
باب 5
سماجی عدم مساوات اور اخراج کی شکلیں
(Patterns of Social Inequality and Exclusion)
جیسا کہ آپ نے پچھلے دو ابواب میں خاندان، ذات، قبیلہ اور بازار جیسے سماجی اداروں پر غور کیا۔ تیسرے اور چوتھے باب میں کمیونٹیوں کی تشکیل اور سماج کو قائم رکھنے میں ان اداروں کے کردار کے لحاظ سے ان کا مطالعہ کیا۔ اس باب میں ہم ان اداروں کے اتنے ہی اہم پہلو جیسے کہ سماج میں عدم مساوات یا نابرابری اور اخراج کی شکلوں کی تشکیل کرنے اور اسے قائم رکھنے میں ان کے رول کے بارے میں بات کریں گے۔ہندوستان میں پلے بڑھے ہم میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں کہ سماجی نا برابری اور اخراج زندگی کے حقائق ہیں۔ ہم گلیوں اور ریلوے پلیٹ فارموں پر بھکاریوں کو دیکھتے ہیں۔ ہم چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھریلو نوکر، عمارتوں کی تعمیر میں لگے ہوئے مددگار مزدور، صفائی کرنے والے اور سڑکوں کے کنارے بنے ڈھابوں اور چائے کی دوکانوں میں نوکر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہمیں ان چھوٹے بچوں کو دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی جو شہری گھروں کے متوسط طبقے میں گھریلو نوکروں کے طورپر کام کرتے ہیں، اپنے سے بڑ ے بچوں کے اسکول بیگ کو لاد کر انھیں اسکول پہنچاتے ہیں، ہمارے ذہن میں فوری یہ نہیں محسوس ہوتا کہ یہ غیر منصفانہ بات ہے کہ کچھ بچوں کو اسکولی تعلیم سے محروم کردیا جاتاہے۔ ہم میں سے کچھ اسکولوں میں بچوں کے خلاف ذات پرمبنی تفریق کے بارے میں پڑھتے ہیں ۔ہم میں سے کچھ کو اس کا سامنا بھی کرناپڑتاہے۔ اسی طرح عورتوں کے خلاف تشدد اور اقلیتی گروپوں اور مختلف طرح کے اہل لوگوں کے خلاف تعصب کی خبریں بھی روزانہ پڑھتے رہتے ہیں۔سماجی عدم مساوات اورا خراج جو روزانہ واقع ہوتے ہیں اکثر عین متوقع اور تقریباً فطری سے لگنے لگتے ہیں۔ انھیں اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ جیسے یہ تو ہونا ہی ہے۔انھیں نہیں بدلا جاسکتا۔ہم اس سلسلے میں سوچنے لگتے ہیں کہ کچھ معنی میں یہ حق بجانب ہیں یا اس کا جوازہے۔ شاید غریب اور حاشیے پر گئے لوگ غریب یا محرومی کاشکار اسی لیے بنے رہتے ہیں کہ ان میں اہلیت نہیں ہوتی یا وہ اپنی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کافی محنت نہیں کرپاتے۔ ایسا مان کر ہم انھیں ہی ان کی خراب حالت کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اگر وہ زیادہ محنت کرتے یا ان میں ذہانت ہوتی تو وہ وہاں نہیں ہوتے جہاں وہ آج ہیں۔
غور سے دیکھنے پر ہم یہ پاتے ہیں کہ جب لوگ سماج کے سب سے نچلے درجے میں ہیں وہی سب سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ جنوبی امریکا کی ایک کہاوت ہے،’’اگر محنت اتنی ہی اچھی چیز ہوتی تو امیر لوگ ہمیشہ اسے اپنے لیے بچا کر رکھتے !‘‘پوری دنیا میں پتھر توڑنا، کھدائی کرنا، بھاری وزن اٹھانا، رکشہ یا ٹھیلا کھینچنا جیسے کمر توڑ کام غریب لوگ ہی کرتے ہیں۔ پھر بھی وہ اپنی زندگی شاید ہی بہتر بنا پاتے ہیں۔ ایسا کتنی بار ہوتا ہے کہ کوئی غریب مزدور ایک چھوٹا موٹا ٹھیکے دار ہی بن پایا ہو؟ ایسا تو صرف فلموں میں ہی ہوتا ہے کہ سڑک پر پلنے والابچہ صنعت کار بن سکتا ہے ۔لیکن فلموں میں بھی زیادہ تر یہی دکھایا جاتا ہے کہ ڈرامائی ترقی کے لیے غیر قانونی یا بے ایمانی کا طریقہ اپنایا جانا ضروری ہے۔
ایک فرد اپنی زندگی کے مواقع محض سخت محنت کرنے کے ذریعے ہی بہتر بناسکتا ہے۔ سرگرمی5.1 سے عام طور پر برتی جانے والی اس فہم عامہ پر ازسرنو غور کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سخت محنت کے ساتھ ساتھ انفرادی اہلیت بھی ضروری ہے۔اگر باقی سبھی چیزیں مساوی ہوں تب ذاتی کوشش، ذہانت اور خوش نصیبی ہی افراد کے درمیان سبھی طرح کے افتراق کے لیے یقینا ذمے دارہے۔ لیکن جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے کہ سبھی چیزیں مساوی نہیں ہوتیں۔یہی عمومی یا گروہی افتراق سماجی نا برا بری اور اخراج کو واضح کرتے ہیں۔
سرگرمی 5.1
اپنے پڑوس میں رہنے والے کچھ امیر اور غریب اشخاص کی شناخت کریں جن سے آپ یا آپ کا خاندان واقف ہو (مثال کے لیے ایک رکشہ چلانے والا، قلی یا گھریلو ملازم اور سنیما گھر کامالک یا ٹھیکے دار یا ہوٹل مالک یا ڈاکٹر آپ کے آس پاس کچھ اور بھی افراد ہوسکتے ہیں)۔ہر گروپ کے ایک فرد سے اس کے روزانہ کے معمولات معلوم کریں۔ ہر ایک شخص کے کام کے عام دنوں میں (یا اوسطًا) روزانہ کی سرگرمیوں یعنی صبح اٹھنے سے لے کر رات کو سونے تک کی سرگرمیوں کی تفصیل ایک خیالی ڈائری کی شکل میں مرتب کریں۔ ان ڈائریوں کی بنیاد پر درج ذیل سوالوں کے جواب دیں اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے تبادلہ ٔ خیال کریں۔
⇐ یہ افراد کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں؟ وہ کس طرح کاکام کرتے ہیں؟ کیا ان کا کام تھکادینے والا، تناؤ سے بھرپور، خوش گوار یا ناخوش گوار ہے؟ کام کے مقام پر ان کے دیگر افراد کے ساتھ کیسے رشتے ہوتے ہیں؟کیا وہ دوسروں کو حکم دیتے ہیں یا دوسروں کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں؟ کیا وہ دوسروں کے تعاون پر منحصر ہیں یا دوسروں پر ڈسپلن نافذ کرتے ہیں؟ جن کے ساتھ وہ کام کرتے ہیں کیا وہ ان سے باعزت برتاؤ کرتے ہیں یا انھیں دوسروں کا احترام کرنا پڑتاہے؟
ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ غریب اور کبھی کبھی امیر شخص بھی کوئی کام نہ کررہاہو یا ابھی اس کے پاس کام نہ ہو۔ اگر ایسا ہے تب بھی آپ ان کے روزانہ کے معمولات معلوم کریں۔درج ذیل کچھ اور سوالوں کے جواب دیں۔
⇐ وہ فرد بے روزگار کیوں ہے؟ کیاوہ کوئی کام تلاش کررہاہے؟ وہ اپنی گزر بسر کیسے کرتاہے؟ اس کے پاس کوئی کام نہیں ہے یہ سچائی اس پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ کیا ان کا طرز زندگی پہلے سے کسی طرح مختلف تھا جب وہ کام کررہے تھے؟
5.1سماجی عدم مساوات اور سماجی اخراج کیا ہے؟
اس سیکشن میں پوچھے گئے سوال کے تین عام جواب ہوسکتے ہیں جنھیں ذیل میں مختصراً بیان کیا جاسکتا ہے۔ پہلا، سماجی عدم مساوات اور سماجی اخراج اس لیے ہیں کہ ان کا تعلق فرد سے نہیں بلکہ گروپ یا گروہ سے ہے۔ دوسرے، یہ سماجی اس معنی میں ہیں کہ معاشی نہیں ہیں، حالاں کہ سماجی اور معاشی عدم مساوات میں عموماً ایک مضبوط رشتہ ہوتاہے۔ تیسرے، یہ منظم ساختہ ہیں یعنی سماجی عدم مساوات کی ایک یقینی شکل ہوتی ہے۔ سماجی ہونے کے ان تین وسیع مفہوم پر ذیل میں مختصراً جائزہ لیا جائے گا۔
سماجی عدم مساوات
ہر سماج میں کچھ لوگوں کے پاس زر، جائیداد، تعلیم، صحت اور قوت جیسے گراں قدر وسائل کا دوسروںکی نسبت زیادہ بڑا حصہ ہوتا ہے۔ یہ سماجی وسائل پونجی کی تین شکلوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ مادی اثاثوں اور آمدنی کی شکل میں معاشی پونجی، تعلیمی اہلیتوں اور حیثیت کے طور پر ثقافتی پونجی، اور رابطوں اور سماجی میل ملاپ کے حلقے کی شکل میں ثقافتی پونجی(بوردیو1986)۔پونجی کی یہ تینوں شکلیں آپس میں ملحق ہوتی ہیں اور ایک دوسرے میں بدلی جاسکتی ہیں۔ مثال کے لیے ایک خوش حال خاندان کا فرد اپنی معاشی پونجی کے ذریعے مہنگی اعلا تعلیم حاصل کرسکتا ہے، اس طرح وہ اپنی معاشی پونجی کو ثقافتی یا تعلیمی پونجی کی شکل میں بدل سکتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا شخص اپنے با رسوخ دوستوں و قرابت داروں (یعنی اپنی سماجی پونجی) کے ذریعہ اچھی صلاح، سفارش یا معلومات حاصل کرسکتا ہے اوران کے ذریعہ ایک اچھی آمدنی والی ملازمت حاصل کرکے سماجی پونجی کو معاشی پونجی میں بدل سکتا ہے۔
سماجی وسائل تک غیر مساوی رسائی کا انداز ہی عام طور پر سماجی عدم مساوات یا سماجی نا برابری کہلاتاہے۔ کچھ سماجی نا برابری افراد کے درمیان فطری اختلاف کو ظاہر کرتی ہے۔ مثال کے لیے ان کی اہلیتوں اور کوششوں میں فرق کا ہونا۔ کوئی فرد معمولی ذہانت کا حامل ہوسکتا ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے دولت اور اچھی حیثیت پانے کے لیے سخت محنت کی ہو۔ تاہم بڑی حدتک سماجی نا برابری افراد کے درمیان خلقی یا قدرتی فرق کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ اس سماج کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔ وہ نظام جو ایک سماج میں لوگوں کی زمرہ بندی کرتے ہوئے ایک سلسلہ مدارج میں انھیں درجہ بند کرتاہے، ماہرین سماجیات اسے سماجی طبقہ بندی کہتے ہیں۔ یہ سلسلۂ مدارج یا مراتب لوگوں کی پہچان اور تجربہ ان کے دوسروں کے ساتھ تعلق اور ساتھ ہی وسائل اور مواقع تک ان کی رسائی کو شکل فراہم کرتے ہیں، سماجی طبقہ بندی کی تشریح تین اہم اصولوں کے ذریعے کی جاتی ہے:
1۔ سماجی طبقہ بندی محض افراد کے درمیان فرق کا عمل نہیں ہے بلکہ سماج کی ایک خصوصیت ہے۔ سماجی طبقہ بندی سماج میں وسیع طور پر پایا جانے والا نظام ہے جو سماجی وسائل کو لوگوں کے مختلف زمروں میں غیر مساوی طور پر تقسیم کرتا ہے۔ تکنیکی طور پر سب سے زیادہ قدیم سماجوں میں جیسے شکاری اور غذا جمع کرنے والا سماج۔ بہت معمولی پیداوار ہوا کرتی تھی لہذا صرف ابتدائی سماجی طبقہ بندی ہی موجود تھی۔ تکنیکی لحاظ سے زیادہِ ترقی یافتہ سماج میں جہاں لوگ اپنی بنیادی ضرورتوں سے زیادہ پیداوار کرتے ہیں۔ سماجی وسائل مختلف سماجی زمروں میں غیر مساوی طور پر تقسیم ہوتے ہیں جس کا لوگوں کی فطری انفرادی اہلیتوں سے کچھ بھی سروکار نہیں ہوتا ہے۔
2۔ سماجی طبقہ بندی نسل درنسل قائم رہتی ہے۔ یہ خاندان اور سماجی وسائل کی ایک نسل سے دوسری نسل تک وراثت کی شکل میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک فرد کو سماجی حیثیت خود بخود ملی ہوتی ہے۔ یعنی بچے اپنے ماں باپ کی سماجی حیثیت کو اختیار کرتے ہیں ۔ذات نظام میں ، پیدائش سے ہی پیشہ ورانہ مواقع متعین ہوتے ہیں۔ایک دلت کا روایتی پیشہ زرعی مزدور، صفائی ملازم کے طور پر یا چمڑے کے کام میں ہی بندھ کر رہ جاتا ہے اور اس کے پاس اونچی تنخواہ والی سفید پوش ملازمت یا پیشہ ور ملازمت کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ سماجی عدم مساوات کے مخصوص پہلو کو داخلی زوجیت سے مزید تقویت حاصل ہوتی ہے۔ چوں کہ شادی اپنے ذات کے ممبروں تک ہی محدود ہوتی ہے، لہٰذا بین ذات شادیوں کے ذریعہ ذات کی بنیاد پر تقسیم کو کمزور کیا جاسکتاہے۔
3۔ سماجی طبقہ بندی کو عقائد یا نظریات سے تائید ملتی ہے۔ سماجی طبقہ بندی کا کوئی بھی نظام نسل درنسل نہیں چل سکتا جب تک کہ بڑے پیمانے پر یہ نہ مانا جاتا ہو کہ وہ منصفانہ یا نا گزیر ہے۔مثال کے لیے ذات کے نظام کو مذہبی یا رسمیاتی نقطۂ نگاہ سے پاکی یا نا پاکی کی بنیاد پر جائز ٹھہرایا جاتا ہے جس میں پیدائش اور پیشے کی بنا پر برہمنوں کو سب سے اونچی حیثیت اور دلتوں کو سب سے نچلی حیثیت دی گئی ہے۔ اگرچہ ایسا نہیں ہے کہ ہر فرد عدم مساوات کے اس نظام کو صحیح مانتا ہو۔ زیادہ تر وہ لوگ جنھیں زیادہ سماجی مراعات حاصل ہے وہی سماجی طبقہ بندی کے نظام جیسے ذات یانسل کی زبردست حمایت کرتے ہیں۔ جو اس سلسلۂ مراتب یا درجہ بندی میں سب سے نیچے ہیں اور اس وجہ سے ان کو استحصال کیے جانے اور اہانت کا تجربہ ہوا ہے وہی غالباً سب سے زیادہ چیلنج پیش کرسکتے ہیں۔
ہم اکثر سماجی اخراج اور تفریق پر صرف معاشی وسائل کی تفریق کی ہی شکل میں بحث کرتے ہیں۔ جب کہ یہ بات صرف جزوی طور پر ہی صحیح ہے۔ لوگ زیادہ تر اپنے جنس،مذہب، نسل، زبان، ذات اور معذوری کی وجہ سے ہی تفریق اور اخراج کا سامنا کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک مراعات یافتہ پس منظر کی خواتین بھی عوامی مقامات پر جنسی استحصال کا شکار ہوسکتی ہیں۔ ایک مذہبی یا نسلی اقلیتی گروپ کے متوسط طبقے کے پیشہ ور شخص کو بھی شہر کی مڈل کلاس کا لونی میں رہنے یا گھر لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ دوسرے سماجی گروپوں کے بارے میں زیادہ تر تعصب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہم سب ایک کمیونٹی کے ممبر کے طور پر بڑے ہوتے ہیں جس سے ہر ایک اپنی کمیونٹی، ذات، گروپ، یا جنس کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ دوسروں کے بارے میں بھی رائے قائم کرلیتا ہے۔ اکثر یہ خیالات پہلے سے قائم شدہ رائے کا انعکاس کرتے ہیں۔
