
آپ نے گیارھویں جماعت میں دنیا اورہندوستان کے طبعی جغرافیہ کے پہلوؤں کا مطالعہ کیا۔موجودہ جماعت میں آپ جغرافیہ میں عملی کاموں کے علاوہ انسانی جغرافیہ کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کریں گے۔ ان پہلوؤں کا مطالعہ کرتے وقت آپ مشاہدہ کریں گے کہ جن نکات کا بیان کیاگیا ہے وہ عالمی یا قومی سطح کے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں فراہم کردہ معلومات ہمیں بڑے پیمانے پر نکات کو سمجھنے میں معاون ہوتی ہیں۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہوکہ آپ کے گردوپیش میں موجود شکلیں،واقعات اورعمل بالکل اسی طرح ہیں جیساکہ آپ نے بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مقامی طورپر آپ ان میں سے بعض پہلوؤں کا مطالعہ کیسے کریں گے؟ آپ جانتے ہیں کہ علاقائی سطح کی معلومات کا استعمال ایک بڑے علاقے کی مختلف طبعی اورانسانی پیمانوں کا تجزیہ کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔ اس طرح مقامی سطح پر معلومات کی تخلیق کے لیے ابتدائی سروے کرکے معلومات کو یکجاکرنا پڑتا ہے۔ابتدائی سروے کو فیلڈ سروے بھی کہاجاتا ہے۔ یہ جغرافیائی تفتیش کے لیے ایک لازمی عنصر ہے۔ یہ بنی نوع انسان کے ایک گھر کی طرح زمین کو سمجھنے کا ایک بنیادی عمل ہے اوراسے مشاہدہ،خاکہ،پیمائش،انٹرویووغیرہ کے ذریعہ کیاجاتا ہے۔موجودہ باب میں ہم فیلڈ سروے سے متعلق عمل پر بحث کریں گے۔
فیلڈ سروے کیوںضروری ہے؟ (Why is Field Survey Required ? )
دیگرسائنسی مضامین کی طرح جغرافیہ بھی ایک فیلڈ سائنس ہے۔اس طرح جغرافیائی تفتیش میں ایک بہتر منصوبہ بند فیلڈ سروے کے ذریعے تقویت رسانی کی ہمیشہ ضرورت پڑتی ہے۔یہ سروے مکانی تقسیم کے طرز اورمقامی سطح پر ان کے ربط وتعلق کے بارے میں ہماری فہم کودوبالا کردیتے ہیں۔ مزید برآں فیلڈ سروے مقامی سطح پر معلومات یکجاکرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں جن کی دستیابی ثانوی ذرائع سے نہیں ہوپاتی۔ اس لیے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے فیلڈ سروے کیاجاتا ہے تاکہ پہلے سے طے شدہ مقاصد کے مطابق تفتیش کے تحت مسائل کا گہرا مطالعہ کیاجاسکے۔اس طرح کے مطالعات تفتیش کار کو حالت اورعمل کو ان کے محل وقوع کے اعتبار سے کل کی حیثیت سے سمجھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ مشاہدات کے ذریعہ ممکن ہو سکتا ہے جومعلومات حاصل کرنے اوران سے نتائج اخذ کرنے کا مفید طریقہ ہے۔
فیلڈ سروے کا طریقہ عمل (Field Survey Procedure)
فیلڈ سروے پوری طرح طے شدہ عمل کے ساتھ شروع کیاجاتا ہے۔ اسے مندرجہ ذیل کارآمد طورپر باہمی متعلقہ مراحل کے تحت کیاجاتا ہے۔
1۔ مسئلے کی تعریف کرنا (Defining the Problem)
مطالعہ کیے جانے والے مسئلے کی تعریف اچھی طرح ہونی چاہیے۔ اسے مسئلے کی نوعیت کو بیانیہ طریقے سے ظاہرکرکے حاصل کیاجاسکتا ہے۔ اس کی جھلک سروے کے مضمون کے عنوان اورذیلی عنوان میں بھی نظرآنی چاہیے۔
2۔ مقاصد (Objectives)
