Skip to content
QR5273CH03




باب 3

سماجی ادارے تسلسل اور تبدیلی

(Social InstitutionsContinuity and Change)

333333333333333333333333333
باب 2میں ہندوستان کی آبادی کی ساخت اور حرکیات کا مطالعہ کرنے کے بعد اب ہم سماجی اداروں کا مطالعہ کریں گے۔ آبادی محض علاحدہ، غیر متعلق افراد کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک سماج ہے جو مختلف لیکن ایک دوسرے سے جڑے طبقات اور مختلف قسم کی برادریوں سے بنا ہوتا ہے۔ یہ برادریاں سماجی اداروں اور سماجی رشتوں کے ذریعے برقرار رہتی ہیں اور منضبط ہوتی ہیں۔ اس باب میں ہم تین اداروں پر نظر ڈالیں گے جن کو ہندوستانی سماج میں مرکزیت حاصل ہے۔ ان کے نام ہیں: ذات، قبیلہ اور خاندان۔

3.1  ذات اور ذات کا نظام

کسی بھی ہندوستانی کی طرح آپ بھی جانتے ہیں کہ’ ذات‘ ایک قدیم سماجی ادارے کا نام ہے جو ہزاروں سالوں سے ہندوستانی تاریخ اور ثقافت کا جز رہا ہے۔ لیکن اکیسویں صدی میں رہنے والے کسی بھی ہندوستانی کی طرح آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جسے ’ذات‘ کہا جارہا ہے وہ یقینا آج بھی ہندوستانی سماج کا ایک حصہ ہے۔ یہ دو ذاتیں یعنی ایک وہ جس کو ماضی میں سماج کے حصے کے طور پر مانا جاتا تھا اور دوسرے وہ جو آج کل کے سماج کا حصہ ہے، کیا کسی حد تک ایک ہی چیز ہیں؟ یہی سوال ہے جس کا اس سیکشن میں ہم جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

ماضی میں ذات

ذات ایک ایسا ادارہ ہے جو منفرد طور پر بر صغیر ہند سے جڑا ہوا ہے۔ حالاں کہ جہاںدنیا کے دیگر حصوں میں اسی طرح کے اثرات مرتب کرنے والے سماجی بندو بستوں کا وجود تھا لیکن بالکل یہی شکل کہیں نہیں پائی گئی۔ اگرچہ یہ ہندو سماج کی ادارہ جاتی خصوصیت ہے تاہم برصغیر ہند کی اکثر غیر ہندو کمیونٹیوں میں بھی ذات کا پھیلاؤ ہواہے۔ یہ بات بطور خاص مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں کے لیے صحیح ہے۔
جیسا کہ معروف ہے کہ انگریزی لفظ' 'caste پر تگالی لفظ 'casta'سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہے خالص نسل۔ یہ لفظ ایک وسیع ادارہ جاتی بندوبست کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے ہندوستانی زبانوں میں (قدیم سنسکرت زبان کے ساتھ شروع کرتے ہوئے) دو مختلف اصطلاحات ’ورن‘ اور ’جاتی‘ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ورن کا لفظی مطلب رنگ ہے۔ یہ وہ نام ہے جو سماج کی چار طبقاتی تقسیم برہمن، چھتریہ، ویشیہ اور شودر کے لیے دیاگیا ہے۔ اگرچہ اس میں آبادی کے  ایک نمایاں طبقے جو جات باہر کے غیر ملکیوں ، غلاموں، مفتوحہ لوگوں اور دیگر لوگوں پر مشتمل تھا ، کو نہیں شامل کیاگیا ہے تا ہم کبھی کبھی ان کاحوالہ پنچم یا پانچویں زمرے کے طور پر ملتا ہے۔’جاتی‘ ایک عمومی اصطلاح ہے اس سے کسی بھی انواع یا اقسام کا اشارہ ملتا ہے جس میں بے جان چیزوں سے لے کر پودے ، جانوراور نوع انسانی تک شامل ہیں۔ ’جاتی‘ وہ لفظ ہے جس کا عام طور پر استعمال ہندوستانی زبانوں میں ذات کے ادارے کے حوالے کے لیے کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ اس پر غور کرنا ولچسپ ہوگا کہ ہندستانی زبان بولنے والے اکثر لوگ انگریزی لفظ 'caste'کے استعمال کی بھی شروعات کر رہے ہیں۔
ورن اور جاتی کے درمیان جامع رشتہ دانشوروں کے درمیان زیادہ غوروفکر اور بحث کا موضوع رہا ہے ۔ورن کی کافی عام توضیح، وسیع کل ہند مجموعی درجہ بندی کے طور پر کی جاتی ہے جب کہ جاتی کو علاقائی یا مقامی ذیلی درجہ بندی کے طور پر لیاجاتا ہے جس میں بہت زیادہ پیچیدہ نظام شامل ہے اور یہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں جاتیوں اور ذیلی جاتیوں پر مشتمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حالاں کہ چار ورنوں کی درجہ بندی پورے ہندوستان کے لیے عام ہے لیکن جاتی درجہ بندی زیادہ مقامی درجہ بندی ہے جس کی نوعیت ہر خطے میں الگ الگ ہے۔
ذات کے نظام کی صحیح مدت پر بھی اختلاف رائے ہے۔ تاہم اس پر اتفاق کیا جاتا ہے کہ چار ورنوں کی درجہ بندی موٹے طور پر تین ہزار سال پرانی ہے۔ تاہم ذات کے نظام سے مراد مختلف ادوار میں الگ الگ رہی ہے۔ اسی طرح یہ سوچنا گمراہ کن ہے کہ یہی نظام تین ہزار سالوں سے چلا آرہا ہے۔ آخری ویدک دور میں اپنے ابتدائی مرحلے میں، موٹے طور پر 900تا500قبل مسیح ذات کا نظام دراصل ورن نظام ہی تھا اور صرف چار تقسیموں پر مشتمل تھا۔ یہ تقسیم بہت ہی جامع یا بہت ٹھوس نہیں تھی اور ان کا تعین پیدائش کی بنیاد پر بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ زمروں یا طبقوں کے درمیان نقل وحرکت لگتا ہے نہ صرف ممکن رہی ہے بلکہ بہت عام بات بھی تھی۔ یہ صرف مابعد ویدک دور کی بات ہے جب ذات ایک ٹھوس ادارہ بنی یعنی وہ جس سے ہم معروف تعریفوں کے ذریعے واقف بھی ہیں۔

این کالی

(1863تا1914)


1

این کالی کیرل میں پیدا ہوئے وہ نچلی ذات اوردلتوں کے رہنما تھے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں دلتوں کو عوامی سڑکوں پر چلنے پھرنے کی آزادی ملی اور دلت بچوں کو اسکول میں داخلے کی اجازت بھی۔


ذات کی کافی واضح خصوصیات جن کا عام طور پر اکثر حوالہ دیاجاتا ہے، وہ درج ذیل ہیں:
ذات کا تعین پیدائش سے ہوتا ہے۔ ایک بچہ اپنے والدین کی ذات میں پیدا ہوتا ہے۔ ذات کبھی انتخاب کا معاملہ نہیں ہوتی۔ کوئی بھی اپنی ذات کو نہ تو تبدیل کرسکتا ہے ‘ نہ اسے چھوڑ سکتا ہے یا اس میں شامل ہونے کے لیے نہ ہی انتخاب کرسکتا ہے حالاں کہ کسی شخص کو اپنی ذات سے باہر نکال دینے کی مثالیں مل سکتی ہیں۔
کسی ذات کی رکنیت شادی سے متعلق سخت ضوابط پر مشتمل ہے۔ ذات گروپ (جاتی گروہ) ’’درون ازدواجی‘‘(endogamous) ہیں۔ یعنی شادی گروپ کے ممبران تک ہی محدود رہتی ہے۔
ذات کی رکنیت میں کھانے پینے اور کھانے پینے میں شریک ہونے سے متعلق سخت ضوابط بھی شامل ہیں۔ کس قسم کا کھانا کھایا جاسکتا ہے یا نہیں کھایا جاسکتا اس کی بھی صلاح دی گئی  ہے اور کون کھانے پینے میں شامل ہوسکتا ہے اس کی بھی صراحت کی گئی ہے۔
ذات ایک ایسے نظام سے وابستہ ہے جو رتبے اور حیثیت کے ایک سلسلۂ مراتب میں منظم بہت سی ذاتوں پر مشتمل ہے۔ نظر یاتی اعتبار سے ہرشخص کی ایک ذات ہوتی ہے اور تمام ذاتوں کے سلسلہ مراتب میں ہر ذات کا اپنا ایک خصوصی مقام ہوتا ہے۔ حالاں کہ متعدد ذاتوں کی درجہ بند حیثیت یا مقام بالخصوص وسطی مراتب ہر خطے میں الگ الگ ہوسکتے ہیں لیکن درجہ بندی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
ذاتوں یا جاتیوں میں اندرونی طور پر ذیلی تقسیم بھی ہوتی ہے۔ جاتیوں میں تقریباً ہمیشہ ذیلی ذاتیں ہوتی ہیں اور کبھی کبھی ذیلی جاتیوں میں بھی ان کی اپنی ذیلی جاتیاں ہوتی ہیں۔ اسے ایک قطعاتی تنظیم کے طور پر منسوب کیاجاتا ہے۔
جاتیاں روایتی طو رپر پیشوں سے جڑی ہوئی ہوتی تھیں۔ ایک شخص جو کسی ذات میں پیدا ہوتا ہے صرف وہی پیشہ اپنا سکتا ہے جو اس کی اپنی ذات سے جڑا ہوا ہے۔ اس طرح یہ پیشے موروثی ہوتے ہیں یعنی نسل درنسل چلتے رہتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف کوئی مخصوص پیشہ صرف اسی ذات سے متعلق لوگ ہی اپنا سکتے ہیں۔ دیگر جاتیوں کے ممبران اس پیشے کو نہیں اپنا سکتے۔

جیوتی راؤ گووندراؤ پھولے

(1827تا1890)

2

جیوتی راؤگووندراؤ پھولے نے ذات پات کے غیر منصفانہ نظام کی مذمت کی اور پاکیزگی اور آلودگی سے متعلق  اس کے ضوابط کی ملامت کی۔1873 میں انھوں نے ستیہ شودھک سماج (یعنی سچ کا متلاشی سماج) قائم کیا جوانسانی  حقوق اور نچلی ذات کے لوگوں کے لیے سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے وقف تھا۔