پہلے سے قائم شدہ رائے یا جانب داری (Prejudices) ایک گروپ کے ممبروں کے ذریعہ دوسرے گروپ کے بارے میں پہلے سے سوچا ہوا خیال یا برتاؤ ہوتا ہے۔ اس کے لفظی معنی ہیں’’ پہلے سے فیصلہ کرلینا‘‘ یعنی وہ رائے یا خیال جو بغیر موضوع کو جانے اور بغیر حقائق کی پر کھ کے شروعات میں قائم کرلی جاتی ہے۔ایک متعصب شخص کے پہلے سے تصور کیے گئے خیالات ثبوت اور شہادتوں کے برخلاف صرف سنی سنائی باتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ نئی معلومات حاصل ہونے کے باوجود اپنے خیالات تبدیل نہیں کرتے۔ پہلے سے قائم شدہ رائے مثبت اور منفی دونوں ہوسکتی ہے۔ ویسے زیادہ تریہ لفظ منفی طور پر اختیار کیے گئے ماقبل فیصلوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن یہ موافق ماقبل فیصلوں پر بھی لاگو ہو تاہے۔مثال کے لیے ایک فرد اپنی ذات اور گروپ کے ممبروں کے حق میں متعصب ہوسکتا ہے اور انھیں بغیر کسی ثبوت کے دوسری ذات یا گروپ کے ممبروں سے افضل مان سکتاہے۔
ماقبل قائم شدہ رائے ایک گروپ کے بارے میں مقررہ اور غیر لچک دار روایتی خیالات(Stereotypes) پر مبنی ہوتی ہے۔ بندھے ٹکے روایتی خیالات زیادہ تر نسلی گروپوں اور عورتوں کے بارے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک میں جو کافی عرصے تک ایک نو آبادیاتی ملک رہا ہے، بندھے ٹکے رویے کچھ حد تک نو آبادیاتی تخلیق ہیں۔ کچھ کمیونٹیوں کو جنگجو نسلوں، کے طور پر بیان کیاگیا، کچھ دوسروں کو مردانہ خصوصیات سے عاری یا بزدل اور کچھ دیگر کو ناقابل اعتبار یا دغاباز کہا گیا ہے۔ انگریزی اور ہندوستانی دونوں زبانوں میں بیان کی گئی کہانیوں میں ہم کئی بار پاتے ہیں کہ کسی پوری کی پوری کمیونٹی کو کاہل و سُست یا چالاک کہا جاتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ کچھ افراد کسی وقت کاہل یا چالاک، بہادر یا بزدل ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس طرح کا عمومی بیان سبھی گروپوں کے کچھ افراد کے بارے میں سچ ہوسکتاہے، پوری کمیونٹی کے لیے نہیں۔ لیکن ایسے افراد کے بارے میں یہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا، وہی شخص مختلف وقتوں پر کاہل اور محنتی دونوں ہوسکتا ہے۔بندھی ٹکی روایت یا رویہ پورے گروپ کو ایک ہی زمرے میں ڈال دیتا ہے اور اس خیال کے تحت افراد کا وقت یا صورتِ حال کے لحاظ سے تبدیلی کی شناخت سے انکار کردیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق پوری کمیونٹی کو ایک واحد فرد کی شکل میں دیکھا جاتا ہے جس میں گو ایک ہی وصف یا خصوصیت ہوتی ہے۔
اگر جانب داری رویوں اور خیالات کو ظاہر کرتی ہے تو تفریق (discrimination) دوسرے گروپ یا فرد کے تئیں کیاگیا برتاؤ ہے۔ تفریق کو عملاً اس طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے تحت ایک گروپ کے ممبران مواقع کے حصول میں نااہل قرار دیے جاتے ہیں جو دوسرے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں جیسے جب ایک شخص کو اس کے جنس یا مذہب کی بنیاد پر ملازمت دینے سے منع کردیا جاتاہے۔ تفریق کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ یہ کھلے طور پر ہو اور نہ ہی اسے واضح طور پر بیان کیا گیا ہو۔ امتیازی برتاؤ کو اس طرح بھی پیش کیا جاسکتا ہے جیسے کہ دوسرے اسباب کی بنا پر محرک ہواہو، جو تعصب کے مقابلے زیادہ منصفانہ ظاہر ہوتاہے۔ مثال کے لیے، جس فرد کو اس کی ذات کی بنیاد پر ملازمت دینے سے منع کیاگیا ہو اس کو کہا جاسکتا ہے کہ اس کی صلاحیت دوسروں سے کم ہے اور انتخاب پوری طرح اہلیت کی بنیاد پر کیاگیا ہے۔
سرگرمی 5.2
٭ فلموں یا ناولوں سے ماقبل قائم شدہ رائے یا تعصب کی مثالیں جمع کیجیے۔
٭ خود اور اپنے ہم جماعتوں کے ذریعہ جمع کی گئی مثالوں پر غور کریں۔ایک سماجی گروپ کی جس طرح سے تصویر پیش کی گئی اس سے تعصب کیسے ظاہر ہوتاہے؟ ہم یہ فیصلہ کیسے کریں کہ ایک تصویر کسی پہلے سے قائم شدہ رائے پر مبنی ہے یا نہیں ؟
٭ کیاآپ قصداً جانب داری یعنی جان بوجھ کر جیسے ایک فلم بنانے والا یا کہانی لکھنے والا اسے پہلے سے قائم رائے کے تحت دکھانا چاہتاتھا اور غیر ارادی یا غیر شعوری جانب داری میں فرق کرسکتے ہیں؟
سماجی اخراج
سماجی اخراج وہ طور طریقے ہیں جس کے تحت کسی فردیا گروپ کو وسیع سماج میں پوری طرح گھلنے ملنے سے روکا جاسکتا ہے یا الگ رکھا جاتا ہے۔ ان سبھی عوامل پر توجہ مرکوزکی جاتی ہے جو فرد یا گروپ کو ان مواقع سے محروم کرتے ہیں جو اکثر آبادی کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔ بھر پور اور سرگرم زندگی جینے کے لیے فرد کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں (جیسے روٹی، کپڑا اور مکان) کے علاوہ دیگر ضروری اشیا اور خدمات جیسے تعلیم، وسائل نقل وحمل، بیمہ، سماجی تحفظ، بینک اور یہاں تک کہ پولیس اور عدلیہ، کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سماجی اخراج اتفاقی نہیں ہوتا ہے بلکہ منظم طریقے سے ہوتا ہے۔ یہ سماج کی ساختی خصوصیات کا نتیجہ ہے۔
یہاں اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ سماجی اخراج غیر رضا کارانہ ہوتا ہے۔ یعنی سماجی اخراج ان لوگوں کا جن کا اخراج کیا جاتاہے ان کی مرضی یا خواہشات کے خلاف نافذ کیا جاتا ہے۔ مثال کے لیے شہروں اور قصبوں میں ہم ہزاروں بے گھر غریب لوگوں کی طرح امیر اشخاص کو کبھی بھی فٹ پاتھ یا پلوں کے نیچے سوئے ہوئے نہیں دیکھتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ امیر شخص کو فٹ پاتھ یا پارکوں کے استعمال سے خارج کیاگیا ہے۔ اگروہ چاہیں تو یقینا ان کا استعمال کرسکتے ہیں لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ سماجی تفریق کو کبھی کبھی اس غلط دلیل سے جائز ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ خارج گروپ خود ہی شامل ہونے کو راضی نہیں ہے۔ اس طرح کی دلیل مطلوبہ چیزوں کے ضمن میں بالکل غلط ہے۔(یہ اس صورت حال سے بالکل الگ ہے جہاں امیر لوگ اپنی مرضی سے فٹ پاتھ پر نہیں سوتے یا وزن ڈھونے کاکام نہیں کرتے)
امتیاز یا توہین آمیز برتاؤ کا طویل تجربہ اکثر اس طرح کے ردعمل کے طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ خارج افراد خاص دھارا میں شامل ہونے کی کوشش اکثر بند کردیتے ہیں۔ مثال کے لیے اونچی ذات کی ہندوکمیونٹیوں نے اکثر نچلی ذات کے لوگوں (خاص طور پر دلتوں) کے مندرمیں داخلے پر پابندی لگائی ہے۔ دسیوں سالوں تک اس طرح کے برتاؤ کے پیش نظر دلتوں نے اپنے مندر بنالیے یا بودھ، عیسائی یا اسلام جیسے دوسرے مذہب کواپنا لیا۔ ایسا کرنے کے بعد وہ ہندو مندر میں داخل ہونے یا کسی بھی مذہبی تقریب میں شامل ہونے کے خواہش مند نہیں ہوں گے۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ سماجی اخراج پر عمل نہیں کیاگیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ سماجی اخراج، خارج شخص کی مرضی کا لحاظ کئے بغیر کیاجاتا ہے۔زیادہ تر سماجوں کی طرح ہندوستان میں بھی سماجی تفریق اور اخراج اپنی انتہائی شکل میں پایا جاتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ذات، جنس اور مذہبی تفریق کے خلاف تحریکیں چلائی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود تعصب بنا رہتا ہے اور اکثر نئے نئے تعصب آتے ہیں۔ لہٰذا قانون اکیلے اپنے بوتے پر سماج کو بدلنے یا دیرپا سماجی تبدیلی لانے کا اہل نہیں ہے۔ ان سب کو ختم کرنے کے لیے تبدیلی، بیداری اور حساسیت کے ساتھ ایک مستقل سماجی مہم چلائے جانے کی ضرورت ہے۔
آپ ہندوستانی سماج پر استعماریت کے اثر کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔تفریق اور اخراج کا کیا مطلب ہے ؟ یہ مراعات یا فتہ ہندوستانیوں کو تب سمجھ میں آیا جب وہ برطانوی نو آبادیاتی ریاستوں کے ہاتھوں اس کے شکار ہوئے۔اس طرح کے تجربے بے شک مختلف سماجی طور پر تفریق کے شکار گروپوں جیسے عورتوں، دلتوں اور دیگر پس ماندہ اور ظلم کی شکار جاتیوں اور قبائل کے لیے عام بات تھی۔ نو آبادیاتی حکومت کے ذلت آمیز برتاؤ کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور عدل کے خیالات سے متعارف ہونے سے ہندوستانیوں نے بہت سی سماجی اصلاح کی تحریکوں کی شروعات کی اور ان میں شامل ہوئے۔
اس باب میں ہم ایسے چار گروپوں پر روشنی ڈالیں گے جو زبردست سماجی عدم مساوات اور اخراج کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر دلت یا پہلے کی اچھوت جاتیاں آدی واسی یا وہ گروپ جنھیں قبائل مانا جاتا ہے، عورتیں اور مختلف طور پر اہل لوگ، درج ذیل سیکشنوں میں ہم ہر ایک کی جدوجہد اور حصول یابیوں کی کہانی پرروشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے:
5.2 ذات اور قبیلہ۔نظام جو عدم مساوات کو قائم رکھتے ہیں اور اس کا جواز ثابت کرتے ہیں
ذات کا نظام بطور ایک تفریقی نظام
ذات کا نظام ایک امتیازی سماجی ادارہ ہے جو مخصوص ذات میں پیدا ہوئے اشخاص کے خلاف امتیازی برتاؤ کو لاگو کرتا ہے اور اس کو جائز ٹھہراتا ہے۔ تفریق کیے جانے کا یہ برتاؤ توہین آمیز، اخراجی اور استحصالی ہے۔
تاریخی لحاظ سے ذات کا نظام لوگوں کو ان کے پیشے اور حیثیت کی بنیاد پر زمرہ بندکرتا تھا۔ہر ایک ذات ایک پیشے سے جڑی ہوئی تھی، اس کا مطلب ہے کہ ایک مخصوص ذات میں پیدا ہوا شخص اس پیشے میں بھی جنم لیتا تھا جو اس کی ذات سے جڑا تھا۔ اس کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔ اس کے علاوہ شاید اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہر ایک ذات کا سماجی حیثیت کے سلسلہ مراتب میں ایک خاص مقام بھی ہوتا تھا۔ لہٰذا موٹے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ صرف سماجی حیثیت کے مطابق ہی پیشہ ورانہ زمرات درجہ بند نہیں بلکہ ہر ایک وسیع پیشہ ور زمرے کے اندر مزید درجہ بندی کی گئی تھی۔مذہبی کتابوں کے سخت اصولوں کے مطابق سماجی اور معاشی حیثیت کو یقینی طور پر الگ الگ رکھا جاتاتھا۔ مثال کے لیے رسوماتی طور پر سب سے اونچی ذات، برہمن کو دولت جمع کرنے کی اجازت نہیں تھی،اور وہ چھتریہ ذات سے تعلق رکھنے والے راجاؤں اور حکمرانوں کی سیکولر قوتوں کے ماتحت تھے۔دوسری طرف انتہائی دینوی حیثیت اور طاقت کے حامل ہونے کے باوجود راجہ برہمنوں کے رسو ماتی مذہبی دائرے کے ماتحت ہوا کرتے تھے (اس کا موازنہ باکس 5.1میں دیے گئے نسلی امتیاز(apartheid)کے نظام کے بیان سے کیا گیا ہے۔ حالاں کہ حقیقی تاریخی عمل میں سماجی اور معاشی حیثیت ایک دوسرے کے موافق ہوتی تھی لہٰذا واضح طور پر سماجی (یعنی ذات) اور معاشی حیثیت باہمی مربوط تھی، اونچی ذات اکثر ہمیشہ اعلا معاشی حیثیت کی حامل ہوا کرتی تھیں، جب کہ ’نچلی‘ ذاتیں کم تر معاشی حیثیت کی حامل ہوتی تھیں۔ جدید دور میں خاص طور پر 19ویں صدی سے ذات اور پیشے کے درمیان رشتہ کافی نرم پڑا ہے۔ پیشہ ورانہ تبدیلیوں سے متعلق رسمیاتی اور مذہبی پابندیا ں آج اتنی آسانی سے نہیں لاگو کی جاسکتی ہیں اور پہلے کی بہ نسبت اب پیشے میں تبدیلی آسان ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ سویا پچاس سال کے مقابلے ذات اور معاشی حیثیت کے درمیان ہم رشتگی کمزور ہوئی۔ آج امیر اور غریب لوگ ہر ذات میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن خاص بات یہ ہے کہ ذات اور طبقے کے درمیان رشتہ نمایاں طور پر اب بھی پوری طرح قائم ہے۔ نظام کے تھوڑا کم سخت ہونے پر موٹے طور پر یکساں سماجی اور معاشی حیثیت والی ذاتوں کے درمیان کا فاصلہ کم ہوا ہے لیکن مختلف سماجی اور معاشی گروپوں کے درمیان امتیازات بھی قائم ہیں۔
اگر چہ سماج یقینی طور پر بدلا ہے لیکن بہت بڑی سطح پر بہت زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ یہ آج بھی سچ ہے کہ سماج کے مراعات یافتہ (اور اونچی معاشی حیثیت والے) طبقات غالب اونچی ذات کے لوگ ہیں جب کہ محروم (اور کم ترمعاشی حیثیت) والے طبقات میں نام نہاد نچلی ذاتوں کی کثرت ہے۔ اس کے علاوہ نام نہاد ’اونچی اور نچلی‘ ذاتوں کے غریب اور مراعات یافتہ طبقوں کے تناسب میں زمین آسماں کا فرق ہے (جدول 1اور2 دیکھیں)۔مختصراً کہیں تو یہ سچ ہے کہ ایک صدی سے چل رہی سماجی تحریکوں کے سبب کئی تبدیلیاں واقع ہوئیں، پیداواری نظام میں زبردست تبدیلی پیدا ہوئی اور ساتھ ہی آزاد ہندوستان میں ریاست نے عوامی سیکٹر میں ذات پر بندش لگانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اس کے باوجود 21ویں صدی میں بھی ذات ہندوستانیوں کے مواقعِ زندگی پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے۔
