Skip to content
Jughrafiameinamlikam-II-006


 7

آپ جانتے ہیں کہ اعدادوشمار کے عمل میں اورخاکے،ڈائیگرام اورنقشوں کو بنانے میں کمپیوٹر ہماری صلاحیت کو بڑھادیتا ہے(زیر نظر کتاب کاباب4دیکھیے)۔علم کے وہ شعبے جو اعدادوشماری عمل کے اصول وقواعد بتاتے ہیں اورکمپیوٹر ہارڈویئر نیزسافٹ ویئر کے    تال میل کااستعمال کرکے نقشہ نویسی کے عمل کو بتاتے ہیں،انھیں بالترتیب اعدادوشمار پر مبنی انتظامی نظام (DBMS)اورکمپیوٹر کے ذریعہ نقشہ نگاری کہاجاتا ہے پھر بھی ایسے کمپیوٹر کے استعمال کا کردار صرف اعدادوشمار کی ترکیب اوران کی خاکائی پیش کش تک ہی محدود ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس طرح سے تیار کردہ اعدادوشمار یا نقشے اورڈائیگرام کا استعمال ایک فیصلہ کن معاون نظام کے ارتقا میں نہیں کیاجاسکتا ہے۔ دراصل بہت سارے سوالات کا سامنا ہم اپنی روزانہ کی زندگی میں کرتے ہیں اوران کا تشفی بخش حل ڈھونڈتے ہیں۔ یہ سوالات اس طرح کے ہوسکتے ہیں:کہاں کیاچیز ہے؟یہ وہیں پر کیوں ہے؟اگر اس کو نئی جگہ پر منتقل کردیا جائے توکیا ہوگا؟ اس طرح کی نئی تعیین سے کون مستفید ہوگا؟ اگر یہ نئی تعیین ہوتی ہے توکن لوگوں کا استفادہ ختم ہوجائے گا۔ان کو اور کئی دیگر سوالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں مختلف ذرائع سے ضروری اعدادوشمار حاصل کرنا ہوگا اورانھیں ایک ایسے کمپیوٹر کا استعمال کرکے ایک دوسرے سے جوڑنا ہوگا جو جغرافیائی عمل کے آلات سے لیس ہو۔اس میں مکانی معلوماتی نظام کا تصور پوشیدہ ہے۔موجودہ باب میں ہم مکانی معلوماتی ٹیکنالوجی کے بنیادی اصولوں اورمکانی معلوماتی نظام تک اس کی وسعت جسے عام طورپر جغرافیائی معلوماتی نظام کہاجاتا ہے کا تذکرہ کریں گے۔

مکانی معلوماتی ٹیکنالوجی کیا ہے؟ (What is Spatial Information Technology?)

لفظ مکانی،مکان سے ماخوذ ہے۔یہ ان خصوصیات اورمظاہر کو بتاتا ہے جو جغرافیائی طورپر ایک قابل تعریف جگہ پر منقسم ہیں،اس طرح ان کے ابعاد طبعی طورپر قابل پیمائش ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ زیادہ تر اعدادوشمار جن کا استعمال آج کیاجاتا ہے وہ مکانی اجزا (محل وقوع) ہوتے ہیں،جیسے میونسپلٹی کا پتہ یا کاشت کے لیے زمین کی حدبندی وغیرہ۔ اس طرح مکانی معلوماتی ٹیکنالوجی کا تعلق مکانی معلومات کو یکجاکرنے،ذخیرہ کرنے،دوبارہ حصول،نمائش کرنے،سلجھانے،انتظام کرنے اورتجزیہ کرنے میں ٹیکنالوجیکل مادخل کے استعمال سے ہے۔ یہ ریموٹ سنسنگ،جی پی ایس(عالمی محل وقوع کا نظام)،جی آئی ایس(جغرافیائی معلوماتی نظام)ڈجیٹل کارٹوگرافی(ہندسی نقشہ نویسی)اوراعدادوشمار پر مبنی انتظامی نظاموں کا امتزاج ہے۔

جی آئی ایس(جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم)کیا ہے؟ (What is GIS (Geographical Information System)?)

1970کی دھائی کے وسط سے دستیاب اعلا تحسیبی نظام،مکانی اورصفاتی اعدادوشمارکا نظم ونسق اوران کی ترکیب کے لیے جغرافیائی حوالہ جاتی معلومات کا عمل انفرادی فائلوں میں خصوصی معلومات کا محل وقوع متعین کرنا اورتحسیب کو عمل میں لانے،تجزیہ کرنے اورفیصلہ معاون نظام کو فروغ دینے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ایسے سبھی اعمال کو انجام دینے پر قادر نظام کو جغرافیائی معلوماتی نظام(GIS)کہاجاتا ہے۔ا س کی تعریف مکانی نقطۂ نظرسے زمین سے متعلق اعدادوشمار حاصل کرنے،ذخیرہ کرنے،جانچنے، سلجھانے، تجزیہ کرنے اورنمائش کرنے کے نظام کی حیثیت سے کی جاتی ہے۔عام طورپر اس میں مکان کے حوالے سے کمپیوٹر ڈاٹا بیس اورمناسب سافٹ ویئر کا استعمال شامل سمجھاجاتا ہے۔یہ کمپیوٹر معاون نقشہ نگاری اعدادوشمار پر مبنی انتظامی نظام کا آمیزہ ہے جو مکانی اورمتعلقہ سائنس جیسے کمپیوٹرسائنس،شماریات،نقشہ نویسی،ریموٹ سنسنگ،ڈاٹابیس ٹیکنالوجی،جغرافیہ ،علم ارضیات،علم آب،زراعت،وسائل کاانتظام،ماحولیاتی سائنس اورسرکاری نظم ونسق دونوں سے نظریاتی اورطریقہ اعمال کی قوت حاصل کرنا ہے۔

جغرافیائی معلومات کی شکلیں (Forms of Geographical Information)

جیساکہ باب 4 میں تذکرہ کیاگیا ہے کہ جغرافیائی معلومات کی نمائندگی دوقسم کے اعدادوشمار کرتے ہیں۔ یہ مکانی اورغیرمکانی اعدادوشمار میں(باکس 6.1)۔مکانی اعدادوشمار کی خصوصیت ان کا محل وقوع،خطہ اورعلاقائی شکل اوربناوٹ ہے۔

جدول 6.1: مکانی اورغیرمکانی اعدادوشمار


1981
میں صوبوں کی خواندہ آبادی
سائیکل کی دکان کا اسٹاک رجسٹر
%عورتیں %مرد صوبے تفصیل مقدار پرزوں کا نمبر
65.7
34.8
32.3
33.7
75.3
58.8
54.4
47.2
کیرلہ
مہاراشٹرا
گجرات
پنجاب
پہیے کی تیلیاں 
بال بیئرنگ
پہیے کا کارم
ٹائر

