1980 کی دہائی کے اواخرسے، ہندوستان اپنی معاشی تاریخ کے نئے دور میں داخل ہوا جو کہ خاص طور سے حکومت کے زیر کنٹرول ترقی کی کھلے بازار کی معاشی پالیسی میں تبدیلی کے سبب ہوا۔ اس تبدیلی سے عالم گیریت کے دور کی شروعات ہوئی۔ یہ وہ دورہے جس میں دنیا صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور سیاسی طور پر بھی پہلے سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ عالم گیریت کے کئی پہلو ہیں ان میں سے خاص ہیں، بین الاقوامی سطح پر تجارتی اشیا ،پونجی، اطلاعات اور لوگوں کا آناجانا اس کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی (کمپیوٹر، ٹیلی مواصلات اور ذریعۂ نقل و حمل) اور دوسری بنیادی سہولیات کی ترقی، جو اس تحریک کو جلا بخشتی ہیں۔
ناسداق ایک اہم الیکٹرانک اسٹاک ایکسچینج ہے جو نیویارک میں موجود ہے۔ یہ خاص طور سے کمپیوٹر پر مبنی الیکٹرانک ترسیل کے ذرائع سے ہوتا ہے۔ یہ تمام دنیا کے بروکروں اور پیسہ لگانے والوں کو اُن کمپنیوں کے شیئر (حصہ) خرید و فروخت میں مدد کرتا ہے جو اس میں رجسٹرڈ ہیں۔ یہ سودے صحیح وقت پر ہوتے ہیں یعنی چند سیکنڈ میں معاملے طے کردیے جاتے ہیں اور وہ بھی بنا کاغذی کاروائی یا کاغذی نوٹوں کے۔ اوپر دی گئی خبر کے حصہ کو غور سے پڑھیں اور مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیں۔
1۔ ایک اسٹاک بازار میں تجارت (جیسے کہ ناسداق یا ممبئی اسٹاک ایکس چینج) دوسرے بازاروں میں تجارت سے کیسے الگ ہے؟ آپ اسٹاک ایکس چینج کے بارے میں اخباروں، میگزینوں اور انٹرنیٹ سے اور معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
2۔ یہ واقعہ جو کہ امریکہ میں موجود ناسداق بازار میسور سے انفوسس کے چیئرمین نارائن مورتی کے ذریعے کیے گئے افتتاح کے بارے میں ہے۔ آپ کو آج کی دنیا کے بازاروں کے بارے میں (خاص کر شیئر اور معاشی بازار کے بارے میں) اور ہندوستان کے عالمی معاشی نظام سے تعلقات کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
3۔ خبر میں افتتاح کے واقعے کو ایک تقریب کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ کیا آپ ایسی ہی کسی دوسری تقریب کی رسم کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو دوسری قسم کے بازاروں میں اہم ہیں؟
باکس 4.4
جب بازارایک تجارتی مال بن جائے: پُشکر کا اونٹوں کا میلہ
’’کارتک کا مہینہ آتے ہی… شستر بان اپنے ریگستانی جہازوں کو سجاتے ہیں اور کارتک پورنیما کے موقع پر وقت پر پہنچنے کے لیے پشکر کی لمبی مسافت کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ ہر سال تقریباً 2,00,000 لوگ اور 50,000اونٹ اور دوسرے جانوروں کا یہاں ہجوم ہوتا ہے۔وہ منظر دیکھتے ہی بنتا ہے جب رنگ شور و غل اور چہل پہل سے لوگ گھرے ہوتے ہیں۔ موسیقی داں سیاح، تاجر، مویشی اور عقیدت مندسب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے یہاں اونٹوں کو سجا سنوار کر انھیں آزاد کیا جاتاہے۔ جس میں بھٹے کے بال کی طرح بال سنوارے ہوئے اونٹوں، پازیبوں کی جھنکار، سوزن کاری کیے ہوئے لباس اور ٹم۔ ٹم پر سوار لوگوں سے آپ کی حیرت انگیز ملاقات ہوسکتی ہے۔‘‘