باکس 5.1
نسل اور ذات۔ایک دو طرفہ ثقافتی موازنہ
ہندوستان کے ذات نظام کی طرح جنوبی افریقہ میں بھی نسل کی بنیاد پر سماج کو زمرہ بند کیاگیا ہے۔ تقریباً ہر سات جنوبی افریقی شخص میں سے ایک یوروپی نسب کا ہے، پھر بھی جنوبی افریقہ کے اقلیتی سفید فاموں کا وہاں کے اقتدار اور دولت میں غالب حصہ ہے۔ ڈچ تاجر 17ویں صدی کے وسط میں جنوبی افریقہ میں بس گئے،19ویں صدی کے شروع میں ان کے آباو اجداد کو برطانوی نو آباد کاروں کے ذریعے اندرونی علاقوں کی طرف بھگا دیاگیا۔ 20ویں صدی کی شروعات میں برطانیہ نے پہلے وفاق اور بعد میں رپبلک آف ساؤتھ افریقہ پر کنٹرول کرلیا۔
اپنے سیاسی کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے اقلیتی سفید فاموں نے نسلی امتیاز(apartheid)یانسلوں کی علاحدگی کی پالیسی کو فروغ دیا۔ یہ کئی سالوں تک غیر رسمی طور پر جاری رہا بعد میں 1948میں اسے قانونی طور پر تسلیم کرلیا گیا اور اکثریتی جنوبی افریقی سیاہ فاموں کو وہاں کی شہریت، زمین کی ملکیت اور حکومت میں شامل ہونے کے رسمی حق سے محروم کردیاگیا۔ ہر ایک فرد کی زمرہ بندی نسل کی بنیاد پر کی گئی اور مخلوط شادیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ نسلی ذات کے طور پر سیاہ فاموں کے پاس کم آمدنی والی ملازمتیں تھیں، عام طور پر سفید فاموں کے ذریعے حاصل آمدنی کے مقابلے ان کی آمدنی صرف ایک چوتھائی تھی۔ بیسویں صدی کے بعد کے نصف میں لاکھوں سیاہ فاموں کو ’بانٹستان‘ (Bantustan)یا مقامی بستیوں میں جبراً بسایا گیا جو گندگی سے بھر پور علاقے تھے، جہاں بنیادی ڈھانچے کی سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ صنعت اور ملازمت بالکل ہی نہیں تھی۔ یہ سبھی مقامی بستیاں مجموعی طور پر پورے جنوبی افریقہ کی صرف 14فی صد زمین کا حصہ تھیں، جب کہ سیاہ فام پورے ملک کی آبادی کے تناسب میں 80فی صد تھے۔ نتیجتاً فاقہ کشی اور مصیبتیں شدید تر ہوتی گئیں۔ مختصراً، اس ملک میں زبردست قدرتی وسائل اور ہیروں، قیمتی معدنیات کے ہوتے ہوئے بھی زیادہ تر لوگ زبردست غربت کی زندگی جی رہے تھے۔
خوش حال اقلیتی سفید فاموں نے اپنی خصوصی مراعات کا دفاع سیاہ فاموں کو سماجی طورپر کم تر قرار دیتے ہوئے کیا۔ تاہم وہ اپنے اقتدار کو بنائے رکھنے کے فوجی دباؤ کے طاقتور نظام پر انحصار کرتے تھے۔ سیاہ فام احتجاج کرنے والے لوگوں کو روزانہ جیل میں ڈالا جاتا تھا، اذیت دی جاتی تھی اورمار ڈالا جاتا تھا۔ حکومت کے دہشت گردانہ عمل کے باوجود سیاہ فاموں نے دہوں تک اجتماعی طور پر افریقی قومی کانگریس اور نیلسن منڈیلا کی قیادت میں جدوجہدکی اور آخر کار وہ اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوئے اور 1994میں حکومت بنا ئی۔ اگرچہ مابعد نسلی امتیاز نے جنوبی افریقہ کے آئین میں نسلی امتیاز پر پابندی لگائی ہے۔تاہم معاشی پونجی ابھی بھی سفید فام لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہے۔اکثریتی سیاہ فاموں کو با اختیار بنانا نئے سماج کو مستقل چیلنج پیش کرتا ہے۔
’’میں نے سفید فاموں کے تسلط کے خلاف جدوجہد کی ہے اور میں نے سیاہ فاموں کے تسلط کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ میں نے جمہوریت کے نصب العین اور ایک آزاد سماج کو عزیز جانا ہے جہاں سبھی لوگ ایک دوسرے سے ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے مساوی مواقع کا استعمال کرتے ہیں ۔یہ ایک مثال ہے جس کو پانے اور جس کے لیے جینے کی میں توقع کرتا ہوں۔ لیکن اگر ضرورت ہوئی تو اس نصب العین کی خاطر میں مرنے کے لیے بھی تیار ہوں‘‘۔
نیلسن منڈیلا 20 اپریل1964، ریوینا مقدمہ کے دوران
جدول1: خط غربت کے نیچے رہنے والی آبادی کا فی صد، 12-2011
| ذات اور کمیونیٹی گروپ | دیہی ہندوستان | شہری ہندوستان |
| 816 روپیے یا کم فی شخص ماہانہ اخراجات | 100روپے یا کم فی شخص ماہانہ اخراجات | |
| درج فہرست قبائلی | 45.3 | 24.1 |
| درج فہرست ذات | 31.5 | 21.7 |
| دیگر پسماندہ طبقات | 22.7 | 15.7 |
| ایف سی | 15.5 | 8.1 |
| مسلمان | 26.9 | 22.7 |
| ہندو | 25.6 | 12.1 |
| عیسائی | 22.2 | 05.0 |
| سکھ | 06.2 | 05.0 |
| سبھی گروپ | 25.4 | 13.7 |
اروند پنگریا کے اعداد و شمار ( نیتی آیوگ )
جدول 2: خوشحال (امیر)آبادی کا فیصد
| ذات اور کمیونیٹی گروپ | دیہی ہندوستان | شہری ہندوستان |
| 1000 روپے یا اس سے زدیادہ فی کس ماہانہ خرچ | 2000 روپے یا اس سے زدیادہ فی کس ماہانہ خرچ | |
| درج فہرست قبائل | 1.4 | 1.8 |
| درج فہرست ذاتیں | 1.7 | 0.8 |
| دیگر پسماندہ طبقات | 3.3 | 2.0 |
| مسلمان | 2.0 | 1.6 |
| ہندو | 8.6 | 8.2 |
| عیسائی | 18.9 | 17.0 |
| سکھ | 31.7 | 15.1 |
| دیگر | 17.9 | 14.4 |
| سبھی گروپ | 4.3 | 4.5 |
نوٹ: دیگر پس ماندہ طبقات
جدول 1 اور 2 کے لیے مشق
جدول1-سے۱12-2011 کی آبادی میں سرکاری طور پر ’خط غربت‘ سے نیچے رہنے والی ہرذات اور کمیونٹی کا فی صد ظاہرہوتاہے۔ دیہی و شہری ہندوستان کے لیے الگ الگ کالم ہیں۔
جدول2بھی اسی طرح بنایا گیاہے سوائے اس کے کہ اس میں خط غربت کے بجائے امیر لوگوں کا فی صد دکھایا گیا ہے۔ ’امیری‘ کو دیہی ہندوستان میں1000روپیے فی شخص ماہانہ اخراجات اور شہری ہندوستان میں2000روپیے فی شخص ماہانہ اخراجات کے طور پر بیان کیاگیاہے۔ یہ دیہی ہندوستان میں پانچ افراد کے خاندان کے ذریعے5000روپیے ماہانہ اور شہری ہندوستان میں 10,000 روپیے ماہانہ کے برابر ہے۔درج ذیل سوالات کے جواب دینے سے پہلے براہ کرم ان جد ول کو غور سے پڑھیں۔
1۔ ہندوستانی آبادی کے کتنے فی صد لوگ خط غربت کے نیچے (a)دیہی ہندوستان میں اور(b)شہری ہندوستان میں رہتے ہیں؟
2۔ کس ذات کمیونٹی کے زیادہ تر لوگ (a)دیہی اور (b)شہری ہندوستان میں بہت زیادہ غریبی میں زندگی گزار رہے ہیں؟ کس ذات ؍کمیونٹی کے سب سے کم فی صد لوگ غریبی میں جیتے ہیں؟
3۔ ہر ایک نچلی ذات (درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل، دیگرپس ماندہ طبقات) کا غریبی کا فی صد قومی اوسط تناسب سے تقریباً کتنے گنازیادہ ہے؟ کیا اس میں کوئی نمایاں دیہی شہری فرق ہے؟
4۔ دیہی اور شہری ہندوستان کی آبادی میں کس ذات ؍کمیونٹی کے لوگوں کا امیری میں سب سے کم فی صد ہے؟ قوی اوسط تناسب سے اس کاموازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
5۔ اونچی ذات کے ہندوؤں کی امیر آبادی کا فی صد ’نچلی‘ ذات (درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پس ماندہ طبقات) کے فی صد سے تقریباً کتنے گنا زیادہ ہے۔
6۔ یہ جدول آپ کو دیگر پس ماندہ طبقات کی صورت حال کے بارے میں کیابتاتے ہیں؟کیا ان میں کوئی نمایاں دیہی شہری فرق ہے؟
چھوا چھوت
چھوا چھوت ذات کے نظام کا نہایت ہی غلط وناقص پہلو ہے، جو پاکی وناپاکی یا آلودگی کے پیمانے پر سب جانے سے نیچی مانی جانے والی جاتیوں کے ممبروں کے خلاف انتہائی سخت سماجی کاروائی نافذ کرتی ہے۔ صحیح معنی میں تو اچھوت مانی جانے والی جاتیوں کےجاتی سلسلۂ مدارج میں کوئی درجہ نہیں ہے، وہ اس نظام سے باہر ہیں۔ انھیں تو اتنا زیادہ نا پاک یا ناخالص مانا جاتاہے کہ ان کے ذرا سے چھو جانے بھر سے ہی دیگر سبھی جاتیوں کے ممبر بہت زیادہ ناپاک ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اچھوت کہے جانے والے شخص کو تو انتہائی سزا بھگتنی پڑتی ہی ہے ساتھ ہی اونچی ذات کا جو شخص چھویا گیا ہے اسے پھر سے پاک ہونے کے لیے تطہیری رسوم انجام دینے ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان کے کئی علاقے (خاص طور پر جنوبی ہندوستان) میں ’’دور کی آلودگی‘‘ کا تصور موجود تھا جس کے مطابق اچھوت لفظ کا لفظی معنی محدود ہونے کے باوجود ’’چھواچھوت‘‘ کا ادارہ جسمانی ربط سے بچنے یا اچھوت سے دور رہنے کا حکم تو دیتا ہی ہے، ساتھ ہی نام نہا د اچھوت کے لیے کی گئی سماجی کارروائیوں کا بھی اہتمام کرتاہے۔
یہاں یہ بتا دینا اہم ہے کہ چھواچھوت کی تین اہم جہات ہیں یعنی،اخراج، تذلیل اور تحقیر و استحصال۔اسی مظہر کی تعریف کرنے میں یہ تینوں جہات یکساں طور پر اہم ہیں۔ اگرچہ دیگر (یعنی اچھوت نہ مانی جانے والی) نچلی ذاتوں کو کچھ حد تک ماتحتی اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن انھیں اخراج کی اتنی انتہائی شکل نہیں برداشت کرنی پڑتی جو کہ’اچھوتوں‘ کے لیے مخصوص ہیں۔دلت اخراج کی متعد شکل کا تجربہ کرتے ہیں جو منفردہیں اور دوسرے گروپوں کے ساتھ جن پر عمل نہیں کیا جاتا۔ مثال کے لیے انھیں پینے کے پانی کے عام وسائل سے پانی نہیں لینے دیاجاتا یااحتماعی مذہبی پوجا، سماجی تقریبات تہوار میں شرکت پر پابندی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی چھو اچھوت میں ماتحتی کے کردار میں جبریہ استعمال شامل ہوتاہے جیسے مذہبی تقریب میں ڈھول وغیرہ بجانے پر مجبور کیاجاتا ہے۔ عوام کے سامنے (خود) تو ہین آمیز اور ماتحتی ظاہر کرنے والے عمل چھو اچھوت کے رواج کا اہم جزوہیں۔ نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں کے تئیں زبردست ادب واحترام ظاہر کرنے کے لیے کئی طرح کی حرکات وسکنات انجام دینی پڑتی ہیں جیسے ٹوپی یا پگڑی اتارنا، پہنے ہوئے جوتوں کو اتار کر ہاتھ میں پکڑ کر لے جانا، سرجھکا کر کھڑے رہنا، صاف ستھرے یا چمک دار کپڑے نہیں پہننا وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ گالیاں سننا اور بے عزتی سہنا ان کا روز مرہ کا کام ہے۔ مزید برآں مختلف معاشی استحصال گویا اس چھو اچھوت کی خراب رسم کے ساتھ ہمیشہ سے جڑا ہوا ہے۔ انھیں عام طور پر بغیر اجرت کام یعنی بیگاری کرنی پڑتی ہے یا بہت کم مزدوری دی جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو ان کی جائداد تک چھین لی جاتی ہے۔ مختصراً چھو اچھوت کل ہند مظہر ہے، اگرچہ اس کی مخصوص شکلوں اور شدت میں مختلف علاقوں اور سماجی وتاریخی سیاق وسباق میں کافی زیادہ فرق ہوتا ہے۔
ان نام نہاد اچھوتوں کو پچھلی صدیوں سے مجموعی طور پر الگ الگ ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے ان ناموں کا اشتقاق کچھ بھی ہو اور ان کابنیادی مطلب خواہ کچھ بھی رہا ہو لیکن اب یہ توہین آمیز اور انتہائی ذلت آمیزی کا اظہار کرنے والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے کئی لفظ تو آج بھی گالی کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، حالاں کہ ان کا استعمال مجرمانہ اصول شکنی مانا جاتا ہے۔مہاتما گاندھی نے ان ذات پر مبنی ناموں کی توہین آمیزی کو دور کرنے کے لیے 1930کے دہے میں انھیں ’ہری جن‘ (جس کے لفظی معنی بھگوان کے آدمی/بچے ہیں) کہہ کر پکارنا شروع کیا، یہ کافی مقبول ہوا۔
لیکن سابقہ اچھوت کمیونٹیوں اور ان کے رہنماؤں نے ایک اور لفظ ’دلت‘ وضع کیا جو ان سبھی گروپوں کا بیان کرنے کے لیے اب عام طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ہندوستانی زبانوں میں دلت اصطلاح کے لفظی معنی دبا ہوا یا مظلوم اور دبے ہوئے استبداد کے شکار لوگوں کے مفہوم کو ظاہر کرتاہے۔ یہ لفظ نہ تو ڈاکٹر امبیڈ کر کے ذریعہ وضع کیا گیا تھا اور نہ انھوں نے اس کا استعمال کیاتھا لیکن اس میں ان کے فلسفے اور تفویض اختیار کی تحریک کی گونج جس کی قیادت انھوں نے کی تھی، ضرورسنائی دیتی ہے۔1970کے دہے میں ممبئی میں ذات کی بنیاد پر ہوئے فساد کے دوران اس لفظ کا استعمال بہت بڑے پیمانے پر کیاگیا۔ اس وقت مغربی ہندوستان میں ’دلت پینتھرس‘نام کا جو انتہاپسند گروپ ابھرا اس نے اپنے حقوق اور وقار کے لیے کی گئی جدوجہد کے تحت الگ پہچان بنانے کے لیے اس لفظ کا استعمال کیا۔

باکس 5.2
ایک دلت صفائی کرنے والے کی روزانہ سخت آزمائش
