
باب 6
ثقافتی تنوع کے چیلنج
(The Challenges of Cultural Diversity)
جیسا کہ آپ نے باب3اور 4میں پڑھا ہے کہ خاندان سے لے کر بازار تک کے مختلف قسم کے سماجی ادارے لوگوں کو ایک ساتھ لاسکتے ہیں، ان میں مضبوط اجتماعی شناختیں قائم کرسکتے ہیں اور سماجی وابستگی یا جڑاؤ کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف جیسا کہ باب 4اور 5میں بتایا گیاہے کہ یہی ادارے عدم مساوات اور اخراجات کے ذرائع بھی ہوسکتے ہیں۔ اس باب میں آپ ثقافتی تنوع کے ساتھ جڑے ہوئے کچھ تناؤ اور دشواریوں کے بارے میں پڑھیں گے۔ ثقافتی تنوع کا صحیح صحیح مطلب کیاہے اور اسے چیلنج کے طور پر کیوں دیکھا جاتاہے؟
’تنوع‘ کی اصطلاح عدم مساوات کی نسبت فرق پر زیادہ اصرار کرتی ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک عظیم ثقافتی تنوع یا رنگا رنگی والا ملک ہے تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں کئی طرح کے سماجی گروپ اور کمیونٹیاں رہتی ہیں۔یہ کمیونٹیاں ثقافتی علامات جیسے زبان، مذہب، ملک نسل یاذات کے ذریعے بیان کی جاتی ہیں۔ جب یہ متنوع کمیونٹی بھی کسی بڑے وجود جیسے ایک ملک یا قوم کا حصہ ہو تب ان کے درمیان مقابلے یا تصادم کے سبب دشورایاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
اسی وجہ سے ثقافتی تنوع زبردست چیلنج پیش کرسکتے ہیں۔ دشواریاں اس حقیقت سے بھی پیدا ہوتی ہیں کہ ثقافتی شناختیں بہت مضبوط ہوتی ہیں ، وہ وفوراً جذبات کو بھڑکا سکتی ہیں اور اکثر بڑی تعداد میں لوگوں کو لام بند کرسکتی ہیں۔ کبھی کبھی ثقافتی امتیاز کے سا تھ ساتھ معاشی اور سماجی عدم مساوات بھی جڑجاتے ہیں تب صورت حال اور پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ایک کمیونٹی کے ذریعے برداشت کی جانے والی عدم مساوات یا نا انصافیوں کو دور کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات دوسری کمیونٹیوں میںان کے تئیں مخالفت کو بھڑکا سکتے ہیں۔حالت اس وقت اور بھی بگڑ جاتی ہے جب ندی کے پانی، روزگار کے مواقع یا حکومتی سرمایوں جیسے کمیاب وسائل کی تقسیم کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر آپ باقاعدگی سے اخبار پڑھتے ہیں یا ٹیلی ویـثرن پر خبریں دیکھتے سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں اکثر یہ افسردہ احساس پیدا ہوتا ہوگا کہ ہندوستان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ آپ کو کئی تقسیم کرنے والی قوتیں سرگرم طور پر اپنا کام کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جو ہمارے ملک کے اتحاد وسالمیت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر آمادہ ہیں جیسے فرقہ وارانہ فساد، علاقائی خود مختار ی کی مانگیں، ذات کی بنیاد پر ہونے والے جھگڑے۔ آپ یہ سوچ کر بھی پریشان ہو جاتے ہوں گے کہ ہماری آبادی کے بڑے حصے میں حب الوطنی کے جذبے کی کمی ہے اور وہ اپنے ملک کے بارے میں اتنا سوچتے نہیں دکھائی دیتے جتنی شدت سے آپ یا آپ کے ہم جماعت سوچتے ہیں۔ لیکن اگر آپ جدید ہندوستان کی تاریخ کی کسی کتاب یا فرقہ پرستی یا علاقائیت جیسے امور کا تجزیہ کرنے والی دیگر کتابوں( مثال کے لیے، براس 1974)کو پڑھیں تو آپ جان جائیں گے کہ یہ مسائل نئے نہیں ہیں۔ تقریباً سبھی تقسیم کاری مسائل جو آج ہیں وہ آزادی کے حصول کے وقت سے ہی یا اس سے بھی پہلے سے چلے آرہے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہندوستان ایک ملک وقوم کے طور پر زندہ رہاہے اور آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط قومی ریاست کی شکل میں موجود ہے۔
اب جب کہ آپ مزید مطالعہ کرنے جارہے ہیں، یہ یاد رکھیں کہ اس باب میں ایسے کئی مشکل مسائل کے بارے میں غور کیاگیا ہے جن کا جواب تلاش کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ لیکن کچھ جواب دیگرجوابوں کے مقابلے زیادہ اچھے ہیں اور ملک کے سچے شہری کے طور پر ہمارا بنیادی فرض ہے کہ ہم اپنے تاریخی اور سماجی سیاق وسباق کی حدوں کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکن طور پر ان مسائل کا حل نکالنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔ یہ بھی یا درکھیں کہ ہندوستان میں اگرچہ لوگوں اور ثقافتوں کے درمیان موجود رنگارنگی کئی طرح کے چیلنج پیش کرتی ہے پھر بھی ہندوستان کی صورتِ حال دیگر ملکوں کے مقابلے کل ملاکر کافی اچھی ہے۔ دوسری طرف ہماری کچھ خاص کمزوریاںبھی ہیں۔ ان میں کافی اصلاح کی جاسکتی ہے۔اس لیے مستقبل کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں بہت محنت کرنی ہوگی۔۔۔
6.1 ثقافتی کمیونٹیاں اور قومی مملکت
ہندوستان میں تنوع کے درپیش چیلنج پر بحث کرنے سے قبل ہمیں علاقیت، فرقہ واریت اور ذات کی بنا پر تفریق جیسے موضوعات کو دائرہ بحث میں لانے کی ضرورت ہے اس کے لیے ہمیں مرکز اور ریاستوں اور ثقافتی کمیونٹیوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنا ضروری ہے۔ لوگوں کے نزدیک ثقافتی شناخت جیسے ذات، مخصوص گروپ، علاقے یا مذہب کی بنیاد پر کمیونٹی سے وابستہ ہونا کیوں اہمیت رکھتا ہے؟ کیوں کسی کمیونٹی کے تئیں دھمکی، توہین یا نا انصافی کیے جانے پر لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑتا ہے؟ کیوں یہ غم و غصہ مرکز اور صوبے کے لیے مسائل کا سبب ہوتا ہے؟
کمیونٹی شناخت کی اہمیت
اس دنیا میں اپنے وجود کو سرگرم بنائے رکھنے کے لیے ہر ایک انسان کو ایک مستحکم شناخت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں کون ہوں؟ میں دوسروں سے الگ کیسے ہوں؟ دیگرلوگ مجھے کیسے جانتے اور سمجھتے ہیں؟ ہماری خواہشات اور مقصود کیا ہونا چاہیے؟اس طرح کے کئی سوالات ہماری زندگی میں بچپن سے لے کر آگے تک مسلسل واقع ہوتے رہتے ہیں۔ ہماری سماج کاری جس طریقے سے ہوئی یا ہمارے آس پاس کے خاندانوں میں یا ہماری کمیونٹی کے ذریعے سماج میں کس طرح رہنا سکھایا گیاہے اس کی وجہ سے ہم ان میں سے کئی سوالوں کے جواب دینے کے اہل ہوتے ہیں۔ (اپنی گیارھویں کلاس کی درسی کتابوں میں سماج کاری کے موضوع پر کی گئی بحث کو یاد کریں) سماج کاری کافی تفصیلی اور طویل ہوتی ہے جس میں کچھ خاص لوگوں (جو ہماری زندگی میں براہ راست طور پر شامل رہتے ہیں) جیسے ہمارے والدین ، فیملی، قرابت دار گروپ اور ہماری کمیونٹی کے ساتھ لگاتار مکالمہ، بات چیت اور کبھی کبھی جدو جہد بھی ہوتی رہتی ہے۔ہماری کمیونٹی ہمیں زبان(مادری زبان) اور ثقافتی قدر فراہم کرتی ہے جن کے ذریعے ہم دنیا کو سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری خود کی پہچان کو بھی سہارا دیتی ہے۔
کمیونٹی شناخت، پیدائش اور متعلق ہونے کے جذبے پر مبنی ہے، نہ کہ حاصل کی گئی اہلیتوں یا حصول یابی یا انجام دہی کی بنیاد پر ۔یہ ’ہم کیا ہیں‘اس کا اظہار ہے نہ کہ’ہم کیا بن گئے ہیں، اس کا کسی کمیونٹی میں جنم لینے کے لیے ہمیں کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی خاندان، کمیونٹی یا ملک میں پیدا ہونے پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔اس طرح کی شناختوں کو منسوب یامفوضہ کہا جاتاہے یعنی یہ پیدائش سے ہی متعین ہوتی ہیں اور متعلقہ افراد کی پسند یا ناپسند اس میں شامل نہیں ہوتی۔ سماجی زندگی کی یہ حقیقت ہے کہ لوگ ان کمیونٹیوں سے متعلق ہوکر نہایت محفوظ اور مطمئن محسوس کرتے ہیں جن میں ان کی رکنیت پوری طرح اتفاقی ہوتی ہے۔ہم اکثر ایسی کمیونٹی کے ساتھ اپنی پہچان مضبوطی کے ساتھ قائم کرلیتے ہیں۔ جس کا’استحقاق‘ حاصل کرنے کے لیے ہم نے کوئی کوشش نہیں کی، کوئی امتحان نہیں پاس کیا کسی بھی مہارت یا اہلیت کا مظاہرہ نہیں کیا…ڈاکٹر یاماہر تعمیرات کو امتحانات پاس کرنے ہوتے ہیں اور اپنی اہلیت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ کھیل کود میں ایک ٹیم کو ممبر شپ حاصل کرنے کے لیے مہارت کی ایک یقینی سطح اولین شرط ہے۔ لیکن ہمارے خاندانوں یا مذہبی یا علاقائی کمیونٹیوں کی ممبر شپ کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں ہوتی پھر بھی ہماری رکنیت مکمل ہوتی ہے۔ درحقیقت، زیادہ ترمفوضہ شناختیں اتنی پختہ ہوتی ہیں کہ انھیں ہلایا نہیں جاسکتا، بھلے ہی ہم انھیں قبول نہ کرنے کی کوشش کریں تب بھی دوسرے لوگ شاید انھیں علامتوں سے ہماری شناخت کرتے رہیں گے۔
غالباً اتفاقی، بغیر شرط کے اور تقریباً ناگزیر طریقے سے متعلق ہونے کے سبب ہم اکثر اپنی کمیونٹی شناخت سے جذباتی طور پر گہرائی سے جڑے ہوتے ہیں۔ کمیونٹی بندھنوں (خاندان قرابت داری، ذات، نسل، زبان، علاقہ، مذہب) کے بڑھتے ہوئے اہم ترین دائرے ہی ہماری دنیا کو معنی فراہم کرتے ہیں اور ہمیں ایک پہچان عطا کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ اسی لیے لوگ اکثر اس وقت جذباتی ہوکر یا کبھی پرتشدد طور پر اپنا ردعمل دکھاتے ہیں جب ان کی کمیونٹی شناخت کو کوئی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔
سرگرمی 6.1
ہماری شناخت کے احساس کو خاص شکل میں ڈھالنے والے کمیونٹی بندھنوں کے بڑھتے ہوئے دائروں کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے کے لیے آپ کھیل کے طور پر ایک چھوٹا سا سروے کرسکتے ہیں۔ اپنے ہم جماعتوں یا دوستوں کا انٹر ویو لیجیے۔ انٹرویو دینے والے ہر شخص کو ان دوسوالوں کے جواب دینے کے لیے چار مواقع دیجیے، میں کون ہوں؟ اور دوسرے لوگ میری پہچان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب ایک لفظ یا جزو جملہ میں ہونا چاہیے، ان میں کوئی نام شامل نہیں ہونا چا ہیے۔ (جیسے آپ کا اپنا نام یا آپ کے والدین یا سرپرست کانام یا آپ کی کلاس یا اسکول وغیرہ کا نام)۔ انٹرویو اکیلے آپ ہی لیں۔یعنی بعد میں انٹرویو دینے والے دیگر امیدوار وہاں موجود نہ ہوں اور وہ آپ کے سوالوں اور جوابوں کو نہ سن سکیں۔ ہر شخص کا انٹرویو ایک ہی بارلیا جاناچاہیے (یعنی الگ الگ لوگ ایک ہی شخص کا انٹرویو نہ لیں)۔آپ انٹرویودینے والے سے حاصل جوابوں کا ریکارڈ تیار کرلیں اور بعد میں ان کا تجزیہ کریں۔ کس طرح کی شناختوں کو اولیت دی گئی؟‘‘ سب سے زیادہ لوگوں نے اپنی پہلی پسند کیا بتائی؟ زیادہ ترآخری پسند کیا تھی؟ کیا جوابات کی کوئی مخصوص شکل تھی؟ میں کون ہوں‘‘ اور دوسرے میری شناخت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، ان دونوں سوالوں کے جوابوں میں کیا بہت زیادہ فرق تھا، تھوڑا یا بالکل فرق نہیں تھا؟