اونٹوں کے میلے کے ساتھ ہی ساتھ مذہبی صورت حال بھی ایک وحشیانہ، جادو کے نقطۂ عروج پر ہوتی ہے۔ اگر بتیوں کا گھنا دھواں اور منتروں کا شور اور میلے کی آخری رات میں ہزاروں عقیدت مند ندی میں غوطہ لگا کر اپنے گناہ دھوتے ہیں اور مقدس پانی میں ٹمٹماتے دیے چھوڑتے ہیں۔‘‘
باکس 4.4 میں دیے گئے اقتباس کو پڑھیں جو کہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک کتاب سیاحت سے ماخوذ ہے۔ اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد آپ یہ جان پائیں گے کہ کس طرح سے ایک بازار، اس معاملے میں روایتی سالانہ مویشی بازاراور پشکر کا میلہ دیگر بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیا میں تبدیل ہوگئے ہیں دوسرے بازار یہاں سیاحت بازار ہیں۔ سوالوں کا جواب دینے سے پہلے کلاس میں اس مضمون کے بارے میں بحث و مباحثہ کریں۔
1۔ پشکر کا بین الاقوامی سیاحت کے حلقے میں آجانے سے اس جگہ کون سی نئی اشیا، خدمات رقم اور عوام کے حلقوں کی توسیع ہوئی ہے؟
2۔ آپ کے خیال میں بڑی تعداد میں ہندوستانی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کے سبب میلے کی شکل کس طرح سے بدل گئی ہے؟
3۔ اس جگہ کا مذہبی جوش و خروش کس طرح سے اُس کی بازاری قیمت کو بڑھاتا ہے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں ہندوستان میں روحانیت کا ایک بازار ہے؟
4۔ کیا آپ ایسی ہی مثال سوچ سکتے ہیں جس میں مذہب، روایات، علم یا یہاں تک کہ نقش بھی (مثال کے لیے روایتی پوشاک میں ایک راجستھانی عورت) عالمی بازار میں اشیا بن گئے ہیں۔
حریت پسندی پر بحث: بازار بنام ریاست
ہندوستانی معاشی نظام کی عالم گیریت بنیادی طور پرنرم کاری کی پالیسی کے سبب ہوئی جوکہ 1980کی دہائی میں شروع ہوئی۔ حریت پسندی میں کئی طرح کی پالیسیاں شامل ہیں جیسے سرکاری شعبوںکی نج کاری(سرکاری کمپنیوں کونجی کمپنیوں کو فروخت کردینا) سرمایہ، محنت اور مزدوری اور تجارت میں سرکاری دخل کو کم کرنا بیرونی اشیا کی آسان درآمد کے لیے محصول میں کمی کرنا اور بیرونی کمپنیوں کو ہندوستان میں صنعت قائم کرنے میں سہولیت دینا۔ بازار گیری یا ان بدلاؤ کو سماجی، سیاسی یا معاشی مسائل کے حل کے لیے بازار یا بازار پر منحصر اعمال (سرکاری قانون اور حکمت عملی کے بجائے) کے استعمال سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اس میں معاشی ضبط کو سرکار کے ذریعے کم یا ختم کردینا، صنعتوں کا ذاتی اور مزدوری اور قیمتوں سے سرکاری ضبط کو ختم کردینا شامل ہے۔ جو لوگ بازار گیری کی حمایت کرتے ہیں اُن کا ماننا ہے کہ اس سے سماج میں معاشی ترقی آئے گی کیوں کہ سرکاری محکمہ کے مقابلے یہ ذاتی ادارے زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں۔
