Skip to content
QR5273CH04

1

باب 4

بازار ایک سماجی ادارے کی حیثیت سے

(The Market as a Social Institution)

عام طور پر ہم بازاروں کو خرید فروخت کی ایک جگہ مانتے ہیں۔ روزمرہ کی بول چال کے استعمال میں ’بازار‘ لفظ کے معنی خاص بازار سے ہوسکتے ہیں جنھیں شاید ہم جانتے ہیں جیسے ریلوے اسٹیشن کے پاس کا بازار، پھلوں کا بازار یا تھوک بازار۔ کبھی کبھی ہم مقامات کی بات سے ہٹ کر لوگوں کے اجتماع، خریدار اور بیچنے والے کی بھیڑ بھاڑ کی بات کرتے ہیں جو مل کر بازار بناتے ہیں۔ اس لیے مثال کے طور پر ایک ہفتہ وار سبزی بازار، شہری پڑوس یا پڑوسی گاؤں میں ہفتہ کے ہر دن مختلف جگہوں پر پایا جاسکتاہے۔ ایک دوسرے معنی میں ’بازار‘ ایک علاقہ یا کاروبار کی فہرست کے بارے میں بات کرتا ہے جیسے کاروں کا بازار۔ یا پھر تیار شدہ کپڑوں کا بازار۔ اسی سے جڑا ہوا ایک مفہوم ایک خاص پیداوار یا خدمت کی مانگ  کوظاہرکرتا ہے جیسے کمپیوٹر کے ماہرین کا بازار۔
ان تمام معنوں میں ایک بات یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام معنی ایک خاص طرح کے بازار کی بات کر رہے ہیں جسے ہم پوری طرح تبھی سمجھ سکتے ہیں جب ہم اس کے سیاق کو ذہن میں رکھیں۔ پھر اگر ایسا ہے تو صرف ’بازار‘ کے لفظی معنی  کا استعمال جو کسی مخصوص جگہ، لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یا کاروباری عمل اور حلقہ کی عکاسی نہ کرتا ہو، ہمیں کیا واضح کرسکتا ہے؟ یہ استعمال نہ صرف اوپر دیے گئے معنی کو شامل کرتا ہے بلکہ تمام طرح کے معاشی عمل اور اداروں کی بھی وضاحت کرتاہے۔ اس لیے ان وسیع معنوں میں ’بازار، تقریباً معاشی نظام کے برابر ہے۔ ہم بازار کو ایک معاشی ادارے کے طور پر دیکھنے کے عادی ہیں لیکن یہ سبق آپ کو بتائے گا کہ بازار ایک سماجی ادارہ بھی ہے۔ اپنے خود کے طریقوں میں بازار کا مقابلہ ذات، قبائل یا خاندان جیسے واضح سماجی اداروں سے، جن کا ذکر باب 3 میں کیا گیا ہے، کیا جاسکتاہے۔

4.1 بازار اور معیشت پر سماجیاتی پس منظر

معاشیات مضمون کے تدریسی عمل کا مقصد اس بات کو سمجھنے اور بیان کرنے سے ہے کہ جدید سرمایہ دارانہ معاشی نظاموں میں بازارکس طرح سے کام کرتے ہیں جیسے قیمتیں کس طرح طے ہوتی ہیں، کسی خاص طرح کی سرمایہ کاری کا ممکنہ اثر کیا ہے، یا وہ کون سے عوامل ہیں جو لوگوں کو خرچ کرنے یا پیسے بچانے کے لیے راغب کرتے ہیں۔ سماجیات بازاروں کے مطالعے میں کیا تعاون کرسکتی ہے جو معاشیات سے اچھوتا رہ گیا ہے؟
اس جواب کے لیے ہمیں مختصر طور پر اٹھارھویں صدی کے انگلینڈ اور جدید معاشیات کے ابتدائی دور کے بارے میں جاننا ہوگا جسے اُس دور میں ’’سیاسی معاشی نظام‘‘ کہا جاتا تھا۔ ابتدائی دور کے سیاسی ماہرین معاشیات میں ایڈم اسمتھ سب سے زیادہ مشہور تھے جنہوں نے اپنی کتاب ’دی ویلتھ آف نیشنز‘ میں بازار کی معیشت کو سمجھنے کی کوشش کی جو اس وقت اپنی ابتدائی شکل میں تھی۔ انھوں نے لکھا کہ بازاری معاشی نظام، افراد کے بیچ لین دین یا سودوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو تسلسل کی وجہ سے خود بہ خود ایک عملی اور منظم نظام قائم کرتا ہے۔ یہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب کروڑوں کے لین دین میں شامل افراد میں سے کوئی فرد اس کو قائم کرنے کا ارادہ نہیں کرتا۔ ہر ایک فرد اپنے منافع کو بڑھانے کی فکر کرتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے بھی وہ جو کچھ کرتا ہے وہ خود بخود ہی سماج کے یا تمام لوگوں کے حق میں ہوتا ہے۔ اس طرح یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایک پوشیدہ طاقت یہاں کام کرتی ہے جو ان تمام افراد کے مفاد کی روشنی کو سماج کے منافع میں تبدیل کردیتی ہے۔ اس طاقت کو ایڈم اسمتھ نے ’غائبانہ ہاتھ‘ کا نام دیا۔ اس لیے انھوں نے یہ جواز پیش کیا کہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام، خود کے فائدے سے چلتا ہے اور یہ اُس وقت بہت اچھے طریقہ سے کام کرتا ہے جب ہر خریدار اور اشیا فروش عقلی فیصلے لیتے ہیں جو اُن کے حق میں ہوتے ہیں۔ اسمتھ نے ’غائبانہ ہاتھ‘ کے نظریے کو اس مباحثہ کے طور پر استعمال کیا کہ جب بازار میں فرد خود منافع کے مطابق کام کرتا ہے تو سماج کو ہر طرح سے فائدہ ہوتا ہے کیوں کہ یہ معاشی نظام کو بڑھاتاہے اور زیادہ سرمایہ پیدا کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اسمتھ نے ’کھلے بازار‘ کی حمایت کی، ایک ایسا بازار جو کسی بھی طرح کی قومی یا دوسری روک تھام سے آزاد ہو۔ اس معاشی فلسفے کو فرانسسی زبان میں لیسیز۔ فیئر(Laissez-Faire)‘ بھی کہا گیا، جس کے معنی ہیں بازار کو اکیلا چھوڑ دیا جائے یا مداخلت نہ کی جائے۔

ایڈم اسمتھ

(1723-1790)

2

ایڈم اسمتھ عصری معاشی خیالات کے بانی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ اسمتھ اپنی پانچ کتابوں کی سیریز ’دی ویلتھ آف نیشنز‘ سے مشہور ہیں۔ جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیسے کھلے بازار کے معاشی نظام میں عقلی ذاتی مفاد معاشی خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے۔


جدید معاشیات کی ترقی ایڈم اسمتھ جیسے ابتدائی مفکروں کے خیالات سے ہوئی ہے اور یہ اس خیال پر منحصر ہے کہ معاشی نظام کا مطالعہ سماج کے ایک علاحدہ حصے کی حیثیت سے بھی کیا جاسکتاہے جو بڑے سماجی اور سیاسی سیاق سے الگ ہیں جن میں بازار، اپنے خود کے اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اس طریقۂ کار کے برعکس ماہرینِ سماجیات نے بڑے سماجی ڈھانچہ کے اندر معاشی اداروں اور عمل کو سمجھنے کے لیے ایک متبادل طریقہ کو ترقی دینے کی کوشش کی ہے۔
ماہرینِ سماجیات مانتے ہیں کہ بازار سماجی ادارے ہیں، جو مخصوص ثقافتی طریقوں کے ذریعے بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر بازاروں کا کنٹرول یا انتظام اکثر خاص سماجی گروہ یا طبقوں کے ذریعے ہوتا ہے اور اس کا دوسرے اداروں، سماجی عمل اور ساختوں سے بھی خاص تعلق ہے۔ ماہرین سماجیات کے اس تصور کو اکثر یہ کہہ کر ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی نظام سماج میں ’رچا بسا‘ ہے۔ اس تصور کو یہاں دو مثالوں کے ساتھ پیش کیا گیاہے۔ ایک مثال ہے، ایک ہفتہ وار قبائلی ہاٹ کی اور دوسری ہے ایک ’روایتی تجارتی طبقہ‘ اور ہندوستان کے نوآبادیاتی دور میں اس کے لین دین کا تانا بانا۔