54
68
25
108
101435
108943
105956
123545
8
جغرافیائی اعدادوشمار کی بنیاد: اعدادوشمار کی بنیاد میں صفات اوران کی قیمت یا درجہ ہوتے ہیں۔اس جدول میں دائیں طرف غیرجغرافیائی اعدادوشمار سائیکل کے پرزے ہیں جو کہیں بھی واقع ہوسکتے ہیں۔بائیں طرف درج کیے گئے اعدادوشمار مکانی ہیں کیونکہ ان کی ایک صفت مختلف صوبوں کے نام کا نقشے پر ایک متعین محل وقوع ہے۔ان اعدادوشمار کو جغرافیائی معلوماتی نظام میں استعمال کرسکتے ہیں۔

raqb

9

شکل6.1 نقطہ ،خط اوررقبے کی خصوصیات

اعدادوشمار کی ان صورتوں کو عام طورپر تسلیم شدہ اورمناسب طورپر تعریف شدہ عددی نظام میں جیومیٹری کی حیثیت سے مندرج اورکوڈ کیاجانا چاہیے تاکہ انھیں جغرافیائی معلوماتی نظام کے اندرونی ڈاٹابیس ساخت میں جمع کیاجاسکے۔دوسری طرف جو اعدادوشمار مکانی اعدادوشمار کو بیان کرتے ہیں انھیں غیر مکانی یا صفاتی اعدادوشمار کہاجاتا ہے۔مکانی اعدادوشمار مکانی یاجغرافیائی معلوماتی نظام میں سب سے اہم شرائط ہیں۔جی آئی ایس کے قلب میں انھیں کئی طریقوں سے بنایاجاسکتا ہے جو یہ ہیں۔
اعدادوشمار کو ڈاٹاسپلائر سے ہندسی شکل میں حاصل کرنا۔
 موجودہ مماثل اعدادوشمار کو ہندسی شکل دینا۔
جغرافیائی ہستیوں کا خودسے سروے کرنا۔
پھر بھی جی آئی ایس کے لیے جغرافیائی اعدادوشمار کے ذرائع کا انتخاب زیادہ تر مندرجہ ذیل باتوں پر منحصرہوتا ہے۔
اپنے آپ میں استعمال کرنے کا علاقہ

دستیاب وسائل

اعدادوشمار کی ساخت کی قسم یعنی سمتی(vector)/تصویری(rastor)۔

زیادہ تر استعمال کنندگان کے لیے مکانی اعدادوشمار کا عام ذریعہ سخت کاپی (کاغذ)یا نرم کاپی(ہندسی شکل)میں وضعی یاموضوعی نقشے ہیں۔ان تمام نقشوں کی خصوصیات یہ ہیں۔
ایک مقررہ پیمانہ جو نقشہ اوراس کی نمائندہ سطح زمین کے درمیان تعلق پیش کرتا ہے۔
علامات اوررنگوں کا استعمال جو نقشے پر دکھائی گئی اکائیوں کی صفات کی تعریف کرتا ہے ۔
ایک تسلیم شدہ مربوطنظام جو سطح زمین پر اکائیوں کے محل وقوع کوظاہر کرتا ہے۔

دستی طریقوں پر جغرافیائی معلوماتی نظام کے فوائد (Advantages of GIS over Manual Methods)

جغرافیائی معلومات کی ترسیل کا خاکائی ذریعہ اورجیومیٹری ربط رکھنے کے باوجود نقشوں میں مندرجہ ذیل کمیاں ہوتی ہیں۔

(i) نقشہ جاتی معلومات ایک خاص ڈھنگ سے بنائی اورپیش کی جاتی ہیں۔

(ii) ایک نقشہ پہلے سے متعین ایک یاکئی موضوعات کو دکھاتا ہے۔
(iii) نقشے پر دکھائی گئی معلومات میں تبدیلی کرنے پر ایک نیا نقشہ بنانا پڑتا ہے۔
اس کے برعکس جغرافیائی معلوماتی نظام میں اعدادوشمارکا ذخیرہ کرنے اورپیشکش کے الگ الگ ہونے کے اندرونی فوائد ہیں۔ یہ اعدادوشمار کو نئے طریقوں سے دیکھنے اورپیش کرنے کا متبادل بھی فراہم کرتا ہے۔جغرافیائی معلوماتی نظام کے درج ذیل فوائد قابل ذکر ہیں۔
استعمال کنندگان دکھائے گئے مکانی خصوصیات کے بارے میں تفتیش کرسکتے ہیں اورمتعلقہ صفاتی معلومات کو تجزیہ کرنے کے لیے دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔
صفاتی اعدادوشمار کی جانچ یا تجزیہ کرکے نقشوں کو کھینچاجاسکتا ہے۔
مکانی اعمال(کثیر الاضلاع،انطباقی تصویر،عریض قطعہ، تکمیلی ڈاٹابیس پر استعمال کرکے معلومات کے نئے مجموعے بنائے جاسکتے ہیں۔
صفاتی اعدادوشمار کے مختلف مدوں کو مشترکہ وقوعاتی کوڈ کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔

جغرافیائی معلوماتی نظام کے اجزا (Components of GIS)

جغرافیائی معلوماتی نظام کے اہم اجزا میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:
(a) ہارڈویئر (b)    سافٹ ویئر
(c) اعدادوشمار (d)     طریقہ عمل
جغرافیائی معلوماتی نظام کے اجزا ئے ترکیبی کو شکل 6.2 میں دکھایاگیا ہے۔

ہارڈویئر (Hardware)

جیساکہ باب4 میں ذکر کیا گیا جغرافیائی معلوماتی نظام کے تین اہم اجزائے ترکیبی ہیں۔
ہارڈویئر جس میں عمل کرنے،ذخیرہ کرنے،نمائش،مادخل اورماحصل کے ذیلی نظام ہوتے ہیں۔
اعدادوشمار کے اندراج،ادارت،مرمت،تجزیہ،تبدیلی،اعدادوشمار کی نمائش اورماحصل کے لیے سافٹ ویئر ماڈیول۔
اعدادوشمار کو منظم کرنے کے لیے ڈاٹابیس کا انتظامی نظام۔

سافٹ ویئر (Software)

مندرجہ ذیل  عملی ماڈیول کے ساتھ ایک قابل استعمال سافٹ ویئر جغرافیائی معلوماتی نظام کے لیے اہم شرط ہے:
اعدادوشمار کے اندراج،ادارت اورنگہداشت سے متعلق سافٹ ویئر
تجزیہ/تبدیلی سے متعلق سافٹ ویئر
اعدادوشمار کی نمائش اورماحصل سے متعلق سافٹ ویئر

اعدادوشمار (Data)