ہندوستان میں جمعدار یعنی گندگی اٹھانے والے لوگوں کی تعداد تقریباً 80لاکھ ہے۔ نارائین اما بھی ان میں سے ایک ہے۔ جو آندھرپردیش میں اننت پور بلدیہ کے 400سیٹوں والے بیت الخلا کو صاف کرتی ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد جب بیت الخلا کا استعمال کرنے والی عورتیں باہر آتی ہیں تو نارائین اما اور ان کے سا تھ کام کرنے والیوں کو اندر بلایا جاتاہے۔بیت الخلا سوکھا ہے، اس میں گندگی بہانے کے لیے فلش نہیں ہے۔ گندگی ہر سیٹ کے نیچے اکٹھا ہوتی رہتی ہے یا بہہ کر کھلے نالے میں چلی جاتی ہے۔ نارائین اما کا کام ہے کہ وہ ایک سپاٹ، ٹین کے طشتری میں اپنے جھاڑو کی مدد سے گندگی کو اکٹھا کر اپنی ٹوکری میں ڈال لیں۔ جب ٹوکری بھر جاتی ہے تو وہ اسے سرپر اٹھا کر ایک ٹریکٹر ٹرالی میں جہاں آدھا کلومیٹر دور انتظار کیاجاتاہے ڈال آتی ہے اور پھر وہ واپس آکر بیت الخلا سے آنے والی پکار کے لیے انتظار کرنے لگتی ہے۔ یہ سلسلہ صبح تقریباً دس بجے تک چلتا رہتا ہے جب آخر میں نارائین اما دھو پوچھ کر اپنے گھر کو واپس چل پڑتی ہے۔
ارے میونسپلٹی، ذرا آؤ، اسے صاف کرو۔ نارائین اما اور ان کے ساتھ کام کرنے والیوں کو زیادہ تر لوگ انہیں لفظوں سے پکارتے ہیں، جب وہ سڑک پر جا رہی ہوتی ہیں۔
یہ ایسا ہے جیسے ہمارا تو کوئی نام نہیں ہے، وہ کہتی ہیںاور اکثر جب ہم لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ اپنی ناک کپڑے سے ڈھک لیتے ہیں گویا ہم میں سے بدبو آرہی ہے۔ جب ہم بلدیہ کے نل یا ہینڈ پمپ سے پانی لینے جاتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے ذریعہ پانی کی ٹونٹی کھولنے یا ہینڈپمپ چلانے کا انتظار کرنا پڑتا ہے، تاکہ ہمارے چھونے سے نل یا پمپ ناپاک نہ ہوجائے۔ چائے کی دوکانوں میں ہم دوسروں کے ساتھ بینچ پر نہیں بیٹھ سکتے، ہم فرش پر بیٹھتے ہیں۔ ابھی کچھ وقت پہلے تک ہمارے لیے الگ ٹوٹے ہوئے پیالے ہوتے تھے جنھیں ہم خود دھویا کرتے تھے اور یہ پیالے ہمارے استعمال کے لیے ہی الگ رکھے جاتے تھے۔ یہ رواج آج بھی اننت پور آس پاس کے گاؤں اور ریاست کے دیگر حصوں میں بھی چل رہا ہے۔
ماخذ: مندر 2001:38-39سے لیا گیا۔
ذات اور قبیلے سے متعلق تفریق کو ختم کرنے کے سلسلے میں ریاست اور دیگر تنظیموں کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات
آزادی حاصل کرنے کے پہلے سے ہی حکومت ہند درج فہرست قبائل اور درج فہرست ذات کے کئی خصوصی پروگرام چلاتی رہی ہے۔ برطانوی ہندوستانی حکومت نے 1935 میں درج فہرست ذات اور قبائل کی فہرست تیار کی تھی جن میں ان جاتیوں اور قبائل کے نام دیے گئے تھے جنھیں ان کے خلاف بڑے پیمانے پر برتے جارہے امتیاز کے سبب خاص برتاؤ کامستحق سمجھا گیاتھا۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد، ان پالیسیوں کو تو جاری رکھا ہی گیا ،ان میں کئی نئی پالیسیوں کا بھی اضافہ کر دیاگیا۔ ان میں سب سے قابلِ ذکر تبدیلی یہ کی گئی کہ 1990کے دہے کے ابتدائی سالوں سے دیگر پس ماندہ طبقات کے لیے بھی کچھ خصوصی پروگرام جوڑ دیے گئے ہیں۔
ما ضی اور حال کی ذات پر مبنی تفریق کو دور کرنے اور اس سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی کے لیے ریاست کی طرف سے جو سب سے اہم قدم اٹھایاگیا ہے اسے عام لوگوں میں ’ریزرویشن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی کے تحت عام زندگی کے مختلف پہلوؤں میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائلی ممبروں کے لیے کچھ سیٹیں الگ سے مقرر کردی جاتی ہیں۔ ان ریزرویشن میں کئی قسم کے ریزرویشن شامل ہیں جیسے ریاست اور مرکزی مقننہ (یعنی ریاستی اسمبلیوں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا) میں سیٹوں کا ریزرویشن، سبھی محکموں اور عوامی سیکٹر کی کمپنیوں کے تحت سرکاری خدمات میں ملازت کا ریزرویشن، تعلیمی اداروں میں سیٹوں کا ریزرویشن۔ محفوظ کی گئی سیٹوں کا تناسب پوری آبادی میں درج فہرست ذات اور قبائل کے فی صد حصے کے برابر ہوتاہے۔لیکن دیگر پس ماندہ طبقات کے لیے یہ تناسب الگ بنیاد پر مقرر کیاگیاہے۔اسی اصول کو حکومت کے دیگر ترقیاتی پروگراموں پر بھی لاگو کیاگیا ہے۔ان میں سے کچھ تو خاص طور پر درج فہرست ذات اور قبائل کے لیے ہیں جب کہ دیگر پروگراموں میں انھیں ترجیح دی جاتی ہے۔
ریزرویشن کے علاوہ اور بھی بہت سے قانون ہیں جو ذات پر مبنی تفریق خاص طور پر چھو اچھوت کو ختم کرنے، روکنے یا اس کے لیے سزا دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ایسے شروعاتی قوانین میں ایک 1850کا ذات سے متعلق معذوری کا انسداد ایکٹ تھا جس میں یہ اہتمام کیاگیا تھا کہ صرف مذہب یا ذات کی تبدیلی کے سبب ہی شہریوں کے حقوق کو کم نہیں کیا جائے گا۔ ایسا ہی سب سے حال کا قانون تھا 2005میں کی گئی آئینی ترمیم(93ویں ترمیم)ایکٹ جو 23جنوری2006 کو قانون بنا۔ اتفاق سے1850قانون اور 2006کی ترمیم دونوں ہی تعلیم سے متعلق تھے۔93ویں ترمیم اعلا تعلیم کے اداروں میں دیگر پس ماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن لاگو کرنے کے لیے تھی جب کہ 1850کا قانون سرکاری اسکولوں میں دلتوں کے داخلے کی لیے اجازت دینے کے لیے بنایا گیاتھا۔ اسی دوران اور بھی متعدد قوانین بنائے گئے،جو کہ اہمیت کے حامل تھے، بے شک خود ہندوستان کا آئین جو 1950میں پاس کیا گیا تھا اور1989کے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (ظالمانہ و وحشیانہ کام کی روک تھام) ایکٹ کافی اہم تھے آئین میں چھواچھوت کو ختم کردیا (آرٹیکل17)اور اوپر مذکورہ ریزرویشن سے متعلق شق کو نافذ کیا گیا۔ 1989کے ظلم کی روک تھام سے متعلق ایکٹ نے دلتوں اور قبائل کے خلاف ظالمانہ اور توہین آمیز کاموں کے لیے سزا دینے کی شق میں ترمیم کرکے انھیں اور مضبوط بنادیا۔ اس طرح اس موضوع پر بار بار کئی قانون بنائے گئے جو اس بات کی شہادت ہیں کہ اکیلا قانون ہی کسی سماجی رواج کو نہیں مٹا سکتا۔ درحقیقت جیسا کہ آپ نے اخبارات میں پڑھاہوگا اور ٹی وی، ریڈیو جیسے ذرائع ابلاغ میں دیکھا سنا ہو گا کہ دلتوں اور آدی واسیوں کے خلاف ظلم اور تفریق کے معاملے آج بھی پورے ہندوستان میں دیکھنے کوملتے ہیں۔ باکس 5.3میں مذکورہ معاملہ ایک مثال ہے، اخبارات اور ذرائع ابلاغ سے آپ ایسے کئی معاملوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔
کوئی سرکاری کارروائی اکیلے ہی سماجی تبدیلی نہیں لاسکتی۔بہر صورت کو ئی بھی سماجی گروپ کتنا ہی کمزور یا ستایا ہوا ہو وہ صرف ایک شکار ہی ہے۔ انسان اکثر نہایت مخالف و ہنگامی صورتِ حال میں بھی انصاف اور وقار کے لیے جدوجہد میں اپنے طور پر منظم کرنے اور عمل کرنے کا ہمیشہ اہل ہوتا ہے۔ دلت بھی سیاسی، احتجاجی اور ثقافتی محاذوں پر زیادہ سے زیادہ سرگرم وفعال ہوتے گئے ہیں۔ جیوتی با پھولے، ایوتی داس، پیری یار، امبیڈکر اور دیگر (باب3دیکھیں) جیسے لوگوں کے ذریعہ ماقبل آزادی جدو جہد کی گئی اور تحریکیں چلائی گئی تھیں۔ آج بھی اترپردیش میں بہوجن سماج یا کرناٹک میں دلت سنگھرش سمیتی جیسی عصری سیاسی تنظیمیں تحریکیں چلار ہی ہیں اور جدوجہد کررہی ہیں۔اس طرح دلتوں کے سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کافی لمبے عرصے سے چل رہی ہے (عصری جدوجہد کی مثال کے لیے باکس 5.3دیکھیں) دلتوں نے کئی ہندوستانی زبانوں، خاص طور پر مراٹھی، کنٹر، تمل، تیلگو اورہندی ادب میں قابل ذکر اشتراک کیا ہے (باکس5.4دیکھیں)جس میں مراٹھی زبان کے معروف دلت شاعر دیاپوار کی ایک چھوٹی سی نظم دی گئی ہے)
سرگرمی 5.3
ہندوستان کے آئین کی ایک کاپی حاصل کریں۔ آپ اسے اپنے اسکول کی لائبریری یا کسی کتاب کی دو کان یا انٹرنیٹ سے حاصل کرسکتے ہیں (ویب سایٹ کا پتہ http://indiacode.nic.in/ اس میں آپ ان سبھی آرٹیکل اور سیکشنوں کو تلاش کر ان کی فہرست بنائیں جو درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل سے متعلق ہوں۔ آپ سب سے زیادہ اہم ایکٹ(قوانین) کا ایک چارٹ بنا کر اپنی کلاس میں لگا سکتے ہیں۔
باکس 5.3
'D' سے دلت اور 'D' سے دعوتِ مقابلہ (D for Dalit, D for Defiance)
گوہانہ، ہریانہ میں سونی پت روہتک شارع عام پر ایک چھوٹا سا خاک آلود گاؤں ہے جہاں ترقی کا وعدہ کرنے والے بڑے بڑے بورڈ (اشتہار والے تختے) لگے ہوئے ہیں… قصبہ سے آگے بڑھنے پر گوہانہ کی سب سے بڑی دلت بستی بالمیکی کالونی آتی ہے جو اب راکھ کے ڈھیرسے ابھری ہے۔ 31اگست2005کے دن اس دلت بستی کو جاٹ لوگوں کی ایک بھیڑنے لوٹ پاٹ کر جلا ڈالا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ دلت نوجوانوں کے ساتھ ہوئے ایک جھگڑے میں ایک جاٹ نوجوان ماراگیا تھا۔ اس قتل کے حادثے کے بعد دلت وہاں سے بھاگ گئے تھے، انھیں جاٹوں کے حملے کا خوف تھا، وہاں کی گشتی پولیس نے جاٹوں کی بھیڑ کو نہ روکنا ہی مناسب سمجھا نتیجتاً دلتوں کے 54گھر جلا ڈالے گئے ’’اس آتش زنی کے ذریعے جاٹ دلتوں کو سبق سکھانا چاہتے تھے‘‘ ونود کمار نے کہا، جن کا گھر بھی جلا دیا گیا تھا۔ ’’پولیس انتظامیہ اور حکومت میں جاٹوں کا بول بالا ہے، وہ تو بس تماش بین کی طرح ہمارے گھروں کو جلتا ہوا دیکھتے رہے۔‘‘
پانچ مہینے بعد، جلائے گئے گھر پھر سے بنا دیے گئے ہیں۔ ان کے سامنے کے حصوں کو چمک دار گلابی لال اور ہرے رنگوں سے رنگ دیا گیا ہے۔ ہر ایک گھر کے دروازے پر بالمیکی کی تصویروں کے ساتھ سنگ مرمر کی ٹائلیں لگادی گئی ہیں جو وہاں کے باشندوں کی دلت پہچان کو نمایاں کرتی ہے۔’’ ہمیں واپس تو آنا ہی تھا۔ یہ ہمارا گھر ہے‘‘کمارنے کہا۔ وہ اپنے نیلے رنگے ہوئے گھر کی بیٹھک میں نئے خریدے گئے صوفے پر بیٹھے تھے۔
کمار گوہانہ کے دلتوں کی جرأت وہمت کی علامت ہیں۔ ان کی عمر30-31 سال ہے۔ وہ جھاڑولگانے کا کام نہیں کرتے جو ذات پر مبنی سماج نے انھیں کرنے کے لیے کہا تھا، وہ اک بیمہ کمپنی میں سینئر اسسٹنٹ ہیں۔ زیادہ تر دلتوں نے تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ ذات نظام کی کنٹرول لائن کو پارکر گئے ہیں، ’’ہم میں سے بہتوں نے ماسٹر ڈگری حاصل کرلی ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے زیادہ تر لڑکے اسکول جاتے ہیں اور لڑکیاں بھی اسکول جاتی ہیں‘‘ کمارنے کہا۔(…) بالمیکی کا لونی کے نوجوان بندھے ٹکے روایتی انداز کے نہیں ہیں، دبے ہوئے اور تکلیف برداشت کرنے والے دلت نہیں رہے جو روایتی انداز سے سوچتے ہوں گے۔ نائیکی جوتے اور رینگلر جینس کی نقل کرکے بنائے گئے جوتوں اور جینس میں ملبوس ان نوجوانوں کی حرکات وسکنات سے بے باکی جھلکتی ہے۔ لیکن، ہریانہ کے بے زمین دلتوں میں سے زیادہ تر کے لیے سماج میں اوپر کی طرف بڑھنا ابھی مشکل بنا ہوا ہے۔ زیادہ تر لڑکے ہائی اسکول کے بعد تعلیم چھوڑ دیتے ہیں کیوںکہ وہ بہت غریب ہیں۔ سریش کٹاریہ نے کہا، جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اسسٹنٹ انجینئر کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے گڑگاؤں کے ایک انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیاہے۔ ان کے ایک قریبی دوست نے جو جاٹ ذات کا تھا اور اس نے بھی اسی انسٹی ٹوٹ سے ڈپلومہ کیا تھا، انھیں اپنے خاندان کی ایک شادی کی تقریب میں مدعوکیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی استدعا کی تھی کہ وہ اپنی ذات کی شناخت نہ بتائے۔ شادی کی تقریب میں ایک مہمان نے میری ذات کے بارے میں پوچھا تو میں نے جھوٹ بول دیا۔ پھر اس نے میرے گاؤں کا نام پوچھا اور میں نے صحیح صحیح بتا دیا۔وہ جانتا تھا کہ میرا گاؤں دلتوں کا ہے۔ گھر والوں اور مہمانوں میں ایک جنگ سی شروع ہوگئی کہ انھوں نے ایک دلت کو اندر کیسے آنے دیا؟’’انھوں نے دھکے مار کر مجھے باہر نکال دیا اور میں جس کرسی پر بیٹھا تھا اسے دھویا‘‘ کٹاریا نے پرانا قصہ سنایا۔
کٹاریہ دلتوں کے لیے نئی زندگی چاہتے ہیں، وہ دیگر پڑھے لکھے دلتوں کے ساتھ مل کرگڑگاؤں کے گاؤں میں مہم چلاتے ہیں۔ ’’ہمارے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے، مضبوط اور طاقت ور ہوں گے۔ ہم میں اتحاد کی ضرورت ہے اور جب ایک بار ہم میں اتحاد ہو جائے گا تو اچھی طرح مقابلہ کرسکیں گے ، تب گوہانہ یا جھجر جیسے واقعات نہیں ہوں گے اور نہ ہی کوئی ایسا حادثہ‘‘۔
ماخذ:18فروری 2006کے تہلکہ میں شائع بشارت پیر کے ایک مضمون سے لیا گیا۔
دیگر پس ماندہ طبقات
