ایکسل ورک بک
انتخاب کو تلاش کرکے زیادہ سے زیادہ سیکھ سکتے ہیں۔ مزیدبرآں اگر آپ کی بورڈ کی دائیں طرف دییے گئے عددی پیڈ کا استعمال کرتے ہیں تو اعدادوشمار کی ذخیرہ اندوزی کو آسان محسوس کریں گے۔ کالم کے مطابق اعدادوشمار داخل کرنے کے لیے آپ کو عددٹائپ کرنے کے بعد’انٹرکی‘یا’ڈاون ایرو‘دبانا ہوگا جب کہ سطروں کے مطابق اعدادوشمار داخل کرنے کے لیے دائیں ایرو کی دبانا پڑے گا۔
اعدادوشمار کا عمل اورتحسیب (Data Processing and Computation)
بسا اوقات مزید استعمال کے لیے اعدادوشمار کی عملی ترکیب اپنائی جاتی ہے۔ آپ کی بورڈ کے نشانات+،–،*اور/کا استعمال کرکے اعدادکو بالترتیب جمع،تفریق،ضرب اورتقسیم کرسکتے ہیں۔ان نشانات کو آپریٹر (چلانے والا)کہاجاتا ہے اوریہ عناصر کو ایک فارمولے یاعبارت سے جوڑتے ہیں۔ مثال کے طورپر اگر آپ 5+6–8–5عبارت کاحل نکالنا چاہتے ہیں تو آپ مندرجہ ذیل اقدام ان کا حل نکال سکتے ہیں۔
قدم1: کسی بھی سیل پر کلک کیجیے(ماؤس کی مدد سے)
قدم2: ٹائپ کرکے اس تعبیر کو ٹائپ کریں جواس طرح ہوگی= 5 + 6 – 8 – 5
قدم3: انٹرکی دبائیے اوراسی سیل میں آپ کو نتیجہ مل جائے گا جس کو آپ نے پہلے قدم میں منتخب کیاتھا۔
نوٹ: ایکسل میں شماریاتی اعمال سب سے پہلے=ٹائپ کرکے ہی کیاجاسکتا ہے۔
جدول :4.1 اعدادوشمارکی خانہ پُری اورذخیرہ کرنے کے اہم کام
| کی۔ بورڈ شارٹ کرنا |
ثانوی مینو(ڈراپ ڈاؤن لسٹ سے) |
مینو |
ہدایات |
کام |
نمبر شمار |
| Ctrl.N |
New |
file |
|
نیا فائل کھولنے کے لیے |
-1 |
| Ctrl.O |
Open |
file |
|
پہلےسے موجود فائل کھولنے کے لیے |
|
| Ctrl.S |
save |
file |
فائل کو نام دیجیے اور بتائیے کہ آپ فائل کہاں ذخیرہ کرنا چاہتے ہیں (بائی ڈیفالٹ اس طرح c:/..../my documents) |
فائل محفوظ کرنے کے لیے |
-2 |
| Ctrl.C |
copy |
Edit |
ماؤس کے بائیں بٹن کو دبا کر اعداد و شمار کے مجموعے کا انتخاب کیجیئے اور اسے کھینچ کر اس مجموعے پر لے جائیے جسے آپ منتخب کرنا چاہتے ہیں۔ |
اعداد و شمار کے مجموعوں کا کاپی بنانے، ایک جگہ سےدوسری جگہ لے جانے اور چپکانے کے لیے |
-3 |
| Ctrl.X |
cut |
Edit |
ماؤس کے بئیں بٹن کو دبا کر اعداد و شمار مجموعے کا انتخاب کیجئے اور اسے کھینچ کر اس مجموعے پر لے جائیے جسے آپ منتخب کرنا چاہتے ہیں |
اعداد و شمار کے مجموعے کو کاٹنے، ایک جگہ سے دوسری جگہ سے جانے اور چسپاں کرنے کے لیے |
-4 |
| Ctrl.V |
paste |
Edit |
کرسر کو اس سیل پر لے جائیں جہاں آپ اسے چسپاں کرنا چاہتے ہیں |
اعداد و شمار کے کے مجموعے کو چسپا نے کے لیے |
-5 |
| Ctrl.Z |
Undo |
Edit |
|
*آخری کام کو کالعام کرنے کے لیے |
-6 |
| Ctrl.Y |
Repeat |
Edit |