مفوضہ شناحتوں اور کمیونٹی کے احساس کی ایک دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ ہر ایک فرد کا ایک مادروطن ہوتاہے، ایک مادری زبان ہوتی ہے۔ اس کا ایک خاندان ہوتا ہے اور ایک عقیدہ بھی ہوتا ہے…ہوسکتا ہے کہ یہ بات ہر شخص پر پوری طرح لاگو نہ ہوتی ہولیکن عام طور پر ایسا ہوتا ہے اور ہم سب اپنی اپنی پہچانوں کے تیئں یکساں طور پر وابستہ اور وفادار ہوتے ہیں۔ ایک بار پھر یہ ممکن ہے کہ شاید ہمیں ایسے لوگ بھی ملیں جو اپنی پہچان کے کسی ایک یا دیگر پہلو کے لیے خاص طور پر وابستہ نہ ہوں۔ لیکن وابستگی کا امکان اکثر لوگوں میں پایا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کمیونٹیوں (خواہ ملک ، زبان، مذہب، ذات یا خطے کا موضوع ہو) کے درمیان پیدا ہونے والی کشاکش یا تنارعات کو نمٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تنازعہ کاہر ایک فریق مقابل کو دشمن مانتے ہوئے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس میں اپنے فریق کی خوبیوں اور مقابل فریق کی کمیوں کو بڑھا چڑھا کر کہنے کا رحجان ہوتا ہے۔اس لیے جب دو ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو ہر ایک ملک کے محب وطن لوگ مخالف ملک کو حملہ آور دشمن مانتے ہیں۔ ہر ایک فریق یہ یقین کرتا ہے کہ ہم سچے ہیں اور خدا ہمارے ساتھ ہے۔ برافروختہ لمحات میں دونوں ہی فریقوں کے لیے یہ دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ جیسا ہم ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے ہیں، دوسرے بھی تو ہمارے بارے میں ویسا ہی سوچ رہے ہیں۔
یہ ایک سماجی حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک یا گروپ اپنے شہریوں یا ممبروں کو جھوٹ، ناانصافی یا نا برابری کے لیے جدوجہد کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ ہر ایک ہمیشہ سچ، انصاف، مساوات… کے لیے لڑ رہا ہوتاہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہر ایک تصادم میں دونوں فریق صحیح ہوتے ہیں یاکوئی بھی صحیح یا غلط یا سچا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی تو دو نوں ہی فریق یکساں طور پر غلط یا صحیح ہوتے ہیں، اور کبھی تاریخ ایک فریق کو حملہ آور اور دوسرے کو اس کا شکار متعین کرتی ہے۔ لیکن ایسا تبھی ہوتا ہے جب کافی وقت نکل جاتا ہے اور کشاکشی کی گرمی دھیرے دھیرے ٹھنڈی پڑجاتی ہے۔ لیکن پہچان سے تعلق کشاکشی کی صورت حال میں سچائی پر باہمی اتفاق کا تصور قائم کرنا بہت مشکل ہوتاہے۔عام طور پر کسی فریق کو یہ قبول کرنے میں کہ وہ غلط تھا کئی کئی دہے بلکہ کبھی کبھی تو صدیاں لگ جاتی ہیں۔(دیکھیں باکس6.1)
باکس 6.1
جب ’فاتح‘ معذرت کرتے ہیں
یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ جب جنگ ہارنے والے فریق کو اپنے غلط کاموں کے لیے معافی مانگنے پر مجبور ہوناپڑتا ہے۔لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ فاتح اپنی غلطی کے لیے خود کو قصور وار مانتا ہو۔ حالاں کہ اس وقت دنیا میں ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ ایسے ملک یا کمیونٹی جو جیتنے والے فریق کے ساتھ تھیں یا آج بھی غالب حیثیت میں ہیں، یہ اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ پہلے سنگین نا انصافیوں کے لیے ذمہ دار رہ چکے ہیں اور وہ شکار کمیونٹیوں سے معافی مانگ رہے ہیں۔
آسٹریلیا میں، (جہاں کی آبادی کی اکثریت یوروپی نثراد گورے لوگوں کی ہے) آسٹریلیائی قوم کے ذریعے رسمی طور پر وہاں کے ان اصل باشندوں کی اولادوں سے جو جبری استعماریت کے شکار ہوئے تھے، معافی مانگنے کے مسئلے پر لمبی بحث ہوتی رہی ہے۔ آسٹریلیا میں زیادہ تر ریاستی حکومتوں نے درج ذیل جیسے کسی نہ کسی قرار داد کی شکل میں وہاں کے اصل باشندوں سے معذرت کی ہے ہم مختلف نثراد کے آسٹریلیا کے لوگ میل میلاپ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہم آسٹریلیائی آدی باسی اور ٹوریس اسٹریٹ کے جزائر کے بالی لوگوں کی منفرد حیثیت کو یہاں کے آبی و خشکی علاقوں کے اصل مالک اور متولی کی شکل میں اہمیت دیتے ہیں۔
ہم مانتے ہیں کہ اس سرزمین کو اور اس کے آبی حصے کو کسی معاہدے یااتفاق کے بغیر، نو آبادیوں کے طورپر بسادیا گیاتھا (…) ۔ ہمارے ملک میں اسی حقیقت کو قبول کرنے اور اس سے ہونے والے زخموں پر مرہم لگانے کی ہمت ہونی چاہیے تا کہ ہم اپنوں کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکیں۔ آگے بڑھـ سکیں۔پرانے زخموں کے بھرنے سے اس عمل میں ملک کا ایک حصہ معافی کا خواست گار ہوگا اور پرانی ناانصافیوں کے لیے سچے دل سے اپنے دکھ اور پر خلوص تاسف کا اظہار کرے گا اور دوسرا حصہ ان معافی ومعذورت کو قبول کرتے ہوئے پہلے حصے کو معاف کردے گا )…(۔ اور اس لیے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ناانصافیوں کو ختم کردیں گے، دشواریوں کو دورکریں گے اور اس حقیقت کا احترام کریں گے کہ ہمارے آدی باسیوں اور ٹوریس اسٹریٹ کے جزائر کے باشندوں کو ملک کی عام زندگی میں رہتے ہوئے خودارادیت کا حق ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکا میں قدیم امریکی کمیونٹی( جو اس ملک کے اصل باشندے تھے اور جنگ کے ذریعے باہر نکال دیے گئے تھے) اور سیاہ فام کمیونٹی (جو افریقہ سے غلاموں کے طور پر لائے گئے تھے) سے قومی سطح پر معافی کے بارے میں لمبے عرصے سے بحث چل رہی ہے۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی اتفاق رائے قائم نہیں ہوئی ہے۔ جاپان میں سرکاری پالیسی کے تحت ان ظلموں کے لیے معافی مانگنے کی ضرورت کو بہت پہلے مانا جاچکا ہے جو جاپان کے ذریعے کی گئی جنگ اور استعماریت کے وقت مشرقی ایشیا کے کئی خطوں اور ملکوں، خاص طور پر کوریا اور چین کے کچھ حصوں میں گئے تھے۔ اس سلسلے میں ابھی حال میں معافی کی بات وہاں کے وزیر اعظم جنی چیرو کوی جمی کے ذریعے 15اگست 2005کو دی گئی تقریر میں کہی گئی ہے۔
ماضی میں، جاپان نے اپنی نو آبادیاتی حکمرانی اور حملوں کے ذریعے کئی ملکوں خاص طور پر ایشیائی ملکوں کے لوگوں کو زبردست نقصان اور تکلیف پہنچائی ہے۔ سچے دل سے ان تاریخی حقیقتوں کو قبول کرتے ہوئے میں ایک بار پھر اپنی گہری پشیمانی کا اظہار کرتا ہوں اوردل سے معافی مانگتا ہوں اور ملک یا بیرونی ملک میں جنگ کے شکار ہوئے سبھی لوگوں کے تئیں اپنے تاسف کا اظہار کرتاہوں۔ میرا پختہ ارادہ ہے کہ میں اس خوفناک جنگ سے سیکھے سبق کو کبھی مٹنے نہیں دوں گا اور جنگ کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہتے ہوئے دنیا میں امن اور خوش حالی کے لیے اشتراک کروںگا۔ اسی طرح کی بحث جنوبی افریقہ میں بھی چلتی رہی ہے، جہاں گوری اقلیت اقتدار میں رہی اور مقامی سیاہ فام اکثریت پر وحشیانہ ظلم کرتی رہی۔
برطانیہ میں اس سلسلے میں عوامی طور پر بحث ہوتی رہی ہے کہ کیا ملک کی استعماریت اور غلامی کے رواج کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے اشتراک کے لیے معافی مانگی جائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غلامی کے رواج کے مسئلے پر مختلف شہروں میں بھی بحث ہوئی ہے۔ مثال کے لیے برسٹل کے بندرگاہی شہر میں اس بات پر بحث چھڑی کہ کیا وہاں کی سٹی کونسل کو ایسی قرارداد پاس کرنا چاہیے جس سے غلاموں کی تجارت میںہر مسئلہ کے ذریعے ادا کیے گئے کردار کے لیے معافی مانگی جائے۔
ماخذ:
http://en.wikipedia.org./wiki/Bringing-Them-Home-Apologies
http://www.kantei.go.jp/foreign/koizumispeech/2005/06/15 danisa_e.html
سرگرمی 6.2
باکس 6.1کو غور سے پڑھیں۔ اس طرح کے معافی ناموں کا کیا مقصد ہوتا ہے؟آخری کار جو اصل شکار اور حقیقی استحصال کرنے والے یا ظالم تھے وہ تو بہت پہلے ہی مرگئے تھے، اب نہ تو شکار ہوئے لوگوں کو معاوضہ دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تکلیف پہنچانے والوں کو سزا۔تو پھر یہ معافیاں کس وجہ سے کی جارہی ہیں یا ان پر بحث کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
کیا آپ کوئی اور مثال سوچ سکتے ہیں جہاں انجان عام لوگوں کو (یعنی ایسے لوگوں کو جو مشہور یا طاقت ور نہیں تھے) جو اب زندہ نہیں رہے عمومی طور پر یا دکیا جاتا ہے یااعزاز بخشا جاتا ہے؟ مثال کے لیے دہلی میں واقع انڈیا گیٹ جیسی یادگاروں سے کس مقصد کی تعمیل ہوتی ہے؟ (یہ یادگار کس کو وقف ہے؟ اگر آپ نہیں جانتے تو پتہ لگانے کی کوشش کیجیے)
باکس 6.1میں مذکور معافی کی استدعا کے بارے میں ہندوستانی پس منظر میں سوچیے۔ اگر آپ کو کسی ایسی معافی کی تجویز رکھنی ہوتو آپ کے خیال میں قوم کے طور پر ہمیں کن گروپوں یا کمیونٹیوں سے معافی مانگنی چاہیے؟
اس سوال پر کلاس میں بحث کرنے اور اتفاق رائے پر پہنچنے کی کوشش کریں۔معافی کے مختلف امیدوار گروپوں کے حق میں اور مخالفت میں کیاکیا دلیلیں دی جائیں؟
کیاکلاس میں ہوئی بحث کے بعد ایسی معافیوں کے بارے میں آپ کی رائے میں کوئی تبدیلی پیدا ہوتی ہے؟
کمیونٹیاں، اقوام اورقومی مملکتیں
آسان لفظوں میں کہا جائے تو قوم ایک طرح سے بڑی سطح کی کمیونٹی ہوتی ہے۔بلکہ کمیونٹیوں سے مل کر بنی ایک کمیونٹی ہے۔قوم کے ممبر ایک ہی سیاسی اجتماعیت کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ قومی اتحاد کی یہ خواہش عام طور پر خود کو ایک مملکت کی آرزو کی شکل میں ظاہر کرتی ہے۔ اپنے نہایت عام مفہوم میں اصطلاح مملکت کا مطلب ایک ایسے تجریدی وجود کا ہونا ہے جو سیاسی وقانونی اداروں کے مجموعے پر مشتمل ہوتاہے اور وہ ایک خاص جغرافیائی علاقے پر اور اس میں رہنے والے لوگوں پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے۔ میکس ویبر کی ایک معر وف تعریف کے مطابق مملکت ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو ایک مخصوص علاقے میں قانونی قوت کی اجارہ داری کا کامیابی کے ساتھ دعویٰ کرتا ہے (ویبر 1970-78)۔
قوم ایک مخصوص قسم کی کمیونٹی ہوتی ہے جس کا بیان تو آسان ہے لیکن اس کی تشریح کرنا مشکل ہے۔ ہم ایسے متعدد مخصوص اقدام کے بارے میں جانتے اور بیان کرسکتے ہیں جن کو مشترکہ مذہب، زبان، نسل، تاریخی یا علاقائی ثقافت جیسے مشترکہ ثقافتی، تاریخی اور سیاسی اداروں کی بنیاد پر قائم کیا گیاہے۔ لیکن کسی تعریفی وصف کو متعین کرنا یا ان خصوصیات کا پتہ لگانا مشکل ہے جو ایک قوم میں ہونی چاہیے۔ہر ایک ممکنہ کسوٹی کے لیے کئی استشنااور متضاد مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے لیے ایسی بہت سی قومیں ہیں جن کی اپنی ایک مشترکہ زبان، مذہب، نسل وغیرہ نہیں ہیں۔دوسری طرف ایسی متعدد زبانیں، مذاہب یا نسلیں ہیں جو کئی اقوام میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا یہ سبھی مل کر ایک متحدہ قوم کی تشکیل کرتی ہیں مثال کے لیے سبھی انگریزی بولنے والے یا سبھی بودھ مذہب کے ماننے والے۔
تب ہم ایک قوم اور دیگر قسم کی کمیونٹیوں جیسے نسلی گروپ(جو مشترکہ زبان یا ثقافت کے علاوہ ایک مشترکہ نسب پر مبنی ہو)، مذہبی کمیونٹی یا علاقائی بنیاد پر معین کمیونٹی وغیرہ کے درمیان امتیاز کیسے کرسکتے ہیں؟تصوراتی طور پر تو کوئی پختہ امتیاز نہیں دکھائی دیتا دیگر قسم کی کوئی بھی کمیونٹی ایک نہ ایک دن قوم بن سکتی ہے۔ بطور متبادل کسی بھی مخصوص طرح کی کمیونٹی کے لیے یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وہ قوم کی شکل اختیار کرلے گی۔
سرگرمی 6.3
کیا یہ واقعی سچ ہے کہ ایسی کوئی خاصیت نہیں ہے جو ہر ایک قوم میں عام طور پر پائی جاتی ہے، کلاس میں بحث کیجیے۔ ان ممکنہ کسوٹیوں یا خصوصیات کی فہرست بنائیے جو ایک قوم کی تعریف کرسکتی ہے۔ایسی ہر ایک کسوٹی یا معیار کے لیے ایسی اقوام کی مثالوں کی ایک فہرست بنائیں جو اس کسوٹی پر پورے اترتے ہوں اور ساتھ ہی ان قوموں کی بھی فہرست بنائیں جو اس کسوٹی کی خلاف ورزی کرتی ہوں۔ مان لیجیے کہ آپ نے یہ کسوٹی طے کی ہے کہ ہر ایک قوم کے پاس باقاعدہ جغرافیائی علاقے کی شکل میں برقرار ایک خطّہ ہونا ہی چاہیے، تو پھر اس کسوٹی کی بنیاد پر درج ذیل معاملوں پر غور کریں۔ ہر ایک ملک یا خطے کو دنیا کے نقشے پر تلاش کریں، آپ کو ہر ایک معاملے میں سب سے پہلے کچھ تحقیق کی ضرورت ہوگی۔
