Skip to content
Jughrafiameinamlikam-II-005


1

آپ نے گیارھویں جماعت میں دنیا اورہندوستان کے طبعی جغرافیہ کے پہلوؤں کا مطالعہ کیا۔موجودہ جماعت میں آپ جغرافیہ میں عملی کاموں کے علاوہ انسانی جغرافیہ کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کریں گے۔ ان پہلوؤں کا مطالعہ کرتے وقت آپ مشاہدہ کریں گے کہ جن نکات کا بیان کیاگیا ہے وہ عالمی یا قومی سطح کے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں فراہم کردہ معلومات ہمیں بڑے پیمانے پر نکات کو سمجھنے میں معاون ہوتی ہیں۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہوکہ آپ کے گردوپیش میں موجود شکلیں،واقعات اورعمل بالکل اسی طرح ہیں جیساکہ آپ نے بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مقامی طورپر آپ ان میں سے بعض پہلوؤں کا مطالعہ کیسے کریں گے؟ آپ جانتے ہیں کہ علاقائی سطح کی معلومات کا استعمال ایک بڑے علاقے کی مختلف طبعی اورانسانی پیمانوں کا تجزیہ کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔ اس طرح مقامی سطح پر معلومات کی تخلیق کے لیے ابتدائی سروے کرکے معلومات کو یکجاکرنا پڑتا ہے۔ابتدائی سروے کو فیلڈ سروے بھی کہاجاتا ہے۔ یہ جغرافیائی تفتیش کے لیے ایک لازمی عنصر ہے۔ یہ بنی نوع انسان کے ایک گھر کی طرح زمین کو سمجھنے کا ایک بنیادی عمل ہے اوراسے مشاہدہ،خاکہ،پیمائش،انٹرویووغیرہ کے ذریعہ کیاجاتا ہے۔موجودہ باب میں ہم فیلڈ سروے سے متعلق عمل پر بحث کریں گے۔

فیلڈ سروے کیوںضروری ہے؟ (Why is Field Survey Required ? )

دیگرسائنسی مضامین کی طرح جغرافیہ بھی ایک فیلڈ سائنس ہے۔اس طرح جغرافیائی تفتیش میں ایک بہتر منصوبہ بند فیلڈ سروے کے ذریعے تقویت رسانی کی ہمیشہ ضرورت پڑتی ہے۔یہ سروے مکانی تقسیم کے طرز اورمقامی سطح پر ان کے ربط وتعلق کے بارے میں ہماری فہم کودوبالا کردیتے ہیں۔ مزید برآں فیلڈ سروے مقامی سطح پر معلومات یکجاکرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں جن کی دستیابی ثانوی ذرائع سے نہیں ہوپاتی۔ اس لیے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے فیلڈ سروے کیاجاتا ہے تاکہ پہلے سے طے شدہ مقاصد کے مطابق تفتیش کے تحت مسائل کا گہرا مطالعہ کیاجاسکے۔اس طرح کے مطالعات تفتیش کار کو حالت اورعمل کو ان کے محل وقوع کے اعتبار سے کل کی حیثیت سے سمجھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ مشاہدات کے ذریعہ ممکن ہو سکتا ہے جومعلومات حاصل کرنے اوران سے نتائج اخذ کرنے کا مفید طریقہ ہے۔

فیلڈ سروے کا طریقہ عمل  (Field Survey Procedure)

فیلڈ سروے پوری طرح طے شدہ عمل کے ساتھ شروع کیاجاتا ہے۔ اسے مندرجہ ذیل کارآمد طورپر باہمی متعلقہ مراحل کے تحت کیاجاتا ہے۔

1۔ مسئلے کی تعریف کرنا (Defining the Problem)

مطالعہ کیے جانے والے مسئلے کی تعریف اچھی طرح ہونی چاہیے۔ اسے مسئلے کی نوعیت کو بیانیہ طریقے سے ظاہرکرکے حاصل کیاجاسکتا ہے۔ اس کی جھلک سروے کے مضمون کے عنوان اورذیلی عنوان میں بھی نظرآنی چاہیے۔

2۔ مقاصد (Objectives)

سروے کو مزید خصوصی بنانے کے لیے مقاصد کی فہرست بنائی جاتی ہے۔ مقاصد سروے کا خاکہ فراہم کرتے ہیں اوران کے مطابق اعدادوشمار کو حاصل کرنے اورتجزیہ کرنے کے مناسب طریقوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

3۔ دائرہ کار (Scope)

واضح طورپر تعریف شدہ مقاصد کی طرح متعلقہ جغرافیائی علاقے،سروے کا نظام الوقت اوراگر ضروری ہوتو متعلقہ مطالعے کے موضوع کے تعلق سے سروے کے دائرہ کار کو بھی محدود کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے سے طے شدہ مقاصد کو پورا کرنے،تجزیہ،نتائج اخذ کرنے اوران کے استعمال کو محدود کرنے کے ضمن میں اس قسم کی کثیر بعدی حدود کو نافذ کرنا ضروری ہے۔

4۔ آلات اورتکنیک (Tools and Techniques)

فیلڈ سروے بنیادی طورپر منتخب مسئلہ کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے کیاجاتا ہے جس کے لیے مختلف قسم کے آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں نقشوں،دیگر اعدادوشمار کے ساتھ ثانوی ذرائع سے حاصل معلومات،فیلڈ کا مشاہدہ،سوالناموں کے ذریعہ لوگوں سے انٹرویوکرکے اعدادوشمار کی تخلیق کرنا شامل ہوتا ہے۔

(i)  درج شدہ اورشائع شدہ اعدادوشمار (Recorded and Published Data) 

یہ اعدادوشمار مسئلہ کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان کومختلف سرکاری ایجنسیوں،تنظیموں اوردیگر ایجنسیوں کے ذریعہ جمع اورشائع کیاجاتا ہے۔پٹواری نقشے اوروضعی نقشوں کے ساتھ یہ معلومات سروے کا خدوخال تیار کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔گاؤں کی پنچایت یا مال گذاری آفیسران کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات یا ووٹروں کی فہرست کااستعمال کرکے سروے علاقے میں خاندان کے مکھیا،افراد، زمین کی ملکیت کی فہرست بنائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح زمینی خدوخال،پانی کے نکاس،نباتات اورزمین کے استعمال جیسے لازمی طبعی خصوصیات اوربستیاں، نقل وحمل اورمواصلاتی خطوط،سینچائی کی بنیادی سہولیات وغیرہ جیسے ثقافتی خدوخال وضعی نقشوں سے بنائے جاسکتے ہیں۔ مال گذاری آفیسران کے پاس موجود پٹواری نقشوں سے زمینی قطعات کے حدودکو نشان زد کیاجاسکتا ہے۔فیلڈ سروے یا توپوری’’آبادی‘‘کے لیے کیاجاتا ہے یا’’نمونے‘‘کے لیے۔ مشاہدات کی اکائیوں کو منتخب کرنے کے لیے ان بنیادی معلومات اورنقشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمین پر تفتیش کارکو اپنا رخ اورمحل وقوع متعین کرنے کے لیے سروے علاقے کے بڑے پیمانے کے نقشوں کی مدد لی جاتی ہے۔ اس ابتدائی  سمت بندی کی وجہ سے تفتیش کارکو نقشے میں اضافی خدوخال کو مناسب طورسے شامل کرنے میں مددملتی ہے۔

