Skip to content
QR5273CH02


باب 2

ہندوستانی سماج کی آبادیاتی ساخت

(The Demographic Structure of the Indian Society)

1


آبادیات، آبادی کا منظم مطالعہ ہے۔ یہ یونانی اصل کی اصطلاح ہے اور دو الفاظ demos (لوگ) اور'graphein'(بیان کرنا) سے مل کر بنی ہے، ان سے لوگوں کے بارے میں بیان کی دلالت ہوتی ہے۔ آبادیات میں آبادی سے متعلق رجحانا ت اور عمل کا مطالعہ کیاجاتاہے۔ اس میں آبادی کے حجم میں تبدیلیاں، پیدائش، اموات اور نقل مکانی کی وضع اور آبادی کی شناخت اور ترکیب جیسے عورتوں، مردوں اور مختلف عمر کے گروپوں کا نسبتی تناسب شامل ہے۔ آبادیات کی کئی قسم ہے جس میں رسمی آبادیات جو بڑی حد تک مقداری میدان ہے اور سماجی آبادیات جو آبادی کے سماج، معاشی یا سیاسی پہلو پر مرکوز ہے،شامل ہے۔ سبھی آبادیاتی مطالعات مردم شماری (جس میں کسی مخصوص خطے میں رہنے والے لوگوں کے اعدادو شمار کو منظم طور پر جمع کرناشامل ہے) جیسے شمار (سروے) کے عمل پر مبنی ہیں۔
آبادیات وہ میدان ہے جس کی سماجیات میں خاص اہمیت ہے۔ درحقیقت سماجیات کے ظہور میں اور ایک علمی مضمون کی حیثیت سے اسے مستقل صورت اختیار کرنے میں آبادیات کی کافی اہمیت رہی ہے۔ اٹھارھویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران یوروپ میں دو مختلف عمل تقریباً ساتھ سا تھ واقع ہوئے۔ ایک تو سیاسی تنظیم کی خاص شکل کے طور پر دوسرے قومی ریاستوں کی تشکیل اور شماریات کی جدید سائنس کی شروعات۔ جدید ریاست نے اپنے کردار و عمل میں توسیع کی شروعات کی۔ مثال کے لیے اس کے ذریعے عوامی صحت کا انتظام، پولیس، نظم و ضبط قائم کرنے،زراعت اور صنعت،ٹیکس کاری اور محاصل سے متعلق معاشی پالیسی اور شہروں کے انتظامیہ ابتدائی شکلوں کے فروغ میں زبردست دلچسپی لینے کی شروعات ہوئی۔
ریاست کو اس نئے اور مستقل طور پر وسعت پزیر دائرہ عمل کے لیے سماجی شماریات یا آبادی اور معیشت کے مختلف پہلوؤں پر مقداری اعداد کو منظم اور باقاعدہ طور پر جمع کرنے کی سرگرمی کی ضرورت تھی۔ ریاست کے ذریعے سماجی شماریات کے جمع کرنے کا رواج اپنے آپ میں بہت پرانا ہے لیکن اٹھارھویں صدی کے آخرتک اس نے جدید شکل حاصل کرلی۔ 1790میں امریکا کے ذریعے کی گئی مردم شماری شاید پہلی جدید مردم شماری تھی اور یہ عمل جلد ہی 1800کی ابتدا میں یوروپ میں شروع ہوچکا تھا۔ ہندوستان میں مردم شماری کی شروعات1867-72 کے درمیان برطانوی ہندوستانی حکومت کے زیر اہتمام کی گئی تھی اور 1881 سے باقاعدہ دس سالوں پر (دہ سالہ) اس کا اہتمام کیا جانے لگا۔ آزاد ہندوستان میں عمل جاری رہا اور چھ دہ سا لہ مردم شماریوں کا اہتمام 1951سے ابھی حال تک 2011میں کیا جاچکا ہے۔ ہندوستان میں ہونے والی مردم شماری دنیا کی ایسی سب سے بڑی مردم شماری ہے (کیوں کہ چین میں اس سے تھوڑی زیادہ آبادی ہے لیکن وہ باقاعدہ بنیاد پر مردم شماری انجام نہیں دیتا۔)
منصوبہ بندی اور ریاست کی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے آبادیاتی اعداد و شمار اہم ہیں،خاص طور پر معاشی ترقی اور فلاح عامہ کے لیے۔ لیکن جب ان کی پہلی بار ابتدا ہوئی تو سماجیات کے ایک نئے مضمون کے لیے سماجی شماریات کا ایک مضبوط جواز بھی فراہم ہوا۔ مجموعۂ شماریات یا عددی خصوصیات، جو لاکھوں کروڑوں لوگوں پر مشتمل ایک بڑی اجتماعیت سے منسوب ہے سماجی مظہر کے ظہور کے لیے ٹھوس اور مضبوط دلیل پیش کرتی ہے۔ اگرچہ ملکی یا ریاستی سطح کی شماریات جیسے فی1,000آبادی پر اموات کی تعداد یا شرح اموات،انفرادی اموات کو جمع کرنے کے ذریعے دریافت کی جاتی ہے۔ شرحِ اموار بذات خود ایک سماجی مظہرہے اور سماجی سطح پر اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ ایمائل درکھیم (Emile Durkheim)کے مشہور مطالعہ جس میں مختلف ملکوں کی شرحِ خود کشی میں تنوع کے بارے میں توضیح کی گئی ہے، اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ درکھیم نے دلیل دی ہے کہ شرح خودکشی (یعنی فی 10,000آبادی پر خودکشی کی تعداد) کی سماجی اسباب کے ذریعے وضاحت کی جاسکتی ہے۔ اگرچہ خودکشی کی ہر مخصوص مثال میں اس فرد یا اس کے حالات کی خصوصی وجوہات شامل ہوسکتی ہیں۔
  کبھی کبھی رسمی آبادیات اور آبادی کے مطالعات کے وسیع ترمیدان کے درمیان ایک امتیاز ہوتاہے۔ رسمی آبادیات بنیادی طور پر تبدیلیِ آبادی کے اجزا کی پیمائش اور تجزیے کے سا تھ متعلق ہوتی ہے۔ یہ مقداری تجزیے پر مرکوز ہوتی ہے جس کے لیے اس میں نہایت ترقی یافتہ ریاضیاتی طریقۂ کار شامل کیا جاتا ہے جو آبادی کی افزائش اور آبادی کی ترکیب کے بارے میں پیشین گوئی کے لیے موزوں ہوتا ہے ۔جب کہ دوسری طرف مطالعات آبادی یا سماجی آبادیات میں آبادی کی ساختوں اور تبدیلی کے وسیع اسباب کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ آبادیات یہ مانتے ہیں کہ سماجی عمل کاریاں اور شناختیں آبادیاتی عمل کو اسی طرح منضبط کرتی ہیں۔ جس طرح ماہرین سماجیات آبادی کے رجحانات کے لیے ذمہ دار اسباب کا پتہ لگانے کی جستجو کرتے ہیں۔

2.1آبادیات میں بعض نظریات اور تصوارت

آبادی میں افزائش کا مالتھوسین (Malthusian) نظریہ


تھامس رابرٹ مالتھس
(1766-1834)

3

مالتھس نے کیمبرج میں اور ایک عیسائی پادری ہونے کے لیے تربیت حاصل کی۔ بعد میں وہ لندن کے قریب ہیلی بیری میں ایسٹ انڈیا کمپنی کالج میں تاریخ اور سیاسی معاشیات کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہ انڈین سول سروس میں بھرتی کیے جانے والے افسروں کا ٹریننگ مرکز تھا۔



آبادیات کے انتہائی مشہور نظریات میں سے ایک کا تعلق ایک انگریز سیاسی معاشیات داں تھا مس رابرٹ مالتھں 1766) تا 1834) سے ہے ۔ آبادی کی افزائش کے مالتھس نظریے کا خاکہ ان کے "Eassy on Population"  (1798)میں پیش کیا گیاہے جو کسی حد تک قنوطی(Pessimistic)تھا۔ اس نے دلیل دی کہ انسانی آبادیوں کی افزائش کا میلان انسان کے گزربسر کے ذرائع (خاص طور پر غذا،لیکن کپڑا اور زراعت پر مبنی دیگر اشیا بھی) کی شرح کی نسبت زیادہ تیز شرح پر ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان ہمیشہ غربت میں رہنے پر مجبور ہوتا ہے کیوں کہ زرعی پیداوار کی افزائش پر ہمیشہ آبادی کی افزائش حاوی ہوجاتی ہے۔ جہاں آبادی اقلیدسی (جیومٹری) انداز میں بڑھتی ہے یعنی ہر اگلا عدد اسی نسبت سے بڑھتا ہے جس نسبت سے پچھلا عدد بڑھتا ہے (جیسے 32,16,8,4,2وغیرہ) وہیں زرعی پیداوار توالی ہندسے یعنی ایک ہی مقدار سے بڑھتی ہے( جیسے 10,8,6,4 وغیرہ) چوں کہ آبادی کی افزائش ہمیشہ گزربسر کے وسائل کے پیداوار میں اضافے کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے اس لیے خوش حالی بڑھانے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ آبادی میں اضافے کو قابو میں کیا جائے۔ بدقسمتی سے نوع انسانی کے پاس اپنی آبادی کے اضافے کو رضاکارانہ طور پر کم کرنے کی صرف محدود اہلیت ہے (احتیاطی رکاوٹوں کے ذریعے جیسے شادی کو ملتوی کرنا یا جنسی عمل سے احتراز یا تجرد (یا برہمچریہ) ۔ لہٰذا مالتھس مانتا ہے کہ آبادی میں اضافے میں مثبت رکاوٹیں، قحط سالی اور بیماریوں کی شکل میں ناگزیر تھیں کیوں کہ یہ غذا کی فراہمی اور بڑھتی آبادی کے درمیان عدم توازن سے نمٹنے کا قدرتی طریقہ تھیں۔
مالتھس کا نظریہ کافی عرصے تک اثرپزیر رہا۔ لیکن بہت سے نظریہ سازوں کے ذریعے اسے چیلنج ملا جنھوں نے دعویٰ کیا کہ معاشی نمو، آبادی کے اضافے کو پیچھے کرسکتی ہے۔
تاہم اس کے نظریے کی نہایت موثر تردید یوروپی ممالک کے تاریخی تجربے سے ہوئی۔آبادی میں اضافے کا انداز انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں تبدیل ہونا شروع ہوا اور بیسویں صدی کی پہلی ربع کے آخر تک یہ تبدیلیاں کافی ڈرامائی ہوگئیں شرح پیدائش گر گئی اور وبائی امراض پر بھی قابو کیا جانے لگا۔ مالتھس کی پیشن گوئی غلط ثابت ہوئی کیوں کہ غذائی پیداوار اور معیارِ زندگی میں آبادی میں بہتری تیز اضافے کے باوجود جاری رہی۔
مالتھس پر لبرل اور مارکسی دانشوروں نے بھی اس بات کے دعوے کے لیے تنقیدکی کہ غربت آبادی میں اضافے کے سبب بڑھتی ہے۔ تنقید کرنے والوں نے دلیل دی کہ غربت اور فاقہ کشی جیسے مسائل کی وجہ آبادی میں اضافے کے سبب نہیں بلکہ معاشی وسائل کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ ایک غیر منصفانہ سماجی نظام میں ایک دولت مند اور مراعات یافتہ اقلیت تعیش میں رہتی ہے جب کہ لوگوں کی ایک بڑی اکثریت غربت میں رہنے پر مجبور ہوتی ہے۔