چھتیس گڑھ کے ضلع بستر میں دُھورائی گاؤں کا ایک ہفتہ وار ’قبائلی بازار‘

دنیا بھر کے زیادہ تر کسان یا ’زرعی مزدور، سماجوں میں وقتاً فوقتاً لگنے والے بازار یا ہاٹ سماجی اور معاشی تنظیمی نظام کی ایک بنیادی خصوصیت ہوتے ہیں۔ ہفتہ وار بازار آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کو جمع کرتا ہے جو اپنی کھیتی کی پیداوار یا کسی دوسری اشیا کو بیچنے آتے ہیں اور وہ وہاں سے بنی بنائی چیزیں اور  دوسرے سامان خریدتے ہیں جو ان کے گاؤں میں نہیں ملتے ہیں۔ ان بازاروں میں مقامی علاقہ سے باہر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ ساہوکار، مسخرے، نجومی اور دیگر قسم کے ماہرین اپنی سروس اور اشیا کے ساتھ آتے ہیں۔ دیہی ہندوستان میں ایک طے وقفہ پر خاص بازار بھی لگتے ہیں جس کی ایک مثال ہے مویشی بازار جو ایک خاص وقفہ کے بعد لگتا ہے۔ وقفہ پر منحصر یہ بازار مختلف مقامات اور علاقے کے معاشی نظاموں کو جوڑتے ہیں اور پھر انھیں وسعتی قومی معاشی نظاموں اور قصبوں اور بڑے بڑے شہروں کے مراکز سے جوڑتے ہیں۔
ہفتہ وار ہاٹ، کا دیہی اور یہاں تک کہ شہری ہندوستان میں بھی ایک عام نظارہ ہوتا ہے۔ پہاڑوں اور جنگلات سے بھرے علاقوں میں (خاص طور پر جہاں قبائلی آباد ہوتے ہیں) جہاں آبادی بہت دور دور ہوتی ہے، سڑکیں اور آمدورفت کے ذرائع بہت کمزور ہوتے ہیں اورمعاشی نظام بھی مقابلتاً غیر ترقی یافتہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ہفتہ واربازار پیداوار کی لین دین کے ساتھ ساتھ سماجی میل ملاپ کا ایک اہم ذریعہ بن جاتاہے۔ مقامی لوگ بازار میں اپنی کھیتی کی پیداوار یا جنگل سے لائی گئی اشیا کو تاجروں کو بیچتے ہیں جو قصبوں میں انھیں لے جاکر دوبارہ بیچتے ہیں اور ان پیسوں سے ضروری چیزیں جیسے نمک اور زراعت کے اوزار اور استعمال کی چیزیں جیسے چوڑیاں اور گہنے خریدتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگوں کے لیے ہاٹ جانے کا اہم سماجی سبب ہے جہاں وہ اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرتے ہیں، گھر کے جوان لڑکے لڑکیوں کی شادی طے کر سکتے ہیں،گپ شپ کر سکتے ہیں اور کئی دوسرے کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔
جہاں قبائلی علاقوں میں ہفتہ وار بازار ایک پرانا ادارہ ہے وہیں وقت کے ساتھ ان کی شکل و صورت میں بھی تبدیلی ہوئی ہے۔ ان دور دراز کے علاقوں کے نو آبادیاتی ریاستوں کے کنٹرول میں آنے کے بعد انھیں دھیرے دھیرے علاقائی اور قومی معاشی نظام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ قبائلی حلقوں کو سڑکوں کی تعمیر کے ذریعے اور مقامی لوگوں کو سمجھا بجھا کر (جس میں سے بہت سارے لوگوں نے نوآبادیاتی حکومت کے خلاف قبائلی بغاوت کی تھی) کھولا گیا تاکہ ان علاقوں کے زرخیز جنگلوں اور معدنی وسائل تک بنا روک ٹوک کے پہنچا جاسکے۔ ایسا ہونے سے ان علاقوں میں تاجروں، ساہوکاروں اور آس پاس کے میدانی علاقوں سے دوسرے غیر قبائلی لوگوں کا بھی تانتا لگ گیا۔اس طرح قبائلی معاشی نظام میں تبدیلی آگئی کیوں کہ اب جنگل کی پیداوار کو باہری لوگوں کو بیچا جانے لگا اور نئی قسم کی اشیا نظام میں شامل ہوگئیں۔قبائلیوں کو اب ان کانوں اور باغات میں بھی مزدور کی حیثیت سے رکھا جانے لگا جو انگریزی حکومت کے دور میں قائم ہوئے تھے۔ نوآبادیاتی حکومت کے دوران قبائلی مزدوری کے ایک ’بازار‘ کی ترقی ہوئی ان تمام تر تبدیلیوں کے سبب مقامی قبائلی معاشی نظام بڑے بازاروں سے جڑ گئے پھر اس کا اثر مقامی لوگوں کے لیے عموماً بے حد منفی تھا۔ مثال کے لیے باہر سے مقامی علاقوں میں ساہوکاروں اور تاجروں کی آمدورفت نے قبائلیوں کو غریب کردیا، ان میں زیادہ تر نے اپنی زمین باہری لوگوں کے ہاتھ کھو دی۔
ہفتہ وار بازار ایک سماجی ادارے کی شکل میں، قبائلی ،مقامی معیشت اور باہری ماحول کے بیچ کی کڑیوں اور قبائلیوں اور دوسرے لوگوں کے درمیان معاشی استحصال کا تعلق، ان سب کی تصویر کشی بستر ضلع کے ایک ہفتہ وار بازار کے مطالعے میں کی گئی ہے۔ یہ ضلع گونڈ نام قبائلیوں سے آباد ہے۔ ہفتہ وار بازار میں آپ کو مقامی لوگ، جس میں قبائلی اور غیر قبائلی کے ساتھ ساتھ باہری لوگ بھی شامل ہیں اور جس میں خصوصاً مختلف ذاتوں کے ہندو تاجربھی ہیں، ملیں گے۔ جنگلات کے افسران بھی بازار میں ان قبائلیوں کے ساتھ تجارت کرنے آتے ہیں جو کہ محکمۂ جنگلات میں کام کرتے ہیں اس طرح، اس بازار میں تمام طرح کے مخصوص فروخت کار اپنی اشیا اور خدمات بیچنے کے لیے آتے ہیں۔ اہم چیزیں جن کی بازار میں خرید و فروخت چلتی ہے وہ تیار کی ہوئی اشیا (جیسے گہنے اور پائل، برش اور چاقو) غیر مقامی کھانے پینے کی اشیا (جیسے نمک اور ہلدی)، مقامی کھانے کی اشیا ، زراعت کے سامان اور تیار کی ہوئی اشیا (جیسے بانس کی ٹوکری)، اور جنگل کی پیداوار (جیسے املی اور لہسن)ہیں۔ جنگل کی اشیا جنھیں قبائلی لے کر آتے ہیں، انھیں تاجر خرید کر قصبوں میں لے جاتے ہیں، ان ہاٹوں (بازاروں) میں خریدار عموماً قبائلی ہی ہوتے ہیں، پھر بیچنے والے زیادہ تر اونچی ذات کے ہندو ہوتے ہیں۔ قبائلی جنگلی اور زراعت سے متعلق اشیا اور اپنی محنت مشقت کو بیچ کر جو پیسا کماتے ہیں وہ عموماً ان ہاٹوں میں ملنے والی سستی پائلوں اور گہنوں اور استعمال کی چیزوں جیسے تیار کپڑوں کی خریداری کے لیے خرچ کرتے ہیں۔

3

الفرڈ گیل (1982)جیسے ماہرانسانیات کے مطابق جنھوں نے دُھورائی کا مطالعہ کیا، بازار کی اہمیت صرف اس کے معاشی عمل تک ہی محدود نہیں ہے۔ مثال کے طور پر بازار کی بناوٹ اس علاقہ کے طبقہ بند اندرونی گروہوں کے سماجی تعلقات کی علامتی تصویر کشی کرتی ہے۔ مختلف سماجی گروہ، ذات اور سماجی اونچ نیچ اور ساتھ ہی بازار کے نظام میں اپنی حیثیت کے مطابق قائم ہوتے ہیں۔ امیر اور اونچے درجہ والے راجپوت زیوارت بنانے اور متوسط درجے کے مقامی ہندو تاجر بازار کے درمیان والے حصے میں بیٹھتے ہیں اور قبائلی جو سبزی اور مقامی سامان بیچتے ہیں وہ بازار کے باہری حصوں میں بیٹھتے ہیں۔ خریدی و بیچی جانے والی چیزوں کی قیمتوں سے اور کس طرح سے مول بھاؤ کیا جاتاہے اس سے سماجی تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔ مثال کے لیے قبائلی اور غیر قبائلی لوگوں کے درمیان باہم دیگر عمل، ایک برادری کے ہندوؤں کے درمیان کے باہم دیگر عمل سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ باہم دیگر عمل طبقہ بندی اور سماجی دوری کو واضح کرتا ہے نہ کہ سماجی برابری کو۔