سروے کو مزید خصوصی بنانے کے لیے مقاصد کی فہرست بنائی جاتی ہے۔ مقاصد سروے کا خاکہ فراہم کرتے ہیں اوران کے مطابق اعدادوشمار کو حاصل کرنے اورتجزیہ کرنے کے مناسب طریقوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
3۔ دائرہ کار (Scope)
واضح طورپر تعریف شدہ مقاصد کی طرح متعلقہ جغرافیائی علاقے،سروے کا نظام الوقت اوراگر ضروری ہوتو متعلقہ مطالعے کے موضوع کے تعلق سے سروے کے دائرہ کار کو بھی محدود کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے سے طے شدہ مقاصد کو پورا کرنے،تجزیہ،نتائج اخذ کرنے اوران کے استعمال کو محدود کرنے کے ضمن میں اس قسم کی کثیر بعدی حدود کو نافذ کرنا ضروری ہے۔
4۔ آلات اورتکنیک (Tools and Techniques)
فیلڈ سروے بنیادی طورپر منتخب مسئلہ کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے کیاجاتا ہے جس کے لیے مختلف قسم کے آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں نقشوں،دیگر اعدادوشمار کے ساتھ ثانوی ذرائع سے حاصل معلومات،فیلڈ کا مشاہدہ،سوالناموں کے ذریعہ لوگوں سے انٹرویوکرکے اعدادوشمار کی تخلیق کرنا شامل ہوتا ہے۔
(i) درج شدہ اورشائع شدہ اعدادوشمار (Recorded and Published Data)
یہ اعدادوشمار مسئلہ کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان کومختلف سرکاری ایجنسیوں،تنظیموں اوردیگر ایجنسیوں کے ذریعہ جمع اورشائع کیاجاتا ہے۔پٹواری نقشے اوروضعی نقشوں کے ساتھ یہ معلومات سروے کا خدوخال تیار کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔گاؤں کی پنچایت یا مال گذاری آفیسران کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات یا ووٹروں کی فہرست کااستعمال کرکے سروے علاقے میں خاندان کے مکھیا،افراد، زمین کی ملکیت کی فہرست بنائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح زمینی خدوخال،پانی کے نکاس،نباتات اورزمین کے استعمال جیسے لازمی طبعی خصوصیات اوربستیاں، نقل وحمل اورمواصلاتی خطوط،سینچائی کی بنیادی سہولیات وغیرہ جیسے ثقافتی خدوخال وضعی نقشوں سے بنائے جاسکتے ہیں۔ مال گذاری آفیسران کے پاس موجود پٹواری نقشوں سے زمینی قطعات کے حدودکو نشان زد کیاجاسکتا ہے۔فیلڈ سروے یا توپوری’’آبادی‘‘کے لیے کیاجاتا ہے یا’’نمونے‘‘کے لیے۔ مشاہدات کی اکائیوں کو منتخب کرنے کے لیے ان بنیادی معلومات اورنقشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمین پر تفتیش کارکو اپنا رخ اورمحل وقوع متعین کرنے کے لیے سروے علاقے کے بڑے پیمانے کے نقشوں کی مدد لی جاتی ہے۔ اس ابتدائی سمت بندی کی وجہ سے تفتیش کارکو نقشے میں اضافی خدوخال کو مناسب طورسے شامل کرنے میں مددملتی ہے۔
(ii) فیلڈ کا مشاہدہ (Field Observation)
فیلڈ سروے کا مؤثر ہونا تفتیش کار کا مشاہدے سے زمینی مناظر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت سے وابستہ ہے۔ فیلڈ سروے کا اصل مقصد جغرافیائی مظاہر کے تعلقات اورخصوصیات کا مشاہدہ کرنا ہے۔