مکانی اعدادوشمار اورمتعلقہ جدولی اعدادوشمار جغرافیائی معلوماتی نظام کے ریڑھ کی ہڈیاں ہیں۔موجودہ اعدادوشمار کو کسی سپلائر سے حاصل کیاجاسکتا ہے یا استعمال کنندہ کے ذریعہ نئے اعدادوشمار کی تخلیق/تحصیل وہیں پر کی جاسکتی ہے۔جغرافیائی معلوماتی نظام کے لیے ہندسی نقشہ مادخل اعدادوشمار کے لیے بنیاد بن جاتا ہے۔ نقشے کی اشیا سے متعلق جدولی اعدادوشمار کو بھی ہندسی اعدادوشمار کے ساتھ منسلک کیاجاسکتا ہے۔ایک جغرافیائی معلوماتی نظام مکانی اعدادوشمار کو دیگر اعدادوشمار کے ذرائع کے ساتھ جوڑتا ہے یہاں تک کہ ڈاٹا بیس انتظامی نظام (DBMS)کااستعمال کرسکتاہے۔

لوگ (People)

جغرافیائی معلوماتی نظام کے استعمال ،کنندگان کا ایک دائرہ ہارڈویئر اورسافٹ ویئر انجینئرسے لے کر وسائل اورماحولیاتی سائنس داں، پالیسی بنانے والوں، نگرانی رکھنے والی اورعمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں تک کافی وسیع ہے۔ لوگوں کے یہ قطعاتی طبقات جغرافیائی معلوماتی نظام کا استعمال ،فیصلے میں معاون نظام کو فروغ دینے اوروقت کے اصل مسائل کو حل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔
طریقۂ عمل :
طریقۂ عمل میں اعداد و شمار کو کس طرح پہلی حالت میں لایا جائے تاکہ وہ نظام میں مادخل (INPUT) ہو ۔ذخیرہ ہو، تجزئے کے بعد بالآخر ماحصل (OUTPUT) کی شکل پیش کرنا شامل ہے۔

                                         log

10

شکل 6.3 جغرافیائی معلوماتی نظام کے بنیادی اجزائے ترکیبی

مکانی اعدادوشمارکی شکل (Spatial Data Formats)

مکانی اعدادوشمار کی نمائندگی تصویری اورسمتی/اعدادوشمار کی شکل میں کی جاتی ہے۔

تصویری اعدادوشمارکی شکل (Raster Data Format)

تصویری اعدادوشمار کو مربع جال کی طرز پر خاکائی شکلوں کوپیش کرتے ہیں جب کہ سمتی اعدادوشمار اشیا کو خصوصی نکات کے درمیان کھینچے گئے خطوط کے مجموعہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ کاغذ کے ایک پرزے پر ترچھی کھینچی گئی ایک خط کے بارے میں غورکیجیے ایک تصویری فائل اس شبیہہ کی نمائندگی کاغذکوگراف پیپر کے مشابہ چھوٹی مستطیلوں کے سانچے جنھیں سیل کہاجاتا ہے کی صورت میں کرے گی۔ ہر سیل کو ڈاٹافائل میں ایک جگہ دی جاتی ہے اوراس جگہ کی صفت کی بنیادپر ایک قیمت دی جاتی ہے۔اس کے صف اورکالم عددکسی بھی انفرادی پکسل کی پہچان کرسکتے ہیں (شکل6.3) 
سیلوں کی قامت اوران کی تعداد کے درمیان تعلق کوتصویرتحلیل کی حیثیت سے بیان کیا جاتا ہے۔ تصویری شکل میں اعداد وشمار پر جال کے اثر کی تشریح شکل 6.4 میں کی گئی ہے۔

jaal
11

شکل6.3 جال کے لیے جنسی ساخت

                         pix

12
شکل 6.4: تصویری (Raster )کی شکلمیں جال کی قامت کا اعدادوشمار پر اثر

تصویری (Raster)فائل فارمیٹ کا زیادہ تر استعمال مندرجہ ذیل کاموں میں کیاجاتا ہے:

ہوائی فوٹوگراف،سیارچہ شبیہوں،اسکین شدہ کاغذی نقشوں کی ہندسی نمائندگی اورزیادہ تفصیلی شبیہوں والے دیگر استعمال کے لیے۔
جب لاگت کو کم کرنا ضروری ہو۔
جب نقشے میں انفرادی نقشہ نگاری صفات کے تجزیہ کی ضرورت نہ ہو۔
جب’’بیک ڈراپ‘‘نقشوں کی ضرورت ہو۔

سمتی اعدادوشمار کی شکل (Vector Data Format)

اسی ترچھی خط کی سمتی نمائندگی اس خط کے نقطہ آغاز اورنقطہ انتہا کے محددوں کا اندراج کرکے خط کی حالت کو درج کیاجاسکتا ہے۔ہر نقطے کی تعبیردویاتین عددوں سے کی جاسکتی ہے(جس کا انحصار اس پر ہوگا کہ خط دوبعدی ہے یا سہ بعدی جسے اکثرy،xاورx،y،z محدودوں کے ذریعہ بتایاجاتا ہے) (شکل 6.5)۔پہلی محددxنقطے اورکاغذ کے بائیں طرف کے درمیان کی دوری ہے،y نقطہ اورکاغذ کی نچلی حد کے درمیان دوری اورzکاغذ کے اوپر یانیچے سے نقطے کی رفعت یا اونچائی ہے۔ پیمائش شدہ نقطوں کو ملانے سے سمت کی تشکیل ہوتی ہے۔
                   xy

13

شکل6.5:سمتی اعدادوشمار ماڈل محددجوڑوں کے چاروں طرف بنی ہے۔

ایک سمتی(Vector)اعدادوشمار ماڈل اپنے اصل(زمینی)محددوں کے ذریعہ ذخیرہ کردہ نقطہ کا استعمال کرتا ہے۔یہاں خطوط اوررقبوں کی تشکیل ترتیب وار نقطوں کے سلسلوں سے ترتیب کے مطابق ہوتی ہے۔نقاط یا خطوط سے کثیر الاضلاع بنائے جاسکتے ہیں۔سمتی مقامی وضع شناسی کے بارے میں معلومات کا ذخیرہ کرسکتے ہیں۔سمتی اعدادوشمار کے مادخل کے لیے دستی طورپر ہندسی عمل کرنا بہترین طریقہ ہے۔
سمتی فائلوں کازیادہ تر استعمال مندرجہ ذیل کے لیے اکثر کیاجاتا ہے۔
زیادہ صحیح استعمال کے لیے۔
جب فائلوں کی قامت اہم ہو۔
جب نقشے کی ہر ایک خصوصیت کا تجزیہ ضروری ہو۔
جب بیانیہ معلومات کا ذخیرہ لازمی ہو۔
تصویروں اورسمتی اعدادوشمار فارمیٹ کے فوائد اورخامیوں کا بیان باکس 6.2 میں کیاگیا ہے۔

                                       باکس6.2:تصویری اور سمتی اعداد و شمار کی شکل کا موازنہ
تصویری خاکہ سمتی خاکہ 
فوائد
اعداد و شمار کی آسان ساخت
آسان اور انطباق کی اہلیت
ریموٹ سنسنگ شبیہوں کے ساتھ
اونچے مکانی  تغیر کی نمائندگی کی اہلیت
ذاتی پروگرامنگ کے لیے آسان
کئی صفات کے لیے یکساں جال سیل