|
*آخری کام کو دوبارہ دلانے کے لیے |
-7 |

نوٹ: آخری کام کے بعد اگر آپ نے فائل کو محفوظ کرلیاہے تو کسی کام کو معدوم یا دوبارہ نہیں کرسکتے۔
یہ آپریٹر جو عناصر کو فارمولے سے جوڑتے ہیں،ایک ترتیب میں حل کیے جاتے ہیں۔بریکٹ میں بندعبارتوں کو پہلے حل کیاجاتا ہے پھر اس کے بعد ’قوت نما‘تقسیم،ضرب،جمع اورتفریق کا کام کیاجاتا ہے۔مثال کے طورپر ایک سیل میں اس طرح دی گئی عبارت/فارمولا= A8/(A9 + A4)ایکسل کا استعمال کرکے مندرجہ ذیل طورپر حل کیاجائے گا۔
سب سے پہلے یہ سیلA9اورA4میں درج مدوں کو جمع کرے گا پھرA8کے مدوں کو کل جمع سے تقسیم کرے گا۔
آگے چل کر،اگر آپ کل آبادی میں شہری آبادی کے فی صد حصے پر اپنے سمجھ کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں تو ہندوستان کے مختلف صوبوں کی شہری آبادی کا فی صد نکالنا ہوگا۔ ایسا کرنے کے لیے آپ کو ہندوستان کے ہر صوبے کی کل آبادی اورشہری آبادی کے اعدادوشمار کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ مندرجہ ذیل اقدامات کو اپنائیں تو ورک شیٹ آسانی سے آپ کے لیے ہر صوبے کی شہری آبادی کی فی صد نکال دے گا۔
قدم1: سب سے پہلے کالمAمیں صوبوں کا نام ڈالیے۔
قدم2: ہر صوبے کے سامنے کالمBمیں شہری آبادی کی مقدار ڈالیے۔
قدم3: ہر صوبے کے سامنے کالم Cمیں کل آبادی کی مقدارداخل کیجیے۔
قدم4: کالمDاورسطر2میں= B2/C2ٹائپ کریں (یہ آندھراپردیش کی کل شہری آبادی ہے جسے اسی صوبے کی کل آبادی سے تقسیم دیا گیا ہے)اور* 100سے ضرب دیں۔اب عبارت اس طرح بنتی ہے= B2/C2 * 100
قدم5: انٹرکی دبائیے۔ یہ آپ کو عبارت کا حل بتائے گا جو آندھراپردیش کی شہری آبادی کا فی صد ہے۔
قدم6: اب آپ کودیگر صوبوں کی شہری آبادی کا فی صد نکالنے کے لیے فارمولے کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔صرفD2کے سیل پر کلک کیجیے اورماوس دباکر نیچے کی طرف کھینچتے۔یہ پہلے صوبے/سیل کے فارمولے کی نقل نیچے تک کے سبھی سیلوں میں کردے گا جہاں تک اسے کھینچ کر لے گئے ہیں۔
(نوٹ: فارمولا= B2/C2 * 100جوسیلD2میں لکھاگیا وہ سیل D3میںB3/C3 * 100ہوجاتا ہے اوراسی طرح آگے)
مندرجہ بالا مذکورہ اقدامات میں سے 1سے5کو شکل 4.2 میں دکھایاگیا ہے جب کہ قدم6کو شکل 4.3 میں دکھایاگیا ہے۔
شکل 4.2: ایم ایس ایکسل میں سیل عمل
شکل 4.3: ایم ایس ایکسل میں کھینچ کر نقل بنانا
آپ کو باب2– میں کچھ بنیادی شماریاتی طریقوں جیسے مرکزی رجحان کی پیمائش،انتشاراورباہمی ربط سے پہلے ہی متعارف کرایاجاچکا ہے۔ان کا تصور اوران کے پس پشت منطق کو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ورک شیٹ کے استعمال سے ان شماریات کی تحسیب کرنے کے طریقوں کو درج ذیل پیراگراف میں بیان کیاجائے گا۔