(ii)  فیلڈ کا مشاہدہ (Field Observation) 

فیلڈ سروے کا مؤثر ہونا تفتیش کار کا مشاہدے سے زمینی مناظر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت سے وابستہ ہے۔ فیلڈ سروے کا اصل مقصد جغرافیائی مظاہر کے تعلقات اورخصوصیات کا مشاہدہ کرنا ہے۔

مشاہدے کو مکمل کرنے کے لیے معلومات حاصل کرنے کی چند تکنیک کافی مفید ہیں جیسے خاکہ کشی اورفوٹوگرافی،جیساکہ آپ کے نصابی کتاب میں خاکے اورفوٹوگراف حقائق، حالات اوراعمال کی تشریح میں آپ کی فہم کو دوبالا کردیتے ہیں۔ اس لیے تشریح کی تقویت رسانی کے لیے زمینی مناظر کے اہم خدوخال کی خاکہ کشی کا سیکھنا اوراسے استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس طرح زمینی مناظر،اشیا اورسرگرمیوں کی منظرکشی، فوٹوگرافی کے ذریعہ بہتر طورپر کی جاسکتی ہے۔

جب کبھی بڑے پیمانے کا مناسب نقشہ موجود نہیں ہوتا تو ابتدائی معائنہ پر مبنی سروے (reconnaissance)کی بنیادپر سروے علاقے کا خاکائی یاعلامتی نقشہ تیار کیاجاسکتا ہے۔اس قسم کی مشق سے تفتیش کار کو اپنے علاقے سے متعارف ہونے میں مدد ملتی ہے کیونکہ اس طریقے سے ہر ایک خصوصیت کا احتیاط سے مشاہدہ کیاجاسکتا ہے تاکہ انھیں خاکوں میں دکھایاجاسکے۔

ایک منظم ریکارڈ رکھنے کے لیے فیلڈ میں کیے گئے تمام مشاہدات کو نوٹ کرلینا چاہیے۔ فیلڈ میں جو کچھ آپ دیکھتے ہیں،محسوس کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں ان میں سے ہر چیز کو آپ یاد نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے خصوصیات اورواقعات کی زمرہ بندی کے مناسب منصوبے کا استعمال کرکے تفتیش کارکو ان کی متعلقہ خصوصیات کو اسی زمرے میں درج کرنا چاہیے۔ مشاہدات کے مہمل اندراج اوروضاحت کے لیے لوگوں سے یا سروے پارٹی کے ممبران سے باہمی گفتگو کرکے یامندرج معلومات کے حوالے سے نوٹ کرنے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔

(iii)   پیمائش (Measurement)

بعض فیلڈ سروے میں اسی مقام پر اشیا اورواقعات کی پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس حالت میںمزیدضروری ہوجاتا ہے جب کوئی بالکل صحیح تجزیہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے سروے پارٹی کو ان مناسب آلات کو لے کر چلنا چاہیے جن کی ضرورت منتخب خصوصیات کی پیمائش کے لیے ہوتی ہے جیسے پیمائشی فیتہ،مٹی کے وزن کی پیمائش کے لیے تولنے کی مشین،تیزابیت یا نمکینیت کی پیمائش کے لیےpH میٹر کی کاغذی پٹی اورتھرمامیٹر وغیرہ۔

(iv)  انٹرویولینا (Interviewing)

سماجی موضوعات سے منسلک سبھی فیلڈ سروے میں معلومات انفرادی انٹرویو کے ذریعہ یکجاکی جاتی ہیں۔ اپنے ماحول اوراپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ہر شخص کا علم اورتجربہ معلومات کے سوا اورکچھ نہیں ہے۔ اگر ان تجربات کی یاد دہانی بحسن وخوبی کرائی جائے تو یہمعلومات کے اہم ذرائع ہیں۔ پھر بھی انفرادی انٹرویوکے ذریعہ معلومات حاصل کرنے کا عمل انٹرویولینے والے اوردینے والے کے  موضوع کو سمجھنے کی صلاحیت،مواصلاتی مہارت اورلوگوں کے ساتھ ربط قائم کرنے سے متاثر ہوتا ہے۔

(a) آلات /طریقے:(Tools) لوگوں کا انٹرویو کئی طریقوں سے کیاجاسکتا ہے جیسے پہلے سے تیار شدہ سوالنامے اورجدول یاباہمی اشتراک کے طریقے مثلاًسماجی اوروسائل کے نقشے اورباہمی تبادلہ خیال۔

(b) بنیادی معلومات:(Basic Information)اعدادوشمار یکجاکرنے کے ایک ذریعہ کی حیثیت سے انٹرویو لیتے وقت محل وقوع،انٹرویودینے والے لوگوں کا سماجی ومعاشی پس منظرجیسی بعض معلومات کو نوٹ کرلینا چاہیے۔ انھیں پیمانوں کی بنیادپر تفتیش کار آئندہ تحسیب وتجزیہ کے لیے معلومات جمع کرتا ہے اور اُنہیں مرتب کرتا ہے۔

(c) احاطگی:(Coverage) فیلڈ مطالعے کے دوران تفتیش کارکو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ سروے مردم شماری کی شکل میں پوری آبادی کے لیے کرنا ہے یا منتخب نمونوں تک منحصررکھنا ہے۔ اگر مطالعے کا علاقہ بہت بڑانہیں ہے لیکن متنوع عناصر پر مشتمل ہے توپوری آبادی کاسروے کرنا چاہیے۔ بڑے علاقے کی صورت میں آبادی کے تمام حصوں کی نمائندگی کرنے والے منتخب نمونوں تک مطالعے کومحدود رکھنا چاہیے۔

(d) مطالعے کی اکائیاں:(Units of Study) مردم شماری یانمونہ جاتی سروے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ مطالعے کے عناصر کی صحیح اور واضح تعریف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عناصر مشاہدے کی   ابتدائی اکائیاں ہوتی ہیں جیسے خاندان،زمین کے ٹکڑے،کاروبار کی اکائیاں وغیرہ۔

(e) نمونہ ڈیزائن:(Sample Design) سروے کے مقاصد،آبادی میں تغیر،وقت اورلاگت کی قیدوبند کا لحاظ رکھتے ہوئے نمونے کا سائز اورانتخاب کے طریقوں کے ساتھ نمونہ جاتی سروے کا خدوخال طے کیاجانا چاہیے۔