یہ خصوصیات وہ مجوزہ اصول ہیں جو  قدیم مقدس کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ چوں کہ ان احکامات پر ہمیشہ عمل نہیں ہوا تھا، لہٰذا ہم نہیں کہہ سکتے کہ کسی حدتک ان ضوابط کے ذریعے اصلاًذات کی عملی حقیقت یعنی اس زمانے میں رہنے والے لوگوں کے لیے اس کے ٹھوس معنی متعین ہوئے۔ جیسا کہ آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں تجاویز یا احکامات مختلف قسم کی ممانعت یا بندشوں پر مشتمل ہیں۔
تاریخی شہادت سے یہ بھی واضح ہے کہ ذات ایک بہت ہی غیر مساوی ادارہ تھا۔ کچھ جاتیوں کو اس نظام سے بہت زیادہ فائدہ حاصل تھا جب کہ دوسری جاتیاں غیر محدود محنت اور ماتحتی کی زندگی میں مبتلا تھیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب ذات کا تعین سختی کے ساتھ پیدائش کی بنیاد پر ہی ہوجاتا ہے توکسی شخص کے لیے اصولاً یہ ناممکن بات تھی کہ وہ اپنی زندگی کے حالات کو کبھی تبدیل کرسکے، خواہ وہ اس کا مستحق ہو یا نہیں۔ایک اونچی ذات کا شخص ہمیشہ اونچی حیثیت کا حامل رہے گا جب کہ ایک نیچی ذات کا شخص ہمیشہ کم تر حیثیت میں ہوگا۔
نظریاتی طور پر ذات کے نظام کو اصولوں کے دو مجموعوں کے اتحاد کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے، ایک فرق اور علاحدگی پر مبنی ہے اور دوسرا نظریہ کلیت اور درجہ بندی پر۔ ہر ذات کے بارے میں مانا جاتاہے کہ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوگی اور اس لیے ہر  ایک دوسری ذات سے بالکل الگ ہوگی۔ ذات کے بہت سے مقدس ضوابط اس طرح ذاتوں کی آمیزش کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ یہ ضوابط واصول شادی سے لے کر کھانے پینے میں شرکت او رپیشے کے تئیں بین سماجی عمل پر مشتمل ہیں۔ جب کہ دوسری طرف ، ان مختلف اور علاحدہ علاحدہ جاتیوں کا کوئی انفرادی وجود نہیں ہے۔ وہ صرف کلی طور پر(یا ایک بڑی اکائی کے طور پر) اور سبھی ذاتوں پر مشتمل سماج کی کلیت کی بنیاد پر قائم رہ سکتی ہیں۔ مزید، یہ کہ یہ ایک سماج گیر کلیت یا نظام، مساواتی نظام کے بجائے ایک درجہ بند نظام ہے۔ ہر انفرادی ذات نہ صرف اپنا ایک امتیازی مقام  رکھتی ہے بلکہ ایک ترتیب وار رتبے یعنی سب سے اوپر سے نیچے جاتے ہوئے ایک سیڑھی جیسے بندوبست میں ایک مخصوص مقام کی حامل ہے۔
ذات کی درجہ بند ترتیب ’تقدیس‘ اور ’آلودگی‘ کے درمیان امتیاز پر مبنی ہے۔ یہ کچھ ایسی چیزوں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ مقدس ہونے کے قریب ترہیں (اس طرح یہ رسوماتی پاکیزگی کی دلالت کرتا ہے) اور کچھ ایسی چیزوں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ مقدس ہونے سے دور یا مخالف ہیں (اس لیے اسے رسوماتی آلودگی کے طور پر سمجھا جاتا ہے)، کے درمیان ایک تقسیم ہے۔ وہ جاتیاں جنھیں رسوماتی طور پر خالص و پاکیزہ سمجھا جاتا ہے اونچی حیثیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں جب کہ وہ جنھیں کم مطہر (پاک) یا نا خالص سمجھا جاتاہے وہ کم حیثیت کی حامل ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سبھی سماجوں میں ہے، مادی قوت (یعنی معاشی وفوجی قوت) کا گہرا تعلق سماجی حیثیت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ جو اقتدار میں ہوتی ہیں وہ اونچی حیثیت کی طرف مائل ہوتی ہیں جب کہ جو اقتدار میں نہیں ہوتیں وہ نچلی حیثیت میں ہوتی ہیں ۔مورخین مانتے ہیں کہ وہ جو جنگوں میں ہارجاتے تھے انھیں اکثر نچلی جاتی کی حیثیت تفویض کی جاتی تھی۔
آخر میں جاتیاں رسوماتی اصطلاح میں نہ صرف ایک دوسرے کے غیر مساوی ہوتی ہیں بلکہ انھیں ایک دوسرے کا تکمیلی اور غیر مُسابقتی گروپ بھی مانا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر ذات کا نظام، میں اپنا مقام ہوتا ہے جسے کسی دوسری ذات کے ذریعے نہیں اختیار کیا جاسکتا۔ چوں کہ ذات کا تعلق پیشے سے بھی ہے اس لیے نظام محنت کی سماجی تقسیم کے طور پرعمل کرتا ہے اس کے علاوہ اصولی طور پر اس میں حرکت پذیری کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔
اس میں حیرت کی بات نہیں کہ ماضی اور خاص طور پر قدیم ماضی کے بارے میں ہمارے ذرائع علم نا کافی ہیں ۔ یہ وثوق کے ساتھ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس زمانے میں کون سی چیزیں مماثل تھیں یا کیوں بعض ادارے اور رواج قائم ہوئے اس کی کیا وجوہات تھیں۔ لیکن اگر ہمیں یہ سب معلوم بھی ہو تو تب بھی اس سے پتہ نہیں چل سکتا کہ آج ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ محض اس لیے کہ کچھ چیزیں ماضی میں واقع ہوئیں یا ہماری روایت کاحصہ ہیں، یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ ہمیشہ کے لیے صحیح یا غلط ہو۔ ہر دور میں ایسے سوالات کے بارے میں نئی سوچ ہوتی ہے اور اس کے سماجی اداروں کے اس کے اپنے اجتماعی فیصلے سامنے آتے ہیں۔

ساوتری بائی پھولے 

(1831-1897)

3

ساوتری بائی پھولے پونے میں لڑکیوں کے لیے ہندوستان کے پہلے اسکول کی پہلی صدر مدرس تھیں۔ انھوں نے اپنی زندگی ’’شودر‘‘ اور ’’اتی شودر‘‘ کی تعلیم کے لیے وقف کردی۔ انھوں نے کسانوں اور مزدوروں کے لیے رات کا اسکول (Night School) قائم کیا۔ پلیگ کے متاثرین کی خدمت کے دوران ان کا انتقال ہوا۔


استعماریت اور ذات

قدیم ماضی کے مقابلے میں ہم اپنی حالیہ تاریخ میں ذات کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ اگر جدید تاریخ کو انیسویں صدی سے شروع کیا جائے تب 1947میں ہندوستان کی آزادی کو نو آبادیاتی دور (1800تا1947تقریباً 150سال) اور مابعد آزادی یا مابعد نو آبادیاتی (1947سے آج تک تقریباً 70سال) دور کے درمیان ایک فطری خط تقسیم مانی جاسکتی ہے۔ سماجی ادارے کے طور پر ذات کی موجودہ شکل کو نو آبادیاتی دور اور آزاد ہندوستان میں رونما ہونے والی تیز ترین تبدیلیوں دونوں کے ذریعے ہی کافی مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔
دانشوران اس بات سے متفق ہیں کہ نو آبادیاتی دور میں سبھی بڑے سماجی اداروں اور بطور خاص ذات کے اداروں میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ درحقیقت کچھ دانش ور دلیل دیتے ہیں جسے ہم آج ذات کے طور پر جانتے ہیں یہ قدیم روایت کی بہ نسبت استعماریت کی زیادہ اپج ہے۔ سبھی تبدیلیاں جو رونما ہوئیں وہ قصداً یا دانستہ نہیں تھیں۔ ابتدائی طو رپر برطانوی منتظمین نے یہ سیکھنے کی کوشش میں کہ اس ملک میں زیادہ موثر طور پر حکمرانی کیسے کی جائے ذات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کی شروعات کی۔ ان میں سے بعض کوششوں کا نتیجہ پورے ملک میں مختلف قبائل اور ذاتوں کے رسم اور انداز کے بہت ہی منظم اور عمیق سروے اور رپورٹوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ بہت سے برطانوی منتظمین جوغیر پیشہ ور ماہرینِ نسلیات بھی تھے انھوں نے اسی طرح کے سروے اور مطالعات کو انجام دینے میں کافی دلچسپی دکھائی۔

پیریار (ای وی راما سوامی نائکر)

(1879-1973)

4

پیریار (ای وی راما سوامی نائکر) کو عقلیت پسند اور جنوبی ہندوستان میں نچلی ذات کی تحریک کے قائد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے لوگوں کو یہ محسوس کرنے کے لیے کہ ’’سبھی انسان برابر ہیں اور یہ کہ آزادی اور مساوات سے استفادہ کرنے کا پیدائشی حق ہر فرد کو ہے‘‘ بیدار کیا۔



ذات سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے کی سب زیادہ اہم کوشش مردم شماری کے ذریعے کی گئی تھی۔1860 کے دہے میں شروع ہوئی مردم شماری اب باضابطہ ہر دس سال پر ہونے لگی جس کا باقاعدہ طور پر اہتمام 1881اور اس کے بعد برطانوی حکومت ہندکے ذریعے کیا جانے لگا۔ 1901 کی مردم شماری جو ہر برٹ رسلے کی زیر ہدایت شروع ہوئی تھی خاص طور پر اہم تھی کیوں کہ اس میں ذات کی سماجی درجہ بندی(یعنی کسی مخصوص خطے میں رائج سماجی نظم) پر معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ اس طرح نظام مراتب میں ہرذات کی حیثیت معلوم ہوسکے۔ اس کو شش کا ذات کے سماجی ادراک پرزبردست اثر پڑا اور سماجی پیمانے میں اونچی حیثیت کا دعویٰ کرنے والی مختلف ذاتوں کے نمائند گان کے ذریعے مردم شماری کمشنر کے پاس سیکڑوں عرض داشت پیش کی گئی تھیں اور اپنے دعوں کے لیے تاریخی اور مقدس کتابوں کی شہادت پیش کی گئی تھی۔ مجموعی طور پر دانشوران محسوس کرتے ہیں کہ ذات کا شمار کرنے اور سرکاری طور پر ذات کی حیثیت کو درج کرنے کی طرح کی براہ راست کوشش نے خود اس ادارے کو تبدیل کردیا۔ اس طرح کی مداخلت سے پہلے ذات کی شناختیں کہیں زیادہ تغیر پزیر اور کم سخت تھیں۔ جب ان کا شمار اور اندراج کیا جانے لگا تو ذات نے ایک نئی شکل اختیار کرنی شروع کی۔
نوآبادیاتی ریاست کی دیگر مداخلتوں کا بھی ادارے پر کافی اثر پڑا۔مال گزاری بندوبست اور متعلقہ بندوبستوں  اور قوانین نے اونچی جاتیوں کے رواجی (ذات پر مبنی) حقوق کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کاکام کیا۔ یہ جاتیاں زمین کی پیداوار پر دعوے یا مال گزاری کے دعوے یامختلف قسم کے خراج کے ساتھ جاگیر دار طبقے کے بجائے جدید مفہوم میں اب زمین دار بن چکی تھیں۔ بڑے پیمانے پر آب پاشی اسکمیں جیسا کہ پنجاب میں تھیں، وہاں آبادی کو بسانے کی کوششوں کے ساتھ شروع کی گئی تھیں اور یہاں بھی ذات کا پہلو نمایاں تھا۔ پیمانے کے دوسرے سرے پر نو آبادیاتی ریاست کے خاتمے پر انتظامیہ نے بھی ستم رسیدہ جاتیوں کی فلاح وبہبود میں دلچسپی دکھائی، اس وقت انھیں پس ماندہ طبقہ کہا جاتا تھا۔ یہ ان کوششوں کا حصہ تھا جو 1935کے حکومتِ ہند ایکٹ میں پاس کیا گیا تھا او رجس سے ان فہرستوں یا ذاتوں اور قبائل کی مندرج فہرست کو قانونی منظوری ملی تھی اور ریاست کے ذریعے جن کا تعین خصوصی برتاؤ کے لیے کیا گیا تھا۔ اس طرح درج فہرست قبائل (Scheduled Tribes)اور درج فہرست ذات (Scheduled Castes)کی اصطلاح قائم ہوئی۔ درجہ بندی کی بالکل نچلی سطح کی جاتیاں جو شدید ترین امتیازیا تفریق کا شکا ر تھیں بشمول ان تمام نام نہاد اچھوت جاتیوں کو درج فہرست ذات میں شامل کیاگیا تھا (آپ چھوا چھوت اور اس کے خلاف جدوجہد کے بارے میں سماجی اخراج کے موضوع پر باب 5 میں مزید پڑھیں گے)
اس طرح استعماریت کے تحت ذات کے ادارے میں کافی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ شاید یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ذات کے ادارے میں نو آبادیاتی دور میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا اس دور میں سرمایہ داری اور جدیدیت کے پھیلاؤ کے سبب تیز ترین تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی تھی۔

