Skip to content
QR5273CH01

باب 1

ہندوستانی سماج کا تعارف  (Introducing Indian Society)

1

ایک اہم معنی میں سماجیات اُن تمام مضامین سے الگ ہے جو آپ نے پڑھے ہیں۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے جسے کوئی بھی صفر سے شروع نہیں کرتابلکہ ہر ایک کو سماج کے بارے میں پہلے سے ہی کچھ نہ کچھ پتہ ہوتا ہے۔ دوسرے مضامین کو ہم سکھائے جانے پر ہی سیکھ پاتے ہیں، (خواہ انھیں اسکول ،گھر یااور کہیں سے حاصل کیا جائے) لیکن سماج کے بارے میں ہمارا بہت کچھ علم براہِ راست تعلیم کے بغیر ہی حاصل کیا ہوا ہے کیوں کہ یہ ہمارے بڑے ہونے کے عمل کا ایک ایسا جزوِلازمی ہے جس میں سماج کے بارے میں علم ’’فطری طور پر‘‘یا خود بخود حاصل کیا ہوا لگتا ہے۔پہلے درجے میں داخل ہونے والے کسی بچے سے ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ تاریخ، جغرافیہ، نفسیات یا معاشیات جیسے مضامین کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور جانتا ہے لیکن ایک چھے سال کا بچہ بھی سماج اور سماجی رشتوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور جانتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اٹھارہ سال کے بالغ نوجوان ہونے کی حیثیت سے آپ اپنے سماج کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ آپ نے سماج کا مطالعہ کیا ہے بلکہ محض اس لیے کہ آپ اس سماج میں رہتے ہیں اور اس میں پرورش پائی ہے۔ 
اس قسم کا ’’پہلے سے ہی‘‘ یا ’’اپنے آپ‘‘ حاصل کیا گیا علم سماجیات کے لیے فائدے مند بھی ہے اور نقصان دہ بھی۔ فائدے مند اس لیے کہ عام طور پر طلبا، سماجیات سے ڈرتے نہیں ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ یہ مضمون آسان ہوگا اور اُسے سیکھنے میں انھیں دشواری نہیں ہوگی۔ نقصان دہ اس لیے کہ پہلے ہی سے حاصل کیا گیا علم ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔ سماجیات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس علم کو بھلا دینے کی ضرورت ہے جو ہم سماج کے بارے میں پہلے سے جانتے ہیں۔ درحقیقت سماجیات کو سیکھنے کا ابتدائی مرحلہ خاص طور پر اسے بھول جانے پر مضمر ہے۔ یہ ضروری ہے، کیوں کہ سماج کے بارے میں ہمارا پہلے سے حاصل شدہ علم ہماری عام سمجھ ہے جس کو ہم ایک خاص نقطۂ نظر سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ سماجی گروہ اور سماجی ماحولیات کے بارے میں وہ نقطۂ نظر ہے جس میں ہم سب سماجی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا سماجی زاویہ بھی ہمارے نظریات عقائد اور توقعات جو کہ سماج اور سماجی رشتوں کے بارے میں ہوتے ہیں انھیں شکل و صورت عطا کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ عقائد غلط ہی ہوں، لیکن ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وہ نامکمل (مکمل کے برعکس) اور جانب دار (غیر جانب دار کے برعکس) ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارا بغیر سیکھا ہوا علم یا عام سمجھ ہمیں اکثر اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ ہم سماجی حقیقت کا صرف ایک حصہ ہی دیکھیں۔ ان کے علاوہ یہ عموماً ہمارے اپنے سماجی گروہ کے مفاد اور نظریات کی طرف جھکا ہوا ہوتا ہے۔