(f) احتیاط: (Cautions)فیلڈ انٹرویویا باہمی اشتراک سے اندازہ لگانے کا طریقہ کافی حساس ہوتاہے۔ اسے کافی سنجیدگی اور احتیاط سے کرنا چاہیے کیونکہ اس عمل میں ایسے انسانوں سے سابقہ پڑتاہے جن کی ثقافتی قدریں اورکارکردگی ہمیشہ تفتیش کار کی ثقافتی قدروں اورکارکردگی کے مطابق نہیں ہوتیں۔سماجی علوم کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے آپ کو مطالعے کے وسیع مقاصد کے تئیں محتاط رہنا چاہیے اورکسی بھی دلیل کو مطالعہ کے دائرہ کار کے باہر نہیں لے جاناچاہیے۔صحیح تصور حاصل کرنے کے لیے آپ کی گفتگو اوررویے سے یہ جھلکناچاہیے کہ آپ بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔انٹرویو کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی تیسراآدمی اپنی موجودگی سے یادرمیان میں بول کر مخل نہ ہو۔

5۔   تنظیم اورتحسیب (Compilation and Computation)

مقاصد کے مجموعہ کو حاصل کرنے میں بامعنی تشریح وتجزیہ کرنے کے لیے فیلڈ ورک کے دوران یکجاکیے گئے مختلف قسم کی معلومات کو منظم کرناہوگا۔نوٹ،فیلڈخاکے،فوٹوگراف، کیس اسٹڈیز وغیرہ کو مطالعے کے ذیلی موضوعات کے مطابق سب سے پہلے منظم کرنا ہوتا ہے۔اسی طرح سوالناموں اورجدول پر مبنی معلومات کاحساب کتاب یاتو ماسٹر شیٹ پر یا اسپریڈشیٹ پر کرنی چاہیے۔آپ اسپریڈ شیٹ کی خصوصیات اوراستعمال کو پہلے ہی سیکھ چکے ہیں۔ اس طرح اشاریات کی تشکیل اوراعدادوشمار کی تحسیب کرسکتے ہیں۔

6۔  نقشہ کشی کا استعمال (Cartographic Applications)

آپ نقشہ نویسی، ڈائیگرام اورخاکوں کو کھینچنے کے مختلف طریقوں کو سیکھ چکے ہیں اورانھیں صاف اورواضح بنانے میں کمپیوٹر کا استعمال بھی سیکھ چکے ہیں۔ مظاہر میں تنوع کا بصری عکس پیداکرنے کے لیے ڈائیگرام اورگراف بہت ہی مؤثر آلے ہیں۔ اس طرح ان نمائندہ پیشکش کے ذریعہ تشریح وتجزیہ میں مدد لی جاسکتی ہے۔ 

7۔  پیشکش (Presentations)

فیلڈ مطالعہ رپورٹ میں استعمال کیے گئے سبھی اعمال،طریقوں،آلات وتکنیک کی تفصیل دی جانی چاہیے۔ رپورٹ کے بڑے حصے پر جمع کردہ وتحسیب شدہ معلومات کا تجزیہ وتشریح ہونی چاہیے جس میں جدول،چارٹ،شماریاتی نتائج،نقشے اورحوالے کی شکل میں معاون حقائق ہونے چاہئیں۔ رپورٹ کے آخر میں تفتیش کا خلاصہ پیش کریں۔

مندرجہ بالا خاکے کی بنیاد پر آپ کوکسی مسئلے یا عنوان کا انتخاب کرکے تفتیش کاروں کو اپنے اساتذہ کی نگرانی میں فیلڈ سروے کرنا چاہیے۔

فیلڈ سروے:کیس اسٹڈی  (Field Survey : Case Studies)

آپ جانتے ہیں کہ مقامی سطح پر اشکال،اعمال اورواقعات کو سمجھنے کے لیے فیلڈ سروے کا اہم کردار ہوتا ہے۔عام تعلق رکھنے والے کسی بھی موضوع کامطالعہ کرنے کے لیے فیلڈ سروے کیاجاسکتا ہے۔پھر بھی کیس اسٹڈی کے لیے عنوان کا انتخاب اس علاقے کی نوعیت اورخصوصیت پر منحصر ہوتا ہے جس علاقے میں سروے کرنا ہے۔ مثال کے طورپر کم بارش اورزراعتی طورپر کم پیداواری علاقوں میں   خشک سالی مطالعے کا اہم عنوان ہوسکتاہے۔ دوسری طرف آسام،بہار اورمغربی بنگال جیسے صوبوں میں جہاں بارش کے موسم میں زیادہ بارش سے متعلق حالات کا ہونا اوراکثر سیلاب کا آناہوتا رہتا ہے وہاں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تخمینہ کا سروے کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دھواں اگلنے والی صنعتی اکائیوں کے نزدیک ہوا کی آلودگی ایک اہم عنوان بن کر ابھرتی ہے یا پنجاب اورمغربی اترپردیش جو کئی سالوں سے سبزانقلاب سے مستفید ہوتے رہے ہیں،میں زراعتی زمینی استعمال کی بدلتی شکلیں مطالعہ کے لیے اہم موضوع بن جاتی ہیں۔ موجودہ باب میں ہم خشک سالی اورغریبی کے موضوع پر خصوصی کیس اسٹڈی کس طرح کی جاتی ہے ،کے بارے میں تذکرہ کریں گے۔ یہ آپ کے نصاب میں دیے گئے کیس اسٹڈی سے منتخب کی گئی ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔

1۔زمین دوزپانی میں تبدیلی

ماحولیاتی آلودگی

مٹی کے معیار کی پستی

غریبی

خشک سالی اورسیلاب

توانائی کے نکات

زمینی استعمال کا سروے اورتبدیلی کی پہچان

ان عنوانات پر فیلڈ سروے کرنے سے متعلق اعمال کا خلاصہ جدول 5.1 میں دیاگیا ہے۔

طلبا کے لیے ہدایات (Instructions for the Students)

طلباکو کلاس ٹیچر کے صلاح ومشورہ سے فیلڈ سروے کے لیے ایک بلیوپرنٹ تیار کرنا چاہیے جس میں سروے کیے جانے والے علاقہ کی تفصیل،اگردستیاب ہوتو اس علاقے کا نقشہ،سروے کے مقاصد کی واضح معنویت اوربہترساخت کا سوالنامہ شامل کیاجانا چاہیے۔ اساتذہ بھی طلباکوچند ضروری ہدایات دیں۔ ان میں مندرجہ ذیل ہدایات شامل رہیں۔