⇐ الاسکا اور ریاست ہائے متحدہ امریکا
⇐ 1971سے پہلے کا پاکستان (مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان)
⇐ آسٹریا اور جرمنی
⇐ اکیویڈار،کولمبیا، ونیزویلا
⇐ یمن، سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارت
[اشارہ: پہلے تین معاملے ایک ہی قوم کے جغرافیائی لحاظ سے دور دراز کے علاقوں کی مثالیں ہیں؟ آخری تین معاملے ایسے ملکوں کی مثالیں ہیں جن کی عمل داری ساتھ ساتھ ملحق ہے، ان کی ایک مشترکہ زبان اور ثقافت ہے پھر بھی وہ الگ الگ قومی ریاستیں ہیں]
کیا آپ ان مثالوں کی فہرست میں کچھ نام جوڑ سکتے ہیں؟
قوم کا فرق ظاہر کرنے والی سب سے نزدیکی کسوٹی ریاست ہے۔قومی مملکت پہلے تبائی گئی دیگر طرح کی کمیونٹیوں کے برخلاف قوم ایک ایسی کمیونٹی ہوتی ہے جن کی اپنی مملکت ہوتی ہے۔ اس لیے یہ دونوںقومی مملکت (Nation-State) اصطلاح کی شکل میں نشان الحاق سے جڑا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حال کے وقت میں قوم اورمملکت کے درمیان ایک۔ایک کا تعلق ہے۔ (ایک قوم ، ایک مملکت، ایک مملکت، ایک قوم) لیکن یہ ایک نئی پیش رفت ہے۔ پہلے یہ بات صحیح نہیں تھی کہ ایک اکیلی ریاست صرف ایک ہی قوم کی نمائندگی کرسکتی تھی یعنی ایک ہی قوم کی نمائندہ تھی یا ہر ایک قوم کی اپنی الگ مملکت ہونی ضروری تھی۔ مثال کے لیے سویت یونین نے اپنے وجود کے وقت یہ واضح طور پر تسلیم کر رکھا تھا کہ جن لوگوں پر اس کی حکمرانی تھی وہ مختلف قوموں کے تھے اور اس نے ایک سوسے بھی زیادہ قومیتوں کو تسلیم کیا تھا۔ اسی طرح ایک قوم کی تشکیل کرنے والے لوگ ہوسکتا ہے کہ مختلف مملکتوںکے شہری یا باشندے ہوں۔ مثال کے لیے جمائیکا میں جمائیکا سے باہر رہنے والوں کی تعداد جمائیکا کے اندر رہنے والے جمائیکیوں سے زیادہ ہے۔ یعنی غیر مقامی (Non-resident) جمائیکیوں کی تعداد ’مقامی‘ جمائیکیوں کی آبادی سے زیادہ ہے۔ دوہری شہریت سے متعلق قانون ایک الگ مثال پیش کرتا ہے۔یہ قانون خاص طور پر کسی مملکت کے شہریوں کو ایک ہی وقت میں ایک دوسری مملکت کا شہری بننے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی طرح، مثال کے لیے یہودی امریکی بیک وقت اسرائیل اور ریاست ہائے متحدہ امریکا دونوں کے شہری ہوسکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان دونوں میں سے کسی بھی ملک کی مسلح افواج میں دوسرے ملک کی شہریت سے محروم ہوئے بغیر خدمت انجام دے سکتے ہیں۔

مختصراً آج کسی قوم کی تعریف کرنا بہت مشکل ہے اور اس سلسلے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ قوم ایک ایسی کمیونٹی ہوتی ہے جو اپنی مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس کی مخالف بات بھی زیادہ سے زیادہ سچ ہو گئی ہے۔ جس طرح آج مستقبل کی یا آرزو مند انہ قومیں اپنی مملکت کی تشکیل کے لیے زیادہ سے زیادہ کو شاں ہیں، ویسے ہی موجودہ مملکتیں یہ دعویٰ کرنا زیادہ ضروری سمجھتی ہیں کہ وہ ایک قوم کی نمائندگی کرتی ہیں۔ جدید دور (آپ کلاس گیارھوں کی درسی کتاب سماج کی فہم کے باب4میں جدیدیت پر کی گئی بحث کو یاد کریں ) کی ایک امتیازی خصوصیت ہے سیاسی جواز کے اہم وسائل کے طور پر جمہوریت اور قوم پرستی کاقیام۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج ایک مملکت کے لیے’قوم‘ زیادہ قبول کی گئی یا جائز ـضرورت ہے جب کہ عوام قوم کے جواز کا حتمی وسیلہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، ریاستوں کو قوم کی اتنی یا اس سے بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ قوموں کو ریاست کی۔
لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے کے پیراگرافوں میں دیکھا ہے کہ ایک قومی مملکت اور کمیونٹی ان مختلف شکلوں کے درمیان، جن پر قومی ریاست مبنی ہے، تاریخی لحاظ سے کوئی یقینی اور منطقی لازمی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سوال کا جواب پہلے سے متعین نہیں کیا جاسکتا: قومی مملکت کے ’مملکت‘ حصے کو ان مختلف قسم کی کمیونٹیوں کے ساتھ کیسے برتاؤ کرنا چاہے جو ’قوم‘ حصہ کی تشکیل کرتی ہیں؟ جیسا کہ باکس 6.2میں دکھایا گیا ہے(اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام(UNDP)ثقافت اور جمہوریت کے موضوع پر 2004کی رپورٹ پر مبنی) زیادہ تر ریاستیں عام طور پر ثقافتی تنوع کے تئیں شک میں مبتلا رہی ہیں اور انھوں نے اسے کم کرنے یادور کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم کئی کامیاب مثالیں ہیں جن میں ہندوستان بھی ایک ہے جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مختلف قسم کی کمیونٹیوں کی شناخت کو ایک معیاری قسم میں یک جنسی یا یک رنگ کیے بغیر بھی ایک مضبوط قومی مملکت کا ہونا پوری طرح ممکن ہے۔
باکس 6.2
کمیونٹی شناختوں کے ڈر سے ریاستوں کے ذریعے ثقافتی تنوع مٹانے کی کوشش
تاریخی طور پر ریاستوں نے قوم کی تعمیر کی حکمت عملیوں کے ذریعے اپنے سیاسی جواز کو قائم کرنے اور اسے مزید بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے انجذاب یا یک جہتی کی پالیسیوں کے ذریعے اپنے شہریوں کی وفاداری اور اطاعت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان مقاصد کو حاصل کرنا خاص طور پر ثقافتی تنوع کے سیاق وسباق میں آسان نہیں تھا کیوں کہ ایسے حالات میں شہری اپنے ملک کے ساتھ شناخت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے نسلی، مذہبی، لسانی یا دیگرکسی کمیونٹی کے ساتھ بھی ایک گہرا احساس رکھتے ہیں۔
اکثرریاستوں کو یہ ڈر تھا کہ اس طرح کے فرق کو تسلیم کیے جانے سے سماجی شکستگی کی صورت پیدا ہوجائے گی اور متجانس سماج کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ مختصراً، اس طرح کی شناخت سے متعلق سیاست، ریاست کے اتحاد کے لیے خطرہ سمجھی گئی۔ اس کے علاوہ اس طرح کے فرق کا تطابق کرنا سیاسی لحاظ سے چیلنج سے بھرپور ہوتا ہے، اس لیے کئی ریاستوں نے ان مختلف یا متنوع شناختوں کو سیاسی سطح پر دبایا یا نظر انداز کیا۔
انجذاب کی پالیسیاں جس کے تحت اکثر نسلی، مذہبی یا لسانی گروپوں کی شناخت بالکل دبادی جاتی ہے، گروپوں کے درمیان پائے جانے والے ثقافتی تنوع کومٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ادغامی پالیسیاں صرف ایک اکیلی قومی پہچان بنائے رکھنا چاہتی ہیں جس کے لیے وہ عوامی اور سیاسی میدان میں نسلی قومی اور ثقافتی تنوع کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن نجی شعبوں میں انھیں بنائے رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ ان دونوں طرح کی پالیسی کا مجموعہ ایک اکیلی قومی شناخت کو اپناتا ہے۔
انجذاب اور ادغام کی حکمت عملیاں مختلف مدا خلتوں کے ذریعے واحد قومی شناختوں کو قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں جیسے:
⇐ سبھی قوتوں کو ایسے فورم میں مرکوز کرنا جہاں با اثر گروپ اکثریت میں ہوں اور مقامی یا اقلیتی گروپوں کی خود مختاری کو مٹانا
⇐ با اثر یا غالب گروپ کی روایتوں پر مبنی ایک متحدہ قانون اور عدلیہ کے نظام کو تھوپنا اور دیگر گروپوں کے ذریعے استعمال کیے جانے والے متبادل نظام کو ختم کردینا
⇐ غالب گروپ کی زبان کو ہی اکیلی سرکاری، قومی زبان کے طور پر اپنانا اور اس کے استعمال کو سبھی عوامی یا سرکاری اداروں میں لازمی بنا دینا۔
⇐ غالب گروپ کی زبان اور ثقافت کو قومی اداروں کے ذریعے جن میں ریاستی کنٹرول کے میڈیا اور تعلیمی ادارے شامل ہیں، حوصلہ افزائی کرنا
⇐ غالب گروپ کی تاریخ، سور ماؤں اور ثقافت کو فوقیت عطا کرنے والی ریاستی علامتوں کو اپنانے، قومی تیوہاروں، چھٹی یا سڑکوں وغیرہ کے نام متعین کرتے وقت بھی انھیں باتوں کا خیال رکھنا۔
⇐ اقلیتی گروپوں اور مقامی لوگوں سے زمینیں، جنگل اور ماہی گیری کے علاقے چھین کر انھیں قومی وسائل قرار دینا۔
ماخذ: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(UNDP)کی انسانی ترقیاتی رپورٹ 2004باب3فیچر3.1سے لیاگیا
باکس6.2میں ’انجذابی‘ اور ادغامی یا وحدت بنانے کی پالیسیوں کا ذکر کیاگیا ہے۔انجذاب کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں کا مقصد سبھی شہریوں کو یکساں ثقافتی قدروں کے پیمانے کو اپنانے کے لیے راضی کرنا، ترغیب دینا یا مجبور کرنا ہے۔ یہ قدر اور معیار عام طور پر پوری طرح سے یا زیادہ بااثر سماجی گروپ کے ہوتے ہیں۔ سماج میں دیگر غیر موثر یا ماتحت بنائے گئے گروپوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ثقافتی قدروں کو چھوڑ دیں اور مجوزہ قدروں کو اپنالیں۔ ادغام کو بڑھاوا دینے والی پالیسیاں طرز میں مختلف ہوتی ہیں لیکن ان کا مجموعی مقصد مختلف نہیں ہوتا، وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عوامی ثقافت کو عام قومی طرز تک ہی محدود رکھا جائے، جب کہ سبھی غیر قومی ثقافتوں کو نجی حلقے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔اس معاملے میں بھی بااثر یا غالب گروپوں کی ثقافت کو قومی ثقافت مانے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔
اب تک آپ غالباً یہ جان گئے ہوں گے کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ کمیونٹی کی کسی مخصوص شکل اور ریاست کی جدید شکل کے درمیان کوئی تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمیونٹی کی شناخت کی بہت سی بنیادوں(جیسے زبان، مذہب، نسل وغیرہ) میں سے کوئی ایک بنیاد قوم کوشکل فراہم کرسکتی ہے یا نہیں بھی کرسکتی ہے، اس بات کی کوئی ـضمانت نہیں ہے۔ لیکن چوں کہ کمیونٹی شناختیں قوم کی تعمیر کی بنیادکے طور پر کام کرسکتی ہیں اس لیے پہلے سے موجود ریاست سبھی طرح کی کمیونٹی شناختوں کو خطرناک حریف کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ریاست عام طور پر کسی ایک متجانس قومی شناخت کی طرف داری اس لیے کرتی ہیں کہ وہ اس کا کنٹرول اور انتظام کر سکیں گے لیکن ثقافتی تنوع کو دبانا بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ اس سے ان اقلیتوں اور ماتحت کمیونٹیوں میں بے گانگی پیدا ہو جاتی ہے جن کی ثقافت کو غیر قومی مان لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی استحصالی عمل کمیونٹی شناخت کو اور گہرا بنانے کا مخالف اثر پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ثقافتی تنوع کی حوصلہ افزائی کرنا یا کم سے کم اسے بنائے رکھنا عملی اور نظریاتی اعتبار سے اچھی پالیسی ہے۔
ثقافتی تنوع اور ہندوستانی قومی ریاست کا ایک عمومی جائزہ