باکس 2.1


’’آبادی کی قوت انسان کے لیے گزربسر پیدا کرنے کی زمین کی طاقت سے کہیں بڑھ کرہے،یہ کہ بے وقت اموات کا سامنا کسی نہ کسی شکل میں نوع انسان کو کرنا ہوتاہے۔ نوع انسانی کی بدی سرگرم عمل ہے اور تخفیف آبادی کا عمل انجام دینے کی پوری طرح اہل ہے۔ یہ تخریب کی یا تباہی کی عظیم فوج میں نقیب کے طور پر ہے اور اکثر اس ناگوار عمل کو خود ہی پورا کرتی ہیں۔ لیکن کیا انھیں اس قلع وقمع اور بربادی کی جنگ میں ناکام ہونا چاہیے۔بیماری کے موسم، وبائی امراض،مرض طاعون، مہلک وبا خطرناک طور پر صف آرا اور ان کے ہزاروں لاکھوں کے خاتمے کے لیے تیا ر ہیں۔ کیا کامیابی اب بھی ادھوری ہوگی،زبردست ناگزیر قحط سالی دبے پاؤں شکار کی تلاش میں ہے اور وہ ایک زبردست قوت دنیا کی غذا کے ساتھ آبادی کی سطح کو اڑا دے گی‘‘:
تھامس رابرٹ مالتھس، آبادی کے اصول پر ایک مضمون،1798


آبادیاتی عبور کا نظریہ(The Theory of Demographic Transition)

آبادیات میں ایک اور اہم نظریہ آبادیاتی عبور کا نظریہ ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آبادی میں اضافہ معاشی ترقی کی مجموعی سطح سے جڑا ہوا ہے اور ہر سماج آبادی میں اضافے سے متعلق ترقی کی مثالی وضع کی پیروی کرتا ہے۔ آبادی میں اضافے کے تین بنیادی مراحل ہیں۔ پہلامرحلہ سماج میں آبادی میں کم اضافے کا ہے اور یہ سماج کم ترقی یافتہ اور تکنیکی طور پر پس ماندہ ہے۔ شرحِ اضافہ کم اس لیے ہے کہ شرحِ اموات اور شرح پیدائش دونوں اونچے ہیں۔ اس طرح دونوں کے درمیان فرق (خالص شرح اضافہ) کم ہوتا ہے۔ تیسرا (اور آخری) مرحلہ بھی ترقی یافتہ سماج میں کم افزائش کا ہے جہاں شرحِ اموار اور شرح پیدائش نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے اور ان کے درمیان فرق بھی کم ہوتاہے۔ان دونوں مراحل پس ماندہ سے ترقی یافتہ مرحلے تک کے درمیان عبور نقل ہے اور اس مرحلے کی خصوصیات آبادی کی افزائش میں بہت اونچی شرح کا ہوناہے۔

یہ آبادی کا دھماکہ (غیر معمولی اضافہ) اس لیے واقع ہوتاہے کیوں کہ شرحِ اموات، بیماریوں پر قابو پانے، صحت عامہ اور بہتر تغذیہ کے ترقی یافتہ طریقوں کے ذریعے تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔ تاہم، سماج کے لیے اس تبدیلی سے تطابق کرنے اور اس کے تولیدی کردار (جس کا ارتقا غربت اور اونچی شرحِ اموار کی مدت کے دوران ہوا تھا) کی اضافی خوش حالی اور طویل دور حیات کی نئی صورت حال کی موزونیت میں وقت لگتا ہے۔ عبور کی اسی قسم پر انیسویں صدی کے آخر اور ابتدائی بیسویں صدی کے دوران گہرااثر پڑا تھا۔ کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی، جو گرتی ہوئی شرحِ اموار کے لحاظ سے شرحِ پیدائش میں بھی کمی کی جدوجہد کر رہے ہیں کم وبیش اس انداز کی تعمیل ہوئی۔ ہندوستان میں آبادیاتی عبور ابھی پورا نہیں ہوا ہے کیوں کہ شرحِ اموات تو کم ہوئی ہے لیکن شرحِ پیدائش اس حدتک کم نہیں ہو سکی ہے۔



سرگرمی 2.1

پچھلے صفحے کے سیکشن اور با کس 2.1میں مالتھس کے قول کو پڑھیے۔ مالتھس کیوں غلط ثابت ہوا۔ اس کی ایک وجہ زراعت کی پیداواریت میں کافی حدتک اضافہ ہونا ہے۔ کیا آپ دریافت کرسکتے ہیں کہ کس طرح یہ بڑھی ہوئی پیداوری صلاحیت حاصل کی گئی۔ یعنی وہ عوامل کون سے تھے جن کے ذریعے زراعت میں زیادہ پیداوار یت آئی؟ کچھ دوسرے اسباب کیا ہوسکتے ہیں جن سے پتہ چلے کہ مالتھس غلط تھا؟ اپنے ہم جماعتوں سے بحث کیجیے اور اپنے استاد کی مدد سے ایک فہرست تیار کیجیے۔

عام تصورات اور اظہار 

اکثر آبادیاتی تصورات کو شرح یا تناسب کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس میں دو اعداد شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک عدد خاص شماریاتی ہوتاہے جس کو ایک مخصوص جغرافیائی انتظامی اکائی کے لیے شمار کیا جاتاہے، دوسرا عدد موازنے کا ایک معیار فراہم کرتاہے۔ مثال کے لیے شرح پیدائش کسی مخصوص علاقے (ایک پورا ملک۔ ایک ریاست یا کوئی دوسری علاقائی اکائی) میں ایک مخصوص مدت کے دوران (عام طور پر ایک سال) اس علاقے کی کل آبادی کو ایک ہزار سے تقسیم کرنے کے ذریعے حاصل زندہ پیدائشوں کی تعداد ہے۔ دوسرے لفظوں میں شرح پیدائش فی 1000آبادی پر زندہ پیدائشوں کی تعداد ہے شرحِ اموات اسی طرح شمار سے متعلق ہے جیسے ایک مخصوص مدت کے دوران ایک مخصوص علاقے میں فی 1000آبادی پر اموات کی تعداد کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ شماریات ان خاندانوں (جن میں پیدائش یا اموات واقع ہوتی ہے) کے ذریعے دی گئی اطلاع کی بنیاد پر منحصر ہے۔ درحقیقت زیادہ تر ملکوں بشمول ہندوستان میں لوگوں کو پیدائش اور اموات سے متعلق اطلاع متعلقہ حکام یعنی مقامی پولیس اسٹیشن یا ابتدائی مرکز صحت (گاؤں کے معاملے میں)، متعلقہ میونسپل دفتر (قصبے اور شہروں کے معاملے میں) میں دینا ضروری ہے۔ 
آبادی میں قدرتی اضافے کی شرح یا آبادی کی شرح افزائش سے مراد شرح پیدائش اور شرحِ اموار کے درمیان فرق ہے۔ جب کہ یہ فرق صفر ہے (یا عملاً بہت ہی مختصر ہے) تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ آبادی مستحکم ہے یا سطح بدل یا بھرپائی کی سطح تک پہنچ چکی ہے جو نئی نسلوں کے لیے پرانے لوگوں (جو ختم ہو رہے ہیں ) کی جگہ لینے کے لیے مطلوبہ شرح افزائش ہے۔ کبھی کبھی سوسائیٹیوں میں ایک منفی شرح افزائش کا تجربہ ہوتا ہے۔ یعنی ان کی شرح بار آوری کی سطح بھرپائی کی شرح سے نیچے ہوتی ہے۔ یہ آج دنیا کے کئی ملکوں اور خطوں جیسے جاپان،روس، اٹلی اور مشرقی یورپ میں صحیح ہے۔ جب کہ دوسری طرف کچھ سوسائٹیوں میں بہت اونچی شرحِ افزائش ہے،خاص طور پر اس وقت جب وہ پچھلے صفحے میں بیان کیے گئے آبادیاتی عبور کے مرحلے میں ہوں۔
شرح بار آوری سے مراد عمر گروپ میں فی1000زندہ پیدائشوں کی تعداد ہے، یہ عمر عام طور پر 15 تا49 سال مانی جاتی ہے۔ لیکن پچھلے صفحے میں جن دیگر شرحوں (شرحِ پیدائش اور شرحِ اموات) پر بحث کی گئی ہے ان سے الگ یہ خام شرح ہے۔ یہ پوری آبادی کے لیے ایک خام اوسط ہے اور مختلف عمر گروپوں میں فرق کا لحاظ نہیں کرتی۔ مختلف عمر گروپوں میں فرق کبھی کبھی اشاریوں یااظہاریوں کے مفہوم میں کافی اثرانداز ہوسکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آبادیاتی مطالعہ کرنے وا لے مخصوص عمری شرح کا بھی شمار کرتے ہیں۔ کل شرح بار آوری سے مراد ان کل زندہ پیدائشوں کی تعداد ہے جو قیاسی طور پر کوئی عورت جنم دیتی ہے اگر وہ تولیدی عمر گروپ میں زندہ رہتی تو اس عمر گروپ کے ہر حصے میں بچوں کی اوسط تعداد کو اس مخصوص علاقے کے لیے مخصوص عمری شرح بارآوری کے ذریعے متعین کیا جانا چا ہئے۔ اس کے اظہار کا ایک طریقہ اور ہے وہ یہ کہ کل شرح بارآوری پیدائشوں کی اوسط تعداد ہے جو تولیدی عمر کی آخری مدت تک کی حامل عورتوں کے گروپ سے متعلق ہوتی ہے۔ تولیدی عمر کا اندازہ ایک مخصوص مدت کے دوران مشاہدہ کیے گئے مخصوص عمری شرح کی بنیاد پر کیا جاتاہے۔ (وساریہ اینڈ وساریہ 2003) 

سرگرمی 2.2

یہ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے کہ شرح پیدائش میں گراوٹ سست ہے جب کہ شرحِ اموار نسبتاً زیادہ تیزی سے گراوٹ کی طرف مائل ہے۔ وہ کون سے بعض عوامل ہیں جو ایک فیملی یا میاں بیوی کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ ان کے کتنے بچے ہونے چاہئیں؟ اپنی فیملی یا پڑوس میں اس کے امکانی اسباب کے بارے میں معلوم کیجیے کہ ماضی میں لوگ بہت سے بچوں کی پیدائش کی طرف کیوں مائل تھے؟