نرم کاری کے پروگراموں کے تحت جو تبدیلی ہوئی اس سے معاشی خوش حالی بڑھی اور اس کے ساتھ ہی ہندوستانی بازاروں کو بیرونی کمپنیوں کے لیے کھولا گیا۔ مثال کے طور پر اب بہت سارے غیر ملکی سامان یہاں فروخت ہوتے ہیں جو پہلے نہیں دستیاب تھے۔ ایسا مانا جاتاہے کہ غیر ملکی سرمایہ لگانے سے معاشی ترقی ہوتی ہے اور روزگار میں اضافہ ہوتا ہے سرکاری کمپنیوں کی نج کاری کے سبب صلاحیت بڑھتی ہے اور سرکار پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ حالاں کہ نرم کاری کا ملا جلا اثر رہا۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ نرم کاری کا ہندوستان کے ماحول پر منفی اثر پڑا اور آنے والے دنوںمیں بھی ایسا ہی ہوگا۔ ہم اپنی زیادہ چیزوں کے مقابل کم چیزیں حاصل کریں گے۔ ہندوستانی صنعت کے کچھ حلقوں (جیسے سافٹ ویئر یا معلومات ٹکنیک) یا کاشت کاری (جیسے مچھلی یا پھل کی پیداور) کو شاید عالمی بازار سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ لیکن دوسرے حلقوں (جیسے آٹوموبائل، الیکٹرانک اور تیل والے اناجوں کی صنعت) پر گہرا منفی اثر پڑے گا کیوں کہ یہ صنعت بیرونی پیداواروں سے مقابلہ نہیں کرپائے گی۔
مثال کے طور پر ہندوستانی کسان اب دوسرے ملکوں کے کسانوں کی پیداوار سے مقابلہ کر رہے ہیں کیوں کہ زراعت سے جڑی پیداوار کی برآمدگی اب ممکن ہے۔ پہلے ہندوستانی زراعت معاون قیمت اور سبسڈی (Subsidy) کے ذریعے بین الاقوامی بازار میں محفوظ تھی۔ یہ حمایتی قیمت کسانوں کی کم سے کم آمدنی کو طے کرتی ہے کیوں کہ یہ وہ قیمت تھی جس پر سرکار زراعت کی پیداواروں کو خریدنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ سبسڈی سے کسانوں کے ذریعے استعمال میں آنے والی چیزوں (جیسے کھاد ڈیزل تیل) کی قیمت بھی سرکار کم کردیتی تھی۔نرم کاری بازار میں اس قسم کی سرکاری مدد کے خلاف ہے۔ اس لیے سبسڈی اور معاون قیمتوں کو یا تو گھٹا دیا گیا یا پھر انھیں واپس لے لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سارے کاشت کار اپنی روزی روٹی کمانے میں ناکام رہے۔ اس طرح چھوٹے صنعت کاروں کا عالمی سطح کے صنعت کاروں کے ساتھ مقابلہ رہا ہے۔ اس میں شک کی گنجائش بھی نہیں کہ ان میں سے کچھ کا بالکل خاتمہ ہی ہوجائے۔ غیر سرکاری اداروں میں ان سرکاری محکموں کے ملازمین کی نوکریاں بھی کم ہوگئی ہیں یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ روزگار کے ذرائع اب مستقل نہیں رہ گئے۔ غیر سرکاری ذاتی غیر منظم روزگار ابھر کر سامنے آرہے ہیں اور سرکاری محکمے جو کہ منظم ہیں ان میں روزگار کم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ مزدوروں کے لیے اچھا نہیں ہے کیوں کہ منتظم محکمے عموماً کم تنخواہ اور عارضی نوکریاں انھیں دے رہے ہیں۔ (بارھویں جماعت کی دوسری کتاب ہندوستان میں سماجی تبدیلی اور ترقی میں زرعی تبدیلی اور صنعت پر لکھے باب کو دیکھیں۔)