چھواچھوت سماجی تفریق کی سب سے زیادہ واضح اور وسیع شکل تھی۔ لیکن جاتیوں کاایک کافی بڑا گروپ ایسا بھی تھا جنھیں نیچا سمجھا جاتاتھا۔ ان کے ساتھ ساتھ طرح طرح کا امتیاز بھی برتا جاتا تھا لیکن انھیں اچھوت نہیں مانا جاتا تھا۔ یہ خدمات پیش کرنے والی اور کاریگر جاتیوں کے لوگ تھے جنھیں ذات پر مبنی درجہ بندی میں کم تر مقام حاصل تھا۔ ہندوستان کے آئین میں اس امکان کو قبول کیاگیا ہے کہ درج فہرست قبائل اور درج فہرست جاتیوں کے علاوہ اور بھی کئی گروپ ہوسکتے ہیں جو سماجی محرومیوں کا شکار ہیں۔ ایسے گروپوں کا ذات پر مبنی ہونا ضروری نہیں ہے لیکن وہ عام طور پرکسی ذات کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان گروپوں کو سماج اور تعلیمی لحاظ سے پس ماندہ کہاگیا ہے۔ یہ عام بول چال میں رائج دیگر پس ماندہ طبقات (Other Backward Classes, OBC)کی اصطلاح کی آئینی بنیاد ہے۔
باکس 5.4
شہر
دیا پوار
ایک دن کسی نے بیسویں صدی کے ایک شہر کو کھودا اور مشاہدہ کیا،
یہاں ایک دلچسپ کتبہ ہے،
’’یہ پانی کا نل سبھی ذاتوں اورمذاہب کے لیے کھلا ہے۔‘‘
آخر اس کا بھلاکیا مطلب رہا ہوگا،
یہی نا کہ یہ سماج بنٹا ہوا تھا؟
یہ کہ کچھ اعلا تھے جب کہ دوسرے کم تر؟
ٹھیک، پھر تو یہ شہر دفن ہونے لائق ہی تھا۔
کیوں پھر لوگ اسے مشین کازمانہ کہتے ہیں۔
بیسویں صدی پتھر کا زمانہ جیسا لگتا ہے۔
’قبائل‘ کے زمرے کی طرح (باب 3دیکھیں) دیگر پس ماندہ طبقات ، کو منفی طور پر یعنی وہ کیا نہیں ہیں کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے۔ وہ نہ تو ذات پر مبنی سلسلۂ مدارج ہیں’اونچی ذات‘ کہی جانے والی اعلا جاتیوں کے حصے ہیں اور نہ نچلے سرے پر واقع دلتوں کے زمرے میں آتے ہیں لیکن چوں کہ ذات ہندو مذہب تک ہی نہیں محدود رہ گئی ہے بلکہ سبھی بڑے ہندوستانی مذاہب میں بھی داخل ہوچکی ہے اس لیے دیگر مذاہب میں بھی پس ماندہ جاتیاں پائی جاتی ہیں اور ان کی روایتی پیشہ ورانہ شناخت ہوتی ہے اور ان کی سماجی ومعاشی حیثیت بھی وسیع یا ان سے بدتر ہوتی ہے۔ انھیں وجوہات کی بنا پر دیگر پس ماندہ طبقات، دلتوں یا آدی واسیوں کے مقابلے زیادہ متنوع گروپ ہیں۔ جو اہرلعل نہرو کی وزارت عظمیٰ میں آزاد ہندوستان کی پہلی حکومت نے دیگر پس ماندہ طبقات کے بہبود کے لیے اقدامات کیے جانے کی تجویز کے لیے ایک کمیشن قائم کیاتھا۔ کا کاکالیلکر کی سربراہی میں قائم پہلے پس ماندہ کمیشن برائے پس ماندہ طبقات نے 1953میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ لیکن اس وقت کے سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے رپورٹ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔ پانچویں دہے کے وسط سے دیگر پس ماندہ طبقے کا مسئلہ علاقائی معاملہ بن گیا اور اس پر مرکزی سطح کی بجائے ریاستی سطح پر کارروائی کی جاتی رہی۔
جنوبی ریاستوں میں پس ماندہ ذاتوں کی سیاسی تحریک کی ایک طویل تاریخ ہے، جو وہاں بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں شروع ہوگئی تھی۔ ان طاقت ور سماجی تحریکوں کے سبب وہاں دیگر پسماندہ طبقات کے مسائل پر توجہ دینے کی پالیسیاں زیادہ شمالی ریاستوں میں زیر بحث آنے سے پہلے اپنائی جانے لگی تھیں۔ دیگر پسماندہ طبقے کا مسلہ مرکزی سطح پر 1970کے دہے کے آخری سالوں میں اس وقت پھر سے اٹھ کھڑا ہوا جب ایمرجنسی کے بعد جنتا پارٹی نے حکومت سنبھالی۔ اس وقت بی۔پی منڈل کی سربراہی میں دیگر پس ماندہ طبقات کے لیے کمیشن مقرر کیاگیا۔ لیکن آگے چل کر جب 1990میں مرکزی حکومت نے سنٹرل کمیشن کی دس سال پرانی رپورٹ کو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا تبھی دیگر پس ماندہ طبقے کا مسئلہ قومی سیاست میں ایک اہم موضوع بن گیا۔
1990کے دہے سے ہمیں شمالی ہندوستان میں دیگر پس ماندہ طبقات اور دلتوں دونوں میں ہی نچلی جاتیوں کی تحریکوں میں پھر سے تیزی دکھائی دی۔ دیگر پس ماندہ طبقے کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے یہ امکان بڑھ گیا کہ ان کی بڑی بھاری تعداد کو سیاسی اثرات میں بدلا جاسکتا ہے۔ حال کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ قومی آبادی میں پس ماندہ طبقات کا فی صد حصہ41 فی صد ہے۔ قومی سطح پر ایسا پہلے ممکن نہیں تھا اس لیے کالیلکر کمیشن کی رپورٹ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا تھا اور منڈل کمیشن کی رپورٹ کو کافی عرصے تک نظر انداز کیاگیا تھا۔
اونچی سطح پر دیگر پس ماندہ طبقات سے (جو زیادہ تر زمیندار جاتیاں ہیں اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں وہاں کے دیہی سماج میں غالب حیثیت رکھتی ہیں) اور نچلی سطح کے دیگر پس ماندہ طبقات (جو بہت ہی غریب اور محرومیوں کے شکار لوگ ہیں اور اکثر سماجی ومعاشی لحاظ سے دلتوں سے بہت مختلف نہیں ہیں) کے درمیان پائے جانے والے زبردست فرق نے اس سیاسی زمرے کے مسائل سے نمٹنا بہت مشکل بنا دیا ہے۔ تاہم زمین کی ملکیت اور سیاسی نمائندگی کو چھوڑ کر (جہاں ان کے ایم ایل اے اور ایم پی کی تعداد کا فی بڑھی ہے)۔ باقی سبھی میدانوں میں دیگر پسماندہ طبقات کی نمائندگی کافی کم ہے۔ اگر چہ اعلا سطح پر واقع دیگر پس ماندہ طبقات دیہی علاقے میں اپنا غلبہ بنائے ہوئے ہیں۔ لیکن شہری دیگر پسماندہ طبقات کی حالت کافی خراب ہے یعنی ان کی حیثیت اونچی جاتیوں کی بجاے کافی حدتک درج فہرست ذاتوں اور قبائل جیسی ہے۔
آدی واسی جدو جہد
درج فہرست ذاتوں کی طرح ہی، درج فہرست قبائل کو بھی ہندوستانی آئین کے ذریعہ خاص طور پر غربت، اختیارات سے محروی اور سماجی کلنک کے شکار سماجی گروپ کے طور پر پہچانا گیا ہے جن میں قبائل کو جنگل کا ایسا باشندہ سمجھا گیا جن کے پہاڑی یا جنگلی علاقوں میں بسنے کی خصوصی صورت حال نے ان کی معاشی ، سماجی اور سیاسی صفات کو متعین کیا۔ لیکن ماحولیاتی علاحدگی کہیں بھی مطلق نہیں تھی یعنی وہ بالکل الگ الگ اور بے رابطہ نہیں تھے۔ قبائلی گروپوں کا ہندوسماج اور ثقافت سے طویل اور قریبی تعلق رہا ہے جس سے ’قبائل‘ اور ’ذات‘ کے درمیان کی حدیں کافی غیر محکم ہوگئی ہیں۔ (باب3میں قبیلے کے تصور پر بحث کو یا دکریں)

آدی واسیوں کے معاملے میں ، ان کی آبادی کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آنے جانے سے صورت حال اور بھی الجھ گئی ہے۔ آج مشرقی شمالی ریاستوں کو چھوڑ کر، ملک میں ایسا کوئی علاقہ نہیں ہے جہاں صرف قبائلی رہتے ہوں، صرف ایسے علاقے ہیں جہاں قبائلی لوگوں کا ارتکاز زیادہ ہے۔ یعنی ان کی آبادی گھنی ہے۔ انیسویں صدی کے وسط سے اب تک بہت سے غیر قبائلی لوگ وسطی ہندوستان کے قبائلی اضلاع میں جا بسے ہیں اور انھیں اضلاع کے قبائلی لوگ بھی روز گار کی تلاش میں باغانوں، کانوں، کا رخانوں اور روز گار کے دیگر مقامات پر ہجرت کرگئے ہیں۔
جن علاقوں میں قبائلی لوگوں کی آبادی گھنی ہے، وہاں عام طور پر ان کے معاشی اور سماجی حالات غیر قبائلی لوگوں کی بہ نسبت کہیں بدترہے۔ غربت اور استحصال کے جن حالات میں آدی واسی اپنی گذر بسر کرنے کے لیے مجبور ہیں، اس کی تاریخی وجہ یہ رہی ہے کہ نوآبادیاتی برطانوی حکومت نے تیزی سے جنگلوں کے وسائل کا استحصال شروع کردیا اور یہ سلسلہ آگے آزاد ہندوستان میں بھی جاری رہا۔ انیسویں صدی کے ما بعد دہوں سے لے کر آگے بھی نوآبادیاتی حکومت نے زیادہ جنگلاتی علاقے اپنے استعمال کے لیے محفوظ کرلیے اور آدی واسیوں کو وہاں کی پیداواراکٹھی کرنے اور کھیتی کے لیے ان کا استعمال کرنے کے حقوق سے محروم کردیا۔ پھر تو عمارتی لکڑی کی زیادہ پیداوار کرنے کے ہی لیے جنگلات کا تحفظ کیا جانے لگا۔ اس پالیسی کے سبب آدی واسیوں سے ان کے ذریعۂ معاش کی اہم بنیاد چھین لی گئی اور اس طرح ان کی زندگی پہلے کی بہ نسبت زیادہ غربت اور کمیوں کا شکار اور غیرمحفوظ بنا دی گئی۔ جن آدی واسیوں سے جنگلوں کی پیداوار اور زمین چھین لی گئی تب وہ یا تو جنگلوں کو نا جائز طور پر استعمال کرنے کو مجبور ہوگئے(جن کے لیے انھیں غاصب اور چور اچکے کہہ کر تنگ کیا جانے لگا اور سزا دی جانے لگی) یا مزدوری کی تلاش میں ہجرت کرگئے۔
1947میں ہندوستان کی آزادی کے بعد آدی واسیوں کی زندگی آسان ہوجانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جنگلوں پر حکومت کی اجارہ داری قائم رہی یہاں تک کہ جنگلوں کے استحصال (کٹائی وغیرہ) میں اور بھی تیزی آئی۔ دوسرے حکومتِ ہند کے ذریعے اپنائی گئی زیادہ پونجی والی صنعت کاری کی پالیسی کو اپنانے کے لیے معدنی وسائل اور بجلی کی پیداواری صلاحیت کی ضرورت تھی اور یہ صلاحتیں اور وسائل خاص طور پر آدی واسی علاقوںمیں مرکوز تھے۔ نئی کان کنی اور باندھ بنائے جانے کے پروجیکٹوں کے لیے فوری آدی واسی زمینوں کوحاصل کیاگیا۔ اس عمل میں لاکھوں آدی واسیوں کو کافی معاوضے یا تلافی اور مناسب باز آبادکاری کے بندو بست کیے بغیر ہٹا دیاگیا۔ قومی ترقی اور معاشی نمو کے نام پر اس عمل کو جائز قرار دیاگیا، اس طرح ان پالیسیوں کی تعمیل درحقیقت ایک طرح کی داخلی استعماریت ہی تھی جس کے تحت آدی واسیوں کو ماتحت کرکے،ان کے وسائل جن پر وہ منحصر تھے،چھین لیے گئے۔ مغربی ہندوستان میں نرمدا ندی پرسروور باندھ اور آندھر پردیش میں گوداوری ندی پر پولاورم باندھ بنانے کے پروجیکٹوں سے لاکھوں آدی واسی بے دخل ہو جائیں گے، جو انھیں پہلے سے زیادہ محرومیوں کا شکار بنا دے گا۔ یہ عمل لمبے عرصے سے چلتا رہا ہے اور1990کے دہے سے تو اور بھی زیادہ قوی ہوگیا ہے، جب سے حکومت ہند کے ذریعے معاشی نرم کاری کی پالیسیاں سرکاری طور پر اپنائی گئی ہیں۔ اب کارپوریٹ فرموں کے لیے آدی واسیوں کو بے دخل کر کے بڑے بڑے علاقوں کا تصرف زیادہ آسان ہوگیا ہے۔
’دلت‘ لفظ کی طرح آدی واسی لفظ بھی سیاسی بیداری اور حقوق کی لڑائی کی علامت بن گیا ہے۔ اس کے لفظی معنی ہیں، ’اصل باشندے‘ اور اس لفظ کو1930کے دہے میں نو آبادیاتی حکومت اور باہر سے آکر بسنے والے اور ساہوکاروں یعنی قرض دینے والوں کی دخل اندازی کے خلاف جدوجہد کے تحت وضع کیا گیاتھا۔آدی واسی ہونے کا مطلب آزادی حاصل کرنے کے وقت سے ترقیاتی پروجیکٹوں کے نام پر آدی واسیوں سے جنگلات کا چھن جانا، زمین کی ملکیت کی منتقلی، بار بار اجڑنا اور دیگر اور کئی دشورایوں کا مجموعی تجربہ ہے۔
ان کی زبردست دشواریوں اور ان کو حاشیے پر دھکیل دیے جانے کے باوجود بہت سے قبائلی گروپ باہری لوگوں (جنھیں ’دکو‘ کہا جاتا ہے) اور ریاست کے خلاف جدہ جہد کرتے رہے ہیں۔ آزادی کے بعد کے ہندوستان میں آدی واسی تحریکوں کی سب سے قابل ذکر حصول یابیوں میں سے ایک جھار کھنڈ اور چھتیس گڑھ کے لیے الگ ریاست کا درجہ حاصل کرناہے۔ یہ دونوں ریاستیں بنیادی طور پر علی التریب بہار اور مدھیہ پر دیش ریاستوں کا حصہ تھیں۔ اس لحاظ سے آدی واسی اور ان کی جدو جہد دلت جدو جہد سے مختلف ہے۔کیوں کہ دلتوں کے برخلاف آدی واسی ملحق علاقوں میں مرکوز تھے، اس لیے وہ اپنے لیے الگ ریاست کی مانگ کرسکے۔
باکس 5.5
ترقی کے نام پر آدی واسی گولیوں کے شکار ہوئے
نیا سال اڑیسہ کے لیے اموات کی خبر لے کر آیا۔ 2جنوری2006کو پولیس نے آدی واسیوں کے ایک گروپ پر گولیاں داغیں جس سے بارہ لوگ مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوگئے۔ پچھلے23دنوں سے آدی واسیوں نے کلنگ نگر شارع عام کو روک رکھا تھا۔ وہ ایک اسٹیل کمپنی کے ذریعہ ان کی زرعی زمینیں لے لیے جانے کی پر امن طریقے سے مخالفت کررہے تھے۔انھوں نے اپنی زمینوں سے دست بردار ہونے سے انکار کیا گویا انتظامیہ کے سانڈ کو سرخ کپڑادکھا کر طیش دلا دیا ہو۔اس وقت انتظامیہ پر ریاست میں صنعتی ترقی کو تیز کرنے کے لیے دباؤ تھا۔جو کھم بہت زیادہ اٹھالیا گیا تھا۔ زمین کا قطعہ ہی نہیں بلکہ تیز صنعت کا ری کی پوری پالیسی ہی خطرے میں پڑجائے گی اگر حکومت آدی واسیوں کی مانگ کے آگے جھک جائے گی۔ اسی لیے شارع عام کی رکاوٹ کو زبردستی دور کرنے کے لیے پولس فورس کو بلایا گیا۔اس کے بعد جو مڈبھیڑ ہوئی اس میں بارہ آدی واسی مرد وخواتین کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بہتوں کو تو پیٹھ میں گولیاں لگی تھیں، کیوں کہ وہ بھاگ کربچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب مرے ہوئے آدی واسیوںکی لاشیں ان کے خاندان والوں کو سونپی گئیں تو وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ پولیس نے ان کے ہاتھ، مردوں کے اعضا تناسل، عورتوں کے پستان کاٹ لیے تھے۔ لاشوں کو اس طرح مسخ کر دیا جانا اس تنبیہہ کی علامت تھی کہ ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