شرح مرگ اطفال ایک سال کی عمر سے پہلے فی 1000زندہ پیدائشوں میں بچوں کی اموات کی تعداد ہے۔ اس طرح مادری شرحِ اموار عورتوں کی وہ تعداد ہے جو فی 1000زندہ پیدائشوں میں موت کا شکار ہوجاتی ہے۔ طفل اور مادری اموات کی اونچی شرح پس ماندگی اور غربت کا واضح اظہار ہے۔ جیسے جیسے طبی سہولیات، تعلیم کے معیار اور آگہی اور خوش حالی میں اضافہ ہوتاہے، ان شرحوں میں تیزی سے گراوٹ کے سا تھ ساتھ ترقی واقع ہوتی ہے۔ ایک تصور جو کسی قدر پیچیدہ ہے وہ ہے امکان زندگی(Life expectancy)۔ اس سے مراد تخمینی سالوں کی تعداد جس میں ایک اوسط آدمی کے زندہ رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔ (اس کا شمار ایک مخصوص مدت کے دوران کسی مخصوص علاقے میں مخصوص عمری شرحِ اموار پر مبنی شماریات کی بنیاد پر کیا جاتاہے)۔ 
جنسی تناسب ایک مخصوص مدت میں کسی مخصوص علاقے میں فی1000مردوں پر عورتوں کی تعداد کی دلالت کرتا ہے۔ تاریخی طور پر پوری دنیا میں یہ پایا گیا ہے کہ زیادہ تر ملکوں میں مردوں کے مقابلے عورتیں تھوڑا زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ پیدا ہونے والی بچیوں کی تعداد سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔ لگتا ہے قدرت کے ذریعے موٹے طور رپر فی1000بچوں کے لیے943تا952بچیوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود جنسی تناسب کسی قدر عورتوں کے حق میں ہوتا ہے۔ اس کی بظاہر دو وجوہات ہیں۔ پہلی، طفولیت،میں بیماری کے تئیں مدافعت کے معنی میں لگتا ہے کہ بچوں کے مقابلے بچیوں کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ دائرہ حیات کے دوسرے سرے پر اکثر سوسائیٹیوں میں مردوں کے مقابلے عورتوں میں زیادہ عرصے تک جینے کا میلان ہوتا ہے۔ اس طرح مردوں کی نسبت بوڑھی عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر ان دونوں عوامل کا نتیجہ اکثر سیاق وسباق میں جنسی تناسب پر اثر انداز ہونے کی صورت میں نکلا ہے جو موٹے طور پر 1000 مردوں پر 1050 عورتوں کا ہوتا ہے۔ تاہم، یہ بھی دریافت ہوا ہے کہ کچھ ملکوں میں جیسے چین،جنوبی کوریا اور خاص طور پر ہندوستان میں جنسی تناسب میں گراوٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہ مظہر رائج سماج معیار و اصول سے جڑا ہواہے جس میں عورتوں کی نسبت مردوں کی قدر زیادہ ہے۔اس میں بیٹوں کو زیادہ ترجیح ملتی ہے اور بیٹیوں کو نسبتاً زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔
آبادی کی عمری ساخت کل آبادی سے متعلق مختلف عمر گروپوں میں افراد کے تناسب کی دلالت کرتی ہے۔ عمری سا خت ترقی کی سطحوں میں اور اوسط امکان زندگی میں تبدیلیوں کے رد عمل میں تبدیلی ہوتی ہے۔ ابتدائی طور پر کمزور طبی سہولیات امراض اور دیگر عوامل کے سبب عرصۂ حیات نسبتاً کم تھا۔ اس کے علاوہ طفل اور مادری اموات کی اونچی شرح بھی عمری ساخت پر اپنا اثر ڈالتی ہے۔ ترقی کے ساتھ ساتھ معیارِ زندگی میں بہتری پیدا ہوتی جاتی ہے اور اس کے سبب عمر کی امکانیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عمری ساخت میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ چھوٹی عمر کے گروپوں کا نسبتاً آبادی کا قلیل ترین تناسب اور بڑی عمر کے گروپوں کا بڑا تناسب پایا جاتاہے۔ اسے آبادی کے بوڑھے ہونے کے طور پر بھی حوالہ دیا جاتا ہے۔
انحصاری تناسب آبادی کے اس حصے جو متعلقین پر مشتمل ہے (یعنی،بزرگ لوگ جو اتنے بوڑھے ہیں کہ کام نہیں کر سکتے اور اتنے چھوٹے بچے ہیں کہ وہ بھی کام نہیں کر سکتے)اورو ہ حصہ جو برسرکار عمر گروپ پر مشتمل ہے (عام طور پر 15تا64سال کی عمر گروپ) کے ساتھ موازنہ کرنے کی پیمائش ہے۔ انحصاری تناسب 15سال سے کم اور 64سال سے زیادہ عمر گروپ کے لوگوں کی تعداد کو 15تا64سال کی عمر گروپ کے لوگوں کی آبادی سے تقسیم کرنے کے بعد حاصل ہوئی تعداد کے برابر ہوتاہے۔ یہ تناسب عام طور پر فی صد کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ بڑھتا ہوا انحصاری تناسب ان ملکوں کے لیے پریشانی کا سبب بن جاتا ہے جو بوڑھی ہو رہی آبادی کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں کیوں کہ وہاں متعلقین یا منحصر لوگوں کی تعداد بڑھ جانے سے برسرکار عمر والے لوگوں کا تناسب نسبتاً کم ہو جاتاہے جو متعلقین کا بوجھ ڈھونے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک گرتا ہوا انحصاری تناسب معاشی نمواور خوش حالی کا ذریعے بن سکتا ہے کیوں کہ وہاں برسرکار لوگوں کا تناسب کام نہ کرنے والوں کے مقابلے زیادہ بڑا ہوتاہے۔ اسے کبھی کبھی آبادیاتی منافع یا بدلتی عمری ساخت سے ہونے والا فائدہ کہا جاتا ہے لیکن یہ فائدہ عارضی ہوتاہے کیوں کہ برسرکار آبادی والے لوگوں کا بڑا حصہ آگے چل کر کام نہ کرنے والے بوڑھے لوگوں کی شکل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

2.2  ہندوستان کی آبادی کا حجم اور افزائش

ہندوستان دنیا میں چین کے بعد دوسرا سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق اس کی کل آبادی121کروڑ (یعنی1.21بلین) ہے جیسا کہ جدول 1میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کی آبادی کی شرح افزائش ہمیشہ بہت اونچی رہی ہے۔ سال 1901-1951 کے دوران اوسط سالانہ شرح افزائش1.33 فی صد سے زیادہ نہیں ہوئی جو کہ ایک عام شرحِ افزائش کہی جاسکتی ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ1911سے1921کے دوران شرح افزائش منفی0.03 فی صد تھی۔ اس کی وجہ 1918-19 کے دوران انفلوئنزا وبا پھیلی تھی جس نے تقریباً 12.5ملین لوگوں یعنی ملک کی کل آبادی کے5 فیصدکو موت کا شکار بنادیا (وساریا اور وساریا (2003:191۔ برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے بعد آبادی کی شرح میں کافی اضافہ ہوا اور 1961-1981 کے دوران  2.2 فی صد پہنچ گئی۔ تب سے اگرچہ سالانہ شرح افزائش میں گراوٹ تو آئی ہے پھر بھی وہ ترقی پزیر دنیا میں سب سے اونچی بنی ہوئی ہے۔ چارٹ1میں خام پیدائش اور اموات کی شرح کی تقابلی حرکت دکھائی گئی ہے۔ آبادیاتی عبور کے مرحلے کا اثر گراف میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شرح 1921سے 1931تک کے دہے کے بعد ایک دوسرے کی مخالف سمت میں جانے لگی تھی۔

جدول1: ہندوستان کی آبادی اور 20ویں صدی میں اس کی افزائش


سال کل آبادی لاکھوں میں اوسط سالانہ افزائش% عشری شرح افزائش%
1901
1911
1921
1931
1941
1951
1961
1971
1981
1991
2001
2011
238
252
251
279
319
361
439
548
683
846
1028
1210
-
0.56
 0.03-
1.04
1.33
1.25
1.96
2.22
2.20
2.14
1.95
1.63
5.8
0.3-
11.0
14.2
13.3
21.5
24.8
24.7
23.9
 21.3
17.7
ماخذ: http/ ayush.gov.ins

samaj 1
چارٹ 1:ہندوستان میں شرح پیدائش اور اموات 2011-1901
ماخذ: نیشنل کمیشن آف پاپولیشن، حکومت ہند
شرح فی 1000آبادی پر
شرح اموات
شرح پیدائش


باکس 2.2

1918-19کی ہمہ گیر انفلوئنزا وبا
انفلوئنزا نام کی وبا ایک وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے جو خاص طور پر اوپری مجموعی اعضائے تنفس یعنی ناک،حلق اور پھیپھڑوں کی نالیوں اور کبھی کبھی پھیپھڑوں پر بھی حملہ کردیتی ہے۔ وائرس (مرض کے زہریلے جراثیم) کی جینی بناوٹ کچھ ایسی ہوتی ہے کہ وہ خود بخود چھوٹی بڑی جینی تبدیلی پیدا کرکے خود کو موجودہ ویکسین کے اثر سے محفوظ کر لیتا ہے۔ پچھلی صدی میں انفلوئنزا کے وائرس میں تین بار بڑی بڑی جینی تبدیلی پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ہمہ گیر (عالمی پیمانے پر) وبا(Pandemics) پھیلی اور کافی بڑی تعداد میں لوگ انفلوئنزا میں مبتلا ہوئے اور اموات کا شکار بنے۔ ان میں سب سے زیادہ خطرناک وبا ’’اسپینش فلو‘‘، تھی جو دنیا کی آبادی پر زبردست اثرانداز ہوئی اور ایسا سمجھا جاتا ہے کہ 1918-1919کے دوران اس میں مبتلا ہو کر کم سے کم 4کروڑ لوگ موت کے منھ میں چلے گئے۔ اس کے بعد انفلوئنزا کی وبا ملک گیر سطح پر کئی علاقوں میں دوبارہ پھیلی۔1957میں ایشین انفلوئنزا اور 1968میں ہانگ کانگ انفلوئنزا اور اس سے عالمی سطح پر لاکھوں لوگ مبتلا ہوئے اور موت کا لقمہ بن گئے۔
1918-19کے اسپینش فلو سے عالمی سطح پر مجموعی طور پر کتنی اموات ہوئیں۔ یہ ٹھیک ٹھیک بتانا ممکن نہیں ہے لیکن یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پوری دنیا کی کل آبادی کا20 فیصدحصہ کچھ حدتک اس وبا میں مبتلا ہوا اور 2.5سے 5 فیصدتک انسانی آبادی اس کے سبب موت کا شکار بنی۔ انفلوئنزا سے پہلے 25ہفتوں میں ڈھائی کروڑ لوگ فو ت ہوئے۔  اس کے برخلاف ایڈس کی بیماری سے پہلے 25سال میں ڈھائی کروڑ لوگوں کی موت ہوئی۔ انفلوئنزا دنیا بھر میں پھیل گیا اور اس سے چھ مہینے میں 250لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کی موت ہوئی۔ دیگر اندازے کے مطابق مرنے والوں کی کل تعداد اس سے دوگنی سے بھی زیادہ یعنی10کروڑ تک ہوسکتی ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکا میں تقریباً28 فیصدآبادی اس وبا کا شکار ہوئی اور ان میں سے 500,000 سے 675,000 لوگ موت کا لقمہ بنے۔ برطانیہ میں اس سے مرنے والوں کی تعداد 2,00,000اورفرانس میں 4,00,000 سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ الاسکا اور جنوبی افریقہ میں  اس سے گاؤں کے گاؤں تباہ ہوگئے۔ آسڑیلیا میں اس سے 10,000 لوگ مرے اور فجی مجموعہ الجزائر میں صرف دو ہفتوں میں وہاں کی 14 فی صدآبادی ضائع ہوگئی اور مغربی سمووا میں 22 فی صد لوگ مارے گئے۔ ہندوستان میں تقریباً 170 لاکھ لوگ مارے گئے یعنی اس وقت کی ہندوستان کی آبادی کی تقریباً 5 فی صد آبادی کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ برطانوی ہندوستانی فوج میں تقریباً 22 فی صد فوجی اس وبا میں مبتلا ہوکر موت کا لقمہ بنے۔
اگرچہ پہلی عالمی جنگ اس فلو کی براہ راست وجہ نہیں تھی لیکن فوجیوں کے ساتھ ساتھ رہنے اور ان کی اجتماعی نقل وحرکت سے وبا کے پھیلاؤ میں تیزی آئی۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ جنگ کے تناؤ بھرے ماحول میں اور کیمیائی حملوں کے سبب مرض سے مقابلہ کرنے یا مدافعت کا نظام کمزور ہوگیا تھا جس کے سبب وبا کی لپیٹ میں آنے کا امکان بڑھ گیاتھا۔ 
ماخذ: وکی پیڈیا اور عالمی تنظیم برائے صحت کے ویب صفحات سے مرتب :
http://en.wikipedia.org/wiki/Spanish_flu   
http://www.who.int/mediacentre/factsheets/fs211/en/ 