باکس 4.1

بستر میں ایک قبائلی گاؤں کا بازار

دُھورائی ایک قبائلی بازار والے گاؤں کا نام ہے جو کہ چھتیں گڑھ کے شمالی بستر ضلع کے اندرونی علاقے میں بسا ہے… جب بازار نہیں لگتا، ان دنوں دھورائی ایک اونگھتا ہوا، پیڑوں کے چھپروں سے چھایا ہوا، گھروں کا جھرمٹ ہے جو پیرپسارے ان سڑکوں سے جاملتا ہے جو بغیر کسی پیمانے کے جنگل بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ دھورائی کی سماجی زندگی یہاں کی دو پرانی چائے کی دکانوں تک محدود ہے، جس کے خریدار راجیہ ون سیوا کے نچلے طبقہ کے ملازمین ہیں جو بدقسمتی سے اس دور دراز اور سنسان علاقے میں کام کے سبب پھنسے پڑے ہیں… دھورائی کا وجود غیر بازاری دنوں میں یا جمعہ کو چھوڑ کر صفر کے برابر ہوتا ہے لیکن بازار والے دن وہ کسی اور جگہ میں تبدیل ہوجاتاہے۔ ٹرکوں سے راستہ جام ہوتا ہے۔ جنگل کے سرکاری ملازمین اپنی استری کی ہوئی پوشاکوں میں ادھر سے اُدھر چہل قدمی کر رہے ہوتے ہیں اور جنگل کے محکمہ کے اہم افسران اپنی ڈیوٹی بجا کر محکمۂ جنگلات کے ریسٹ روم کے آنگن سے بازار پر نظر بنائے رکھتے ہیں۔ وہ قبائلی مزدوروں کو اُن کے کام کی اُجرت بانٹتے ہیں…
جب افسران ریسٹ روم میں دربار لگاتے ہیں تو قبائیلیوں کی قطار چاروں سمت سے کھنچی چلی آتی ہے۔ وہ جنگل کے سامان اپنے کھیتوں کی پیداوار یا پھر اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا کچھ لے کرآتے ہیں۔ ان میں سبزی بیچنے والے ہندو اور ماہرین دست کار، کمہار، جولاہے اور لوہار شامل ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ فراوانی ہے اور ابتری ہے، بازار کے ساتھ ساتھ کوئی مذہبی تیوہار بھی چل رہا ہے… لگتا ہے۔ جیسے ساری دنیا انسان، بھگوان سب ایک ہی جگہ بازار میں جمع ہوگئے ہیں۔ بازار تقریباً ایک چوگوشیہ زمین کا حصہ ہے جو تقریباً 100 گز مربع زمین میں بسا ہوا ہے جس کے بیچوبیچ ایک شاندار برگد کا درخت ہے۔ بازار کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کی چھت چھپر کی بنی ہے اور یہ دکانیں بہت پاس پاس ہیں، بیچ بیچ میں گلیارے سے بن گئے ہیں جن کے درمیان سے خریدار سنبھلتے ہوئے کسی طرح کم جمے ہوئے دکان داروں کے کم قیمتی سامانوں کو پیر سے کچلنے سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، جنھوں نے مستقل دکانوں کے درمیان کی جگہ کا اپنی چیزوں کی نمائش کرنے کے لیے ہر ممکن استعمال کیا ہے۔

ماخذ: گیل (1982:470.7)


باکس 4.1کے لیے مشق

باکس میں دیے گئے اقتباس کو پڑھیے اور نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب دیجیے:
یہ اقتباس آپ کو آدی واسیوں اورریاست (جس کی نمائندگی محکمۂ جنگلات کے افسران کے ذریعے ہوتی ہے) کے بیچ کے تعلقات کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ محکمہ جنگل کے اردلی،آدی واسی ضلعوں میں اتنے اہم کیوں ہیں؟ افسران آدی واسی مزدوروں کو بھ اُجرت کیوں دے رہے ہیں؟
بازار کی بناوٹ اس کی تنظیم اور عملی نظام کے بارے میں کیا واضح کرتی ہے؟ کس طرح کے لوگوں کی مستقل دکانیں ہوں گی اور کم مستحکم دکان دار کون ہیں، جو زمین پر بیٹھتے ہیں؟
بازار میں اہم خریدار کون ہیں اور فروخت کرنے والے کون ہیں؟ بازار میں کس طرح کی اشیا ہوتی ہیں اور ان مختلف قسم کی اشیا کو کون لوگ خریدتے و بیچتے ہیں؟ اس سے آپ کو اس علاقے کی مقامی معاشی نظام اور آدی واسیوں کے بڑے سماجی اور معاشی نظام سے تعلق کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟

قبل نو آبادیاتی اور نوآبادیاتی ہندوستان میں ذات پر مبنی بازار اور کاروباری تانا بانا۔

ہندوستانی معاشی تاریخ کے کچھ روایتی تذکرے ہندوستان کے معاشی نظام اور سماج کو تبدیل نہ ہونے والا سمجھتے ہیں۔ یہ مانا جاتا رہا ہے کہ معاشی کا یا پلٹ نوآبادیات کے ساتھ ہی شروع ہوئی۔ ایسا مانا جاتا تھا کہ ہندوستان دیہی برادری والا ملک ہے جو نسبتاً خود کفیل تھے اور ان کا معاشی نظام بنیادی طور پر غیر بازاری لین دین کی بنیاد پر قائم تھا۔ نوآبادیات کے دوران اور ہندوستان کی آزادی کے ابتدائی دور میں ایسا مانا گیا کہ کاروباری روپیے پیسے کو معاشی نظام کے مقامی زرعی معاشی نظام میں آنے اور لین دین کے وسیع حلقوں میں اُن کے شامل ہونے سے دیہی اور شہری سماجوں میں زبردست سماجی اور معاشی تبدیلی ہوئی۔ یہاں یہ کہنا صحیح ہے کہ نوآبادیات نے بڑے معاشی ردّو بدل کیے جیسے انگریزی حکومت کی یہ مانگ کہ زمین کی لگان کو نقد ادا کرنا ہے، وہاں حال ہی میں ہوئی تاریخی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ ہندوستان معاشی نظام میں روپیہ پیسوں کا استعمال (تجارت میں روپیے پیسے کا استعمال ہوتاہے) نوآبادیات کے ٹھیک پہلے سے ہی موجود تھا۔ جہاں بہت سے گاؤں اور علاقوں میں مختلف قسم کے غیر بازاری لین دین کا نظام (جیسے ججمانی نظام) تو موجود تھا پر نوآبادیات سے پہلے دور میں بھی گاؤں میں لین دین کے بڑے حصہ تھے جس سے زراعت کی پیداوار اور طرح طرح کی دوسری اشیا کا تجارتی چلن ہوتا تھا (بیلی 1983، سبر امنیم 1996)۔ اب ایسا لگتا ہے کہ روایتی اور جدید (یا سرمایہ داری سے پہلے اور سرمایہ داری کا دور) معاشی نظام کے بیچ میں اکثر جو تقسیم کی جاتی ہے وہ اس صفائی سے منقسم نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے سے گھلا ملا ہے۔ حال ہی کی تاریخی تحقیقات نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ نوآبادیات کے پہلے بھی ہندوستان میں جامع اور ترقی یافتہ تجارتی نیٹ ورک موجود تھا۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ پچھلی کتنی ہی صدیوں سے ہندوستان، کرگھے (ہینڈ لوم)کے کپڑوں کا اہم صنعت کار اور برآمدی تجارت کار (سوتی و مہنگے ریشم دونوں) ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری مختلف چیزوں (جیسے مسالہ) جن کی عالمی بازار میں خاص کر یورپ میں بہت مانگ تھی، کا ذریعہ تھا۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ نو آبادیات کے پہلے کے دنوں میں ہندوستان میں ترقی یافتہ مراکز پیداوار کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تاجروں کا منظم سماج، تجارتی نظام اور بینکنگ نظام بھی موجود تھا جس سے ہندوستان اپنے ملک کے اندر اور باقی دنیا سے تجارت کرنے کا اہل تھا۔ ان روایتی تجارتی برادریوں یا ذاتوں کا اپناقرض اور بینک کا نظام تھا۔ مثال کے طور پر لین دین اور قرض کا ایک اہم ذریعہ ہنڈی یا لین دین کا بل تھا (جو کہ ایک قرض کے کاغذ کی طرح تھا) اسے تاجر لمبی دوری کی تجارت میں استعمال کرتے تھے۔ چوں کہ تجارت کی ترجیحات میں ان برادریوں کی ذات اور رشتہ داری اپنے ہی حلقے میں ہوتی تھی۔ اس لیے ملک میں کسی ایک کنبے سے ایک تاجر کے ذریعے جاری ہنڈی دوسرے کونے کے تاجر کے ذریعے قبول کی جاتی تھی۔
تامل ناڈو کے ناٹو کوٹّائی چٹی یاروں(یا ناکر ٹار) اس کی ایک دلچسپ مثال پیش کرتے ہیں کہ یہ ہندوستانی تجارتی تانے بانے کس طرح منظم تھے اور کیسے کام کرتے تھے۔ نو آبادیات کے دوران اس طبقے پر کیا گیا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح سے ان کی بینکنگ اور تجارتی سرگرمی برادری کی سماجی تنظیموں سے جڑی ہوئی تھیں۔ ذات، رشتہ داری اور خاندان کی بناوٹ سب تجارت کے موافق تھیں اور تجارت انھیں سماجی ڈھانچوں کے تحت ہوتی تھی۔ جیسا کہ زیادہ تر روایتی، تجارتی برادریوں میں ہوتا ہے۔ ناکر ٹاروں کے بینک بھی ان کی مشترکہ خاندانی تنظیم تھے تاکہ اس طرح تجارتی ادارے کا ڈھانچہ بھی خاندان کی طرح رہے۔ اسی طرح تجارتی اور بینکنگ کے تمام عمل بھی ذات اور رشتے داری کے تعلقات کے ذریعے منظم تھے۔ مثال کے طور پر، چٹّی یار تاجروں کی ذات پر مبنی سماجی ڈھانچہ یا تعلقات نے انھیں جنوبی مشرقی ایشیا اور سیلون میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے میں مدد دی۔ ایک نظریہ سے ناکرٹاروں کی ہندوستانی معاشی سرگرمیوں کو ایک طرح کا دیسی سرمایہ دارانہ نظام کہہ سکتے ہیں۔ یہ تشریح ہمیں یہ سوال پوچھنے پر مجبور کردیتی ہے کہ کیا سرمایہ داری کی کوئی دوسری شکل ہے یا تھی جو یورپ کی سرمایہ داری سے مختلف ہے (روڈنر 1994)