خامیاں

کمپیوٹر ذخیرہ اندوزی کا غیر ماہرانہ استعمال
احاطہ اور شکل میں غلطیاں 
نیٹورک تجزیہ پریشانی
اضلالی تبدیلی کی نا اہلیت
بڑے سیلوں کا استعمال کرتے وقت معلومات کا نقصان، نقشے کی صحت میں کمی(گرچہ باہمہ گر فعال)
فوائد
اعداد و شمار کی کم ہوتی ہوئی ساخت 
نیٹ ورک تجزیہ کے لیے اہلیت
اضلالی انتقال کی اہلیت
صحیح نقشے کا ماحصل

خامیاں

اعداد و شمار کی پیچیدہ ساخت 
انطباق عمل میں وقت
اونچے مکانی تغیر کی غیر ماہرانہ نمائندگی
ریمورٹ سنسنگ شبیہوں کے ساتھ غیر موزوں



14


hasti


شکل 6.6 مقامی ہستیوں کی تصویری(Raster)اورسمتی(Vector)اعدادوشمارکی شکل میں نمائندگی

جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس )سرگر میوں کی ترتیب (Sequence of GIS Activities)

جغرافیائی معلوماتی نظام سے متعلق کاموں میں مندرجہ ذیل ترتیب ہوتی ہے۔
مکانی اعدادوشمار کا مادخل
صفاتی اعدادوشمار کا اندراج
اعدادوشمار کی تصدیق اورادارت
مکانی اورصفاتی اعدادوشمار کا ربط
مکانی تجزیہ

مکانی اعدادوشمارمادخل (Spatial Data Input)

جیساکہ پہلے ذکر کیاگیا ہے کہ جغرافیائی معلوماتی نظام میں مکانی اعدادوشمار کی بنیاد کی تخلیق مختلف وسائل سے ہوسکتی ہے۔انھیں مندرجہ ذیل دوزمروں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔

(a) اعدادوشمار فراہم کنندگان سے  ڈجیٹل اعداد و شمار کا حصول

 (Acquiring Digital Data sets From a Data Supplies)

آج کل اعدادوشمار کی سپلائی میں ڈجیٹل اعدادوشمار تیار شکل میں موجود ہیں جو چھوٹے پیمانے کے نقشوں سے لے کر بڑے پیمانے کے پلان تک ہوتے ہیں۔کئی مقامی سرکاروں اورنجی کمپنیوں کے لیے ایسے اعدادوشمار لازمی ذرائع ہوتے ہیں اوراس جماعت کے استعمال کنندگان کو اعدادوشمار کے  ڈجیٹل بنانے اورخود یکجاکرنے کی تکالیف سے نجات دیتے ہیں ۔اگرچہ ایسے اعدادوشمار کے موجود ذرائع کو استعمال کرنا دلکش اوروقت کی بچت کرنے والا ہے پھر بھی جب اعدادوشمار کو مختلف ذرائع یا سپلائی کرنے والوں سے حاصل کرکے کسی ایک پروجیکٹ میں شامل کرنا ہو تو اعدادوشمار کی موافقت پر سنجیدگی سے غور کرلینا چاہیے۔پروجیکشن،پیمانہ،بنیادی سطح اورصفات کے بیان کے تعلق سے اصطلاحات میں فرق مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔
عملی سطح پر استعمال کرنے والے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اعدادوشمار ان کے استعمال کے مطابق ہیں،مندرجہ ذیل خصوصیات پر توجہ دیں۔
اعدادوشمار کا پیمانہ
مستعمل جغرافیائی–حوالہ جاتی نظام
اعدادوشمار یکجاکرنے میں مستعمل تکنیک اورنمونہ جاتی حکمت 
حاصل کردہ اعدادوشمارکی خوبی
اعدادوشمار کی درجہ بندی اوراستعمال کردہ داخلی اضافے کاطریقہ
انفرادی نقشہ اکائیوں کی قامت اورشکل
ریکارڈ کی لمبائی
اس بات کابھی ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ جہاں اعدادوشمار کا استعمال مختلف ماخذیاذرائع سے کیاجارہا ہے بطورخاص وہاں پرجہاں، مطالعے کا علاقہ انتظامی سرحدوں کو پار کرجاتا ہے وہاں مختلف جغرافیائی حوالہ جاتی نظام کے تعلق سے اعدادوشمار کی درجہ بندی اورنمونوں کی وجہ سے اعدادوشمارکے تکملہ میں دقت ہوتی ہے۔اس لیے استعمال کنندہ کو ان مسائل کے تئیں بیداررہنے کی ضرورت ہے جو خاص طورپربین صوبائی اوربین ضلعی اعدادوشمار کے مجموعوں کو جمع کرنے میں پیش آتے ہیں۔ایک بار جب مختلف سپلائی کرنے والوں سے حاصل اعدادوشمار کے درمیان موافقت قائم ہوجاتی ہے تو اگلا مرحلہ ایک منتقل کے ذریعہ سے اعدادوشمار کو جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس)میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔اس مقصد کے لیے DAT ٹیپ،سی ڈی روم اورفلاپی ڈسک کا استعمال تیزی سے عام ہوتاجارہا ہے۔اس مرحلے پر اصل ماخذ کی کوڈنگ اورساختی نظام سے جغرافیائی معلوماتی نظام میں استعمال کرنے کے لیے تبدیلی اہم ہے۔
(b)دستی مادخل کے ذریعہ ڈجیٹل اعدادوشمار کا سیٹ تیارکرنا

(Creating digital data sets by manual input)

جغرافیائی معلوماتی نظام میں اعدادوشمار دستی طورپر داخل کرنے کے چار مرحلے ہیں:

مکانی اعدادوشمار کااندراج
صفاتی اعدادوشمار کااندراج
مکانی اورصفاتی اعدادوشمار کی تصدیق اورادارت
جہاں ضروری ہو، مکانی اعدادوشمار کو صفاتی اعدادوشمار کے ساتھ مربوط کرنا
اعدادوشمار کی بنیاد سمتی وضع ہے یا جال سیل (تصویری )کی ساخت ہے۔جغرافیائی معلوماتی نظام میں اعدادوشمار کودرج کرنے کا عام طریقہ ہے

عدد کاری (Digitisation)

معائنہ/جائزہ لینا (Scanning)

ہستی ماڈل میں جغرافیائی اعدادوشمار، نقاط،خطوط اوریا کثیر الاضلاع(رقبہ)/پکسل کی صورت میں ہوتے ہیں جن کی تعریف محددوں کے سلسلے کا استعمال کرکے کی جاتی ہے۔ انھیں ہوائی فوٹو گراف کے جغرافیائی حوالہ جاتی نظام کے حوالے سے یا ان میں خطوطی جال کا انطباق کرکے حاصل کیاجاتا ہے۔ڈیزیٹائزر یا ا سکینر کے استعمال سے محددات کو لکھنے میں لگنے والے وقت اورمحنت میں کافی کمی آجاتی ہے۔ہم یہاں مختصراًتذکرہ کریں گے کہ ا  سکینر کا استعمال کرکے جغرافیائی معلوماتی نظام کے قلب میں مکانی اعدادوشمار کی تخلیق کیسے کی جاتی ہے۔