سماجیات اس مسئلے کا حل ایک ایسے نظریے کے طور پر پیش نہیں کرتا جس کے ذریعہ پوری حقیقت کو غیر جانب داری کے ساتھ دیکھا جاسکے۔ حقیقت میں، ماہرینِ سماجیات کا ماننا ہے کہ ایسا مثالی ماحول یا ’مثالی نظریہ ہوتا ہی نہیں ہے کہ ہم کسی بھی جگہ سے کھڑے ہوکر کسی ایک جگہ کو ہی دیکھ سکتے ہوں۔ کسی ایک مقام سے دنیا کو صرف جزوی نظریے سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ سماجیات ہمیں یہ سیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ دنیا کو ہمارے اپنے نظریے کے علاوہ ہم سے الگ لوگوں کے نظریے سے کیسے دیکھا جائے۔ہر ایک نظریہ صرف ایک جزوی نظریہ پیش کرتا ہے۔ لیکن جب ہم دنیا کی نگاہوں اور مختلف لوگوں کے نظریات کا تقابل کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر کیا ہوسکتا ہے اور ہر اُس خاص نظریے کے اعتبار سے کیا کچھ پوشیدہ رہ گیا ہے۔
اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ سماجیات آپ کو یہ دکھا سکتا ہے کہ دوسرے آپ کو کس طرح دیکھتے ہیں یا یوں کہیں کہ آپ کو یہ سکھا سکتا ہے کہ آپ خود کو باہر سے کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔ اسے ’خود شناسی‘‘ یا ’’خودشعوری‘‘ کہا جاتاہے۔ یہ اپنے بارے میں سوچنے، اپنی نگاہوں کو لگاتار اپنی طرف رکھنے (جو کہ اکثر باہر کی طرف ہوتی ہیں) کی صلاحیت ہے۔ لیکن خود کا یہ معائنہ تنقیدی ہونا چاہیے یعنی اپنی تنقید کے لیے جلد بازی اور تعریف کے لیے سست رفتاری۔
سب سے آسان مرحلہ پر کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی سماج اور اس کی ساخت کی سمجھ آپ کو ایک سماجی قسم کا نقشہ عطا کرتا ہے جس کے ذریعہ آپ خود کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔جغرافیائی نقشہ کی طرح خود کو سماجی نقشے میں پتہ لگانا ان معنوں میں مفید ہوسکتا ہے کہ اس سے آپ کو یہ معلومات حاصل ہوتی ہیں کہ سماج میں دوسرے لوگوں سے تعلقات کے حوالہ سے آپ کہاں ہیں۔ مثال کے طور پر مان لیجیے کہ آپ اروناچل پردیش میں رہتے ہیں۔ اگر آپ جغرافیائی نقشے کو دیکھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کی ریاست ہندوستان کے شمالی مشرقی کونے میں موجود ہے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ آپ کی ریاست دوسری بڑی ریاستوں جیسے، اترپردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر یا راجستھان کے مقابلے میں چھوٹی ہے۔ لیکن یہ دوسری بہت سی ریاستوں جیسے، منی پور، گووا، ہریانہ یا پنجاب سے بڑی ہے۔ اگر آپ طبیعی خصوصیات کے نقشے کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ معلومات حاصل ہوسکتی ہیں کہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں اورریاستوں کے مقابلے میں اروناچل پردیش کا خطہ کیسا ہے(پہاڑوں، جنگلوں سے بھرپور)، یہاں کون سے قدرتی وسائل بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے بارے میں آپ جان سکیں گے۔
ایک تقابلی سماجی نقشہ آپ کو سماج میں آپ کے وقوع کے بارے میں بتا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں آپ اس سماجی گروہ کے ممبر ہیں جسے ’’نوجوان طبقہ‘‘ کہا جاتاہے۔ ہندوستان کی تقریباً 40 فی صد آبادی آپ کی یا آپ سے چھوٹے عمر کے لوگوں کی ہے۔ آپ کسی خاص حلقہ یا لسانی طبقہ (جیسے گجرات سے گجراتی زبان یا آندھرا پردیش سے تیلگو بولی) سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ والدین کے پیشے اور آپ کے خاندان کی آمدنی کے مطابق آپ ایک معاشی طبقہ (جیسے متوسط طبقہ یا اونچا طبقہ) کے ممبر بھی ہوں گے۔ آپ ایک خاص مذہبی گروہ، ایک ذات یا قبائلی یا ایسے ہی کسی دوسرے سماجی گروہ کے فرد بھی ہوسکتے ہیں۔ ایسی ہر ایک پہچان سماجی نقشے میں اور سماجی تعلقات کے تانے بانے میں آپ کی حیثیت معین کرتی ہے۔ سماجیات آپ کو سماج میں پائے جانے والے مختلف قسم کے گروہوں، اُن کے آپسی تعلقات اور آپ کی اپنی زندگی کی اہمیت کے بارے میں بتلاتا ہے۔