آپ فیلڈ سروے کے لیے جہاں جارہے ہیں وہاں کے لوگوں کے ساتھ ملنساری کا رویہ رکھیں۔

جن لوگوں سے ملیں ان کے ساتھ دوستانہ ربط قائم کریں۔

قابل فہم زبان میں سوالات کریں۔

جن لوگوں سے انٹرویو کررہے ہیں،ان سے ایسے سوالات نہ کریں جن سے ان کے جذبات کو ٹھیس لگے یا وہ بھڑک اٹھیں۔

اس علاقے کے باشندوں سے کسی قسم کاوعدہ نہ کریں اوراپنے مقصد کے بارے میں جھوٹ نہ بولیں۔

آپ سوالات کا جواب دینے والوں کی ہرایک تفصیل کو نوٹ کرلیں اوراگر جواب دہندہ مطالبہ کرتا ہے تو اسے تحریری تفصیل دکھادیں۔

غربت کا علاقائی مطالعہ:وسعت،عوامل اورنتائج

 (Field Study of Poverty: Extent, Determinants and  Consequences)

غربت کا مطلب کسی دینے گئے وقت پر آمدنی، اثاثہ،صرف یا تغذیہ کے تعلق سے لوگوں کی حالت ہے۔ عام طورپر اس کا سمجھنا اورسمجھانا خط افلاس کے ضمن میں ہوتا ہے جو آمدنی، صرف،پیداواری وسائل تک رسائی اورخدمات کی سنگین حد کی وہ سطح ہے جس کے نیچے لوگوں کی درجہ بندی غریب کے زمرے میںکی جاتی ہے۔ 

غربت کا مسئلہ عدم مساوات کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے جو غربت کی وجہ بھی ہے،اس طرح سے غربت نہ صرف یہ کہ ایک مطلق بلکہ ایک اضافی حالت بھی ہے۔ اس میں ایک خطے سے دوسرے خطے میں تنوع پایاجاتا ہے۔حالانکہ اس میں کچھ مطلق پہلو بھی ہیں اورعلاقائی تغیر نیزمتنوع سماج کے باوجود لوگوں کو غذاکی مناسب سطح، کپڑا اوررہائش کی ضرورت پڑتی ہے۔ غریبی پرانی یا عارضی مظہر ہوسکتی ہے۔پرانی غربت جسے ساختی غربت بھی کہاجاتا ہے ،کا سمجھنا زیادہ اہم ہے۔غریبی کاایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ معاشی ترقی اونچی شرح کے باوجود خط افلاس سے نیچے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی پہچان ہوتی ہے۔یہ گاؤں اورشہری علاقوں میں یکساں طورپرحد سےزیادہ ہوتی ہے۔اس لیے غریبی کے ابعاد اوراس کی پیمائش کا مطالعہ فیلڈ سروے کے ذریعہ کیاجاسکتا ہے۔ شکل 5.1 اور 5.2 غربت زدہ خاندان اورگاؤں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔

اس قسم کے سروے کا پہلا قدم ان کے مقاصد کو فہرست بند کرنا ہے۔

                                           gare


2

                               شکل 5.1: ایک غربت زدہ خاندان


                                               villa
3

                              شکل 5.2: ایک غربت زدہ گائوں

مقاصد (Objectives)

غریبی کی وسعت، عوامل اورنتائج کا مطالعہ مندرجہ ذیل مقاصد کے ساتھ کیاجاسکتا ہے:
1۔   خط افلاس کی پیمائش کے لیے مناسب معیار کی پہچان کرنا۔
2۔   آمدنی، اثاثہ،صرف،تغذیہ وسائل ایک رسائی اورخدمات میں شراکت کی بنیاد پرلوگوں کے فلاح وبہبود کی سطح کا تخمینہ لگانا۔
3۔    گاؤں اوراس کے لوگوں کی تاریخی اورساختی حالات سے متعلق غریبی کی حالت کو بیان کرنا۔
غریبی کے پیچ اورالجھاو کی جانچ کرنا۔

احاطگی (Coverage)

سروے کے مکانی،زمانی اورموضوعی پہلوؤں کو واضح طورپر سمجھنا ضروری ہے۔

مکانی (Spatial)

مذکورہ بالا مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دیہی اورشہری بستیوں کے منتخب حصوں میں فیلڈ کا مطالعہ کیاجاسکتا ہے۔ مکانی طورپر منتخب علاقے کی وسعت 200 ہیکئر یا اُس سے زیادہ ہونی چاہیے جس میں 400 افراد رہائش پذیرہوں یا 100خاندان ہوں۔

زمانی (Temporal)

اگرمسئلہ پرانی غربت سے متعلق ہے تو مطالعہ اوسط حالات پر منحصر ہونا چاہیے یاجوابی ردعمل میں گاؤں کے ساتھ اس کے نزدیکی علاقوں کی بارش کے عام سالوں کا انعکاس ہوناچاہیے۔عارضی غربت کی صورت میں موجودہ سال کے حالات کی تفتیش کرنی چاہیے۔

عملی جغرافیہ (Thematic)

موضوعی طورپر مطالعے میں خاندان یافرد کی اکائی کی سطح کے پہلوؤں جیسے سما جی، آبادیاتی خصوصیات ،مستقل اور صارف اثاثے ، آمدنی اور خرچ ، صحت ، تعلیم ، نقل وحمل اور توانائی کی خدمات تک رسا ئی او ر حیثیت ومرتبہ کے نشان زدنکات کو حاصل کرنے کے لیے بنیادی سہولیات کو غربت کے عوامل اور پیچیدگیوںمیں شامل کرنا چاہیے۔

آلات اور تکنیک  (Tools and Techniques)

علاقائی مطالعے کے لیے جانے سے پہلے آپ کوغریبی اور علاقے سے متعلقہ ادب کا عام طورپراورمنتخب گاؤں سے متعلق ادب کا خاص طورپر مطالعہ کرلیناچاہیے۔ غریبی کے تصوراتی پہلو جیسے اس کے معنی ، پیما ئش ،معیار،وجوہات وغیرہ کو معاشی ترقی ، سماجی تبدیلیو ں اور معاشی سروے کے متعلق مطبوعات کے ذریعہ سمجھاجا سکتا ہے۔ ضلع مردم شماری کتابچہ یا گاؤ ں کی سطح پر ابتد ائی مردم شماری کے خلا صہ سے آبادی کے بنیادی شماریات اور گاؤ ں کے مال گذاری آفیسران یاپٹو اری ، لیکھ پال ، کرنین وغیرہ سے زراعتی اور مویشی شماریات حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ گرام پنچایت کے دفتر سے گھرانوں/کنبوں کی فہر ست اور گائوں کی سطح پردیگر معلومات یکجاکی جاسکتی ہیں ۔ اس طرح تحصیل اوربلاک ہیڈ کوارٹر میں واقع متعلقہ شعبوں میں دیگر مناسب اعداد وشمار موجود ہیں ۔ گا ؤں کے وسائل اور معیشت کافر یم ورک تیار کرنے کے لیے ان تمام معلومات کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر سروے پوری آبادی پر مشتمل نہیں ہے تو نمونہ جاتی ڈیزائن کے ساتھ ریسرچ ڈیزائن تیار کرنے میں ان کی ضرورت ناگزیر ہے۔