ایم ایس ایکسل میں کئی اندرونی طورپر بنے شماریاتی اورریاضیاتی اعمال ہیں جن کااستعمال کرنے کے لیے انسرٹ (Insert) مینو کو کلک کیجیے اورڈراپ ڈاون لسٹ سےfx(اعمال)کا انتخاب کریں۔ خیال رہے کہ آپ کا کرسر، اسی سیل پرہونا چاہیے جہاں آپ فارمولے کو ظاہر کرناچاہتے ہیں۔شماریاتی اعمال کے استعمال کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں۔
مرکزی رجحان (Central Tendencies)
مرکزی رجحان کی نمائندگی درمیانہ،وسطی اورطرزتکثیر سے ہوتی ہے۔ ریاضیاتی درمیانہ جسے اوسط بھی کہاجاتا ہے،مرکزی رجحان کی تحسیب کے لیے عام طورپر استعمال کیاجانے والا طریقہ ہے۔ایم ایس ایکسل میں اس کے معروف نام اوسط سے ظاہر کیاجاتا ہے۔ ایک مثال کے طورپر ہم ایکسل میں اوسط عمل کا استعمال کرکے مختلف عشرہ سالوں کے دوران ہندوستان میں درمیانہ فصلی شدت(فصلوں کی شدت کا درمیان)کی تحسیب کریں گے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدام کیے جائیں گے۔
قدم1: ورک شیٹ میں ہرسال کی فصلوں کی شدت کے اعدادوشمار درج کیجیے جیساکہ شکل 4.4 میں دکھایاگیا ہے۔
قدم2: ماوس کا استعمال کرکےB12سیل پر کلک کیجیے۔
قدم3: انسرٹ مینوپر کلک کیجیے اورڈراپ ڈاون لسٹ سےfxکاانتخاب کیجیے،اس سے انسرٹ فنکشن ڈائیلاگ باکس کھلے گا۔
قدم4: ڈائیلاگ باکس پرسلیکٹ اے کیٹگری سے اسٹیٹسکل کاانتخاب کیجیے۔
قدم5: سلیکٹ اے فنکشن باکس سے اوسط کو کلک کیجیے اوراوکے(ok)بٹن دبائیے۔اس سے ’فنکشن آرگومنٹ‘کا دوسرا بکس کھلے گا۔
قدم6: یاتواعدادوشمار کے ڈائیلاگ باکس کے فنکشن آرگومنٹ کے نمبر1باکس میں C1-50 کے اعدادوشمار (جو1950کی دہائی میں سالانہ فصل کی شدت دکھاتا ہے)کے سیل کی وسعت ڈالیے یا ماوس کا بایاں بٹن دباکر سبک اشاریہ کو اعدادوشمار کے سیل رینج پر کھینچتے۔
قدم7: فنکشن آرگومنٹ ڈائیلاگ باکس پر OK بٹن دبائیے۔ یہ 1950کے عشرہ کے لیے درمیانہ فصلی شدت کی تحسیب سیل B12 میں کردے گا جہاں آپ نے شروع میں اپنا سبک اشاریہ(کرسر) رکھاتھا۔
قدم8: مذکورہ بالا1–7 اقدامات کو اپناتے ہوئے دوسرے عشرہ سالوں کے لیے بھی درمیانہ کی تحسیب کیجیے یا B12 سیل کے مستطیل سے ایک چھوٹے مربع کو منتخب کرتے ہوئے سبک اشاریہ کو دائیں طرف اسی سطرمیں کھینچتے۔ یا B12 سیل کو نقل کرکے D12،F12،H12اورJ12 پر چسپاںکردیجیے۔ا س سے بالترتیب 1960،1970،1980اور1990کی دھائیوں کی درمیانہ فصلی شدت حاصل ہوگی۔
ان اقدامات کی مزید تشریح شکل 4.6 کے ذریعہ شکل 4.4 میں کی گئی ہے۔
شکل 4.4: ایم ایس ایکسل میں شماریاتی عمل کا استعمال کرکے میانہ کی تحسیب کرنا
شکل 4.5: شماریاتی عمل کاانتخاب
اپنے موادکی وسعت کو متعین کریے جس کی میانہ کی تحسیب کرنا چاہتے ہیں