1931سے پہلے شرحِ اموات اور شرح پیدائش دونوں اونچی تھیں،اس عبوری مدت کے بعد شرحِ اموات تیزی سے گرنے لگی لیکن شرح پیدائش میں گراوٹ تھوڑی ہلکی رہی ہے۔
1921کے بعد شرحِ اموات میں گراوٹ کی اہم وجہ یہ تھی کہ قحط سالی اور وبائی بیماریوں پر قابو پانے کی سطح بڑھ گئی تھی۔ اس میں وبائی بیماریوں کی روک تھام غالباً زیادہ اہم ثا بت ہوئی۔ پہلے متعدد بڑے وبائی امراض تھے جن میں کئی طرح کے بخار،طاعون،چیچک اور ہیضہ زیادہ خطرناک تھے۔ لیکن 1918-19 میں انفلو ئنزا نام کے وبائی مرض نے تو اکیلے ہی ملک بھر میں تباہی مچا دی جس میں125لاکھ یعنی سواکروڑ لوگوں کو یعنی اس وقت کی ہندوستان کی کل آبادی کے تقریباً 5 فی صد حصے کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔(اس وبائی مرض سے ہونے والی اموات کے بارے میں الگ الگ اندازہ لگایا گیا جن میں سے کچھ کے اعدادو شمار بہت زیادہ تھے۔ اسپینی فلو نام سے معروف انفلوئنزا پینڈیمک جو ایک عالمی مظہر تھا (یعنی پوری دنیا اس کی لپیٹ میں تھی) کے بارے میں باکس دیکھیں۔ پینڈیمک ایک وبا ہے جو ایک نہایت وسیع جغرافیائی علاقے پر اثرانداز ہوتی ہے۔ فرہنگِ اصطلاحات دیکھیں)۔
ان بیماریوں کے لیے طبی دیکھ بھال میں بہتری،بڑے پیمانے پر چلائے گئے ٹیکہ کاری کے پروگرام اور صفائی ستھرائی کو بہتر بنانے کی کوششوں سے ان وباؤں پر قابو پانے میں مدد ملی۔ لیکن ملیریا،تپ دق، پیچش اور دست کی بیماریاں آج بھی لوگوں کی جانیں لے رہی ہیں،اگرچہ ان سے مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوتی جتنی کہ پہلے وبا کی شکل میں ظاہر ہونے والی تباہیوں سے ہوا کرتی تھی۔ سورت ستمبر 1994 میں کچھ حدتک طاعون کی وبا کی لپیٹ میں آگیا تھاجب کہ 2006 میں ملک کے کئی حصوں میں ڈینگو اور چکن گنیا کی بیماری کے پھیلنے کی اطلاع ملی۔
قحط سالی بھی بڑھتی ہوئی اموات کا ایک اہم اور باربار واقع ہونے والا ذریعہ تھی۔ ایک ایسے زرعی ماحول میں جس میں بارش کی متلون مزاجی کے سبب کھیتی کی پیداوار پر بہت زیادہ خراب ونقصان دہ اثر پڑتا تھا، قحط سالی انتہائی غربت اور ناقص تغذیہ کے جاری رہنے کا موجب بنتی تھی۔ نقل وحمل اور مو اصلات کے مناسب ذرائع کی کمی اور ریاست کی طرف سے ناکافی کوششیں بھی وہ بعض عوامل تھے جو قحط سالی کے لیے ذمہ دار تھے۔ تاہم امرتیہ سین جیسے دانشوروں اور دوسروں کا کہنا ہے کہ قحط سالی کوئی ضروری نہیں کہ اناج کی پیداور میں کمی کے سبب پیدا ہو۔ ’استحقاق کی ناکامی‘ یا غذا خریدنے اور کسی سے حاصل کرنے کی لوگوں کی نااہلیت کے سبب بھی قحط سالی واقع ہوتی رہتی ہے۔ ہندوستان کی زراعت کی پیداواریت میں کافی بہتری (خاص طور پر آب پاشی کی توسیع کے سبب) بہتر مواصلاتی ذرائع اور ریاست کے ذریعے تیزی سے راحت پہنچانے اور احتیاطی تدابیر کے سبب قحط سالی سے ہونے والی اموات کو زبردست طور پر کم کرنے میں بہت زیادہ مدد ملی ہے۔ تاہم،ملک کے کچھ پس ماندہ علاقوں سے فا قہ کشی کے سبب ہونے والی اموات کے بارے میں اطلاع ملتی رہتی ہے۔ قومی دیہی روز گار گارنٹی ایکٹ مرکزی حکومت کے ذریعے اٹھایا گیا ایک نیا قدم ہے جس سے دیہی علاقوں میں بھوک اور فاقہ کشی کے مسئلے سے نبٹنے میں مدد ملے گی۔
شرحِ اموات کے برعکس شرح پیدائش میں تیز گراوٹ نہیں دیکھی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرح پیدائش ایک سماجی وثقافتی مظہر ہے جس میں تبدیلی نسبتاً دھیمی رفتار سے پیدا ہوتی ہے۔ بڑی حدتک خوش حالی کی بڑھتی سطح شرحِ پیدائش کو مضبوطی سے نیچے کھینچتی ہے۔ جب ایک بار شرحِ مرگ اطفال میں گراوٹ آجاتی ہے اور تعلیم اور بیداری کی سطحوں میں بھی کل ملا کر اضافہ ہو جاتا ہے تو پھر کنبے کی جسامت چھوٹی ہونے لگتی ہے۔ جیسا کہ چارٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی ریاستوں میں شرح بار آوری میں کافی زیادہ تنوع پایا جاتاہے۔ کیرل اور تمل ناڈو جیسی کچھ ریاستیں کل شرحِ بار آوری کو (2009)1.7تک نیچے لانے میں کامیاب ہویں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کیرل اور تمل ناڈو میں ایک اوسط عورت 1.7بچے ہی پیدا کرتی ہے جو کہ بھرپائی کی سطح سے کم ہے۔ کیرل کی شرحِ بارآوری بھی بھر پائی کی سطح سے نیچے ہے جس کا مطلب یہ ہوگا مستقبل میں آبادی میں گراوٹ آجائے گی۔ بہت سی دیگر ریاستوں (جیسے ہماچل پردیش، مغربی بنگال،کرناٹک،مہاراشڑ) کی کل شرحِ پیدائش کافی کم ہیں۔ لیکن کچھ ریاستیں خاص طور پر بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اترپردیش ایسی ہیں جہاں آج بھی شرحِ پیدائش بہت زیادہ ہے۔سال 2009 میں ان ریاستوں کی کل شرح بارآوری بتدریج 3.3,3.3,3.9اور 3.7تھی۔ ہندوستان کی 2011کی مردم شماری کی رپورٹ (عارضی)کے مطابق ہندوستان کی کل شرح پیدائش 22.1تھی، جس میں دیہی شرح پیدائش 23.7اور شہری شرح پیدائش 18.0تھی، ہندوستان میں سب سے زیادہ شرح پیدائش اتر پردیش (28.3)اور بہار (28.1)کی تھی اور سال2026تک یہ ریاستیں ہندوستان کی آبادی میں ہونے والے تقریباً نصف (50 فی صد) اضافے کے لیے ذمہ دار ہوں گی۔ اس اضافے میں اکیلے اترپردیش کا حصہ چوتھائی سے تھوڑا کم (یعنی 22 فی صد) ہونے کی امید ہے۔ چارٹ 3 ہندوستان کی افزائشِ آبادی میں ریاستوں کے الگ الگ علاقائی گروپوں کے نسبتی حصے کو ظاہر کرتا ہے ۔
5
چارٹ 2: ہندوستان میں ریاست دار شرح پیدائش 2016
ماخذ: ایس آر ایس۔ بلیٹن، حکومت ہند، جولائی 2016

6
چارٹ 3: سال 2006 تک تخمینی آبادی کے علاقہ دار حصے
باقی ریاستیں %10
مہاراشٹر و گجرات %13
اتر پردیش و گجرات %28
آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو، کیرلا اور کرناٹک %16
مغربی بنگال، اٖڈیشہ و جھارکھنڈ %13
مدھیہ پردیش، راجستھان و چھتیس گڑھ %15
پنجاب، ہریانہ و دہلی %5

2.3  ہندوستان کی آبادی کی عمری ساخت

ہندوستان کی آبادی میں جوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور اوسط عمر زیادہ تر دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ جدول 2سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ملک کی کل آبادی میں 15سال سے کم عمر والے گروپ کا حصہ جو 1971میں42 فی صد کی سب سے اونچی سطح پر تھا گھٹ کر2001میں35 فی صد کی سطح پر آگیا ہے۔16تا 60سال کی عمر گروپ53  فی صد سے کچھ بڑھ کر 59  فی صد ہوگیا ہے جب کہ 60سال سے اوپر کی عمر والے گروپ کا حصہ بہت چھوٹا ہے لیکن وہ اسی مدت کے دوران(5 فی صد تا7 فی صد ) بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ لیکن اگلے دو دہوں میں ہندوستان کی عمری ساخت میں کافی تبدیلی کی توقع ہے اور تبدیلی زیادہ تروسعت عمر کے دونوں سرے پر آئے گی جیسا کہ جدول میں دکھایا گیا ہے۔ 0-14 عمر گروپ کا حصہ تقریباً 11 فی صد گھٹ جائے گا۔ (2001 میں 34 فی صد تھا جو 2026 میں گھٹ کر 23 فی صد ہو جائے گا) جب کہ 60 سال سے زیادہ کے عمر گروپ میں تقریباً 5 فی صد کا اضافہ ہوگا (یہ 2001 کے 7 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 12 فی صد ہو جائے گا) چارٹ 4میں آبادی پر امڈ (Pyramid) کی1961 سے 2016 تک کی قیاسی شکل دکھائی گئی ہے۔

جدول 2: ہندوستان کی عمری ساخت، 1961 تا 2026

سال عمر گروپ    کل
0 تا14 سال 15تا 59 سال 60 سال سے زیادہ  
1961
1971
1981
1991
2001
2011
2026
41
42
40
38
34
29
23
53
53
54
56
59
63
64
6
5
6
7
7
8
12
100
100
100
100
100
100
100
 
عمر گروپ کے کالموں میں ان کے حصوں کا فی صد دیا گیا ہے، ہو سکتا ہے کہ عددصحیح میں کرنے کے سبب ان فی صد حصوں کا میزان100 نہ ہو۔
ماخذ: نیشنل کمیشن آن پاپولیشن ( قومی آبادی کمیشن ) کے آبادی سے متعلق تکنیکی گروپ کے پروجیکشن ( 1996 ) تا ( 2026 ) سے حاصل ڈاٹا پر مبنی
1996 کی رپورٹ کے ویب صفحہ http: / population. nic/facts 1. htm

8
چارٹ4: عمر گروپ پرائڈ 1961, 1981,2001 , 2026s
ہندوستان 1961
آبادی کا فی صد
عورت
مرد
ہندوستان1981
  9
ہندوستان 2001
آبادی کا فی صد
عورت
مرد
ہندوستان 2026
ماخذ: ہندوستان کی مردم شماری ( 2001, 1981, 1961) 

چارٹ 4کے لیے مشق


چارٹ4میں دکھائے گئے عمر گروپ پر امڈوں میں جدول 2 میں پیش عمر گروپ سے متعلق اعدادو شمار کے زیادہ تفصیلی گوشوارے دیے گئے ہیں۔ ان پر امڈوں میں مردوں کے لیے (بائیں طرف) اور عورتوں کے لیے(دائیں طرف) الگ الگ اعدادوشمار دیے گئے ہیں اور ان کے درمیان متعلقہ پانچ سالہ عمر گروپ دکھایا گیا ہے۔ افقی چھڑوں پر (جن میں کسی خاص عمر گروپ کے مرد اور عورتیں دونوں شامل ہے) نظر ڈالنے سے آپ کو آبادی کی عمری ساخت کا اندازہ ہو جائے گا۔ پرامڈ میں عمر گروپ سب سے نیچے 0تا 4سال والے گروپ سے شروع ہوکر سب سے اوپر 80 سال اور اس سے زیادہ کے عمر گروپ تک دیے گئے ہیں۔ جن میں سے تین پرامڈ 1961، 1981 اور 2001 کی دس سالہ مردم شماری اور چوتھا پرامڈ 2026کی قیاسی صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ 2026 کا پرامڈ متعلقہ عمر گروپوں کی قیاس کے مطابق مستقبل کی  شکل کو دکھاتا ہے جو ہر ایک عمرگروپ کی پرانی شرح افزائش کے اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ ایسے قیاس کو پروجیکشن بھی کہا جاتا ہے۔
یہ پرامڈ شرحِ پیدائش میں آئی تدریجی کمی اور امکان زندگی میں اضافے کو دکھاتے ہیں۔ جیسے جیسے زیادہ سے زیادہ لوگ ضعیفی کی عمر تک زندہ رہنے لگتے ہیںتو پرامڈ کا سب سے اوپری حصہ چوڑا ہوتا جاتا ہے اور جیسے جیسے شرح پیدائش کے نئے معاملے نسبتاً کم ہوتے جاتے ہیں پرامڈ کا سب سے نچلا حصہ تنگ ہوتا جاتاہے لیکن شرح پیدائش میں گرواٹ کافی دھیمی رفتار سے آتی ہے۔ اس لیے 1961سے 1981کے دوران پرامڈ کے سب سے نچلے حصوں میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ پرامڈ کے درمیان کا حصہ برابر چوڑا ہوتا جاتا ہے کیوں کہ کل آبادی میں اس کا حصہ بڑھتاجاتاہے۔ اس سے درمیان عمر والے گروپوں میں ایک ابھار بن جاتا ہے جو 2026کے پرامڈ میں صاف دکھائی دیتاہے۔ اسی ابھار کو آبادیاتی منافع کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں اسی سبق میں آگے ذکر کیا جائے گا۔
اس چارٹ کا محتاط طور پر مطالعہ کریں۔ اپنے استاد کی مدد سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ 1961کی نئی نسل(0تا4عمر گروپ) جب آنے والے سالوں میں پرامڈ میں اوپر کی طرف بڑھتی جائے گی تو اس کی کیا حالت ہوگی۔
سال 1961 کا 0-4عمر گروپ بعد کے سالوں کے پرامڈوں میںکہا ں واقع ہوگا؟ 
جب آپ1961سے2026کی طرف بڑھیں گے تو پرامڈ کا کون ساحصہ سب سے چوڑا ہوگا؟
آپ کے خیال میں سال 2051 اور 3001 میں پرامڈ کی شکل کیسی ہوگی؟