شری نارائن گرو

(1856-1928)

5

شری نرائن گرو کیرل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سب کے لیے بھائی چارے کا پیغام دیا اور ذات کے نظام کی برائیوں کے خلاف جنگ کی۔ انھوں نے خاموش لیکن اہم سماجی انقلاب کی رہنمائی کی اور ایک ذات، ایک مذہب سبھی انسانوں کے ایک خدا ہونے کا نعرہ دیا۔

موجودہ دور میں ذات

1947میں ہندوستان کی آزادی، ایک نو آبادیاتی ماضی کے ساتھ ایک بڑے، لیکن انجام کار صرف ایک جزوی وقفہ کی نشان دہی کرتی ہے۔ قومی تحریک کی عوامی حرکت پذیری میں جاتی ملحوظات نے لازمی طور پرکر دار اداکیاتھا۔ پس ماندہ طبقات، اور خاص طور پر اچھوت جاتیوں کو منظم کرنے کے کوششیں پہلے سے موجود تھیں۔ یہ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں شروع ہوچکی تھیں۔ یہ وہ پہل تھی جو جاتی کے قوس قزح کے دونوں سروں سے لی گئی تھی۔ اونچی ذات کے ترقی پسند مصلحین کے ذریعے اور ساتھ ہی ساتھ نچلی ذات کے ارکان جیسے مغربی ہندوستان میں مہاتما جیوتی با پھولے اور باباصاحب امبیڈکر ، جنوب میں این کالی، شری نارائن گرو، ایوتی د اس اور پیریار (ای۔وی۔راما سوامی نائکر) کے ذریعہ۔ مہاتما گاندھی اور بابا صاحب امبیڈ کر نے 1920 اور اس کے بعد چھوا چھوت کے خلاف مظاہرے شروع کئے، چھوا چھوت کے خلاف پروگرام اس طرح کانگریس کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ اس وقت آزادی کا ایجنڈا سب سے اہم تھا۔ جاتی تفریق کو ختم کرنے کے سلسلے میں قومی تحریک کے لوگوں میں عام اتفاق رائے تھی۔ قومی تحریک میں غالب نظریہ یہ تھا کہ ذات ایک سماجی اور ہندوستانیوں کو تقسیم کرنے کی نو آبادیاتی چال تھی۔ لیکن قوم پرست رہنما جس میں سرفہرست مہاتما گاندھی تھے سب سے نچلی ذات کے لوگوں کو اوپر اٹھانے یا بلندی عطا کرنے، چھو اچھوت کے خاتمے کی تائید کرنے اور دیگر جاتی کی بندشوں کو ختم کرنے کے لیے بیک وقت کام کرنے اور ساتھ ہی ساتھ زمین کے مالک اونچی ذات کے لوگوں کو بھی ان کے مفادات کی دیکھ بھال کی یقین دہانی کرانے میں بھی کامیاب تھے۔
مابعد آزادی، ہندوستانی مملکت کو یہ تضادات وراثت میں ملے اور ظاہر ہوئے۔ ایک طرف مملکت ذات پات کے خاتمے کے لیے وقف تھی اور اس کو واضح طور پر آئین میں تحریر بھی کیاگیا تھا۔ جب کہ دوسری طرف مملکت جاتی سے متعلق عدم مساوات کے سلسلے میں بنیادی اصلاحات پر زور دینے کی نااہل اور متامل بھی تھی کیوں کہ اس سے معاشی بنیاد کمزور ہوسکتی تھی۔تاہم دیگر سطح پر مملکت یہ باور کرتی تھی کہ اگر وہ جاتی کا لحاظ کیے بغیر عمل کرتی ہے تو اس سے ذات پر مبنی مراعات یا مفاد کو خود بخود نقصان پہنچے گا اور ادارے کا انجام کار خاتمہ ہوجائے گا۔ مثال کے لیے سرکاری ملازمتوں میں تقرری کے لیے ذات کا لحا ظ نہ رکھنے کا مطلب ہے بہتر طور پر تعلیم یافتہ اونچی ذات کے لوگوں اور کم پڑھے لکھے یا زیادہ ترنا خواندہ نچلی ذات کے لوگوں کے درمیان برابری کی شرائط پر انھیں مسابقت کے لیے چھوڑ دینا۔ اس سے مستثنیٰ ہونے کی صورت صرف یہ تھی کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن کی سہولت فراہم کی جائے۔ دوسرے لفظوں میں آزادی کے فوراً بعد کے ذہنوں میں معاشی اور تعلیمی معاملوں میں اونچی ذات اور نچلی ذات کے لوگوں میں موجود کافی فرق ہونے جیسی حقیقت کا سامنا کرنے کی کوئی اطمینان بخش کو شش نہیں کی گئی۔
مملکت کی ترقیاتی سرگرمی اور نجی صنعت کے نمو نے معاشی تبدیلی کو تیز اور شدید کیا، جس سے بالواسطہ طور پر ذات کے نظام پر بھی اثر پڑا۔ جدید صنعت میں ہر طرح کی ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہو ئے جس کے لیے ذات سے متعلق کوئی اصول وضوابط نہیں تھے۔ شہر کاری اور شہروں میں زندگی گزارنے کے اجتماعی حالات نے سماجی بین عمل کے ذات پر مبنی علاحدگی یا الگ تھلگ رہنے کے انداز کو قائم رکھنا مشکل بنا دیا۔ ایک الگ سطح پر جدید تعلیم یافتہ ہندوستانی  انفرادیت پسندی اور اور استحقاقی نظام کے روادار نظریات کی طرف راغب ہوئے جس سے زیادہ انتہا پسند جاتی رواج اور عمل کو ترک کرنے کی شروعات ہوئی۔ جب کہ دوسری طرف دیکھنے والی بات یہ تھی کہ ایسی صورت میں ذات کس طرح خود کو برقرار رکھ پائیگی۔ صنعتی کاموں میں خواہ وہ ممبئی (اس وقت بمبئی) کا ٹکسٹائل مِل یا کہ کولکاتہ (اس وقت کلکتہ) کے جوٹ مِل ہو یا کہیں اور کی بات ہو ذات اور قرابت داری پر مبنی خطوط کے ساتھ اس کو منظم رکھنا جا ری رہا۔ بچولیے فیکٹریوں کے لیے مزدور بھرتی کرتے تھے۔ ان کا رجحان اپنی ذات اور خطے کے لوگوں کو بھرتی کرنے کی طرف رہتا تھا تاکہ مخصوص شعبہ جات یا کارخانے کے عملے پر زیادہ تر مخصوص جاتی کے لوگوں کا غلبہ ہو۔ اچھوتوں کے خلاف تعصب کا قومی غلبہ تھا اور یہ بات شہروں میں بھی موجود تھی تاہم دیہات کے مقابل پھر بھی کافی کم تھی۔  
اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ یہ ثقافتی اور گھریلو دائرہ تھا جس میں ذات پات بہت مضبوط ثابت ہوئی۔ داخلی زوجیت یا ذات کے اندر شاوی کرنے کے رواج پر جدید کاری اور تبدیلی کا کافی حد تک کوئی اثر نہیں پڑا۔ آج بھی زیادہ تر شادیاں ذات کی حدوں میں ہوتی ہیں اگرچہ بین ذات شادیاں بھی  پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں۔ جب کہ کچھ حدیں زیادہ لچک دار یا غیر محکم بن سکی ہیں لیکن ایک سی سماجی ومعاشی حیثیت کی ذاتوں کے گروپوں کے درمیان حدوں کو اب بھی زبردست تحفظ حاصل ہے۔ مثال کے لیے اونچی جاتیوں (جیسے برہمن، بنیا، راجپوت) میں بین ذات شادیاں اب پہلے کے مقابلے زیادہ ممکن ہیں لیکن اونچی ذات اور پس ماندہ یا درج فہرست ذات کے درمیان شادیاں آج بھی شاذ ونادر ہیں ۔اسی طرح کھانے پینے میں شرکت کے ضوابط بھی تقریباًایسے ہی ہیں۔
شاید تبدیلی کا سب سے زیادہ حتمی اور اہم میدان سیاست رہا ہے۔ آزاد ہندوستان میں بالکل ابتدائی شروعات سے ہی جمہوری سیاست پر ذات زیادہ گہرائی سے اثرانداز ہوئی ہے۔ جہاں اس کا عمل زیادہ سے زیادہ پیچیدہ بن چکا ہے اور قیاس لگانا مشکل ہے وہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انتخابی سیاست میں ذات اب بھی مرکزیت کی حامل ہے۔1980کے دہے سے ہم نے بالکل واضح طور پر ذات پر مبنی سیاسی پارٹیوں کو ابھرتے دیکھا ہے۔ شروعاتی عام انتخابات میں جیساکہ لگتا ہے کہ انتخابات جیتنے میں ذات کا اتحاد عمل فیصلہ کن رہا ہے۔ لیکن صورت حال جلد ہی پیچیدہ بن گئی کیوں کہ ذات کا حساب کتاب لگانے سے پارٹیاں اسی طرح کا استفادہ کرنے میں ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگیں۔