شکل 4.6: فنکشن آرگومنٹ ڈائیلاگ باکس میں وسعت کی تعریف کرنا
دیے گیے اعدادوشمار سے درمیانہ کی تحسیب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف دہائیوں میں عمومی طورپر اور 1980کے بعد خصوصی طورپر اوسط دہائی فصلی شدت میں قابل لحاظ نمو ہوئی ہے۔دراصل 1980 کی دہائی میں سبزانقلاب کی مکانی وسعت ہوئی اور ٹیوب ویل سینچائی کے تحت آنے والے علاقوں میں کافی اضافہ ہواجس کی وجہ سے خشک علاقوں کے ساتھ ساتھ خشک موسموں میں بھی زراعت کی سہولت ہوگئی۔
جیساکہ اوپر بتایاگیا ہے،درمیانہ کی تحسیب میں مستعمل طریقوں کا استعمال کرکے وسطی،معیاری انحراف اورباہمی ربط کی تحسیب کرسکتے ہیں۔شکل4.7 اور 4.8 میں اس کے لیے کچھ اشارے دیے گئے ہیں۔
شکل 4.7: معیاری انحراف کا عمل شکل 4.8: باہمی ربط کاعمل
خاکوں کی تشکیل (Construction of Graphs)
آپ جانتے ہیں کہ کئی بارجدولی شکل میں جو اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں ان سے نتیجہ نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری طرف خاکائی شکل میں اعدادوشمار کی نمائندگی مظاہر کے درمیان بامعنی موازنہ کرنے کی ہماری صلاحیتوں کو بڑھادیتی ہے اورپیش کردہ صفات کا آسان منظر پیش کرتی ہے۔دوسرے لفظوں میں خاکے اورڈائیگرام ہمارے لیے اعدادوشمار کے متن کو اخذ کرنا آسان بنادیتے ہیں۔ مثال کے طورپر اگر ہم ہندوستان کی فصلی کثافت کے سبھی 50 سالوں کے اعدادوشمار کو جدول میں پیش کریں تو اس کے معنی اخذ کرنا مشکل ہوگا۔ اگر ایک خطی خاکہ یا بارڈائیگرام سے ہم آسانی سے ہندوستان کی فصلی کثافت کے رجحان کے بارے میں بامعنی نتائج اخذکرسکتے ہیں۔
اعدادوشمار کے اقسام اوران کی نمائندگی کے کچھ مناسب خاکائی طریقے
1۔ مدتی سلسلوں کے اعدادوشمار خطی خاکہ یا بارڈائیگرام سے دکھائے جاتے ہیں۔
2۔ بارڈائیگرام اورہسٹوگرام کا استعمال عموماًحصوں یا مختلف اکائیوں کے تواتر کو دکھانے کے لیے کیاجاتا ہے۔
3۔ مرکب بارڈائیگرام اورپائی چارٹ کا استعمال مختلف اکائیوں کے حصوں کو دکھانے کے لیے کیاجاتا ہے۔
4۔ محل وقوع کے اعتبار سے اعدادوشمار کی نمائندگی کے لیے نقشوں کا استعمال کیاجاتا ہے۔ یہ اعدادوشمار کے مکانی طرزکوسمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔
اعدادوشمار کو پیش کرنے کے لیے مناسب خاکائی طریقے کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ باب 3 میں آپ نے خاکے،ڈائیگرام اوران کے لیے مناسب اعدادوشمار کی قسم کے بارے میں سیکھ لیا ہے۔یہاں آپ یہ سیکھیں گے کہ ایکسل میں خاکے اورڈائیگرام کیسے بنائے جاتے ہیں۔