نقشے (Maps)

گائوں اور اس کے نزدیکی علاقوں کے زمینی خدوخال ، پانی کی نکا س ،آبی ذخائر ،بستیوں ، نقل وحمل اور مواصلات دیگروضعی اشکال کاخاکہ 1:50,000 یا 1: 25, 000کے پیمانے پر بنے وضعی نقشوں سے اتاراجاسکتا ہے۔ اسی طرح نمائندہ کسر 1:4,000پیمانہ والے پٹواری نقشے اور گاؤں کے مال گذاری دستاویزات مال گذاری دفتر سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اگران نقشوں کوگھرانوں کی ملکیت کے اعتبار سے بنایاجائے تویہ زمینی تقسیم کی عدم مساوات کے مکانی ابعادبھی فراہم کرتے ہیں۔ 

مشاہدات (Observations) 

فیلڈسر وے کے بنیادی آلے کی شکل میں غربت کے منظرنا مے کی زیادہ ترتفصیل کا تصور باریک مشاہدہ کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ غربت سے دوچار لوگوں کے روزانہ کے معمولات، خوردنی اشیا کی مقدار اور کیفیت، ایندھن کی لکڑی اورپینے کے لیے پانی کے وسائل، لباس ومکان کی حالت، غذائیت کی کمی کی وجہ سے انسانی تکا لیف ،بھوک، بیماری وغیرہ کے مشاہدات :غریبی کی وجہ سے معاشی،سماجی وسیاسی محرومیوں اوردیگر معقول صفات کو مشاہدہ کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ مختلف نقطئہ نظرکی توثیق کرنے اور نتا ئج اخذکرنے کے لیے فوٹو گرافی ، خاکہ کشی اوربصری ریکا ر ڈنگ یاصرف نوٹ لکھنے کے ساتھ کیے گئے یہ مشاہدات غیر مقداری معلومات کے لیے قیمتی وسائل ہیں۔

پیمائش (Measurement)

بعض حالات میں اصلی پیمائش کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کی ضرورت اعداد وشمار کی عدم موجو دگی میں ہوتی ہے جیسے روزانہ صرف کی جانے والی خوردنی اشیا کی مقدار ، لمبائی اور وزن کے تعلق سے صحت کی حالت ، پینے کے لیے پانی کی کیفیت ، مختلف اشیائے خوردنی کی قیمت ، رہنے کے لیے دستیاب جگہ وغیرہ ۔ بعض مد وں کوصحیح طورپر مقدار میں بدلنے کے لیے پیمائش کے آسان طریقے کافی مفید ہوتے ہیں ۔

ذاتی انٹرویو (Personal lnterview)

غربت کے زیادہ ترپیمانے خاندانوں/گھرانوں کی مجمو عی حالات پر مبنی ہوتے ہیں ۔ اس لیے انٹرویو کے ذریعہ اعدادوشمار کایکجاکرنا  گھر انوں کی سطح پر ہوگا ۔ پھر بھی خاندان سے متعلق معلومات گھر کے مکھیایاگھر میں زیادہ جواب دہ اور جاننے والے ممبر سے لینی چاہیے ۔ خاندان کے سوالناموں کو بھر نے کے علاوہ گاؤں کے رہنما، خدمات انجام دینے والوں ، اداروں کے صدرو غیر ہ سے بھی اعداد و شمار اکٹھا کرنا ہوگاتا کہ متعلقہ اشاریات کی تحسیب کی جا سکے ۔ 

سر وے کا ڈیزائن (Survey Design)

درجے میں طلبا کی تعداد کے حساب سے مردم شماری کے طور پر سروے کیے جانے والے گاؤں کے سبھی خاندانوں کا سروے قابل انتظام ہوتو کل کا سروے کرنا چاہیے ورنہ معلومات حاصل کرنے کے لیے طبقہ کے لحاظ سے  نمونہ جاتی سروے مناسب رہے گا۔ خاندانوں کے طبقات، زمینی ملکیت کے درجات، سماجی درجات، بستیوں کو جال یا ہم مرکز ی دائروں میں بانٹ کر بنائے جاسکتے ہیں۔ طبقات بنانے کے لیے خاندانو ں کوفہرست بند کرنے کے ساتھ ساتھ معیاروں/ صفات اوربستی کا خاکہ دکھاتے ہوئے قیا سی نقشوں کو مندرجہ ذیل طورپر مکمل کیا جانا چاہیے ۔ 
جدول 5.1  نمونے کے لیے طبقات کی بنیادی صفات کے ساتھ خاندانوں کی فہرست

نمبر شمار والد کے نام کے ساتھ سماجی درجہ/زمرہ زمین کی ملکیت(ہیکٹر) گھر کا محل وقوع(جال/تبصرہ)
1
2
3
خاندان کے مکھیا کا نام
موہن لال ولد سوہن لال
ہوما جی ولد کالو جی
دھاکڑ:اوبی سی
بھیل:ایس سی:ایس ٹی
7.2
0.2
دائروں کے حوالے سے
A2
D4

4

مکانی طبقوں کے لیے قیا سی نقشہ/ خا کہ کھینچاجا سکتا ہے جیسا کہ شکل 5.3 میں دکھایا گیا ہے ۔ 

فہرست/ سوالنامہ (Schedule/Questionnaire)

انٹرویو ،مشاہدہ اورگھرانوں کی معلومات پر مبنی کئی مرتبہ کی پیمائش پہلے سے تیار کردہ سوالنامے میں منظم طورپردرج کرنا اور لکھنا چاہیے ۔ (برائے مہربانی ضمیمہ IAسے Hتک دیکھتے)

تصدیق اور تحسیب (Compilation and Computation)

فیلڈ میں سروے مکمل کرنے کے بعد مزید تحسیب وتجز یہ کے لیے یکجاکر دہ معلومات کو جمع کرنے ضرورت ہوتی ہے۔ اس کام کو اسپر یڈ شیٹ کے فارم میں زیادہ آسانی سے کیاجا سکتاہے ۔ اس کی مشق آپ نے کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ عملی کام میں پہلے ہی کر لی ہے۔ ان اعداد وشمار کا عمد ہ بند وبست کرنے کے لیے مندرج ذیل اقدام اپنا ئیے۔

ہر ایک سروے شدہ گھرانے کی پہچان کے لیے خصوصی کو ڈدیجیے۔

اسی طرح آبادی جدول میں شامل ہر فرد کی پہچان کے لیے ایک خصوصی کو ڈدیجیے تا کہ اسپریڈ شیٹ پر تر تیب دی جاسکے۔