باکس 4.2

تامل ناڈو کے ناکر ٹاروں میں ذات پر مبنی تجارت

اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ناکرٹاروں کے بینکنگ نظام کی شکل ماہرین معاشیات کے مغربی طرز کے بینکنگ نظام  کے خاکے سے ملتی ہے… ناکر ٹاروں میں ایک دوسرے سے قرض لینا یا پیسہ جمع کرنا ذات پرمبنی سماجی تعلقات سے جڑا ہوتا تھا جو تجارت کے قطعۂ ارض، رہائشی مکانات، وراثت، شادی اور یکساں برادری کی رکنیت پر مبنی تھا۔ جدید مغربی بینکنگ نظام کے خلاف ناکر ٹاروں میں نیک نامی (ساکھ )فیصلہ، صلاحیت اور جمع سرمایہ جیسے نظریات کے مطابق لین دین ہوتا تھا نہ کہ سرکار کے مرکزی کنٹرول بینک کے اصولوں کے مطابق، اوریہی شناخت پوری ذات کے نمائندے کی طرح ہر ایک اکیلے ناکر ٹار فرد کے اس نظام میںاعتماد و بھروسے کو یقینی بناتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ناکر ٹاروں کا بینکنگ نظام ایک ذات پر مبنی بینکنگ نظام تھا۔ ہر ایک ناکر ٹار نے اپنی زندگی کو مختلف قسم کے اجتماعی اداروں میں شامل ہونے اور اس کا انتظام کرنے کے مطابق منظم کیا تھا۔ یہ وہ ادارے تھے جو ان کی برداری میں سرمایہ جمع کرنے اور بانٹنے میں جٹے ہوئے تھے۔
ماخذ:  روڈنر 1994:234

باکس 4.2کے لیے مشق

باکس میں دیے کاسٹ اینڈ کیپٹل ازم ان کالونیل انڈیا (روڈنر 1994) سے لیے گیے اقتباس کو پڑھیے اور مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔
مصنف کے مطابق، ناکر ٹاروں کے بینکنگ نظام اور جدید مغربی بینکنگ نظام میں کیا اہم فرق ہے؟ 
 2۔ ناکر ٹاروں کی بینکنگ اور تجارتی سرگرمیاں دوسرے سماجی ڈھانچوں سے کن مختلف طریقوں سے جڑی ہوئی ہیں؟
کیا آپ جدید سرمایہ دارنہ معاشی نظام کے تحت ایسی مثال سوچ سکتے ہیں جہاں معاشی سرگرمیاں ناکر ٹاروں کی ہی طرح سماجی ڈھانچے میں گھلی ملی ہوں؟

بازاروں کی سماجی تنظیم: روایتی تجارتی برادریاں

ہندوستانی معیشت کے کئی سماجیاتی مطالعے ’روایتی تجارتی برادریوں‘ یا ذاتوں جیسے ناکرٹاروں پر مرکوز ہے۔ جیسا کہ آپ اچھی طرح سے جان گئے ہیں کہ زمین پر حق، تجارتی اختلاف اور دوسرے مضامین کے سیاق میں ذات کے نظام اور معاشی نظام میں گہرا تعلق ہے۔ یہ بات بازاروں اور تجارتوں پر بھی اتنی ہی عائد ہوتی ہے۔ درحقیقت ’ویشیہ‘ چار ورنوں میں سے ایک ہے، یہ سچائی ہندوستانی سماج میں دور قدیم سے تجارت اور تاجروں کی اہمیت کو واضح کرتی ہے حالاں کہ دوسرے ورنوں کی طرح ’ویشیہ‘ کی حیثیت اکثر ٹھہری ہوئی شناخت یا سماجی حیثیت کے مقابلہ میں حق یا خواہش سے حاصل کی ہوئی ہوتی ہے۔ حالاں کہ کچھ ایسی ویشیہ برادریاں بھی ہیں (جیسے، شمالی ہندوستان کے بنیئے) جن کا روایتی پیشہ ایک لمبے عرصے سے تجارت یا کاروبار رہا ہے۔ کچھ جاتی کے گروہ بھی ہیں جو تجارت میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایسے گروہ ترقی کرنے کے عمل میں ’ویشیہ‘ کی حیثیت پانے کے خواہش مند ہیں یا اس پر حق جتاتے ہیں۔ ہر ذات برادری کی تاریخ کی طرح، اس سیاق میں بھی ذات حیثیت یا پہچان اور ذات کے عمل جس میں کاروبار بھی شامل ہیں کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ’روایتی کاروباری برادریوں‘ میں صرف ’ویشیہ‘ ہی نہیں بلکہ اور گروہ بھی اپنی الگ مذہبی یا دوسری اجتماعی شناختوں کے ساتھ شامل ہیں جیسے پارسی، سندھی، بوہرا یا جین۔ تجارتی برادریوں کی سماج میں ہمیشہ اونچی حیثیت نہیں رہی ہے۔ مثلاً نوآبادیاتی حکومت کے دور میں نمک کی دور دراز تک تجارت ایک حاشیائی قبائلی گروہ، بنجارا کے ذریعے ہوتی تھی۔ ہر ایک صورت میں برادری کے اداروں کی خاص شکل اور ان کا طریقۂ عمل مختلف اداروں اور تجارتی رسم و رواج کو فروغ دیتا ہے۔
ہندوستان میں ماضی اور دور حاضر کے ماحول میں بازاروں کے چلن کو سمجھنے کے لیے اس بات کی جانچ کرسکتے ہیں کہ کس طرح تجارت کے کچھ خاص حلقوں پرکچھ خاص برادریوں کا قبضہ ہوتا ہے۔اس ذات پر مبنی تخصیص کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تجارت اور خرید و فروخت عام طور پر ذات اور رشتہ داری کے تانے بانے میں ہی ہوتی ہے جیسا کہ ہم نے ناکرٹاروں کے معاملہ میں دیکھا۔ چوں کہ تاجر اپنی برداری کے لوگوں پر دوسروں کے مقابلے زیادہ یقین کرتے ہیں۔ اس لیے وہ باہر کے لوگوں کے بجائے انھیں تعلقات میں تجارت کرتے ہیں اور اس سے تجارت کے کچھ علاقوں پر ایک ذات کی اجارہ داری ہوجاتی ہے۔

4
گاوں میں کھیتی سے متعلق کام

سرگرمی 4.1


آپ جس شہر یا قصبہ میں رہتے ہوں، وہاں کے بازاروں اور خرید و فروخت کے حلقوں کا معائنہ کیجئے۔ تلاش کیجئے کہ وہاں کون سے مشہور تاجر اور کس برادری سے ان کا تعلق ہے؟ کیا اُس حلقے میں کچھ خاص تجارتوں کو خاص تاجر برادریوں کے ذریعے قابو میں رکھا جاتاہے۔ مثال کے طور پر زیورات کی دکانیں، کیرانہ کی دکانیں اور لوہے کے سامان، فرنیچر بنانے کی دکانیں اور بھی اسی طرح کی۔ ان دکانوں کا دورہ کریں اور معلوم کریں کہ کن تاجروں کے ذریعے یہ دکانیں چلائی جاتی ہیں اور وہ کس برادری کے ہیں۔ کیا وہ خاندانی تجارت کرتے ہیں۔