جیسے جیسے مختلف خطوں میں شرح بار آوری الگ ہوتی ہے، اسی طرح عمری ساخت میں بھی بہت زیادہ علاقائی فرق پایا جاتا ہے۔ ایک طرف تو حالت یہ ہے کہ کیرل جیسی ریاست عمری ساخت کے معاملے میں ترقی یافتہ ملکوں جیسی عمری ساخت حاصل کرنے لگی ہے، وہیں دوسری طرف اترپردیش کی صورت حال بالکل مختلف ہے جہاں نسبتاً چھوٹے عمر گروپوں میں آبادی کا تناسب کافی زیادہ ہے اور ضعیفوں کا تناسب نسبتاً کم ہے۔ کل ملا کر ہندوستان کی صورتِ حال تقریباً اوسط کی ہے کیوں کہ یہاں اترپردیش جیسی ریاست بھی ہے اور کیرل جیسی ریاست بھی ہے۔ چارٹ 5میں اتر پردیش اور کیرل کے بارے میں سال 2026کی قیاسی آبادی کے پرامڈ دکھائے گئے ہیں۔ کیرل اور اترپردیش کے پرامڈ میں سب سے چوڑے حصوں کے مقام کے فرق کو غور سے دیکھیے۔
10
چارٹ 5: عمری ساخت کے پرامڈ کیرل اور اترپردیش 2026
اترپردیش 2026
آبادی کا فیصد
مرد 
عورت
کیرل 2026
ماخذ: قومی آبادی کمیشن کے آبادی سے متعلق تکنیکی گروپ کے پروجیکشن ( 2006 ) کی رپورٹ
چھوٹی عمر کے گروپوں کی طرف جو میلان پایا جاتا ہے اسے ہندوستان کے لیے سود مند مانا جاتا ہے۔پچھلے دہے میں مشرق ایشیائی معیشتوں کی طرح اور آج کے آئرلینڈ کی طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان کو آبادیاتی منافع،کا فائدہ حاصل ہورہاہے۔ یہ منافع اس حقیقت کے سبب مل رہا ہے کہ برسرکار عمر گروپ کے لوگوں کی موجودہ نسل نسبتاً بڑی ہے اور اسے ضعیف لوگوں کی نسبت چھوٹی نسل کی پرورش کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن یہ فائدہ اپنے آپ ملنے والا نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مناسب پالیسیوں کی سوچ سمجھ کر پابندی کرنی ہوگی جیسا کہ باکس 2.3میں بیان کیا گیا کیاہے۔

باکس  2.3


کیا بدلتی ہوئی عمری ساخت ہندوستان کے لیے آبادیاتی منافع پیش کررہی ہے؟

آبادیاتی فائدہ یا ’منافع‘ آبادی کی عمری ساخت سے اس حقیقت کے سبب مل سکتا ہے کہ ہندوستان اس وقت پوری دنیا کے نو عمر ملکوں میں سے ایک ہے(اور کچھ عرسے کے لیے آگے بھی رہے گا)۔ سال2000میں ہندوستان کی آبادی کا ایک تہائی حصہ 15سال کی عمر سے نیچے تھا۔ سال 2020 میں ہندوستانیوں کی اوسط عمر صرف 29سال ہوگی جب کہ چین اور ریاست ہائے متحدہ امریکا میں اوسط عمر 37سال،مغربی یورپ میں 45سال اور جاپان میں48سال ہوگی۔ اس کا مطلب یہ کہ ہندوستان کے پاس کافی بڑی اور بڑھتی ہوئی قوت محنت ہوگی جو افزائش اور خوش حالی کے معاملے میں غیر متوقع فوائد فراہم کرسکتی ہے۔
’آبادیاتی منافع‘ آبادی میں کام نہ کرنے والے لوگوں کے مقابلے کام کرنے والے یعنی کمانے والے لوگوں کے تناسب میں اضافے کے نتیجے میں حاصل ہوتاہے۔ عمر کے لحاظ سے برسرکار آبادی موٹے طور پر 15سے 64سال تک کی عمر کی ہوتی ہے۔ برسرکار عمر گروپ خود اپنی پرورش تو کرتا ہی ہے ساتھ ہی اسے اپنے عمر گروپ سے باہر کے عمر گروپ (یعنی بچوں اور بوڑھوں) کو بھی سہارا دینا ہوتا ہے جو خود کام نہیں کرسکتے ہیں اور اس لیے منحصر ہوتے ہیں۔ آبادیاتی عبورسے عمری ساخت میں ہونے والی تبدیلی انحصاری تناسب کو یعنی آبادی کے نہ کمانے والے عمر گروپ اور کمانے والے یعنی برسرکار عمر گروپ کے درمیان تناسب کو کم کردیتی ہے جس سے افزائش ہونے کا امکان پیدا ہوجاتاہے۔
لیکن اس امکان کو حقیقی افزائش میں تبھی بدلا جاسکتا ہے جب برسرکار عمر گروپ میں تعلیم اور روزگار کی سطحوں میں بھی اس لحاظ  سے اضافہ ہوتا جائے۔اگر قوت محنت میں شامل نئے لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہوں گے تو ان کی پیداواری صلاحیت کم رہے گی۔ اگر وہ بے روزگار رہتے ہیں تو وہ بالکل بھی نہیں کماسکیں گے اور کمانے والوں کی بجائے منحصر یا متعلقین کے زمرے میں شامل ہوجائیں گے۔ لہٰذا اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ عمری ساخت میں تبدیلی پیدا ہونے سے فائدہ حاصل ہوجائے گا جب تک کہ منصوبہ بند ترقی کے ذریعے ان کا صحیح طریقے سے استعمال نہ کیا جائے۔ اصل مسئلہ تو  انحصاری تناسب کی تعریف کولے کر ہے کیوں کہ یہ کام نہ کرنے والوں کی عمر اور کام کرنے والوں کی عمر کے تناسب پر مبنی ہوتا ہے نہ کہ روزگار کی حیثیت پر۔ اصل بات یہ ہے برسرکار عمر گروپ کافرد بے روزگار بھی ہوسکتا ہے۔ برسرکار عمر گروپ اور بے روز گار گروپ کے درمیان کا فرق بے روز گاری اور کم روزگار کی صورت حال پر مبنی ہے۔ بے روز گار یا کم روزگار قوت محنت کے ایک حصے کو پیداواری عمل سے باہر رکھتی ہے۔ اس فرق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ملک آبادیاتی منافع کا فائدہ کیوں اٹھاتے ہیں جب کہ کچھ اور ملک ایسا نہیں کرپاتے۔
درحقیقت ہندوستان کو آبادیاتی منافع کے ذریعے تخلیق کیے گئے مواقع دستیاب ہیں۔ عمر گروپوں کی اصطلاح میں معین انحصاری تناسب پر آبادیاتی رجحانات کا اثر صاف طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کل انحصاری تناسب جو 1970 میں 79 تھا، وہ 2005 میں گرکر 64پر آگیا ہے۔ اسی بات کا پورا امکان ہے کہ یہ عمل اس صدی میں آگے بھی جاری رہے گا جس کے نتیجے میں عمر پر مبنی انحصاری تناسب2025میں 48تک گرسکتا ہے کیوں کہ آبادی میں بچوں کا تناسب آگے بھی گرتا جائے گا لیکن یہ انحصاری تناسب پھر بڑھتے ہوئے2050میں 50تک پہنچ جائے گا کیوں کہ ضعیفوں کے تناسب میں اضافہ ہوجائے گا۔
بہرحال مسئلہ روزگارکا ہے۔سال1999-2000کے نیشنل سیمپل سروے کے مطالعے اور 2001کی ہندوستان کی مرد م شماری سے پتہ چلتا ہے کہ دیہی اور شہری دونوں طرح کے علاقوں میں روز گار پیدا کرنے (کام کے نئے مواقع پیدا کرنے) کی شرح میں ایک ساتھ بھاری گراوٹ آئی ہے۔ یہ صورت حال نوجوانوں کے معاملے میں بھی صحیح ہے۔15تا 30سال کے عمر گروپ میں روزگار کی شرح اضافہ 1987 سے 1994کے درمیان کی مدت میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے مردوں کے لیے تقریباً 2.4 فی صد سالانہ تھی۔ یہ1994سے 2004کے دوران دیہی مردوں کے لیے گھٹ کر 0.7 فی صد اور شہری مردوں کے لیے گھٹ کر0.3 فی صد کی سطح پر آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک نوجوان مزدور طبقہ کے ذریعے پیش کردہ افادیت کا فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا ہے۔
آج ہندوستان میں آبادیاتی مواقع کی جو دستیابی ہے اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے حکمت علمی تو موجود ہے۔ لیکن ہندوستان کے حالیہ تجربے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بازار کی قوتیں خود یہ متعین نہیں کرپاتیں کہ ایسی حکمت عملیوں کو نافذ کیا جائے۔ جب تک آگے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ممکن ہے کہ ہم ان فوائد سے محروم ہوجائیں گے جو ملک کی بدلتی ہوئی عمری ساخت سے ہمیں حاصل ہونے والے ہیں۔
ماخذ: فرنٹ لائین جلد23،شمارہ.01جنوری14تا27،2006میں سی۔پی چندر شیکھر کے آرٹیکل سے لیاگیا۔


سرگرمی 2.3

آپ کے خیال میں عمری ساخت کا نسلوں کے درمیان تعلقات پر کیا اثر پڑتا ہے؟ مثال کے لیے کیا اونچا انحصاری تناسب نوجوان اور بزرگ نسلوں کے درمیان زیادہ تنازعہ کی صورت حال پیدا کرسکتا ہے؟ ان سوالات پر کلاس میں بحث کریں اور وجہ بتاتے ہوئے اپنے نتائج کی فہرست تیار کرنے کی کوشش کریں۔