مشاہدے کو مکمل کرنے کے لیے معلومات حاصل کرنے کی چند تکنیک کافی مفید ہیں جیسے خاکہ کشی اورفوٹوگرافی،جیساکہ آپ کے نصابی کتاب میں خاکے اورفوٹوگراف حقائق، حالات اوراعمال کی تشریح میں آپ کی فہم کو دوبالا کردیتے ہیں۔ اس لیے تشریح کی تقویت رسانی کے لیے زمینی مناظر کے اہم خدوخال کی خاکہ کشی کا سیکھنا اوراسے استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس طرح زمینی مناظر،اشیا اورسرگرمیوں کی منظرکشی، فوٹوگرافی کے ذریعہ بہتر طورپر کی جاسکتی ہے۔
جب کبھی بڑے پیمانے کا مناسب نقشہ موجود نہیں ہوتا تو ابتدائی معائنہ پر مبنی سروے (reconnaissance)کی بنیادپر سروے علاقے کا خاکائی یاعلامتی نقشہ تیار کیاجاسکتا ہے۔اس قسم کی مشق سے تفتیش کار کو اپنے علاقے سے متعارف ہونے میں مدد ملتی ہے کیونکہ اس طریقے سے ہر ایک خصوصیت کا احتیاط سے مشاہدہ کیاجاسکتا ہے تاکہ انھیں خاکوں میں دکھایاجاسکے۔
ایک منظم ریکارڈ رکھنے کے لیے فیلڈ میں کیے گئے تمام مشاہدات کو نوٹ کرلینا چاہیے۔ فیلڈ میں جو کچھ آپ دیکھتے ہیں،محسوس کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں ان میں سے ہر چیز کو آپ یاد نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے خصوصیات اورواقعات کی زمرہ بندی کے مناسب منصوبے کا استعمال کرکے تفتیش کارکو ان کی متعلقہ خصوصیات کو اسی زمرے میں درج کرنا چاہیے۔ مشاہدات کے مہمل اندراج اوروضاحت کے لیے لوگوں سے یا سروے پارٹی کے ممبران سے باہمی گفتگو کرکے یامندرج معلومات کے حوالے سے نوٹ کرنے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔
(iii) پیمائش (Measurement)
بعض فیلڈ سروے میں اسی مقام پر اشیا اورواقعات کی پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس حالت میںمزیدضروری ہوجاتا ہے جب کوئی بالکل صحیح تجزیہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے سروے پارٹی کو ان مناسب آلات کو لے کر چلنا چاہیے جن کی ضرورت منتخب خصوصیات کی پیمائش کے لیے ہوتی ہے جیسے پیمائشی فیتہ،مٹی کے وزن کی پیمائش کے لیے تولنے کی مشین،تیزابیت یا نمکینیت کی پیمائش کے لیےpH میٹر کی کاغذی پٹی اورتھرمامیٹر وغیرہ۔
(iv) انٹرویولینا (Interviewing)
سماجی موضوعات سے منسلک سبھی فیلڈ سروے میں معلومات انفرادی انٹرویو کے ذریعہ یکجاکی جاتی ہیں۔ اپنے ماحول اوراپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ہر شخص کا علم اورتجربہ معلومات کے سوا اورکچھ نہیں ہے۔ اگر ان تجربات کی یاد دہانی بحسن وخوبی کرائی جائے تو یہمعلومات کے اہم ذرائع ہیں۔ پھر بھی انفرادی انٹرویوکے ذریعہ معلومات حاصل کرنے کا عمل انٹرویولینے والے اوردینے والے کے موضوع کو سمجھنے کی صلاحیت،مواصلاتی مہارت اورلوگوں کے ساتھ ربط قائم کرنے سے متاثر ہوتا ہے۔
(a) آلات /طریقے:(Tools) لوگوں کا انٹرویو کئی طریقوں سے کیاجاسکتا ہے جیسے پہلے سے تیار شدہ سوالنامے اورجدول یاباہمی اشتراک کے طریقے مثلاًسماجی اوروسائل کے نقشے اورباہمی تبادلہ خیال۔