معائنہ کار (اسکینر) (Scanners)

معائنہ کار یا ا سکینر وہ آلات ہوتے ہیں جو یکساں اعدادوشمار کو ڈجیٹل جال پر مبنی شبیہوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ مکانی اعدادوشمار کے حصول میں ان کا استعمال خطی نقشے کو اونچے تحلیلی تصویری (Raster)شبیہوں میں بدلنے کے لیے کیاجاتا ہے جس کا راست استعمال کرکے یا مزید عمل کرکے سمتی وضع شناس کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔معائنہ کار(ا  سکینر)کی دو بنیادی قسمیں ہیں:
وہ ا سکینر جو اعدادوشمار کو قدم بہ قدم درج کرتے ہیں۔
وہ جو ایک ہی بار میں مکمل دستاویز کا معائنہ کرسکتے ہیں۔
پہلی قسم کے ا سکینر میں ایک متحرک بازوپر واقع روشن منبع (اکثر روشنی دینے والا ڈایوڈ یا ایک پائیدار روشن لیمپ)اورایک اونچی تحلیل(ریزولیوشن)کے ساتھ ڈجیٹل کیمرہ ہوتا ہے۔کیمرے میں عام طورپر ایک ترتیب میں خصوصی مدرک آلات ہوتے ہیں جن کو چارج شدہ جوڑے آلات (CCDs)کہاجاتا ہے۔یہ  سیمی کنڈکٹر آلات ہوتے ہیں جو اپنی سطح پر پڑنے والے روشنی کیعکسکو الیکٹرون کی تعداد میں منتقل کردیتے ہیں جنھیں بعد میں ڈجیٹل ویلوز کی شکل میں درج کیاجاتا ہے۔
نقشے پر کسی بھی ا  سکینر کی حرکت نقشے کی دوبعدی  ڈجیٹل شبیہہ بناتی ہے۔اسکین کیے جانے والے نقشے کو مسطح فرش یا گھومتے ہوئے ڈرم پر چڑھایاجاتا ہے۔مسطح فرش والے ا  سکینروں میں روشنی کے منبع کو دستاویز کی سطح پر ایک منظم طورپر اوپر نیچے گھمایاجاتا ہے۔ بڑے نقشوں کے لیے ایسے ا سکینروں کا استعمال کیاجاتا ہے جو ایک اسٹینڈپر رکھے ہوتے ہیں اورروشنی کا منبع نیزکیمرے کا نظم ایک جگہ پر مستقل کردیاجاتاہے۔ایک فیڈنگ میکانزم کے ذریعہ نقشے کو پیچھے سے گھمایاجاتا ہے۔جدید دستاویزا  سکینر عکس میں لیزرپرنٹر کے مشابہ ہوتے ہیں،کیونکہ اسکیننگ سطح روشنی کے حساس دھبوں کی تحلیل سے بنی ہوتی ہے جس کاراست تعلق سافٹ ویئر سے ہوتا ہے۔قابل حرکت روشنی منبع کے علاوہ کوئی متحرک پرزہ نہیں ہوتا۔تحلیل تعیین میکانکی بازوؤں کی بہ نسبت مدرک کی سطح کی جیومیٹری اوریادداشت کی مقدار کے ذریعہ ہوتا ہے۔
بہترین ممکنہ ا  سکینروں کے باوجود اسکین کی گئی شبیہہ مکمل نہیں ہوتی۔کیونکہ اس میں اصل نقشے کے تمام دھبے اورخرابیاں موجود ہوتی ہیں۔اس لیے اسے قابل استعمال بنانے کے لیے فاضل اعدادوشمار کو ہٹادینا چاہیے۔

صفاتی اعدادوشمار کا اندراج (Entering the Attribute Data)

صفاتی اعدادوشمار اس مکانی ہستی کی خصوصیات بیان کرتے ہیں جن کا استعمال جغرافیائی معلوماتی نظام میں کیاجاتا ہے لیکن وہ مکانی نہیں ہیں۔ مثال کے طورپرایک سڑک  سے متصل پکسل کے مجموعے کی شکل میں یا خط کی صورت میں گرفت میں لے کرایک خاص رنگ، علامت یا اعداد و شمار کے محل وقوع کے ذریعہ جغرافیائی معلوماتی نظام(جی آئی ایس) کے حصے میں ظاہر کیاجاسکتا ہے۔ سڑک کی قسم  بیان کرنے  والی معلومات کو نقشہ نگاری کی علامتوں میں شامل کیاجاسکتا ہے۔سڑک سے متعلق صفاتی قدریں جیسے سڑک کی چوڑائی،سطح کی قسم،رسل ورسائل کے لیے گاڑیوں کی تعداد اورآمدورفت کے خصوصی ضوابط کی ذخیرہ اندوزی بھی یا توتعلقاتی ڈاٹابیس کی حالت میں جغرافیائی معلوماتی نظام میں مکانی معلومات کی حیثیت سے یاا شیا پر منحصر ڈاٹا بیس کی حالت میں مکانی تفصیل کے ساتھ مادخل کی حیثیت سے الگ الگ کی جاسکتی ہے۔
مطبوعہ ریکارڈ،سرکاری مردم شماری،ابتدائی سروے یا اسپیریڈشیٹ ماخذ سے حاصل کردہ صفاتی اعدادوشمار جی آئی ایس ڈاٹا بیس میں یاتودستی طورپر یا معیاری منتقلی فارمیٹ کا استعمال کرکے مادخل کی حیثیت سے استعمال کیاجاسکتا ہے۔

اعدادوشمار کی تصدیق اورادارت (Data Verification and Editing)

اعدادوشمار کی  درستگی کو یقینی بنانے کے لیے غلطیوں کی پہچان کرنااوران کی تصحیح کرنے کے لیے جغرافیائی معلوماتی نظام میںحاصل کردہ اعدادوشمار کی تصدیق کرنی بھی ضروری ہوتی ہے۔ ڈجیٹل کاری کے دوران واقع غلطیوں میں اعدادوشمار کی بھول چوک اوراوپر /نیچے درج ہونا شامل ہوسکتا ہے۔مکانی اعدادوشمار میںغلطیوں کی جانچ کرنے کا بہترین طریقہ کمپیوٹر پلاٹ تیار کرنا یا اصل پیمانے کی طرح صاف وشفاف کاغذ پر اعدادوشمار کی طباعت ہے۔دونوں نقشوں کو روشن میزپر ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر منظم طورپر نقشے کے بائیں سے دائیں اوراوپرے سے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے ان کا موازنہ کیاجاسکتا ہے۔غائب اعدادوشمار اوروقوعی غلطیوں کو پرنٹ آؤٹ پر صاف طورسے نشان زد کردینا چاہیے۔مکانی اورصفاتی اعدادوشمار کے حصول کے دوران ہونے والی غلطیوں کی درجہ بندی مندرجہ ذیل طریقے سے کی جاسکتی ہے۔