2.4ہندوستان میں گرتاہوا صنفی تناسب

صنفی تناسب آبادی میں صنفی توازن کا ایک اہم اشاریہ ہے۔جیسا کہ پہلے تصورات سے متعلق سیکشن میں کہاگیا ہے تاریخی لحاظ سے صنفی تناسب تھوڑا عورتوں کے حق میں رہا ہے یعنی فی1,000مردوں پر عورتوں کی تعداد عام طور پر 1000 سے کچھ اوپر ہی رہتی آئی ہے۔ تاہم جیسا کہ جدول 3سے ظاہر ہوتاہے کہ ہندوستان میں عورت مرد تناسب پچھلی ایک صدی سے کچھ زیادہ عرصے سے گرتا جارہا ہے۔ 20 ویں صدی کے شروع میں ہندوستان میں فی 1000مردوں پر عورتوں کی تعداد972تھی لیکن 21ویں صدی کے شروع میں عورت مرد تناسب گھٹ کر 933 ہوگیا ہے۔ پچھلے چاردہوں کا رجحان خاص طور پر تشویش ناک رہا ہے،1961میں صنفی تناسب 941 تھا جو گھٹتے ہوئے اب تک کے سب سے نیچے کی سطح 927 پر آگیا حالاں کہ 2001 میں اس میں پھر معمولی سا اضافہ ہوا ہے۔سال 2011کی ہندوستان کی مردم شماری کے عارضی ڈاٹا کے مطابق صنفی تناسب میں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ فی 1000مردوں پر 940عورتیں ہو گیا ہے ۔ 
لیکن آبادیات کا مطالعہ کرنے والوں،پالیسی سازوں،سماجی کا رکنان اورسماجی سروکار رکھنے والے شہریوں کو واقعتا اس حقیقت نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کے صنفی تناسب میں زبردست گراوٹ پیدا ہوئی ہے۔ مخصوص عمری صنفی تناسب 1961میں شمار ہونا شروع ہوا جیسا کہ جدول 3 میں دکھایا گیاہے، 0تا6عمر گروپ کا صنفی تناسب( جسے کمسنی یا اطفال صنفی تناسب کہا جاتا ہے) عام طور پر سبھی عمر گروپوں کے لیے مجموعی صنفی تناسب سے کافی اونچا رہتا آیا ہے لیکن اب اس میں بڑی تیزی سے گراوٹ آرہی ہے۔ درحقیقت1991سے2001تک کے دہے کے اعدادو شمار میں یہ بے قاعدگی دکھائی دیتی ہے کہ مجموعی صنفی تناسب میں جہاں اب تک کی سب سے زیادہ 6 نمبروں کا اضافہ (کم ترین927سے 933) درج ہوا ہے لیکن اطفال صنفی تناسب 18نمبروں کا غوطہ لگا کر 945سے گھٹ کر927کی سطح پر آگیا اور اس طرح وہ پہلی بار مجموعی صنفی تناسب سے نیچے چلاگیا ہے۔سال 2011کی مردم شماری (عارضی) کے مطابق بچوں کے صنفی تناسب میں پھر (13)نمبروں کی گراوٹ آئی اور یہ 914ہو گیا۔ایک مضمون کے مطابق 2017میں یہ تناسب بڑھ کر 919ہوگیا ہے ۔

جدول3: ہندوستان میں گرتا ہوا صنفی تناسب 1901 تا 2011

سال صنفی تناسب
( سبھی عمر گروپوں میں )
پچھلے دہے کے مقابلے میں فرق اطفال صنفی تناسب 0 تا 6 سال پچھلے دہے کے مقابلے فرق
1901
1911
1921
1931
1941
1951
1961
1971
1981
1991
2001
2011
972
964
955
950
945
946
941
930
934
927
933
943
-
8-
9-
5-
5-
1+
5-
11-
4+
7-
6+
10+
-
-
-
-
-
-
976
964
962
945
927
919
-
-
-
-
-
-
-
12-
2-
17-
18-
8-
نوٹ: صنفی تناسب کی 1000 مردوں پر عورتوں کی تعدادکی شکل میں تعریف کی جاتی ہے۔
مخصوص عمر کے صنفی تناسب کا ڈاٹا 1961 سے پہلے کا دستیاب نہیں۔
سال 2011 کی ہندوستان کی مردم شماری ( عارضی ) دی ٹربیون 2 مارچ 2017, ادیتی ٹنڈن کے مضمون سے لیا گیا۔


ریاستی سطح کے بچوں کے صنفی تناسب اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہیں۔ ہندوستان کی  6 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں بچوں کا صنفی تناسب فی 1000مردوں پر 900عورتوں سے کم ہے۔ پنجاب میں تو بچوں کا صنفی تناسب سب سے کم یعنی 793ہے (یہ واحد ریاست ہے جہاں صنفی تناسب 800سے کم ہے )، اس کے بعد ہریانہ، چنڈی گڑھ، دہلی، گجرات اور ہماچل پردیش کا نمبر آتا ہے ۔ جیسا کہ چارٹ  6  میں دکھایا گیا ہے اتراکھنڈ، راجستھان ، اتر پردیش اور مہاراشٹر ریاستوں میں صنفی تناسب 925 سے کم ہے، جبکہ مدھیہ پردیش، گووا، جموں و کشمیر ، بہار، تمل ناڈو ، کرناٹک اور اوڈیشہ میں یہ ملک بھر اوسط صنفی تناسب 927سے زیادہ ہے لیکن 950سے کم ہے ۔ یہاں تک کہ بہترین مجموعی صنفی تناسب والی ریاست کیرل کی حالت بھی 963کے تناسب کے ساتھ بہت اچھی نہیں ہے ۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ صنفی تناسب سکّم میں پایا گیا ہے جو کہ 986ہے ۔ 
آبادیات کا مطالعہ کرنے والے اور ماہرین سماجیات نے ہندوستان میںصنفی تناسب کم ہونے کی کئی وجوہات بتائی ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ صحت سے متعلق ہے۔ عورتوں پر بچوں کی پیدائش کا اثر مردوں سے مختلف ہوتا ہے۔ کیوں کہ وضع حمل یا ولادت میں اموات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جو عورتوں کو ہی سہنا پڑتا ہے اس لیے صنفی تناسب میں کمی ہوسکتی ہے۔ حالاں کہ عورتوں کی شرح اموات میں گراوٹ آ سکتی ہے اگر ترقی کے سبب تغذیہ، عام تعلیم اور بیداری کی سطح بلند ہوتی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی طبی اور مو اصلاتی سہولیات کی دستیابی میں بہتری آتی ہے۔ بے شک،ہندوستان میں مادری شرحِ اموات گھٹتی جا رہی ہے حالانکہ بین الاقوامی معیارات کے مقابلے اب بھی یہ شرح اونچی ہی ہے۔ لہٰذا یہ دیکھنا مشکل ہے کہ کس طرح مادری اموات وقت کے ساتھ صنفی تناسب کو بگاڑنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اطفال صنفی تناسب میں کمی مجموعی اعداد وشمار کی نسبت زیادہ تیزی سے پیدا ہے۔اس لیے سماجی سائنس دانوں کو یقین ہے کہ اس گراوٹ کو بچیوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ میں تلاش کرنا چاہئے۔
 

samaj1
چارٹ 6: ریاستوں کے لحاظ سے اطفال صنفی تناسب کا نقشہ
ماخذ: مردم شماری 2011 کے اعداد وشمار


اطفال صنفی تناسب میں گراوٹ کے لیے کئی عوامل ذمے دار ہوسکتے ہیں جس میں طفولیت یا شیرخواری کے زمانے میں بچیوں کی دیکھ بھال میں بے توجہی جس کے سبب شرحِ اموات اونچی ہوجاتی ہے صنفی مخصوص کا اسقاط حمل جس سے بچیوں کو پیدا ہی نہیں ہونے دیا جاتا اور دختر کشی ( مذہبی یا ثقافتی عقائد کے سبب بچیوں کو مارنا) شامل ہے۔ ان میں سے ہر ایک وجہ سنجیدہ سماجی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس بات کی کچھ شہادت بھی ملتی ہے کہ ہندوستان میں یہ سب اب بھی واقع ہو رہا ہے۔بہت سے خطوں میں دختر کشی کا رواج اب بھی جاری بتایا جاتا ہے جب کہ ایسی جدید طبی تکنیکوں کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے جن کی مدد سے حمل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہی یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچے کا جنس کیا ہے۔ سونوگرام ( الٹراساؤنڈ ٹکنالوجی پر مبنی آلہ تشخیص جو ایکس رے جیسا ہے) جو بنیادی طور پر جینی یا جنین میں دیگر خرابیوں کا پتہ لگانے کے لیے تیار کیاگیا تھا اب جنین کے جنس کی شناخت کرنے اور انتخاب کی بنیاد پر دختر جنین کا حمل ضائع کردینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کچھ علاقوں میں طفلی صنفی تناسب کی نیچی سطح اس دلیل کی تائید کرتی دکھائی دیتی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کم ترین طفلی صنفی تناسب ہندوستان کے سب سے زیادہ خوش حال خطوں میں پایا جاتا ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق مہاراشٹرفی کس آمدنی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آتا ہے ۔ پنجاب، ہریانہ،چنڈی گڑھ،دہلی اور مہاراشٹر فی کس آمدنی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے امیر ریاست کے زمرے میں آتی ہیں اور یہی ریاستیں کم ترین طفلی صنفی تناسب والی ریاستیں ہیں۔ اس لیے انتخابی اسقاط حمل کے مسائل غربت یالاعلمی یا وسائل کی کمی کے سبب نہیں پیدا ہوئے ہیں۔ مثال کے لیے اگر جہیز کی رسم کے سبب ماں باپ کو اپنی بیٹیوں کی شادی میں دینے کے لیے جہیز کی شکل میں موٹی رقم کی ادائیگی کرنی پڑے تو خوش حال امیر والدین ایسا جہیز دینے کی زیادہ حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ سب سے زیادہ خوش حال علاقوں میں ہی صنفی تناسب سب سے کم ہے۔
13
یہ بھی ممکن ہے (حالاں کہ اس مسئلے پر ابھی تحقیق جاری ہے) کہ معاشی طور پر خوش حال خاندان نسبتاً کم، اکثر ایک یا دو بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لیے وہ اپنی مرضی کے مطابق ہی لڑکا یا لڑکی پیدا کرنا چاہیں گے۔الٹرا ساؤ نڈ تکنیک کی دستیابی کے سبب ایسا کرنا ممکن ہوگیا ہے حالاں کہ حکومت نے سخت قانون بنا کر اس طریقے پر پابندی لگادی ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور قید کی سزا عائد کی ہے۔ قبل ولادت تشخیص تکنیک (ناجائز استعمال کا نظم وضبط اور روک) ایکٹ کے نام سے جانا گیا یہ قانون 1996سے لاگوہے اور اسے 2003میں مزید سخت بنادیا گیا ہے۔ تاہم بچیوں کے خلاف تعصب جیسے مسائل کا طویل مدتی حل اس بات پر منحصر ہے کہ کس طرح سماجی رویوں کو تیار کیا جاتا ہے حالاں کہ قوانین وضوابط بھی اس میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔حال ہی میں حکومت نے ’’بیٹی بچاؤ‘‘ اسکیم شروع کی ہے ۔ یہ بچوں کے صنفی تناسب میں اضافے کیلئے کارگر ثابت ہوگی۔ 