لیکن سماجیات صرف آپ کا یا دوسرے لوگوں کامحلِ وقوع معین کرنے میں اور مختلف سماجی گروہوں کے مقامات کو بیان کرنے میں معاون ہونے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ سکھا سکتا ہے۔ جیسا کہ ایک مشہور ماہر سماجیات سی ۔رائٹ ملس (C. Wright Mills) نے لکھا ہے۔ سماجیات آپ کی ’ذاتی الجھنوں‘ اور ’سماجی امور‘ کے بیچ کی کڑیوں اور تعلقات کو اُجاگر کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ذاتی الجھنوں سے ملس کی مراد ہے مختلف قسم کی ذاتی فکر و پریشانی، مسائل و معاملات جس سے ہر ایک دوچار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہوسکتا ہے آپ کے خاندان کے بزرگ افراد یا آپ کے بھائی، بہن، دوست آپ سے جو سلوک کرتے ہیں، ان سے آپ خوش نہیں ہیں۔ شاید آپ اپنے مستقبل کے بارے میں یا آپ کو کس قسم کی نوکری ملے گی اس بارے میں فکر مند ہوں۔ آپ کی ذاتی شناخت کے دوسرے پہلو انانیت، تناؤ، خود اعتمادی یا مختلف قسم کی الجھنوں کے ذرائع ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب ایک ہی خاص فرد سے جڑی ہوتی ہیں اور ان کے معنی اس ذاتی تناظر تک ہی محدود ہیں۔ دوسری طرف، ایک سماجی مدعا بڑے گروہوں سے جڑا ہوتاہے کہ اس تنہا فرد سے جو ان گروہوں کے افراد ہیں۔
اس لیے بزرگ اور نوجوان نسلوں کے درمیان ’’نسلی فاصلہ‘ یا من مٹاؤ ایک غیر معمولی سماجی مشاہدہ ہے جو مختلف سماجوں اور اوقات میں یکساں طور پر پایا جاتاہے۔ بے روزگاری یا پیشوں کی ساخت میں ہونے والی تبدیلی کے اثرات بھی ایک دوسرا سماجی مسئلہ ہے، جو مختلف قسم کے لاکھوں افراد سے جڑا ہے۔ مثال کے لیے اطلاعات کی تکنیک سے جڑے پیشوں میں اچانک اضافہ ہونا اور ساتھ ہی زرعی مزدوروں کی مانگ میں کمی آنا اس میں شامل ہے۔فرقہ واریت یا ایک مذہبی طبقہ کا دوسرے مذہبی طبقہ کے لیے نفرت اور سخت دشمنی یا ذات پرستی جو کہ کچھ ذاتوں کے ذریعہ دوسری ذاتوں سے قطعۂ تعلق یا ظلم و تشدد جیسے واقعات سماج میں عام طور پر پائے جانے والے مسائل ہیں۔مختلف افراد کا اس میں مختلف رول ہوسکتا ہے جو ان کی سماجی حیثیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے کسی نام نہاد اونچی ذات کا فرد جو کسی نچلی ذات میں پیدا ہوئے فرد کو اپنے سے نیچا مانتا ہے ذات پرستی کے عمل میں مرتکب کی حیثیت میں شامل ہے جب کہ کسی نام نہاد ذات کا فرد بھی اس میں شامل ہے، لیکن ایک مظلوم کی حیثیت سے۔ اسی طرح مرد اور عورتیں دونوں ممتاز سماجی گروہ کی حیثیت سے صنفی نابرابری سے متاثر ہوتے ہیں لیکن بالکل مختلف طریقے سے۔
اس طرح کے سماجی نقشے کی ایک شکل ہمیں بچپن میں ہی سماجیات کے عمل کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ وہ تمام طور طریقے جس کے ذریعے ہمیں آس پاس کی دنیا کو سمجھنا سکھایا جاتا ہے۔ وہ سب اس نقشہ کو بنانے میں شامل ہیں۔ یہ عام سمجھ کا نقشہ ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس طرح کے نقشےعام سمجھ کے جزوی و جانب دار ہونے کے سبب غلط رہنمائی کر سکتے ہیں یا شکل کو توڑ مروڑ کر پیش کر سکتے ہیں۔ ہماری عام سمجھ کے نقشے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا تیار نقشہ نہیں ہوتا۔کیوں کہ ہماری اشتراکیت صرف ایک گروہ سے ہوتی ہے نہ کہ تمام گروہوں سے۔ اگر ہم دوسری طرح کے نقشے چاہتے ہیں تو ہمیں ان کو کیسے بنایا جائے یہ سیکھنا ہوگا۔ ایک سماجیاتی پس منظر آپ کو مختلف قسم کے سماجی نوشوں کو بنانا سکھاتا ہے۔