3۔   اگر خاندان کی معلومات کی جمع بندی الگ الگ شیٹ پر کی جائے تو زیادہ آسانی ہوگی ۔

ہر کالم میں مند رج صفا ت کا ایک نام دیا جانا چاہیے ۔ 

مز ید تحسیبی عمل کے لیے ہر شیٹ میں معلو مات خاندانوں کو دیے گئے خصوصی کو ڈکے مطابق دی جانی چاہیے ۔

تصدیق اور استحکام کی جانچ (Verification and Consistency check)

اعدا د وشمار کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے ان کا اندراج کرنے کے بعدبعض اندراج کی بے تر تیب جانچ کرنی ضروری ہوتا ہے ۔ اس کی مزید جانچ عبوری کل، کمتروبیشتر مقدار اور متعلقہ متغیر ات کی روشنی میں کی جاتی ہے ۔ 

nmo


5
شکل 5.3 قوسی نقشہ نمونہ کے لیے جال کے ساتھ بستی کا قیاس/علامتی، نقشہ 

اشا ریا ت کی تحسیب (Computation of Indices)

غربت کی حالت کاتجزیہ کرنے سے قبل موجود مقداری پیمانہ کا استعمال کر کے اشاریات کی تحسیب اور تنا سب کی تحسیب ایک اہم کام ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ تجزیہ کے لیے گھرانے کی سطح پر مند رجہ ذیل اشاریا ت کے مجمو عوں کی تحسیب کی جا تی ہے ۔ 
کل اثاثہ ، کل آمدنی ، کل خرچ ، خوراکی صرف، تغذیاتی سطح وغیرہ کی بنیاد پرپیمائش کر دہ فلاح وبہبود کی حالت کو بتانے والے اشارے ۔ 
سماجی درجے کی ممبری اور دائمی میراث، خاندانی ساخت کی ضخامت ،خاندان کی قسم،پیشے کی قسم، تعلیمی سطح، زمینی ملکیت کی ضخامت اورسینچائی کی کیفیت،کاشت کی گئی فصلوںکی قسم،جنسی مساوات کی حالت وغیرہ جیسے زمانی غربت کے وجوہات کی تشریح کرنے والے اشارے۔
جنسی اعتبارسے تفریق کی حالت، بچوںاور جوانوں میں خواندگی اور تعلیم کی سطح ، روز گا ر کاتنوع، پیداواری اور صرفی اثاثے ، فصل پیداوار ، خرچ کا ڈھا نچہ اورتغذ یہ کی بنیاد پر غر بت کے نتا ئج سے متعلق اشارے ۔ 
ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ غر بت کے ساتھ دائراتی تعلق ہونے کی وجہ سے کئی وجوہاتی عوامل نتا ئج کے حقائق بھی ہیں ۔

بصر ی پیشکش (Visual Presentation)

جیساکہ آپ نے نقشہ نویسی کے ایک حصے کی حیثیت سے سیکھا کہ گاؤںمیں غربت کی اہم خصوصیات کی تقسیمی شکلوں کو دکھانے کے لیے اقتصادی جدول، ڈائیگرام اورگراف کا استعمال کیاجاسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے زمینی ملکیت کے زمروں یا ذات پر منحصردرجہ بندی کے ساتھ خاندان کے سماجی درجات پر مبنی جدول بنائے جاسکتے ہیں۔اسی طرح الگ الگ خاندانوں کے فلاح وبہبود کی حالت دکھانے کے لیے پیداواری اثاثوں یاکل خرچ کے، مرکب اشاریہ کا استعمال کیاجاسکتا ہے۔فلاح وبہبود میں تغیر کو خط افلاس کھینچ کر خاندانوں کو درجہ کے لحاظ سے  خط افلاس سے اوپر اورنیچے تقسیم کرکے بھی دکھایا جاسکتا ہے تاکہ سماج کے غربت زدہ طبقوں اوران کے سماجی پس منظر کو سمجھاجاسکے۔ عدم مساوات کو دکھانے والا ایک اہم خاکائی آلہ لارینز خمیدگی ہے۔ اس کا استعمال گاؤں کے خاندانوں کے اثاثہ،آمدنی اورخرچ دکھانے کے لیے کیاجاسکتا ہے۔

موضوعی نقشہ نگاری (Thematic Mapping)

عدم مساوات کے ایک ذریعہ کی حیثیت سے اورغربت کی اہم وجوہات کے طورپربعض سماجی طبقوں کاقدرتی وسائل پر قبضے کا تخمینہ لگانے کے لیے گاؤں کی مال گذاری حدود کے اندراوربستیوں میں زراعتی وغیرزراعتی زمینوں کی تقسیم کو کروکرومیٹک (Chrochromatic) نقشوں کے ذریعہ دکھایاجاسکتا ہے۔ان نقشوں کی مدد سے گھروں کے محل وقوع اورخدمات کی دستیابی کے نقطہ نظر سے عدم رسائی کا تصور کیاجاسکتا ہے۔

شماریاتی تجزیہ (Statistical Analysis)

خاندانی سطح کی علامات پر مبنی آسان بیانیہ شماریاتی طریقوں اورروابط کی پیمائشوں،تشریحی تعلقات اورمرکب اشاروں کا استعمال بامعنی نتائج حاصل کرنے کے لیے کیاجاسکتا ہے۔اس سلسلے میں آسان ریاضیاتی درمیانہ اوسط حالت بتاسکتا ہے جب کہ تغیرکا ضریب مختلف خاندانی طبقوںمیں سماجی ،معاشی فلاح وبہبود میں اضافی عدم مطابقت کی وسعت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس طرح آپ دو اشاریوں کے درمیان تعلق کی شدت کی پیمائش باہمی ربط کے ضریب کا استعمال کرکے کرسکتے ہیں اورغربت کے دوام کے ممکنہ وجوہات اوردیگر سماجی ،معاشی پہلوؤں پر اس کے پڑنے والے اثرات کی تشریح کرسکتے ہیں۔

رپورٹ لکھنا  (Report Writing)

جس طرح آپ نے اپنے استاد کی ہدایت کے مطابق مسئلے کی تفتیش میں منظم طریقہ اختیار کیاتھا اسی طرح آخر میں تمام تجزیہ کردہ مواد کا استعمال کرکے آپ اپنی رپورٹ جماعت میں یا انفرادی طورپر پیش کریں گے۔ ابھی تک ہم نے جن نکات کا تذکرہ کیاہے وہ سب بالترتیب آپ کی پیشکش کاحصہ ہوں گے اوراس کے ساتھ آپ کے ذریعہ اخذکردہ اہم نتائج اوراستنباط ہوں گے۔آپ اپنی پیشکش کو مناسب مثالوں،نقشوں،ڈائیگرام، گراف، تصویروں اورخاکوں کی مدد سے بہتر بناسکتے ہیں۔ اپنی پیشکش میں دیے گئے بیانوں کی توثیق میں جدول شکل میں حقائق اورماقبل کاموں کے حوالے دیں گے۔