ایم۔ این۔ سری نواس 

(1916-1999)

6

میسور نرسمہا چارسری نو اس ہندوستان کے ایک ممتاز ترین ماہر سماجیات اور سماجی ماہر انسانیات تھے۔ انھیں ذات کے نظام اور ’سنسکرتیانا‘ اور ’غالب ذات‘، پر ان کی تخلیق کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی کتاب (The Remembered Village) سماجی انسانیات میں گاؤں کے مطالعہ کے لیے ایک معروف کتاب ہے۔

 
ماہرینِ سماجیات اور سماجی ماہر انسانیات نے تبدیلی کی ان عمل کاریوں کو پرکھنے اور سمجھنے کے لیے بہت سے نئے تصورات وضع کیے۔ شاید ان میں سب زیادہ عام تصور سنسکر تیانے (Sanskritisation) اور غالب ذات کے ہیں جو دونوں ایم۔این۔سری نواس کے ذریعے پیش کیے گئے لیکن اس پر خوب بحث ہوئی اور دیگر دانش وروں نے اس کی تنقید کی۔
سنسکرتیانا اس عمل کو ظاہر کرتا ہے جس کی بنا پر کسی ذات (عام طور رپر درمیانی یا نچلی) کے ممبران اونچی حیثیت کی ذات (یا ذاتوں) کے رسوماتی، گھریلو اور سماجی رواجوںکو اپناتے ہوئے  اپنی خود کی سماجی حیثیت کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مظہر پرانا ہے اور آزادی سے تھوڑا پہلے بلکہ غالباً نو آبادیاتی دور میں بھی رائج تھا تاہم اس میں حالیہ زمانے میں شدت پیدا ہوئی۔ زیادہ تر برہمن یا کشتریہ ذاتوں کے اندازو طریقے اپنائے جاتے تھے۔ ان طریقوں اور رواجوں میں سبزی خوری کے اصول، مقدس دھاگااختیار کرنا، مخصوص پرارتھناؤں اور مذہبی تقریبات وغیرہ کو اپنانا شامل ہے۔ سنسکرتیانا عام طور پر ان ذاتوں کی، جو اس کے لیے کوشش کرتی ہیں، معاشی حیثیت میں اضافے کے ساتھ ہوتا ہے اگرچہ یہ اس کے بغیر بھی واقع ہوسکتا ہے۔ بعد کی تحقیق میں اس تصور میں بہت سی اصلاحات وترمیم اور نظرثانی کیے جانے کے بعد تجاویز پیش کی گئیں۔ ان میں یہ دلیل بھی شامل تھی کہ سنسکرتیانا ہوسکتا ہے نچلی ذاتوں کی اونچی ذاتوں کی خوشامدانہ نقالی کے بجائے سابقہ ممنوعہ رسوم اورسماجی مراعات(جیسے مقدس دھاگا پہننا، جس کے پہننے پر شدید ترین سزا مول لینا پڑ سکتا تھا) کا جرأت آمیز دعویٰ ہو۔
’غالب ذات‘ ایک اصطلاح ہے جس کا استعمال ان ذاتوں کے حوالے کے لیے کیا جاتا ہے جن کی زیادہ آبادی تھی اور آزادی کے بعد جزوی زمینی اصلاحات سے کے نافذہونے پر انھیں زمینی حقوق کی منظوری دی گئی تھی۔ زمینی اصلاحات نے سابقہ دعوے داروں یعنی اونچی جاتیوں، جو اس معنی میں ’’غیر حاضر زمین مالکان‘‘ تھیں کہ اپنے لگان کا دعویٰ تو کر تیں لیکن زراعتی معیشت میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا، کے حقوق منتقل کردیے گئے۔ وہ اکثر گاوؤں میں نہیں رہتے تھے بلکہ قصبوں اور شہروں میں قیام کرتے تھے۔ یہ زمینی حقوق اب دعوے داروں کی اس اگلی سطح کو ملے جو زراعت کے انتظام وانصرام میں شامل تو تھے لیکن بذات خود کاشت کار نہیں تھے۔ یہ درمیانی جاتیاں اس سلسلے میں نچلی جاتیوں کی محنت پر منحصر تھیں جن میں بطور خاص ’اچھوت‘ جاتیاں بھی شامل تھیں جوکھیت کی جتائی بوائی اور دیکھ بھال کیا کرتی تھیں۔ تاہم جب ایک بار انھوں نے زمین کے حقوق حاصل کر لیے تب نمایاں طور پر ان کی معاشی قوت بھی بڑھ گئی۔ ہمہ گیر بالغ حق رائے دہی پر مبنی انتخابی جمہوریت کے دور میں انھیں سیاسی قوت بھی ملی کیو ں کہ  ان کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ یہ درمیانی جاتیاں دیہاتوں میں ’غالب‘ جاتیاں بن گئیں اور علاقائی سیاست اورزرعی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگیں۔ ایسی غالب ذاتوں کی مثالوں میں بہار اور اترپردیش کے یا دو، کرناٹک کے وکالگ (Vokkaligas)، آندھرا پردیش کے ریڈی اور خماس (Khammas)، مہاراشٹر کے مراٹھا، پنجاب،ہریانہ اور مغربی اترپردیش کے جاٹ اور گجرات کے پاٹی دار شامل ہیں۔
عصری دور میں ذات کے نظام میں ایک نہایت اہم لیکن خلاف قیاس تبدیلی بھی واقع ہوئی جس میں اونچی ذات، شہری مڈل اور شہری اونچے طبقات کے لیے ذات غیرمرئی یعنی دکھائی نہ دینے کی طرف مائل چیز بن گئی۔ یہ وہ گروپ تھے جنھوں نے مابعد نوآبادیاتی دور کی ترقیاتی پالیسیوں کا خوب فائدہ اٹھایا۔ ان کے لیے ذات مخصوص معنویت میں زوال پذیر ہوتی دکھائی دی کیوں کہ اس کا عمل اچھی طرح پورا ہوچکا تھا۔ تیز ترقی کے ذریعے ملنے والے مواقع کا پورا فائدہ اٹھانے میں ان گروپوں کے پاس ضروری معاشی اور تعلیمی وسائل موجود تھے جسے یقینی بنانے میں ان کی جاتی کی حیثیت فیصلہ کن تھی۔ بالخصوص اونچی ذات کا طبقۂ اشراف اعانتی سرکاری تعلیم خاص طور پر سائنس، ٹکنالوجی ، میڈیسن اور مینجمنٹ میں پروفیشنل تعلیم سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوا۔ ساتھ ہی ساتھ آزادی کے بعد کے ابتدائی دہوں میں یہ ریاستی سیکٹر کے ذریعہ فراہم کردہ نوکریاں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ اس ابتدائی دور میں باقی سماج پران کی سبقت (تعلیم کے معاملے میں) نے یہ یقینی بنا دیا تھا کہ انھیں کسی سنجیدہ مسابقت کا سامنا نہیں کرنا ہے۔ چوں کہ ان کی مراعات یافتہ حیثیت دوسری اور تیسری نسلوں میں مستحکم ہوچکی تھی لہٰذا، یہ گروپ ماننے لگے کہ ان کی ترقی پر ذات کا کچھ اثر نہیں پڑتا ہے۔ ان گروپوں کی تیسری نسل کے لیے یقینا ان کی معاشی اور تعلیمی پونجی اکیلے ہی یہ یقینی بنانے کے لیے کافی تھی کہ انھیں زندگی کے بہترین مواقع حاصل ہوتے رہیں گے۔ اس گروپ کے لیے اب لگتا ہے ان کی عوامی زندگی میں ذات کوئی کردارنہیں ادا کرتی کیوں کہ ذات اب مذہبی رواج یا شادی اور قرابت داری کے نجی دائرے تک محدود ہوگئی ہے۔ تاہم ایک مزید پیچیدگی اس حقیقت سے شروع ہوتی ہے کہ یہ ایک امتیازی گروپ ہے لیکن اگرچہ گروپ کے طور پر مراعات یافتہ غالب اونچی ذات ہے۔ سبھی اونچی ذات کے لوگ مراعات یافتہ نہیں ہیں، بعض غریب بھی ہیں۔
نام نہاد درج فہرست ذات اور قبائل اور پس ماندہ ذاتوں کے لیے اس کے برعکس واقع ہوا۔ ان کے لیے ذات بالکل مرئی یعنی نظر میں آنے والی چیزبن گئی۔ درحقیقت ذات ان کی شناختوں کے دیگر پہلوؤں کو گرہن لگانے کی طرف مائل تھی کیوں کہ انھیں وراثت میں تعلیمی اور سماجی پونجی نہیں ملی تھی اور انھیں پہلے ہی سے مضبوط اونچی ذات کے گروپ کے ساتھ جن کے پاس کچھ اجتماعی اثاثے تھے، مسابقت کرنی تھی اور وہ اس کے لیے اپنی جاتی کی شناخت کو ترک کردینے کے مقدور نہیں تھے۔مزید برآں وہ کئی طرح کی تفریق کا بھی شکار رہے ۔ریزرویشن کی پالیسیاں اور تحفظاتی امتیاز کی دیگر شکلیں سیاسی دباؤ کے نتیجے میں ریاست کے ذریعے وضع کی گئیں کیوں کہ ان کی بقا کا واحدذریعہ یہی تھیں۔ لیکن بقا کے اس واحد ذریعے کا استعمال ان کی ذات کو کلی اہمیت دینے اور اکثر ان کی شناخت کو جسے دنیا تسلیم کرتی ہے، نمایاں کرنے کی طرف مائل تھا۔ ان دونوں گروپوں بظاہر بے ذات (Casteless) اونچی ذات کا گروپ اور ظاہری طور پر ذات سے معرف نچلی ذات کے گروپ کے دوش بدوش موجودہ طور پر ذات کے ادارے کا ایک مرکزی پہلو بھی ہے ۔

3.2  قبائلی گروہ

وہ گروہ جو بہت پرانے ہیں ان کے لیے قبیلہ ایک جدید اصطلاح ہے۔ یہ گروہ بر صغیر کے قدیم ترین باشندوں میں شامل ہیں۔ ہندوستان میں قبائل کی تعریف میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان میں کیا خصوصیات نہیں ہیں۔ قبائل وہ کمیونٹیاں تھیں جو کسی تحریری متن کے ساتھ مذہب پر عمل نہیں کرتے تھے، نہ ہی عام قسم کی ریاست یا سیاسی شکل تھی، نہ ہی ان میں کوئی واضح طبقاتی تقسیم تھی او رزیادہ اہم بات یہ کہ ان کی کوئی ذات نہیں تھی اور وہ نہ ہی ہندو تھے نہ ہی کسان۔ یہ اصطلاح نوآبادیاتی دور میں شروع ہوئی۔ گروہ کے نہایت مختلف النوع مجموعے کے لیے اس اکیلی اصطلاح کا استعمال انتظامی سہولت کے لحاظ سے زیادہ کیا گیا تھا۔