2.5خواندگی

خواندگی تعلیم کی لازمی  شرط کے طور پر با اختیار بننے کا ایک ذریعہ ہے ۔ آبادی جتنی زیادہ خواندہ ہوگی ذریعہ ٔ معاش کے متبادلات کے بارے میں شعور اتنا ہی زیادہ ہوگا اور لوگ علم پر مبنی معیشت میں اتنا ہی زیادہ حصہ لے سکیں گے،اس کے علاوہ خواندگی سے صحت کے تئیں بیداری بھی آتی ہے اور کمیونٹی کی معاشی وثقافتی فلاح وبہبود میں بھی پوری شرکت ہوتی ہے۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد خواندگی کی سطح میں کافی بہتری آئی ہے اور ہماری آبادی کا دو تہائی حصہ اب خواندہ ہے۔ پھر بھی شرح خواندگی کو ہندوستان کی آبادی میں اضافہ کی شرح کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑرہی ہے کیوں کہ ہماری آبادی کی شرح افزائش اب بھی کافی اونچی بنی ہوئی ہے۔ اس لیے نئی نسل کو خواندہ بنانے کے لیے لازمی طور پر زیادہ کوشش کیے جانے کی ضرورت ہے کیوں کہ ہماری نئی نسلیں تعداد کے لحاظ سے پہلے کے مقابلے میں بہت دھیمی رفتار سے کچھ کم ہوتی جارہی ہیں (یاد کریں کہ اسی باب میں پہلے عمر ساخت اور آبادی پر امڈوں کے بارے میں بحث کی جاچکی ہے) ۔
مختلف صنفوں، علاقوں اور سماجی گروپوں میں شرح خواندگی میں کافی تنوع پایا جاتا ہے جیسا کہ جدول 4میں دیکھا گیا ہے کہ عورتوں میں شرح خواندگی مردوں کی شرح خواندگی سے تقریباً16.7 فی صد کم ہے(ہندوستان کی مردم شماری 2011عارضی)۔ حالاں کہ عورتوں میں شرح خواندگی مردوں کے مقابلے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں میں شرحِ خواندگی نسبتاً نچلی سطحوں سے بڑھنی شروع ہوئی ہے۔ اس طرح عورتوں کی شرحِ خواندگی میں 2001سے 2011تک کی مدت میں تقریباً 11.2 فی صد کی شرح سے اضافہ ہوا جب کہ مردوں کی شرح خواندگی 6.2 فی صد بڑھی ہے(عارضی)۔ مجموعی طور پر خواندگی میں تقریبًا9فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ مردوں کی خواندگی میں تقریبًا6فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ عورتوں کی خواندگی میں تقریبًا 10فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ عورتوں کی خواندگی میں ایک بارپھر مردوں کے مقابلے زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ مختلف سماجی گروپوں میں ہی شرح خواندگی میں فرق پایا جاتاہے۔ تاریخی لحاظ سے سہولیات سے محروم کمیونٹیوں جیسے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل میں شرح خواندگی نیچے رہی ہے اور ان کمیونٹیوں میں عورتوں کی شرح خواندگی تو اور بھی نیچے ہے۔ اس معاملے میں مختلف علاقوں میں فرق بہت زیادہ ہے، ایک طرف جہاں کیرل جیسی کچھ ریاستیں ہمہ گیر خواندگی کو پہنچ رہی ہیں جب کہ بہار جیسی ریاستیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ شرحِ خواندگی میں پائے جانے والے فرق اس لیے بھی خاص طور پر اہم ہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے نسلوں کے درمیان بھی فرق پیدا ہوتا ہے۔ ناخواندہ والدین یہ یقینی بنانے کے مواقع سے بہت زیادہ محروم ہوتے ہیں کہ اُن کے بچے بہت تعلیم یافتہ ہوں اس لیے یہ نا برابری بھی آگے جاری رہتی ہے۔

ھندوستانی سماج کی آبادیاتی ساخت

جدول 4: ہندوستان میں شرح خواندگی
7سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی کا فی صد
سال افراد مرد عورتیں شرح خواندگی مرد اور عورت کے درمیان فرق
1951
1961
1971
1981
1991
2001
2011
18.3
28.3
34.5
43.6
52.2
65.4
73.0
27.2
40.4
46.0
56.4
64.1
75.9
80.9
8.9
15.4
22.0
29.8
39.3
54.2
64.6
18.3
25.1
24.0
26.6
24.8
21.7
16.3
ماخذ: ھندوستان کی مردم شماری 2011 ( عارضی )

 

2.6 دیہی شہری فرق

ہندوستان کی آبادی کی بڑی اکثریت ہمیشہ سے ہی دیہی علاقوں میں رہتی رہی ہے۔ یہی بات آج کے لیے بھی صحیح ہے۔ 2011 کی مردم شماری(عارضی) سے پتہ یہ چلتا ہے کہ ہماری آبادی کا68.8 فی صد حصہ آج بھی گاؤں میں رہتا ہے اور 31.2 فی صد حصہ شہروں اور قصبوں میں ۔ لیکن جیسا کہ جدول5میں دکھایا گیا ہے کہ شہری آبادی کا حصہ برابر بڑھتا جارہا ہے جو 20 ویں صدی کے شروع میں تقریباً 11 فی صد تھا لیکن اب 21ویں صدی کے شروع میں تقریباً28 فی صد ہوگیا ہے۔ اس طرح اس میں تقریباً ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سوال صرف آبادی کا ہی نہیں ہے۔ جدید ترقی کی عمل کاری یہ بھی یقینی بناتی ہے کہ زراعت پر مبنی دیہی طرز زندگی کی معاشی اور سماجی اہمیت صنعت پر مبنی شہری طرز زندگی کی اہمیت کی نسبت زوال پر ہے۔یہ حقیقت موٹے طور پر پوری دنیا کے لیے ہی صحیح نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے لیے بھی یہ بات سچ ہے۔
ایک عرصے تک زراعت کا ملک کی کل معاشی پیداوار میں سب سے زیادہحصہ ہوتا تھا  لیکن آج کل گھریلو پیداوار میں اس کا حصہ صرف ایک چوتھائی رہ گیا ہے۔ اگرچہ ہمارے عوام کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور اپنی گز ربسر زراعت سے ہی چلاتی ہے لیکن وہ جو پیداوار کرتی ہے اس کی نسبت معاشی قدر کافی گھٹ گئی ہے۔ مزید برآں زیادہ سے زیادہ لوگ جو گاؤں میں رہتے ہیں اب زراعت میں حتیّٰ کہ گاوں میں کام نہیں کرتے ہیں۔ د یہی لوگ کھیتی کاشتکاری سے الگ نقل وحمل خدمات، کاروباری مہم یا دستکاری جیسے مختلف دیہی کاروباروں کو زیادہ سے زیادہ اپناتے جارہے ہیں۔اگر ان کا گاؤں کسی شہر کے کافی پاس ہو تو وہ گاؤں میں رہتے ہوئے بھی کام کرنے کے لیے روزانہ اس قریبی شہر میں جاتے رہتے ہیں۔
ماس میڈیا (ذرائع ابلاغ) اور ترسیلی چینل اب دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے سامنے شہری طرز زندگی اور صرف کی شکلوں کی تصویریں پیش کررہے ہیں۔ نتیجتاً دوردراز کے گاؤں میں رہنے والے لوگ شہری نمونوں اور معیارات سے اچھی طرح واقف ہوتے جارہے ہیں۔ ان میں بھی صرف کے لیے نئی خواہشات اور تمنائیں جنم لے رہی ہیں۔ عوامی منتقلی اور عوامی ترسیل اب شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان خلا کو پر کرنے کا کام کررہی ہیں۔پہلے بھی، دیہی علاقے بازار کی قوتوں کی پہنچ سے کبھی باہر نہیں رہے اور آج تو حالت یہ ہے کہ وہ صارف بازار سے کہیں زیادہ گہرائی سے جڑ رہے ہیں۔ (بازاروں کے سماجی کردار پر باب4میں بحث کی جائے گی)۔
15
 

جدول: 5 دیہی اور شہری آبادی کل آبادی کا فی صد
سال آبادی ( لاکھوں میں )
دیہی شہری دیہی شہری
1901
1911
1921
1931
1941
1951
1961
1971
1981
1991
2001
2011
213
226
223
246
275
299
360
439
524
629
743
833
26
26
28
33
44
62
79
109
159
218
286
377
89.2
89.7
88.8
88.0
86.1
82.7
82.0
80.1
76.7
74.3
72.2
68.8
10.8
10.3
11.2
12.0
13.9
17.3
18.0
19.9
23.3
25.7
27.8
31.2
ماخذ: http/ / ayush.gov.in






شہری نقطۂ نگاہ سے غور کیا جائے تو شہر کاری میں ہو رہے تیز اضافے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قصبے یا شہر دیہی عوام کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ جن لوگوں کو دیہی علاقوں میں کام( یاکافی کام) نہیں ملتا وہ کام کی تلاش میں شہر چلے جاتے ہیں۔ گاؤں سے شہروں کی طرف نقل پذیری کی رفتار میں اس لیے بھی تیزی آئی ہے کہ گاؤں میں تالابوں،جنگلوں اور چراگا ہی زمینوں جیسے مشترکہ جائداد کے وسائل میں مستقل زوال آتا جارہا ہے۔ پہلے ساجھے وسائل سے غریب گاؤں میں گزربسر کر لیا کرتے تھے اگرچہ ان کے پاس زمین بہت کم یا بالکل نہیں ہوا کرتی تھی۔ اب یہ وسائل نجی جائداد کی شکل میں بدل گئے ہیں یاختم ہو گئے ہیں(تالاب یا تو سوکھ گئے ہیں یا پھر ان سے کافی مقدار میں مچھلی نہیں ملتی۔ جنگل یا تو کاٹ ڈالے گئے ہیں یا غائب ہوگئے ہیں)۔ اب جب کہ لوگوں کے پاس یہ وسائل نہیں رہے لیکن دوسری طرف انھیں ایسی بہت سی چیزیں جو انھیں پہلے مفت میں ملتی تھیں (جیسے ایندھن، چارہ یادیگر تکمیل غذائی اشیا) اب بازار سے خریدنی پڑتی ہیں تو ان کی مشکل بڑھ جاتی ہے۔ یہ مشکل صورتِ حال اس حقیقت سے اور بھی بدتر ہوجاتی ہے کہ نقد آمدنی کمانے کے مواقع گاؤں میں کم ہوگئے ہیں۔
کبھی کبھی لوگ شہری زندگی کو کچھ سماجی وجوہات سے بھی پسند کرتے ہیں۔ جیسے کہ شہروں میں گمنامی کی زندگی بھی جی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت کہ شہری زندگی میں اجنبیوں سے بھی رابطہ قائم ہوتارہتا ہے جو مختلف وجوہات کی بناپر فائدہ مند ثابت ہوسکتاہے۔ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل جیسے سماجی طور پر پس ماندہ گروپوں کو روز مرہ کی اس ذلت سے کچھ جزوی تحفظ حاصل ہوتا ہے جو انھیں گاؤں میں بھگتنی پڑتی ہے جہاں پر ہر کوئی ان کی ذات کی شناخت کو جانتا ہے۔شہری زندگی کی گمنامی کے سبب سماجی لحاظ سے غالب دیہی گروپوں کے نسبتاً غریب لوگ شہر میں جاکر کوئی بھی کم تر سمجھے جانے والے کام کو انجام دینے سے نہیں ہچکچاتے جسے گاؤں میں رہتے ہوئے بدنامی کے ڈر سے وہ نہیں کرسکتے تھے۔ ان سبھی وجوہات کی بناپر شہر گاؤں والوں کے لیے پرکشش منزل مقصود بن گئے ہیں۔ دن بہ دن بڑھتے جارہے شہر آبادی کے اس بہاؤ کے شاہد ہیں۔ مابعد آزادی کے دور میں شہر کاری کی تیز رفتار سے بھی اس حقیقت کی توثیق ہوتی ہے۔
جہاں شہر کاری کا عمل بہت تیز رفتار سے چل رہا ہے وہیں اس کے تحت بڑے شہروں۔ میٹروپولس (ام البلاد) کا پھیلاؤ بھی تیزی سے ہو رہا ہے۔ یہ بڑے شہر دیہی علاقوں اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے قصبوں کے باشندوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔اس وقت ہندوستان میں کل ملاکر 5,161قصبے اور شہر ہیں جن میں 28.60کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ شہری آبادی کا دو تہائی سے بھی زیادہ حصہ ان 27بڑے شہروں میں رہتا ہے جن کی آبادی دس لا کھ سے زیادہ ہے ۔ظاہر ہے ہندوستان میں نسبتاً بڑے شہروں کی آبادی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ شہر کی بنیادی سہولیات اتنی تیزی سے شاید ہی بڑھ سکیں۔ان شہروں میں مواصلات کے ذرائع کا خیال خاص طور پر زیادہ مرتکز رہنے سے ہندوستان کا عوامی چہرہ دیہی کے بجائے زیادہ سے زیادہ شہری ہوتا جارہا ہے۔ تاہم ملک میں سیاسی قوت فراہم کرنے کے عمل میں دیہی علاقے آج بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