مان لیجیے کہ آپ 1981 اور2001 کے دوران مختلف صنعتی زمروں میں کارکنوں کے اشتراک میں تبدیلی کو دکھانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب سے زیادہ مناسب خاکائی طریقہ بار ڈائیگرام ہوگا کیونکہ یہ مختلف سالوں میں تبدیلی کوواضح طور سے دکھاتا ہے۔ بارڈائیگرام بنانے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام ضروری ہیں۔
قدم1: ورک شیٹ میں اعدادوشمار داخل کیجیے جیسا کہ شکل 4.9 میں دکھایاگیا ہے۔
قدم2: دائیں بٹن کو دباتے ہوئے سیل کے اوپر ماوس کو لا کر ان کا انتخاب کیجیے
شکل 4.9: بارڈائیگرام کی تشکیل کے لیے اعدادوشمار کا دخول اورسیلوں کا انتخاب
قدم3: چارٹ وزارڈ پر کلک کیجیے(شکل 4.9)۔یہ چارٹ وزارڈ کے 4 کا قدم1کھولے گا(شکل 4.10)
قدم4: چارٹ سب ٹائپ، باکس میں معمولی بارڈائیگرام کو دوبار کلک کیجیے(شکل 4.10)۔ یہ چارٹ وزارڈ کے 4 میں سے دوسرے قدم پر لے جائے گا جس میں ورک شیٹ کی تعداد اورمنتخب اعدادوشمار کی وسعت اوربارڈائیگرام کا مقابل منظر ظاہر ہوگا(شکل 4.11)۔ چونکہ اعدادوشمار میں زمروں کی ترتیب سطر کے اعتبار سے کی گئی ہے،اس لیے اسے سطر کے مطابق چارٹ کی تشکیل کہاجاتا ہے۔
قدم5: ریڈیو بٹن نیکسٹ (Next) پر کلک کیجیے، یہ آپ کو چارٹ وزارڈ کے4 میں سے قدم 3 پر لے جائے گا (شکل 4.12)۔
شکل 4.10: چارٹ وزارڈ کے4 کاقدم1 شکل 4.11: چارٹ وزارڈ کے 4 کا قدم 2
یہاں آپ کو’’عنوان‘‘،’محوروں کے نام‘’’گریڈ خطوط‘‘،’’اعدادوشمار کا لیبل اورجدول داخل کرنے کے لیے کئی متبادل ملیں گے۔ چارٹ کاعنوان اورمحوروں کے نام داخل کرنے کو شکل 4.12 میں دکھایا گیا ہے جب کہ ’’لیجنڈپلیسمنٹ‘‘ کے لیے متبادل کو شکل 4.13 میں دکھایاگیا ہے ۔جیساکہ شکل 4.13 میں دکھایا گیا ہے، محوروں کے نام ٹائپ کیجیے اور’’پلیسمنٹ آف لیجنڈ‘‘ کا انتخاب کیجیے جیساکہ شکل 4.14 میں دکھایاگیا ہے۔
شکل 4.12: محوروں کے نام داخل کرنا
شکل 4.13: چارٹ کے محل وقوع کا انتخاب
قدم6: جب آپ محوروں کے نام اورلیجنڈکے متبادل وغیرہ داخل کرلیں تو ریڈ یوبٹن نیکسٹ کو کلک کیجیے(شکل 4.13)۔ یہ آپ کو چاروزارڈ کے4کے قدم4 پر لے جائے گا جو آپ سے اعدادوشمار کے لیے بنائے گئے بارڈائیگرام کے محل وقوع کا انتخاب کرائے گا (شکل 4.14)۔’’ایزآبجیکٹ‘‘ ان کا انتخاب کیجیے اوراسی شیٹ کا انتخاب کیجیے جس میں آپ نے اعدادوشمار کو داخل کیاتھا یعنی شیٹ5 (متبادل کے طورپر آپ ’’ایز نیوشیٹ‘‘ کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے بارڈائیگرام کو نئی شیٹ میں بھی رکھ سکتے ہیں)
قدم7: شکل 4.14 کے مطابق ریڈیوبٹنOK دبائیے۔ یہ آپ کے بارڈائیگرام میں وزارڈ چارٹ کو مکمل کرے گا جیساکہ شکل 4.14 میں دکھایاگیا ہے اور شیٹ 5 میں ظاہرہوگا۔
شکل 4.14 میں چارٹ کی جگہ کا انتخاب