ہندوستانی قومی ریاست سماجی وثقافتی لحاظ سے دنیا کی سب سے زیادہ متنوع خصوصیت والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ہندوستان کی سال 2011کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی تقریباً 121کروڑ (عارضی)ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں اس کا مقام دوسرا ہے اور جلدہی یہ پہلا مقام حاصل کرنے والاہے۔یہاں کے ایک ارب سے زیادہ لوگ کل ملا کر تقریباً 1,632الگ الگ زبانیں اور بولیاں بولتے ہیں۔ ان زبانوں میں سے اٹھارہ زبانوں کو سرکاری طور پر تسلیم کرکے انھیں آئین کے آٹھویں شیڈول میں جگہ دی گئی ہے، اس طرح قانونی حیثیت کی ضمانت دی گئی ہے۔ جہاں تک مذہب کا سوال ہے، یہاں کی 80.5 فی صد آبادی ہندوؤں کی ہے جو خود بھی علاقائی طور پر طرح طرح کے عقائد اور برتاؤ اور جاتیوں اور زبانوں کے لحاظ سے منقسم ہے۔ تقریباً 13.4فی صدآبادی مسلمانوں کی ہے جس سے ہندوستان دنیا میں انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا ہے۔ دیگر اہم مذہبی کمیونٹی میں عیسائی 2.3%)،سکھ(1.9%)، بودھ(0.8%)اور جین(0.4%)شامل ہیں۔ہندوستان کی اتنی بڑی آبادی کے سبب یہ چھوٹے چھوٹے فی صد حصے بھی مل کر بڑی تعداد بناسکتے ہیں۔
کمیونٹی شناختوں کے ساتھ قوم۔ ریاست کے تعلق کے لحاظ سے ہندوستان کی حیثیت نہ تو انجذابی اور نہ ہی ادغامی یا وحدت بنانے کی ہے جس کے بارے میں باکس 6.2میں بتایا گیا۔ اپنی ابتدا سے ہی آزاد ہندوستانی مملکت میں انجذابی پالیسی کو نہیں ماناگیا ہے تاہم ایسے ماڈل کے لیے غالب اکثریتی ہندو کمیونٹی کے کچھ طبقوں کی طرف سے اس کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔حالاں کہ ’قومی یک جہتی‘ کو مملکت کی پالیسی میں ہمیشہ اہم مقام دیا جاتا رہاہے۔ لیکن ہندوستان کبھی اس شکل میں ادغام پسند نہیں رہا جیسا کہ باکس 6.2میں بتایا گیا ہے۔ آئین میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ریاست ہوگی لیکن ’مذہب‘ زبان اور دیگر عوامل کو عوامی دائرے سے پوری طرح خارج نہیں کیا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ مملکت کے ذریعے ان کمیونٹیوں کو واضح طور پر تسلیم کیاگیا ہے۔ بین الاقوامی معیارات کے لحاظ سے اقلیتی مذاہب کو نہایت مضبوط آئینی تحفظ فراہم کیاگیا ہے۔عام طور پر ہندوستان میں قوانین اور اصولوں کی نسبت نفاذ اور عمل کے میدان میں مسائل زیادہ رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر ہندوستان کو ’ریاست۔قوم‘ کی ایک اچھی مثال مانا جا سکتا ہے۔تاہم قومی ریاستوں کو درپیش مسائل سے پوری طرح آزاد نہیں ہے۔
باکس 6.3
ثقافتی تنوع کے ساتھ قومی اتحاد۔ ایک جمہوری ’ریاست۔قوم‘کی تعمیر
قومی ریاست کا ایک متبادل ہے ’’ریاستی قوم‘‘ جہاں نسلی، لسانی مذہبی یا ملکی پہچانوں پر مبنی مختلف ’’قومیں‘‘ ایک اکیلے ریاستی نظام حکومت کے تحت پر امن طور پر اور تعاون کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
کیس مطالعات اور تجزیہ یہ دکھاتے ہیں کہ کثیر ثقافتی نظام حکومت میں روادار جمہوریتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔ متنوع گروپوں کے ثقافتی اخراج ختم کرنے …اور تعددی اور تکمیلی شناختوں کی تعمیر کرنے کے لیے نمایاں کوششوں کی ضرورت ہے۔ایسی اثرپذیر پالیسیاں تنوع میں اتحاد یا کثرت میں وحدت کا احساس پیدا کرنے کے لیے ’ہم‘ کے جذبے کی ترغیب دیتی ہیں۔شہری اپنے ملک اور اپنی دیگر ثقافتی شناختوں کے ساتھ مشترکہ اداروں میں اپنا اعتماد قائم کرنے اور جمہوری سیاستوں میں حصہ لینے اور اس کی تائید کرنے کے لیے ادارہ جاتی اور سیاسی دائرہ دریافت کرسکتے ہیں۔ یہ سبھی جمہوریتوں کو مضبوط اور گہرا بنانے اور روادار ریاستی قوم کی تعمیر کرنے کے اہم عوامل ہیں۔
ہندوستان کے آئین میں اس تصور کو سمویا گیاہے۔ اگرچہ ہندوستان ثقافتی لحاظ سے ایک متنوع قوم ہے لیکن طویل وقت سے چلی آ رہی جمہوریتوں کا جن میں ہندوستان بھی ایک ہے، تقابلی سروے یہ دکھاتا ہے کہ اپنے تنوع کے باوجود یہ ایک نہایت مضبوط جمہوریت ہے۔لیکن جدید ہندوستان کو پورے ملک پر ایک اکیلی ہندو شناخت کو تھوپنے کے لیے آرزو مند گروپوں کے ابھرنے کے ساتھ مختلف اور تکمیلی شناختوں کے اپنے آئینی عہد و پیماں کے زبردست چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔آج ہندوستان کو درپیش یہ خطرات اشتمال کے جذبے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ حال میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں ان سے مستقبل میں سماجی میل ملاپ کے جذبات کے تئیں گہری تشویش پیدا ہوتی ہے اور ملک کے ذریعے پہلے کی حصول یابیوں کو ٹھیس پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
اور یہ حصول یابیاں معمولی نہیں کافی زیادہ ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان کی آئینی وضع نے الگ الگ گروپوں کے دعووں کو تسلیم کیا ہے اور اس پر عمل کیاہے اور علاقائی، لسانی اور ثقافتی تنوع کے باوجود ایک ساتھ مربوط کرنے میں نظام حکومت کو اہل بنایا ہے جیسا کہ شناخت کاری، بھروسہ اور تائید کے اظہاروں کے سلسلے میں ہندوستان کی کار کردگی سے پتہ چلتا ہے(چارٹ 1) کہ اس کے شہری ملک کے تنوع اور نہایت طبقہ بند سماج کے باوجود ملک اور جمہوریت کے ساتھ گہرائی سے وابستہ ہیں۔جب ہندوستانی جمہوریت کی کارکردگی کا موازنہ دیگر طویل عرصے سے قائم اور زیادہ خوش حال جمہوریتوں سے کیا جاتا ہے تو یہ زیادہ موثر نظر آتیہے۔
جمہوری طریقوں سے کثیر اکائیت، ادارہ جاتی تطابق اور تصادم یا کشاکش کے حل کے لیے عمل کرنے میں ہندوستان کے پیمان وابستگی کو تقویت دینے میں چیلنج درپیش ہے۔ ایک کثیر ثقافتی جمہوریت کی تعمیر کے لیے قوم کی تعمیر کی تاریخی کوششوں کی کمزوریوں کو تسلیم کرنا اور تعددی اور تکمیلی شناخت کے لوگوں کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔شناخت، اعتماد اور تائید کے ذریعے سماج کے سبھی گروپوںمیں سماج کے تئیں وفاداری کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش بھی اہم ہے۔قومی پیوستگی میں یہ مطلوب نہیں ہوتا کہ کوئی ایک اکیلی پہچان سب پر تھوپ دی جائے اور تنوع کی مذمت کی جائے۔ریاست قوموں کی تعمیر کی کامیاب حکمت عملیوں میں اس تنوع کو تعمیری طور پر ثقافتی منظوری کی اثر پذیر پالیسیاں بنا کر تطابق کیاجاسکتا ہے اور کیا بھی جاتا ہے۔ یہ سیاسی استحکام اور سماجی آہنگی یا میل ملاپ کے طویل مدتی مقاصد کو یقینی بنانے کا موثر حل ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی انسانی ترقیاتی رپورٹ4 200، باب 3فیچر3.1سے لیاگیا۔

چارٹ1: ثقافتی تنوع کو پروان چڑھانا
ہندوستانی مملکت میں اعتبار

6.2 ہندوستانی سیاق وسباق میں علا قائیت
ہندوستان میں علاقائیت، ہندوستان کی زبانوں، ثقافتوں، قبائل اور مذاہب میں تنوع کے سبب پائی جاتی ہے۔ اسے مخصوص خطوں میں اس شناختی اشارہ کاروں کے ارتکاز کے سبب بھی حوصلہ افزائی حاصل ہوتی ہے اور علاقائی محرومی کا احساس آگ میں گھی ڈالنے کا کام کرتاہے۔ ہندوستانی وفاقیت ان علاقائی جذبوں کو ہم آہنگ کرنے والا ایک ذریعہ ہے (بھٹاچاریہ2005)۔
آزادی کے بعد، ابتدائی طور پر ہندوستانی ریاست نے برطانوی ہندوستانی بندوبست کو ہی اپنائے رکھا۔ اس کے تحت ہندوستان بڑے بڑے صوبوں میں ،جنھیں، پریزیڈنسی بھی کہا جاتا تھا، تقسیم ہوا تھا۔(مدراس، بمبئی اور کلکتہ تین بڑی پریزیڈنسیاں تھیں، ضمناً، حال میں ان تینوں شہروں کے نام جن کے نام پر پریزیڈنسیوں کے نام تھے، بدل دیے گئے ہیں۔) یہ بڑی بڑی، کثیر نسلی صوبائی ریاستیں تھیں جو ہندوستانی وفاق کہی جانے والی نیم وفاقی ریاست کی بڑی بڑی سیاسی انتظامی اکائیوں کی شکل میں کام کرتی تھیں۔ مثال کے لیے پرانی بمبئی ریاست(جو بمبئی پریزیڈنسی کا ہی دوسرا نام تھا) مراٹھی ، گجراتی، کنٹر اور کونکنی بولنے والے لوگوں کی کثیر لسانی ریاست تھی۔ اسی طرح مدراس ریاست تمل، تلگو اور ملیالم بولنے والے لوگوں سے مل کر بنی تھی۔ برطانوی ہندوستان حکومت کے ذریعے براہ راست حکمرانی کی جانے والی پریزیڈنسیوں اور صوبوں کے علاوہ پورے ہندوستان کی ملکی راجاؤں کی ریاستیں یا رجواڑے تھے۔ ان میں میسور، کشمیر اور بڑودہ کی ملکی ریاست نسبتاً بڑی تھی۔ لیکن آئین کو قبول کیے جانے کے فوراً بعد نو آبادیاتی دور کی ان سبھی اکائیوں کو زبردست عوامی احتجاجی تحریکوں کے سبب ہندوستانی وفاق میں نسلی ولسانی ریاستوں کی شکل میں نئے سرے سے منظم کرنا پڑا (باکس 6.4 دیکھے)۔

باکس 6.4
لسانی ریاستوں نے ہندوستانی اتحاد کو مضبوط کرنے میں مدددی
ریاستوں کے تنظیم نوکمیشن(SRC)کی رپورٹ جو یکم نومبر1956کو نافذ کی گئی تھی، ملک کی سیاسی اور ادارہ جاتی زندگی کی کایاپلٹ کرنے میں مددگار رہی۔
ریاست کی تنظیم نو کے لیے کمیشن کا پس منظر یہاں دیا جا رہا ہے۔1920کے دہے میں انڈین نیشنل کانگریں کو لسانی خطوط پراز سرنو تشکیل کیاگیا۔ اب اس کی صوبائی اکائیوں نے لسانی منطق کی پیروی کی، جیسے ایک مراٹھی بولنے والوں کے لیے، دوسرے اڑیہ بولنے والے لوگوں کے لیے وغیرہ وغیرہ۔اسی دوران ،گاندھی جی اور ملک کے دیگر رہنماؤں نے اپنے پیروکاروں سے وعدہ کیاکہ جب آزادی مل جائے گی تو نئے ملک کو زبانوں کے مطابق نئی ریاستوں کی بنیاد پر از سرنو تشکیل کیا جائے گا۔
تاہم جب ہندوستان آخر کار1947میں آزاد ہوا تو اس کے ساتھ اس کی تقسیم بھی کردی گئی۔ جب لسانی ریاستوں کی حمایت کرنے والوں نے رہنماؤں سے اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے کہا تو کانگریس نے تامل کیا۔ملک کی تقسیم کسی کے عقیدے سے شدید لگاؤ کا نتیجہ تھا، اسی طرح زبان سے گہری وفاداری پتہ نہیں کتنی تقسیم کرواے گی؟ ایسی سوچ اس وقت کے چوٹی کے کانگریس رہنما نہرو، پٹیل اور راجہ جی وغیرہ کے دل میں رہی۔
دوسری طرف، سبھی چھوٹے بڑے کانگریس رہنما زبان کے خطوط پر ہندوستان کا نیا نقشہ تیار کرنے پر آمادہ تھے۔ مراٹھی اور کنٹر زبان بولنے والوں نے اس کے لیے زبردست تحریک شروع کردی۔ یہ لوگ اس وقت کی کئی سیاسی ریاستوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ جیسے اس وقت کی بمبئی اور مدراس کی پریزیڈنسیوں اور سابق دیسی راجاؤں کی ریاستیں جیسے میسور اور حیدر آباد وغیرہ لیکن سب سے زیادہ جنگجو تحریک بہت بڑے تیلگو لسانی گروپ کی طرف سے کی گئی جن کی آبادی بہت بڑی تھی۔ اکتوبر1953میں ایک سابق گاندھیائی لیڈر پوٹی سری رام مولو اس مسئلے پر مرن برت پر بیٹھ گئے اور سات ہفتے بعد ان کی موت ہوگئی۔پوٹی سری را مولو کی قربانی نے پرتشدد مظاہروں کو بھڑکادیا، نتیجتاً آندھر پردیش ریاست قائم کرنی پڑی جس میں 1956میں لسانی ریاستوں کے اصول کی توثیق پر آخری مہر لگادی۔