(b) بنیادی معلومات:(Basic Information)اعدادوشمار یکجاکرنے کے ایک ذریعہ کی حیثیت سے انٹرویو لیتے وقت محل وقوع،انٹرویودینے والے لوگوں کا سماجی ومعاشی پس منظرجیسی بعض معلومات کو نوٹ کرلینا چاہیے۔ انھیں پیمانوں کی بنیادپر تفتیش کار آئندہ تحسیب وتجزیہ کے لیے معلومات جمع کرتا ہے اور اُنہیں مرتب کرتا ہے۔
(c) احاطگی:(Coverage) فیلڈ مطالعے کے دوران تفتیش کارکو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ سروے مردم شماری کی شکل میں پوری آبادی کے لیے کرنا ہے یا منتخب نمونوں تک منحصررکھنا ہے۔ اگر مطالعے کا علاقہ بہت بڑانہیں ہے لیکن متنوع عناصر پر مشتمل ہے توپوری آبادی کاسروے کرنا چاہیے۔ بڑے علاقے کی صورت میں آبادی کے تمام حصوں کی نمائندگی کرنے والے منتخب نمونوں تک مطالعے کومحدود رکھنا چاہیے۔
(d) مطالعے کی اکائیاں:(Units of Study) مردم شماری یانمونہ جاتی سروے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ مطالعے کے عناصر کی صحیح اور واضح تعریف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عناصر مشاہدے کی ابتدائی اکائیاں ہوتی ہیں جیسے خاندان،زمین کے ٹکڑے،کاروبار کی اکائیاں وغیرہ۔
(e) نمونہ ڈیزائن:(Sample Design) سروے کے مقاصد،آبادی میں تغیر،وقت اورلاگت کی قیدوبند کا لحاظ رکھتے ہوئے نمونے کا سائز اورانتخاب کے طریقوں کے ساتھ نمونہ جاتی سروے کا خدوخال طے کیاجانا چاہیے۔
(f) احتیاط: (Cautions)فیلڈ انٹرویویا باہمی اشتراک سے اندازہ لگانے کا طریقہ کافی حساس ہوتاہے۔ اسے کافی سنجیدگی اور احتیاط سے کرنا چاہیے کیونکہ اس عمل میں ایسے انسانوں سے سابقہ پڑتاہے جن کی ثقافتی قدریں اورکارکردگی ہمیشہ تفتیش کار کی ثقافتی قدروں اورکارکردگی کے مطابق نہیں ہوتیں۔سماجی علوم کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے آپ کو مطالعے کے وسیع مقاصد کے تئیں محتاط رہنا چاہیے اورکسی بھی دلیل کو مطالعہ کے دائرہ کار کے باہر نہیں لے جاناچاہیے۔صحیح تصور حاصل کرنے کے لیے آپ کی گفتگو اوررویے سے یہ جھلکناچاہیے کہ آپ بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔انٹرویو کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی تیسراآدمی اپنی موجودگی سے یادرمیان میں بول کر مخل نہ ہو۔
5۔ تنظیم اورتحسیب (Compilation and Computation)
مقاصد کے مجموعہ کو حاصل کرنے میں بامعنی تشریح وتجزیہ کرنے کے لیے فیلڈ ورک کے دوران یکجاکیے گئے مختلف قسم کی معلومات کو منظم کرناہوگا۔نوٹ،فیلڈخاکے،فوٹوگراف، کیس اسٹڈیز وغیرہ کو مطالعے کے ذیلی موضوعات کے مطابق سب سے پہلے منظم کرنا ہوتا ہے۔اسی طرح سوالناموں اورجدول پر مبنی معلومات کاحساب کتاب یاتو ماسٹر شیٹ پر یا اسپریڈشیٹ پر کرنی چاہیے۔آپ اسپریڈ شیٹ کی خصوصیات اوراستعمال کو پہلے ہی سیکھ چکے ہیں۔ اس طرح اشاریات کی تشکیل اوراعدادوشمار کی تحسیب کرسکتے ہیں۔
6۔ نقشہ کشی کا استعمال (Cartographic Applications)