آپ بارپر کلک کرکے بارکے طرز کو رنگوں کے سایوں میں اوراس کے برعکس بدل سکتے ہیں۔اسی طرح سے اگر ضرورت ہوتو آپ فاؤنٹ(حروف کی جسامت)اورگرڈ لائن بھی بدل سکتے ہیں۔
شکل 4.15: مکمل بارڈائیگرام
مذکورہ بالا ڈائیگرام دکھاتا ہے کہ دو دہائیوں پر کاشت کاروں کا حصہ نمایاں طورپر کم ہوا ہے اوردوسرے کام مگاروں کا حصہ قابل تعریف حد تک بڑھاہے جب کہ زراعتی، اورگھر یلو مزدوروں کا حصہ عام طور پر یکساں ہی رہا ہے۔
اعدادوشمار کی نمائندگی کے لیے چنداہم ضابطے
1۔ ہر شکل عددی ہونی چاہیے۔
2۔ اس کا ایک مناسب عنوان ہونا چاہیے جس میں اس سے متعلقہ زمان ومکان کا تذکرہ ہو۔
3۔ عنوان یا ذیلی عنوان کے تحت اس اکائی کو بتانا چاہیے جس میں کمیتوں کو دکھایاگیا ہے۔
4۔ عنوان،ذیلی عنوان،محوروں کاعنوان،علامتی اشاریے اوراصل پیش کش کو مناسب فاؤنٹ اورٹائپ سے دکھاناچاہیے تاکہ انھیں متوازن طورپر جگہ مل سکے۔
کمپیوٹر کی مدد سے نقشہ نویسی (Computer Assisted Mapping)
نقشوں کو کمپیوٹر ہارڈویئر اورنقشہ نویسی سافٹ ویئر کے اشتراک سے بھی بنایاجاسکتا ہے۔کمپیوٹر کی مدد سے نقشہ نویسی میں مکانی ڈاٹابیس کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اس کے صفات یا غیر مکانی اعدادوشمار کے ساتھ تکمیل بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مزید ذخیرہ شدہ اعدادوشمار کی تصدیق اورتشکیل شامل ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعدادوشمار جغرافیائی طورپر ایک معیاری اورمتعارف مختص نظام میں جیومیٹری کے حساب سے درج کیاجانا چاہیے اوراس کی کوڈنگ کی جانی چاہیے تاکہ انھیں کمپیوٹر کے اندرونی ڈاٹا بیس ساخت میں ذخیرہ کیاجاسکے۔ اس لیے نقشہ نویسی کے مقصد سے کمپیوٹر کا استعمال کرتے وقت احتیاط کرنی ضروری ہے۔
مکانی اعدادوشمار (Spatial Data)
مکانی اعدادوشمار جغرافیائی مقام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نقطے،خطوط اورکثیر زاویہ ان کی خصوصیات ہیں۔ نقطہ اعدادوشمار نقشے پر دکھائے گئے کچھ جغرافیائی خدوخال جیسے اسکول،اسپتال،کنوئیں،ٹیوب ویل،قصبے اورگاوں وغیرہ کے محل وقوع سے متعلق خصوصیات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اگر ہم نقشے پر غیر بعدی پیمانے میں محل وقوع کے تعلق سے اشیا کی موجودگی دکھانا چاہتے ہیں تو ہم نقطوں کا استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح خطوط ریلوے لائن،نہر، ندی،توانائی اورمواصلات کے راستوں جیسے خطی اشکال کی نمائندگی کرتے ہیں۔کثیرالزاویہ کسی علاقے کی حدبندی کرنے والے ایک دوسرے سے جڑے کئی خطوط سے بنتے ہیں اوران کا استعمال انتظامی اکائیوں(ممالک،اضلاع،صوبے اوربلاک)؛زمینی استعمال کی اقسام(زراعتی علاقہ، جنگلات کی زمین،پست/بنجر زمین،چراگاہ وغیرہ)اورتالاب،جھیل وغیرہ جیسی شکلوں کو دکھانے کے لیے کیاجاتا ہے۔