1950کے دہے کے ابتدائی سالوں میں وزیر اعظم جواہر لعل نہرو بشمول کئی لیڈروں کو یہ ڈر تھا کہ زبان پر مبنی ریاست کہیں ہندوستان کی مزید ذیلی تقسیم کے عمل کو تیز نہ کر دے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے اس کے برخلاف واقع ہوا۔ زبان کی بنیاد پر مبنی ریاستوں نے ہندوستانی اتحاد کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچائی بلکہ اسے اور بھی مضبوط کرنے میں مددگار رہی۔ کنڑ اور ہندوستانی، بنگالی اور ہندوستانی، تمل اور ہندوستانی گجراتی اور ہندوستانی …دونوں کا ساتھ ساتھ ہونا پوری طرح ہم آہنگ ثابت ہوا۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زبان پر مبنی ریاست کبھی کبھی آپس میں لڑتی ہیں حالاں کہ یہ تنازعے صحیح نہیں ہوتے لیکن یہ اور بھی زیادہ خراب ہوسکتے تھے۔ اسی سال 1956 میں جب ریاستی تشکیل نو کمیشن نے لسانی خطوط پر نقشہ تیار کرنے کی ہدایت دی، سیلون (سری لنکا) کی پارلیمنٹ نے شمال کے تمل زبان بولنے والے شہریوں کی زبردست مخالفت کے باوجود سنہلی کو واحد سرکاری زبان کے طور پر اعلانیہ جاری کردیا۔ ایک بائیں بازو کے سنہلی ممبر پارلیمنٹ نے تو جارح پسند لوگوں کو پیش گوئی پر مبنی یہ تنبیہہ دے ڈالی،’’ایک زبان، دوقوم‘‘ پر اضافہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’دوزبانیں، ایک قوم‘‘۔
1983سے سری لنکا میں جو خانہ جنگی چھڑی ہوئی وہ کچھ حد تک اکثریتی لسانی گروپ کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کو نظر انداز کیے جانے کا ہی نتیجہ ہے۔ہندوستان کی دیگر پڑوسی ریاست پاکستان کی 1971میں تقسیم ہوگئی کیوں کہ اس کے مغربی حصے کے پنجابی اور اردو بولنے والے لوگ مشرقی حصے کے بنگالیوں کے جذبات کا احترام نہیں کرنا چاہتے تھے۔
لیکن ہندوستان میں لسانی ریاستوں کی تخلیق کے سبب ہی ہندوستان کو کسی ایسی تباہ کن صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اگر ہندوستانی لسانی گروپوں کے جذبات اور آرزوؤں کو نظر انداز کیا جاتا تو شاید ہمارے یہا ں بھی اسی طرح کی صورت حال پیدا ہوجاتی: ’’ایک زبان، چودہ یا پندرہ اقوام۔‘‘
ماخذ : یکم نو مبر2006کے ٹائمس آف انڈیا میں شائع رام چندر گوہا کے آرٹیکل سے اخذ کیا گیا۔
اس طرح مذہب نے نہیں بلکہ زبان نے علاقائی اور قبائلی شناخت کے ساتھ مل کر ہندوستان میں نسلی قومی شناخت کی تشکیل کے لیے ایک نہایت موثر ذریعے کا کام کیاہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سبھی لسانی کمیونٹیوں کو ریاستی حیثیت حاصل ہوگئی۔مثال کے لیے2000میں تین ریاستوں یعنی چھتیس گڑھ، اترانچل اور جھار کھنڈ کی تشکیل میں زبان نے کوئی خاص کردار نہیں نبھایا بلکہ قبائلی پہچان،زبان اور علاقائی محرومی اور ماحولیات پر مبنی نسلیت نے شدید علاقائیت کو بنیاد فراہم کی جس کے نتیجے میں نئی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت ہندوستانی قوم میں 29ریاستیں (وفاقی اکائیاں) اور 9مرکز کے زیر انتظام علاقے ہیں۔

1880سے 1930کے دوران مختلف علاقوں کی شادی شدہ جوڑے سب سے اوپر بائہں کونے سے، گجرات، تری پورہ، ممبئی، علی گڑھ،حیدرآباد،گوا،کولکاتہ۔ مآخذ مالویکا کارلیکر کی ادارت میں ویزوولایزنگ انڈین ویمن 1947-1975 آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی سے۔
علاقائی جذبات کا احترام کرنا ہی محض ریاست کی تشکیل کے لیے کافی نہیں ہے ،بلکہ اس کے لیے ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ ہونا بھی ضروری ہے جو یہ یقینی بنا سکے کہ وہ ایک بڑے وفاقی ڈھانچے کے تحت خود مختار اکائیوں کے طور پر چل سکتا ہے۔ ہندوستان میں یہ اہتمام ریاستوں اور مرکز کے اختیارات کو بیان کرنے والی آئینی شقوں کے ذریعے کیا گیاہے۔ ہندوستان کے آئین میں حکمرانی سے متعلق موضوعات یا کاموں کی فہرست ہوتی ہے جن کی خصوصی ذمہ داری ریاست یا مرکز کی ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہی دیگر شعبوں کی متوازی فہرست بھی دی گئی ہے جہاں دونوں کو ہی عمل کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ ریاستی مقننہ، پارلیمنٹ کے اوپری ایوان، راجیہ سبھا کی ترکیب کا تعین کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ معیاری کمیٹیاں اور کمیشن ہوتے ہیں جو مرکزاور ریاست کے تعلق کو متعین کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال مالیاتی کمیشن ہے جسے دس سال میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان ٹیکس محاصل کے تقسیم کرنے کے لیے قائم کیا جاتا ہے۔ ہر ایک پنچ سالہ منصوبے میں بھی ریاستوں کے تفصیلی منصوبے شامل ہوتے ہیں جو ہر ریاست کے ریاستی پلاننگ کمیشنوں کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔
کل ملاکر وفاقی نظام کافی اچھی طرح کام کرتا رہتا ہے حالاں کہ اس میں کئی متنازعہ امور بھی رہے ہیں۔نرم کاری کے دور سے (یعنی1990سے) ہی بڑھتے ہوئے علاقائی معاشی اور اساسی ڈھانچے سے متعلق عدم مساوات پالیسی سازوں، سیاست دانوں اور دانش وروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ چوں کہ اقتصادی ترقی میں نجی پونجی سرمایہ کاری (غیر ملکی اور ہندوستانی دونوں) کو ہی زیادہ بڑا کردار سونپا گیا ہے اس لیے علاقائی معدلت کے عناصر کو کم اہمیت ملی ہے۔یہ اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ نجی سرمایہ کار عام طور پر پہلے سے ترقی یافتہ ایسی ریاستوں میں پونجی لگانا چاہتے ہیں جہاں اساسی ڈھانچہ اور دیگر سہولیات بہتر ہوں۔نجی صنعت کے برخلاف، حکومت صرف اپنے منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے بجائے علاقائی معدلت (اور دیگر سماجی مقصود) کو اہمیت دے سکتی ہے اس لیے اگر بازار معیشت کوآزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ ترقی یافتہ اور پس ماندہ علاقوں کے درمیان موجود فرق کو بڑھا دیتی ہے۔ موجودہ رحجانات کو بدلنے کے لیے عوام کو نئے سرے سے پہل کرنے کی ضرورت ہوگی۔
سرگرمی 6.4
اپنی ریاست کی تشکیل کے بارے میں پتہ لگائیں۔ یہ کب بنائی گئی تھی؟ اس کی تعریف کے لیے خاص کسوٹیاں کیاتھیں؟کیا وہ لسانی نسلی شناخت، علاقائی محرومی، ماحولیاتی فرق یا کوئی دیگر کسوٹی تھی؟ ہندوستانی قوم، ریاست کے تحت پائی جانے والی دیگر ریاستوں سے اس کا موازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
ہندوستان کی سبھی ریاستوں کی، ان کی تشکیل کی کسوٹی کی بنیاد پر درجہ بند کرنے کی کوشش کریں۔
کیاآپ حال میں چل رہی سماجی تحریکوں سے واقف ہیں جو ایک ریاست کی تشکیل کی مانگ کررہی ہیں؟ ان تحریکوں کے ذریعے استعمال کی جارہی کسوٹیوں کا پتہ لگانے کی کوشش کریں
اشارہ: تلنگا نہ اور ودربھ تحریکوں اور آپ کے اپنے علاقے میں چل رہی کسی تحریک پر غور کریں۔
6.3 قوم ریاست اور مذہب سے متعلق امور اور شناختیں
ثقافتی تنوع کے سبھی پہلوؤں میں شاید مذہبی کمیونٹیوں اور مذہب پر مبنی شناختوں کے امور سب سے زیادہ متنازع ہیں۔ ان امور کو موٹے طور پر دو متعلقہ گروپوں سیکولرزم اور فرقہ واریت اور اقلیت واکثریت کے تحت تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ سیکولرازم اور فرقہ واریت کے سوال، ریاست کے مذہب اور ان سیاسی گروپوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہوتے ہیں جو مذہب کو اپنی پہلی شناخت مانتے ہیں۔ اقلیتوں اور اکثریتوں کے بارے میں سوال ان فیصلوں سے متعلق ہوتے ہیں کہ ریاست مختلف مذہبی، نسلی یادیگر کمیونٹیوں کے ساتھ جو تعداداور طاقت(سماجی، معاشی اور سیاسی قوت) کے لحاظ سے غیر مساوی ہیں، کیسا برتاؤ کرتی ہے۔
اقلیتوں کے حقوق اور قوم کی تعمیر
ہندوستانی قوم پرستی کے غالب رحجان کی نشان دہی شمولیت اور جمہوریت کی نگاہ سے ہوتی رہی تھی۔ اس نگاہ کو شمولیت کی نگاہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں تنوع وکثرت کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور جمہوری اس لیے کہ اس میں امتیاز یا تفریق اور اخراج کی تروید کی جاتی ہے اور ایک منصفانہ اور عدل پر مبنی سماج تیار کیا جاتا ہے۔عوام لفظ کو اخراج کے لحاظ سے، مذہب، نسلیت، نسل یا ذات کے ذریعے معیّن کسی خاص گروپ کے حوالے سے نہیں دیکھا گیاہے۔ نظریہ انسانیت ہندوستانی قوم پرستوں پر اثر انداز ہوا اور اخراجی قوم پرستی کے خراب پہلوؤں پر مہاتما گاندھی اور رویندرناتھ ٹیگور جیسی اولین شخصیتوں کے ذریعے شدید تنقید کی گئی۔
باکس 6.5
اخراجی قوم پرستی کی خرابیوں پر رویندرناتھ ٹیگور کے خیالات
…جہاں مغربی قوم پرستی کا جذبہ غالب ہو، وہاں سبھی لوگوں کو بچپن سے ہی نفرت کرنا اور آرزؤوں کو پروان چڑھانا ہر طریقے سے سکھایا جاتا ہے جیسے تاریخ میں آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بناکر، دیگر نسلوں کے ساتھ لگاتار غلط بیانی کرکے اور ان کے تئیں مخالف یا غیر موافق جذبات کی تہذیب تخلیق کرکے…کبھی لمحے بھر کے لیے بھی یہ سوچیں کہ جو آپ دوسری نسلوں کو پہنچاتے ہیں وہ آپ پر اثرانداز نہیں ہوں گے یا نفرت کے بیج آپ اپنے گھروں کے چاروں طرف بوتے ہیں، وہ آنے والے پورے وقت کے لیے تحفظ کی دیواربن کر آپ کی حفاظت کریں گے؟ عوام کے دل میں اپنی برتری کا جھوٹا ناز کرنا، اپنی اخلاقی بے حسی اور غلط طریقوں سے جمع کی گئی دولت پر فخر کرنا سکھانا، جنگ کے ذریعے جیتے گئے مالِ غنیمت کے مظاہروں کے ذریعے مفتوح قوموں کو ہمیشہ ذلیل کرنا اور بچوں کے دل میں دوسروں کے لیے حقارت پیدا کرنے کے لیے ان مکاتب کا استعمال کرنا مغرب کی نقل کرنا ہے جہاں زخم میں ناسور پڑ رہا ہے…
ماخذ: آن نیشنلزم، رویندر ناتھ ٹیگور، 1917دوبارہ اشاعت 1930 میک ملن، مدراس
شمولی قوم پرستی کے تصور کو موثر بنانے کے لیے اسے آئین میں جگہ دینی پڑی۔ جیسا کہ (سیکشن 6.1میں) ،پہلے ہی ذکر کیا جاچکا ہے کہ غالب گروپ میں یہ مان کر چلنے کا مضبوط رحجان ہوتا ہے کہ ان کی ثقافت یا زبان یا مذہب قومی ریاست کی ثقافت یا زبان کے مترادف ہوتا ہے۔ تاہم ایک مـضبوط اور جمہوری ملک کے لیے آئینی اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ سبھی گروپوں کے حقوق اور بطور خاص اقلیتی گروپوں کے حقوق کویقینی بنائیں۔ اقلیتوں کی تعریف کے بارے میں ایک مختصر بحث ہمیں ایک مضبوط،متحدہ اور جمہوری قوم کے لیے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھنے میں اہل بناتی ہے۔اقلیتی گروپوں کے تصور کا سماجیات میں وسیع طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی عددی امتیاز کے علاوہ اور بھی زیادہ اہمیت ہے۔اس میں عام طور پر اضافی نقصان کا کچھ مفہوم شامل ہوتاہے۔ لہٰذا مراعات یافتہ اقلیتوں جیسے نہایت دولت مند لوگوں کو عام طور پر اقلیت نہیں کہا جاسکتا، اور اگر ،ذکر کرنا ہی ہو تو ان کے ساتھ مراعات یافتہ اقلیت جیسے الفاظ کو جوڑ دیا جاتا ہے۔ جب اقلیت لفظ کا استعمال کسی تعریف کے بغیر کیا جاتا ہے تو عام طور پر اس کا مطلب نسبتاً چھوٹے لیکن ساتھ ہی آسانیوں سے محروم گروپ سے ہوتاہے اقلیت لفظ کا سماجیاتی مفہوم یہ بھی ہے کہ اقلیت گروپ کے ممبر ایک اجتماعیت کی تشکیل کرتے ہیں یعنی ان میں اپنے گروپ کے تئیں یک جہتی رفاقت اورمتعلق یا جڑے ہونے کا احساس ہوتاہے۔ یہ احساس ناموافق صورت حال سے دو چار ہونے کے احساس سے جڑا ہوتا ہے کیوں کہ تعصب اور تفریق کا شکار ہونے کا تجربہ عام طور پر اپنے ہی گروپ کے تئیں وفاداری اور دلچسپی کے احساسات کو بڑھاوا دیتا ہے (گڈنس 2001:248)۔ اس لیے جو گروپ شماریاتی لحاظ سے اقلیت ہوں جیسے بائیں ہاتھ سے کھیلنے یا لکھنے والے لوگ یا 29فروری کو پیدا ہوئے لوگ سماجیاتی معنی میں اقلیت میں نہیں ہوتے کیوں یہ کسی اجتماعیت کی تشکیل نہیں کرتے۔