مکانی اعدادوشمار نامکمل یا دوہرے ہوتے ہیں (Spatial data are incomplete or double)

مکانی اعدادوشمار میں ادھوراپن نقطوں،خطوط یاکثیرالاضلاع کورقبہ کے مادخل میں بھول چوک دستی طورپر اعدادوشمار کے اندراج میں ہوتی ہے جب کہ اسکین شدہ اعدادوشمار میں بھول چوک اکثرخطوط کے درمیان فاصلوں کی شکل ہوتی ہے جہاں تصویری سے سمتی تبدیلی کا عمل خط کے تمام حصوں کو جوڑنے میں ناکام رہتا ہے۔

غلط پیمانے پر مکانی اعدادوشمار (Spatial data at the wrong scale)

غلط پیمانے پر ڈجیٹل کاری عمل کی وجہ سے مندرج مکانی اعدادوشماربھی غلط پیمانے پر ہوتے ہیں۔اسکین کردہ اعدادوشمار میں مسائل اس وقت کھڑے ہوتے ہیں جب جغرافیائی حوالہ جاتی عمل کے دوران غلط قدروقیمت کا استعمال کیاجاتا ہے۔

مکانی اعدادوشمار کی بگڑی شکل (Spatial data are distorted)

مکانی اعدادوشمار کی شکل بگڑسکتی ہے اگر  ڈجیٹل کاری کے لیے استعمال شدہ بنیادی نقشے کا پیمانہ صحیح نہیں ہے۔ ہوائی فوٹوگراف میں خاص طورپر لینس کی گڑبڑی،خدوخال اورجھکاو کی جگہ بدلنے کی وجہ سے خرابی آجاتی ہے۔اس کے علاوہ اسکین اور ڈجیٹل کاری کے لیے استعمال کیے جانے والے کاغذی نقشوں اورفیلڈدستاویزوں میں بارش،دھوپ یا باربارمڑنے کی وجہ سے اتفاقی بگاڑہوسکتا ہے۔ اگر ڈاٹابیس کا محدد مادخل دستاویزیا شبیہ میں مستعمل محدد سے مختلف ہے تو ایسی صورت میں ایک محدد سے دوسرے میں تبدیلی ضروری ہے۔
ان غلطیوں کی اصلاح مختلف ادارتی اعمال اوراَپ ڈیٹنگ کے ذریعہ کرنے کی ضرورت ہے جس میں  معاونت زیادہ ترجغرافیائی معلوماتی نظام سے متعلق سافٹ ویئر سے براہ راست ملتی ہے۔ یہ طریقہ وقت  طلب اورتفاعلی ہے اوراعدادوشمار کی اندراج کی بہ نسبت زیادہ وقت لے سکتا ہے۔ اعدادوشمار کی ادارت عام طورپر نقشے میں غلط حصے کو کمپیوٹر کی اسکرین پر دیکھ کر اورسافٹ ویئر کے ذریعہ کی بورڈ،ماؤس کے ذریعہ منضبط کرسریاچھوٹے ڈجیٹل ٹبلیٹ کااستعمال کرکے صحیح کی جاتی ہے۔
سمتی اعدادوشماری بنیاد چھوٹی محل وقوع کی غلطیوں کی تصحیح مکانی ہستیوں کو اسکرین کرسرکے ذریعہ گھماکر  کی جا سکتی ہے۔ کچھ جغرافیائی معلوماتی نظام میں کمپیوٹر کمانڈ کا راست استعمال کرکے خاکائی ہستیوں کو ضرورت کے مطابق متحرک کرنے،گھمانے، مٹانے،داخل کرنے،پھیلانے یاتراشنے خراشنے کا کام کیاجاسکتا ہے۔ جہاں زائد محدد ایک خط کی تعریف کرتے ہیں،انھیں’’ویڈنگ الگورتھم‘‘کے ذریعہ ہٹایاجاسکتا ہے۔تصویری (Raster)اعدادوشمار میں صفاتی اقدار اورامکانی غلطیوں کو ناقص سیلوں کے مد میں تبدیلی کرکے صحیح کیاجانا چاہیے ۔ایک بارمکانی غلطیوں کے صحیح ہوجانے کے بعد  سمتی خط کی قصامبات(Topology) اور کثیر الاضلاع جال پیدا کیا جاسکتا ہے۔

اعدادوشمار کا تغیر (Data Conversion)

اعدادوشمار کو سلجھانے اورتجزیہ کے دوران تمام اعدادوشمار کے لیے یکساں فارمیٹ کا استعمال کرنا چاہیے جب ان کے لیے مختلف سطحوں کا استعمال کیا جائے تو وہ تمام سمتی یا تصویری فارمیٹ میں ہونے چاہئیں۔ زیادہ تر تبدیلی سمتی سے تصویری فارمیٹ میں ہوتی ہے کیونکہ تجزیہ کاسب سے بڑاحصہ تصویری حلقہ اثر میں کیاجاتا ہے۔سمتی اعدادوشمار کی تصویری اعدادوشمار میں تبدیلی ڈھانپنے والے جال کے ذریعہ استعمال کنندہ کے ذریعہ متعین سیل سائز کے ساتھ کی جاتی ہے۔
کبھی کبھی راسٹر فارمیٹ کے اعدادوشمار کوسمتی فارمیٹ میں بدلاجاتا ہے۔ یہ صورت خاص طورپر اس وقت پیش آتی ہے جب کوئی اعدادوشمار کم کرنا چاہتا ہے کیونکہ تصویری اعدادوشمار کے لیے سمتی اعدادوشمار کی بہ نسبت ذخیرہ کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔

جغرافیائی اعدادوشمار:رابطے اورجوڑاملانا (Geographic Data : Linkages and Matching)

جغرافیائی معلوماتی نظام میں مکانی اورصفاتی اعدادوشمار کے درمیان رابطہ قائم کرنا اہم ہوتا ہے۔ اسے احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔ صفاتی اعدادوشمار کا غیرمتعلقہ مکانی اعدادوشمار کے ساتھ ربط سے اعدادوشمار کے آخری تجزیہ میں ابتری پیداہوسکتی ہے۔ اسی طرح اعدادوشمار کے ایک سطح کا دوسری سطح سے جوڑملانا بھی اہم ہے۔

رابطے (Linkages)

ایک جغرافیائی معلوماتی نظام مثالی طورپر اعدادوشمار کے مختلف مجموعوں کو جوڑتا ہے۔ مان لیجیے کہ ہم کسی صوبے میں دس سال سے کم عمر کے بچوں کے درمیان تغذیاتی کمی کی و جہ سے شرح اموات کو جاننا چاہتے ہیں تو اگر ہمارے پاس ایک فائل میں ہم عمر جماعت کے بچوں کی تعداد ہے اوردوسری فائل میں تغذیاتی کمی سے شرح اموات ہے توہمیں سب سے پہلے دونوں اعدادوشمار کی فائلوں کو جوڑنا ہوگا۔ ایک بارجب یہ ربط قائم ہوجائے توہم مطلوبہ جواب حاصل کرنے کے لیے ایک عدد کو دوسرے سے تقسیم کرسکتے ہیں۔