قبائلی سوسائٹیوں کی درجہ بندی

مثبت خصوصیات کے معاملے میں قبائل کی درجہ بندی ان کے مستقل اور ’اکتسابی‘ اوصاف کے لحاظ سے کی گئی ہے۔مستقل اوصاف میں خطہ ، زبان، مادی خصوصیات اور ماحولیاتی سکونت شامل ہے۔

مستقل اوصاف 

ہندوستان کی قبائلی آبادی بہت زیادہ بکھری ہوئی ہے لیکن بعض خطوں میں ان کا ارتکاز ہے۔ تقریباً 85فی صدقبائلی آبادی وسطی ہندوستان میں رہتی ہے۔یہ ایک وسیع پٹّی ہے جو مغرب میں گجرات اور راجستھان سے، مشرق میں مغربی بنگال اور اڑیسہ مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ چھتیں گڑ ھ اور مہاراشٹر اور آندھر پردیش تک پھیلی ہوئی ہے جو اس خطے کے قلب کی تشکیل کرتی ہے۔باقی 15 فیصد میں 11فی صد سے زیادہ شمال مشرقی ریاستوں میں بسے ہیں اور باقی صرف 3 فی صد قبائلی گروہ ہندوستان کے باقی حصوں میں رہتے ہیں۔ اگرہم ریاستی آبادی میں قبائلیوں کے حصے پر نظر ڈالیں تو شمال مشرقی ریاستوں میں بہت زیادہ ارتکاز ہے۔ آسام کو چھوڑ کر باقی ریاستوں میں 30 فی صدسے زیادہ ارتکاز ہے۔ ارونا چل پردیش، میگھالیہ، میزورم اور ناگالینڈ جیسی بعض ریاستوں میں 60 فی صدسے زیادہ ہے اور 95 فی صدتک کی آبادی ہے۔ باقی ملک میں بہر حال قبائلی آبادی بہت کم ہے۔ اڑیسہ اورمدھیہ پردیش کے علاوہ باقی سبھی ریاستوں میں 12 فی صدہے۔ ماحولیاتی سکونت یاقدرتی ٹھکانوںمیں پہاڑیاں، جنگلات، دیہی میدان اور شہری صنعتی علاقے ہیں۔
زبان کے اعتبار سے  قبائل کی درجہ بندی چارزمروں میں کی جاتی ہے۔ ان میں سے دو ہند آریائی اور دراوڑ ہندوستان کی باقی آبادی کے ساتھ شامل ہیں۔ ہند آریائی میں تقریباً 1 فی صداور دراوڑآبادی میں قبائلی تقریباً 3 فی صدہیں۔ قبائلیوں کے دیگر دو لسانی گروپ آسٹرک اور تبتوبرمن (Tibeto-Burman)زبانیں بولتے ہیں۔ جو پہلے گروپ کی پوری اور دوسرے گروپ کی 80 فی صدآبادی بولتی ہے۔ جسمانی ساخت ونسلی اعتبار سے قبائل کی درجہ بندی نیگریٹو آسٹرالائڈ،منگول، دراوڑ اور آریہ زمروں کے تحت کی جاتی ہے۔ آخری دو ہندوستان کی باقی آبادیوں کے ساتھ شامل ہیں۔
وسعت کے لحاظ سے قبائل کی آبادی میں کافی تنوع پایاجاتا ہے۔ تقریباًستر لاکھ کی آبادی سے لے کر کچھ جزائر انڈمان میں بہت کم آبادی یعنی سوسے کم افراد پر مشتمل ہوسکتی ہے ۔ سب سے بڑے قبائل گونڈ، بھیل، سنتھال، اوراوں، مینا، بوڈو اور منڈا ہیں۔ یہ سبھی کم سے کم 10لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہیں۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق قبائل کی کل آبادی ہندوستان کی کل آبادی کا تقریباً 8.2فی صد یعنی تقریباً10 کروڑ 43 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

اکتسابی اوصاف

اکتسابی اوصاف پر مبنی درجہ بندی میں دو اہم کسوٹیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک ذریعۂ معاش اور دوسری ہندو سماج میں شمولیت کی حدیا دونوں کا اتحاد۔ 
ذریعۂ معاش کی بنیاد پر ان کو ماہی گیر، غذا اکٹھا کرنے والے اور شکاری، انتقالی کاشت کرنے والے، کاشت کار اور باغ بانی اور صنعتی ورکرس کے طور پر درجہ بند کیا جاسکتاہے ۔تاہم تعلیمی سماجیات اور سیاست اور امور عامہ میں غالب درجہ بندی ہندو سماج میں انجذاب کا درجہ ہے۔یہ انجذاب پہلے قبائل کے نظریے یا(جیسا کہ اکثر صورتوں میں معاملہ رہا ہے) غالب ہندو عام دھارا کے نظریے سے دیکھا جاتا ہے۔قبائل کے نقطۂ نگاہ سے انجذاب کی حد کے علاوہ قبائل جو ہندو مذہب کے تئیں مثبت طور پر مائل ہیں اور جو اس کی مزاحمت یامخالفت کرتے ہیں کے درمیان تفریق کے ساتھ ہندو سماج کے تئیں رویہ ایک بڑی کسوٹی (جانچ پر کھ کامعیار) ہے۔عام دھارا کے نظریے سے قبائل کو ہندوسماج کے ذریعے ان کو بخشی گئی حیثیت کے اعتبار سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں کچھ کودی گئی اونچی حیثیت سے لے کر عام طور پر زیادہ کو عطا کی گئی کم تر حیثیت تک شامل ہے۔

قبیلہ—  ایک تصور کا بیان

1960 کے دہے میں دانشوروں میں بحث کا موضوع یہ رہا ہے کہ آیا قبائل کو ذات پر مبنی (ہندو) کاشت کار سماج کے سلسلے کے ایک سرے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے یا وہ مجموعی طور پر مختلف قسم کی کمیونٹی تھے، یہ مان کر چلنا چاہئے۔ جو ایک سلسلے کے بارے میں دلیل دیتے تھے، انھوں نے بنیادی طو رپر قبائل کو ذات وکاشت کارسماج سے الگ ہونے کے طور پر نہیں بلکہ وسائل کے انفرادی تصور کی نسبت محض طبقہ بند (درجہ بندی کی قلیل ترین سطح) اور ساتھ ہی کمیونٹی پر مبنی ہونے کی حیثیت سے زیادہ دیکھا۔ تاہم مخالفین کی دلیل تھی کہ قبائل پوری طرح جاتیوں سے الگ تھے کیوں کہ ان کے پاس تقدیس وطہارت اور آلودگی کا کوئی تصور نہیں تھا جو کہ ذات کے نظام کا بنیادی جز ہے۔
مختصراً قبیلے اور ذات کے درمیان مفروضہ ثقافتی بنیاد پر فرق پایا گیا تھا کہ ہندو جاتیوں کے عقائد پاکیزگی اور آلودگی یا ناپاکی اور درجہ بند یک جہتی میں ہیں اور روح پرست، قبائل زیادہ مساواتی اورقرابت داری پر مبنی سماجی تنظیم کے طریقوںمیں زیادہ یقین رکھتے ہیں۔
1970کے دہے تک قبیلے کی ساری تعریف ناقص دکھائی دیں۔ یہ بتایا گیا کہ قبیلہ وکاشت کار طبقے کے درمیان فرق عام طور پر ترقی یافتہ کسوٹی یا معیار (جیسے حجم، علاحد گی، مذہب اور ذریعہ معاش کی اصطلاح) پر پورانہیں اترتا۔ کچھ ہندوستانی قبائل جیسے سنتھال، گونڈ اور بھیل بہت بڑے ہیں اور وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض قبائل جیسے منڈا، ہوس اور دیگر کافی عرصے سے زراعت کا پیشہ اپناتے رہے ہیں اور یہاں تک کہ شکار کرنے اور غذا جمع کرنے والے قبائل جیسے بہار کے برہور ٹوکریاں بنانے، تیل کی پرائی وغیرہ جیسے مخصوص گھریلو کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ بھی نشان دہی کی گئی کہ بہت سے معاملوں یعنی متبادل کی غیرموجودگی میں ’جاتیاں‘ (غیر قبائلی) اب شکار اور غذا جمع کرنے کے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ 

7
ایک قبائلی گاؤں کا قبیلہ
ذات اورقبیلے میں فرق پر بحث اس میکانیت پر مبنی ادبی تصنیفات کے ساتھ ساتھ ہوتی رہی جس کے ذریعے مختلف ادوار میں، سنسکرتیا نے کے ذریعہ، ذات پات کو ماننے والے ہندوؤں کی ان پر فتح حاصل کرنے پر شودر فرقے میں ان کی قبولیت کے ذریعہ، ہندوؤں کی ثقافت اختیار کرنے پر قبائل کا ہندو سماج میں انجذاب ہوا تھا۔ ہندوستانی تاریخ کا پورا عرصہ اکثر مختلف قبائلی گروپوں کے ذات پر مبنی ہندو سماج میں انجذاب کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ انجذاب درجہ بندی کی مختلف سطحوں پر ہواجیسے کہ ان کی زمینوں پر نو آبادی قائم کرلی گئی اور جنگلات کو کاٹ دیا گیا۔ اسے تو فطری یااس عمل کے طور پر دیکھا گیا جس کے ذریعے سبھی گروپوں کو فرقوں کے طور پر ہندومذہب میں جذب کر لیاگیا تھا۔یا اسے استحصال کے طور دیکھا گیا۔ ماہرینِ انسانیات کا ابتدائی مکتب عام دھارا (main stream)قبائلی انجذاب کے ثقافتی پہلوؤں پرزو دینے کی طرف مائل ہے جب کہ بعد کے مصنفین نے شمولیت کی استحصالی اور سیاسی فطرت پر توجہ مبذول کی۔
بعض دانش وریہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ قبائل کو اصل حالت میں یعنی تہذیب وتمدن سے اچھوتے اصل یا خالص کے طور پر سمجھنے کی کوئی مربوط بنیاد نہیں ہے۔ اس کے بجائے ان کی رائے ہے کہ قبائل کو پہلے سے موجود ریاستوں اور قبائل جیسے غیر ریاستی گروپوں کے درمیان استحصالی اور استعمار پسند رابطے کے نتیجے میں ثانوی مظہر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ رابطہ خود ’’قبائلی معاشرہ‘‘کے نظریے کی تخلیق کرتاہے۔یعنی قبائلی گروپوں نے نئے نئے دیگر حریفوں سے خود کو الگ کرنے کے لیے قبائلیوں کے طور پر خود کی تعریف شروع کی۔ 
تاہم یہ نظریہ کہ قبائل پتھر کے دور کے شکار کرنے اور غذا جمع کرنے کی سوسائٹیوں کی طرح ہیں اور یہ کہ ان پر وقت یا زمانے کا کو کوئی اثر نہیں پڑا ہے، اب بھی عام ہے حالاں کہ ایک طویل عرصے سے یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اولاً آدی واسی ہمیشہ سے محکوم و مظلوم گروپ نہیں تھے جیسا کہ اب ہیں۔ مرکزی ہندوستان میں متعدد گونڈ مملکتیں رہی ہیں جیسے گڑھ منڈل یا چاندا۔ مرکزی اور مغربی ہندوستان کی نام نہاد بہت سی راجپوت مملکت دراصل خود آدی واسی کمیونٹیوں کے درمیان طبقہ بندی کے عمل کے ذریعے ابھری تھیں۔ آدی واسی اکثر میدانی علاقے کے لوگوں پر اپنی چھاپہ ماری کی صلاحیت اورمقامی ملیشیا(بے قاعدہ فوج) کے طور پر اپنی خدمات کے ذریعے ان پر غلبہ حاصل کرتے تھے۔ وہ ایک خصوصی تجارتی مقام، تجارتی جنگلاتی اشیا، نمک اور ہاتھی کی تجارت پر قابض تھے۔ مزید برآں جنگلاتی وسائل معدنیات کے استحصال کے لیے سرمایہ دارانہ معیشت کی تحریک اور سستے مزدوروں کی بھرتی کے ذریعے قبایلی سوسائٹیاں بہت پہلے سے اصل دھارے کے سماج کے رابطے میں آئیں۔