Capture24
آپ کے یہاں
عمر ( نوجوان اور بزرگ ) کی بنا پر حدود
علاقائی حدود
معاشی حدود
مذہبی حدود
ذات پات کی حدود

1.1 تعارف کا تعارف...

اس پوری کتاب کا مقصد ہندوستانی سماج کا عام فہم کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ سماجیاتی نقطۂ نظر سے تعارف کراتا ہے۔ اس تعارف کے تعارف میں کیا کہا جاسکتا ہے؟ شاید یہاں ان وسیع سماجی عمل کاریوں کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہوگا جو ہندوستانی سماج کو شکل دے رہے ہیں، جن کے بارے میں آپ اگلے صفحات میں تفصیل سے پڑھیں گے۔
موٹے طورپر کہا جائے تو نوآبادیاتی دورِ حکومت میں ہی ایک مخصوص ہندوستانی شعور بیدار ہوا۔ نو آبادیاتی حکومت نے پہلی بار پورے ہندوستان کو متحد کیا اور سرمایہ دارانہ معاشی تبدیلی و جدیدیت کی طاقت ور روشوں سے ہندوستان کو متعارف کرایا۔ ایک طرح سے جو تبدیلی لائی گئی۔ انھیں واپس تو نہیں کیا جاسکتا اور سماج بھی پہلی حالت میں نہیں واپس ہو سکتا تھا۔ نوآبادیاتی حکومت کے دوران ہندوستان کی معاشی، سیاسی اور انتظامیہ کی یکسانیت کو مہنگی قیمت ادا کرکے حاصل کیا گیا تھا۔ برطانوی لوٹ کھسوٹ اور تسلط کے ذریعے دیے گئے مختلف زخموں کے نشان ہندوستانی سماج پر آج بھی موجود ہیں لیکن اُس دور کی درحقیقت ایک متناقص سچی بات یہ بھی ہے کہ برطانوی حکومت نے ہی اپنے حریف قومیت (قوم پرستی )کو جنم دیا۔
تاریخی اعتبار سے، ہندوستانی قومیت نے برطانوی نوآبادیاتی کے دور میں ہی شکل و صورت اختیار کی۔ نوآبادیات کے مشترکہ تجربات نے برادری کے مختلف اجزا کو جوڑنے پر زور دیا اور انھیں جلا بخشی۔ مغربی طرز کی تعلیم کی بدولت ابھرتے ہوئے متوسط طبقہ نے نوآبادیات کو اس کی اپنی بنیاد پر ہی للکارا۔ ہماری تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ نوآبادیات اور مغربی تعلیم نے ہی روایت کی دوبارہ تلاش کو حوصلہ عطا کیا۔ اس سے کئی قسم کی ثقافتی اور عصری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی جس سے قومی اور علاقائی سطحوں پر برادری کی نئی شکل کو مضبوطی حاصل ہوئی۔
نوآبادیاتی طرز نے نئے طبقوں اور برادریوں کو پیدا کیا جنھوں نے بعد میں تاریخ میں اہم رول ادا کیے۔ شہری متوسط طبقے قوم پرستی کے اہم ذرائع تھے جس نے آزادی حاصل کرنے کی مہم کی سربراہی کی۔ نوآبادیات کی دخل اندازی نے ذات اور مذہب پر مبنی طبقوں کو ایک واضح شکل بھی دی اور ان سب نے ایک اہم رول ادا کیا۔ عصری ہندوستانی سماج کے بعد کی تاریخ جن پیچیدہ طریقوں سے ترقی پارہی ہے ان کے بارے میں آپ اگلے اسباق میں پڑھیں گے۔