نوآبادیات اور نئے بازاروں کا ظہور

نوآبادیات کی ابتدا کے ساتھ ہی ہندوستانی معاشی نظام میں گہری تبدیلیاں ہوئیں جس کے سبب پیداوار، تجارت اور زراعت میں انقلابی انتشار آیا۔ ایک جانی پہچانی مثال ہے ہینڈ لوم کے کام کا خاتمہ ہوجانا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ اُس وقت کے بازاروں میں انگلینڈ سے سستے بنے کپڑوں کا ڈھیر لگا دیا گیا تھا۔ حالاں کہ ہندوستان میں نوآبادیات کے دور سے پہلے ہی ایک پیچیدہ زری معیشت موجود تھی زیادہ تر تاریخ داں نوآبادیات کے زمانے کو ایک نقطۂ انقلاب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ نوآبادیاتی حکومت کے دوران، ہندوستان دنیا کے معاشی نظام سے اور زیادہ جڑ گیا۔ انگریزی حکومت سے پہلے ہندوستان بنے بنائے سامان کی برآمدات کا اہم مرکز تھا۔ نوآبادیات کے بعد ہندوستان کچے مال اور زرعی سامان کا ذریعہ اور تیار سامان کا خریدار بن گیا تھا۔ یہ دونوں کام انگلینڈ کے کارخانوں کو فائدہ پہچانے کے لیے کیے گئے۔ تقریباً اسی وقت نئے گروہ (خاص کر یورپی) تجارت اور کاروبار میں آنے لگے، وہ یا تو پہلے سے جمی ہوئی تجارتی برادری سے میل جول بڑھا کر اپنی تجارت شروع کرتے تھے یا اُن برادریوں کو ان کی تجارت چھوڑنے پر مجبور کرتے لیکن ہندوستان میں پہلے سے موجود  بازار کے معاشی اداروں کو پوری طرح سے برباد کرنے کی بجائے ہندوستان میں بازار کے معاشی نظام کی توسیع میں کچھ تجارتی برادریوں کو نئے مواقع مہیا کیے۔ جنھوں نے بدلتے ہوئے معاشی ماحول کے مطابق خود کو ڈھالا اور اپنی حیثیت کو سدھارا۔ کچھ ایک معاملوں میں نوآبادیات کے ذریعے مہیا کرائے گئے معاشی مواقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے نئی برادریاں بنیں جنھوں نے آزادی کے بعد بھی اپنی معاشی طاقت کو برابر بنائے رکھا۔
اس عمل کی ایک عمدہ مثال مارواڑی ہیں، جو شاید ہندوستان میں ہر جگہ پائی جانے والی سب سے جانی پہچانی تجارتی برادری ہے۔ مارواڑیوں کی رہنمائی برلا جیسے نامی صنعتی گھرانوں سے تو ہے ہی، چھوٹے چھوٹے دکان داروں اور تاجروں سے بھی ہے، جو ہر قصبے کے بازاروں میں بسے ہوئے ہیں۔ نوآبادیاتی حکومت کے دوران ہی مارواڑی ایک کامیاب تجارتی برادری بنے، جب انھوں نے نو آبادیاتی شہروں جیسے کولکاتا میں ملنے والے نئے مواقع کا فائدہ اُٹھایا اور تجارت اور ساہوکاری جاری رکھنے کے لیے ملک کے تمام حصوں میں آباد ہوگئے۔ ناکرٹاروں کی طرح مارواڑیوں کی کامیابی بھی اُس گہرے سماجی ڈھانچے کی وجہ سے ہے جس نے ان کے بینکنگ نظام کو چلانے کے لیے ضروری اعتماد سے بھرپور تعلقات کو قائم کیا۔ بہت سارے ماروراڑی خاندان اتنا سرمایہ جوڑ پائے کہ وہ لوگوں کو سود پر قرض دینے لگے، بینکوں کی طرز پر چلنے کے سبب ہندوستان میں انگریزوں کے کاروبار میں بھی توسیع ہوئی (ہارڈگروف 2004)۔ نوآبادیات کے آخری دنوں میں اور آزادی کے بعد کچھ مارواڑی خاندانوں نے اپنے آپ کو جدید صنعتوں میں تبدیل کرلیا اور آج ہندوستان میں کسی دوسری برادری کے مقابلے میں مارواڑیوں کی صنعت میں سب سے بڑی حصے داری ہے۔ نوآبادیات کے دوران ایک نئی تجارتی برادری کا ابھر کر آنا اور اُس کا چھوٹے مہاجر تاجر سے بڑے ساہوکار اور صنعت کاروں میں بدل جانے کی یہ کہانی معاشی عمل میں سماجی تعلق کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

5
نئے بازار

سرمایہ داری کو ایک سماجی نظام کے طور پر سمجھنا

جدید سماجیات کے بانیوں میں سے ایک کارل مارکس جدید سرمایہ داری کے نقاد بھی تھے۔ مارکس نے سرمایہ داری کو جو کہ مزدور کی اجرت پر منحصر ہے تجارتی مال کی پیداوار یا بازار کے لیے پیداوار کرنے کے نظام کے طور پر سمجھا۔ جیسا کہ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ مارکس نے لکھا ہے کہ سبھی معاشی نظام سماجی نظام بھی ہیں۔ ہر ایک پیداوار کا طریقہ خاص پیداواری رشتوں سے بنتا ہے اور آخر کار وہ ایک خاص طبقہ کے ڈھانچے کو تیار کرتے ہیں۔ مارکس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاشی نظام اشیا سے نہیں بلکہ لوگوں کے بیچ رشتوں سے بنتا ہے جو پیداوار کے عمل کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ سرمایہ دار پیداوار کے طریقے کے تحت، مزدوری یا محنت بھی ایک بکاؤ سامان بن جاتی ہے کیوں کہ مزدوروں کو اپنی محنت کی قوت کو بازار میں بیچ کر ہی مزدوری کمانی ہوتی ہے اس طرح دو بنیادی طبقات کو فروغ ملتا ہے، جو پیداوار کے ذرائع (جیسے کارخانوں) کے مالک اور مزدور، جو اپنی محنت سرمایہ دار کو بیچتے ہیں۔ سرمایہ دار طبقے کو اس نظام سے منافع ہوتا ہے کیوں کہ وہ مزدوروں کو ان کے کام کے برابر دام نہیں دیتے ایسا کرتے ہوئے وہ ان کی محنت سے ’زائد قیمت‘ نکال لیتے ہیں۔ مارکس کے سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور سماج کے نظریے نے انیسویں اور بیسویں صدیوں میں سرمایہ دار کی شکل کے بارے میں مختلف نظریات اور بحث میں جان ڈال دی۔

تجارتی مال اور استعمال

دنیا کے ہر ایک کونے میں سرمایہ داری کی ترقی سے زندگی کے ہر شعبہ اور حصے میں بازاروں کو وسعت ملی جو کہ پہلے اس نظام سے اچھوتے تھے۔ تجارتی مال کا یہ سلسلہ تب ہوتا ہے جب کوئی چیز بازار میں بیچی اور خریدی نہ جاسکتی ہو اور اب وہ بیچی اور خریدی جاسکے یعنی اب وہ بازار میں بکنے والی ایک چیز بن گئی ہے جیسے محنت اور ہنر اب ایسی چیزیں ہیں جو خریدی اور بیچی جاسکتی ہیں۔ مارکس اور سرمایہ داری کے دوسرے تنقید نگاروں کے مطابق تجارتی مال کے عمل کے منفی سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ محنت کا تجارتی مال اس کی ایک مثال ہے لیکن عصری سماج میں ایسی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً آج کل ایک متنازعہ واقعہ ہے غریب لوگوں کے ذریعے اپنے گردے امیر لوگوں کو بیچنا جنھیں گردے بدلوانے کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ انسانی جسموں کی تجارت نہیں ہونی چاہیے۔ پہلے زمانے میں انسانوں کو غلام کے طور پر بیچا اور خریدا جاتا تھا، پر آج کے دور میں لوگوں کو اشیا کی طرح سمجھنا غیر اخلاقی مانا جاتاہے۔ ہر ایک جدید سماج میں تقریباً ہر کوئی یہ مانتا ہے کہ انسان کی محنت کو خریدا جاسکتا ہے یا پھر پیسوں کے بدلے میں دوسری خدمات یا ہنر کو مہیا کرایا جاسکتا ہے۔ مارکس کے مطابق یہ وہ حالات ہیں جو کہ صرف سرمایہ دار سماجوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔

سرگرمی 4.2

اشیانا یا اشیا کاری یہ دونوں بڑے الفاظ ہیں جو سننے میں پیچیدہ معلوم ہوتے ہیں لیکن جن اعمال کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں، ان سے ہم واقف ہیں وہ ہماری روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ ایک عام مثال ہے: بوتل بند پانی۔
شہر یا قصبے میں، یہاں تک کہ زیادہ تر گاؤں میں بھی بوتل کا پانی خریدنا اب ممکن ہے: 2-1  لیٹر یا اس سے چھوٹے پیمانے میں وہ ہر جگہ بیچی جاتی ہے۔ مختلف کمپنیاں ہیں اور مختلف برانڈ کے نام ہیں جس سے پانی کی بوتلیں پہچانی جاتی ہیں۔ لیکن یہ ایک نیا سلسلہ ہے جو دس پندرہ سال سے زیادہ پرانا نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ آپ خود اُس وقت کو یاد کرسکتے ہیں جب پانی کی بوتلیں نہیں بکا کرتی تھیں اپنے بڑوں سے پوچھیے۔ والدین کی پیڑھی کے لوگوں کو یہ بالکل عجیب لگا ہوگا اور آپ کے دادا دادی کے زمانے میں تو اس انوکھی چیز کے بارے میں لوگوں نے نہ سنا ہوگا نہ سوچا ہوگا۔ ایسا سوچنا بھی کہ پینے کے پانی کے لیے کوئی رقم مانگ سکتا ہے، ان کے لیے ناقابل یقین بات ہوگی۔ لیکن آج ہمارے لیے یہ ایک عام اور معمولی سی بات ہے کہ ہم پانی کی بوتل خریدتے ہیں اور اب یہ ایک تجارتی مال ہے جسے خریدا یا بیچا جا سکتا ہے اسی کو اشیا نا کہتے ہیں۔
یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے کوئی بھی چیز جو بازار میں نہ بکتی ہو وہ بازار میں بکنے والی ایک شے بن جائے اور بازار کی معیشت کا ایک حصہ۔ کیا آپ ایسی چیزوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو حال ہی میں بازاروں میں شامل ہوئی ہوں؟یاد رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ کسی شے کی ہی اشیا کاری ہو بلکہ کسی خدمت کو بھی فروخت کرنے والی شے بنایا جاسکتا ہے۔ ایسی چیزوں کے بارے میں سوچیں جو آج قابل فروخت شے بھلے نہ ہوں پر مستقبل میں ہوسکتی ہوں۔ آپ اسباب بھی سوچیں کہ ایسا کیوں ہوگا۔ آخر میں اس بارے میں بھی سوچیں کہ پہلے زمانے کی کچھ چیزیں اب فروخت کیوں نہیں ہوتیں؟ (یعنی پہلے لین دین میں جن کی قیمت تھی لیکن اب نہیں) کیوں اور کب کوئی چیز تجارتی مال نہیں رہ جاتی؟


6
عصری ہندوستان میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کچھ چیزیں یا اعمال جو پہلے بازار کا حصہ نہیں تھیں اب وہ بازار میں ملنے والی چیزیں ہوگئی ہیں۔ جیسے روایتی طور پر شادیاں پہلے خاندان کے لوگوں کے ذریعے طے کی جاتی تھیں پر اب تجارتی شادی بیورو کی بھرمار ہے جو ویب سائٹس یا کسی اور ذریعے سے لوگوں کی شادیاں طے کراتے ہیں اور اس کی اُجرت لیتے ہیں۔ دوسری مثال ہے، مختلف ذاتی ادارے جو ’شخصیت سنوارنے‘ ’انگریزی بولنا سکھانا‘ اور دوسری چیزوں کے لیے نصابوں کی تعلیم دیتے ہیں جو کہ طالب علموں کو (زیادہ تر متوسط نوجوانوں کو) عصری دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے جزوی ثقافتی اور سماجی ہنر سکھاتے ہیں۔ زمانے میں سماجی ہنر جیسے اچھے اخلاق و ادب اور تمیز و تہذیب خاص طور پر خاندان میں ہی سکھایا جاتا تھا۔ یا ہم اس سلسلہ میں اس طرح بھی سوچ سکتے ہیں کہ آج کل جو ذاتی اداروں میں مقابلہ آرائی چل رہی ہے، نئے اسکول اور کالج اور کوچنگ کی کلاسوں کو چلانے کے لیے بھی اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح سے تعلیم کو تجارتی مال بنادیا گیاہے۔
سرمایہ دارانہ سماج کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ صرفہ زیادہ سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے اور اس کے صرف معاشی اسباب نہیں بلکہ اس کا ایک اشارتی مفہوم بھی ہے۔ جدید سماجوں میں صرف ایک اہم طریقہ ہے جس میں سماجی امتیاز اور ترسیل کو وجود میں لایا جاتاہے۔ صارف اپنی سماجی، معاشی حیثیت یا ثقافتی ترجیحات کو کچھ خاص چیزوں کو خرید کر یا پھر ان کا مظاہرہ کرکے ظاہر کرتا ہے اور کمپنیاں اُن باتوں پر غور کرتی ہیں اور وہ اپنا سامان، حقیقت یا ثقافت کی علامت کی بنیاد پر بناتی اور بیچتی ہیں۔ ٹیلی ویژن پر آنے والے اور سڑکوں پر لگے اشتہاروں کے بارے میں جنھیں ہم روز دیکھتے ہیں اُس اشتہار میں چھپے ہوئے معنی کے بارے میں سوچیے جسے اشتہار دینے والے نے اپنے مال کی فروخت کے لیے اشتہار سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
سماجیات کے بانیوں میں سے ایک میکس ویبر (Max Weber) نے پہلی بار اس بات کو لوگوں کے سامنے رکھا کہ لوگ جو سامان خریدتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں وہ سماج میں ان کی حیثیت کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوتا ہے۔ انھوں نے اسے حیثیت کی علامت کا نام دیا۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں آج متوسط گھرانے کے لوگوں کے پاس کار کا جو ماڈل ہوتا ہے یا جس کمپنی کے سیل فون استعمال کرتے ہیں وہ ان کی سماجی معاشی حیثیت کا اندازہ لگانے کے اہم ذرائع ہیں۔ ویبر نے اس بارے میں لکھا کہ کس طرح سے لوگوں کی طرز زندگی کی بنیاد پر اُن کے طبقوں اور حیثیت کے گروہ میں اختلاف ہوتا ہے۔ صرَف زندگی کا ایک پہلو ہے لیکن اس میں یہ باتیں بھی شامل ہوتی ہیں کہ آپ اپنے گھر کو کس طرح سے سجاتے ہیں، آپ کس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں، کس طرح کی تفریح کو پسند کرتے ہیں اور روزمرہ کی زندگی کے دوسرے پہلو بھی اس میں شامل ہیں۔ ماہرینِ سماجیات جدید زندگی میں استعمال کی شکل اور طرزِ زندگی کی ثقافتی اور سماجی اہمیت کے اسباب کا مطالعہ کرتے ہیں۔

سرگرمی 4.3


اشتہاروں کی تشریح

اخباروں اور کتابوں سے اشتہار جمع کریں۔ اُن میں سے دو یا تین اشتہار چنیں جو آپ کو دلچسپ لگتے ہوں۔ ان میں ہر ایک اشتہار کے لیے مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کریں۔
کس پروڈکٹ کو مشتہر کیا جارہا ہے اور اس پروڈکٹ کی کس طرح تصویر پیش کی جارہی ہے؟
اشتہار دینے والوں نے کس طرح سے ایک سماجی حیثیت اور طرز ندگی کو اپنے سامان سے جوڑنے کی کوشش کی ہے؟

4.3 عالم گیریت: مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی بازاروں کا گٹھ جوڑ

1980 کی دہائی کے اواخرسے، ہندوستان اپنی معاشی تاریخ کے نئے دور میں داخل ہوا جو کہ خاص طور سے حکومت کے زیر کنٹرول ترقی کی کھلے بازار کی معاشی پالیسی میں تبدیلی کے سبب ہوا۔ اس تبدیلی سے عالم گیریت کے دور کی شروعات ہوئی۔ یہ وہ دورہے جس میں دنیا صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور سیاسی طور پر بھی پہلے سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ عالم گیریت کے کئی پہلو ہیں ان میں سے خاص ہیں، بین الاقوامی سطح پر تجارتی اشیا ،پونجی، اطلاعات اور لوگوں کا آناجانا اس کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی (کمپیوٹر، ٹیلی مواصلات اور ذریعۂ نقل و حمل) اور دوسری بنیادی سہولیات کی ترقی، جو اس تحریک کو جلا بخشتی ہیں۔
عالم گیریت کی ایک مرکزی خصوصیت دنیا کے چاروں طرف بازارکو وسعت دینا اور ربط کو بڑھانا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے دنیا کے کسی کونے میں کسی بازار میں تبدیلی ہوتی ہے تو دوسرے کونوں میں اُس کا گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ جیسے اگر امریکی بازار میں گراوٹ آتی ہے تو ہندوستان کی سافٹ ویئر کی صنعت میں گراوٹ آئے گی (جیسا کہ نیویارک میں عالمی تجارتی مرکز پر 9/11 کے حملے کے بعد ہمیں دیکھنے کو ملا تھا)۔ جس سے اس حلقۂ میدان میں لوگوں کی تجارت اور نوکریاں جاتی رہیں۔ سافٹ ویئر سروس انڈسٹری اور بزنس پراسس آؤٹ سورسینگ (BPO) انڈسٹری (جیسے کہ کال سینٹر) اُن اہم صنعتوں میں سے ہیں جن کے ذریعے ہندوستان عالمی معاشی نظام سے برابر جڑتا جارہا ہے۔ یہاں کی کمپنیاں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کے خریداروں کو سستی قیمت پر محنت اور خدمات مہیا کراتی ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب ہندوستانی سافٹ ویئر سے متعلق خدمات اور اُسی طرح کی دوسری خدمات کا دنیا بھر میں ایک بازار بن گیا ہے۔
عالم گیریت کے ذریعے صرف سرمایے اور اشیا کا ہی نہیں بلکہ لوگوں، ثقافتی پیداوار اور شخصیت کی بھی دنیا بھر میں گردش ہوتی ہے۔ یہ لین دین کے نئے دائروں سے داخل ہوتی ہے اور نئے بازاروں کی تعمیر کرتی ہے۔ پیداوار، خدمات اور ثقافتی عنصر جو پہلے بازار کے نظام سے باہر تھے اب اس کا حصہ ہیں۔ ایک مثال ہندوستان کی روحانیت اور نظام علوم (جیسے یوگ اور آیوروید) کا مغرب کے بازارمیں ملنا۔ بین الاقوامی سیاح کا بڑھتا بازار بھی یہ اشارہ دیتا ہے کہ خود ثقافت کیسے بازار کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔اس کی ایک مثال پُشکر راجستھان میں لگنے والا ایک مشہور سالانہ میلہ ہے جس میں دور دراز سے چروا ہے اور تاجر اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کو بیچنے اور خریدنے کے لیے آتے ہیں۔ جہاں مقامی لوگوں کے لیے پُشکر میلہ ایک شاندارسماجی اور معاشی موقع ہوتا ہے وہیں اب بین الاقوامی سطح پر بھی ایک بڑے سیاحت کے مقام کے نام سے جانا جاتاہے۔ یہ میلہ سیاحوں کے لیے اور بھی زیادہ کشش کا سبب ہے کیوں کہ یہ کارتک پورنیما کے ٹھیک پہلے آتاہے جب ہندو زائرین مقدس پشکر تالاب میں غسل کرتے ہیں۔ اس طرح اس موقع پر ہندو زائرین، اونٹوں، تاجروں اور بیرونی سیاحوں کا اجتماع ہوجاتا ہے جس میں صرف مویشیوں اور پیسوں کا ہی لین دین نہیں ہوتا ہے بلکہ مذہبی نیکی اور مذہبی علامتوں کا بھی لین دین ہوتا ہے۔
7