حالاں کہ کچھ ایسی غیر معمولی مثالیں بھی لی جاسکتی ہیں جہاں کوئی اقلیتی گروپ کسی ایک معنی میں تو محرومی کا شکار کہا جاسکتا ہے ۔لیکن کسی دوسرے معنی میں نہیں۔ مثال کے لیے پارسیوں یا سکھوں جیسے مذہبی اقلیتی گروپ معاشی لحاظ سے نسبتاً خوش حال ہوسکتے ہیں لیکن وہ پھر بھی ثقافتی معنی میں غیر مراعات یافتہ ہوسکتے ہیں کیوں کہ ہندوؤں کی بڑی آبادی کے مقابلے ان کی تعداد کم ہے۔ اکثریتی گروپ کے آبادیاتی غلبے کے سبب مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کو خصوصی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمہوری سیاست میں عددی اکثریت کا انتخاب کے ذریعے سیاسی طاقت میں تبدیل ہونا ہمیشہ ممکن رہتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذہبی یا ثقافتی اقلیتی گروپ سیاسی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔ بھلے ہی ان کی معاشی یا سماجی حیثیت کیسی بھی ہو۔انھیں یہ جوکھم تو اٹھانا ہی ہوگا کہ اکثریتی کمیونٹی سیاسی اقتدار پر تسلط اختیار کرے گی اور ان کے مذہبی یا ثقافتی اداروں کو دبانے کے لیے نظام حکومت کا غلط استعمال کرے گی اور آخر کار انھیں اپنی الگ پہچان چھوڑ دینے کے لیے مجبور کردے گی۔

ایک کشمیری لڑکی


باکس 6.6
مذہبی اقلیتوں کانسبتی حجم اور تقسیم
جیسا کہ معروف ہے، ہندوستان میں ہندؤوں کی اکثریت ہے، 2001کی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی تقریباً 82.8کروڑ ہے جو ملک کی پوری آبادی کا 80.5 فی صد ہے۔ ہندوؤں کی آبادی سبھی دیگر اقلیتی مذاہب کی مجموعی تعداد سے تقریباً چا ر گنا بڑی ہے اور سب سے بڑے اقلیتی گروپ یعنی مسلمانوں سے تقریباً چھ گنا بڑی ہے لیکن یہ حقیقت گمراہ کن بھی ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ ہندو گروپ نہیں ہیں بلکہ وہ کئی جاتیوں میں تقسیم ہیں۔
ویسے دیگر سبھی مذاہب میں بھی جاتیاں الگ الگ حدوں میں ہوتی ہیں۔ اب تک مسلمان ہی ہندوستان میں سب سے بڑا مذہبی اقلیتی گروپ ہے۔ 2001میں ان کی آبادی 13.8کروڑ یعنی کل آبادی کا 13.4 فی صد تھی۔وہ ملک میں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں، جموں وکشمیر میں وہ اکثریت میں ہیں اور مغربی بنگال، اترپردیش، کیرل، آندھراپردیش، کرناٹک اور راجستھان میں کافی بڑی آبادی پر مشتمل ان کے حلقے ہیں۔
عیسائیوں کی تعداد 2.4کروڑ یعنی کل آبادی کا 2.3فی صد ہے اور ان کی آبادی سبھی جگہ پھیلی ہوئی ہے البتہ مشرقی شمالی اور جنوبی ریاستوں میں ان کی آبادی کا حلقہ کافی بڑ اہے۔ تینوں عیسائی اکثریتی ریاستیں مشرق شمالی علاقے میں واقع ناگالینڈ (90 فی صد)، میزورم (87 فی صد)، میگھالیہ(70 فی صد)، گوا (27 فی صد) اور کیرل (19 فی صد) میں کافی بڑی تعداد میں عیسائی رہتے ہیں۔
سکھ مذہب کے ماننے والے 1.9 فی صد (1.9کروڑ) ہیں۔ ویسے تو ملک کے سبھی حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن ان کا خاص ارتکاز پنجاب میں ہے جہاں وہ اکثریت (60 فی صد) میں ہیں۔
اس کے علاوہ اور دیگر چھوٹے چھوٹے مذہبی گروپ ہیں۔ بودھ 80لاکھ (0.8 فی صد) جین (40لاکھ، 0.4 فی صد) اور دیگر مذہب اور سکھ (70 لاکھ 0.7فی صد) بودھوں کا تناسب سب سے زیادہ سکم (28 فی صد) اور اروناچل پردیش (13 فی صد) میں ہے۔جب کہ بڑی ریاستوں میں سے مہاراشٹر میں بودھوں کا تناسب سب سے زیادہ 6فی صد ہے۔ جینیوں کا تناسب سب سے زیادہ مہاراشٹر (1.3 فی صد) راجستھان (1.2 فی صد) اور گجرات (1 فی صد) میں پایا جاتا ہے۔
برطانوی استعماریت کے خلاف جدوجہد کے طویل سالوں میں ، ہندو ستانی قوم پرستوں نے ہندوستان کے تنوع کو تسلیم کرنے او ر ان کے احترام کی لازمی ضرورت کو سمجھا۔ درحقیقت، کثرت میں وحدت، کا محاورہ ہندوستانی سماج کے کثرت اور تنوع کی فطرت کو سمجھنے کی علامت بن گیا۔اقلیتوں اور ثقافتی حقوق کے بارے میں مباحثے انڈین نیشنل کانگریس کے غورو خوض کی نشان دہی کرتے ہیں اور ہندوستانی آئین میں آخر کار اس کا اظہار ہوا۔(زیدی 1984)
باکس 6.7
اقلیتوں کو تحفظ دینے کے بارے میں ڈاکٹر امبیڈکر کے خیالات
ان قدامت پسندوں کو جن کے دل میں اقلیتوں کے تحفظ کے خلاف ایک طرح کے تعصب کو فروغ دیاگیا ہے، میں اس سلسلے میں دوباتیں کہنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ اقلیتی فرقہ ایک دھماکا خیز قوت ہے جو اگر بھڑک اٹھے تو ریاست کی پوری وضع کو تار تار کردے گی۔ یوروپ کی تاریخ اس حقیقت کی ٹھوس اور خطرناک شہادت پیش کرتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہندوستان کی اقلیت اپنے وجود کو اکثریتوں کے ہاتھوں میں سونپنے کے لئے متفق ہوئی ہے۔ آئرلینڈ کی تقسیم کو روکنے کے لیے چلی بات چیت کی تاریخ میں، ریڈمنڈ نے کارسن سے کہا، ’’آپ پروٹسٹنٹ اقلیت کے لیے چاہے جو تحفظ طلب کرلیں، ہمیں آئرلینڈر کو متحدہ،غیر منقسم رکھنا ہے ’’کارسن کا جواب تھا ’’لعنت ہے تمھارے تحفظ پر، ہم خود تمھاری حکمرانی ہی نہیں چاہتے۔‘‘
ہندوستان میں اقلیتوں کے کسی بھی گروپ نے یہ رخ نہیں اپنایا۔
(جان ریڈمنڈ، اکثریت کھیتولک کے رہنما، سرایڈورڈ کارسن، اقلیتی پروٹسٹنٹ کے رہنما)
ماخذ: آئین ساز اسمبلی کے بحث مباحثے 1950:310-311، نارنگ سے اقتباس 2002 : 63

پارلیمنٹ بلڈنگ
بھیم راؤ رام جی امبیڈکر
(1891-1956)

بودھ مذہب کے احیائے محرک، قانون داں، دانش ور اور سیاسی رہنما بھیم راؤ امبیڈ کر ہندوستانی آئین کے اہم معمار ہیں۔ ان کی پیدائش ایک غریب اچھوت کمیونٹی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنی زندگی چھوا چھات اور ذات نظام کے خلاف جدوجہد میں لگادی۔
ہندوستانی آئین ساز یہ جانتے تھے کہ ایک مضبوط اور متحدہ قوم کی تشکیل تبھی ممکن ہوگی جب عوام کے سبھی طبقات کو اپنے مذہب کی پابندی کرنے اور اپنی ثقافت اور زبان کو فروغ دینے کی آزادی ہوگی۔ ہندوستانی آئین کے خاص معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے اس نقطے کو آئین ساز اسمبلی میں واضح کیاجیسا کہ باکس6.7میں دکھایا گیاہے۔
پچھلے تین دہوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ کسی ملک میں مختلف گروپوں کے لوگوں کے حقوق کو تسلیم نہ کیے جانے سے قومی اتحاد کے لیے کتنے خطرناک نتیجے برآمد ہوسکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے کئی مسائل میں سے ایک اہم مسلہ پاکستانی ریاست کا بنگلہ دیش کے ثقافتی اور لسانی حقوق کو تسلیم کیے جانے کی نا رضامندی تھی۔ سری لنکا میں کئی متنازعہ فیہ امور میں سے ایک میں جس نے نسلی تنازعہ کے پس منظر کی تخلیق کی تھی وہ تھا قومی زبان کے طور پر سنہالی کا تھوپا جانا۔اسی طرح ہندوستان میں کسی بھی زبان یا مذہب کو کسی گروپ پر جبریہ تھوپا جانا قومی اتحاد کو کمزور کرتا ہے جو تنوع کو تسلیم کرنے پر مبنی ہے، ہندوستانی قوم پرستی اسے تسلیم کرتی ہے اور ہندوستانی آئین اس کو توثیق کرتا ہے(باکس6.8)
آخر میں ،یہ بھی غور کرنا مفید ہے کہ اقلیتیں صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ پائی جاتی ہیں، زیادہ تر قومی ریاستیں ایک غالب سماجی گروپ ہوتی ہیں خواہ ثقافتی، نسلی یا مذہبی ہو۔ دنیا میں کہیں بھی ایسی کوئی ریاست نہیں ہے جو امتیازی طور پر ایک اکیلے متجانس ثقافتی گروپ پر مشتمل ہو۔ یہاں تک کہ جہاں ایسا کافی حد تک صحیح تھا( جیسے آئس لینڈ، سویڈن یا جنوبی کوریا جیسے ملکوں میں) وہاں بھی جدید سرمایہ کاری، استعماریت اور بڑے پیمانے پر ہوئی نقل مکانی کے سبب گروپوں میں تکثیری کردار پایا جاتا ہے۔ حتٰی کہ سب سے چھوٹی ریاست میں اقلیت پائی جاتی ہے خواہ وہ مذہبی، نسلی، لسانی یا ذات کی بنیاد پر ہو۔
باکس 6.8
اقلیتوں اور ثقافتی تنوع پر ہندوستانی آئین کے آرٹیکل
آرٹیکل 29
(1) ہندوستان کی عمل داری یا اس کے کسی حصے میں رہنے والے شہریوں کا کوئی بھی طبقہ جس کی کوئی امتیازی زبان، رسم الخط یا ثقافت ہے، اسے بنائے رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔
(2) ریاست کے رکھ رکھاؤ میں یا ریاستی سرمایوں کو حاصل کرنے والے کسی تعلیمی ادارے میں داخلے سے کسی بھی شہری کو صرف مذہب، نسل، ذات، زبان یا ان میں سے کسی کی بنیاد پر محروم نہیں کیا جائے گا۔
آرٹیکل 30:
(1) مذہب یا زبان کی بنیاد پر سبھی اقلیتوں کو اپنی مرضی کے تعلیمی اداروں کے قیام اور انتظامیہ کا حق حاصل ہوگا۔
(2) تعلیمی اداروں کو مدد دینے میں ریاست کسی تعلیمی ادارے کے خلاف اس بنیاد پر تفریق نہیں کرے گی کہ وہ مذہب یا زبان پر مبنی کسی اقلیتی طبقے کے انتظامیہ میں ہے۔
سرگرمی 6.5
ایسی کئی مثالیں ہیں جب ایک سیاق میں جو اکثریت میں ہوتے ہیں وہ کسی دوسرے ضمن میں اقلیت بن جاتے ہیں یا اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔
اس کی کچھ ٹھوس مثالیں دریافت کیجیے اور اس کے ضمنی مفہوم پر بحث کریں۔
یاد رہے کہ ایک اقلیت کے سماجیاتی تصور میں صرف نسبتی اعداد ہی نہیں بلکہ نسبتی قوت بھی شامل ہوتی ہے۔
(تجاویز: نسلی عصبیت کے پہلے اور بعد میں جنوبی افریقہ میں سفید فام لوگ، کشمیر میں ہندو، گجرات میں مسلمان: ہندوؤں
میں اونچی ذات اور مشرق شمالی ریاستوں میں قبائلی ریاستیں)
فرقہ واریت، سیکولرازم اور قومی مملکت
فرقہ واریت
روز مرہ کی زبان میں لفظ فرقہ پرستی یا فرقہ واریت کا مطلب ہے مذہبی شناخت پر مبنی جارحانہ شاونیت (فرقے کے حق میں شدید عصبیت) ۔شاونیت اپنے آپ میں ایک ایسا رحجان ہے جس میں اپنے ہی گروپ کو جائز یا برتر گروپ مانا جاتا ہے اور دیگر گروپوں کو کم تر ، نا جائز یا مخالف سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو اور بھی آسان لفظوں میں کہیں تو فرقہ واریت ایک جارحانہ نظریہ ہے جو مذہب سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک منفرد ہندوستانی یا شاید جنوبی کوریائی معنی ہے جو عام انگریزی لفظ کے مفہوم سے مختلف ہے۔ انگریزی میں'Communal'لفظ کا مطلب ہے فرد کے بجائے فرقہ (یعنی کمیونٹی) یا اجتماعیت سے جڑا ہوا۔ انگریزی مطلب غیر جانب دار ہے جب کہ جنوبی ایشیائی مطلب پوری طرح بھر پور ہے۔ اس بھر پور معنی کو مثبت طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی فرقہ واریت کے تئیں ہمدری رکھتا ہو یا دیکھنے والا اس کا مخالف ہوتو منفی لحاظ سے بھی ہوسکتا ہے۔

مختلف مذاھب کی عبادت گاھیں
اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ فر قہ واریت کا سیاست سے سروکار ہے نہ کہ مذہب سے۔اگرچہ فرقہ پرست مذہب کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوتا ہے لیکن حقیقتاً انفرادی عقیدہ اور فرقہ واریت کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں ہوتا۔ ایک فرقہ پرست کٹر مذہبی یا متقی ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی اور کٹر مذہبی لوگ فرقہ رپرست بھی ہوسکتے ہیں اور نہیں بھی۔ لیکن سبھی فرقہ پرست مذہب پر مبنی ایک سیاسی شناخت میں ضرور یقین رکھتے ہیں۔ کلیدی عنصر لوگوں کا وہ رویہ ہے جو دیگر اقسام کی پہچانوں میں جن میں دیگر مذہب پر مبنی شناختیں بھی شامل ہیں، عقیدہ رکھتے ہیں فرقہ پرست جارحانہ سیاسی شناخت پروان چڑھاتے ہیں اور ایسے ہر فرد کی ملامت کرنے یا اس پر حملہ کرنے کو تیار رہتے ہیں جو ان کی شناخت میں شریک نہیں ہوتے۔