کلنگ نگر کا قتلِ عام اس سے پہلے اور بعد میں ہوئے ایسے ہی دہشت خیز واقعات کی طرح، تھوڑے وقت کے لیے اخباروں کی سرخیاں بنا رہا اور پھر عوام کی نظروں سے غائب ہوگیا۔ غریب آدی واسیوں کی زندگی اور موت تاریکی میں دبے پاؤں گزر گئی۔ لیکن ان کی جدو جہد آج بھی جاری ہے اور اسی کا ذکر کرکے ہم خود کونہ صرف تب سے چلی آرہی بے انصافی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت کو دوبارہ یا ددلاتے ہیں بلکہ ہم یہ سمجھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں کس طرح یہ تصادم آج ہندوستان کے ماحول اور ترقی کے میدان سے جڑے اہم امور کو بھی خول میں بند کردیتا ہے۔ ملک کے دیگر بہت سے آدی واسی اکثریتی علاقوں کی طرح، وسطی اڑیسہ کے جاج پور ضلع کا کلنگ نگر علاقہ بھی تناقض خصوصیات پیش کرتاہے۔ یہاں قدرتی وسائل کا تو ذخیرہ ہے لیکن اس کے بر خلاف یہاں کے باشندے خاص طور پر چھوٹے کسان اور مزدور افلاس اور غربت کی مار جھیل رہے ہیں۔ اس علاقے میں لو ہ کچدھات (معدنی لوہا) کا جو بھرپور ذخیرہ ہے وہ تو ریاست کی املاک ہے اور ان کی ترقی کا مطلب ہے کہ آدی واسی زمینوں کو ریاست کے ذریعے لازمی طور پر حقیرسے معاوضے پر قبضے میں لیا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ تھوڑے سے مقامی باشندوں کو صنعتی سیکٹر میں کوئی چھوٹی موٹی ملازمت ہاتھ لگ جائے لیکن زیادہ تر آدی واسی لوگ تو مزید غریب ہوجائیں گے اور انھیں اجرتی مزدور کی حیثیت سے فاقہ کشی کی کگار پر گزر بسر کرنی ہوگی۔ اندازہ لگایا گیاہے کہ تین کروڑ یعنی کناڈا کی کل آبادی سے بھی زیادہ لوگ1947 میں ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد سے اب تک اس زمین پر قبضے کی پالیسی کے نتیجے میں بے دخل ہوئے ہیں (فرنانڈیز 1991)۔ ان میں سے تقریباً 75فی صد لوگ جیسا کہ حکومت نے خود قبول کیاہے، اب بھی آباد کاری کا انتظار کر رہے ہیں۔زمین کے تصرف کا یہ عمل اس لیے جائز ٹھہرایا جاتا ہے کہ یہ مفاد عامہ میں ہے اور ریاست صنعتی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ذریعے معاشی نمو کو بڑھا وا دینے کی پابند ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قومی ترقی کے لیے ایسی نمو ضروری ہے۔
ان دلیلوں کے سا تھ ایک نیا جواز اور شامل کردیا گیاہے۔ 1990سے حکومت ہند نے معاشی نرم کاری کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس کے تحت ریاست کو فلاح وبہبود کے کاموں سے بری الذمہ کردیاگیا ہے اور نجی فرموں کو منضبط کرنے وا لے ادارہ جاتی ذرائع کو ختم کردیا گیا ہے۔ معاشی پالیسی کو زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمانے کے لیے پھر سے وضع کیا گیا ہے اور ہندوستانی اور غیر ملکی فرموں کو برآمد کے لیے، پیداورا میں پونجی کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے رعایت اور سبسڈی (مالی تعاون) دی گئی ہے۔ فولاد کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑھی ہوئی مانگ کے سبب کلنگ نگر کے لوہ کچدھات میں صنعت کاروں کی دلچسپی بڑھی ہے اور اسی وجہ سے کمپنیاں اس طرف راغب ہوتی تھیں۔ ایک کمپنی نے اسٹیل (فولاد) کے ایک نئے کارخانے کاکام شروع کرنے کے لیے اڑیسہ کی ریاستی حکومت سے زمین خریدی تھی اور وہ کارخانے کے مقام کو گھیرنے کے لیے ایک چار دیواری بنا رہی تھی۔ اس دیوار کی تعمیر کے سبب مخالفانہ ردعمل پھوٹ پڑا جس کے نتیجے میں کچھ آدی واسی مارے گئے تھے۔ ریاستی حکومت نے سالوں پہلے ان آدی واسیوں کو فی ایکڑ کچھ ہزار روپے ادا کر یہ زمین زبردستی حاصل کی تھی۔ چوں کہ آدی واسی انھیں ملے معمولی معاوضے کے سہارے اپنی روزی روٹی کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں مہیا کر پائے، اس لیے وہ اسی علاقے میں رہتے رہے اور اس زمین کو جو تتے رہے جس پر قانونی طور پر ان کا اب کوئی حق نہیں رہا تھا (انتظامیہ نے زمین حاصل کرنے کے بعد اس کا کوئی استعمال نہیں کیا تھا)۔ دسمبر2005میں جب زمین کو گھیرنا شروع کیاگیا تب آدی واسیوں کو اپنے ذریعۂ معاش کے ایک اکیلے ذریعہ سے سیدھے طور پر ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کی مایوسی غصے میں پھوٹ پڑی جب انھیں یہ پتہ چلا کہ ریاستی حکومت نے اسی زمین کو جس کے لیے آدی واسیوں یعنی اصل مالکوں کو جو تلافی رقم ادا کی گئی تھی اسٹیل فرم کو تقریباً دس گنا زیادہ روپے فی ایکڑ شرح سے فروخت کردیا گیا۔ آدی واسی سڑکوں پر اتر آئے۔ انھوں نے اس زمین کو چھوڑنے سے انکار کردیا جن پر ان کی بقا منحصر تھی۔
اڑیسہ میں آدی واسیوں کی جدوجہد اور اس کی پر تشدد جوابی کارروائی کی کہانی یہ ظاہر کرتی ہے کہ زمین اور قدرتی وسائل سے متعلق کشاکش ہندوستان کی ترقی کے چیلنج کی بنیاد رہے ہیں۔ اب کلنگ نگر کے ساتھ نرمدا،سنگرولی، ٹہری، ہیرا کڈ، کوئیل کارو، سورن ریکھا، ناگر ہول، پلاچی ماڈا اور دیگر بہت سے مقامات کے نام بھی ہندوستان کی ماحولیاتی کشاکش کے نقشے میں درج ہوگئے ہیں۔ دوسرے نقشوں کی طرح یہ نقشہ بھی گہری سماجی اور سیاسی تقسیم کا انعکاس کرتاہے جو کہ عصری ہندوستان کی ایک خصوصیت ہے۔
کلنگ نگر کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے فرنٹ لائین، جلد23،14تا27جنوری کے شمارے کو پڑھیں یا دی پیوپلس یونین فارسول لبرٹیز رپورٹ کو/2006/kalingnagar.htm http://www.pucl.org./Topics/dalit-tribal پر دیکھیں
5.3 مساوات اور حقوق برائے خواتین کے لیے جدوجہد
مردوں اور عورتوں کے درمیان حیاتیاتی اور جسمانی طور پر واضح فرق کے سبب اکثریہی سمجھا جاتا ہے کہ جنسی عدم مساوات فطری ہے۔ لیکن اس ظاہری صورت کے باوجود دانش وروں نے یہ بھی دکھا دیاہے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان غیر یکسانیت فطری نہیں بلکہ سماجی ہے۔ مثال کے لیے ایسی کوئی حیاتیاتی وجہ نہیں دکھائی دیتی جن سے یہ ظاہر ہوسکے کہ عوامی اقتدار کے عہدوں پر عورتیں اتنی کم تعداد میں کیوں پائی جاتی ہیں۔ اورنہ ہی فطری طور پر اس سوال کا واضح جواب ملتا ہے کہ زیاد ہ تر سماجوں میں عام طور پر عورتوں کو خاندانی جائیداد کا ایک چھوٹا حصہ کیوں ملتا ہے یا بالکل نہیں ملتا لیکن جن سماجوں کی شکل معمول یا عام انداز سے الگ ہٹ کرہے ان کی طرف سے اس عدم مساوات کے خلاف ایک مضبوط دلیل دی جاتی ہے کہ اگر عورتیں خاندان کی سربراہ بننے اور خاندانی جائیداد کو وراثت میں پانے کے لیے حیاتیاتی طور پر نا اہل تھیں تو پھر مادر نسبی خاندان (جیسے کیرل کے نائر ہوا کرتے تھے اور میگھا لیہ کے خاصیجو ابھی مادر نسبی ہیں) صدیوں تک کامیابی سے کیوں چلتے رہے؟ کئی افریقی سماجوں میں عورتیں کسانوں اور تاجروں کی شکل میں اپنا کام کیسے کرتی رہی ہیں؟ مختصراً مردوں اور عورتوں کے درمیان عدم مساوات یا غیر یکسانیت کی کوئی حیاتیاتی وجہ نہیں ہے۔ اس طرح جنس بھی ذات اور طبقے کی طرح سماجی عدم مساوات اور اخراج کی ایک شکل ہے لیکن اس کی اپنی امتیازی خصوصیات ہیں، اس سیکشن میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح جنسی عدم مساوات کو ہندوستانی سیاق وسباق میں عدم مساوات کے طور پر مانا جانے لگا اور اس شناخت کے نتیجے میں کس طرح کے ردعمل پیدا ہوئے۔
جدید ہندوستان میں عورتوں کی حیثیت پر سوال انیسویں صدی کے متوسط طبقے سے متعلق سماجی اصلاحی تحریکوں کے ایک جزو کے طور پر ابھرا۔ ان تحریکوں کی شکل سبھی علاقوں میں ایک جیسی نہیں تھی۔ انھیں اکثر متوسط طبقاتی اصلاحی تحریکوں کا نام اس لیے دیا جاتا تھا کہ ان مصلحین میں سے بہت سے لوگ ہندوستان کے نئے ابھرتے ہوئے مغربی تعلیم یافتہ متوسط طبقے سے متعلق تھے۔ وہ اکثر جدید مغربی جمہوری نصب العین کے ذریعے اور خود کے ماضی کے جمہوری روایتوں پر فخر محسوس کرتے ہوئے ان تحریکوں کے لیے راغب ہوتے تھے۔ کئی مصلحین نے تو عورتوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کرنے کے مقصد سے ان دونوں وسائل کا استعمال کیاتھا۔ ہم اس سلسلے میں یہاں کچھ مثال دے سکتے ہیں، جیسے بنگال میں راجہ رام موہن رائے نے ستی مخالف تحریک کی قیادت کی ، بامبے پریزیڈنسی میں وہاں کے اولین مصلح رانا ڈے نے بیواؤں کی دوبارہ شادی کے لیے تحریک چلائی۔ جیوتی بائی پھولے نے ایک ساتھ ذات اور جنس پر مبنی ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور سرسید احمد خاں نے مسلمانوں میں سماجی اصلاحات کی تحریک کی قیادت کی۔
سماج، مذہب اور عورتوں کی حالت یا حیثیت میں بہتری پیدا کرنے کے لیے راجہ رام موہن رائے کے ذریعے کی گئی کوششوں کو بنگال میں انیسویں صدی کے سماجی اصلاحات کا ابتدائی نقطہ کہا جاسکتاہے۔1828میں برہمو سماج کے قائم ہونے سے ایک دہے پہلے راجہ رام موہن رائے نے ’ستی‘ رسم کے خلاف تحریک چلائی۔ یہ پہلامعاملہ تھا جو عورتوں سے متعلق تھا جس پر عام لوگوں کی توجہ مبذول ہوئی تھی۔ راجہ رام موہن رائے کے نظریات میں مغربی استدلال اور ہندوستانی روایتوں کی خوب صورت آمیزش تھی۔ ان دونوں رجحانات کو استعماریت کے ردعمل کے وسیع سیاق وسباق میں دیکھا جاسکتاہے۔ راجہ رام موہن رائے نے اس طرح ستی کی رسم کی مخالفت انساں دوست اور فطری حقوق کے اصولوں اور ہندو شاستروں کی بنیادپر کی۔
ہندوؤں کی اونچی جاتیوں میں بیواؤں کے سا تھ اس وقت کیا جارہا قابل مذمت اور غیر منصفانہ برتاؤ ایک خاص مسئلہ تھا جسے سماجی مصلحین نے سامنے رکھا۔ راناڈے نے اس سلسلے میں بشپ جوسف بٹلر جیسے دانش وروں کی تحریر کا استعمال کیا، جن کی تخلیق اینیلاجی آف ریلیجن (Analogy of Religion) اور تھری سرمنس آن ہیومن نیچر (Three Sermons on Human Nature) کو 1860 کے دہے میں ممبئی یونیورسٹی کے اخلاقی فلسفے کے نصاب میں اہم مقام حاصل تھا۔ اسی عرصے میں، ایم۔جی۔راناڈے کے ذریعے تحریرکی گئی کتابوں The Texts of the Hindu Law on the Lawfulness of the Remarriage of widows Veidic Authorities for Widow Marriage میں بیوہ کی شادی کے لیے شاسترکی منظوری کی جامع تشریح کی گئی تھی۔
راناڈے اور راجہ رام موہن رائے تو انیسویں صدی کے ایسے سماجی مصلح تھے جو نام نہاد اونچی ذات اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن سماجی لحاظ سے اخراجی ذات سے بھی ایک سماجی مصلح پیدا ہوا، اس کا نام جیوتی با پھولے تھا اور انھوں نے ذات اور جنس دونوں طرح کے امتیاز کے خلاف اپنی آواز اٹھائی۔ انھوں نے ستیہ شودھک سماج قائم کیا اور اس کے ذریعہ سچ کی تلاش پر زور دیا۔عملی اصلاحِ معاشرہ کے لیے پھولے نے سب سے پہلے، روایتی برہمن تہذیب میں سب سے نیچے سمجھے جانے والی عورتوں اور اچھوتوں کے گروپوں کو مدد کا مستحق سمجھا (باب3دیکھیں)
سرگرمی 5.4
⇐ ملک کے جس حصے میں آپ رہتے ہیں وہاں کے کسی ایک سماجی مصلح کے بارے میں پتہ لگائیں۔ اس کے بارے میں معلومات جمع کریں۔
⇐ کسی ایک سماجی مصلح کی سوانح عمری پڑھیں
⇐ مصلحین نے جن خیالات کے لیے جدوجہد کی تھی، کیا وہ ہماری روز مرہ کی زندگی یا ہمارے آئینی شق میں آج بھی موجود ہیں۔
سرگرمی 5.5
⇐ ان کاموں کی فہرست بنائیے جن میں عورتیں مصروف ہیں۔
⇐ کیا آپ کسی ایسے تعلیمی میدان کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جہاں عورتوں پر پابندی ہے۔آج کل ہندوستان کی مسلح افواج میں عورتوں کے داخلے کے بارے میں بحث چل رہی ہے اس سے شاید اس موضوع پر کوئی روشنی پڑے۔
کچھ دیگر مصلحین کے معاملے میں بھی جدید مغربی نظریات اور مقدس مذہبی کتابوں دونوں کا سہارالینے کا رحجان دکھائی دیا۔ ان میں سے ایک سرسید احمد خاں تھے جنھوں نے مسلم سماج میں اصلاح کی کوشش کی۔ وہ چاہتے تھے کہ لڑکیوں کو تعلیم یافتہ تو کیاجائے لیکن گھر کی چار دیواروں کے اندر نہیں۔ آریہ سماج کے بانی دیا نند سرسوتی کی طرح انھوں نے بھی عورتوں کے تعلیم کی وکالت کی لیکن ان کا خیال تھا کہ ان کے لیے الگ قسم کا تعلیمی نصاب ہوجس کے تحت مذہبی اصولوں کی تعلیم دی جائے۔ گھرداری کے ہنر اور دست کاری اور بچوں کی پرورش کی تربیت دی جائے۔ یہ خیال آج بہت ہی دقیانوسی لگ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک بار عورتوں کے تعلیم جیسے حقوق کو قبول کرلیاگیا توپھر اس عمل نے ایسا دور شروع کیا جس میں آخر کار عورتوں کو بعض قسم کی تعلیم تک ہی محدود رکھنا نا ممکن ہوگیا۔