سرگرمی 2.4

اپنے اسکول میں یہ پتہ لگانے کے لیے ایک چھوٹا سروے کریں کہ آپ کے ساتھی طلباکے خاندان کب (یعنی کتنی پیڑھیوں پہلے) شہر میں رہنے کے لیے آئے تھے۔ نتائج کا جدول بنا کر ان کے بارے میں کلاس میں بحث کریں۔آپ کے ذریعے کیا گیا سروے دیہی۔ شہری مہاجرت یا نقل پزیری کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ 

2.7  ہندوستان میں آبادی پالیسی

اس باب میں کی گئی بحث سے یہ ظاہر ہوگیا ہو گا کہ آبادی کی حرکت پذیری ایک اہم موضوع ہے اور یہ ملک کی ترقی کے امکانات اور وہاں کے لوگوں کی صحت اور بہبود پر فیصلہ کن طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ خاص طور پر ان ترقی پذیر ملکوں کے معاملے میں زیادہ صحیح ہے جنھیں اس سلسلے میں خصوصی چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ ہندوستان پچھلے پچاس سال سے بھی زیادہ مدت سے ایک سرکاری آبادی پالیسی کی پابندی کرتا رہا ہے۔در حقیقت ہندوستان ہی غالباً ایسا پہلا ملک تھا جس نے 1952میں اپنی آبادی پالیسی کا واضح اعلان کردیا تھا۔
  ہماری آبادی پالیسی نے قومی خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کے طور پر ایک ٹھوس شکل اختیار کی۔اس پروگرام کے مقاصد موٹے طور پر مطلوبہ سمتوں میں آبادی کی افزائش کی شرح اور وضع کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے جیسے رہے ہیں۔ شروعاتی دنوں میں اس پروگرام کا سب سے اہم مقصد: ضبط تولید کی مختلف تراکیب کے ذریعے آبادی کی افزائش کی شرح کو دھیما کرنا،عوامی صحت کے معیارات کو بہتر بنانا اور آبادی اور طبی امور کے بارے میں عوامی شعور کو بڑھانا تھا۔ پچھلے تقریبا پچاس سالوں میں آبادی کے میدان میں ہندوستان کی کئی قابل ذکر حصول یابیاں ہیں جن کا خلاصہ باکس2.4میں پیش کیا گیا ہے۔


باکس 2.4

ہندوستان کی آبادیاتی حصول یابی

قومی خاندانی فلاح وبہبود کے پروگرام کے اپنانے کے پچاس سال بعد ہندوستان میں
خام شرحِ پیدائش(1951) 40.8سے گھٹ کر (2017) 21ہوئی۔
اطفال شرحِ اموات کو 1000زندہ پیدائش(1951) 146سے گھٹ کر (2017) 39 ہوگئی۔
شادی شدہ جوڑوں کی امتناع حمل کی شرح 10.4(Couple contraception rate) فی صد(1971) سے چار گناسے بھی زیادہ بڑھ کر 53 فی صد (2016)ہوا۔
خام شرحِ اموات (1951) 25سے گھٹ کر (2017) 6.7  کی سطح پر آئی۔
امکانیت زندگی 37سال سے بڑھ 64سال ہوئی یعنی27سال مزید بڑھا۔
خاندانی منصوبہ بندی کی ضرورت اور طریقوں کے بارے میں تقریباً ہمہ گیر بیداری پیدا ہوئی اور
کل شرح بارآوری(1951)6.0گھٹ کر نصف سے کم یعنی(2013) 2.3پر آئی
   مآخذ : آبادی کا قومی کمیشن



باکس  2.5

سال2010کے لیے قومی سماجی آبادیاتی اہداف

 بنیادی تولیدی اور اطفال خدمات صحت،رسد اور بنیادی سا خت کی نامکمل ضرورتوں پر توجہ دی جائے۔
14 سال کی عمر تک اسکولی تعلیم مفت اور لازمی بنائی جائے اور پرائمری اور ثانوی اسکولوں کی سطح پر بیچ میں پڑھائی چھوڑنے والے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے فی صد کو گھٹا کر 20 فی صدسے نیچے لایا جائے۔
مرگ اطفال کی شرح کو30فی ہزار زندہ پیدائشوں پر سے نیچے کی سطح پر لایا جائے۔
مادری شرحِ اموات کو100فی1,00,000زندہ پیدائشوں کی سطح کے نیچے لایا جائے۔
ٹیکے کے ذریعے روکی جانے والی سبھی بیماریوں کے خلاف سبھی بچوں کو امراض سے آزادی فراہم کی جائے۔
لڑکیوں کی شادی میں تاخیر یعنی 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو اور ہوسکے تو 20 سال کی عمر کے بعد شادی کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ولادت کے 80 فی صد معاملے،زچہ خانوں جیسے اداروں میں انجام دلائے جائیں اور سبھی 100 فی صد معاملوں میں تربیت یافتہ عملہ کی مدد لیے جانے کا ہدف حاصل کیا جائے۔
انتخاب اور متبادلات کی سہولت کے ساتھ ضبط تولید اور مانع حمل کے لیے معلومات مشاورت اور خدمات کے تئیں ہمہ گیر رسائی حاصل کرنا۔
پیدائشوں، اموات، شادی اور حمل کا 100 فی صد رجسٹریشن حاصل کرنا۔
اکوایر ڈایمینو ڈیفی شینسی سنڈروم (Acquired Immunodeficience Syndrome, AIDS) مرض کو پھیلنے سے روکا جائے اور اعضائے تولید کے انفکشن (Reproductive Tract Infections, RTI) اور جنسی عمل سے ہونے والے انفکشن (Sexually Transmitted infections, STI) کے انتظامیہ اور قومی ایڈس کنٹرول تنظیم کے درمیان زیادہ سے زیادہ ارتباط قائم کیا جائے۔
متعدی یا چھوت سے لگنے والی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کیا جائے۔
تولیدی خدمات اور طبی خدمات برائے اطفال کے اہتمام کے لیے اور خاندانوں تک مدد پہنچانے میں ادویہ کے ہندوستانی نظاموں کو مربوط کیا جائے۔
کل بارآوری شرح(TFR)کی بھرپائی سطحوں کو حاصل کرنے میں چھوٹی فیملی کے معیار کی زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے۔
متعلقہ سماجی سیکٹر کے پروگراموں کے نفاد میں ارتکاز پیدا کیا جائے تا کہ خاندانی فلاح وبہبود عوام مرکوز پروگرام بن سکے۔


ماخذ: قومی آبادی کمیشن

17
مجھے اپنے سیکٹر میں آبادی کم رکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی میں لوگوں کو ملک کے دوسرے حصوں میں منتقل ہونے کے لیے انھیں راضی کرتا ہوں
18
کیا تمھیں فخر نہیں ہے؟ ہمارے یہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جلد ہم اس سے بھی بڑی جمہوریت بن جائیں گے
فیملی پلاننگ پروگرام کو قومی ایمرجنسی(1975-76)کی مدت میں زبردست دھکّا لگا۔ اس وقت عام پارلیمانی اور قانونی عمل التوامیں رہے اور خصوصی قوانین اور آرڈی ننس حکومت کے ذریعے سیدھے طور پر (پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کیے بغیر) لاگو کردیے گئے۔ اس ایمرجنسی کے دوران حکومت کے ذریعے آبادی کی شرح افزائش کو بڑے پیمانے پر سختی سے روکنے کے لیے تولید کے ناقابل بنانے(Sterlisation)کا جبری پروگرام لاگو کیاگیا۔ یہاں تولیدکے ناقابل بنانے سے مراد ایسے طبی طریقۂ کار سے ہے جس سے حمل اور بچے کی پیدائش کے عمل کوروکا جاسکتا ہے۔ مردوں کے معاملے استعمال میں لائی جانے والی آپریشن تکنیک نس بندی اور عورتوں کے لیے بیض نالی نکال دینے یا بند کرنے کے عمل (tubectomy) کے طور پر جانی جاتی ہے۔ زیادہ تر غریب اور بے سہارا لوگوں کی بڑی تعداد کی جبراً  نس بندی کی گئی اور سرکاری ملازمین (جیسے اسکولی ٹیچروں اور دفتری بابوؤں) پر زبردست دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لوگوں کو تولید کے ناقابل بنانے کے لیے لگائے گئے کیمپوں میں اس مقصد کے لیے لائیں۔ اس پروگرام کی عوام میں زبردست مخالفت ہوئی اور ایمرجنسی کے بعد اقتدار میں آئی حکومت نے اس پروگرام کو ترک کردیا۔
ایمرجنسی کے بعد قومی خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کا نام بدل کر قومی خاندانی بہبود پروگرام کردیا گیا اور اپنائے جانے والے جابرانہ طریقوں کو ترک کردیا گیا۔ پروگرام اب وسیع بنیاد والے سماجی آبادیاتی مقاصد کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ قومی آبادی پالیسی2000کے جزو کے طور پر رہنما اصولوں کا ایک نیا مجموعہ وضع کیاگیا۔سال2010کے لیے پالیسی کے اہداف کی شکل میں با کس2.5میں ان کا خلاصہ کیاگیاہے۔ 
ہندوستان کے قومی خاندانی بہبود پروگرام کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اگرچہ ریاست آبادیاتی تبدیلی کے لیے مناسب ماحول تیار کرنے کے لیے بہت کچھ کرسکتی ہے تاہم زیادہ تر آبادیاتی متغیرات (خاص طور سے انسانی بار آوری سے متعلق)  میں آخرکار معا شی، سماجی اور ثقافتی معاملے ہی اہم کردار نبھاتے ہیں۔

سوالات

آبادیاتی منتقلی کے نظریے کی بنیادی دلیل کو واضح کیجیے۔ یہ عبوری دور آبادی دھماکے (بے تحاشہ اضافہ) کے ساتھ کیوں جڑاہوا ہے؟
مالتھس کا یہ عقیدہ کیوں تھا کہ قحط سالی اور وبائی امراض جیسے تباہ کن حادثات جو بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنتے ہیں،ناگزیر ہیں؟
شرحِ پیدائش،اور،شرحِ اموات،سے کیا مراد ہے؟ واضح کیجیے کہ کیوں شرح پیدائش میں کمی نسبتاً دھیمی رفتار سے واقع ہوتی ہے جب کہ شرحِ اموات میں کمی بہت تیزی سے واقع ہوتی ہے۔
ہندوستان میں کون کون سی ریاستیں آبادی افزائش کی بھرپائی سطحوں کو حاصل کر چکی ہیں یا اس کے بہت قریب ہیں؟ کون سی ریاستوں میں اب آبادی کی شرحِ افزائش کافی اونچی ہے؟ آپ کے خیال میں ان علاقائی فرق کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟
آبادی کی عمری ساخت کا کیا مطلب ہے؟ معاشی ترقی اور خوش حالی کے لیے اس کی کیا موزو نیت ہے؟
جنسی تناسب کاکیا مطلب ہے؟ گرتے ہوئے صنفی تناسب کے کیا مضمرات ہیں؟ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ والدین اب بھی بیٹیوں کے بجائے بیٹوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟ آپ کے خیال میں اس پسند کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟

حوالہ جات

Bose, Ashish. 2001. Population of India, 2001 Census Results and Methodology. B.R. Publishing Corporation. Delhi.
Davis, Kingsley. 1951. The Population of India and Pakistan. Russel and Russel. New York.
India, 2006. A Reference Annual. Publications Division, Government of India. New Delhi.
Kirk, Dudley. 1968. ‘The Field of Demography’, in Sills, David. ed. International Encyclopedia of the Social Sciences. The Free Press and Macmillan. New York.
Visaria, Pravin and Visaria, Leela. 2003. ‘India’s Population: Its Growth and Key Characteristics’, in Das, V. ed. The Oxford India Companion to Sociology and Social Anthropology. Oxford University Press. Delhi.

ویب سائٹ

http://populationcommission.nic.in/facts1.htm
http://en.wikipedia.org/wiki/spanish_flu
http://www.who.int/mediacenter/factsheets/fs211/en/
http://www.censusindia.gov.in