قبائل کے تئیں اصل دھارے کے سماج کا رویہ

اگرچہ نو آبادیاتی دور کی ابتدائی انسانیاتی تخلیق میں قبائل کو الگ تھلگ رہنے والی اتصالی کمیونٹیوں کے طور پر بیان کیا گیاتھالیکن استعماریت کے ذریعے ان کی دنیا میں پہلے ہی ناقابل تنسیخ تبدیلیاں رونما ہوچکی تھیں۔ سیاسی اور معاشی محاذ پر قبائلی سو سائیٹیوں کو مہاجنوں کی یلغار کا سامنا کرناپڑا۔ وہ غیر قبائلی نو آبادکاروں کے ہاتھوں اپنی زمین سے محروم ہوتے جارہے تھے، جنگلات کے تئیں اپنی رسائی سے محروم ہو رہے تھے، ایسا جنگلات کے تحفظ کی سرکاری پالیسی اورکان کنی کے عمل کی شروعات کے سبب ہو رہا تھا۔ دیگر علاقوں کے برعکس جہاں مالگزاری زائد استحصال کا ابتدائی ذریعہ تھی وہیں ان جنگلاتی اور پہاڑی علاقوں میں قدرتی وسائل، جنگلات اور معدنیات کا زیادہ تصرف تھا۔ یہ نو آبادیاتی حکومت کے لیے آمدنی کااہم ذریعہ تھا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں قبائلی علاقوں میں مختلف بغاوتوں کے بعد نو آبادیاتی حکومت نے ’’خارج کردہ‘‘ اور ’’ جزوی خارج کردہ‘‘ رقبے قائم کیے تھے جہاں غیر قبائلیوں کے داخلے کی ممانعت تھی یا پھر ان کو منضبط بنایا گیا تھا۔ ان علاقوں میں برطانوی حکومت مقامی راجاؤں یا سرداروں کے ذریعے بالواسطہ حکمرانی کے حق میں تھی۔
1940کے دہے میں علاحدگی بنام یک جہتی کے موضوع پر ہونے والے مشہور مباحثے میں علاحدہ اکائی کی شکل میں قبائلی سوسائٹیوں کی اِس معیاری تصویر کی تخلیق کی گئی تھی۔ علاحدگی پسندوں کی طرف سے یہ دلیل دی گنی کہ قبائلیوں کو تاجروں، مہاجنوں اور ہندو اور عیسائی مبلغین سے تحفظ کی ضرورت تھی جس میں سبھی کی منشا قبائلیوں کی روایات کی بیخ کنی کے ذریعے انھیں بے زمین مزدور بنا دینا تھی۔ جب کہ دوسری طرف یک جہتی پسند دانش وروں کی دلیل تھی کہ قبائلی صرف پس ماندہ ہندو تھے اور ان کے مسائل اسی ڈھانچے میں حل ہونے چاہئیں جیسے کہ دیگر پس ماندہ طبقات کے ہوتے ہیں۔ یہ مخالفین آئین ساز اسمبلی کے مباحثوں میں حاوی تھے۔ آخر کار مصالحت کے خطوط پر تصفیہ کیاگیا۔ ان فلاح وبہبود کی اسکیموں کی تائیدکی گئی تھی جن سے منضبط یک جہتی ممکن ہوسکی۔ قبائل ترقی کے لیے مابعد اسکیمیں پنج سالہ منصوبے، قبائلیوں کے لیے ذیلی منصوبے، قبائلیوں کے فلاحی بلاک، خصوصی کثیر المقاصد ایریا  اسکیمیں اسی طرز فکر کے ساتھ جاری رہیں۔ لیکن بنیادی مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ قبائل کی یک جہتی کے عمل نے ان کی اپنی ضرورتوں یا خواہشات کو نظر انداز کیا۔ یک جہتی سماج کے اصل دھارے کی شرائط اور اس کے اپنے مفاد پر مبنی تھی۔ قبائل سماجوں کی اپنی زمینیں اور جنگلات لے لیے گئے اور ترقی کے نام پر ان کی کمیونٹیوں کو منتشر کر دیا گیا۔

قومی ترقی بنام قبائلی ترقی

ترقی کے لیے قبائل کے تئیں رویوں کے تعین پر فوری توجہ دی گئی اور ریاست کی پالیسیاں تشکیل دی گئیں۔ بطور خاص نہرو کے دور میں جو قومی ترقی ہوئی اس میں بڑے بڑے باندھ بنانا فیکٹریاں اور کانیں تعمیر کرنا شامل تھا۔ چوں کہ قبائلی علاقے ملک کے معدنی طور پر اہم اور جنگلات سے پُر حصوں میں واقع تھے اس لیے باقی ہندوستانی سماج کی ترقی کے لیے قبائلیوں کو غیر متناسب قیمت چکانی پڑی۔ اس طرح کی ترقی سے قبائل کی قیمت پر اصل دھارے کو فائدہ پہنچا۔ قبائل کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کا عمل معدنیات کا استحصال اور ہائیڈرو الکٹرک پاور پلانٹ قائم کرنے کے لیے موافق مقامات جو زیادہ ترقبائلی علاقوں میں تھے، سے استفادہ کرنا ایک لازمی ضمنی نتیجے کی شکل میں واقع ہوا۔
جنگلات سے محرومی جس پر زیادہ ترقبائلی کمیونٹیاں منحصر تھیں ایک زبردست جھٹکاتھا۔ جنگلات کا منظم طورپر استحصال برطانوی دور میں ہی شروع ہوچکا تھا اور یہ رجحان آزادی کے بعد بھی جاری رہا۔ علاقے میں نجی جائیداد بنانے کی شروعات سے بھی قبائلیوں پر بہت خراب اثر پڑا کیوں کہ یہاں پر کمیونٹی پر مبنی اجتماعی ملکیت کی شکلیں تھیں اور اس نئے نظام سے ان کو نقصان پہنچا۔ ایسی حالیہ مثال نرمدا پر بنائے جانے والے باندھوں کا سلسلہ ہے جہاں مختلف کمیونٹیوں اور خطوں کے لیے زیادہ ترلا گتوں اور فوائد کا بہاؤ غیر متناسب طور پر دکھائی دے رہا ہے۔
بہت سے علاقوں اور ریاستوں میں جہاں قبائلیوں کا ارتکاز تھا وہاں ترقی کے دباؤ کے سبب بڑی تعداد میں غیر قبائلی لوگوں کے نقل مکانی کرکے آنے کے سبب بھی مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اس سے قبائلی کمیونٹیوں اور ثقافتوں کو درہم برہم کرنے اور مغلوب کرنے کا خطرہ پیدا ہوا جب کہ قبائلیوں کے استحصال کا عمل تیز ہونے کا خطرہ تھا ہی۔ مثال کے لیے جھارکھنڈ کے صنعتی علاقوں میں آبادی کے قبائلی تناسب میں کافی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن سب سے زیادہ ڈرامائی معاملے شاید شمال مشرق میں ہوئے۔ ترپورہ جیسی ریاست کی آبادی میں قبائلی حصہ ایک ہی دہے میں نصف ہوگیا اور وہ گھٹ کر اقلیت میں آگئے۔ اسی طرح کے دباؤ کو اروناچل پردیش میں بھی محسوس کیا گیا۔

آج کے دور میں قبائلی شناخت

اصل دھارے کے عمل میں قبائلی کمیونٹیوں کی جبریہ شمولیت سے قبائلی ثقافت اور سماج پر تو اثر پڑا ہی ان سے زیادہ اس کی معیشت متاثر ہوئی۔ قبائلی شناختیں آج کل کسی قدیمی (اصل وقدیمی) خصوصیات کی بجائے جو قبائلیوں کے لیے مخصوص تھیں ، اس بین تفاعل عمل کے ذریعے تشکیل پارہی ہیں۔ چوں کہ اصل دھارے کے ساتھ بین عمل عام طور پر قبائلی کمیونٹیوں کے لیے غیر موافق  ثابت ہوئے اس لیے بہت سی قبائلی شناختیں آج کل غیر قبائلی دنیا کی غالب قوت کے تئیں مزاحمت اور مخالفت کے نظریات پر مرکوز ہیں۔ 
ایک جدوجہد کے بعد جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے لیے ریاست کی حیثیت ملنے جیسی کچھ کامیابیوں کے مثبت اثر مسلسل ہونے والے مسائل کے سبب ہلکے ثابت ہوئے ہیں۔ مثال کے لیے شمال مشرق کی بہت سی ریاستوں میں دہائیوں سے خصوصی قوانین نافذ ہیں جس سے شہریوں کی شہری آزادیوں کو حد میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔ اس طرح منی پور یا ناگالینڈ جیسی ریاستوں کے باشندوں کو وہی حقوق نہیں حاصل ہیں جو ہندوستان کے دوسرے شہریوں کو ملے ہوئے ہیں کیوں کہ ان کی ریاستوں کو ہنگامہ خیز علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ شمال مغربی ریاستوں میں مسلح بغاوتوں کے شیطانی چکر ریاستی جبر کاباعث بنتے ہیں اور اس سے مزید بغاوتیں بھڑک اٹھتی ہیں اور معیشت ثقافت اور سماج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ملک کے دیگر حصے میں جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کوبہر حال اپنی نئی حاصل شدہ ریاست کی حیثیت کا بھرپور استعمال کرنا ہے کیوں کہ وہاں کا سیاسی نظام ایسا ہے کہ بڑی ساختوں میں اب بھی خود مختاری نہیں ہے جس میں قبائل بے قوت ہیں۔
ایک اور نمایاں پیش رفت قبائلی کمیونٹیوں کے درمیان تعلیم یا فتہ مڈل کلاس کا تدریجی طور پر ابھرنا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں یہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک جزوی شروعات ہے جسے باقی ملک میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر بڑی قبائلی کمیونٹیوں کے ممبران کے درمیان ریزرویشن کی پالیسی کے ساتھ (جس کے بارے میں آپ مزید باب 5میں پڑ ھیں گے)۔ تعلیم، ایک شہری پروفیشنل طبقے کی تخلیق کررہی ہے۔ چوں کہ قبائلی سوسائیٹیوں میں زیادہ تفریق ہے (یعنی ترقی یافتہ طبقہ اور ان میں مختلف قسم کی تقسیم) اس لیے قبائلی شناخت کو منوانے کے لیے مختلف بنیادیں افزائش پارہی ہیں۔
مسائل کے دو وسیع مجموعے قبائلی تحریکوں کے ابھرنے میں زیادہ اہم ہیں۔ یہ مسائل زمین اور بالخصوص جنگلات جیسے نہایت اہم معاشی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق ہیں اوردوسرے وہ معاملات ہیں جو نسلی اور ثقافتی پہچان کے امور سے جڑے ہیں۔ یہ دونوں اکثر ساتھ ہی ساتھ ہوتے ہیں لیکن قبائلی سماج کی تفریق کے ساتھ وہ الگ الگ بھی ہوسکتے ہیں۔ قبائلی سماجوں میں مڈل طبقات کیوں اپنی قبائلی شناخت پرزور دیتے ہیں اس کے اسباب ان اسباب سے مختلف ہوسکتے ہیں جن کے لیے غریب اور ناخواندہ قبائل قبائلی تحریکوں میں شامل ہوتے ہیں۔جیسا کہ کسی دوسری کمیونٹی کے ساتھ ہوتا ہے، داخلی حرکیات اور بیرونی قوتوں کی ان اقسام کے درمیان رشتہ ہی ان کے مستقبل کو وضع فراہم کرے گا۔