اکثریہ مان لیا جاتا ہے کہ عورتوں کے حقوق کے لیے اصلاح معاشرہ کی جدو جہد صرف مرد مصلحین کے ذریعے کی گئی تھی اور عورتوں کی مساوات کا نظریہ باہر سے آیا تھا۔یہ جاننے کے لیے کہ یہ دونوں خیالات غلط ہیں، باکس5.6اور5.7میں دیے گئے اقتباسات پڑھیں۔ یہ اقتباسات عورتوں کے ذریعے لکھی گئی دوکتابوں سے لیے گئے ہیں جن میں سے پہلی ’’استری پرش تلنا‘‘ 1882میں اور دوسری سلطاناز ڈریم (Sultana's Dream) 1905میں لکھی گئی تھی۔

’استری پرش تلنا‘ نام کی کتاب مہاراشٹر کی ایک خاتون خانہ تارابائی شنڈے کے ذریعے لکھی گئی تھی جس میں مردوں کے غلبہ والے سماج کے ذریعے اپنائے گئے دوہرے معیارات کی مخالفت کی گئی تھی۔ ایک جوان برہمن بیوہ کو عدالت کے ذریعے موت کی سزا دی گئی۔ بیوہ کا جرم تھا اس نے اپنے نوزائیدہ بچے کا قتل اس لیے کر دیا تھا کیوں کہ وہ اس کی ناجائز اولاد تھا، لیکن جس مرد کا وہ بچہ تھا اس کا پتہ لگانے یا اسے سزادینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ جب استری پرش تلنا کتاب شائع ہوئی تو سماج میں ایک تہلکہ مچ گیا تھا۔بیگم رقیہ سخاوت حسین کی پیدائش ایک امیربنگالی مسلم خاندان میں ہوئی تھی اور وہ اس معنی میں خوش نصیب تھیں کہ ان کے شوہر روشن خیال شوہر تھے اور انھوں نے سب سے پہلے اردو میں اور پھر بنگلہ اور انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیگم رقیہ کی حوصلہ افزائی کی۔بیگم رقیہ نے جب انگریزی میں اپنی صلاحیت کو پرکھنے کے لیے ’سلطاناز ڈریم‘ (سلطانہ کا خواب) لکھا تو اس سے پہلے ہی انھیں اردو اور بنگلہ کی مصنفہ کے طورپر کامیابی مل چکی تھی۔ ’سلطانازڈریم‘ نام کی یہ شان دار چھوٹی کہانی غالباً ہندوستان میں سائنسی کہانی لکھنے کا ایک ابتدائی نمونہ ہے اور دنیا بھر میں کہیں بھی کسی مصنفہ کے ذریعے تحریر کی گئی پہلی تخلیق کی ایک مثال ہے۔ اپنے خواب میں سلطانہ ایک جادوئی ملک کے سفر پر جاتی ہے۔ اس ملک میں مردوں کے کام عورتوں کے ذریعے اور عورتوں کے کام مردوں کے ذریعہ کیے جاتے ہیں۔ مرد گھر سے باہر نہیں جاتے اور پردہ رکھتے ہیں جب کہ عورتیں مصروف سائنس داں کے طور پر ایسے آلات کی ایجاد کے لیے باہمی مسابقت کر رہی ہوتی ہیں جن کی مدد سے بادلوں کو قا بو میں کرکے حسب مرضی بارش کروائی جاسکتی ہے اور ایسی مشینیں یعنی ’ہوائی کاریں‘ بنانے کے لیے کوشش کررہی ہیں جو آسمان میں اڑ سکیں۔
ابتدائی حقوق نسواں حامی تصورات کے ساتھ ساتھ ہمارے یہاں خواتین کی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد تھی جو بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں کل ہند اور مقامی سطح پر ابھری تھیں اور خواتین کا قوی تحریک میں حصہ لینا شروع ہوگیا۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ عورتوں کے حقوق قوم پرستانہ تصور کا حصہ تھے۔1931میں انڈین نیشنل کانگریس کے کراچی اجلاس میں ہندوستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے بارے میں ایک اعلانیہ جاری کیاگیا جس کے ذریعہ کانگریس نے عورتوں کو مساوی حقوق دینے کے لیے خود کو وقف کیا۔ یہ اعلانیہ درج ذیل تھا۔
باکس 5.6
استری پرش تلنا1882سے
…وہ عورتیں کون ہیں جو تم انھیں ایسے نام دیتے ہو؟ تم کس کی کوکھ سے پیدا ہوئے؟ کس نے نو مہینے تک اپنے پیٹ میں تمھارا جان لیوا بوجھ اٹھایا تھا؟ وہ کون ساسنت تھا جس نے تمھیں اس کی آنکھو ں کا نوربنایا تھا…تب کیسا محسوس کروگے اگر ’’تمھاری ماں کے بارے میں کہے ، اس بوڑھے آدمی کی ماں، تم جانتے ہو، وہ دوزخ کا دروازہ ہے یا تمھاری بہن، وہ ایسی ہے ویسی ہے، درحقیقت دھوکے وعیاری کی پٹاری ہے۔‘‘… کیا تم چپ چاپ بیٹھے بیٹھے یہ سب گندے جملے سن لوگے۔
جب تم تھوڑی سی پڑھائی کرلیتے ہو اور ترقی پاکر کسی نئے اونچے اہم عہدے پر پہنچ جاتے ہو تب پھر تمھیں اپنی پہلی بیوی کے لیے شرم آنے لگتی ہے، تم پر امیری کا نشہ چھانے لگتا ہے اور دل ہی دل میں سوچنے لگتے ہو، بیوی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا ہم انھیں ہر مہینے کچھ روپیے دے کرنوکر کی طرح کھانا پکانے یا گھر کی دیکھ بھال کرنے کے لیے گھر میں نہیں رکھتے؟ پھر توتم اسے نوکرانی کی طرح سمجھنے لگتے ہو جس کے لیے تم اسے رقم دیتے ہو… اگر تمھارے گھوڑوں میں سے کوئی ایک گھوڑا مرجائے تو اس کی جگہ دوسرا لانے میں تمھیں کوئی دیر نہیں لگے گی اور دوسری بیوی لانے میں بھی تو کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی…مسئلہ تو یہ ہے کہ یم راج کو بھی تو اتنی فرصت نہیں ملتی کہ وہ جلدی جلدی بیویوں کو لے جائیں نہیں تو ایک دن میں کئی بیویاں تو بدل ہی لیتے!
باکس 5.7
سلطاناز ڈریم (1905)سے
’’کہیے کیابات ہے، محترمہ‘‘ اس نے بہت پیار سے پوچھا۔
’’مجھے کچھ عجیب عجیب سالگ رہا ہے ‘‘ میں نے کچھ معذرت کے لہجے میں کہا۔
’’میں ایک پردہ نشیں خاتون ہوں، مجھے بغیرپردہ چلنے کی عادت نہیں ہے۔‘‘
’’آپ ڈریے نہیں، یہاں کوئی مرد نہیں آئے گا۔ یہ عورتوں کی سرزمین ہے۔یہ کسی طرح کے گناہ اورضرر سے پاک سرزمین ہے…‘‘
’’مجھے یہ جاننے کی زبردست خواہش پیدا ہوئی کہ آخر سبھی مرد چلے کہاں گئے۔ وہاں چلتے ہوئے میری سیکڑوں عورتوں سے ملاقات ہوئی، مرد ایک بھی نہیں ملا۔
’’مرد حضرات کہاں ہیں؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔
’’اپنی اپنی صحیح جگہ پر ہوں گے، جہاں ہونا چاہیے‘‘
’’ذرا یہ بھی بتانے کی زحمت کیجیے کے ان کی صحیح جگہ کون سی ہے‘‘
’’ارے ہاں، مجھ سے تو غلطی ہوگئی، آپ ہماری روایتوں اور رواجوں کو توجانتی ہی نہیں آپ پہلے کبھی یہاں نہیں آئیں۔‘‘
’’ہم اپنے مردوں کو اندرون خانہ بند رکھتے ہیں‘‘
’’جیسے کہ ہمیں زنانہ میں رکھا جاتا ہے‘‘
’’بالکل ٹھیک ویسے ہی‘‘
’’واہ ، یہ تو بڑا اچھا ہے‘‘ میرے منھ سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑا۔سارہ بہن بھی ہنس پڑی۔
1۔ سبھی شہری قانون کے سامنے مساوی ہیں خواہ ان کا مذہب، ذات، فرقہ یا جنس کوئی ہو۔
2۔ کسی بھی شہری کو اس کے مذہب، ذات، عقائد کے سبب سرکاری ملازمت، اقتدار یا باعزت عہدے پر فائز کیے جانے، یا کوئی بھی تجارت یا پیشہ اختیار کیے جانے کے سلسلے میں کوئی امتیاز نہیں کیاجائے گا۔
3۔ حق رائے دہی کی بنیاد ہمہ گیر بالغ حق رائے دہی ہوگی۔
4۔ عورتوں کو ووٹ ڈالنے، نمائندگی کرنے اور عوامی عہدوں پر فائز ہونے کا حق حاصل ہوگا۔ (منصوبہ بند معیشت میں خواتین کے کردار سے متعلق ذیلی کمپٹی کی رپورٹ (1947:37-38
آزادی حاصل کرنے کے دو دہے کہ بعد، 1970کے دہے میں عورتوں کے مسائل پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔ 19ویں صدی کی اصلاحی تحریکوں میںستی، بچے کی شادی جیسی روایتوں کے پس ماندہ پہلوؤں یا بیواؤں کے ساتھ خراب برتاؤ کو روکنے پر زیادہ زور دیا گیا تھا۔1970کے دہے میں جدید مسائل۔ پولیس حراست میں زنا بالجبر، جہیز کے لیے قتل، عوامی میڈیا میں عورتوں کی نمائندگی اور غیر مساوی ترقی کے صنفی تنائج پر خاص زور دیا گیا۔1980کے دہے میں اور اس کے بعد قانون میں اصلاح خاص مسلہ بنا خاص طور پر اس وقت جب یہ پایا گیا کہ عورتوں سے متعلق بہت سے قوانین کو19ویں صدی سے اب تک بغیر ترمیم کے جوں کا توں رکھا گیا ہے۔اب جب کہ ہم21ویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں۔ جنس پر مبنی نا انصافی کی نئی شکل ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے باب2میں گرے ہوئے صنفی تناسب (عورت و مرد تناسب) کے بارے میں غو ر کیا تھا۔ طفلی صنفی تناسب میں جو تیزی سے گراوٹ آرہی ہے اور لڑکیوں کے خلاف یقینی طور پر جو سماجی تعصب اپنایا جارہا ہے وہ صنفی عدم مساوات کے نئے چیلنج کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
عورتوں کے حقوق یا کسی دیگر امور کے سلسلے میںلائی گئی سماجی تبدیلی ہمیشہ کے لیے مستقل نہیں ہوتی، یہ جنگ تو بار بار لڑنی ہوگی اور آگے بھی جاری رکھنی ہوگی۔ دیگر سماجی امور کی طرح یہ جدوجہد طویل چلے گی۔ ہندوستان میں عورتوں کی تحریک کو بہت مشکل سے حاصل کیے گئے حقوق کی حفاظت کے لیے لڑنا ہوگا اور نئے ابھرتے مسائل کو بھی اٹھانا ہوگا۔
سرگرمی 5.6
⇐ کچھ خواتین کی تنظیموں کے نام دریافت کیجیے جو ملک میں قومی سطح پر اور آپ کے علاقے میں بھی ابھریں ۔
⇐ کسی ایسی خاتون کے بارے میں پتہ لگائیں جو کسی قبائلی یا کسانوں کی تحریک، ٹریڈیونین یا کسی بھی طرح کی آزادی کی تحریک کا حصہ رہی ہو۔
⇐ آپ کے علاقے میں لکھے گئے ناول، مختصر کہانی یا ڈرامے کا نام بتا ئیں جس میں تفریق کے خلاف عورتوں کی جدوجہد کی تصویر کشی کی گئی ہو۔
5.4 مختلف طور پر اہل لوگوں کی جدو جہد
مختلف طور پر اہل لوگ صرف اس لیے معذورنہیں ہوتے کہ وہ جسمانی یا ذہنی طور پر کمزور ہیں بلکہ اس لیے بھی معذور ہوتے ہیں کہ سماج کی تعمیر کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کرسکتے۔ دلت، آدی واسی یا عورتوں کے حقوق کے لیے ہورہی جدو جہد کا تو کافی پہلے اعتراف کیا جاچکا تھا لیکن مختلف طور پر اہل (معذور ) افراد کے حقوق کو ابھی حال ہی میں تسلیم کیاگیا ہے۔ تاہم سبھی تاریخی ادوار میں سبھی سماجوں میں ایسے لوگ ضرور رہے ہیں جنھیں مختلف طور پر اہل کہا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی پس منظر میں معذور لوگوں کے لیے عملی اقدام کے قائل اور صاحب علم لوگوں میں سے ایک انتیا گھئی کا کہنا ہے کہ معذور لوگوں کی اس نہ دکھائی دینے والی صورت کا موازنہ رالف ایلیسن (Ralph Ellison) کے ان ویزیبل مین (Invisible Man) سے کیا جاسکتا ہے۔ ایلیسن کا یہ ناول ریاست ہائے متحدہ امریکا میں رہنے والے افریقی امریکیوں کے خلاف نسل پرستی یا نسلی عصبیت کاکھلا مواخذہ ہے۔
’’میں ایک ان دیکھا شخص ہوں، سمجھے! صرف اس لیے کہ لوگ مجھے دیکھنا نہیں چاہتے۔ آپ سرکس کے تماشوں میں کبھی کبھی بغیر دھڑکاسر دیکھا کرتے ہیں، میری حالت بھی تقریباً ویسی ہی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے میں سخت مسنح شدہ شیشے کے آئینوں سے گھرا ہوں۔ جب لوگ میرے پاس آتے ہیں تو وہ میرے گردوپیش کو ہی دیکھتے ہیں، جو ان کے تخیل کے ذریعہ بنائی گئی شے ہے۔ درحقیقت وہ مجھے چھوڑ کر باقی سب کچھ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ ایلیسن(1952:3)
معذور(disabled)اصطلاح خاص طور پراہمیت رکھتی ہے کیوں کہ یہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ عام لوگ’ معذور‘ لفظ کا جو مفہوم لیتے ہیں اس پر سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے۔
پوری دنیا میں معذور (disabled)کا جو عام مطلب سمجھا جاتا ہے اس کی کچھ عام خصوصیات درج ذیل ہیں۔
⇐ معذوری کو ایک مخصوص حیاتیاتی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
⇐ جب کبھی کسی معذور فرد کے سامنے کوئی مسلہ کھڑا ہوتا ہے تو یہ مان لیا جاتا ہے کہ یہ مسائل اس کی کمزوری یا بگاڑ کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
⇐ معذور شخص کو ہمیشہ شکار شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
⇐ یہ مانا جاتا ہے کہ معذوری اس معذور شخص کے خود کے ادراک سے جڑی ہوئی ہے۔
⇐ معذوری کا بنیادی تصور یہ ظاہر کردیتا ہے کہ اس کی مدد کیے جانے کی ضرورت ہے۔
سرگرمی 5.7
اپنی کلاس کو کئی گروپوں میں تقسیم کرلیجیے ہر ایک گروپ عورتوں کے حقوق سے متعلق کوئی موضوع چن سکتا ہے جس کے بارے میں وہ اخبارات ، ریڈیو، ٹیلی ویژن کی خبروں یا دیگر وسائل سے معلومات جمع کریں اور اپنے نتائج کے بارے میں اپنے ہم جماعتوں سے مباحثہ کریں۔موضوعات یا امور کی کچھ مثالیں درج ذیل ہوسکتی ہیں۔
⇐ منتخب اداروں میں عورتوں کے لیے 33فی صد ریزرویشن
⇐ روز گار کا حق
⇐ اور بھی کئی دلچسپ موضوع ہوسکتے ہیں آپ اپنی مرضی سے کوئی بھی موضوع چن سکتے ہیں۔
ہندوستان میں معذور، اپاہج، لنگڑا، اندھا، اور بہرا جیسے جزو جملہ کومترادف طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اکثر کسی شخص کو بے عزت کرنے کے لیے اس پر ان لفظوں کی بوچھار کردی جاتی ہے۔ایک ایسی ثقافت میں جہاں جسمانی طورپر مکمل کی تلاش کی جاتی ہے۔مکمل جسم نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اس میں جسمانی عیب، نقص یا خرابی ہے۔ بے چارہ جیسی بولیوں سے تو مخاطب کرنے پر تو اس کی ستم زدہ کیفیت اور بھی نمایاں ہوجاتی ہے۔ ایسی سوچ کی بنیادی وجہ اس ثقافتی تصور میں واقع ہے جو معذور اور جسمانی عیب کو بدقسمتی کا نتیجہ مانتا ہے۔ قسمت کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور معذور کو اس کا شکار مانا جاتا ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ معذوری پرانے کرموں کا پھل ہے اور اس سے نجات نہیں پائی جاسکتی۔ اس طرح ہندوستان میں رائج اہم ثقافتی نظریات اور ساخت معذوری کو لازمی طور پر فرد کی خصوصیت مانتی ہے، جسے اس شخص کو سہنا ہی پڑتا ہے۔اساطیری کہانیوں میں معذور لوگوں کی جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ نہایت منفی انداز میں ہے۔