آپ نقشہ نویسی، ڈائیگرام اورخاکوں کو کھینچنے کے مختلف طریقوں کو سیکھ چکے ہیں اورانھیں صاف اورواضح بنانے میں کمپیوٹر کا استعمال بھی سیکھ چکے ہیں۔ مظاہر میں تنوع کا بصری عکس پیداکرنے کے لیے ڈائیگرام اورگراف بہت ہی مؤثر آلے ہیں۔ اس طرح ان نمائندہ پیشکش کے ذریعہ تشریح وتجزیہ میں مدد لی جاسکتی ہے۔
7۔ پیشکش (Presentations)
فیلڈ مطالعہ رپورٹ میں استعمال کیے گئے سبھی اعمال،طریقوں،آلات وتکنیک کی تفصیل دی جانی چاہیے۔ رپورٹ کے بڑے حصے پر جمع کردہ وتحسیب شدہ معلومات کا تجزیہ وتشریح ہونی چاہیے جس میں جدول،چارٹ،شماریاتی نتائج،نقشے اورحوالے کی شکل میں معاون حقائق ہونے چاہئیں۔ رپورٹ کے آخر میں تفتیش کا خلاصہ پیش کریں۔
مندرجہ بالا خاکے کی بنیاد پر آپ کوکسی مسئلے یا عنوان کا انتخاب کرکے تفتیش کاروں کو اپنے اساتذہ کی نگرانی میں فیلڈ سروے کرنا چاہیے۔
فیلڈ سروے:کیس اسٹڈی (Field Survey : Case Studies)
آپ جانتے ہیں کہ مقامی سطح پر اشکال،اعمال اورواقعات کو سمجھنے کے لیے فیلڈ سروے کا اہم کردار ہوتا ہے۔عام تعلق رکھنے والے کسی بھی موضوع کامطالعہ کرنے کے لیے فیلڈ سروے کیاجاسکتا ہے۔پھر بھی کیس اسٹڈی کے لیے عنوان کا انتخاب اس علاقے کی نوعیت اورخصوصیت پر منحصر ہوتا ہے جس علاقے میں سروے کرنا ہے۔ مثال کے طورپر کم بارش اورزراعتی طورپر کم پیداواری علاقوں میں خشک سالی مطالعے کا اہم عنوان ہوسکتاہے۔ دوسری طرف آسام،بہار اورمغربی بنگال جیسے صوبوں میں جہاں بارش کے موسم میں زیادہ بارش سے متعلق حالات کا ہونا اوراکثر سیلاب کا آناہوتا رہتا ہے وہاں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تخمینہ کا سروے کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دھواں اگلنے والی صنعتی اکائیوں کے نزدیک ہوا کی آلودگی ایک اہم عنوان بن کر ابھرتی ہے یا پنجاب اورمغربی اترپردیش جو کئی سالوں سے سبزانقلاب سے مستفید ہوتے رہے ہیں،میں زراعتی زمینی استعمال کی بدلتی شکلیں مطالعہ کے لیے اہم موضوع بن جاتی ہیں۔ موجودہ باب میں ہم خشک سالی اورغریبی کے موضوع پر خصوصی کیس اسٹڈی کس طرح کی جاتی ہے ،کے بارے میں تذکرہ کریں گے۔ یہ آپ کے نصاب میں دیے گئے کیس اسٹڈی سے منتخب کی گئی ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔
1۔زمین دوزپانی میں تبدیلی
2۔ ماحولیاتی آلودگی
3۔ مٹی کے معیار کی پستی
4۔ غریبی
5۔ خشک سالی اورسیلاب
6۔ توانائی کے نکات
7۔ زمینی استعمال کا سروے اورتبدیلی کی پہچان
ان عنوانات پر فیلڈ سروے کرنے سے متعلق اعمال کا خلاصہ جدول 5.1 میں دیاگیا ہے۔
طلبا کے لیے ہدایات (Instructions for the Students)
طلباکو کلاس ٹیچر کے صلاح ومشورہ سے فیلڈ سروے کے لیے ایک بلیوپرنٹ تیار کرنا چاہیے جس میں سروے کیے جانے والے علاقہ کی تفصیل،اگردستیاب ہوتو اس علاقے کا نقشہ،سروے کے مقاصد کی واضح معنویت اوربہترساخت کا سوالنامہ شامل کیاجانا چاہیے۔ اساتذہ بھی طلباکوچند ضروری ہدایات دیں۔ ان میں مندرجہ ذیل ہدایات شامل رہیں۔
1۔ آپ فیلڈ سروے کے لیے جہاں جارہے ہیں وہاں کے لوگوں کے ساتھ ملنساری کا رویہ رکھیں۔