8
قبائلی خواتین احتجاج کرتے ہوئے 


باکس 3.1

قبائلی شناخت پر اصرار بڑھتا جارہا ہے۔ قبائلی سماج کے اندر ایک مڈل کلاس کے ظہور کے ساتھ یہ عمل دیکھا جاسکتا ہے بطور خاص اس طبقے کے ابھرنے کے ساتھ ثقافت روایت ، ذریعہ معاش کی زمین اور وسائل پر کنٹرول اور جدیدیت کے پروجکٹوں کے فوائد میں حصے کے لیے مانگ قبائل میں شناخت کے اظہار کا لازمی جز بن چکا ہے۔ لہٰذا قبائل میں اب ایک نئے قسم کا شعور اور بیداری ہے جس کی شروعات مڈل طبقات سے ہورہی ہے۔ مڈل طبقات خود جدید تعلیم اور جدید پیشوں سے مستفید ہوتے ہیں اور ریزرویشن کی پالیسیوں کے ذریعے ان کو مدد مل رہی ہے۔
ماخد: ورجینیس شاکشا
'Culture, Politics and Identity: The Case of the tribes in India, in John et al  2006

3.3  خاندان اور قرابت داری

ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس میں کافی عرصہ گزارتے ہیں۔ عام طور پر ہم اپنے خاندان کے بارے میں بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم اپنے والدین ،دادا دادی ، نانا نانی ، بھائی بہن، چچا چچی وغیرہ اور عم زاد کے بارے میں بہت اچھا محسوس کرتے ہیں حالاں کہ کبھی کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ جہاں ایک طرف ان کی مداخلت سے ناراض ہوجاتے ہیں وہیں ان کے جذباتی دباؤ والے طریقوں کو اس وقت زیادہ محسوس کرتے ہیں جب ان سے دور ہوتے ہیں۔ خاندان عظیم گرم جوشی اور مہرومحبت اور دیکھ بھال کی جگہ ہے۔ یہاں تھوڑے بہت جھگڑے، ناانصافی اور تشدد بھی ہوتا ہے۔ دختر کشی (Female infanticide)، جائداد کے معاملے میں بھائیوں کے درمیان پر تشدد جھگڑے ، خطرناک قانونی تنازعات، خاندان اورقرابت داری میں اسی طرح نظر آتے ہیں جیسا کہ رحم دلی، قربانی اور دیکھ بھال ۔
خاندان کی ساخت کا مطالعہ اپنے آپ میں سماجی ادارے کے طورپراور سماج کے سماجی اداروں کے ساتھ اس کے رشتے کے طور پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ بذات خود خاندان کی تعریف نیوکلیر یا تو سیعی کے طور پر کی جاسکتی ہے۔ اس کا سربراہ مرد یا کوئی عورت ہوسکتی ہے۔سلسلہ نسب مادرنسبی یاپدرنسبی ہوسکتا ہے۔ خاندان کی یہ اندرونی ساخت عام طور پر سماج کی دیگر ساختوں یعنی سیاسی معاشی، ثقافتی وغیرہ سے متعلق ہوتی ہے۔ اس طرح ہمالیائی خطے کے گاؤں سے مردوں کی نقل مکانی کا نتیجہ گاؤں کے خاندانوں میں خاتون سربراہ کے غیر معمولی تناسب کی شکل میں برآمد ہوسکتا ہے یا ہندوستان میں سافٹ ویر صنعت میں نوجوان والدین کے اوقات کار کے سبب نو عمر پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال کرنے والے کے طور پر دادادادی کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ خاندان کی ترکیب اور اس کی ساخت میں اس بنا پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ خاندان (نجی دائرہ)، معاشی ، سیاسی ، ثقافتی اور تعلیمی (عوامی) دائرہ سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔
خاندان ہماری زندگی کا ایک لازمی جز ہے۔ ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی فرض کرتے ہیں کہ دیگر لوگوں کے خاندان بھی ہمارے جیسے ہوں گے۔ (خاندان کی ان اور دیگر جہتوں کے بارے میں گیارھویں جماعت کی آپ کی درسی کتاب میں سماج کے تعارف کے باب 1 میں بحث کی گئی ہے۔) بہر حال جیساکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خاندانوں کی مختلف ساختیں ہوتی ہیں اور یہ ساختیں تبدیل ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی یہ تبدیلیاں اتفاقی طور پر واقع ہوتی ہیں جب کوئی جنگ واقع ہو یا کام کی تلاش میں لوگ نقل مکانی کرکے چلے جائیں۔ کبھی کبھی یہ تبدیلیاں قصداًیا کسی مقصد سے کی جاتی ہیں۔ جب نوجوان لوگ بڑوں کے فیصلے سے شادی کرنے کے بجائے اپنے آپ شریک زندگی کا انتخاب خود کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا جب ہم جنسی پیار کو کھلے طور پر سماج میں ظاہر کیاجاتا ہے۔
یہ واقع ہونے والی تبدیلیوں کے انداز کی ایک شہادت ہے جس نے نہ صرف خاندان کی ساختوں کو تبدیل کردیا بلکہ ثقافتی نظریات ، معیارات اور اقدار کو بھی تبدیل کردیا۔ یہ تبدیلیاں رونما ہونا بہر حال اتنا آسان نہیں ہے۔ تاریخ اور عصری زمانے سے پتہ چلتا ہے کہ خاندان اور شادی کے معیارات میں واقع بیشتر تبدیلی کی پرتشدد مزاحمت ہوئی۔ خاندان کی اپنی کئی جہتیں ہیں۔ ہندوستان میں بہرحال خاندان پر بحث اکثر نیوکلیر اور توسیعی خاندان کے اردگرد ہوتی ہے۔

باکس 3.2


موجود مطالعہ… ایک مسلم برادری (کمیونٹی) سے متعلق ہے جسے ملتانی لوہار کہا جاتا ہے۔ کارخانہ دار ایک دیسی اصطلاح ہے جو کسی ایسے فرد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو مینوفیکچرنگ کے کاروبار میں مشغول ہو جس کا عام طور پر وہ خود مالک ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ کارخانہ دار گھریلو حالات میں کام کرتا ہے اور اس لیے کارخانہ داروں کی زندگی پرجو ان حالات میں کام کرتے ہیں اس کے بعض قابل نفوذ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ درج ذیل معاملے سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے۔ محمود جس کی عمر چالیس سال ہے، وہ چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اس کی شادی ہوچکی تھی۔ اس کے تین بچے تھے اور وہ مخلوط خاندان کا سربراہ تھا ۔ یہ تینوں بھائی مختلف کارخانوں اور فیکٹریوں میں ہنر مند اور ماہر ورکرس کے طورر پر لگے ہوئے تھے۔ محمود نے کامیابی کے ساتھ ایک موٹر پرزے کی نقل تیار کی جس کی درآمد پر پابندی لگی ہوئی تھی۔ اس سے اس کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ اپنا کار خانہ شروع کرسکے۔ بعد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دوکار خانے اس موٹر پرزے کو بنانے کے لیے قائم کیے جائیں۔ ایک کے مالک دوبڑے بھائی ہوں اور دوسرے کی ملکیت سب سے چھوٹے والے کے پاس ہو لیکن شرط یہ تھی کہ وہ ایک الگ گھربسالے۔ رشید نے ایک الگ گھر بنالیا۔ اس میں اس کی بیوی اور غیر شادی شدہ بچے رہتے تھے۔ لہذا ایک مخلوط گھر جو تین شادی شدہ بھائیوں پر مشتمل تھا اب اس سے ایک نئے کاروباری مواقع کے نتیجے میں ایک سادہ سا نیا گھر بھی بنا۔ 
امتیاز احمد (ادارت)، فیملی، کن شپ اینڈ میرج امنگ مُسلمس ان انڈیا، نئی دہلی، منوہر، 1976 صفحہ 27 تا 48 میں ایس۔ایم اکرم رضوی کی تحریر "Kinship and Industry among the Muslim Karkhanedars in Delhi" سے اقتباس۔

نیو کلیر اور توسیعی خاندان

نیوکلیریا مربوط خاندان صرف ماں باپ اور ان کے بچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک توسیعی خاندان (جسے عام طور پر مشترکہ خاندان کے طور پر جانا جاتا ہے) مختلف شکلوں میں ہوسکتا ہے لیکن اس میں ایک سے زیادہ جوڑے اور اکثر دویا زیادہ نسلیں ایک ساتھ رہتی ہیں۔ اس میں اپنی انفرادی خاندانوں کے ساتھ بھائی یا اپنے بچوں اور پوتیوں ان کی متعلقہ خاندانوں کے ساتھ بزرگ جوڑے ہوسکتے ہیں۔ توسیعی خاندان کو زیادہ تر ہندوستان کی علامتی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ اب بلکہ پہلے بھی غالب حیثیت میں نہیں تھا۔ یہ صرف مخصوص طبقات یا کمیونٹی کے بعض خطوں تک محدود تھا۔ درحقیقت اصطلاح ، مشترکہ خاندان، خود ویسی زمرہ نہیں ہے۔ جیسا کہ آئی ۔پی۔دیسائی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اصطلاح'Joint family' ہندستانی لفظ کا ترجمہ نہیں۔ یہ غور کرنا دلچسپ ہے کہ جوائنٹ خاندان کے لیے جو الفاظ زیادہ تر ہندوستانی زبانوں میں استعمال کیے جاتے ہیں وہ خود انگریزی لفظ Joint family کے ترجمے کے مساوی ہیں (ڈیسائی 1964:40 )