فرقہ واریت کی اہم امتیازی خصوصیات میں اس کا یہ دعویٰ ہے کہ مذہبی شناخت دیگر سبھی چیزوں کو مسترد کردیتی ہے۔ خواہ کوئی غریب ہو یا امیر، چاہے کسی کا کوئی بھی پیشہ ہو، ذات یا سیاسی عقیدہ ہو، مذہب ہی سب کچھ ہوتاہے۔ اسی کی بنیاد پر اس کی شناخت ہوتی ہے۔ سبھی ہندو ایک جیسے ہوتے ہیں، جیسے سبھی مسلمان، سکھ وغیرہ۔ اس کے زیر اثر بڑے بڑے اور متنوع گروپ ایک اور متجانس ہوجاتے ہیں۔ یہ غور کرنے کے لائق ہے کہ یہ اپنے خود کے گروپ کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی کیا جاتاہے۔ یقینی طور پر اس امکان کو مسترد کردے گا کہ مثال کے لیے کیرل کے ہندو، مسلمان اور عیسائی آپس میں ان ہم مذہب کے مقابلے میں زیادہ یکسانیت رکھتے ہیں جو کشمیر، گجرات یا ناگالینڈ میں رہتے ہیں۔ یہ اس امکان کی بھی تردید کرتی ہے کہ مثال کے لیے، بے زمین زرعی مزدور (یا صنعت کار) آپس میں بہت سی یکسانیت رکھ سکتے ہیں، بھلے ہی وہ مختلف مذاہب اور علاقوں سے متعلق ہوں۔
ہندوستان میں فرقہ واریت خاص طور پر ایک اہم مسلہ بن گئی ہے کیوں کہ یہ بار بار وا قع ہونے والے تناؤ اور تشدد کا ذریعہ رہا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران لوگ اپنی متعلقہ کمیونٹیوں کے بے کردار، بے شناخت ممبر بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی انانیت اور گھمنڈ کی بھڑاس میں اور اپنا پالا بچانے کے لیے دیگر کمیونٹیوں کے ممبروں کو مار ڈالنے، ان کے ساتھ زنا کرنے اور لوٹ پاٹ کو تیار ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر ایسے نفرت انگیز کاموں کے جواز کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم تو اپنے ہم مذہب کے کہیں اور یا پہلے کبھی کیے گئے قتلوں یا بے عزتی کا بدلہ لے رہے ہیں۔کوئی بھی خطہ ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی طرح کے فرقہ وارانہ تشدد سے پاک رہا ہو ہر مذہبی کمیونٹی نے کم یا زیادہ درجے میں اس تشدد کا سامنا کیاہے۔حالاں کہ اقلیتی کمیونٹیوں کے لیے تناسبی صدمہ زیادہ دہشت ناک رہاہے۔اگرفرقہ وارانہ فسادات کے لیے حکومت کو کسی حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو کوئی بھی حکومت یا برسراقتدار پارٹی اس معاملے میں بے قصور ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ دراصل، فرقہ وارانہ تشدد کی دو سب سے زیادہ دہشت ناک عصری مثالیں دو خاص سیاسی پارٹیوں کے دور حکومت میں واقع ہوئیں۔ دہلی میں 1984کے سکھ مخالف فساد کا نگریس کی حکومت میں ہوئے اور 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کے خلاف بے انتہا تشدد کا غیر معمولی پیمانے پر پھیلاؤ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے دور حکومت میں واقع ہوا۔

فرقہ وارانہ فسادات
ہندوستان میں آزادی کے حصول سے پہلے کے وقت میں فرقہ وارانہ فساد ہوتے رہے ہیں۔ یہ فساد اکثر نو آبادیاتی حکمرانوں کے ذریعے اپنائی گئی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی کے نتیجے میں ہوا کرتے تھے۔ لیکن استعماریت نے بین کمیونٹی جھگڑوں کو جنم نہیں دیا۔ نو آبادیاتی دور سے پہلے بھی ایسے جھگڑے ہونے کی طویل تاریخ رہی ہے اور اسی لیے آزادی کے حصول کے بعد کے فسادات اور قتل وغار ت گری کے لیے یقینا اسے قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتاہے۔ دراصل اگر ہم مذہبی، ثقافتی، علاقائی یانسلی کشاکش کی مثالیں تلاش کرنا چاہیں تو وہ ہماری تاریخ کے تقریباً ہر ایک دور میں مل جائیں گی۔لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے یہاں مذہبی کثیر اکائیت کی بھی ایک طویل روایت رہی ہے جس میں پرامن بقائے باہمی سے لے کر حقیقی بین اختلاط یا توفیقیت ( مختلف عقائد کے درمیان ہم آہنگی) شامل ہے۔ اس ہم آہنگی کی وراثت بھکتی اور صوفی تحریکوں کے بھکتی گیتوں اور شاعری میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے ۔ (باکس 6.9) مختصراً تاریخ ہمارے سامنے اچھی اور بری دونوں طرح کی مثالیں پیش کرتی ہے اس سے ہم کیا سیکھناچاہتے ہیں یہ ہمارے اوپر منحصر ہے۔
باکس 6.9
کبیر داس۔ تطبیقی یا ہم آہنگی کی روایت کی ایک مستقل علامت
ہندو اور مسلمان بھکتی کی ہم آہنگ (امتزاجی) شکل پیش کرتے کبیر کے دوہے کثیر اکائیت کی بہت پیاری علامتیں ہیں:
موکو کہاں ڈھونڈرے بندے
میں تو تیرے پاس میں
نہ تیرتھ میں،نہ مورت میں
نہ ایکانت نو اس میں
نہ مندر میں، نہ مسجد میں
نہ کعبے، کیلاش میں
میں تو تیرے پاس میں بندے
میں تو تیرے پاس میں۔۔۔
سیکولرازم
جیسا کہ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ حمایتیوں اور مخالفین کے درمیان کچھ تلخ تنازعوں کے باوجود ، فرقہ پرست اور فرقہ واریت لفظوں کے معنی بہت کچھ واضح ہیں۔ لیکن اس کے برعکس سیکولر اور سیکولرازم اصطلاحات کی واضح تعریف کرنا بہت مشکل کام ہے، حالاںکہ یہ بھی اتنے ہی متنازع ہیں۔درحقیقت سیکولرازم سماجی وسیاسی نظریے میں پیش سب سے زیادہ مشکل الفاظ میں سے ایک ہے۔ مغربی سیاق وسباق میں ان لفظوں کا اصل مفہوم چرچ اور ریاست کی علاحد گی کو ظاہر کرتاہے۔ مذہبی اور سیاسی اقتدار کی علاحدگی نے مغرب کی سماجی تاریخ میں ایک فیصلہ کن تبدیلی پیداکی۔ یہ علاحدگی سیکولرائزیشن (یاغیر مذہب کاری) یا عوامی زندگی سے مذہب کی تدریجی پسپائی کے عمل سے متعلق تھا، کیوں کہ اب مذہب کو ایک لازمی ذمے دا ری کے بجائے رضا کارانہ انفرادی برتاؤ کے طور پر بدل دیا گیاتھا۔غیر مذہب کاری خود جدیدیت کی آمد اور دنیا کے سمجھنے کے مذہبی طریقوں کے متبادل کی شکل میں سائنس اور استدلال(عقلیت) کے عروج کی شکل میں تھی ۔
سیکولر اور سیکولرازم کے ہندوستانی معنی میں ان کے مغربی مفہوم تو شامل ہیں ہی لیکن ان میں کچھ اور بھی معنی جڑے ہیں۔ روز مرّہ کی زبان میں سیکولرکا سب سے زیادہ عام استعمال فرقہ پرست کے بالکل مخالف معنی میں کیا جاتاہے۔اس طرح ایک سیکولر شخص یاریاست وہ ہوتی ہے جو کسی خاص مذہب یا دیگر مذاہب کی طرف داری نہیں کرتی۔ اس مفہوم میں سیکولرازم یا غیر مذہبی ہونا مذہبی شاونیت یا جارح عصبیت کا مخالف معنی ہے اور اس میں مذہب کے تئیں معاندانہ جذبہ ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ ریاست اور مذہب کے باہمی تعلقات کے لحاظ سے سیکولرزم کا مفہوم سبھی مذاہب کے تئیں یکساں احترام کی علامت ہے، نہ کہ الگاؤ یا دوری کا۔ مثال کے لیے، سیکولر ہندوستانی ریاست سبھی مذاہب کے تہواروں کے مواقع پر سرکاری چھٹی کا اعلان کرتی ہے۔
ریاست کے ذریعے سبھی مذاہب سے فاصلہ قائم رکھنے کے مغربی مفہوم اور ریاست کے ذریعے سبھی مذاہب کے یکساں احترام کے ہندوستانی مفہوم کے سبب دونوں کے درمیان تناؤ سے ایک طرح کی مشکل صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ ہر ایک مفہوم کے حمایتی پریشان ہوجاتے ہیں جب ریاست دوسرے مفہوم کی تائید کی بات کرتی ہے۔ کیا ایک سیکولرریاست حج کے سفر کے لیے مالی معاونت فراہم کرے یا تروپتی۔ ترومالامندر کمپلکس کے انتظام کو دیکھے یا ہمالیہ کی تیرتھ یاترا کے لیے مدد دے؟ مثال کے لیے کیا یوم آزادی، یوم جمہوریہ، گاندھی جینتی اور امبیڈکر جینتی کو چھوڑ کر باقی سبھی مذاہب کی چھٹیوں کو ختم کردے؟ ایک سیکولرریاست گوہتیا پرپابندی لگا دے کیوں کہ گائے ایک خاص مذہب کے لیے پاک ہوتی ہے؟ اگر وہ ایسا کر دے تو کیاوہ سوروں کے بھی ذبح کرنے پر پابندی لگا دے کیوں کہ ایک دوسرے مذہب میں سور کا گوشت کھانے کو منع کیاگیا ہے؟ اگرفوج میں سکھ سپاہیوں کو لمبے بال رکھنے اور پگڑی پہننے کی اجازت دے دی جائے تو کیاہندوسپاہیوں کو بھی سرمنڈانے یا مسلمان سپاہیوں کو لمبی داڑھی رکھنے کی اجازت دی جائے؟ ایسے سوالوں پر سخت تنازعہ پیدا ہو جائے گا جن کا حل بہت مشکل ہوگا ہندوستانی ریاست کے ذریعے سکولرازم کے تئیں وابستہ ہونے اور ساتھ ساتھ اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیے جانے کے درمیان تناؤ کے سبب بھی کچھ دیگر قسم کی پیچیدیگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
سرگرمی 6.6
اپنے والدین اور خاندان کے بزرگوں سے بات کریں اور ان سے ایسی شاعری، گیتوں، مختصر کہانیوں کو جمع کریں جن میں مذہبی کثیر اکائیت، تطبیقیت یا تو فیقیت یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی جیسے امور پر خاص طور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جب آپ ایسے پورے مواد اکٹھا کرکے کلاس کے سامنے پیش کریں گے تو آپ کو یہ جان کر خوش گوار حیرت ہوگی کہ مذہبی کثیر اکائیت کی ہماری روایتوں کی بنیاد کتنی وسیع ہے اور مختلف لسانی گروپوں، علاقوں اور مذاہب کے پیروکار کتنے جامع طور پر ان روایتوں میں شریک ہوتے ہیں۔
اقلیتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کا ایک ایسے سیاق وسباق میں خاص خیال رکھا جائے جہاں سیاسی بندوبست کے عام کام کاج میں انھیں اکثریتی کمیونٹی کے مقابلے نقصان پہنچتا ہو۔ لیکن تحفظ دیے جانے پر فوراً ہی اقلیتوں کے ساتھ جانب داری یا مصالحت خواہی کا الزام لگتا ہے۔مخالف یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس طرح کے سیکولرازم میں اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے یا ان سے دیگر قسم کی حمایت لینے کے لیے انھیں اپنی طرف لانے کا محض ایک بہانہ ہے۔ حماتیی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایسے خصوصی تحفظ کے بغیر اقلیتوں پراکثریتی کمیونٹی کی قدروں اور معیارات کو تھوپنے کا ایک بہانہ بن سکتا ہے۔
اس طرح کے تنازعات کا حل اس وقت اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب سیاسی پارٹی یا سماجی تحریک اپنے پنہاں مفادات کے سبب انھیں حل نہیں ہونے دیتے بلکہ انھیں بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ حال میں سبھی مذاہب کے فرقہ پرستوں نے تعطل کو قائم رکھنے میں اشتراک کیاہے۔ ہندو فرقہ پرستوں کے ذریعے نئی سرگرمی کو ابھارنے اور نئی حاصل شدہ سیاسی طاقت کے سبب اسی پیچیدہ صورت حال میں ایک مزید بحث شامل ہوگئی ہے۔ سیکولرزم کو صاف طور پر ایک اصول کی شکل میں سمجھنے اور پالیسی کے طور پر اس پر عمل کئے جانے کو بہتر بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود یہ اب بھی سچ ہے کہ ہندوستان کا آئین اور قانونی ساخت مختلف قسم کی فرقہ واریت کے ذریعے پیدا کیے گئے مسائل سے نمٹنے کے لیے کافی کچھ موثر ثابت ہوتی ہے۔
آزاد ہندوستان کی پہلی نسل کے رہنماؤں نے (جو زیادہ تر ہندو اور اعلا ذات کے تھے) ایک جمہوری آئین کے ذریعے حکمرانی کی جانے والی ایک لبرل سیکولر ریاست کا انتخاب کیا۔ اسی کے مطابق ایک ایسی ریاست کاتصور کیا گیا جو سبھی شہریوں کی ایک مشمول عمل داری۔سیاسی کمیونٹی ہو۔ قوم کی تعمیر کو خاص طور پر ریاست کے ذریعے چلائی جانے والی معاشی ترقی اور سماجی تبدیلی کے عمل کے طور پر دیکھاگیا۔ یہ امید کی گئی تھی کہ شہریت کے حقوق کی ہمہ گیریت اور آزاد و مسابقتی سیاست کے جمہوری عمل میں ثقافتی کثیر اکائیت کی آمیزش خود نسلی کمیونٹیوں اور ان کے اور ریاست کے درمیان ایک نیا اور شہری توازن فروغ پائے گا (شیٹھ:1999)۔ ہوسکتا ہے یہ توقعات مطلوبہ طور پرپوری نہ ہوئی ہوں۔ لیکن آزادی کے حصول کے وقت سے ہی ہندوستان کے لوگوں نے اپنی براہ راست سیاسی حصہ داری اور انتخابات کے فیصلوں کے ذریعے بار بار ایک سیکولر آئین اور ریاست کے لیے اپنی حمایت کی توثیق کی ہے۔ ان کی آواز کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