2۔ جن لوگوں سے ملیں ان کے ساتھ دوستانہ ربط قائم کریں۔
3۔ قابل فہم زبان میں سوالات کریں۔
4۔ جن لوگوں سے انٹرویو کررہے ہیں،ان سے ایسے سوالات نہ کریں جن سے ان کے جذبات کو ٹھیس لگے یا وہ بھڑک اٹھیں۔
5۔ اس علاقے کے باشندوں سے کسی قسم کاوعدہ نہ کریں اوراپنے مقصد کے بارے میں جھوٹ نہ بولیں۔
6۔ آپ سوالات کا جواب دینے والوں کی ہرایک تفصیل کو نوٹ کرلیں اوراگر جواب دہندہ مطالبہ کرتا ہے تو اسے تحریری تفصیل دکھادیں۔
غربت کا علاقائی مطالعہ:وسعت،عوامل اورنتائج
(Field Study of Poverty: Extent, Determinants and Consequences)
غربت کا مطلب کسی دینے گئے وقت پر آمدنی، اثاثہ،صرف یا تغذیہ کے تعلق سے لوگوں کی حالت ہے۔ عام طورپر اس کا سمجھنا اورسمجھانا خط افلاس کے ضمن میں ہوتا ہے جو آمدنی، صرف،پیداواری وسائل تک رسائی اورخدمات کی سنگین حد کی وہ سطح ہے جس کے نیچے لوگوں کی درجہ بندی غریب کے زمرے میںکی جاتی ہے۔
غربت کا مسئلہ عدم مساوات کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے جو غربت کی وجہ بھی ہے،اس طرح سے غربت نہ صرف یہ کہ ایک مطلق بلکہ ایک اضافی حالت بھی ہے۔ اس میں ایک خطے سے دوسرے خطے میں تنوع پایاجاتا ہے۔حالانکہ اس میں کچھ مطلق پہلو بھی ہیں اورعلاقائی تغیر نیزمتنوع سماج کے باوجود لوگوں کو غذاکی مناسب سطح، کپڑا اوررہائش کی ضرورت پڑتی ہے۔ غریبی پرانی یا عارضی مظہر ہوسکتی ہے۔پرانی غربت جسے ساختی غربت بھی کہاجاتا ہے ،کا سمجھنا زیادہ اہم ہے۔غریبی کاایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ معاشی ترقی اونچی شرح کے باوجود خط افلاس سے نیچے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی پہچان ہوتی ہے۔یہ گاؤں اورشہری علاقوں میں یکساں طورپرحد سےزیادہ ہوتی ہے۔اس لیے غریبی کے ابعاد اوراس کی پیمائش کا مطالعہ فیلڈ سروے کے ذریعہ کیاجاسکتا ہے۔ شکل 5.1 اور 5.2 غربت زدہ خاندان اورگاؤں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔
اس قسم کے سروے کا پہلا قدم ان کے مقاصد کو فہرست بند کرنا ہے۔


شکل 5.1: ایک غربت زدہ خاندان


شکل 5.2: ایک غربت زدہ گائوں
مقاصد (Objectives)
احاطگی (Coverage)
مکانی (Spatial)
زمانی (Temporal)
عملی جغرافیہ (Thematic)
آلات اور تکنیک (Tools and Techniques)
نقشے (Maps)
مشاہدات (Observations)
پیمائش (Measurement)
ذاتی انٹرویو (Personal lnterview)
سر وے کا ڈیزائن (Survey Design)
| نمبر شمار | والد کے نام کے ساتھ | سماجی درجہ/زمرہ | زمین کی ملکیت(ہیکٹر) | گھر کا محل وقوع(جال/تبصرہ) |
| 1 2 3 |
خاندان کے مکھیا کا نام موہن لال ولد سوہن لال ہوما جی ولد کالو جی |
دھاکڑ:اوبی سی بھیل:ایس سی:ایس ٹی |
7.2 0.2 |
دائروں کے حوالے سے A2 D4 |

مکانی طبقوں کے لیے قیا سی نقشہ/ خا کہ کھینچاجا سکتا ہے جیسا کہ شکل 5.3 میں دکھایا گیا ہے ۔
فہرست/ سوالنامہ (Schedule/Questionnaire)
انٹرویو ،مشاہدہ اورگھرانوں کی معلومات پر مبنی کئی مرتبہ کی پیمائش پہلے سے تیار کردہ سوالنامے میں منظم طورپردرج کرنا اور لکھنا چاہیے ۔ (برائے مہربانی ضمیمہ IAسے Hتک دیکھتے)