ورچوئل بازار:وقت اورفاصلے پر فتح


باکس 4.3

میسور سے ناسداق کا افتتاح 

اِنفوسس کا ریموٹ آپریشن کا ریکارڈ، جس سے یو ایس شئیر بازار کھلا 

میسور: اگر آپ کو اب تک نہیں لگتا کہ دنیا ہموار ہوگئی ہے تو اس پر غور کریں۔ انفوسس ٹیکنالوجی نے ناسداق کے شیئر بازار کی صبح افتتاح کا اعلان کیا وہ بھی میسور میں رہتے ہوئے۔ یہاں شام کے سات بجے (امریکہ میں صبح کے9:30 بجے) انفوسس کے چیئرمین اور سرپرست اعلیٰ این آر نارائن مورتی نے ایک گھنٹی بجا کر ناسداق کے ٹائمس اسکوائر، نیویارک کے بازار کی جگہ پر دو شنبہ بازار کی شروعات کی…… یہ ابتدائی گھنٹی، ایک تقریبی واقعہ ہے جو ناسداق کے بالواسطہ بازار کی ڈیزائن کی علامت ہے۔ چوں کہ ناسداق کا عمل مکمل طور پر الیکٹرانک ہے لہٰذا اس کی شروعات دنیا کے کسی بھی حصے سے ہوسکتی ہے اور علامتی طور پر تجارت کے ہر ایک دن کی شروعات پونجی لگانے والوں اور حصہ لینے والوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔
   مآخذ : ٹائمس آف انڈیا: بنگلور 1 اگست 2006 میں ایک خبر 


باکس 4.3کے لیے مشق

8

ناسداق ایک اہم الیکٹرانک اسٹاک ایکسچینج ہے جو نیویارک میں موجود ہے۔ یہ خاص طور سے کمپیوٹر پر مبنی الیکٹرانک ترسیل کے ذرائع سے ہوتا ہے۔ یہ تمام دنیا کے بروکروں اور پیسہ لگانے والوں کو اُن کمپنیوں کے شیئر (حصہ) خرید و فروخت میں مدد کرتا ہے جو اس میں رجسٹرڈ ہیں۔ یہ سودے صحیح وقت پر ہوتے ہیں یعنی چند سیکنڈ میں معاملے طے کردیے جاتے ہیں اور وہ بھی بنا کاغذی کاروائی یا کاغذی نوٹوں کے۔ اوپر دی گئی خبر کے حصہ کو غور سے پڑھیں اور مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیں۔

ایک اسٹاک بازار میں تجارت (جیسے کہ ناسداق یا ممبئی اسٹاک ایکس چینج) دوسرے بازاروں میں تجارت سے کیسے الگ ہے؟ آپ اسٹاک ایکس چینج کے بارے میں اخباروں، میگزینوں اور انٹرنیٹ سے اور معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ واقعہ جو کہ امریکہ میں موجود ناسداق بازار میسور سے انفوسس کے چیئرمین نارائن مورتی کے ذریعے کیے گئے افتتاح کے بارے میں ہے۔ آپ کو آج کی دنیا کے بازاروں کے بارے میں (خاص کر شیئر اور معاشی بازار کے بارے میں) اور ہندوستان کے عالمی معاشی نظام سے تعلقات کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

خبر میں افتتاح کے واقعے کو ایک تقریب کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ کیا آپ ایسی ہی کسی دوسری تقریب کی رسم کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو دوسری قسم کے بازاروں میں اہم ہیں؟


باکس 4.4

جب بازارایک تجارتی مال بن جائے: پُشکر کا اونٹوں کا میلہ

’’کارتک کا مہینہ آتے ہی… شستر بان اپنے ریگستانی جہازوں کو سجاتے ہیں اور کارتک پورنیما کے موقع پر وقت پر پہنچنے کے لیے پشکر کی لمبی مسافت کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ ہر سال تقریباً 2,00,000 لوگ اور 50,000اونٹ اور دوسرے جانوروں کا یہاں ہجوم ہوتا ہے۔وہ منظر دیکھتے ہی بنتا ہے جب رنگ شور و غل اور چہل پہل سے لوگ گھرے ہوتے ہیں۔ موسیقی داں سیاح، تاجر، مویشی اور عقیدت مندسب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے یہاں اونٹوں کو سجا سنوار کر انھیں آزاد کیا جاتاہے۔ جس میں بھٹے کے بال کی طرح بال سنوارے ہوئے اونٹوں، پازیبوں کی جھنکار، سوزن کاری کیے ہوئے لباس اور ٹم۔ ٹم پر سوار لوگوں سے آپ کی حیرت انگیز ملاقات ہوسکتی ہے۔‘‘
اونٹوں کے میلے کے ساتھ ہی ساتھ مذہبی صورت حال بھی ایک وحشیانہ، جادو کے نقطۂ عروج پر ہوتی ہے۔ اگر بتیوں کا گھنا دھواں اور منتروں کا شور اور میلے کی آخری رات میں ہزاروں عقیدت مند ندی میں غوطہ لگا کر اپنے گناہ دھوتے ہیں اور مقدس پانی میں ٹمٹماتے دیے چھوڑتے ہیں۔‘‘

باکس 4.4کے لیے مشق

باکس 4.4 میں دیے گئے اقتباس کو پڑھیں جو کہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک کتاب سیاحت سے ماخوذ ہے۔ اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد آپ یہ جان پائیں گے کہ کس طرح سے ایک بازار، اس معاملے میں روایتی سالانہ مویشی بازاراور پشکر کا میلہ دیگر بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیا میں تبدیل ہوگئے ہیں دوسرے بازار یہاں سیاحت بازار ہیں۔ سوالوں کا جواب دینے سے پہلے کلاس میں اس مضمون کے بارے میں بحث و مباحثہ کریں۔
پشکر کا بین الاقوامی سیاحت کے حلقے میں آجانے سے اس جگہ کون سی نئی اشیا، خدمات رقم اور عوام کے حلقوں کی توسیع ہوئی ہے؟
آپ کے خیال میں بڑی تعداد میں ہندوستانی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کے سبب میلے کی شکل کس طرح سے بدل گئی ہے؟
اس جگہ کا مذہبی جوش و خروش کس طرح سے اُس کی بازاری قیمت کو بڑھاتا ہے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں ہندوستان میں روحانیت کا ایک بازار ہے؟
کیا آپ ایسی ہی مثال سوچ سکتے ہیں جس میں مذہب، روایات، علم یا یہاں تک کہ نقش بھی (مثال کے لیے روایتی پوشاک میں ایک راجستھانی عورت) عالمی بازار میں اشیا بن گئے ہیں۔