1.2 اس کتاب کا پیشگی مشاہدہ

سماجیات کی دو کتابوں میں سے پہلی کتاب میں آپ کا تعارف ہندوستانی سماج کی بنیادی ساخت سے کر ایا جائے گا۔ (دوسری کتاب ہندوستان میں سماجی تبدیلی اور ترقی کی خصوصیت پر مرکوز ہوگی)
3
ہم ہندوستانی آبادی کی آبادیاتی ساخت (باب 2) پر غور و فکر سے شروعات کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آج ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور ایک اندازے کے مطابق کچھ دہائیوں میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔ وہ کون سے طریقے ہیں جن کے ذریعے ماہرین سماجیات اور ماہرین آبادیات آبادی کا مطالعہ کرسکتے ہیں؟ آبادی کے کون سے پہلو سماجی طور پر اہم ہیں اور ہندوستانی تناظر میں ان محاذوں پر کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہماری آبادی ترقی میں ایک رکاوٹ ہے یا اسے ترقی میں کسی قسم کی مدد کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے؟ اس مطالعہ میں ان چند سوالات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
4

باب 3 میں ہم ذات، قبائل اور خاندان کے اداروں کی شکل میں ہندوستانی سماج کے بنیادی تعمیری اجزا کا دوبارا مطالعہ کریں گے۔ بر صغیر ہند کی ایک مخصوص پہچان کے طور پر ذات ہمیشہ عالمانہ توجہ کی باعث رہی ہے۔ مختلف صدیوں سے یہ ادارہ کس طرح تبدیل ہو رہا ہے اور آج حقیقت میں ذات کے کیا معنی ہیں؟ کس حوالہ کے تحت ’قبائل‘ کا تصور ہندوستان میں آیا تھا؟ قبائل کس طرح کی برادری مانی جاتی ہے اور انھیں اس طرح سے متعارف کرانے میں ہم کیا داؤ پرلگا رہے ہیں؟ قبائلی برادری، عصری ہندوستان میں خود کو کس طرح متعارف کراتی ہے؟ آخر کار ایک ادارے کی حیثیت سے خاندان بھی اس ہولناک اور گہرے سماجی تبدیلی کے بھاری دباؤ کا موضوع رہا ہے۔ ہندوستان میں پائے جانے والے خاندان کی مختلف شکلوں میں ہم کیا تبدیلی دیکھتے ہیں؟ اس قسم کے سوالات زیر بحث لاکر باب 3 میں ہندوستانی سماج کے دوسرے پہلو جیسے ذات، قبائل اور خاندان کو دیکھنے کی بنیاد تیار کرتا ہے۔