خاندان کی مختلف شکلیں

مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مختلف سماجوں میں خاندان کی الگ الگ شکلیں پائی جاتی ہیں۔ رہائش کے اصول کے لحاظ سے کچھ سوسائٹیاں اپنی شادی اور خاندان کی رسم کے لحاظ سے مادر مقامی اور دیگر پدر مقامی ہوتی ہیں۔ پہلے معاملے میں نئے شادی شدہ جوڑے خاتون کے والدین کے ساتھ ٹھہرتے ہیں جب کہ دوسرے معاملے میں جوڑے مرد کے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ وراثت کے قوانین کے مطابق مادرنسبی سوسائٹیوں میں جائداد ماں سے بیٹی کو جب کہ پدر نسبی سوسائٹیوں میں باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ پدر اقتداری خاندان ساخت وہاں موجود ہوتی ہے جہاں مرد اقتدار اور تسلط کا استعمال کرتے ہیں اور مادر اقتداری میں عورتیں اسی طرح کے غالب کردار نبھاتی ہیں۔ تاہم نظام پدری کے برعکس نظام مادری خاندان میں عملی تصور کے بجائے نظریاتی تصور ہوتا ہے۔نظام مادری اقتداری خاندان یعنی ایسی سوسائٹیاں جہاں عورتیں غلبہ رکھتی ہیں (ان کا اقتدار ہوتا ہے) کی کوئی تاریخی یا انسانیاتی شہادت موجود نہیں ہے۔ تاہم مادرنسبی سوسائٹیوں کا تو وجود ہے، یعنی وہ سوسائٹیاں جہاں عورتوں کو اپنی ماؤں سے جائیداد وراثت میں ملتی ہے لیکن وہ اس پر اپنا اختیار نہیں رکھتیں اور عوامی معاملات میں وہ فیصلہ ساز نہیں ہوتیں۔
باکس 3.3 میں مادرنسبی خاص کمیونٹی کے بیان سے مادر نسبی اور نظام مادر اقتداری کے درمیان فرق کی صراحت ہوتی ہے۔ مادرنسبی خاندان کے ذریعے تخلیق کیے گئے ساختی تناؤ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آج کے’خاصی‘ (Khasi) سماج میں مردوں اور عورتوں دونوں پر ہی یہ اثر انداز ہورہا ہے۔

9
خاصی مادر نسبی خاندان


باکس 3.3

میگھالے جانشینی یا وراثت ایکٹ (جسے میگھالے قانون ساز اسمبلی کے ذریعے پاس کیا گیا اس کے سبھی ممبران مرد ہی تھے) کو 1986 میں صدر کی منظوری ملی تھی۔ وراثت ایکٹ کا اطلاق خاص طور پر میگھالیہ کے خاصی اور جنتیا قبائل پر ہوتا ہے اور کسی بھی بالغ اور عاقل پر لاگو ہوتا ہے نہ کہ نا بالغ پر۔ اس فرد کو اپنی خود سے حاصل کی گئی جائیداد کی وصیت کرنے کا حق عطا کرتا ہے۔ خاصی اور جنتیا رسم میں وصیت کیے جانے کے لیے رواج موجود نہیں تھا۔ خاصی رسم میں آباواجداد کی جائیداد وراثت عورتوں کو منتقل کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔ بطور خاص تعلیم یافتہ خاصیوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ قرابت داری اور وراثت کے ان کے اصول عورتوں کے حق میں جانب دارانہ ہیں۔ اور بہت زیادہ امتناعی یا بندشی ہیں۔ لہذا وراثت ایکٹ کو اس طرح کی بندشوں کو ہٹانے کی ایک کوشش کے طور پر اور خاصی روایت میں عورتوں کے تئیں جانب داری کے اوراک کودرست کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ جائزہ لینے کے لیے کہ آیاخاصی روایت میں نسواں جانب داری کا عام ادراک کیا واقعی جائز ہے۔ یہ ضروری ہے کہ خاصی مادرنسبی نظام کا جائزہ جنسی کرداروں کے رائج جنس پر مبنی رشتوں اور تعریفوں کی بنیاد پر لیا جائے۔
متعدد دانش وروں نے مادرنسبی نظاموں میں پنہاں تضادات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان میں سے ایک تضاد ایک طرف نسب اور وراثت کے خطوط کی علاحدگی سے، وہیں دوسری طرف اختیار اور کنٹرول کی ساخت سے پیدا ہوتا ہے۔پہلا جو بیٹی کو ماں سے جوڑتا ہے وہ اس دوسرے اصول کے ساتھ متصادم ہوتا ہے جو ماں کے بھائی کو بہن کے بیٹے سے جوڑتا ہے (دوسرے لفظوں میں ایک عورت جو جائداد اپنی ماں سے وراثت میں پاتی ہے اور اسی طرح اپنی بیٹی کو منتقل کرتی ہے جب کہ ایک مرد اپنی بہن کی جائداد پر اختیار رکھتا ہے اور اپنی بہن کے بیٹے کے اختیار کے لیے اسے منتقل کرتا ہے۔ اس طرح وراثت ماں سے بیٹی کی طرف منتقل ہوتی ہے جب کہ اختیار ماموں سے بھانجے کی طرف منتقل ہوتا ہے) خاصی مادرنسبی نظام مردوں کے لیے کرداری تصادم میں شدت پیدا کرتا ہے۔ وہ ایک طرف اپنے پیدائشی گھر کے متعلق اپنی ذمہ داریوں اور دوسری طرف اپنی بیوی اور بچوں کے درمیان فیصلہ نہ کرسکنے کی حالت میں ہوتے ہیں ۔ اس طرح اس کرداری تصادم کے ذریعے پیدا ہونے والے دباؤ کا اثر عورتوں پر کافی زیادہ پڑتا ہے۔ ایک عورت کے لیے پوری طرح یقینی نہیں ہوتا کہ اس کا شوہر اپنے خود کے گھر کے مقابلے اپنی بہن کے گھر کو زیادہ موافق نہیں پاتا۔ اسی طرح ایک بہن اپنی بہبود کے لیے اپنے بھائی کے پیمان کے بارے میں خائف یا خدشے میں رہتی ہے کیوں کہ بیوی جس کے ساتھ وہ رہتا ہے ہمیشہ اسے پیدائشی گھر کے تئیں اس کی ذمہ داریوں سے دور کرسکتی ہے۔ 
کرداری تصادم کے ذریعے عورتوں پر مردوں کے مقابلے زیادہ خراب اثر پڑاہے۔ اس کرداری تصادم کا اثر مادرنسبی نظام میں نہ صرف اس لیے پڑتا ہے کہ مردوں نے زیادہ اختیار حاصل کرلیا ہے اور عورتیں اس سے محروم ہیں بلکہ اس لیے کہ نظام میں مردوں کے تئیں زیادہ نرمی ہے جب کہ یہاں اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ خاصی سماج میں عورتیں صرف علامتی اختیار رکھتی ہیں، یہ مرد ہی ہیں جو حقیقی اقتدار کے حامل ہیں۔ نظام کو دراصل مردپدری قرابت کے مقابلے مادر قرابت داری کے حق میں وزنیت دی گئی ہے۔[دوسرے لفظوں میں مادرنسبی نظام ہونے کے باوجود مرد خاصی سماج میں اقتدار کے حامل ہیں فرق صرف یہ ہے کہ مرد کے اس کی ماں کی طرف کے رشتے داروں کو اس کے باپ کی طرف کے رشتے داروں کی نسبت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔]
ماخذ: Tiplut Nongbri "Gender and the Khasi Family Structure" in uberio,1994 سے اخذ کیا گیا۔

سوالات

ذات کے نظام میں علاحدگی اور درجہ بندی کے نظریات کی کیا اہمیت ہے؟
 2۔ وہ کون سے کچھ ضوابط ہیں جو ذات کا نظام عائد کرتے ہیں؟
3 ۔ ذات کے نظام میں استعماریت کے سبب کیا تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں؟
کس مفہوم میں ذات نسبتاً شہری اونچی جاتیوں کے لیے غیر مرئی(نظرنہ آنے والی) بن چکی ہے؟
5 ۔ قبائل کو ہندوستان میں کس طرح درجہ بندکیا گیا ہے؟
6 ۔ آپ اس نظریے کے مقابل کیا شہادت پیش کریں گے کہ ’قبائل ابتدائی کمیونٹیاں ہیں جو الگ تھلگ زندگی گزارتی ہیں اور جو تمدن سے اچھوتی ہیں؟
آج کل قبائلی شناختوں کے اصرار کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟
8 ۔ وہ کون سی مختلف شکلیں ہیں جو خاندان اختیار کرسکتے ہیں؟
سماجی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیاں کس طرح خاندان کی ساخت میں تبدیلی کی وجہ بن جاتی ہیں۔
10 ۔ مادرنسبی اور مادراقتداری نظام کے درمیان فرق کی وضاحت کیجیے۔

حوالہ جات

Deshpande, Satish. 2003. Contemporary India: A Sociological View. Penguin Books. New Delhi.
Gupta, Dipankar. 2000. Interrogating Caste. Penguin Books. New Delhi.
Sharma, K.L. ed. 1999. Social Inequality in India: Profites of Caste, Class and Social Mobility. 2nd edition, Rawat Publications. Jaipur.
Sharma, Ursula. 1999. Caste. Open University Press. Buckingham & Philadelphia.
Beteille, Andre. 1991. ‘The reproduction of inequality: Occupation, caste and family’, in Contributions to Indian Sociology. N.S., Vol. 25, No.1, pp3-28.
Srinivas, M.N. 1994. The Dominant Caste and Other Essays. Oxford University Press. New Delhi.
Dumont, Louis. 1981. Homo Hierarchicus: The Caste System and its Implications. 
2nd editon, University of Chicago Press. Chicago.
Ghurye, G.S. 1969. Caste and Race in India. 5th edition, Popular Prakashan. Mumbai.
John, Mary E., Jha, Pravin Kumar. and Jodhka, Surinder S. ed. 2006. Contested Transformations: Changing Economies and Identities in Contemporary India. Tulika. New Delhi.
Dirks, Nicholas. 2001. Castes of Mind: Colonialism and the Making of Modern India. Princeton University Press. Princeton.
Uberoi, Patricia. ed. 1994. Family, Kinship and Marriage in India. Oxford University Press. Delhi.
Xaxa, Virginius. 2003. ‘Tribes in India’ in Das, Veena. ed. The Oxford India Companion to Sociology