درست جوڑ (Exact Matching)

درست جوڑ کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس ایک کمپیوٹر فائل میں کئی جغرافیائی اشکال(کئی شہر) موجودہیں اوران ہی اشکال کے مجموعوں سے متعلق دوسرے فائل میں اضافی معلومات ہیں۔ دونوں فائلوں کے لیے ایک مشترکہ کلید(جیسے شہروں کے نام)کا استعمال کرکے دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا عمل آسانی سے کیاجاسکتا ہے۔اس طرح یکساں نام والے شہروں کی ہر فائل میں سے ریکارڈ نکال لیاجاتا ہے اوردونوں کو جوڑ کرکسی دوسرے فائل میں جمع کرلیاجاتا ہے۔

مرتبہ وارجوڑ (Hierarchical Matching)

کچھ قسم کی معلومات کواگرچہ دوسری قسم کی معلومات کی بہ نسبت زیادہ تفصیلی طورپر لیکن کم بار جمع کیاجاتا ہے۔مثال کے طورپر بڑے علاقوں پر زمینی استعمال کے اعدادوشمارکو باربار یکجا کیاجاتا ہے۔دوسری طرف زمین کی تبدیلی صورت کے اعدادوشمار چھوٹے علاقوں پر کبھی کبھار کے وقفے پر یکجاکیے جاتے ہیں۔ اگر چھوٹے علاقوں کو بڑے علاقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہو تو اعدادوشمار کو اسی علاقے سے جوڑنے کے لیے مرتبہ وار جوڑ کا طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔چھوٹے علاقوں کے اعدادوشمار کو ایک ساتھ اس وقت جوڑیں جب جماعت بندعلاقہ بڑے علاقے کے برابر ہوجائے ۔

غیر واضح جوڑ (Fuzzy Matching)

کئی مواقع پر چھوٹے رقبوں کے حدود بڑے علاقوں سے میل نہیں کھاتے ۔یہاں مسئلہ اس وقت پیداہوتا ہے جب ماحولیاتی اعدادوشمار شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر فصلوں کے حدود جو عام طورپر کھیتوں کے مینڈھوں/کناروں سے طے ہوتے ہیں مٹی کے اقسام کی حدود سے نہیں ملتے۔ اگر ہم کسی خاص فصل کے لیے سب سے زیادہ زرخیزمٹی طے کرنا چاہتے ہیں توہمیں دومجموعوں کو ایک دوسرے پر منطبق کرکے ہرقسم کی مٹی کے لیے فصلوں کی پیداواریت کی تحسیب کرنی ہوگی۔یہ ایک نقشے کو دوسرے نقشے پر رکھنے کی طرح ہے جس سے مٹی اورپیداواریت کے تال میل کونکالاجاسکتا ہے۔
ایک جغرافیائی معلوماتی نظام میں یہ سارے اعمال ہوتے ہیں۔ تاہم مکانی معلومات کے مجموعوں کو اس وقت جوڑاجاتا ہے جب وہ ایک ہی جغرافیائی علاقے سے متعلق ہوں۔

مکانی تجزیہ (Spatial Analysis)

جغرافیائی معلوماتی نظام کی طاقت اس کی تجزیاتی صلاحیت میں مضمرہے۔ جوچیز جغرافیائی معلوماتی نظام کو دیگر معلوماتی نظام سے الگ کرتی ہے وہ اس کے مکانی تجزیہ کے اعمال ہیں۔تجزیاتی اعمال حقیقی دنیاسے متعلق سوالوں کا جواب دینے کے لیے ڈاٹابیس میں مکانی اورغیرمکانی صفات کا استعمال کرتے ہیں۔ جغرافیائی تجزیہ ماڈل کو فروغ دے کر اوراستعمال کرکے حقیقی دنیا کے اعمال کا مطالعہ کرنے کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے۔ایسے ماڈل جغرافیائی اعدادوشمار میں واقع رجحانات فراہم کرتے ہیں اوراس طرح نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ جغرافیائی تجزیہ کامقصد اعدادوشمار کو مفید معلومات میں بدل کرپالیسی بنانے والوں کی ضروریات کو پوراکرنا ہے۔مثال کے طورپرجغرافیائی معلوماتی نظام کا استعمال زمان ومکان سے متعلق مختلف مظاہر کے مستقبل کے رجحانات کی پیشین گوئی کرنے کے لیے مؤثرطورپر کیاجاسکتا ہے۔پھر بھی جغرافیائی معلوماتی نظام پر مبنی تجزیہ کرنے سے پہلے مسئلے کی پہچان کرنا اورتجزیہ کے مقصد کو طے کرلینا ضروری ہے۔اس میں نتیجہ تک پہنچنے کے لیے قدم بہ قدم یامرحلہ وار اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ جغرافیائی معلوماتی نظام کا استعمال کرنے میں مندرجہ ذیل مکانی تجزیہ کے اعمال کو لیاجاسکتا ہے:
(i) انطباقی تجزیہ (ii) بفرتجزیہ
(iii) نیٹ ورک تجزیہ (iv) ڈجیٹل ٹرین ماڈل
تاہم وقت اورجگہ کی کمی کی وجہ سے صرف انطباق اوربفرتجزیہ کے عمل کا تذکرہ یہاں پر کیاجائے گا۔

انطباقی تجزیہ کے اعمال (Overlay Analysis Operations)

جغرافیائی معلوماتی نظام کا مہر تصدیق انطباقی عمل ہے۔اس کا استعمال کرکے نقشوں کے کثیر سطحوں کی تکمیل ایک اہم تجزیاتی عمل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔دوسرے لفظوں میں جغرافیائی معلوماتی نظام اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ ایک ہی علاقے کے نقشوں کے دو یا زیادہ موضوعی سطحوں کو منطبق کرکے ایک نئے نقشے کی سطح حاصل کرلی جائے(شکل 6.7)۔جی آئی ایس کے انطباقی اعمال غربالی نقشے کی طرح ہیں یعنی موازنہ کرنے اورماحصل نقشے کو حاصل کرنے کے لیے ایک روشن میز پر نقشوں کا خاکہ اتارا جاتا ہے۔
نقشہ انطباق کے کئی استعمال ہیں۔اس کا استعمال وقت کے دومختلف زمانوں زمینی استعمال/زمینی احاطہ میں تبدیلی کا مطالعہ کرناورزمین تغیرکاتجزیہ کرنا ہے۔مثال کے طورپر (شکل 6.8 ) 1974اور2001 کے دوران شہری زمینی استعمال کی تصویر پیش کرتا ہے۔ جب دونوں نقشوں کو ایک دوسرے پر رکھاجاتا ہے توشہری زمینی استعمال میں تبدیلی کاپتہ چلتا ہے(شکل 6.9)اوردیے گئے زمانے میں شہری توسیع کی نقشہ کشی کی گئی (شکل 6.10)۔اسی طرح انطباقی تجزیہ مجوزہ زمینی استعمال کے لیے دی گئی زمین استعمال کے افادیتی تجزیہ میں بھی مفید ہے۔
jahan