5
باب 4 ایک طاقت ور ادارے کی حیثیت سے بازار کے سماجی۔ ثقافتی طول و عرض کو ڈھونڈتا ہے، جو کہ تمام دنیا کی تاریخ کو تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ یہ مانتے ہوئے کہ سب سے گہرا اثر ڈالنے والی اور دور رس معاشی تبدیلی سب سے پہلے نوآبادیات کے ذریعے اور بعد میں ترقی پذیر پالیسیوں کے ذریعے لائی گئی۔ یہ باب یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ ہندوستان میں مختلف قسم کے بازاروں کا وجود کس طرح قائم ہوا اور اس نے کس طرح نئی روشنی کو پیدا کیا۔
6
ہمارے سماج کی خصوصیات میں جو سب سے زیادہ فکر کا موضوع رہا ہے وہ ہے عدم مساوات اور اخراج پیدا کرنے کی غیر محدود صلاحیت۔ باب 5 اس اہم موضوع کی نذر ہے۔ باب 5 غیر برابری اور خارجیت کو ذات، قبائل، جنس اور دوسرے باصلاحیت، لوگوں کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ تقسیم اور ناانصافی ایک ذریعہ کے طور پر بدنام ذات کے نظام کو مٹانے یا اس میں سدھار لانے کی منظم کاوش دبی کچلی ذاتوں اور ریاستوں کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ وہ کون سے واضح مسائل اور امور ہیں جو ان کوششوں کے ذریعہ سامنے آئے؟ ہمارے قریب کے ماضی میں ہوئی کچھ تحریکیں اخراج ذات کو روکنے میں کتنی کامیاب رہی ہیں؟ قبائلی تحریکوں کے اہم مسائل کیا ہیں؟ آج قبائلی کس حوالے سے اپنی پہچان کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں؟ اس طرح کے سوالوں کو جنس پر مبنی تعلقات یا معذور یا مختلف قسم کے اہل کے لوگوں کے حوالے سے بھی جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ہمارا سماج کس حد تک مختلف قسم کے اہل لوگوں کی ضرویات کے تئیں جواب دہ ہے۔ خواتین کی تحریکوں کا سماجی اداروں پر جنھوں نے خواتین پر ظلم کیا ہے اس پر کتنا اثر پڑا ہے؟
7
باب 6ہندوستانی سماج کے بے شمار تنوع سے پیدا ہونے والے چیلنج کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ باب ہمیں ہمارے عام اور آرام دہ فکر کے طریقوں سے باہر آنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہندوستان کی کثرت میں وحدت ہونے کے مقبول عام نعروں کا ایک پیچیدہ پہلو بھی ہے۔ تمام تر ناکامیوں اور خامیوں کے باوجود ہندوستان نے اس محاذ پر کوئی بڑا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ ہماری طاقت اور کمزوریاں کیا رہی ہیں؟ نوجوان بزرگ کس طرح مختلف مسائل جیسے فرقہ وارانہ تصادم، علاقائی اور لسانی انتہا پسندی کا سامنا کرتے ہیں اور ذات پرستی کو ہٹائے بغیر یا ان سے پوری طرح متاثر ہوئے بغیر ان کا سامنا کیسے کریں گے؟ ایک ملک کی حیثیت سے ہمارے اجتماعی مستقبل کے لیے یہ کیوں اہم ہے کہ ہندوستان میں پائی جانے والی ہر ایک اقلیت یہ محسوس نہ کرے کہ وہ غیر محفوظ ہے یا خطرے میں ہے؟
8
آخر میں باب 7 میں آپ کو اور اساتذہ کو آپ کے نصاب کے تجرباتی حصے کے بارے میں غور و فکر کے لیے کچھ مشورے دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ آپ دیکھیں گے کہ یہ کافی دلچسپ اورپر لطف ہوسکتے ہیں۔

نوٹس