خشک سالی کا علاقائی مطالعہ:کرناٹک کے بیلگام ضلع کا مطالعہ

(Field Study of Drought: A Study of Belgaum District)

ہندوستان کے بعض ضلعوں میں پانی کی بہتات ہے،اورکمی شاذونادر ہے، لیکن ملک کے کئی حصوں میں پانی کم ہے اورلوگوں کو کبھی یہ یقین نہیں ہوتاکہ اگلی بارش کب ہوگی۔خشک سالی اس وقت ہوتی ہے جب کئی مہینوں یا سالوں تک سطح زمین پر پانی اکٹھاہونے کے بالمقابل پانی کا اتلاف زیادہ ہوتا ہے۔ ریگستان کے کئی حصوںمیں بارش تقریباًبالکل نہیں ہوتی۔ خشک سالی کئی لوگوں کی زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔
خشک سالی اورسیلاب دوایسے متضاد عوامل ہیں جن کا سامنا ہندوستانی کسانوں کو کرنا پڑتا ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بھی خصوصی تعریف کرنا مشکل ہے۔ پھر بھی زراعتی خشک سالی کی تعریف ’’لمبے عرصے تک نمی کی سخت کمی ‘‘کے طورپر کی جاسکتی ہے۔
ایک عام آدمی کی سمجھ سے خشک سالی آب وہوائی خشک کی ایسی حالت ہے جو اتنی سخت ہوتی ہے کہ مٹی کی نمی اورپودے،جانور اورانسانی زندگی کی بقاکے لیے ضروری پانی کی کمتر سطح کو مزید کم کردیتی ہے (شکل 5.4 اور5.5)۔ عام طورپر اس کے ساتھ گرم اورخشک ہوائیں ہوتی ہیں اوراس کے بعد نقصان دہ سیلاب آسکتا ہے۔

kisa

6

شکل 5.4: خشک سالی سے متاثر علاقہ       شکل 5.5: مٹی کی نمی کا اتلاف

خشک سالی کو انسانی تباہی کے اہم وجوہات میں سے ایک ماناجاتا ہے۔گرچہ عام طورپر خشک سالی کا تعلق نیم خشک اورریگستانی حالات سے ہوتا ہے پھر بھی یہ ان علاقوں میں بھی ہوسکتا ہے جہاں عموماًبارش اورنمی کی سطح مناسب رہتی ہے۔ وسیع معنوں میں زراعت،جانور،صنعت یاانسانی آبادی کی عام ضروریات میں پانی کی کسی بھی کمی کو خشک سالی کہاجاسکتا ہے۔اس کی وجوہات میں سپلائی کی کمی،پانی کی آلودگی،غیرمناسب ذخیرہ کاری،نقل وحمل کی سہولیات یاغیرمعمولی مطالبہ وغیرہ ہوسکتے ہیں۔
خشک سالی کے اثرات اس کی شدت، مدت اورمتاثرہ علاقے کی وسعت پر منحصر ہوتے ہیں۔یہ اثرات سماجی اورمعاشی ترقی کی سطح پر بھی منحصر ہوتے ہیں۔ جو سماج زیادہ ترقی یافتہ ہے اورمعاشی طورپر متنوع ہے وہ خشک سالی کے ساتھ بہتر طورپر موافقت کرلیتے ہیں اورجلد ہی نجات پالیتے ہیں۔غریب علاقے خاص طورپرفصلوں پر یا چراگاہی معیشت پر منحصرعلاقے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
خشک سالی کے سب سے خراب اثرات میں پانی کی سطح میں ڈرامائی کمی اورخوراک کانقصان ہیں۔فصل خراب ہونے سے انسانی تکالیف(بھوک اورغذائیت کی کمی)اورمعاشی مشکلات کافوری ردعمل شروع ہوجاتا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں یہ حالات کثیرتعداد میں بھوک مری اورکسانوں کی خودکشی کا باعث ہوتے ہیں۔

مقاصد (Objective)

ذہن میں مندرجہ ذیل مقاصد کو رکھتے ہوئے خشک سالی کی  شدت کا اندازہ کرنے کے لیے فیلڈسروے کیاجاسکتا ہے:
(1) ایسے علاقوں کی پہچان اوراندراج کرناجہاں خشک سالی باربار ہوتی ہے۔
(2) قدرتی آفات کی شکل میں خشک سالی کا ابتدائی طورپر پہلاتجربہ کرنا۔
(3) خشک سالی سے متاثرہ علاقے کے لوگوں کو خشک سالی سے نمٹنے کے لیے تیاررہنے کے طریقوں کامشورہ دینا۔

احاطگی (Coverage)

مکانی،زمانی اورموضوعی احاطگی سے متعلق پہلوؤں کو سمجھنا۔

مکانی (Spatial)

اگر آپ کے ضلع میں یا اس کے آس پاس خشک سالی ہوتی ہو تو مذکورہ بالا مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا فیلڈ سروے کیاجاسکتا ہے۔

زمانی (Temporal)

اگرمسئلہ باربارکی خشک سالی سے متعلق ہے تومتاثرہ علاقے اوراس کے آس پاس کے علاقوں کی عام سالانہ بارش کے حوالے سے جوابوں کی جھلک اوسط حالات پر مبنی مطالعہ میں نظرآنی چاہیے۔ اس کے علاوہ خشک سالی کے دوران زراعتی پیداوار کے اعدادوشمار کا موازنہ غیرخشک سالی پیداوار سے کیاجانا چاہیے۔

موضوعی (Thematic)

موضوعی نقطۂ نظر سے خشک سالی کی شدت،عوامل اوراثرات کو سمجھنے کے لیے زراعتی پیداوار،فصل کے اعتبار سے زمین کا استعمال،  تخمینہ،بارش کے تغیراورنباتات کی حالت کا اندازہ کرنا چاہیے۔

آلات اورتکنیک (Tools and Techniques)

ثانوی معلومات (Secondary Information)

خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے لیے اس دوران بارش،فصل پیداوار اورآبادی سے متعلق نقشے اوراعدادوشمارمندرجہ ذیل سرکاری یانیم سرکاری دفاتر سے حاصل کرناچاہیے۔
(i) ہندوستانی یومیہ موسمی رپورٹ،شعبہ موسمیات،ہند(IMD)،زراعتی موسمیات،ڈویژن،پونے
(ii) فصلی موسم کا کیلنڈر،آئی۔ایم۔ڈی۔زراعتی موسمیات ڈویژن،پونے
(iii) حکومت کرناٹک،بیلگام ضلع گزیٹیئر،بنگلور،1987
(iv) مردم شماری کتابچہ،مردم شماری ہند،نئی دہلی
(v) ضلع کتابچہ/گاؤں ڈائریکٹری،حکومت کرناٹک
(vi) شماریاتی خلاصے،معاشی وشماریاتی بیورو،حکومت کرناٹک ،بنگلور