تصدیق اور تحسیب (Compilation and Computation)
فیلڈ میں سروے مکمل کرنے کے بعد مزید تحسیب وتجز یہ کے لیے یکجاکر دہ معلومات کو جمع کرنے ضرورت ہوتی ہے۔ اس کام کو اسپر یڈ شیٹ کے فارم میں زیادہ آسانی سے کیاجا سکتاہے ۔ اس کی مشق آپ نے کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ عملی کام میں پہلے ہی کر لی ہے۔ ان اعداد وشمار کا عمد ہ بند وبست کرنے کے لیے مندرج ذیل اقدام اپنا ئیے۔
1۔ ہر ایک سروے شدہ گھرانے کی پہچان کے لیے خصوصی کو ڈدیجیے۔
2۔ اسی طرح آبادی جدول میں شامل ہر فرد کی پہچان کے لیے ایک خصوصی کو ڈدیجیے تا کہ اسپریڈ شیٹ پر تر تیب دی جاسکے۔
3۔ اگر خاندان کی معلومات کی جمع بندی الگ الگ شیٹ پر کی جائے تو زیادہ آسانی ہوگی ۔
4۔ ہر کالم میں مند رج صفا ت کا ایک نام دیا جانا چاہیے ۔
5۔ مز ید تحسیبی عمل کے لیے ہر شیٹ میں معلو مات خاندانوں کو دیے گئے خصوصی کو ڈکے مطابق دی جانی چاہیے ۔
تصدیق اور استحکام کی جانچ (Verification and Consistency check)


اشا ریا ت کی تحسیب (Computation of Indices)
بصر ی پیشکش (Visual Presentation)
موضوعی نقشہ نگاری (Thematic Mapping)
شماریاتی تجزیہ (Statistical Analysis)
رپورٹ لکھنا (Report Writing)
خشک سالی کا علاقائی مطالعہ:کرناٹک کے بیلگام ضلع کا مطالعہ
(Field Study of Drought: A Study of Belgaum District)


شکل 5.4: خشک سالی سے متاثر علاقہ شکل 5.5: مٹی کی نمی کا اتلاف
مقاصد (Objective)
احاطگی (Coverage)
مکانی (Spatial)
زمانی (Temporal)
موضوعی (Thematic)
آلات اورتکنیک (Tools and Techniques)
ثانوی معلومات (Secondary Information)
نقشے (Maps)
مشاہدہ (Observation)
پیمائش (Measurement)
پیمائش کی جانے والی اشیا (Objects (to be measured))
انٹرویولینا (Interviewing)
جدول بنانا (Tabulation)
رپورٹ پیش کرنا(Presentation of Report)
مشق
1۔ نیچے دیے گئے چارمتبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے:
(ii) فیلڈ سروے کے نتائج کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کون سا عمل کیاجاتا ہے؟
(iii) فیلڈ سروے کے ابتدائی مرحلہ پر سب سے اہم کام کیا ہے؟
(iv) فیلڈ سروے کے دوران کس سطح کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں؟
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے:
(i) فیلڈ سروے کیوں ضروری ہے؟
(ii) فیلڈ سروے کے دوران مستعمل آلات اورتکنیک کی فہرست بنائیے۔
(iii) فیلڈ سروے کرنے سے پہلے کس قسم کی احاطگی کی تعریف کرنا ضروری ہے؟
(iv) سروے ڈیزائن کو مختصراًبیان کیجیے۔
(iv) فیلڈ سروے کے لیے عمدہ ساخت سوال نامہ کیوں ضروری ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل مسائل میں سے کسی ایک کے لیے فیلڈ سروے کا ڈیزائن بنائیے:
(a) ماحولیاتی آلودگی
(b) مٹی کی پست کاری
(c) سیلاب
(d) توانائی مسئلہ
(e) زمین کے استعمال کی تبدیلی کی پہچان