’’مختلف طو پر اہل‘‘ بنیادی لفظ ان میں سے کسی بھی مفروضے کو قبول نہیں کرتا۔ ذہنی طور پر چیلنج میں مبتلا(mentally challenged)دیکھنے سے معذور(visually impaired)اور جسمانی طور پر معذور جیسے الفاظ کا استعمال اب گھسے پٹے منفی مفہوم ظاہر کرنے والی اصطلاحات جیسے ذہنی معذور اپاہج یا لنگڑا لولا وغیرہ کی جگہ پر کیا جانے لگا ہے۔ معذور اپنی حیاتیاتی معذوری کے سبب معذور نہیں ہوتے بلکہ سماج ہی انھیں ایسا بناتا ہے۔
ہمیں تو ان عمارتوں نے’معذور‘ بنایا ہے جو ہمارے داخلے کے لیے نہیں وضع کی گئی ہیں اور اسی کے نتیجے میں ہم تعلیم، روز گار کے مواقع حاصل کرنے، سماجی زندگی وغیرہ کے سلسلے میں مزید زیادہ سے زیادہ معذور ہوتے جاتے ہیں۔ معذوری تو سماج کی ساخت یا نظریات میں مضمر ہے فرد کی جسمانی کیفیت میں نہیں (برسین ڈن1986:176)
معذوری کی سماجی ساخت کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ معذوری اور غربت کے درمیان بھی گہرا راشتہ ہوتا ہے۔ ناقص تغذیہ ، بار بار بچے کی پیدائش کے سبب کمزور ہوئیں مائیں، مامونیت کے سلسلے میں ناکافی پروگرام، بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ والے گھروں میں ہونے والے حادثات، یہ سب غریبوں میں معذوری کا باعث ہوتی ہیں۔ایسا عام سہولت یافتہ ماحول میں رہنے والے لوگوں کی نسبت زیادہ واقع ہوتا ہے۔ مزید برآں، معذوری فرد کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کے لیے علاحدگی اور معاشی دباؤ کو بڑھاتے ہوئے غریبی کی حالت پیدا کرنے میں اور بھی شدت پیدا کردیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معذور لوگ غریب ملکوں میں سب سے غریب ہوتے ہیں۔
سرگرمی 5.8
⇐ یہ پتہ لگائیں کہ مختلف روایتی یا دیو مالائی یا اساطیری کہانیوں میں معذور افراد کی کیسی تصویر کشی کی گئی ہے۔ آپ اسی طرح کے معذور کرداروں کی مثال ہندوستان میں یادنیا کے کسی حصے میں رائج کئی علاقائی لوک کہانیوں، اساطیری کہانیوں یا روایتی کہانیوں کے قصے اخذ کر سکتے ہیں۔
⇐ ان مقبول عام کہاوتوں یا اقوال کی ایک فہرست بنائیے جن میں معذور افراد کے تئیں منفی رویہ دکھایا گیا ہو۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالت کو بہتر بنانے کی کوشش خود معذوروں کی طرف سے ہی نہیں کی گئی، حکومت کو بھی اپنی طرف سے کاروائی کرنی پڑی جیسا کہ باکس5.8میں دکھایا گیاہے۔
مختلف طور پر اہل افراد کی کوششوں سے ابھی حال میں ہی معذوری کے بارے میں از سرنوغور کرنے کی ضرورت کے تئیں سماج میں کچھ بیداری آئی ہے۔ باکس5.9میں دی گئی اخبار کی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔
وسیع تعلیمی بحث میں معذوری کو مقبولیت نہیں ملی۔ یہ حقیقت تعلیمی نظام میں موجود تاریخی رواجوں سے ظاہر ہوتی ہے جو معذوری کے معاملے کو دو الگ الگ دھارائیں بنا کر نظرانداز کرتے آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک دھارا معذور طلبا کے لیے اور دوسری باقی سبھی طلبا کے لیے ۔
سرگرمی 5.9
کیا آپ نے اقبال فلم دیکھی ہے؟ اگر نہیں دیکھی ہے تو دیکھنے کی کوشش کریں۔ یہ ایک بہرے گونگے لڑکے کی مثالی کہانی ہے جس میں ہمت ہے، عزم ہے اور کرکٹ کے لیے جوش ہے اور آخر کار وہ ایک عمدہ گیند باز بن جاتا ہے۔ فلم میں نہ صرف اقبال کی جدو جہد کو جان دار طریقے سے دکھایا گیا ہے بلکہ’’مختلف طور پر اہل‘‘ لفظ کے کئی ممکنہ معنی کو ٹھوس شکل میں بھی پیش کیا گیاہے۔
باکس 5.8
شاستری بھون،
نئی دہلی
مورخہ: 15جون 2005
موضوع: معذور افراد کے لیے وضع قومی پالیسی کے سودے پر تجاویز وتبصرے طلب کرنا۔
1۔ مردم شماری 2001کے مطابق ہندوستان میں معذوری کے شکار افراد کی تعداد2.19کروڑہے جو ملک کی کل آبادی کے 2.13فی صد کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان میں ایسے سبھی افراد شامل ہیں جو دیکھنے، سننے بولنے، چلنے پھرنے اور ذہنی طور پر معذوری میں مبتلا ہیں۔ معذوروں میں 75فی صد لوگ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔
2۔ معذور افراد کی بہبود کے لیے جامع قانونی اور ادارہ جاتی ڈ ھانچے پہلے سے ہی تیارکیے جاچکے ہیں۔ معذور افراد (یکساں مواقع، حقوق کا تحفظ اور پوری شراکت) ایکٹ1995میں نافذ کیاگیا تھا۔
3۔ معذوری کے شکار افراد کی باز آباد کاری کے لیے حکومت ہند کی مختلف وزارت، ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ، سول سوسائٹی کے ممبران، معذوری کے شکار افراد کی تنظیموں اور معذور افراد کی بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر حکومتی تنظیموں سے کثیر حلقہ جاتی تعاونی رسائی کی امید کی جاتی ہے جس سے خدمات فراہم کرنے کے لیے کام میں بہتر اتحاد عمل حاصل کیا جاسکے۔
ڈائرکٹر، وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیار
کمرہ نمبر235، اے ونگ، شاستری بھون
نئی دہلی110001 ٹیلی فیکس011-23383853
اس باب میں ہم نے دیکھا کہ جنس، ذات ، قبیلہ اور معذوری جیسے ادارے کس طرح عدم مساوات اور اخراج پیدا کرتے ہیں اورانھیں مزید دوام بخشتے ہیں۔تا ہم وہ عدم مساوات کے خلاف جدوجہد کو بھی ابھارتے ہیں۔تاریخی طور پر سماجی علوم میں عدم مساوات کو سمجھنے کے لیے طبقہ، نسل اور حال قریب میںصنف کے موضوع کو کافی توجہ دی جاتی رہی ہے۔ایسا صرف بعد میں ہواکہ دیگر زمروں جیسے ذات اور قبیلے کی پیچیدگیوں پر بھی توجہ دی جانے لگی۔ ہندوستانی سیاق وسباق میں اب ذات، قبیلے اورصنف پر اتنی ہی توجہ حاصل ہو رہی ہے جتنی ملنی چاہیے۔ لیکن اور بھی کئی زمرے ہیں جن پر توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے جیسے وہ زمرے جنھیں مجموعی طور پر مذہب اور کچھ دیگر زمروں نے حاشیے پر ڈال دیاہے۔ مذہب اور ذات، صنف اور مذہب یا ذات اور خطے کے ذریعے توضیح کیے گئے گروپوں جیسی زیادہ پیچیدہ تشکیل کی طرف مستقبل قریب میں غالباً ہماری توجہ مبذول ہوگی جیسا کہ مثال کے کے لیے مسلم کمیونٹی کے بارے میں سچر کمیٹی کی رپورٹ میں دکھایا گیا ہے۔
باکس 5.9
’معذور ۔غیر دوستانہ‘ عدالتیں
ججوں کے عہدوں پر تقرری کے لیے معذور افراد پر غور نہیں کیا جاتا اسے اعلا عدلیہ کی ’اخراجی‘ پالیسی بتاتے ہوئے ایک سینئر قانون دان کا کہنا ہے کہ معذوروں کو اس طرح لگاتار نظرانداز کرکے، عدلیہ ایک قانونی احکام کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ ہائی کورٹ کی عمارت خود بھی معذوروں کے مطابق نہیں ہے حقیقی عدلیہ کمپلکس کے سبھی دروازے لمبی اونچی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہی آتے ہیں اور ان میں سے کسی میں ڈھلان نہیں ہے جس پر چل کر معذور اوپر پہنچ سکیں، یہاں تک کہ لفٹ یا ایلی ویٹر کی محدود آسانی حاصل کرنے کے لیے بھی کسی کو کئی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں۔
ایک وکیل نے بتایا کہ شہر سول کورٹ کی حالت تو اور بھی خراب ہے جہاں حادثے کے دعووں کے معاملوں کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے گواہی دینے کے لیے کئی معذور یا زخمی افراد آتے ہیں۔ آپ وہاں معذور، زخمی یا ضعیف لوگوں کو ان کے ساتھیوں کے ذریعے سیڑھیوں پر چڑھاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔
دی ہندو، بدھـ 2 اگست2006کی ایک رپورٹ
باکس 5.10
ایک ایسے ملک میں جہاں 5 تا 14 سال کی عمر گروپ کے آدھے بچے اسکول سے خارج ہوں وہاں معذوری کے شکار بچوں کے لیے جگہ کیسے ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر اس حالت میں جب کہ ان کے لیے تعلیم کا الگ بندوبست کرنے کی حمایت کی جارہی ہو؟ اور اگر کوئی قانون بنا کر ہر ایک معذور بچے کو تعلیم مہیا کرانے کی امید بھی کی جائے تو بھی گاؤں کے ماں باپ ؍سرپرست اس بندوبست کو اپنے معذور بچوں کے لیے خود مختاری حاصل کرنے میں مددگار نہیں سمجھیں گے۔ وہ تو شاید اس بات کو زیادہ پسند کریں گے کہ انھیں کنویں سے پانی لانے کا کوئی بہتر طریقہ اور ترقی یافتہ زرعی سہولتیں دستیاب کرائی جائیں۔ اسی طرح، کسی شہری گندی بستی میں رہنے والے ماں باپ یہ چاہتے ہیں کہ تعلیم کوکام یا روز گار کے وسیع مواقع سے جڑا ہونا چاہیے کیوں کہ ایسی تعلیم ان کے بچے کی بنیادی زندگی کے معیار میں بہتر ہی کرے گی۔
ماخذ انیتاگھئی ، 2002:93 "Disability in the Indian Context"
سرگرمی 5.10
⇐ درج بالا مثال کو پڑھیے اور مختلف طریقوں کے بارے میں غور کیجیے جن کے سبب معذوروں کے مسائل سماجی طور پر تشکیل پاتے ہیں۔
سوالات
1 سماجی عدم مساوات افراد کی عدم مساوات سے کس طرح مختلف ہے؟
2 سماجی طبقہ بندی کی کچھ خصوصیات بتائیے۔
3 آپ جانب داری اور دیگر قسم کی رائے عامہ یا عقائد میں کس طرح امتیاز کریں گے؟
4 سماجی اخراج کیا ہے؟
5 ذات اور معاشی عدم مساوات کے درمیان کیا رشتہ ہے؟
6 چھواچھوت کیا ہے؟
7 جاتی عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے اپنائی گئی کچھ پالیسیوں کا بیان کیجیے:
8 دیگر پس ماندہ طبقات(OBC)، دلتوں یا درج فہرست ذات سے کس طرح مختلف ہیں؟
9 آج آدی واسیوں سے متعلق بڑے سروکار کون سے ہیں؟
10 تحریک نسواںکے ذریعے اس کی تاریخ کے دوران کون کون سے مسائل اٹھائے گئے ہیں؟
11 ہم یہ کس معنی میں کہہ سکتے ہیں کہ’معذوری‘ جتنا جسمانی ہے اتنا سماجی بھی۔
حوالاجات
Bourdieu, Pierre. 1986. ‘The Forms of Capital’, in Richardson, John G. ed. Handbook of Theory and Research in the Sociology of Education. Greenwood Press. New York.
Brisenden, Simon. 1986. ‘Independent Living and the Medical Model of Disability’, in Disability, Handicap and Society. V.1, n.2, pp. 173-78.
Deshpande, Satish. 2003. Contemporary India: A Sociological View. Penguin Books. New Delhi.
Ellison, R. 1952. Invisible Man. Modern Library. New York.
Fernandes, Walter. 1991. ‘Power and Powerlessness: Development Projects and Displacement of Tribals’, in Social Action. 41:243-270.
Fuller. C.J. ed. 1996. Caste Today. Oxford University Press. New Delhi.
Ghai, Anita. 2002. ‘Disability in The Indian Context’, in Corker, Marian. and Shakespeare, Tom. ed. Disability/Postmodernity: Embodying Disability Theory. Continuum. London, pp. 88-100.
Ghai, Anita. 2002. ‘Marginalisation and Disability: experiences from the third world’, in Priestly, M. ed. Disability and the Life Course: Global Perspectives. Cambridge University Press. Cambridge.
Giddens, Anthony. 2001. Sociology. 4th edition, Polity Press. Cambridge.
Jeffery, Craig, Jeffery, Roger. and Jeffery, Patricia. 2005. ‘Broken Trajectories: Dalit Young Men and Formal Education’, in Chopra, Radhika. and Jeffery, Patricia. ed. Educational Regimes in Contemporary India. Sage Publications. New Delhi.
Karna, G.N. 2001. Disability Studies in India: Retrospect and Prospects. Gyan Publishing House. New Delhi.
Macionis, John J. 1991. Sociology. Prentice-Hall, Englewood Cliffs, New Jersey.
Mander, Harsh. 2001. Unheard Voices: Stories of Forgotten Lives. Penguin India.
New Delhi.
Shah, Ghanshyam. Mander, Harsh. Thorat, Sukhadeo. Deshpande, Satish. and Baviskar, Amita. 2006. Untouchability in Rural India. Sage Publications. New Delhi.
Sharma, Ursula. 1999. Caste (Concepts in the Social Sciences Series). Open University Press. Buckingham and Philadelphia.
Srinivas, M.N. ed. 1996. Caste: Its Modern Avatar. Viking Penguin. Delhi.
Zaidi, A.M. and Zaidi, S.G. 1984. ‘A fight to Finish’, in Annual Report of the Indian National Congress 1939-1940. Vol. 11,1936-1938; and 12, 1939-1946,