غیرمکانی اعدادوشمار (Non–Spatial Data)
مکانی اعدادوشمار کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے اعدادوشمار غیرمکانی اعدادوشمار یا صفات کہلاتے ہیں۔مثال کے طورپر آپ کے پاس آپ کے اسکول کا محل وقوع دکھانے والانقشہ ہونے پرآپ اسکول کا نام،اس کے ذریعہ فراہم کردہ مضامین،ہردرجے میں طلبا کی تعداد، داخلے کامعمول،لائبریری،تجربہ گاہ،آلات وغیرہ کی سہولیات جیسی معلومات کو منسلک کرسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ مکانی اعدادوشمار کی صفات بیان کررہے ہیں اس لیے انھیں غیرمکانی اعدادوشمار کو صفات کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
جغرافیائی اعدادوشمار کے ذرائع (Sources of Geographical Data)
جغرافیائی اعدادوشمار مماثل میں(نقشے اورہوائی فوٹوگراف)یا ہندسی شکل (اسکین کی گئی شبیہوں)میں دستیاب ہوتے ہیں۔
کمپیوٹر میں مکانی اعدادوشمار کے تشکیلی نظام کا باب 6 میں تذکرہ کیاگیاہے۔
نقشہ نویسی کے سافٹ ویئراوران کا عمل (Mapping Software and their Functions)
نقشہ نویسی کے کئی سافٹ ویئرجیسے آرک جی آئی ایس،آرک ویو، جیومیڈیا،گرام،ادریسی،جیومیٹیکا وغیرہ تجارتی طورپر دستیاب ہیں۔کچھ مفت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے سافٹ ویئر بھی ہیں جن کوانٹرنیٹ کی مدد سے ڈاؤن لوڈ کیاجاسکتا ہے۔ پھر بھی یہاں پر ان میں سے ہر ایک سافٹ ویئر کی صلاحیتوں کا تذکرہ کرنا زمان ومکان کی تنگی کی وجہ سے مشکل ہے۔اس لیے ہم نقشہ نویسی کے ایک سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے عموماًظلی نقشے(Choropleth map) میں مستعمل طریقوں کاتذکرہ کریں گے۔
نقشہ نویسی کا سافٹ ویئر مادخل مکانی اورصفائی اعدادوشمار کے لیے شبیہی نقشوں کو اسکرین پر لاکر انھیں ہندسی تشکیل دینے،غلطیوں کی اصلاح کرنے،پیمانے اوراظلال کو بدلنے،اعدادوشمار کا تکملہ کرنے،نقشہ ڈیزائن کرنے،پیش کرنے اورتجزیہ کرنے کے اعمال فراہم کرتا ہے۔
ایک ہندسی شکل کے نقشے میں تین فائلیں ہوتی ہیں۔ جن کی توسیع Shp،Shxاورdbfہے۔dbf فائل ڈی بیس فائل ہے جس میں صفاتی اعدادوشمار ہوتے ہیں اوریہ shx اورshp سے منسلک ہوتی ہے۔ shxاورshp فائلوں میں مکانی (نقشہ)معلومات ہوتی ہیں۔ dbf فائل کو ایم ایس ایکسل میں لکھاجاسکتا ہے۔
آپ اپنے پاس دستیاب نقشہ نویسی کے کسی بھی سافٹ ویئر کا استعمال کرکے ظلی نقشہ بناسکتے ہیں بشرطیکہ آپ اس سافٹ وئیر کے استعمال کے ہدایتی کتابچے میں دیے گئے اقدامات کے مطابق عمل کریں۔ اگر آپ سافٹ ویئر میں موجود مختلف متبادل کے ساتھ استعمال کریں تو مختلف طریقوں سے کئی قسم کے نقشے بناسکتے ہیں۔