16

شکل6.7: معمولی انطباقی عمل

                    ali


شکل 6.8:1974اور2001کے دوران علی گڑھ شہر(اترپردیش)میں شہری زمین کا استعمال

              tabad


شکل 6.9 علی گڑھ شہر میں 1974 اور2001 کے دوران شہری زمین میں تغیر


faila

شکل 6.10: علی گڈھ شہر،اترپردیش میں1974تا2001کے دوران شہری توسیع

بفرعمل (Buffer Operation)

جغرفیائی معلوماتی نظام میں بفر عمل ایک دوسرا اہم مکانی تجزیاتی عمل ہے۔کسی بھی نقطہ،خطہ یا علاقائی خصوصیت کے ساتھ ایک خاص دوری کا بفر بنایاجاسکتا ہے(شکل 6.11)۔یہ ان علاقوں /آبادی کا محل وقوع معلوم کرنے میں مفید ہے جو ہسپتال،دواسٹور،ڈاک خانہ ،تارکول سے بنی پکی سڑک،علاقائی پارک وغیرہ سہولیات اورخدمات سے مستفید ہوتے ہیں یا محروم رہ جاتے ہیں۔اسی طرح ہوا،آواز اورآبی آلودگی کے نکاتی منبع کا انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات اوراس طرح سے متاثر آبادی کی ضخامت کا مطالعہ کرنے میں اس کا استعمال کیاجاتا ہے۔اس طرح کے تجزیہ کو قربیت یانزدیکی تجزیہ کہاجاتا ہے۔ بفرعمل جغرافیائی خصوصیات پر توجہ کیے بغیر کثیر الاضلاع خصوصیت پیداکرتا ہے اورقربتی تجزیہ کی حدبندی کرتا ہے۔مثال کے طورپر کسی کیمیائی صنعتی اکائی کے ایک ایک کلومیٹر بفر کے تحت رہنے والے خاندانوں کے لوگ اس اکائی سے نکلنے والے صنعتی فضلہ سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
آرک ویو/آرک جی آئی ایس جیومیٹری اورجغرافیائی معلوماتی نظام کے دیگر سافٹ ویئر نقطہ،خط اوررقبہ جاتی خصوصیات کے ساتھ بفر تجزیہ کے ماڈل پیش کرتے ہیں۔مثال کے طورپر کسی بھی موجود سافٹ ویئر کے مناسب کمانڈ کا استعمال کرکے شہر میں واقع اہم ہسپتالوں کے چاروں طرف 2،4،6،8اور10 کلومیٹر کا بفر بنایاجاسکتا ہے۔ کیس اسٹڈی کے طورپر سہارن پور،مظفرنگر،میرٹھ، غازی آباد،گوتم نگر اورعلی گڑھ کے نقاط کے محل وقوع کا نقشہ بنایاگیاہے(شکل 6.12) اوران شہروں سے کوئی بھی مشاہدہ کرسکتا ہے کہ شہر کے قریب واقع علاقے کی خدمت بہتر طور سے ہے اورشہر سے دوررہنے والے لوگوں کو معالجاتی خدمات کا استعمال کرنے کے لیے طویل دوری طے کرنی پڑتی ہے اوران کا علاقہ کم استفادہ کرپاتا ہے۔(شکل6.13)

                      bafar


شکل6.11: ایک نقطہ،خط اورکثیر الاضلاع کے اطراف میں کھینچے گئے یکساں وسعت کے بفر

amib
شکل6.12:مغربی اتر پردیش کے شہروں کے محل وقوع کا نقشہ


asp
شکل6.13:اسپتالوں کے اطراف میں مخصوص دوریوں کا بفر

                    

مزید سیکھنے کے لئے انٹرنیٹ ماخذ :
Schoolgis.nic.in
bhuvan.nrsc.gov.in
www.urs.gov.in

مشق 

مندرجہ ذیل چارمتبادل میں سے صحیح جواب کاانتخاب کیجیے:

(i) مکانی اعدادوشمار کی خصوصیت درج ذیل شکلوں میں دکھائی دیتی ہے۔
(a) موقع محل کے اعتبار سے (b)   خطی
(c) رقبہ جاتی (d)    مذکورہ سبھی شکلیں

(ii) تجزیاتی ماڈیول سافٹ ویئر کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کس عمل کی ضرورت پڑتی ہے۔

(a) اعدادوشمار کی ذخیرہ اندوزی (b)    اعدادوشمار کی نمائش
(c) اعدادوشمار کا ماحصل (d)    بفرنگ

(iii) تصویری(Raster)اعدادوشمار فارمیٹ کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کون غیرمفید ہے۔

(a) معمولی اعدادوشمار کی ساخت
(b) آسان اورمکمل انطباق
(c) ریموٹ سنسنگ شبیہہ کے ساتھ موزوں
(d) مشکل نیٹ ورک تجزیہ

(iv) سمتی(Vector)اعدادوشمار فارمیٹ کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کون مفید ہے:

(a) اعدادوشمار کی پیچیدہ ساخت
(b) مشکل انطباقی اعمال
(c) ریموٹ سنسنگ شبیہہ کے ساتھ غیر موزوں
(d) اعدادوشمار کی پیوستہ ساخت

(v) جغرافیائی معلوماتی نظام کے قلب میں مندرجہ ذیل میں سے کس کو استعمال کرکے شہری تبدیلی کی پہچان مؤثر طورپر کی جاتی ہے؟

(a) انطباقی اعمال
(b) قربتی یا نزدیکی تجزیہ
(c) نیٹ ورک تجزیہ
(d) بفرنگ 

مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب تقریبا 30 الفاظ میں دیجیے:

(i) تصویری اورسمتی اعدادوشمار ماڈل میں فرق واضح کیجیے۔
(ii) انطباقی تجزیہ کیا ہے؟
(iii) دستی طریقوں پر جغرافیائی معلوماتی نظام کے فوائد کیا ہیں؟
(iv) جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس)کے اہم عناصر کیا ہیں؟
(v) جغرافیائی معلوماتی نظام کے قلب میں مکانی اعدادوشمار بنانے کے مختلف طریقے کیا ہیں؟
(vi) مکانی معلوماتی ٹیکنالوجی کیا ہے؟

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریبا 125 الفاظ میں دیجیے:

(i) تصویری اورسمتی ڈاٹافارمیٹ مع مثال بیان کیجیے۔
(ii) جغرافیائی معلوماتی نظام سے متعلق سرگرمیوں کو سلسلہ وار شکل میں انجام دینے کے لیے ایک تفصیلی نوٹ لکھیے۔