نقشے (Maps)

خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے1:50,000اوربڑے پیمانے کے وضعی نقشوں کے دائمی اورغیردائمی آبی اجسام،بستیوں،زمینی استعمال اوردیگر ضلعی وثقافتی اشکال کی پہچان آسانی سے کی جاسکتی ہے،اس کے علاوہ پٹواری نقشے زمینی استعمال کے بارے میں اعدادوشمار حاصل کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔

مشاہدہ (Observation)

مشاہدے کا مطلب ہے چاروں طرف نظرڈالنا،لوگوں سے گفتگوکرنا اورپانی کی کمی،فصل کی ناکامی،چارے کی کمی،بھوک سے اموات،کسانوں کی خودکشی(اگر کسی نے کی ہے)کے بارے میں مشاہد معلومات کو قلم بند کرنا۔
(a) نشان زد اشیا اوراعمال:منتخب گاؤں کی فصلوں کے تحت زمینی استعمال کے طرز میں تبدیلیوں، ندیوں،نالوں، تالابوں، کنوؤں،سینچائی کی سہولتوں (اگر کوئی ہے) کاتفصیلی مطالعہ خشک سالی کی حالت پر روشنی ڈالنے کے لیے کیاجاناچاہیے۔
(b) تصاویر اورخاکے: اگر فیلڈ سروے کے دوران خشک زمین، لوگ اورمویشیوں کی کھینچی گئی تصاویر اورخاکے مطالعہ میں کیفیت سے متعلق اشارے فراہم کرتے ہیں۔

پیمائش (Measurement)

پیمائش کی جانے والی اشیا (Objects (to be measured))

اس قسم کے سروے میں گاؤں کو ایک اکائی کی حیثیت سے منتخب کیاجاتا ہے۔ گاؤں کے پٹواری سے زمینی ملکیت کا نقشہ حاصل کیاجاتا ہے۔یہ نقشہ کھیتوں کا خسرہ نمبر اورحد بندی دکھاتا ہے۔ خاکائی نقشے کی کچھ کاپیاں تیار کی جاتی ہیں اوران میں معلومات کو بھرا جاتا ہے۔ان میں کنوؤں،تالابوں اورندیوں میں پانی کی گہرائی،بڑی ندیوں میں دائمی پانی کی حد،بوئے گئے کھیتوں کی کل تعداد،بیجوں کا نقصان،فصل کٹائی،پینے کے لیے پانی کی سہولیات کی فراہمی،سرکاری راحت کے طریقے وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

انٹرویولینا (Interviewing)

سوالنامے کے طریقہ کے تحت پہلے سے تیار شدہ سوالات کو انٹرویو کیے جانے والے افراد سے پوچھنا شامل ہوتا ہے۔ اگر سوالنامہ ساخت شدہ ہے تو سروے کرنے والے کو پوچھ کر اس کا جواب لکھ لینا چاہیے۔سوال خشک سالی اورکسانوں کی معاشی حالت سے متعلق ہونا چاہیے جیسے بارش کی مقدار،بارش کے دن،بوائی،سینچائی،فصلوںکی نوعیت،مویشی اورچارہ،گھریلوپانی کی سپلائی،صحت کی دیکھ بھال،دیہی قرض،روزگار،سرکاری پروگرام برائے خاتمہ غریبی وغیرہ۔جواب دہندہ کے احساس کی شدت کو پانچ نکات (بہت اچھا،اچھا،تشفی بخش،خراب اوربہت خراب پر درج کیاجاسکتا ہے)

جدول بنانا (Tabulation)

آسان عمل اورتشریح کے لیے ابتدائی وثانوی ذرائع سے حاصل کردہ اعدادوشمار کو منظم طورپر ترتیب دینا پڑتا ہے۔اعدادوشمار کو درجوںاورعنوانات کے تحت تحسیب کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کیاجاتا ہے جیسے کہ ٹیلی مارک کا طریقہ۔

رپورٹ پیش کرنا(Presentation of Report)

فیلڈ سروے کے دوران جمع کردہ معلومات کو آخر میں ایک تفصیلی رپورٹ کی شکل میں لکھاجاتا ہے جس میں خشک سالی کی وجوہات ،قدوقامت ،معیشت اورلوگوں کی زندگی پر اس کے اثرات کو پیش کیاجاتا ہے۔

مشق

نیچے دیے گئے چارمتبادل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے:

(i) فیلڈ سروے کی منصوبہ بندی میں مندرجہ ذیل میں سے کون ساطریقہ زیادہ معاون ہے؟
(a)   شخصی انٹرویو (b)   ثانوی معلومات
(c)   پیمائش (d)   تجربہ

(ii) فیلڈ سروے کے نتائج کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کون سا عمل کیاجاتا ہے؟

(a)   اعدادوشمار کا اندراج اورجدول بنانا (b)   رپورٹ لکھنا
(c)   اشاریات کی تحسیب کرنا (d)   مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں

(iii) فیلڈ سروے کے ابتدائی مرحلہ پر سب سے اہم کام کیا ہے؟

(a)   مقاصد کا خاکہ بنانا (b)   ثانوی معلومات یکجا کرنا
(c)   مکانی اورموضوعی احاطگی کی تعریف کرنا (d)   نمونہ ڈیزائن کرنا

(iv) فیلڈ سروے کے دوران کس سطح کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں؟

(a)   بڑی سطح کی معلومات (b)   وسطی سطح کی معلومات
(c)   چھوٹی سطح کی معلومات (d)   مذکورہ بالا سبھی سطحوں کی معلومات

مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب تقریباً 30 الفاظ میں دیجیے:

(i) فیلڈ سروے کیوں ضروری ہے؟

(ii) فیلڈ سروے کے دوران مستعمل آلات اورتکنیک کی فہرست بنائیے۔

(iii) فیلڈ سروے کرنے سے پہلے کس قسم کی احاطگی کی تعریف کرنا ضروری ہے؟

(iv) سروے ڈیزائن کو مختصراًبیان کیجیے۔

(iv) فیلڈ سروے کے لیے عمدہ ساخت سوال نامہ کیوں ضروری ہے؟

مندرجہ ذیل مسائل میں سے کسی ایک کے لیے فیلڈ سروے کا ڈیزائن بنائیے:

(a)  ماحولیاتی آلودگی

(b) مٹی کی پست کاری

(c)   سیلاب

(d) توانائی مسئلہ

(e) زمین کے استعمال کی تبدیلی کی پہچان