9
پشکر میلے میں مویشی بازار

حریت پسندی پر بحث: بازار بنام ریاست

ہندوستانی معاشی نظام کی عالم گیریت بنیادی طور پرنرم کاری کی پالیسی کے سبب ہوئی جوکہ 1980کی دہائی میں شروع ہوئی۔ حریت پسندی میں کئی طرح کی پالیسیاں شامل ہیں جیسے سرکاری شعبوںکی نج کاری(سرکاری کمپنیوں کونجی کمپنیوں کو فروخت کردینا) سرمایہ، محنت اور  مزدوری اور تجارت میں سرکاری دخل کو کم کرنا بیرونی اشیا کی آسان درآمد کے لیے محصول میں کمی کرنا اور بیرونی کمپنیوں کو ہندوستان میں صنعت قائم کرنے میں سہولیت دینا۔ بازار گیری یا ان بدلاؤ کو سماجی، سیاسی یا معاشی مسائل کے حل کے لیے بازار یا بازار پر منحصر اعمال (سرکاری قانون اور حکمت عملی کے بجائے) کے استعمال سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اس میں معاشی ضبط کو سرکار کے ذریعے کم یا ختم کردینا، صنعتوں کا ذاتی اور مزدوری اور قیمتوں سے سرکاری ضبط کو ختم کردینا شامل ہے۔ جو لوگ بازار گیری کی حمایت کرتے ہیں اُن کا ماننا ہے کہ اس سے سماج میں معاشی ترقی آئے گی کیوں کہ سرکاری محکمہ کے مقابلے یہ ذاتی ادارے زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں۔
نرم کاری کے پروگراموں کے تحت جو تبدیلی ہوئی اس سے معاشی خوش حالی بڑھی اور اس کے ساتھ ہی ہندوستانی بازاروں کو بیرونی کمپنیوں کے لیے کھولا گیا۔ مثال کے طور پر اب بہت سارے غیر ملکی سامان یہاں فروخت ہوتے ہیں جو پہلے نہیں دستیاب تھے۔ ایسا مانا جاتاہے کہ غیر ملکی سرمایہ لگانے سے معاشی ترقی ہوتی ہے اور روزگار میں اضافہ ہوتا ہے سرکاری کمپنیوں کی نج کاری کے سبب صلاحیت بڑھتی ہے اور سرکار پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ حالاں کہ نرم کاری کا ملا جلا اثر رہا۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ نرم کاری کا ہندوستان کے ماحول پر منفی اثر پڑا اور آنے والے دنوںمیں بھی ایسا ہی ہوگا۔ ہم اپنی زیادہ چیزوں کے مقابل کم چیزیں حاصل کریں گے۔ ہندوستانی صنعت کے کچھ حلقوں (جیسے سافٹ ویئر یا معلومات ٹکنیک) یا کاشت کاری (جیسے مچھلی یا پھل کی پیداور) کو شاید عالمی بازار سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ لیکن دوسرے حلقوں (جیسے آٹوموبائل، الیکٹرانک اور تیل والے اناجوں کی صنعت) پر گہرا منفی اثر پڑے گا کیوں کہ یہ صنعت بیرونی پیداواروں سے مقابلہ نہیں کرپائے گی۔
مثال کے طور پر ہندوستانی کسان اب دوسرے ملکوں کے کسانوں کی پیداوار سے مقابلہ کر رہے ہیں کیوں کہ زراعت سے جڑی پیداوار کی برآمدگی اب ممکن ہے۔ پہلے ہندوستانی زراعت معاون قیمت اور سبسڈی (Subsidy) کے ذریعے بین الاقوامی بازار میں محفوظ تھی۔ یہ حمایتی قیمت کسانوں کی کم سے کم آمدنی کو طے کرتی ہے کیوں کہ یہ وہ قیمت تھی جس پر سرکار زراعت کی پیداواروں کو خریدنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ سبسڈی سے کسانوں کے ذریعے استعمال میں آنے والی چیزوں (جیسے کھاد ڈیزل تیل) کی قیمت بھی سرکار کم کردیتی تھی۔نرم کاری بازار میں اس قسم کی سرکاری مدد کے خلاف ہے۔ اس لیے سبسڈی اور معاون قیمتوں کو یا تو گھٹا دیا گیا یا پھر انھیں واپس لے لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سارے کاشت کار اپنی روزی روٹی کمانے میں ناکام رہے۔ اس طرح چھوٹے صنعت کاروں کا عالمی سطح کے صنعت کاروں کے ساتھ مقابلہ رہا ہے۔ اس میں شک کی گنجائش بھی نہیں کہ ان میں سے کچھ کا بالکل خاتمہ ہی ہوجائے۔ غیر سرکاری اداروں میں ان سرکاری محکموں کے ملازمین کی نوکریاں بھی کم ہوگئی ہیں یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ روزگار کے ذرائع اب مستقل نہیں رہ گئے۔ غیر سرکاری ذاتی غیر منظم روزگار ابھر کر سامنے آرہے ہیں اور سرکاری محکمے جو کہ منظم ہیں ان میں روزگار کم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ مزدوروں کے لیے اچھا نہیں ہے کیوں کہ منتظم محکمے عموماً کم تنخواہ اور عارضی نوکریاں انھیں دے رہے ہیں۔ (بارھویں جماعت کی دوسری کتاب ہندوستان میں سماجی تبدیلی اور ترقی میں زرعی تبدیلی اور صنعت پر لکھے باب کو دیکھیں۔)
اس باب میں ہم نے دیکھا کہ عصری ہندوستان میں آج ایک دیہی بازار سے لے کر بالواسطہ اسٹاک ایکس چینج جیسے مختلف قسم کے بازار بھی ہیں۔ یہ بازار خود بھی سماجی ادارے ہیں اور ان تمام سماجی اداروں جیسے خاندان ذات طبقے سے مختلف طریقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ ہم نے یہ بھی جانا کہ لین دین کے معاشی معنی ہی نہیں ہوتے بلکہ اُس کے علامتی اور ثقافتی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ مزید برآں وہ طریقے جن کے تحت اشیا اور خدمات کا لین دین ہوتا ہے یا فراہم کی جاتی ہیں نرم کاری اور عالم گیریت کے سبب تیز رفتاری کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ ہندوستان کی حریت پسندی کے بعد کے بازار کے ماحول میں جو عالم گیریت کا اہم حصہ بھی ہیں ایسے تمام طریقے اور نظام شامل ہیں جو اشیا، خدمات، ثقافتی علامتوں اور سرمایہ کو بازار میں داخلہ دلواتی ہیں۔ مقامی دیہی بازار سے لے کر بین الاقوامی تجارتی حلقوں تک جیسے ناسداق ۔ آج کے تیزی سے بدلتے دور میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کس طرح بازار لگاتار بدل رہے ہیں اور ان سماجی معاشی تبدیلیوں کے نتائج کیا ہیں۔
’پوشیدہ ہاتھ‘ کا کیا مفہوم ہے؟
بازار کا سماجیاتی نظریہ، معاشی نظریہ سے کس طرح جدا ہے؟
کس طرح سے ایک بازار جیسے کہ، ایک ہفتہ وار دیہی بازار ایک سماجی ادارہ ہے؟
ذات اور رشتہ داری کے تعلق کس طرح تجارت کی کامیابی میں تعاون دیتے ہیں؟
نوآبادیات کے آنے کے بعد ہندوستانی معاشی نظام کن معنوں میں تبدیل ہوا ہے؟
مثالوں کے ذریعے ’اشیایا اشیا کاری‘ کے معنی کی وضاحت کریں۔
’حیثیت کی علامت‘ کیا ہے؟
’عالم گیریت‘ (عالم کاری)کے تحت کون کون سے اعمال شامل ہیں؟
’حریت پسندی‘ (نرم کاری) سے کیا مراد ہے؟
10۔ آپ کی رائے میں، کیا نرم کاری کے طویل مدتی مفاد اس کی قیمت کے مقابلے میں زیادہ ہوجائیں گے؟ وجوہات کے ساتھ جواب دیں۔

حوالہ جات

Bayly, C.A. 1983  Rulers, Townsmen and Bazaars; North Indian Society in the Age of British Expansion, 1770-1870. Oxford University Press. Delhi. 

Durkheim, Emile.  1964 (1933). The Division of Labour in Society. Free Press.           New York. 

Gell, Alfred. 1982. ‘The market wheel: symbolic aspects of an Indian tribal market,’ Man (N.S.). 17(3):470-91.

Hardgrove, Anne. 2004. Community and Public Culture; The Marwaris in Calcutta.  Oxford University Press. New Delhi.

Malinowski, Bronislaw. 1961 (1921). Argonauts of the Western Pacific. E.P. Dutton and Company. New York. 

Mauss, Marcel. 1967. The Gift; Forms and Functions of Exchange in Archaic Societies.  W.W. Norton & Company. New York.

Polanyi, Karl. 1944. The Great Transformation. Beacon Press. Boston. 

Rudner, David. 1994. Caste and Capitalism in Colonial India; The Nattukottai Chettiars. University of California Press. Berkeley. 

Stein, Burton and Subrahmanyam, Sanjay. ed. 1996. Institutions and Economic Change in South Asia. Oxford University Press. New Delhi. 

نوٹس