مشق
1۔ مندرجہ ذیل متبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کریں:
(i) مندرجہ ذیل اعدادوشمار کو نمائندگی کے لیے آپ کس قسم کے خاکے کا استعمال کریں گے۔
| صوبے |
خام لوہے کی پیداوار کا حصہ(فی صد میں) |
مدھیہ پردیش گووا کرناٹک بہار اڑیسہ آندھرا پردیش مہاراشٹرا |
23.44 21.82 20.95 16.98 16.30 0.45 0.04 |
(a) خط (b) کثیر رخی بارڈائیگرام
(c) پائی ڈائیگرام (d) مذکورہ میں سے کوئی نہیں
(ii) صوبے کے تحت اضلاع کی نمائندگی کس قسم کے مکانی اعدادوشمار سے ہوگی؟
(a) نقطہ (b) خطہ
(c) کثیرالزاویہ (d) مذکورہ میں سے کوئی نہیں
(iii) ورک شیٹ کے سیل میں دیے گئے فارمولے میں وہ کون سا آپریٹر ہے جس کی تحسیب پہلے کی جاتی ہے؟
(a) + (b) –
(c) / (d) ×
(iv) ایکسل میں وزارڈ فنکشن آپ کو قابل بناتا ہے
(a) خاکوں کی تشکیل میں
(b) حسابی اورشماریاتی اعمال کوکرنے میں
(c) نقشہ نویسی میں
(d) مذکورہ بالا میں سے کوئی نہیں
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریبا 30 الفاظ میں دیں:
(i) کمپیوٹر کے مختلف حصّوں کے کام کیا ہیں؟
(ii) اعدادوشمار کے عمل اورنمائندگی میں دستی طریقوں پر کمپیوٹر کے استعمال کے کیافوائد ہیں؟
(iii) ورک شیٹ کیاہوتی ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 125 الفاظ میں دیجیے:
(i) مکانی اورغیرمکانی اعدادوشمار میں کیا فرق ہے؟ مثال دے کر واضح کیجیے۔
(ii) مکانی اعدادوشمار کی تین شکلیں کون سی ہیں؟
سرگرمی
1۔ دیے گئے اعدادوشمار کا استعمال کرکے مندرجہ ذیل اقدام اپنائیے۔
(a) دیے گئے اعدادوشمار کو ایک فائل میں درج کیجیے اوران کو مائی ڈاکومنٹ میں ذخیرہ کیجیے(فائل کا نام ’’اپن فال‘‘رکھیے)
(b) ایکسل اسپریڈ شیٹ میں وزارڈ فنکشن کا استعمال کرکے دییے گئے اعدادوشماری مجموعہ کا معیاری انحراف اوردرمیانہ کی تحسیب کیجیے۔
(c) قدم(b) پر ملے نتائج کا استعمال کرکے’’تغیرکا ضریب‘‘نکالیے۔
(d) نتیجے کا تجزیہ کیجیے۔
2۔ کمپیوٹر کی مدد سے مناسب تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی نمائندگی کیجیے اورخاکوں کا تجزیہ کیجیے۔
ہندوستان میں فصلوں کی شدت
| 80کی دہائی |
فصلوں کی شدت80دہائی |
سال 90کی دہائی |
فصلوں کی شدت90کی دہائی |
1980-81 1981-82 1982-83 1983-84 1984-85 1985-86 1986-87 1987-88 1988-89 1989-90 |
123.3 124.5 123.2 125.7 125.2 126.7 126.4 127.3 128.5 128.1 |
1990-91 1991-92 1992-93 1993-94 1994-95 1995-96 1996-97 1997-98 1998-99 1999-00 |
129.9 128.7 130.1 131.1 131.5 131.8 132.8 134.1 135.4 134.9 |