6.4 مملکت اور شہری معاشرہ
آپ نے شاید یہ غور کیاہوگا کہ اس باب کے زیادہ تر حصے میں مملکت کے بارے میں ہی بتایا جاتا رہاہے۔جب ایک قوم میں ثقافتی تنوع کے اہتمام کی بات آتی ہے تومملکت درحقیقت ایک نہایت فیصلہ کن ادارے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔حالاں کہ یہ قوم کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن یہ قوم اور اس کے لوگوں سے ہٹ کر اپنی آزاد حیثیت بھی وضع کرسکتی ہے۔ اس حدتک کہ اسکے ڈھانچے مقننہ، (افسر شاہی) ، عدلیہ، مسلح افواج، پولیس اور مملکت کے دیگر اعضا، لوگوں سے الگ ہوجاتے ہیں، اقتداریت یا آمرانہ ہونے کا امکان بھی رہتا ہے۔ ایک آمرانہ مملکت جمہوری مملکت کے برعکس ہوتی ہے۔ ایک آمرانہ مملکت میں لوگوں کی آواز نہیں سنی جاتی اور جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ کسی کے تئیں جواب دہ نہیں ہوتا۔ آمرانہ مملکت اکثر بولنے کی آزادی، پریس کی آزادی، سیاسی سرگرمیوں کی آزادی،اقتدار کے ناجائز استعمال سے تحفظ کے حق، قانون کی واجب عمل کاری کے حق جیسی کئی قسم کی شہری آزادی کو محدودیا ختم کردیتی ہے۔ آمریت کے علاوہ اس بات کا بھی امکان رہتا ہے کہ مملکت کے ادارے بدعنوانی، نااہلی یا وسائل کی کمی کے سبب لوگوں کی ضرورتوں کے بارے میں نہ سننا چاہیں۔ مختصراً، ایسی کئی مثالیں ہیں جن کی وجہ سے مملکت ویسی نہیں ہوگی جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔ اس سیاق و سباق میں غیر مملکتی کارندے یا ادارے اہم ہوجاتے ہیں کیوں کہ وہ مملکت پر نظر رکھ سکتے ہیں، اس کے غیر منصفانہ کاموں کی مخالفت کرسکتے ہیں یا اس کی کوششوں میں تعاون کرسکتے ہیں۔
شہری معاشرہ اس وسیع میدان کو نام دیا جاتاہے جو خاندان کے نجی دائرے سے الگ ہوتا ہے لیکن مملکت اور بازار دونوں سے باہر ہوتاہے۔شہری معاشرہ عوامی دائرے کا غیر مملکتی اور غیر بازاری حصہ ہوتا ہے جس میں الگ الگ فرد اداروں اور تنظیموں کی تشکیل کرنے کے لیے رضا کارانہ طور پر آپس میں جڑتے ہیں۔یہ سرگرم شہریت کا میدان ہے یہاں فرد مل کر سماجی امور پر بحث کرتے ہیں، مملکت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں یا مختلف مقاصد کے لیے تائید چاہتے ہیں۔ یہ شہر یوں کے گروپوں کے ذریعے تشکیل کیے گئے رضاکار ایسوسی ایشن، تنظیم یا اداروں پر مشتمل ہے۔ اس میں سیاسی پارٹیاں، میڈیا،ادارے، مزدور یونین، غیر سرکاری تنظیمیں ، مذہبی تنظیمیں اور دیگر قسم کے اجتماعی عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ شہری سماج میں شامل ہونے کی اہم کسوٹی یہ ہے کہ تنظیم مملکت کے کنٹرول میں نہیں ہونی چاہیے اور خالصتاً کمر شیل منافع کمانے والے عناصر نہ ہوں۔ اسی طرح دور درشن شہری سماج کا حصہ نہیں ہے،بلکہ نجی ٹیلی ویزن چینل اس کا حصہ ہیں۔ ایک کار بنانے والی کمپنی شہری سماج کا حصہ نہیں ہے لیکن اس کے کام گاروں کی مزدور یونین اس کے تحت آتی ہے۔ درحقیقت یہ بہت سے دائروں کو واضع نہیں کرپاتیں۔مثال کے لیے اخبار خالص طور پر ایک کمرشیل ادارے کے طور پر چلایا جاسکتا ہے یا ایک غیر سرکاری تنظیم کو سرکاری فنڈ سے مدد دی جاسکتی ہے۔
باکس 6.10
لوگوں کو جواب دینے کے لیے مملکت کو مجبور کرنا: اطلاع کے حصول کا حق
اطلاع حاصل کرنے کے حق کا ایکٹ 2005(ایکٹ نمبر22/2005) ہندوستانی پارلیمنٹ کے ذریعے وضع کیاگیا ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت ہندوستانیوں کو (جموں و کشمیر) ریاست میں رہنے والے لوگوں کو چھوڑ کر جن کے پاس ان کا اپنا خصوصی قانون ہے۔ سرکاری ریکارڈوں تک پہنچنے کا حق دیاگیا ہے۔ اس ایکٹ کی شرائط کے تحت کوئی بھی شخص کسی سرکاری اتھارٹی ادارے یا ریاست کے وسیلے سے اطلاع کے لیے استدعا کرسکتا ہے اور اس اتھارٹی سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ جلداز جلد یعنی 30دن کے اندر اسے جواب دے گی۔یہ ایکٹ ہر ایک سرکاری اتھارٹی سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ جامع اشاعت کے لیے اپنے ریکارڈوں کو کمپیوٹرائز کرے اور بعض زمروں سے متعلق اطلاع کو خود پیش قدمی کرکے شائع کرے تاکہ شہریوں کو اطلاع حاصل کرنے کے لیے رسمی طور پر درخواست کرنے کی کم سے کم ضرورت پڑے۔
پارلیمنٹ کے ذریعے اس قانون کو 15جون 2005کو پاس کیاگیا تھا اور یہ13اکتوبر 2005 سے لاگو ہوا۔ ہندوستان میں اطلاع کو ظاہر کرنے کے عمل پر اب تک سرکاری راز ایکٹ1923اور دیگر خاص قوانین کے ذریعے پابندی لگی ہوئی تھی لیکن نئی انفارمیشن حاصل کرنے کے حق کے ذریعے ان سب کو رد کردیا گیاہے۔
ایکٹ میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ شہریوں کو:
⇐ کسی بھی اطلاع کے حصول کے لیے (جیسا کہ صراحت کی گئی ہے) درخواست کرنے۔
⇐ دستاویزوں کی نقل لینے۔
⇐ دستایزوں، کاموں اور ریکارڈوں کا معائنہ کرنے،
⇐ کام کے مواد کے توثیق شدہ نمونے لینے کا حق ہے۔
⇐ پرنٹ آوٹ ،ڈسک، فلاپی، ٹیپ، ویڈیوکیسٹ یا دیگر کسی بھی الکٹرونک طریقوں کی شکل میں پرنٹ آوٹ کے ذریعے شہری اطلاع حاصل کرسکتے ہیں۔

ہندوستانی عوام کو آمرانہ حکومت کا تھوڑا سا تجربہ ایمر جنسی کے دوران ہوا جو جون1975سے جنوری1977تک نافذ رہی تھی۔ پارلیمنٹ کو معطل کردیاگیا تھا اور حکومت کے ذریعے نئے قوانین بنائے گئے۔ شہری آزادی چھین لی گئی اور سیاسی طور پر سرگرم لوگ بڑی تعداد میں گرفتار کرکے، بغیر مقدمہ چلائے، جیلوں میں ڈال دیے گئے۔ذرائع ابلاغ پر سنسر نافذ کردیا گیا اور سرکاری عہدے داروں کو عام عمل اپنائے بغیر برخاست کیاجاسکتا تھا۔ حکومت نے نچلی سطح کے افسروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے پروگراموں کو نافذ کریں اور فوری نتیجہ دکھائیں۔ان میں سب سے بدنام پروگرام نس بندی کی مہم تھی جس کے تحت بہت سے لوگ سرجری کی پیچیدگی سے پیدا ہوئے مسائل کے سبب فوت ہوگئے۔ جب 1977کے شروع میں غیر متوقع طور پر انتخاب کرائے گئے تو لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حکمراں کانگرس پارٹی کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔
ایمر جنسی کے صدمے نے لوگوں میں سرگرم حصہ داری کی لہر پیدا کردی اور اس کے نتیجے میں 1970کے دہے میں شہری سماج کے متعدد نئے نئے پروگرام شروع کیے گئے۔ اس مدت میں طرح طرح کی سماجی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں جن میں عورتوں، ماحول کاتحفظ، انسانی حقوق اور دلتوں کی تحریکیں اہم تھیں۔ آج شہری سماج کی تنظیموں کی سرگرمیاں اور بھی وسیع شکل اختیار کرچکی ہیں جن میں قومی اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ تائیدی اور اثر انگیز سرگرمیاں چلانے کے ساتھ ساتھ مختلف تحریکوں میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینا شا مل ہے۔مختلف قسم کے مسائل اٹھائے گئے جن میں زمین سے متعلق حقوق کے لیے قبائلی جدوجہد، شہری حکمرانی میں انتقال اختیارات، عورتوں کے تئیں تشدد اور زنا کے خلاف تحریک، باندھوں اور تعمیری ترقی کے دیگر پروجکٹوں کے سبب اجڑے ہوئے لوگوں کی باز آباد کاری، مشینوں کی مدد سے مچھلی پکڑنے کے خلاف ماہی گیروں کی جدوجہد،گھوم گھوم کر سامان فروخت کرنے والوں یاپٹری پر رہنے والوں کی باز آباوکاری، گندی بستیاں ہٹانے کے خلاف اور رہائش کے حقوق کے لیے مہم، ابتدائی تعلیم سے متعلق اصلاحات، دلتوں کے لیے زمین کی تقسیم وغیرہ شامل ہیں۔ شہری آزادی تنظیم مملکت کے کام کاج پر نظر رکھنے اور اس سے قانون کی پابندی کروانے کی سمت خاص طور پر اہم رہی ہے۔ذرائع ابلاغ نے بھی خاص طور پر اس کے ابھرتے ہوئے بصری مواد اور الکٹرانک حصوں نے مستقل بڑھتاہوا سرگرم کردار اختیار کیا ہے۔
حال میں اٹھائے گئے قابل ذکر اقدامات میں اطلاع کے حق کے لیے چلائی گئی مہم کو سب سے زیادہ اہم کہا جاسکتا ہے۔ اس کی شروعات دیہی راجستھان میں ایک ایسی تحریک کے ساتھ ہوئی تھی جو وہاں گاوؤں کی ترقی پر خرچ کیے گئے سرکاری سرمایوں کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے چلائی گئی تھی۔ آگے چل کر اس تحریک نے قومی پیمانے پر مہم کی شکل اختیار کرلی۔ افسر شاہی کی مزاحمت کے باوجود حکومت کو اس مہم کا اثر لینا پڑا اور رسمی طور پر ایک نیا قانون بنانا پڑا جس کے تحت شہریوں کے اطلاع کے حق کو تسلیم کیا گیا (باکس6.10)۔ اس طرح کی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ شہری سماج یہ یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے کہ مملکت، قوم اور اس کے لوگوں کے تئیں جواب دہ ہے۔
سرگرمی 6.9
ان شہری سماجی تنظیموں یا غیر سرکاری تنظیموں کا پتہ لگائیں جو آپ کے پاس پڑوس میں سرگرم عمل ہیں۔ وہ کس طرح کے مسائل اٹھاتی ہیں؟ ان میں کس طرح کے لوگ کام کرتے ہیں؟یہ تنظیم کس طرح اور کتنی مختلف ہیں؟
(a) سرکاری تنظیموں سے
(b) کمرشیل تنظیموں سے
سوالات
1۔ ثقافتی تنوع کا کیا مطلب ہے؟ ہندوستان کو ایک نہایت متنوع ملک کیوں سمجھا جاتا ہے؟
2۔ کمیونٹی کی پہچان کیا ہوتی ہے اور وہ کیسے بنتی ہے؟
3۔ قوم کی تعریف کرنا کیوں مشکل ہے؟ جدید سماج میں قوم اور مملکت کیسے متعلق ہیں؟
4۔ مملکتیں اکثر ثقافتی تنوع کے بارے میں مشکوک کیوں ہوتی ہیں؟
5۔ علاقائیت کیاہوتی ہے؟ عام طور پر یہ کن عوامل پر مبنی ہوتی ہے؟
6۔ آپ کی رائے میں ریاستوں کی لسانی تشکیل نو سے ہندوستان کو مدد ملی ہے یا نقصان پہنچا ہے؟
7۔ ’’اقلیت‘‘ کیا ہے؟ اقلیتوں کو مملکت میں تحفظ کی کیوں ضرورت ہوتی ہے؟
8۔ فرقہ واریت یا فرقہ پرستی کیاہے؟
9۔ ہندوستان میں وہ مختلف مفہوم کون سے ہیں جن میں سیکولرازم کو سمجھا جاتا ہے؟
10۔ آج شہری معاشرے میں تنظیموں کی کیا موزونیت ہے؟
حوالاجات
Bhargava, Rajeev. 1998. ‘What is Secularism for?’, in Bhargava, Rajeev. ed. Secularism and its Critics. Oxford University Press. New Delhi.
Bhargava, Rajeev. 2005. Civil Society, Public Sphere and Citizenship. Sage Publications. New Delhi.
Bhattacharyya, Harihar. 2005. Federalism and Regionalism in India: Institutional Strategies and Political Accommodation of Identities. working paper No. 27, South Asia Institute, Dept of Political Science. University of Heidelberg, Heidelberg.
Brass, Paul. 1974. Language, Religion and Politics in North India. Vikas Publishing House. Delhi.
Chandra, Bipan. 1987. Communalism in Modern India. Vikas Publishing House.
New Delhi.
Miller, David. 1995. On Nationality. Clarendon Press. Oxford.
Sheth, D.L. 1999. ‘The Nation-State and Minority Rights’, in Sheth, D.L. and Mahajan, Gurpreet. ed. Minority Identities and the Nation-State. Oxford University Press. New Delhi.