اس باب میں ہم نے دیکھا کہ عصری ہندوستان میں آج ایک دیہی بازار سے لے کر بالواسطہ اسٹاک ایکس چینج جیسے مختلف قسم کے بازار بھی ہیں۔ یہ بازار خود بھی سماجی ادارے ہیں اور ان تمام سماجی اداروں جیسے خاندان ذات طبقے سے مختلف طریقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ ہم نے یہ بھی جانا کہ لین دین کے معاشی معنی ہی نہیں ہوتے بلکہ اُس کے علامتی اور ثقافتی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ مزید برآں وہ طریقے جن کے تحت اشیا اور خدمات کا لین دین ہوتا ہے یا فراہم کی جاتی ہیں نرم کاری اور عالم گیریت کے سبب تیز رفتاری کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ ہندوستان کی حریت پسندی کے بعد کے بازار کے ماحول میں جو عالم گیریت کا اہم حصہ بھی ہیں ایسے تمام طریقے اور نظام شامل ہیں جو اشیا، خدمات، ثقافتی علامتوں اور سرمایہ کو بازار میں داخلہ دلواتی ہیں۔ مقامی دیہی بازار سے لے کر بین الاقوامی تجارتی حلقوں تک جیسے ناسداق ۔ آج کے تیزی سے بدلتے دور میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کس طرح بازار لگاتار بدل رہے ہیں اور ان سماجی معاشی تبدیلیوں کے نتائج کیا ہیں۔
1۔ ’پوشیدہ ہاتھ‘ کا کیا مفہوم ہے؟
2۔ بازار کا سماجیاتی نظریہ، معاشی نظریہ سے کس طرح جدا ہے؟
3۔ کس طرح سے ایک بازار جیسے کہ، ایک ہفتہ وار دیہی بازار ایک سماجی ادارہ ہے؟
4۔ ذات اور رشتہ داری کے تعلق کس طرح تجارت کی کامیابی میں تعاون دیتے ہیں؟
5۔ نوآبادیات کے آنے کے بعد ہندوستانی معاشی نظام کن معنوں میں تبدیل ہوا ہے؟
6۔ مثالوں کے ذریعے ’اشیایا اشیا کاری‘ کے معنی کی وضاحت کریں۔
7۔ ’حیثیت کی علامت‘ کیا ہے؟
8۔ ’عالم گیریت‘ (عالم کاری)کے تحت کون کون سے اعمال شامل ہیں؟
9۔ ’حریت پسندی‘ (نرم کاری) سے کیا مراد ہے؟
10۔ آپ کی رائے میں، کیا نرم کاری کے طویل مدتی مفاد اس کی قیمت کے مقابلے میں زیادہ ہوجائیں گے؟ وجوہات کے ساتھ جواب دیں۔
حوالہ جات
Bayly, C.A. 1983 Rulers, Townsmen and Bazaars; North Indian Society in the Age of British Expansion, 1770-1870. Oxford University Press. Delhi.
Durkheim, Emile. 1964 (1933). The Division of Labour in Society. Free Press. New York.
Gell, Alfred. 1982. ‘The market wheel: symbolic aspects of an Indian tribal market,’ Man (N.S.). 17(3):470-91.
Hardgrove, Anne. 2004. Community and Public Culture; The Marwaris in Calcutta. Oxford University Press. New Delhi.
Malinowski, Bronislaw. 1961 (1921). Argonauts of the Western Pacific. E.P. Dutton and Company. New York.
Mauss, Marcel. 1967. The Gift; Forms and Functions of Exchange in Archaic Societies. W.W. Norton & Company. New York.
Polanyi, Karl. 1944. The Great Transformation. Beacon Press. Boston.
Rudner, David. 1994. Caste and Capitalism in Colonial India; The Nattukottai Chettiars. University of California Press. Berkeley.
Stein, Burton and Subrahmanyam, Sanjay. ed. 1996. Institutions and Economic Change in South Asia. Oxford University Press. New Delhi.
نوٹس